2 مارچ ... 1953ء ... لاہور !!!!
دن کے 1 بجے تھانہ سول لائن کے سامنے ایک گاڑی آن کر رکی-
" آئ جی ساب آ گئے ..... آئ جی ساب !!!! " باہر سے ایک سنتری بھاگتا ہوا اندر آیا-
ایس ایس پی نعیم مرزا جو میز پر ٹانگیں پھیلائے قیلولہ کر رہا تھا ، ہڑبڑا کر اُٹّھا اور ٹوپی پہن کر الرٹ ہو گیا- باقی عملہ بھی اُٹھ کر آنکھیں ملنے لگا-
" سیدھے ہو جاؤ .... بلاء نازل ہونے والی ہے " ایس ایس پی عملے کو ھدایات دیتا ہوا باہر دوڑا-
آئ جی نے گاڑی سے اترتے ہی پوچھا " سب لوگ آ گئے ؟؟ "
" کک ... کون لوگ سر .... !!! " ایس ایس پی ہکلایا-
" سینئر مجیسٹریٹ ، کمشنر صاب ..... ہوم سیکرٹری ؟؟ "
" نن .... نو سر .... !!!! "
" میٹنگ روم تیار کراؤ .... ارجنٹ میٹنگ ہے !!! "
یہ کہ کر آئ جی صاحب لان میں کھڑے ہو کر سگریٹ سلگانے لگے اور ایس ایس پی مرزا نعیم میٹنگ روم کی طرف دوڑا-
کوئ نصف گھنٹہ بعد کمشنر لاہور ، ہوم سیکرٹری اور میجسٹریٹ بھی پہنچ گئے-
دو بجے تھانہ سول لائن میں اعلی سطح کا اجلاس شروع ہو چکا تھا-
" آج شام کا جلوس بہت سرکش تھا .... " آئ جی نے کہا- "مظاہرین کی طرف سے اینٹوں ڈنڈوں بوتلوں کا آزادانہ استعمال ہوا ہے .... کراؤڈ کے تیور اب بدل رہے ہیں .... "
" پولیس لاٹھی چارج نہ کرتی تو ہجوم اتنا مشتعل نہ ہوتا .... " کمشنر نے کہا-
" کیا کرے پولیس ...... ؟؟ لاٹھی چارج نہ کرتی تو یہ لوگ گورنمنٹ ہاؤس پہنچ جاتے ...... اتنے بڑے کراؤڈ کو ہنڈل کرنا آسان کام ہے ؟؟ "
" فکر نہ کریں .... ہم بارڈر پولیس منگوا رہے ہیں .... وہ لوگ ہائ رسک میں کام کرنے کے عادی ہیں " ہوم سیکرٹری نے کہا-
" غیاث الدین صاحب !!! پوزیشن یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی کوئ سنتا نہیں ، اور مرکز کو کسی کی پرواہ نہیں .... ان حالات میں پولیس جانوں کا رسک کیوں لے " آئ جی کا لہجہ تلخ ہو گیا-
" پنجاب حکومت تمہیں ہتھیار اوراختیار تو دے چکی اور کیا کرے ؟؟" ھوم سیکرٹری نے کہا-
" تو اب کیا بندوق لیکر موب پر گولیاں چلانا شروع کر دیں .... ؟؟ "
" آف کورس !!! بندوق کا کوئ اور مقصد اگر ہے تو مجھے سمجھا دیجئے !!! "
" کیا کہ رہے ہیں آپ ؟؟ .... ایک بار خون کے چھینٹے اس وردی پہ لگ گئے تو عمر بھر نہیں دھل سکیں گے"
" پھر کھاتے رہو ڈنڈے اور بوتلیں ... !!! " ھوم سیکرٹری نے طنز کیا-
" میرے خیال میں آئ جی صاب ٹھیک کہ رہے ہیں .... " کمشنر لاہور نے کہا- " آج ہم اپنی قوم پر فائر کھولیں گے تو کل ہمیں اپنا سر کھلوانے کےلئے بھی تیّار رہنا پڑے گا " کمشنر نے کہا-
"تو پھر حل کیا ہے ؟؟ " ہوم سیکرٹری نے پوچھا-
" مارشل لاء !!! "
" مارشل لاء ؟؟ .... آر یو میڈ .... ؟؟ " .." ھوم سیکرٹری نے کہا-
" رسوائ سے بچنا ہے تو فوج کو بلاؤ .... مارشل لاء لگواؤ اور جان چھڑاؤ !!! " کمشنر نے کہا-
"لیکن مسئلہ اتنا گنبھیر بھی نہیں کہ مارشل لاء ..... "
" دیکھئے غیاث الدین صاحب !!! مارشل لاء ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے .... لوگ فوج کی گولی آرام سے کھا لیتے ہیں لیکن پولیس کی لاٹھی تک ہضم نہیں کر سکتے ..... ایک سال پہلے ملتان میں پولیس نے ایسے ہی ایک کراؤڈ پر تشدّد کیا تھا ، اور لوگ تھانے کو آگ لگانے پہنچ گئے تھے .... !!! "
"" تجویز تو اچھی ہے .... لیکن .... چیف منسٹر نہیں مانیں گے" ھوم سیکرٹری نے خیال ظاہر کیا-
" چیف منسٹر سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟؟ ، آئ ایم اتھارٹی !!! " سینئر میجسٹریٹ نے کہا-
" ٹھیک ہے .... کل مشورہ کریں گے جنرل اعظم سے .... " ھوم سیکرٹری نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-
" کل تک بہت دیر ہو جائے گی .... ابھی بات کریں .... مرزا نعیم فون اٹھا کے لاؤ !!! " آئ جی نے کہا-
ایس ایس پی مرزا دوسرے کمرے سے فون اور ڈائریکٹری اٹھا لایا-
آئ جی سگریٹ پینے باہر لان میں چلے گئے- کمشنر اور مجسٹریٹ معاملے سے لاتعلق ہو کر آپس میں گپ شپ کرنے لگے-
ہوم سیکرٹری ٹیلی فون ملانے میں مصروف ہو گئے-
تقریباً دس منٹ تک مبہم گفتگو کے بعد انہوں نے کریڈل رکھتے ہوئے کہا :
" کمال ہے .... جنرل اعظم مان گئے !!! "
کمشنر اور مجسٹریٹ یک زبان ہو کر بولے ... " کانگریٹ !!! "
" جنرل صاحب کو یہیں مدعو کر لیتے تو بات پکّی ہو جاتی" آئ جی نے برامدے سے آواز لگائ-
" جی میں نے کی ہے بات ... وہ خود تو نہیں آ رہے ... کرنل شیریں خان کو بھیج رہے ہیں "
"کرنل شیریں کون ؟؟ " کمشنر نے پوچھا-
"میں جانتا ہوں اسے .... پکا احمدی ہے ... جہاد سمجھ کر لڑے گا .... دو دن میں شہر صاف کرا دے گا" ہوم سیکرٹری نے کہا-
تقریباً تیس منٹ بعد کرنل شیریں دو فوجی افسران کے ہمراہ تھانے پہنچ گئے-
" تم نے بلایا اور ہم چلے آئے " کرنل صاحب توقع سے زیادہ پرجوش تھے-
"ہم نے نہیں .... ان صاحب نے دعوت دی ہے " کمشنر نے میجسٹریٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنکھ ماری-
" نہیں نہیں .... ہم نے تو صرف دوا تجویز کی .... درد تو آئ جی صاحب کے پیٹ میں اٹھا تھا " میجسٹریٹ نے قہقہہ لگایا-
"ہم کافر اس درد کو نصف صدی سے سہہ رہے ہیں .... " کرنل شیریں خان نے کہا- " بھرے مجمع میں ایک مولوی گھس آئے تو امن تباہ ہو جاتا ہے .... تم لوگوں نے پورا شہر مولیوں سے بھر دیا .... "
" حکومت اگر ان کے کچھ مطالبات مان لیتی تو آج یہ حالات نہ ہوتے" کمشنر نے کہا-
" کیا ہیں ان کے مطالبات ؟؟؟ " کرنل تاؤ میں آ گیا- " پہلے جناح صاب کو کافر کہتے تھے .... اب احمدیوں کو کہتے ہیں .... پہلے تقسیم کے مخالف تھے .... اب قوم کو تقسیم کرنے پہ تُلے ہیں .... "
"ارے صاحب حکومت کی بھی مجبوری ہے .... " ھوم سیکرٹری نے لقمہ دیا-
" کاہے کی مجبوری صاحب ؟؟ حکومت شروع سے انہیں قابو کرتی تو آج سانپ کے مونہہ میں چھچھوندر نہ پھنسا ہوتا .... لیکن حکومت بھی تو دودھ میں لیموں نچوڑ کر شربت بناتی ہے .... !!!
"یہی خیالات یہ لوگ آپ کے بارے میں رکھتے ہیں ... بس لیموں کی جگہ پیشاب کا قطرہ کر لیجئے" کمشنر نے جوابدیا-
"میں اس سے بھی برے خیالات رکھتا ہوں ان کے بارے میں .... آگاہ کروں آپ کو ؟؟ " کرنل بھڑک اُٹّھا-
" یار خُدارا اس لاحاصل بحث کو چھوڑو .... یہ بتاؤ پلان کیا ہے " ھوم سیکرٹری نے کہا-
" پلان تو تب بنے گا جب حکومت فوج سے باضابطہ درخواست کرے گی" کرنل نے جواب دیا-
" ابھی کر لیتے ہیں ... سینئر میجسٹریٹ ہیں ناں ..... نعیم مرزا .... پیپر لے کر آؤ "
" ناں جناب ناں !!! ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کے بلانے سے نہیں آتیں فوجیں ... !!! " کرنل شیریں نے کہا-
" پھر کیسے آتی ہیں جناب ؟؟ .... آئین میں میجسٹریٹ کو اختیار ہے کہ .... "
" آئین گیا تیل لینے !!! " کرنل نے مجسٹریٹ کو ٹوکا- " فوج بلانے سے پہلے آئین کو لپیٹ کر صندوق میں رکھنا پڑتا ہے ... "
"تو کیا اب بِگل بجانا پڑے گا .... ؟؟ " میجسٹریٹ زچ یو کر بولا-
" دیکھئے جناب .... فوج کا اپنا ایک بجٹ ہوتا ہے .... مومنٹ الاؤنس ہوتا ہے .... میسنگ الاؤنس ہوتا ہے .... مفت میں نہیں آتی فوج ..... آپ ایسا کریں .... چیف منسٹر سے ایک تحریری درخواست بنام کمانڈر 10 ڈویژن بھجوائیں ... تاکہ بعد میں اخراجات کا مسئلہ پیدا نہ ہو .... !!! "
" دیکھئے ہم ہندوستان سے فوج نہیں منگوا رہے جو آپ ایڈوانس خرچا مانگ رہے ہیں " آئ جی نے کہا- " میں حکومتِ پنجاب کی طرف سے تحریری مطالبہ پیش کئے دیتا ہوں .... ھوم سیکرٹری اور ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اس پر ابھی سائن کر دیں گے ..... باقی رہا راشن پانی کا مسئلہ .... تو کابینہ ہے ناں .... کنپٹی پر پستول رکھ جتنا چاھے راشن اٹھا لیجئے گا !!!! "
"چلیں ٹھیک ہے .... تو .... کب سے لگوانا ہے مارشل لاء ؟؟؟؟ "
" شام کو سی ایم کی میٹنگ ہے .... ان سے پرچہ سائن کروا کے آپ کو بھجوا دیں گے .... کل صبح سے ٹیک اوور کر لیجئے گا" ہوم سیکرٹری نے کہا-
سپہر 3 بجے لاہور کے سول لائن تھانہ میں نوکر شاھی کے ہاتھوں پاکستان کے پہلے مارشل لاء کی اینٹ رکھی جا چکی تھی-

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers