قسطاط کی فتح کے بعد عمرو نے چند روز تک یہاں قیام کیا۔ اور یہیں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ فسطاط فتح ہو چکا۔ اجازت ہو تو اسکندریہ پر فوجیں بڑھائی جائیں۔ وہاں سے منظوری آئی، عمرو نے کوچ کا حکم دیا۔ اتفاق سے عمرو کے خیمہ میں ایک کبوتر نے گھونسلا بنا لیا تھا۔ خیمہ اکھاڑا جانے لگا تو عمرو کی نگاہ پڑی، حکم دیا کہ اس کو یہیں رہنے دو کہ ہمارے مہمان کو تکلیف نہ ہونے پائے۔ چونکہ عربی میں خیمہ کو فسطاط کہتے ہیں اور عمرو نے اسکندریہ سے واپس آ کر اسی خیمہ کے قریب شہر بسایا، اس لئے خود شہر بھی فسطاط کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور آج تک یہی نام لیا جاتا ہے۔ بہر حال 21 ہجری میں عمرو نے اسکندریہ کا رخ کیا۔ اسکندریہ اور فسطاط کے درمیان میں رومیوں کی جو آبادیاں تھیں انہوں نے سد راہ ہونا چاہا۔ چنانچہ ایک جماعت عظیم سے جس میں ہزاروں قبطی بھی تھے ، فسطاط کی طرف بڑھے کہ مسلمانوں کو روک لیں۔ قام کریون نے دونوں حریفوں کا سامنا ہوا۔ مسلمانوں نے نہایت طیش میں آ کر جنگ کی اور بے شمار عیسائی مارے گئے۔ پھر کسی نے روک ٹوک کی جرات نہ کی اور عمرو نے اسکندریہ پہنچ کر دم لیا۔ مقوقس جزیہ دے کر صلح کرنا چاہتا تھا۔ لیکن رومیوں کے ڈر سے نہیں کر سکتا تھا۔ تاہم یہ درخواست کی کہ ایک مدت معین کے لیے صلح ہو جائے۔ عمرو نے انکار کیا۔ مقوقس نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لیے شہر کے تمام آدمیوں کو حکم دیا کہ ہتھیار لگا کر شہر پناہ کی فصیل پر مسلمانوں کے سامنے صف جما کر کھڑے ہوں، عورتیں بھی اس حکم میں داخل تھیں اور اس غرض سے کہ پہچانی نہ جا سکیں۔ انہوں نے شہر کی طرف منہ کر لیا تھا۔ عمرہ نے کہلا بھیجا کہ ہم تمہارا مطلب سمجھتے ہیں، لیکن تم کو معلوم نہیں کہ ہم اب تک جو ملک فتح کئے کثرت فوج کے بل پر نہیں کئے۔ تمہارا بادشاہ ہرقل جس ساز و سامان سے ہمارے مقابلہ کو آیا تم کو معلوم ہے اور جو نتیجہ ہوا وہ بھی مخفی نہیں (فتوح البدان )۔ مقوقس نے کہا سچ ہے۔ "یہی عرب ہیں جنہوں نے ہمارے بادشاہ کو قسطنطنیہ پہنچا کر چھوڑا۔ " اس پر رومی سردار نہایت غضبناک ہوئے۔ مقوقس کو بہت بُرا کہا اور لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔
مقوقس کی مرضی چونکہ جنگ کی نہ تھی، اس لئے عمرو سے اقرار لے لیا تھا کہ " چونکہ میں رومیوں سے الگ ہوں، اس وجہ سے میری قوم (یعنی قطبی) کو تمہارے ہاتھ سے ضرر نہ پہنچنے پائے۔ " قبطیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اس معرکے میں دونوں سے الگ رہے بلکہ مسلمانوں کو بہت کچھ مدد دی۔ فسطاط سے اسکندریہ تک فوج کے آگے آگے پلوں کی مرمت کرتے اور سڑکیں بناتے گئے۔ خود اسکندریہ کے محاصرہ میں بھی رسد وغیرہ کا انتظام انہی کی بدولت ہو سکا۔ رومی کبھی کبھی قلعہ سے باہر نکل نکل کر لڑتے تھے۔ ایک دن سخت معرکہ ہوا۔ تیر و خدنگ سے گزر کر تلوار کی نوبت آئی۔ ایک رومی نے صف سے نکل کر کہا کہ جس کا دعویٰ ہو تنہا میرے مقابلے کو آئے۔ مسلمہ بن مخلد نے گھوڑا بڑھایا۔ رومی نے ان کو زمین پر دے مارا۔ اور جھک کر تلوار مارنا چاہتا تھا کہ ایک سوار نے آ کر جان بچائی، عمرو کو اس پر اس قدر غصہ آیا کہ متانت ایک طرف مسلمہ کے رتبہ کا بھی خیال نہ کر کے کہ کہ "زنخوں کو میدان جنگ میں آنے کی کیا ضرورت ہے۔ " مسلمہ کو نہایت ناگوار ہوا۔ لیکن مصلحت کے لحاظ سے کچھ نہ کہا۔ لڑائی کا زور اسی طرح قائم رہا۔ آخر مسلمانوں نے اس طرح دل توڑ کر حملہ کیا کہ رومیوں کو دباتے ہوئے قلعہ کے اندر گھس گئے۔ دیر تک قلعہ کے صحن میں معرکہ رہا۔ آخر میں رومیوں نے سنبھل کر ایک ساتھ حملہ کیا۔ اور مسلمانوں کو قلعہ سے باہر نکال کر دروازے بند کر دیئے۔ اتفاق یہ کہ عمرو بن العاص اور مسلمہ اور دو شخص اندر رہ گئے۔ رومیوں نے ان لوگوں کو زندہ گرفتار کرنا چاہا۔ لیکن ان لوگوں نے مردانہ وار جان دینی چاہی تو انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سے ایک ایک آدمی مقابلے کو نکلے ، اگر ہمارا آدمی مارا گیا تو ہم تم کو چھوڑ دیں گے کہ قلعہ سے نکل جاؤ اور تمہارا آدمی مارا جائے تو تم سب ہتھیار ڈال دو گے۔

عمرو بن العاص نے نہایت خوشی سے منظور کیا۔ اور خود مقابلے کے لئے نکلنا چاہا۔ مسلمہ نے روکا کہ تم فوج کے سردار ہو۔ تم پر آنچ آئی تو انتظام میں خلل ہو گا۔ یہ کہہ کر گھوڑا بڑھایا۔ رومی بھی ہتھیار سنبھال چکا تھا۔ دیر تک وار ہوتے رہے۔ بالآخر مسلمہ نے ایک ہاتھ مارا کہ رومی وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ رومیوں کو معلوم نہ تھا کہ ان میں کوئی سردار ہے۔ انہوں نے اقرار کے موافق قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔ اور سب صحیح سلامت باہر نکل آئے۔ عمرو نے مسلمہ سے اپنی پہلی گستاخی کی معافی مانگی اور انہوں نے نہایت صاف دلی سے معاف کر دیا۔
محاصرہ جس قدر طول کھینچتا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زیادہ پریشانی ہوتی تھی۔ چنانچہ عمرو کو خط لکھا کہ " شاید تم لوگ وہاں رہ کر عیسائیوں کی طرح عیش پرست بن گئے ہو۔ ورنہ فتح میں اس قدر دیر نہ ہوتی۔ جس دن میرا خط پہنچے تمام فوج کو جمع کر کے جہاد پر خطبہ دو اور پھر اس طرح حملہ کر کہ جن کو میں نے افسر کر کے بھیجا تھا فوج کے آگے ہوں اور تمام فوج ایک دفعہ دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ عمرو نے تمام فوج کو یکجا کر کے خطبہ پڑھا اور ایک پُر اثر تقریر کی کہ بجھے ہوئے جوش تازہ ہو گئے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جا برسوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں رہے تھے بلا کر کہا کہ اپنا نیزہ مجھ کے دیجیئے۔ خود سر سے عمامہ اتارا اور نیزہ پر لگا کر ان کو حوالہ کیا کہ یہ سپہ سالار کا علم ہے اور آج اپ سپہ سالار ہیں۔ زبیر بن العوام اور مسلمہ بن مخلد کو فوج کا ہراول کیا۔ غرض اس سر و سامان سے قلعہ پر دھاوا ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں شہر فتح ہو گیا۔ عمرو نے اسی وقت معاویہ بن خدیج کو بلا کر کہا کہ جس قدر تیز جا سکو جاؤ۔ اور امیر المؤمنین کو مژدہ فتح سناؤ۔ معاویہ اونٹنی پر سوار ہوئے اور دو منزلہ سہ منزلہ کرتے ہوئے مدینہ پہنچے۔ چونکہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا۔ اس خیال سے کہ یہ آرام کا وقت ہے ، بارگاہ خلافت میں جانے سے پہلے سیدھے مسجد نبوی کا رخ کیا۔ اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لونڈی ادھر آ نکلی اور ان کو مسافر کی ہیئت میں دیکھ کر پوچھا کہ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اسکندریہ سے۔ اس نے اسی وقت جا کر خبر کی اور ساتھ ہی واپس آئی کہ چلو امیر المؤمنین بلاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنا بھی انتظار نہیں کر سکتے تھے ، خود چلنے کے لیے تیار ہوئے اور چادر سنبھال رہے تھے کہ معاویہ پہنچ گئے۔ فتح کا حال سن کر زمین پر گرے اور سجدۂ شکر ادا کیا۔ اٹھ کر مسجد میں آئے اور منادی کرا دی الصلوۃ جامعہ سنتے ہی تمام مدینہ امڈ آیا۔ معاویہ نے سب کے سامنے فتح کے حالات بیان کئے۔ وہاں سے اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے گھر پر گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لونڈی سے پوچھا کچھ کھانے کو ہے۔ وہ روٹی اور روغن زیتون لائی۔ مہمان کے آگے رکھا اور کہا کہ آنے کے ساتھ ہی میرے پاس کیوں نہیں چلے آئے۔ انہوں نے کہا میں نے خیال کیا کہ یہ آرام کا وقت ہے ، شاید آپ سوتے ہوں۔ فرمایا افسوس تمہارا میری نسبت یہ خیال ہے۔ میں دن کو سوؤں گا تو خلافت کا بار کون سنبھالے گا۔ (یہ تمام تفصیل مقرریزی سے لی گئی ہے۔ )
عمرو اسکندریہ کی فتح کے بعد قسطاط کو واپس گئے اور وہاں شہر بسانا چاہا۔ الگ الگ قطعے متعین کئے۔ اور داغ بیل ڈال کر عرب کی سادہ وضع کی عمارتیں تیار کرائیں۔ تفصیل اس کے دوسرے حصے میں آئے گی۔
اسکندریہ اور فسطاط کے بعد اگرچہ عمرو کا کوئی حریف نہیں رہا تھا۔ تاہم چونکہ مصر کے تمام اضلاع میں رومی پھیلے ہوئے تھے۔ ہر طرف تھوڑی تھوڑی فوجیں روانہ کیں کہ آئندہ کسی خطرے کا احتمال نہ رہ جائے۔ چنانچہ خارجہ بن حذافہ العدوی فیوم، اشموتین، احمیم، بشر دوات، معید اور اس کے تمام مضافات میں چکر لگا آئے اور ہر جگہ لوگوں نے خوشی سے جزیہ دینا قبول کیا۔ اسی طرح عمیر بن وہب الجمحی نے تینس دمیاط، تونہ ، دمیرہ، شطا، وقبلہ، بنا، بوہیر کو مسخر کیا۔ عقبہ بن عامر الجھنی نے مصر کے تمام نشیبی حصے فتح کئے۔ (فتوح البلدان )۔
چونکہ ان لڑائیوں میں نہایت کثرت سے قبطی اور رومی گرفتار ہوئے تھے۔ عمرو نے دربار خلافت کو لکھا کہ ان کی نسبت کیا کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب لکھا کہ سب کو بلا کر کہہ دو کہ ان کو اختیار ہے کہ مسلمان ہو جائیں یا اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ اسلام قبول کریں گے تو ان کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ ورنہ جزیہ دینا ہو گا۔ جو تمام ذمیوں سے لیا جاتا ہے۔ عمرو نے تمام قیدی جو تعداد میں ہزاروں سے زیادہ تھے ، ایک جگہ جمع کئے ، عیسائی سرداروں کو طلب کیا۔ اور مسلمان و عیسائی الگ الگ ترتیب سے آمنے سامنے بیٹھے۔ بیچ میں قیدیوں کا گروہ تھا۔ فرمان خلافت پڑھا گیا تو بہت سے قیدیوں نے جو مسلمانوں میں رہ کر اسلام کے ذوق سے آشنا ہو گئے تھے ، اسلام قبول کیا اور بہت سے اپنے مذہب پر قائم رہے۔ جب کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا تھا تو مسلمان اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے تھے اور خوشی سے بچھے جاتے تھے۔ اور جب کوئی شخص عیسائیت کا اقرار کرتا تھا تو تمام عیسائیوں میں مبارکباد کا غل پڑتا تھا۔ اور مسلمان اس قدر غمزدہ ہوتے تھے کہ بہت سوں کے آنسو نکل پرتے تھے۔ دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا اور دونوں فریق اپنے اپنے حصہ رسدی کے موافق کامیاب آئے۔ (طبری – 283)۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers