4 مارچ .... 1953ء ....لاہور !!!
تشدّد کی ایک نئ تاریخ رقم ہوئ-
بعد از نمازِ ظہر مسجد وزیر خان سے پرامن رضاکاروں کا ایک جلوس نکلا- شرکائے جلوس پنجاب کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے دیہاتی قسم کے لوگ تھے ، جو ختمِ نبوّت کی کال پر تن من وارنے لاہور چلے آئے تھے-
تقریباً ایک ہزار جانثاروں کا یہ جلوس چوک دالگراں سے ہوتا ہوا لاہور ریلوے اسٹیشن کی طرف جانا چاھتا تھا- ان کے گلے میں پھولوں کے ہار تھے اور زبان پر لا الہ الا اللہ کا ورد-
چوک دلگراں میں سٹّی پولیس اور بارڈر پولیس کی بھاری جمیعت تیّار کھڑی تھی- سٹی مجسٹریٹ سید حسنات احمد ، ڈی ایس پی سیّد فردوس شاہ ، اور ملک خان بہادر سپریڈنٹ بارڈر پولیس نے جلوس کا راستہ روکا اور انہیں فوری طور پر منتشر ہونے کو کہا- لیکن ذوقِ براھیمی سے سرشار ان دیوانوں کے پاس حکومتی بت خانوں سے ٹکرانے کے سوا کوئ راستہ نہ تھا:
یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں ، لا الہ الا اللہ
پرغرور پولیس نے آخر رومن اکھاڑا سجا ہی لیا-پہلے آنسو گیس کے گولے چھوڑے پھر لاٹھی چارج شروع کر دیا- یہ لوگ اپنی جگہ پر نہایت ثابت قدمی سے جمّے رہے- پولیس ان کی امن پسندی کو دیکھ کر اور شیر ہو گئ سو ایک ایک بندے پر تین تین پولیس والے مسلط ہو کر ضرب و شلاق کرنے لگے- غرض کہ پولیس مسلسل روئ کی طرح انہیں دھنکتی رہی اور ان کا عشق کمالِ ضبط سے انکی چمڑیاں ادھڑواتا رہا-
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کے خزاں ، لا الہ الا اللہ
تشدّد کرنے والوں کے ہاتھ تھک گئے ، معطر جسموں سے پُھوٹنے والی لہو کی دھاروں سے قانون کی وردیاں رنگین ہو گئیں لیکن یہ لوگ ایک قدم پیچھے ہٹّنے کو تیار نہ ہوئے- پولیس زخمیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر ٹرکوں میں پھینکنے لگی- سڑک پر ہر طرف جانثارانِ ختمِ نبوّت کا خون پھیلا ہوا تھا-
ڈی ایس پی فردوس شاہ نے آج کھُل کر بربریّت دِکھائ- ایک بوڑھے مجاھد پر ڈنڈے برساتے ہوئے اس نے اسے زور کی ٹھوکر ماری- بزرگ کے ہاتھوں میں چاندی کے غلاف میں لپٹی حمائل شریف تھی- فردوس شاہ کی ٹھوکر سے کتاب اللہ چاندی کے خول سے نکلی اور ورق ورق ہو کر قریبی نالے میں جا گری-
یکّی دروازے کا ایک نوجوان محمد شریف عرف کاکا دور سے یہ منظر دیکھ رہا تھا- کاکا موٹر مکینک تھا اور چوک دالگراں کی ایک ورکشاپ میں ملازم - اس دن بازار بند تھا اور وہ ورکشاپ کے تھڑے پر محض تماشا دیکھنے بیٹھ گیا تھا-
عصر تک فضاء کچھ پرامن ہوئ تو کاکا تھڑے سے اٹھ کر ادھر چلا آیا اور نالے میں اتر کر قران کے اوراق سمیٹنے لگا-
وہ اپنے کام میں منمہک تھا کہ اوپر سے آواز آئ-
"اوئے کاکا ..... کی کرداں ایں نالے وِچ ؟؟ "
اس نے چونک کر اوپر دیکھا تو مولوی سلیم بنیرے پر کھڑا مسواک چبا رہا تھا-
" مولوی صاب .... ایدر ویکھو .... مقدّس اوراق .... گندے نالے وِچ "
" توبہ توبہ ... اے کِس نے سُٹّے نیں ؟؟" مولوی نے کہا-
" ڈی ایس پی فردوس شاہ نے .... میرے سامنے قران شریف نُوں ٹھوکر ماری اوس بے غیرت نے .... " کاکے نے تڑک کر کہا-
"استغفراللہ .... لا پُتّر اوراق مجھے پکڑا دے" مولوی سلیم گھٹنوں کے بل نالے پر جُھک گیا-
کاکا نے اوراق اکٹّھے کر کے مولوی سلیم کو پکڑائے اور واپس ورکشاپ کی طرف جانے لگا-
"توں .... کتھّے چلاں ؟؟ میرے ساتھ آ .... یہ کوئ چھوٹی موٹی گل نئیں ہے .... پبلک کو بتاتے ہیں ...."
مولوی سلیم کاکے کو ہمراہ لئے سیدھا بیرون دہلی دروازہ پہنچا- یہاں کوئ دو اڑھائ سو کا مجمع کھڑا تھا-
اس نے جاتے ہی شور کیا " بھائیو .... ایدر ویکھو .... ظلم ہو گیا ظلم .... فردوس شاہ ..... ڈی ایس پی نے .... قران پاک نوُں ٹھوکر ماری ... اور .... گندے نالے وِچ پھینک دتّا ایہہ ویکھو .... کاکا گواہ ہے ..... استغفراللہ !!! "
یہ سن کر ایک مجمع اس کے گرد ہو لیا-
مولوی سلیم یہ جلوس لیکر مسجد وزیر خان پہنچا- مسجد کے قریب انہیں ایک تھانیدار آتا دکھائ دیا جس کے ہمراہ چند سپاہی بھی تھے- یہ لوگ بے فکری سے جارہے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ختمِ نبوّت کے امن پسند رضاکار ان کے درپے آزار بھی ہو سکتے ہیں-
مجمع نے نعرہ لگایا " پنجاب پولیس ... مردہ باد ... بارڈر پولیس مردہ باد"
پولیس والے پہلے تو ٹھٹھکے ، پھر مجمع کے تیور دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر ایک قریبی فلیٹ میں جا گھسے ، اور اندر سے گیٹ بند کر لیا- فلیٹ کے گرد مجمع بڑھنے لگا- کھڑکی سے جب بھی کوئ سپاہی سر نکالتا تو نیچے کھڑا مجمع زور زور سے نعرے لگاتا " پنجاب پولیس مردہ باد !!!"
ڈی ایس پی فردوس شاہ تھانہ سول لائن میں بیٹھا چمپی کروا رہا تھا کہ فون بج اُٹھا :
"یس .... فردوس شاہ !!"
" کہاں ہو میرے شیر ؟؟" آئ جی صاحب کی کال تھی-
"سر ... وردی پہ خون گر گیا تھا ... سوچا بدل لوں .... "
" مبارک ہو ... گورنر صاحب نے آپ کو اور ڈی ایس پی خان بہادر کو دو دو مربعے زمین انعام میں بخشی ہے ... میرے سامنے پڑا ہے الاٹمنٹ آرڈر !! "
فردوس شاہ کے ہاتھ سے کریڈل گرتے گرتے بچا- وہ بمشکل اتنا ہی کہ سکا " سس .... سر ... آپ کی عنایت سرر !!! "
"اچھا مٹھائ بعد میں کھائیں گے تم سے .... ابھی ایسا کرو فوراً مسجد وزیر خان پہنچو ... خبر آئ ہے کہ شرپسندوں نے کچھ پولیس والوں کو بندی بنا لیا ہے ... آئ نو یُو آر اے بریو مین ... دو تین سپاہی ساتھ لے لینا "
" ڈونٹ ورّی سر .... فردوس شاہ کسی سے ڈرتا ورتا نئیں ہے .... ڈرائیور !!! جیپ ریڈی کرو .... فوراً ... "
فردوس شاہ تین سپاہیوں کو لیکر مسجد وزیر کے سامنے اترا تو لوگ فلیٹ پر پتھراؤ کر رہے تھے- وہ دھونس جمانے کےلئے جیپ کا ہارن بجانے لگا-
لوگ ادھر متوجّہ ہوئے تو کسی نے نعرہ لگا دیا-
" وہ رہا فردوس شاہ ..... اسی بدبخت نے قران کو ٹھوکر ماری تھی .... !!!! "
بپھرا ہوا مجمع ادھر دوڑا اور فردوس شاہ کے ریوالور نکالنے سے پہلے ہی اسے دبوچ کر ٹھوکروں پہ لے لیا- ہر شخص اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لے رہا تھا- لوگوں نے دکانوں کی چھپریوں سے بانس نکال لئے- مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے سیدھی ضرب لگانا ممکن نہ تھا- لوگوں نے بانسوں سے چوک چوک کر فردوس شاہ کا قیمہ بنا دیا-
دو گھنٹے بعد فردوس شاہ کی سربریدہ لاش اسی گندے نالے میں پڑی تھی جہاں اس بدبخت نے قران کو ٹھوکر لگا کر پھینکا تھا-
مولوی سلیم کے ہاتھ ڈی ایس پی کا پستول لگا- جو اس نے کمالِ سخاوت سے کاکا کو تحفے میں دے دیا-
نصف گھنٹے بعد مولوی سلیم آئ جی آفس میں بیٹھا چائے پی رہا تھا-
" ... تے باقی رہ گیا آلہء قتل ... او تہانوں شریف کاکا توں مل جانڑاں .... اللہ اللہ خیر صلا"
آئ جی صاحب نے مولوی سلیم کو ستائشی نظروں سے دیکھا اور گورنر غلام محمد کو فون گھمایا:
"سر .... مبارک ہو .... قربانی ہو گئ ... اس مولوی ڈھکن کو چھوٹا موٹا بکرا کہا تھا ... اس نے تو پورا بیل کاٹ مارا ... فردوس شاہ از کِلڈ بائ اینگری موب !!! "
" فون پر ایسی باتیں نہیں کرتے .... ڈیڈ باڈی لیکر فوراً تھانہ سول لائن پہنچو ... میں جنرل اعظم کو لیکر پہنچتا ہوں .... اور ہاں ... لینڈ الاٹمنٹ پیپرز شہید کی بیوہ تک ضرور پہنچا دینا ...
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers