موسمِ بہار کی آمد آمد تھی اور موسم کافی خوشگوار تھا-
شہر کے حالات جاننے کےلئے ہم ہم موتی بازار سے مستی گیٹ بازار کی طرف باپیادہ جا رہے تھے- بازار بالکل سنسان پڑے ہوئے تھے- دور سنہری مسجد کی طرف سے کچھ نعروں کی آواز سنائ دے رہی تھی- شاید کوئ جلوس آ رہا تھا-
اس دوران اچانک فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے فضاء گونج اُٹھی- بے شمار پرندے جھاڑیوں سے اُڑ کر فضاء میں چکّر لگانے لگے- اس کے ساتھ ہی ایک عجیب بے ھنگم شور سنائ دیا-
ہم صورتحال جاننے کےلئے ہٹہ بازار کی طرف دوڑے تو سامنے سے ایک سول وین مستی گیٹ بازار طرف مُڑی-
"سائیڈ پکڑو ..... سائیڈ ... " چاند پُوری چلائے-
ہم نے جلدی سے ایک دیوار کی اوٹ لی اور ایک چھید سے باہر دیکھنے لگے - وین ہم سے کوئ دو سو قدم کے فاصلے پر آ کر رُکی - اس میں لمبے بالوں والے تین چار جوان نکلے جنہوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں- انہوں نے دیوار کی سمّت دو تین اندھا دھند بلٹ فائر کئے اور گاڑی میں بیٹھ کر رفوچکّر ہو گئے- دونوں گولیاں قریبی دوکان کے فرنٹ پر لگیں اور کچھ فرش اکھڑ کر ہمارے اوپر آن گرا-
"کیا ہو رہا ہے یہ ..... " میں نے پھولی سانسوں میں کہا- " فوجی ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟؟ "
"فوجی نہیں .... خلیفہ کے رضاکار ہیں ... وہی ہوا جس کا ڈر تھا ... "
"کیا ہوا ؟؟ "
"شہر میں قتل و غارت کا ٹھیکہ مرزائیوں کو مل گیا ... چلو اب نکلو یہاں سے "
ہٹّہ بازار میں ہمیں صرف ایک ہی ذی روح نظر آئ- پینٹ کوٹ والا ایک بوڑھا کرسچیئن جو کُچھّا گراں کی طرف بھاگ رہا تھا- اس کے گلے میں پڑی صلیب بری طرح جھول رہی تھی-
"یہ مسٹر گین کیا کر رہے ہیں ادھر ؟؟ " چاند پوری بڑبڑائے-
"مسٹر گین ؟؟ "
"لاہور بلدیہ کا انچارج ہے .... ایک منٹ .... مسٹر گین .... مسٹر گین ... " انہوں نے آواز لگائ-
مسٹر گین یکایک رُکے .... گلے میں پڑی صلیب کو چوما اور چلائے " اٹس سینٹ بار تھیلومیو ڈے .... رن اوے"
اس بعد وہ ہولی جوسس ... ہولی جوسس کرتے ایک گلی میں گھٌس گئے-
"سینٹ بار تھیلومیو ڈے .... ؟؟ "
"ریاست اور مذھب کے بیچ ہونے والی سب سے بڑی جنگ .... جس میں ہزاروں پادروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا .... اللہ پاکستان پر رحم فرمائے !!! "
ہم موتی مسجد کے قریب پہنچے تو سڑک پر خون ہی خون پڑا تھا-
وہ دن لاہور کی تاریخ میں سینٹ بار تھیلومیو ڈے ہی تھا- پولیس نے بھی اس روز دِل کھول کر فائرنگ کی اور پراسرار جیپ پر سوار قادیانی دھشت گرد بھی شرح صدر سے گولیاں چلاتے رہے- سارا دن پولیس گولیوں اور سنگینوں سے تحریک کو ٹھنڈا کرتی رہی اور مسلمان خونِ جگر دیکر عقیدہء ختم نبوّت کی آبیاری کرتے رہے- صبح صبح بھاٹی دروازے کے قریب سے گزرنے والے ایک جلوس کو پُولیس نے کرفیو کی خلاف ورزی قرار دیکر بھون ڈالا- اس کے بعد نولکھا بازار ، سرکلر روڈ ، بیرون دہلی دروازہ ، ٹولٹن مارکیٹ ، میکلو روڈ ، نسبت روڈ اور موچی دروازہ سے گزرنے والے جلوسوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شرکاء کے قلب و جگر کو چھید دیا گیا-
پورا لاہور فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے گونج رہا تھا- پولیس باؤلے کُتّے کی طرح تاک تاک کر نشانے باندھ رہی تھی- جگہ جگہ ختمِ نبوّت کے پروانوں کے لاشے تڑپ رہے تھے- رات دیر گئے تک حق و باطل کا یہ معرکہ جاری رہا اور اہلِ حق اپنے سینوں پر گولیاں کھا کھا کر شہادت کے جام پیتے رہے- پولیس لاشیں اٹھا اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کرتی رہی-
مسجدِ وزیر خان سے بعد نمازِ مغرب 25 عاشقوں صادقوں کے جنازے اٹھائے گئے-
تا ابد چمکیں گے یہ نور کے ہالے تیرے
ہاتھ باندھے ہیں کھڑے چاہنے والے تیرے
معرکہء بدر و احد اور کبھی کرب و بلا
کیسے اندازِ محبت ہیں نرالے تیرے
رات ہوئ تو لوگ گھروں کی چھتّوں پر چڑھ کر اذانیں دینے لگے- لاہور میں کوئ گھر ایسا نہ تھا جہاں شہداء کا ماتم بپا نہ ہوا ہو- پورا شہر شوروغوغا کا ایک ھنگامہ زار بنا ہوا تھا- رات بھر دور دور تک مہیب اور ھولناک شور کی آوازیں سنائ دیتی رہیں-
رات ایک بجے ہوم سیکرٹری ، آئ جی ، ڈی آئ جی ، جنرل اعظم ، اور بعد دوسرے فوجی افسران وزیرِ اعلی کی کوٹھی پر پہنچ گئے- وزیِر اعلی انتہائ بے تابی سے ان سب کا انتظار کر رہے تھے- ادھر یہ لوگ پہنچے ، ادھر اجلاس شروع ہو گیا-
"ٹُو منٹس سائلنس ... ان دی گریف آف مارٹائر ... ڈی ایس پی سیّد فردوس شاہ" وزیرِ اعلی نے کہا اور سب لوگ سوکھی توری کی طرح مونہہ لٹکا کر بیٹھ گئے-
دو منٹ کی مہیب خاموشی کے بعد وزیراعلی نے سکوت توڑا-
" آج کا دِن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے .... شرپسندوں نے دِن دیہاڑے .... ایک بہادر ڈی ایس پی کو نہ صرف موت کے گھاٹ اتارا .... بلکہ اس کی لاش بھی مسخ کر دی- ثابت ہوا کہ اس تحریک کا مقصد ملک میں قتل و غارت گری کے سوا کچھ نہیں- لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ پولیس اور فوج مل کر بھی ، شہر کو ان شرپسندوں سے خالی نہیں کرا سکے .... میں پوچھنا ہوں آخر کیوں ؟؟ .... ویئر اِز دی پرابلم ؟؟"
" سر دوپہر سے لیکر اب تک پولیس مسلسل گولیاں چلا رہی ہے ..." آئ جی نے کہا- " ہم دس کو مارتے ہیں ... اس کی جگہ بیس اور آن کھڑے ہوتے ہیں ... دِس از ریڈیکولس ... آئ تِھنک ... ناؤ ملٹری شُولڈ کمپلیٹلی ٹیک اوور دی چارج !!!"
" کیوں جرنل صاحب ... آر یو ریڈی ٹو کم اپ ان دی فرنٹ ؟؟" وزیرِ اعلی نے پوچھا-
جنرل اعظم نے جیب سے کچھ کاغذات نکالے ، اور نظر کا چشمہ درست کرتے ہوئے گویا ہوئے :
" سر پہلے میں آپ کو مِلٹری ایڈ ٹو سول پاور کی وضاحت کر دوں .... "
"دیکھئے جنرل صاحب یہ قانونی وضاحتوں کا وقت نہیں ... اِٹس وار !!! .... اب فوج کو توپ وتفنگ سمیت میدان میں اترنا چاھئے ... اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہر گلی ، ہر چوک میں ایک پولیس افسر کی لاش پڑی ہو گی ..."
" سر توپ خانہ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں دشمن بھاری ہتھیار لئے سامنے کھڑا ہو .... کراؤڈ کے ہاتھ میں بوتلیں اور ڈنڈے ہیں .... طاقت کے بے جا استعمال سے مسائل پیدا ہونگے" جنرل نے کہا-
" ٹھیک ہے .... لیکن سم ون ہیو ٹو ڈو سم تِھنگ فار دِس بُل شٹ !!! اس تحریک کو سختی سے کُچلنا ہماری مجبوری ہے .... ورنہ کل کوئ اور تحریک اُٹھ کھڑی ہو گی .... برٹش راج کو بھی ان ملاؤں نے پریشان کئے رکھا .... اور اب پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تُل گئے ہیں .... "
" سر.... آئین کے مطابق فوج جو کردار ادا کر سکتی ہے ، کر رہی ہے .... امن و امان کی بنیادی ذمّہ داری پولیس کی ہی ہے ... بارڈر پولیس بھی اس کے ساتھ ہے .... اگر کسی ایریا میں حالات پولیس کی دسترس سے باہر ہو گئے تو فوج آٹومیٹیکلی وہاں ٹیک اوور کر لیگی .... !!! "
"حیرت ہے !!! یعنی آپ کے خیال میں اب تک کے حالات بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں ؟؟ " آئ جی نے کہا-
" آف کورس .... سوائے ایک پرتشدد واقعے کے اور کچھ نہیں ہوا ... کہیں کوئ پراپرٹی ، کوئ گاڑی نہیں جلی ... کوئ توڑ پھوڑ نہیں ہوئ .... ان حالات میں طاقت کا اتنا ہی استعمال کیا جائے جتنا مناسب ہے"
مسجدِ وزیرخان سے اذان فجر بلند ہوئ تو یہ اجلاس ختم ہوا-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers