بہار کا موسم تھا-
کینو اور سنگترے کے باغات میں نیا بوُر لگ چکا تھا- ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی- دور دور تک پیلی سرسوں لہلہا رہی تھی- میں اور سیّد وارث شاہ صاحب کُھڈیاں خاص کی طرف جانے والی کچّی سڑک پر عازمِ سفر تھے-
شاہ صاحب علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ علوم ِحکمت سے بھی مالا مال تھے- وہ جگہ جگہ رک کر خود رو جڑی بوٹیوں کا مشاہدہ فرماتے ، پھر ان کی جملہ خصوصیات سے مجھے آگاہ کرتے-
" ایہہ سونف دا بوٹا اے ..... اگر اس تے پئ تریل (شبنم) اتار کے ..... انّھے دی اکھ وِچ چوئ جاوے تے او سُجاکھا ہو سکدا اے"
شاہ صاحب نے ایک باریک پتوں والی بوٹی کی عجیب صفت بتائ- شاید اس دور میں کالے چِٹّے موتئے کا علاج سونف پر پڑی شبنم سے کیا جاتا تھا- اب تو نہ سونف خالص ملتے ہیں نہ شبنم- ایک کو کیمیائ کھاد نے کھا لیا دوسری کو فضائ آلودگی نے- سو ہم بیس پچیس ہزار خرچ کرکے آپریشن کرواتے ہیں اور لینز ڈلوا لیتے ہیں-
" ایس نوں "سنگھاولی" کہندے نیں....تے ایہہ "بہو پھلی" اے.....ایس نوں "گورکھ پان بوٹی" وچ ملا کے بڈھے مرد نوں کھلائ جاوے تے گزرا جوبن واپس آ سگدا ہے"
میں نے کہا " شاہ صاحب ہمارے ہاں بھی ایک " بوٹی" پائ جاتی ہے جسے جیب میں رکھ کر نالائق سے نالائق طالب علم اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتا ہے .... امتحانی بُوٹی "
راستے میں ایک جگہ گُڑ بنایا جا رہا تھا- " پت" کی لذّت آمیز خوشبو نے بھوک دوآتشہ کردی- شاہ صاحب سڑک چھوڑ کر ویلنے کی طرف چل دیے- ویلنے کا مالک بھی ہمیں ادھر آتے دیکھ کر ہماری ہی طرف چل پڑا-
میں نے دھواں دھار تعارف کرایا-
" پیر سیّد وارث شاہ صاحب ..... قصور وچوں آ رہے نیں .... تے پاک پتن شریف جا رہے نیں"
غریب کسان فوراً جھکا اور جھکتا ہی چلا گیا- شاہ صاحب نے ایک نظر غصّے سے مجھے دیکھا اور کہا:
" ماف کرنا .... تہانوں محمد شاہ رنگیلے دے دربار ایچ ہونا چاہی دا سی .... !!!"
پھر دونوں کندھوں سے پکڑ کر اس مفلس کو اٹھایا ،گلے سے لگایا اور کہا:
" او ویر اسّی کاس دے پیر .... مسافر آں تے گڑ کھان آ گئے آں .... !!! "
اس کا نام خوشی محمد تھا- پت کا کڑاہ تیّار ہوا تو اس نے ایک بڑے ڈونگے کے ساتھ اسے لکڑی کے ایک چوکور برتن میں انڈیلا- اس ڈونگے کو وہ " ڈورا" کہتا تھا...اور لکڑی کے برتن کو " گَنڈھ"-
خوشی محمد نے ڈیرے سے تازہ مکھن منگوایا اور مٹّی کی "بٹھلی" میں مکھن ملائ والی پت بنوائ- اس نے کڑاہ میں آلو اور شکر قندی ڈال کر ہمارے لیے ایک نہایت شیریں حلوہ بھی تیّار کیا -
ظہر کی نماز پڑھ کر ہم نے خوشی محمد سے رخصت چاہی-
غریب کسان ہمیں سڑک تک چھوڑنے آیا- وقت رخصت وہ روتا ہوا ایک بار پھر شاہ صاحب کے قدموں میں آن گرا اور بولا:
" پیر صاحب .... دعا کرو .... گزارا بہت مشکل ہے ..... اناج اگاتے ہم ہیں ، کھا کوئ اور جاتا ہے ......."
شاہ صاحب نے کہا " ساڈے حکمران ساڈی ای شامتِ اعمال دا نتیجہ نےویر .... ایس ھندوستان وِچ بڑے بڑے عادل بادشاہ وی گزرے نیں .... تے بڑے بڑے ظالم وی .... یا تے اپنے اعمال درست کر لؤ ..... یا فیر رنگیلے نوں برداشت کرو"
ھندوستان پر ان دنوں محمّد شاہ رنگیلا کی سنہری حکومت تھی- زراعت مغل سلطنت کی معیشت کا بنیادی جزو تھی- ملک انتظامی لحاظ سے صوبوں ، سرکاروں اور پرگنوں میں تقسیم تھا- سرکاری منصب دار با اختیار تھے اور پنجاب میں اندھیر نگری مچی ہوئ تھی- منصب دار کسانوں سے بھاری لگان وصول کرتے اور اپنا حصّہ رکھ کر باقی حکومت کو بھیج دیتے-
یہ کرپشن زدہ نظام عامل ، مقّدم ، پٹواری اور مہاجن کے سہارے چل رہا تھا- عامل سرکاری نمائندہ ہوتا اور مقدم گاؤں کا نمائندہ-
کبھی عامل اور مقّدم کے بیچ لگان پر مُک مُکا ہو جاتا اور کبھی بات لات مُکّے پر آ کر مُکتی-
اگر لگان پر مک مکا ہو جاتا تو زیادہ نفع کمانے کے چکر میں مقّدم کسان پر بوجھ بن کر گرتا اور لگان بڑھا دیتا- مک مکا نہ ہونے کی صورت میں عامل فوج لیکر گاؤں پر چڑھ دوڑتا اور پورا گاؤں لوٹ لیتا- دونوں صورتوں میں شامت کسان ہی کی آتی-
دوسری جونک جو کسان کا لہو چوس رہی تھی وہ پٹواری تھا، جو لگان کا حساب کتاب رکھتا تھا- وہ مُک مُکا کےلئے کسان سے کم سے کم بکری کا مطالبہ کرتا اور آخر ایک مرغی دبوچ کر رخصت ہوتا -
کسان فصل اٹھاتا تو بمشکل چھ ماہ کا اناج بچ پاتا- باقی "سسٹم" کھا جاتا- سو وہ اگلی فصل کےلئے بنئے سے سود پر قرض اٹھاتا- یہ برائ کا ایک نہ ختم ہونے والا گول چکّر تھا جسے سب مل کر گھما بھی رہے تھے- اور اس کے بدترین نتائج پر ایک دوسرے کو مطعون بھی کئے جارہے تھے-
ایس زِمّیں نٌوں واہندیاں مُلک مُکے، ایتھے ہو چُکے وڈّے کارنے نی
گاہن ہور تے راہک نے ہور ہوئے ، خاوند ہور ای ہور دم مارنے نی
اس زمین پر ہل چلاتے کئ نسلیں تاراج ہوئیں...یہاں بہت محنت ہو چکی....لیکن افسوس کہ اگاتا کوئ اور ہے....اور مالک کوئ اور بن جاتا ہے....نت نئے خاوند یہاں دھونس جمانے آن دھمکتے ہیں-
شاہ صاحب دھرتی ماں کا نوحہ پڑھتے جا رہے تھے اور میں سوچتا چلا جا رہا تھا کہ آج بھی ہمارے کسان کا اناج چھ ماہ بعد کیوں ختم ہو جاتا ہے...آج بھی کسان زرعی بینک کا قرضدار کیوں ہے....اس لئے کہ "مقدم" اب آڑھتی بن گیا ہے....اور "عامل" بیوروکریٹ-
آج ہر شاخ پر ایک محمد شاہ رنگیلا بیٹھا ہے- اور دھرتی ماں اب بھی ہر پانچ سال بعد نئے حاکموں کے ساتھ نکاحی جاتی ہے-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers