3 مارچ .... 1953ء ... لاہور
لاہور شہر میں جُزوی کرفیو لگا دیا گیا-
صبح ہی صبح فوج کے دستے باغِ جناح ، سول لائن اور لوکوشیڈ میں گشت کرنے لگے- کرفیو کا اثر شہر کی بیرونی سڑکوں پر ضرور تھا لیکن اندرون شہر انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا- پنجاب بھر کے دیہات اور شہروں سے عوام قافلوں کی صورت اب بھی مسلسل لاہور پہنچ رہے تھے-
مارشل لاء لگتے ہی پولیس کا مریل گھوڑا بھی ہنہنا کر اٹھ کھڑا ہوا- شہر میں ہر طرف ڈنڈابردار فورس کی ٹولیاں مٹکنے لگیں-
دوپہر تک بارڈر پولیس ، خفیہ پولیس ، سی آئ ڈی ، ملٹری انٹیلیجنس ، اور جانے کون کون سی بلائیں شہر میں نازل ہو چکی تھیں-
مسجد وزیر خان کے معمولات میں بال برابر فرق نہ آیا-
مولانا نیازی رح کی شعلہ بیانیاں بھی جاری تھیں ، خلیل احمد قادری صاحب کا زورِ خطابت بھی عروج پر تھا ، مولانا غلام غوث ہزاروی کی تقاریر بھی چل رہی تھیں ، صبح صبح سرفروشوں کے جلوس بھی روانہ ہو رہے تھے اور نعت خوانوں کے گلہائے عقیدت بھی فضاء میں خوشبو بکھیر رہے تھے-
تیریاں تے صفتاں دا ، کوئ وی حساب نئیں
توں تاں کتھے ، تیریاں غلاماں دا جواب نئیں
حُوراں نُوں تُوں رُوپ ونڈیں ، حبشی بلال دا
میں لبھ کے لیاواں کتھوں سوہناں تیرے نال دا
نمازِ فجر کے بعد مسجدِ وزیرخان میں ہزاروں کے اجتماع سے مولانا عبدالستار نیازی کا خطاب جاری تھا:
" یہ کہتے ہیں ---- مرزائیوں کا مسئلہ محض ایک مذھبی مسئلہ ہے ---- اسے مدارس میں سلجھاؤ ---- حکومت کو اس میں مت الجھاؤ ---- اسے ایوان تک مت لیکر آؤ ----- چار مولوی بیٹھ جاؤ ---- جسے چاہو مسلمان کہو ---- جسے چاہے کافر بناؤ ---- بس ہمیں مت چھیڑو ---- یہ حکومت کا درد سر نہیں ہے ---- میں کہتا ہوں تم لوگ اس تحریک کو یا تو سمجھ نہیں سکے ---- یا سمجھنا نہیں چاھتے ---- تحریک ختمِ نبوّت کے بارے میں سب سے بڑی misconseption یہی ہے کہ اسے صرف ایک مذھبی تحریک سمجھا گیا ہے ---- "
دولتانہ صاحب !!! ---- تحریکِ ختم نبوّت محض ایک مذھبی تحریک نہیں ہے ----- یہ ایک سیاسی تحریک بھی ہے ---- یہ ایک معاشی جدو جہد بھی ہے ---- کیا ایک مسلمان کا دین اس کی دنیا سے جدا ہے ؟؟ ---- کیا مسلمان کی سیاست اس کی عبادت سے الگ کوئ چیز ہے ؟؟ ہرگز نہیں ---- کیا ان غدّاروں کے خلاف ہمیں اُٹھنے کا حق نہیں جو نبوّت کا نُور ملکہء وکٹوریہ کے تاج سے کشید کرتے ہیں ؟؟ ---- کیا ان اقتصادی رخنہ اندازوں کو روکنے کا ہمیں حق نہیں جو ملکی غلّہ ھندوستان کے رستے اسمگل کر کے ملک میں قحط کی صوتحال پیدا کر رہے ہیں ---- جو پاکستان کو امریکی گوداموں میں سڑتی گندم کی منڈی بنانا چاھتے ہیں ---- ہاں ہاں یہ ایک مذھبی تحریک بھی ہے ---- جس طرح تحریک پاکستان ایک مذھبی تحریک تھی ---- تحریک کشمیر ایک مذھبی تحریک تھی ---- اور مستقبل میں سود کی لعنت کے خلاف جو تحریک اُٹھے گی ---- وہ بھی ایک مذھبی تحریک ہو گی ----"
ڈی آئ جی میاں محمد انور نے تڑاخ سے کھڑکی بند کی اور کُرسی پر آ کر ڈھیر ہو گیا-
" یار .... ان مُلاؤں سے کب جان چھوٹے گی .... سات دن ہو گئے ... چین سے سو بھی نہیں پایا ؟؟"
" نیازی کو گرفتار کر لو ، تحریک خود بخود ٹھنڈی ہو جائے گی" ھوم سیکرٹری نے چھوٹی سی بوتل کا ڈھکّن کھولتے ہوئے کہا-
"لیکن کرے گا کون میرا باپ ؟؟ ... پچاس ہزار آدمی مسجد میں بیٹھا ہے"
"فوج کو چاول چھولے کھانے بلایا ہے ؟؟ کدھر ہے تمہارا کرنل شیریں .... !!! "
اس دوران دفتر میں رکھا انٹرکام بج اٹھا-
"کیا ہے؟"
"سر کراچی سے ڈیفنس سیکرٹری اسکندر مرزا کی کال ہے" سیکٹری نے کہا-
آئ جی نے فون اٹھایا-
" جی سر ... کیا حال ہیں؟ "
" سُنا ہیرو ... کتنی لاشیں گرائیں ؟؟"
" لاشیں .... ؟؟ فی الحال تو خود زندہ لاش بنے بیٹھے ہیں .... "
"کیوں ؟؟ کیا ہوا ؟ "
"ہونا کیا ہے .... کہنے کو کرفیو لگائے بیٹھے ہیں ... لیکن مُلاں آزاد ہیں اور ہم دفتروں میں قید "
"دیکھو !!! جب تک شرافت دکھاتے رہو گے ، بندی بنے رہو گے .... باہر نکلو .... کوئ گولی شولی چلاؤ .... لاشیں گراؤ .... یوں دفتر میں بیٹھے رہو گے تو خاک امن قائم ہو گا ..."
ڈی آئ جی نے فون رکھّا ہی تھا کہ سیکرٹری کا انٹرکام پھر بج اٹھا-
" سر گورنر صاحب لائن پہ ہیں"
" سر انورعلی !!!!" ڈی آئ جی نے فون اٹھاتے ہوئے کہا-
" ڈی آئ جی صاحب !!! گیدڑ کی طرح کھوہ میں چھُپّے رہو گے یا کچھ کرو گے بھی .... باہر نکلو اور جلوہ دکھاؤ .... یہی حالت رہی تو مجھے ایک ڈی آئ جی کی قربانی دینا ہی پڑے گی ؟؟"
" سر آپ فکر نہ کریں .... میں نے تمام ڈی ایس پیز کو بلایا ہے !!! آج پولیس کھل کر اپنا جلوہ دکھائے گی سر "
" کل تک مجھے لاہور صاف چاھئے ... ورنہ اپنی قربانی پکّی سمجھو .... !!!"
"سس... سر ... بس ایک موقع اور دیں ... کل تک صاف ہو جائے گا شہر ...!!!"
"پھر ایسا کرو .... کہ اپنے محکمے سے ایک نکھٹو قسم کا جانور ڈھونڈو ... اور اس کی قربانی کر ڈالو .... سوکھی لکڑیاں جلنے سے انکار کر دیں تو فیول ڈالنا ہی پڑتا ہے"
"یس سر ... سمجھ گیا سر .... ہو جائے گا سر !!! "
آئ جی نے فون رکھتے ہی بیل بجائ-
"ڈی ایس پی فردوس شاہ اور ایم اے چوھدری کو بلاؤ فوراً "
"یس سر" اردلی کھڑاک سے سلیوٹ کر کے باہر چلا گیا-
تھوڑی ہی دیر بعد فردوس شاہ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا آفس میں وارد ہوا ... اس کے پیچھے پیچھے ڈی ایس پی ایم اے چوھدری تھا- دونوں نے پاؤں مار کر زمین پھاڑ سلیوٹ کیا-
" ڈی ایس پیز !!! میں پوچھتا ہوں ....... کیا تم لوگوں کے باپ آئے ہوئے ہیں شہر میں ؟؟"
"نن ... نو سر !! " فردوس شاہ نے بیلٹ اوپر کرتے ہوئے کہا-
"کوئ بھائ .... بیٹا .... چچا ... تایا ... سالا ... سالی وغیرہ ؟؟ .... کیوں چوھدری ؟؟"
"نو سر .... ؟؟"
"تو پِھر لاٹھی چارج کیوں نہیں کرتے بے غیرتو !!!!" آئ جی پوری قوّت سے دھاڑا-
"سر ... پپ ....پر امن .... مظاہرین ...."
"ماں کی آنکھ !!! .... پر امن مظاہرین ؟؟ .... سات دن سے شہر بند پڑا ہے .... لوکوشیڈ بند ہے ... سیکریٹریٹ بند ہے ... ریل نہیں چل رہی ... ہوائ اڈّہ بند ہے ... پرامن مظاہرین ؟؟؟ "
دونوں ڈی ایس پیز پتھر کے بُت بن گئے-
" اب کاٹھ کے اُلوؤں کی طرح میرا مونہہ کیا دیکھ رہے ہو !!! جاؤ اور لاٹھی چارج کرو ....کل تک مجھے شہر خالی چاھئے ... کرا سکتے ہو تو ٹھیک .... ورنہ انہیں مظاہرین میں شامل CID کے لوگ تمیں بلوے میں مار ڈالیں گے .... سمجھے کہ نہیں ؟؟؟ "
" سر ...سس ... سمجھ گئے سر !!! "
" ناؤ گیٹ آؤٹ .... آئ وِل کیپ یو آن مانیٹرنگ !!!! " آئ جی نے ٹوپی پہنتے ہوئے کہا-
"سر .... سر ...." ڈی ایس پی سلیوٹ مار کر رخصت ہو گئے-
اسی اثناء میں وائرلیس نے کھٹ پٹ کی-
" ایچ کیو ون ..... ٹولٹن پوسٹ اوور"
"یس ایچ کیو ون .... گو اھیڈ " آئ جی نے کہا-
"نیلا گنبد کی طرف سے جلوس آ رہا ہے سر ... کیا آرڈر ہے؟؟"
" آغا ھوٹل سے بریانی کی دیگ منگواؤ .... اور شرکاء میں بانٹو .... سؤر کی اولاد .... آرڈر پوچھ رہے ہو ؟؟ .... بُل شِٹ !!! ... لاٹھی چارج کرو .... ھڈیاں توڑو ان کی ....!!! "
"یس سر .... یس سر !!!! "
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers