5 مارچ .... 1953ء .... لاہور
"سر کراچی سے ڈیفنس سیکرٹری کا فون .... !!! "
" ہاں سرجی .... خیریت ؟؟ " آئ جی نے جماہی لیتے ہوئے کریڈل اٹھایا-
" آئ جی صاحب ... کچھ ہم سے بھی رابطہ رکھا کیجئے ... پرائم منسٹر کو بریف دینی ہوتی ہے" اسکندر مرزا نے کہا-
" اوہ سر جی .... یہاں دن رات میٹنگز چلتی ہیں .... اوپر سے شہر کے حالات .... !! "
" ڈی ایس پی فردوس شاہ کیسے قتل ہوا ؟؟"
" انہی لوگوں نے مارا جو پچھلے ایک ہفتے سے شہر پر قابض ہیں ...." آئ جی نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا -
" اوہ مائ گوش !!!.... یعنی فوج اور پولیس دونوں بُل شٹ ہو گئے ؟؟"
" کیا کریں سر ؟ ...پولیس کے پاس اچھّے ہتھیار نہیں .... اور جنرل صاحب آگے آنے کو تیار نہیں ... "
"کیوں ؟؟ ... کیا کہتا ہے جنرل اعظم ؟؟"
" اُن کے بھی نخرے ہیں یار .... جب تک شہر میں آگ نہیں لگے گی... مظاہرین گاڑیاں نہیں جلائیں گے ... توڑپھوڑ نہ ہوگی ... فوج ٹیک اوور نہیں کرے گی ... وٹ اے جنٹل مین یار !!! "
" تو کر دو اس کی خواہش پوری !! "
" کیا مطلب ؟ "
" اوہ مائ جینٹل مین !!!! .... تم نے نِیرو کا نام سنا ہے ؟؟... روم کا ایک مشہور بادشاہ تھا ... چل چھوڑ .... ایسا کر ... ایک فون نمبر دیتا ہوں ... یہاں مرزا آتش بیٹھے ہونگے ... انہیں بتا دو کہ شہر میں تھوڑی بہت آگ لگا دیں .... چل رہنے دے ... تو تھکا ہو گا یار .... میں خود ہی کہ دیتا ہوں .... "
آئ جی نے ایک کھوکھلا قہقہہ لگا کر کہا:
" لیکن یہ آگ لگائے گا کون ؟ "
" نامعلوم افراد ... " اسکندر مرزا نے کہا اور فون بند کر دیا-
صبح 8 بجے جب آئ صاحب میٹنگ کےلئے گورنر ہاؤس کی طرف نکلے تو شہر بھر میں نامعلوم افراد کا راج تھا-
نسبت روڈ پر انہوں نےکئ دکانوں کو لٹتے دیکھا- ایک مرزائ بزّاز کی لاش سڑک پر پڑی تھی جسے سفید لٹھے سے ڈھک کر چاروں کونوں پر اینٹیں رکھ دیں گئ تھیں- بلوائ دکان سے کپڑوں کے تھان کے تھان نکال رہے تھے- پولیس دور کھڑی تماشا دیکھنے میں مصروف تھی-
"ادھر آؤ ..." آئ جی نے ایک بنگالی سپاہی کو آواز دی جو اپنی بندوق کولھوں پہ ٹکائے پان چبا رہا تھا-
سپاہی بھاگا بھاگا آیا اور کڑاکے دار سلیوٹ کیا:
" نن ... نیچے کر ہاتھ ... ڈھکّن !!! " آئ جی صاحب نے ڈانٹا-
" پھِکر کرنے کا ناہیں ہے ساب ... ایدر سب اپنا ہی لوغ ہے" وہ پان چباتے ہوئے بولا-
" گورنر ہاؤس کا رستہ سیف ہے ؟" آئ جی نے پوچھا-
" ایک دم بڑھیا ساب ... بس کوتوالی کی طرف کُس گربر ہے .... باقی سب سیک ہے ..."
" ٹھیک ہے .... دھیان سے کرو ڈیوٹی !! " آئ جی نے شیشہ چڑھاتے ہوئے کہا-
آئ جی صاحب گورنر ہاؤس پہنچے تو اجلاس شروع ہو چکا تھا- گورنر جنرل غلام محمد کی تقریر جاری تھی- ھوم سیکرٹری ، جنرل اعظم ، ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اور ایس ایس پیز ہمہ تن گوش تھے-
" یہ ٹینش کوئ پہلی بار نہیں دیکھی میں نے ... " گورنر جنرل نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا- " یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بمبئ میں تھا ... شہر میں ھندو مسلم فسادات پھوٹے .... اور پورا بمبئ جلنے لگا"
" کیا چل رہا ہے ؟؟ " آئ جی نے ہوم سیکرٹری کے پاس بیٹھتے ہوئے سرگوشی کی-
" شکار کے قِصّے ... !!! " ہوم سیکرٹری نے جواباً کہنی ماری-
" فسادات کو صرف ایک ہی چیز ٹھنڈا کرتی ہے .... گولی ..... فسادات کی انیشیل اسٹیج پر ہی اگر کثیر تعداد میں بلوائ مار دیے جائیں تو بلوہ خود بخود دم توڑ جاتا ہے .... کیوں آئ جی صاب ؟"
" سس .... سر .... اندرون شہر کا کنٹرول اگر فوج کے حوالے کر دیا جائے تو ....!!! " آئ جی نے کچھ کہنے کی کوشش کی-
" اس پر بات ہو چکی ہے ... یو آر لیٹ ..... پولیس کو گولی چلانے کا کھلا اختیار ہے ... اور گشتی دستوں کی مدد کےلئے فوج بھی موجود ہیں ... کوارڈینیٹ وِد جنرل اعظم !!! "
" سر فردوس شاہ مرڈر کے بعد پولیس کے حوصلے پست ہیں ... " آئ جی گڑگڑایا-
" حوصلہ رکھو ... جو جوان بہادری سے لڑے گا ... اسے من چاہی جگہ پر دو مربع زمین دی جائے گی ..."
آئ جی ایک ٹھنڈی سانس لیکر خاموش ہو گیا-
"چیف سیکرٹری کہاں ہیں ...؟؟ " گورنر نے پوچھا-
" سیکریٹیریٹ میں کلرکوں نے ھنگامہ مچا رکھا ہے سر .... انہیں شانت کرنے گئے ہیں" ہوم سیکرٹری نے بتایا-
"کلرکوں کو کیا ہوا ؟؟ "
" کل ہونے والے قتلِ عام کی وجہ سے سب برہم ہیں سر .... "
" اوہ گاڈ ... اس کا مطلب ہے ... یہ تحریک سرکاری مشینری میں بھی گھس چکی ...؟؟ "
" یس سر ... ریلوے ملازمین بھی ہڑتال پر ہیں ... اور محکمہء بجلی کے لائن مین بھی کام چھوڑے بیٹھے ہیں"
" ایسا کرو ..... سپہر کی میٹنگ میں کچھ معززینِ شہر کو بلواؤ .... پھر ایک بیان پر ان کے دستخط کرواؤ .... اور یہ بیان ریڈیو سے نشر کرواؤ ..... اس سے پبلک پر اچھا اثر پڑے گا ..... لکھو ابھی..."
" یس ... سر " ہوم سیکرٹری کاغذ قلم سونت کر سیدھا ہو گیا-
" لکھو .... ختم نبوّت کے نام پر ...... امن و امان ..... تباہ کرنے والے لوگ ملک و قوم کے دشمن ہیں ... ان کے مطالبات محض تعصب اور کوتاہ فہمی پر مشتمل ہیں ... جماعت احمدیہ پاکستان کی ایک پرامن ، غیر متعصب اور ایجوکیٹڈ کمیونٹی ہے ...."
"سر ایک منٹ ..." ہوم سیکرٹری لکھتے لکھتے رُک گیا-
"کیا ہوا ؟"
"سر اس مسودے پر کوئ معزز آدمی سائن نہیں کرے گا !!! "
"چلو پھاڑ دو !!! "
⊙-----------⊙
اس دن پولیس نے شرح صدر کے ساتھ گولی چلائ-
پولیس کی درندگی کا شکار صرف اور صرف ختمِ نبوّت کے پر امن رضاکار ہی بنے- جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کرنے والوں کو کسی نے پوچھا تک نہیں -
سب سے زیادہ ظلم گوالمنڈی میں ہوا-
عبدالکریم مرزائ اے ایس آئ اور خان بہادر سپریڈنٹ بارڈر پولیس یہاں تعیّنات تھے- خان بہادر وہی شخص تھا جس نے 1935ء میں مسجدِ شہید گنج تحریک میں بھی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے تھے- انگریز حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے انعام میں خان بہادر کو بے شمار تمغوں سے نوازا تھا- آج پھر وہ دو مربع زمین کے لالچ میں ایمان بیچنے آیا تھا- یہ دونوں آفیسرز رضاکاروں کو ابھار ابھار کر گولیاں چلاتے رہے-
پولیس گاڑی پر لگے میگافون سے بار بار اعلان کیا جاتا:
" ہے کوئ ختمِ نبوّت کا پروانہ ؟؟... ہے کوئ شہادت کا تمنّائ ؟؟ "
اعلان سنتے ہی آٹھ دس دیوانے مستانے نعرہء تکبیر لگاتے ہوئے آگے بڑھتے اور بارڈر پولیس انہیں گولیوں سے بھون دیتی-
دن بھر نہ تو عاشقانِ مصطفی ﷺ ایک قدم پیچھے ہٹے اور نہ ہی پولیس کے دل میں لمحہ بھر کو انسانیت جاگی- صبح نو بجے سے لیکر دوپہر دو بجے تک یہ مقتل گاہ یونہی سجی رہی- لوگ جوق در جوق " لبیک یا رسول اللہ ﷺ " کا نعرہ لگاتے ہوئے ، ناموسِ رسالت پر قربان ہوتے رہے ... وقفے وقفے سے ایک فوجی گاڑی آتی اور اسلحہ دیکر چلی جاتی- ان شہداء کی تعداد کسی نے ایک ہزار لکھی تو کسی نے دس ہزار- رب سچّا ہی جانتا ہے کہ کتنے لوگ شہید ہوئے- کہا جاتا ہے کہ ان گمنام مجاھدین کی لاشیں ٹرکوں میں ڈال کر چھانگا مانگا جنگل میں پہنچائ گئیں- ان کے جسدِ خاکی ایک طویل کھائ میں پھینک کر ، پہلے تیل چھڑک کر آگ لگائ گئ ، پھر اس اجتماعی قبر کی مٹّی برابر کر دی گئ-
سرورِ کونین ﷺ سے ، جب سر کا سودا ہو چکا
ہم نہ پوچھیں گے کسی سے بھاؤ اب بازار کا
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers