رات 9 بجے آئ جی ، کمشنر اور ھوم سیکرٹری وزیر اعلی کی کوٹھی پر پہنچے-
گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر کے انہوں نے دروازے پر کھڑے گارڈز سے سلیوٹ وصول کیا اور اندر چلے گئے-
وزیراعلی میٹنگ روم میں دونوں کا انتظار کر رہے تھے- کابینہ کے کچھ ممبران بھی یہاں موجود تھے-
"ہاں آئ جی صاحب کیا صورتحال ہے ؟؟ " وزیراعلی نے پوچھا-
"صورتحال بہت گنبھیر ہے سر !!! "
"کیا مطلب ؟؟ " وزیراعلی پریشان ہو گئے-
" پولیس کی رکاوٹوں کے باوجود ایک لاکھ آدمی لاہور پہنچ چکا ہے .... " آئ جی نے بتایا-
"یہ تو پرانی بات ہو گئ .... اور کچھ ؟؟ "
" دفعہ 144 لگنے کے باوجود مظاہرین مسجد وزیرخان میں مورچہ بنائے بیٹھے ہیں .... آئے روز وہاں سے جلوس نکلتے ہیں .... نعرے لگتے ہیں ..... گرفتاریاں ہوتی ہیں .... "
"یہ سب کچھ تو میں سی آئ ڈی بریفنگ میں روز سنتا ہوں .... کوئ نئ بات ہے تو بتاؤ " وزیرِ اعلی نے کہا-
" نئ خبر یہ ہے کہ آج پولیس پر ڈنڈے اور بوتلیں پھینکی گئیں جس سے گیارہ پولیس افسرز زخمی ہوئے ہیں ...."
"سی آئ ڈی بریفنگ میں سن چکا ہوں .... اور کچھ ؟؟ "
اتنے بڑے کراؤڈ کو ہینڈل کرنا شاہی پولیس کے بس کی بات نہیں .... "
" بارڈر پولیس بھی آ جائے گی .... اور ؟؟ "
"کل سے لاہور فوج کے حوالے کرنا ہوگا .... !!! "
" وٹ نان سینس ؟؟ "
" ایڈ ٹو سول پاور ..... سر .... !!! " ہوم سیکرٹری نے کرسی کھینچتے ہوئے کہا-
"ناٹ ایٹ آل .... نو ملٹری رُول .... نیور !!! " وزیراعلی نے بے ساختہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے سکڑنے لگے-
" دیکھئے سر !!! جب سول اتھارٹیز ناکام ہو جاتی ہیں تو فوج کو آگے آنا ہی پڑتا ہے" کمشنر نے سمجھانے کی کوشش کی-
" جانتا ہوں .... بٹ سول اتھارٹیز آر اسٹِل ان ورک ... ہم پولیس کی نفری بڑھا دیتے ہیں" وزیراعلی نے کہا-
" مسئلہ نفری کا نہیں ہے سر .... حکومت کی بدنامی کا ہے "
" وہ کیسے ؟؟ "
" پولیس تشدد کرے گی تو حکومت بدنام ہو گی .... فوج تشدد کرے گی تو ریاست .... یقیناً ہم میں سے کوئ نہیں چاھے گا کہ حکومت بدنام ہو " ھوم سیکرٹری نے کہا-
"دیکھو فوج کو سر پہ مت بٹھاؤ ..... قائدِ اعظم نے کہا تھا آرمڈ فورسز آر دی سرونٹ آف پیوپل ... دے ڈونٹ میک دی نیشنل پالیسیز " وزیرِ اعلی نے کہا-
" نیشنل پالیسیز کو کون چھیڑ رہا ہے سر .... فوج تین دن میں شہر صاف کرے گی اور واپس چلی جائے گی "
" فوج کو بلانا آسان ہے .... واپس بیرکس میں بھیجنا بہت مشکل .... یہ نہ ہو کہ کل فوج اندر بیٹھی ہو اور مسلم لیگ ایوان سے باہر کھڑی ہو ... " وزیرِاعلی نے فکر کا اظہار کیا-
" ایسا کچھ نہیں ہوگا سر .... جنرل اعظم سے ہماری بات ہو چکی ہے .... "
"لیکن پھر بھی اس میں خطرہ تو ہے ........ حکومت کےلئے !!! "
" حکومت کو فوج سے نہیں .... مجلس احرار سے زیادہ خطرہ ہے " آئ جی نے پتا پھینکا-
" وہ کیسے ؟" وزیر اعلی متفکّر ہو گئے-
"سر یہ رہی CID کی وہ خُفیہ رپورٹ جو آپ تک نہیں پہنچ سکی" آئ جی نے جیب سے ایک پلندہ نکالتے ہوئے کہا-
"مجلس احرار جو تحریک پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے پنجاب کے عوام کی نظروں سے گر گئ تھی .... پاکستان کو دل و جان سے قبول کرنے اور مسلم لیگی قیادت کی طرف رجحان رکھنے کی وجہ سے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو چکی ہے .... موجودہ اینٹی احمدی تحریک مجلس احرار کو بہت سٌوٹ کر رہی ہے .... اور اس کی وجہ سے ان کا گراف بڑی تیزی سے اوپر جا رہا ہے .... اگر یہ تحریک کامیاب ہو گئ تو ملک بھر میں احرار کا ڈنکا بج اُٹھے گا ... اس کے بعد وہ مسلم لیگ کو ماریں گے لات اور اپنی الگ سیاسی جماعت بنا لیں گے .... اور اگلے الیکشن میں مسلم لیگ کا بینڈ بجا کر رکھ دیں گے ... "
"اووہ .... آئ .... سی .... !!! " وزیر اعلی ممتاز دولتانہ نے حیرت سے ہونٹ سکیڑ لئے-
"مسلم لیگ .... جس نے خون کی ندیاں بہا کر یہ ملک بنایا .... وہ اسی ملک میں اجنبی ہو کر رہ جائے گی .... اور مجلسِ احرار جو شروع دن سے تقسیم کی مخالف تھی .... پاکستان پر راج کر رہی ہو گی "
" یس .... یو آر رائٹ !!! "
" اس لئے ..... اس تحریک کو ..... ہر صورت ..... ناکام ہونا چاھئیے ..... " آئ جی نے فیصلہ کن انداز میں کہا-
"بھلے اس کےلئے خون کے دریا بہانا پڑیں !!! " ہوم سیکرٹری نے موافقت فرمائ-
" اور یہ کام فوج سے بہتر کوئ نہیں کر سکتا !!! " وزیراعلی نے قائل ہوتے ہوئے کہا-
" یہ رہی مارشل لاء کی درخواست .... اس پر سائن کر دیجئے .... تاکہ پاک فوج کل سے لاہور کا انتظام سنبھال سکے" آئ جی نے پرچہ آگے بڑھایا-
وزیر اعلی نے اتنی تیزی سے دستخط کئے کہ قلم کاغذ میں شگاف ڈال گیا-
آئ جی اور ھوم سیکرٹری واپس گاڑی میں آکر بیٹھے-
"سُنا کیسی چھوڑی ہے ؟" آئ جی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا-
"ھاھاھاھا .... کمال کے بندے ہو یار .... کیا رپورٹ تراشی ہے ماں قسم ؟؟ " ھوم سیکرٹری نے کہا-
" کرنا پڑتا ہے حضور .... پولیس کا فرض ہے .... مدد سرکار کی "
" بے چاری عوام .... اپنی مرضی سے کسی کو پسند بھی نہیں کر سکتی ... سوائے مسلم لیگ کے" ھوم سیکرٹری بوتل کھولتے ہوئے بولا-
" حکومت میں احراری آ گئے تو تیری بوتل کو بھی ڈھکن لگ جائیں گے " آئ جی نے اچانک بریک مارتے ہوئے کہا-
" ارررے !!! گاڑی کیوں روک لی ؟؟؟ " ہوم سیکرٹری پریشان ہو گئے-
"یار ایک غلطی ہو گئ .... واپس جانا پڑے گا سی ایم ہاؤس !!! "
" کیا ہوا ؟؟ .... سگریٹ تو نہیں بھول آیا ؟؟ "
" نہیں یار .... ہم درخواست میں یہ لکھنّا بھول ہی گئے کہ کتنی فوج چاہئے ... مطلب ایک ڈویژن ... دو ڈویژن .... یا ساری کی ساری" آئ جی نے پریشانی سے کہا-
" کمال کرتے ہو یار .... فوج اور برانڈی جتنی مل جائے اتنی ہی اچھی ہوتی ہے ... بھلے ساری کی ساری پلٹن آ جائے .... تیری جان تو چھوٹے گی ناں ... چلا گاڑی !!! "
اگلی صبح جناح گارڈن کے پیچھے سے سورج سر نکالا تو فوجی گاڑیاں شہر میں داخل ہو رہی تھیں-
ملکی تاریخ کا سیاہ ترین سورج طلوع ہو رہا تھا !!!
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers