مسجد وزیر خان سول ہسپتال کا منظر پیش کرنے لگی-
ہر طرف زخمی پڑے کراہ رہے تھے- ڈاکٹر لوگ اِدھر اُدھر بھاگے پھرتے تھے- لاہور کے بے شمار طبیب ، ڈاکٹرز ، حکماء اور کمپوڈرز حضرات کرفیو کے باوجود اپنا سامان اٹھائے ادھر چلے آئے تھے-
حق و باطل کی اس کش مکش میں ہر کوئ اپنا اپنا حصّہ ڈال رہا تھا- ریاست ہڈیاں توڑ رہی تھی اور یہ پوری دلجمعی سے انہیں جوڑنے میں مگن تھے- ریاست کے سر پر خون سوار تھا اور یہاں خون دینے والوں کا تانتا بندھا تھا-
مولانا خلیل اور دوسرے زعماء خود ایک ایک زخمی کی نگرانی کر رہے تھے- اسی دوران کسی نے آ کر بتایا کہ مسجد کے دروازے پر ڈی ایس پی فردوس شاہ کا خون کر دیا گیا ہے-
مولانا نیازی دوڑے دوڑے دروازے پر چلے آئے-
مشتعل ہجوم فردوس شاہ کی لاش گھسیٹ کر لے جا چکا تھا-
" کس نے شہید کیا ڈی ایس پی کو ؟ کون تھے یہ لوگ ....؟ " مولانا نے باہر نکلتے ہی پوچھا-
"ہم نہیں جانتے حضرت ... مولوی سلیم ان کی قیادت کر رہا تھا ... اسی نے بھڑکایا سب کو" باہر کھڑے ایک شخص نے کہا-
مولانا کے چہرے پر دُکھ کا سایہ آ کر لہرا گیا-
"بہت برا ہوا ... ایک کلمہ گو کا خون .... اور وہ بھی مسجد کے دروازے پر .... استغفراللہ ... !!!
مولانا نے اندر جاکر علماء کمیٹی کو صورتحال سے آگاہ کیا-
"یہ ساری واردات حکومت نے خوب سوچ سمجھ کر کروائ ہے" بہاءالحق قاسمی نے کہا- " ہمیں انتہائ سمجھ داری اور سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا ہوگا"
" لیکن حکومت نے یہ قتل کیوں کروایا ؟؟" مولانا خلیل نے پوچھا-
"دولتانہ وزارت کو تشّدد کرنے کا بہانہ چاہئے تھا .... جو آج مل گیا" قاسمی صاحب رح نے کہا-
" اس کا مطلب ہے ... ہماری پرامن تحریک میں غدّار شامل کئے جا چکے ہیں ... "
" سو فیصد ... تحریک سے وابستہ کوئ مسلمان ایسی حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتا .... فردوس شاہ کا قتل تحریکِ مقدس کی سفید چادر پر ایک بدنماء داغ ہے .... جو مرزائ اور مرزائ نواز انتظامیہ نے لگایا ہے ..... اس کا مقصد ایک پرامن مذھبی تحریک کو سفاک اور خون آشام بنانا ہے "
"آج بعد نماز عشاء میں اپنی تقریر میں حکومت کی یہ سازش طشت از بام کروں گا .... ہمیں شرپسندوں پر کڑی نظر رکھنا ہوگی" مولانا نیازی نے اُٹھتے ہوئےکہا-
⊙◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈◈⊙
تھانہ سول لائن کے سامنے ایمبولینس آکر رُکی-
دو سپاہیوں نے اسٹریچر پر دھری ، سفید چادر میں لپٹی لاش نکالی اور تھانے کے لان میں آکر رکھ دی-
تھوڑی ہی دیر بعد آئ جی پنجاب انور علی ، ڈی آئ جی ، اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ، تھانہ سول لائن پہنچ گئے-خُفیہ اینجنسیوں کے اہلکار بھی لاش کے آس پاس مکھیوں کی طرح بھنبھنانے لگے- تقریباً پندرہ منٹ بعد دو فوجی گاڑیاں تھانہ کے سامنے آکر رکیں- ایک میں سے جنرل اعظم اور دوسری سے دیگر فوجی افسران اترے-
تھانے کے سامنے کھڑی گارڈ نے بندوقیں کھڑکا کر سلام کیا- جنرل اعظم بھاری قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے ادھر آئے جہاں پولیس کی "قربانی" ان کا انتظار کر رہی تھی-
" کیا ہوا ؟؟" انہوں نے آتے ہی رعب دار آواز سے پوچھا-
" خود ہی دیکھ لیجئے " یہ کہتے ہوئے آئ جی نے لاش پر سے سفید چادر سرکا دی-
" اوہ .... گاڈ .... ہوُ اِز دِس ؟؟" جنرل نے ہونٹ سکیڑتے ہوئے پُوچھا-
"ون آف دی موسٹ برِییلئنٹ ڈی ایس پی آف مائ ڈیپارٹمنٹ .... سیّد فردوس شاہ ... کچھ دیر پہلے شرپسندوں نے بھرے بازار میں اس کا قیمہ بنا دیا اور فوج کھڑی تماشا دیکھتی رہی ... شاید اسی کو کہتے ہیں ... ایڈ ٹو سوَل پاور !! "
جنرل اعظم کچھ دیر خاموش کھڑے رہے پھر کیپ سیدھی کرتے ہوئے بولے " لیکن یہ سب کچھ ہوا کیسے ؟؟ "
" دھشت گردوں آج نے ہمارے کچھ سپاہی بندی بنا لئے تھے . ... فردوس شاہ چھڑانے گئے تو ... "
"آپ نے ملٹری کو انفارم کیا ؟؟ .... اباؤٹ ہوسٹیجز ؟؟ " جنرل نے آئ جی کی بات کاٹی-
" آئ ڈونٹ نو ہاؤ ٹو انفارم دی ملٹری ... شہر بھر میں دھشت گرد دندناتے پھرتے ہیں ... اور آپ کی ملٹری باغِ جناح میں مورچے سنبھالے بیٹھی ہے ... فار وَٹ ؟؟؟ "
"امن و امان قائم رکھنا پولیس کی ذمّہ داری ہے .... جہاں حالات آپ کے بس سے باہر ہوں وہاں فوج کو انفارم کیجئے !!! "
"ہم پہلے ہی آپ سے کہ چکے ہیں کہ حالات ہمارے بس سے باہر ہیں ... وائے یوُ ڈونٹ انڈراسٹینڈ جنرل .... ناؤ کَم اَپ اِن دی فَرنٹ اینڈ ٹیک اوور دِی چارج !!! "
" پلیز ڈونٹ ٹرائ ٹُو ٹِیچ مِی مائ ڈیوٹی !!! فوج وہی کچھ کر رہی ہے جو اسے کرنا چاھئے !!! "
"فوج ہمارے مرنے کا انتظار کر رہی ہے .... اور کچھ نہیں !!! " آئ جی نے بھی تیوڑیاں چڑھا لیں-
" سر .... گورنر صاحب کا فون !!! " ایک محرّر نے آ کر مملکت کے دو بڑے ستونوں کو ٹکرانے سے بچایا-
آئ جی ، جنرل صاحب کو گھورتے ہوئے اندر چلے گئے- جنرل اعظم اپنے ساتھ ساتھ آئے ہوئے آفیسرز کو لیکر ایک کونے میں جا کھڑے ہوئے-
تھوڑی دیر بعد آئ جی واپس آئے تو جنرل صاحب کو مخاطب کئے بغیر کہا " گورنر صاحب نے پورے شہر میں مارشل لاء لگانے کا فیصلہ کیا ہے ... ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو اختیار ہے کہ وہ جب چاھے گولی چلانے کا آرڈر دے سکتا ہے"
" میری طرف سے آرڈر ہی سمجھئے .... !!! " ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اطمینان سے کہا-
"لیکن گولی چلائے گا کون ؟؟ "
" بارڈر پولیس ..... آپ لوگ صرف ڈیڈ باڈیز غائب کرنا !!! "
آئ جی نے ایک ایس پی کو بلا کر کہا:
" جمشید .... ڈبّہ تیار کراؤ .... فردوس شاہ کی لاش کو اس کے گاؤں بھجواؤ .... قومی پرچم میں لپیٹ کر .... چھ سات جوان بھی ساتھ لے لو .... سلامی کےلئے ... کوئک .... ارجنٹ !!!"
اس کے بعد لاہور کی تمام پولیس چوکیوں پر آئ جی کا یہ وائرلیس میسیج سنا گیا:
" آل پوزیشنز .... ایچ کیُو وَن .... شہر بھر میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے .... فوراً گشت شروع کیا جائے ... جو شخص دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے .... اسے اُڑا دیا جائے .... سُستی کرنے والے اور مس فائر کرنے والے اہلکار کو خفیہ پولیس خود اُڑائے گی "
دن کے ساڑھے گیارہ بجے آئ جی کا وائیرلیس بول اُٹھا-
"ایچ کیو ون .... دالگراں پوسٹ اوور !!! "
"یس .... بولو ... دالگراں !!! " آئ جی نے کہا-
" انسپکٹر آغا سلطان احمد سر ..... یہاں چوک دلگراں میں لاٹھی چارج کے دوران ایک بچّہ ہلاک ہو گیا ہے سر ... "
" کتنی عمر ہے؟ "
"تقریباً 12 سال سر"
" ڈیڈ باڈی غائب کر دو ... فوراً .... اوور اینڈ آؤٹ !!!!"

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers