2 مارچ .... 1953 ... لاہور
رات دس بجے ہم موتی بازار میں ایک پرانی بلڈنگ کے سامنے کھڑے تھے-
سخت سردی کے باوجود شہر میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا تھا- اس علاقے میں سڑک پر خال خال ہی لوگ نظر آ رہے تھے-
"وہ رہا روزنامہ افلاک کا دفتر .... اوپر ... " چاند پوری مونہہ سے بھاپ چھوڑتے ہوئے بولے-
" واہ ..... تو شاھین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں " میں نے سردی سے کپکپاتے ہوئے چوتھی منزل پر بنے ایک ڈربہ نماء آفس کی پزیرائ کی-
"" میں چاہ رہا تھا کہ اپنا چھاپہ خانہ یہاں سے شفٹ کردوں ، آج کل چھاپوں کا سیزن چل رہا ہے"
"کوئ پاگل ہی ہوگا جو یہاں چھاپہ مارے گا "
"کل زمیندار کے آفس میں اچھی خاصی توڑ پھوڑ ہوئ ہے ... "
" زمیندار کی بات الگ ہے .... ویسے بھی وہ لوگ اختر علی خان کے اچانک گاؤں چلے جانے پر برہم تھے "
" وہ والدِ محترم کی تیمارداری کےلئے گئے ہیں .... آج آ جائیں گے .... بہرحال ہمیں اپنا چھاپہ خانہ آج ہی اٹھا لینا چاھئے "
" لیکن شفٹ کہاں کریں گے ؟ ... لاہور میں تو اب کوئ بھی ٹھکانہ محفوظ نہیں رہا"
" بابا غوث محمد چھولے والے کے پاس "
" بابا غوث تو مہاجر ہے ... اس کے پاس ٹھکانہ کہاں ... ؟؟ "
"وہ "تنگ بازار" میں چوکیداری کرتا ہے رات کو ....وہیں بلڈنگ کی سیڑھیوں تلے سو جاتا ہے .... وہاں کچھ کاٹھ کباڑ اکٹھا کر رکھا ہے اس نے .... وہیں چھپا دیں گے ... حالات بہتر ہوتے ہی واپس لے آئیں گے"
اسی دوران پولیس کی ایک گاڑی سائرن بجاتی ہوئ ادھر سے گزری تو ہم بلڈنگ کی اوٹ میں ہوگئے-
دن بھر پولیس اور مظاہرین کے بیچ جھڑپیں ہوئ تھیں- پولیس نے جلوس پر لاٹھی چارج کیا تو مظاہرین میں سے کچھ نے بوتلیں اور ڈنڈے پھینکنے شروع کر دئے- سارا دن مسجد وزیرخان سے اعلان ہوتا رہا کہ کارکنان اشتعال کا مظاہرہ نہ کریں- لیکن مظاہرین میں ایک ایسی اقلیّت بھی شامل ہو چکی تھی جو شرارت کا کوئ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی- ان میں اکثر قادیانی تھے جن کا مقصد انتشار پیدا کرکے تحریک کو سبوتاژ کرنا تھا-
ہم ماچس کی تیلیاں جلاتے ہوئے سیلن زدہ عمارت میں داخل ہوگئے- بلڈنگ کے چیدہ چیدہ اپارٹمنٹس ہی آباد تھے- لوگ سردی اور شہر کے حالات کی وجہ سے بستروں میں دبکے پڑے تھے- کہیں کہیں سے ریڈیو بجنے کی آواز آ رہی تھی- ہم بلی کی طرح پنجوں پر چلتے ہوئے چوتھی منزل تک پہنچے- چاند پوری نے جیب سے چابیوں گچھا ِنکالا اور کچھ دیر "کڑچ کڑچ " کرنے کے بعد بھاری بھر کم تالہ کھول ہی لیا-
دروازہ ایک غصیلی چرّاہٹ کے ساتھ کھُلا-
اندر عجیب سی دواؤں اور سپرٹ جیسی بو پھیلی ہوئ تھی- کھڑکی سے آنے والی لائٹ پول کی روشنی میں ہم نے سائیکلو اسٹائل مشین ایک گٹھڑی میں باندھی- پھر اسے اٹھا کر بمشکل نیچے لائے- چاند پوری مجھے بلڈنگ کی سیڑھیوں کے پاس بٹھا کر گدھا گاڑی کی تلاش میں نکل گئے-
اس دوران وہاں سے دو بار پولیس وین گزری- پھر ایک نعت خانوں کی ٹولی کا گزر ہوا جو اونچی اونچی آواز میں پڑھتے جا رہے تھی ... " مدینے کو جائیں یہ جی چاھتا ہے .... "
میں سیڑھیوں کے نیچے خاموش دبکا کھڑا رہا-
تقریبا نصف گھنٹہ بعد چاندپوری پلٹے تو سردی سے میری قلفی جم چکی تھی-
ہم نے ٹھنڈا ٹھار چھاپہ خانہ اٹھا کر گدھا گاڑی پر ڈالا اور خود بھی جست لگا کر بیٹھ گئے-
جگہ جگہ پولیس کا ناکہ تھا لیکن ہمیں کسی نے نہ پوچھا- اہلکارکمبل اوڑھے کونوں کھدروں میں رونق جمائے بیٹھے تھے- کہنے کو شہر میں دفعہ 144 نافذ تھی لیکن پولیس اور مظاہرین آپس میں شیروشکر ہو چکے تھے- کہیں چائے تیار ہو رہی تھی کہیں بسکٹ بٹ رہے تھے تو کہیں حلوہ پوری تقسیم ہو رہی تھی- لاہور کا درجہء حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو رہا تھا- دور دراز سے آنے والے فدائین بستر کمبل ہمراہ لائے تھے مگر اہلیان لاہور نے بھی خدمت گزاری میں کسر نہ چھوڑی تھی- لوگ گھروں سے بستر ، چادریں ، کمبل ، تکئے اور ضرورت کی چیزیں اٹھا اٹھا کر مہمانان ِختم نبوّت میں تقسیم کر رہے تھے-
حکومت نے دہلی دروازے اور موچی گیٹ کی حدود میں اجتماع پر پابندی لگائ تو فدائین نے مسجد وزیرخان کو آباد کر لیا- پنجاب بھر سے آنے والے رضاکاروں کے قافلے اب مسجد وزیرخان کا رخ کر رہے تھے- آنے والوں میں نوجوان بھی اور بوڑھے بھی- دفعہ 144 اور ہڑتال کے باوجود اتنی بڑی مخلوق کو سنبھالنا ، ان کے کھانے پینے ، رہائش کے انتظامات کرنا ، ان کے مسئلے مسائل ، روزانہ کی بنیاد پر ان کی ترتیب اور گرفتاریاں ، پولیس سے جھڑپیں تحریک کا سب سے مشکل اور کڑا مرحلہ تھا جسے اہلسنّت قائدین بڑی جانفشانی سے نبھا رہے تھے-
مجلس احرار ، جنمیعت اہلحدیث اور جمیعتِ علمائے اسلام کی قیادت پس زنداں تھی- تحریک کی قیادت اب مولانا خلیل احمد قادری ، مولانا غلام غوث ہزاروی ، چوھدری ثناءاللہ بھٹّہ ، مولانا بہاءالحق قاسمی اور مولانا عبدالستار نیازی کے ہاتھ میں تھی !!!
لاہور کے درو دیوار مولانا نیازی کی پردرد آواز سے اب بھی گونج رہے تھے :

میں لجپالاں دے لَڑ لگیّاں ، میرے توں غمّ پرے رہندے
مِری آساں ، اُمیداں دے ، سدا بوٹے ہرے رہندے

خیالِ یار وِچ میں مست رہناں ہاں دِنّے راتی
مرے دل وِچ سجن وسدا مرے دِیدے ٹھرّے رہندے

تقریبا نصف گھنٹہ لاہور کی مختلف سڑکوں پر گدھا گاڑی دوڑانے کے بعد ہم "تنگ بازار" کی ایک خستہ حال بلڈنگ کے سامنے جا رُکّے- مشین اتار کر نیچے رکھی اور ریڑھی بان کو تین پائ دیکر رخصت کیا-
" بابا غوث ..... بابا غوث" چاند پوری نے صدا لگائ- میرے دانت سردی سے گج گج کر رہے تھے-
" بابا غوث .... او .... بابا غوث "
اس دوران اوپر والی کسی منزل پر کھڑ پڑ ہوئ- پھر ایک کھڑکی کا نصف پٹ کھلا-
" بابا غوث تے فوت ہو گئے نیں .... " ایک بزرگ نے کھڑکی سے جھانک کر کہا-
" انا للہ وا انا الیہ راجعون ....کب فوت ہوئے " چاند پوری نے کہا-
" ہفتہ ہویا .... " باباجی نے کہا-
" افسوس .... ہم کراچی گئے ہوئے تھے .... پتا ہی نہ چل سکا "
" سانوں وی نئیں پتا چلیا پتّر .... صفائ کرن والے نے دسیا کہ بابا دو دن توں اٹھیا نئیں ... ویکھیا تے ہمیشہ واسطے اٹھ چکیا سی "
"کوئ بیماری وغیرہ تھی ...؟؟ "
"سردی توں وڈی کیہڑی بیماری مہاجر نوں .... " یہ کہ کر بزرگ نے کھڑی کے پٹ بند کر دئے-
ہم نے سائیکلو اسٹائل مشین گھسیٹ گھساٹ کر سیڑھیوں کے نیچے رکھی اور تھکے قدموں سے مسجد وزیرخان کی طرف چل پڑے- لاہور کی ویران سڑکوں پر چلتے ہوئے چاند پوری نے کہا:
" خدا بابا غوث بھی آزادی کی قسطیں چکاتے چکاتے تہہ خاک جا سویا .... وہ لدھیانہ میں ایک خوبصورت گھر چھوڑ کر آیا تھا .... خاندان رستے میں کٹ گیا .... جمع پونجی پاس نہ تھی .... رہنے کو ٹھکانہ نہ تھا .... بس لے دے کے چھولوں کا ایک ٹھیلہ تھا .... یہیں رات کو سیڑھیوں کے نیچے پڑ جاتا تھا .... اکثر کہا کرتا تھا ... جس دن ربوے کی زمین مسلمان مہاجروں کو ملے گی .... اس دن میں بھی پاکستان میں اپنا گھر بناؤں گا .... ربوے کی زمین تو نہ مل سکی .... لیکن گھر آخر مل ہی گیا ..... کچّی مٹی کا گھر .... !!!! "

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers