6 مارچ .... 1953ء .... لاہور
"یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے ---- ریاض الدین سے خبریں سنئے----
ہِز ایکسیلینسی گورنر جنرل جناب غلام محمد نے کہا ہے کہ لاہور کا امن بہت جلد بحال کر دیا جائیگا ---- انہوں نے معززین شہر کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مُٹھّی بھر بلوائیوں کو مذھب کے نام پر شہر کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ---- انہوں نے پولیس کو تاکید کی کہ بہرصورت تشدّد اور فائرنگ سے اجتناب کریں ----- معزّزینِ شہر نے ہِز ایکسیلینسی کو ہر ممکن حمایت اور تعاون کا یقین دلایا ---- "
"بند کر ریڈیو یار .... نرا جُھوٹ بکواس" سٹی میجسٹریٹ نے کہا اور آئ جی نے گاڑی میں نصب ریڈیو آف کر دیا-
"اب کہاں چلنے کا ارادہ ہے؟؟"
" کوتوالی چلتے ہیں ... بس تھوڑا حالات کا جائزہ لینے" آئ جی نے کہا-
"میں تو کہتا ہوں واپس چلیں ... حالات ٹھیک نہیں لگ رہے" میجسٹریٹ شیشے سے باہر جھانکتے ہوئے بولا-
"ملٹری کے ہوتے ہوئے بھی ڈرتے ہو یار .... کمال ہے !!! "
"ملٹری باغ جناح میں بیٹھی ہے اور بلوائ شہر میں ... "
ریلوے اسٹیشن کے قریب انہوں نے ایک جلوس دیکھا جو کاروں ، سائیکلوں اور تانگوں کو روک رہا تھا- جلوس کی قیادت ایک داڑھی والا شخص کر رہا تھا- آئ جی نے ایک سائیڈ پر گاڑی روک دی-
" پھنسا دیا ناں یار ... گاڑی موڑ ..." میجسٹریٹ چشمہ درست کرتے ہوئے بولا-
" ڈرنے کی ضرورت نہیں ... وہ بزرگ جو سفید ٹوپی پہنے مجمع سے نعرے لگوا رہا ہے ... اپنا ہی بندہ ہے ..."
" کیا مطلب ؟" میجسٹریٹ نے حیرت سے پوچھا-
" خُفیہ کا ہے یار ... !!! "
آئ جی صاحب نے ہارن دیا تو وہ شخص بھاگا بھاگا ادھر چلا آیا-
" ٹریفک کیوں روک رکھّی ہے دولت خان ؟" آئ جی نے شیشہ نیچے سرکاتے ہوئے پوچھا-
" جلوس نوں تھوڑا مصروف رکھیا اے ... تُسی نکل جاؤ ... کُش نئیں کہندے"
" کچھ نئیں کا بچّہ .... اگر گاڑی جلا دی تو ؟"
" او سر جی بے فکر ہو جاؤ ... میں تہاڈے اگے اگے چلداں ... آؤ میرے پچھے پچھے" یہ کہ کر دولت خان گاڑی کے آگے آگے نعرے لگاتا ہوا چلا...
" شاہی پولیس .... زندہ باد"
"زندہ باد ... زندہ باد !!! " مجمع نے نعرہ لگایا-
جلوس سے کچھ لوگوں نے آئ جی کی گاڑی روکنے کی کوشش کی لیکن دولت خان نے کمالِ مہارت سے انہیں سمجھایا کہ یہ شاہی پولیس کے افسر ہیں .... قتلِ عام تو بارڈر پولیس کر رہی ہے-
"کمال کا آدمی ہے یار .... یہ دولت خان" مجسٹریٹ نے تبصرہ کیا-
ہاں بس داڑھی نقلی ہے حرامزادے کی ... کسی دن پکڑا گیا تو تکّہ بوٹی کروا لے گا اپنی" آئ جی نے کہا-
"بڑا رسک ہے یار .... نقلی داڑھی پہن کر اصلی داڑھی والوں سے نعرے لگوانا ... سیلوٹ دولت خان " چیف سیکرٹری بول اٹھا-
" صرف ایک دولت خان نہیں ... اڑھائ سو خُفیہ والے بیٹھے ہیں مسجد وزیر خان میں ..... کسی بھی تحریک کو کریش کرنے کےلئے کچھ سرکاری پرزے فٹ کرنے ہی پڑتے ہیں ... !!! "
نولکھّا تھانہ کے قریب انہوں نے ایک ٹینک دیکھا جس پر کوئ فوجی نہیں تھا- ایک ریش دراز ٹینک پر چڑھ کر مجمع سے نعرے لگوا رہا تھا:
"پاک فوج ... زندہ باد"
"جنرل اعظم ... زندہ باد"
" یہ بھی خفیہ کا ہے ؟؟" مجسٹریٹ نے شیشہ نیچے سرکاتے ہوئے پوچھا-
" جاؤ اور جاکر داڑھی چیک کر لو ..... " آئ جی نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا-
" رسک ہے یار ... اصلی نکل آئ تو ؟؟ "
سرکلر روڈ کے زیریں پُل کے پاس انہیں ایک لٹھ بردار ہجوم نے روکا- یہ لوگ نعرے لگا رہے تھے-
"ہڑتال .... ہڑتال ... پہیہ جام ہڑتال"
اس سے پہلے کہ وہ کار کو روکتے ، ایک خفیہ والا بزرگ بھاگا بھاگا ادھر آیا-
"او بے وقوفو ..... کار نوں چھڈّو ..... اوس تانگے نوں روکو ... " اس نے چیخ کر مظاہرین سے کہا-
ہجوم لاٹھیاں سونتے تانگے کے پیچھے ہو لیا .... اور اسے روک کر گھوڑے کو کھول دیا-
سرکلر روڈ سے آگے پولیس کی ساری چوکیاں خالی تھیں ... البتہ خفیہ والے یہاں بھی ادھر ادھر مٹک رہے تھے-
"ادھر آؤ دلبر حسین ... " ڈی آئ جی نے ایک سبزپوش فقیر کو آواز دی جو درویشوں والا لمبا چوغہ پہنے حق مولا حق مولا کے نعرے لگا رہا تھا-
" پولیس کہاں چلی گئ ؟؟" آئ جی نے استفسار کیا-
"ریٹریٹ کر گئ سر ... " سبزپوش کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا-
"کیوں ؟؟ .....کوئ گڑ بڑ ہوئ ہے ؟؟"
"نہیں سر ... ایس ایس پی مرزا نعیم سب کو لے کر کوتوالی چلے گئے ہیں ... "
"مرزا نعیم کی ایسی کی تیسی !!! " آئ جی نے یہ کہتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی-
وہ کوتوالی کے سامنے پہنچے تو فضاء دھواں دھار تھی- ہر طرف آنسو گیس کے اثرات پھیلے ہوئے تھے- تھانے کے باہر ہزاروں کا مجمع کھڑا نعرے لگا رہا تھا:
"پاک فوج .... زندہ باد "
"شاہی پولیس زندہ باد"
پولیس کانسٹیبلری ... مردہ باد"
" بارڈر پولیس ... مردہ باد"
ایک لمبی داڑھی اور زلفوں والا جوان جس نے سر پر کفن باندھ رکھا تھا ان کی طرف دوڑا چلا آیا-
"یہ کیا ہو رہا ہے سمندر خان ؟؟"
"سر جی .... بارڈر پولیس نے کل جو پائرنگ کیا تھا ناں .... اس پر عوام شور کرتا ہے .... بولتا ہے گولی چلانے والے کو امارہ حوالے کرو .... ام تو آنسو گیس پینک پینک کر تک گیا اے .... "
" مرزا نعیم الدین کہاں ہیں ؟"
"اندر ہے سر جی ..... کوتوالی میں .... تم گاڑی کو پیچے سے لے کر آؤ .... "
"کوتوالی میں انڈے دے رہا ہے .... ؟؟ "
آئ جی نے کوتوالی کے پچھواڑے میں گاڑی روکی اور سیدھا اندر چلے گئے-
ایس ایس پی مرزا نعیم ، بوٹ اور شرٹ اتارے کرسی پہ نیم دراز تھا-
" ایس ایس پی صاحب ... خیریت ؟ آپ محاذ چھوڑ کر بھاگ آئے ؟؟" آئ جی نے آتے ہی پوچھا-
مرزا نعیم بُت بنا آئ صاحب کو دیکھتا رہا ، پھر اچانک مونہہ پھیر لیا-
" تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟ "
" میری طبیعت تو ٹھیک ہے سر ... لیکن سرکار کو شاید باولے کُتّے نے کاٹ لیا ہے ..."
"کیا ہو گیا ہے ؟؟ "
" کل پانچ سو بارہ بندہ قتل کیا ہے میں نے .... اپنے ان ہاتھوں سے ... دیکھیں ان انگلیوں کو ... ورم آ گیا ٹرائگر دبا دبا کے ... لیکن ... ہوا کیا؟؟ .... دس مارے ...تو بیس اور آکر کھڑے ہو گئے ... 500 بندہ مار چکے تو آرڈر آیا فائرنگ روک دو .... آج پھر کہ رہے ہیں فائرنگ شروع کردو .... حکومت کا ضمیر تو کُتّے کی موت مر چکا ... ہم کیوں کٹھ پتلی بنے رہیں .... !!! "
" اوہ ... تو 500 مسلمان مار کے ایک مرزائ کا ضمیر جاگ اٹھا ... " آئ جی نے کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا-
" لعنت ایسی مرزائیت پر ... جس کی بنیادیں انسانی خون میں لتھڑی ہوں ... لعنت ایسی نوکری پر ... جس میں صبح سے شام تک کیڑے مکوڑوں کی طرح انسانوں کو مارا جائے"
"فوج ہماری مدد کےلئے موجود ہے ناں "
"ارے صاحب ... کیا کرے گی فوج ؟؟ ... شہر میں بلوہ ہوتا ہے تو لوگ ہجرت کرتے ہیں ... نکل لیتے ہیں ... یہاں لوگ الٹا داخل ہو رہے ہیں ... آج بھی ملک بھر سے ہزاروں لوگ لاہور میں داخل ہوئے ... کس کس کو مارے گی فوج ؟؟ یہ رہا میرا استعفی !!!" مرزا نعیم نے ایک کاغذ آئ جی کے سامنے رکھتے ہوئے بولا-
" یہ بات چیف منسٹر کے سامنے کہ سکتے ہو ؟؟؟ "
" کیوں نہیں .... اپنے ہی عوام کو قتل کر کے حکومت کبھی نہیں جیت سکتی ... اسے مذاکرات کا رستہ اختیار کرنا چاھئے ... اور عوام کے مطالبات پر کان دھرنے چاہئیں"
" چلو میرے ساتھ .... ابھی اور اسی وقت .... !!! " آئ جی نے گاڑی کی چابی اٹھائ اور کوتوالی سے باہر نکل گیا-
مرزا نعیم الدین اس کے پیچھے پیچھے تھا-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers