بیرون باغ جلسے میں اب مجمع کی تعداد دوگنی ہو چکی تھی-
اندرون پنجاب سے لوگ مسلسل لاہور پہنچ رہے تھے- بڑے بڑے جلوس سیلاب کی طرح شہر میں داخل ہورہے تھے اور پولیس کا حفاظتی حصار کسی کچّے بند کی طرح ٹوٹ چکا تھا-
مولانا نیازی اسٹیج پر تشریف لائے اور اعلان کیا:
" آج سے تحریکِ ختمِ نبوّت کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے .... قیادت پابندِ سلاسل ہو چکی .... آج سے تحریک کی قیادت سیّد خلیل کریں گے .... ابوالحسنات کے فرزند .... امین الحسنات سید خلیل احمد قادری !!!! "
نعروں کی گونج میں سیّد خلیل احمد مائک پر آئے اور کہا:
" ختمِ نبوّت کے جانثارو !!! میں کوئ واعظ یا مُفتی نہیں ہوں .... طیّبہ کالج کا طالب علم ہوں .... فنِ تقریر سے بھی ناواقف ہوں .... اور میں آج آپ کے سامنے اس لئے نہیں کھڑا کہ میرے والدِ محترم قید ہو گئے ہیں .... سرکار مدینہ ﷺ کے تاج و تختِ نبوّت کی حفاظت کا سوال ہے .... اگر آج بھی ہم نہ اُٹھّے تو پھر کوئ نہ اٹھ سکے گا .... !!!! "
دور دور تک انسانوں کا ایک سمندر موجزن تھا-
شام ساڑھے چار بجے مولانا غلام دین کی قیادت میں 25 رضاکاروں کا ایک جتھّہ گرفتاری دینے کےلئے چیئرکراسنگ کی طرف روانہ ہوا- سفید اُجلے لباس پہنے ، گلے میں پُھولوں کے ہار ڈالے ، عاشقانِ ختمِ نبوّت اپنے آپ کو زندانوں کے سپرد کرنے نکلے- ان کے پیچھے کم و بیش ایک لاکھ مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا-
سڑک کے دونوں جانب گھروں سے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں-
جلوس کا نظم و ضبط حیرت انگیز تھا- جزبات پر قائدین کا مکمل کنٹرول تھا- دیکھنے والے دم بخود تھے کہ وہ کون سی طاقت ہے جو انسانوں کے اس متحرک جنگل کو سنبھالے ہوئے ہے- نمازِ عصر کا وقت آیا تو میدان میں جس قدر لوگ سما سکتے تھے کھڑے ہوگئے- مولانا غلام دین کی معیّت میں نمازِ عشق ادا ہوئ پھر رضاکاروں نے خود کو گرفتاری کےلئے پیش کر دیا-
پولیس کی گاڑیاں قیدیوں کو لیکر شاہی قلعہ کی طرف روانہ ہو گئیں- سب کو معلوم تھا کہ گرفتاری کا مطلب اذیّت ناک قید ، یا شہادت کے سوا کچھ نہیں- انتظامیہ میں پولیس سے لیکر جیلر تک ہر جگہ مرزائ مسلط تھا- مگر اس کے باوجود عاشقان پاک طینت کے قدم ایک لحظہ کےلئے بھی نہ ڈگمگائے-
اگلے روز اسٹیبلشمنٹ کے دجّال سر جوڑ کر بیٹھ گئے-
مرزائیت کے خلاف علماء کا اتحاد ، لاکھوں کے اجتماعات ،شہر شہر سے امڈتے جلوس اور قافلے ، یہ سب گورنمنٹ کی برداشت سے باہر تھا- وہ اس پرامن تحریک کو بہرصورت سبوتاژ کرنا چاھتی تھی- لاکھوں کے اس مجمع پر نہ تو لاٹھی چارج ممکن تھا اور نہ ہی یہ آنسو گیس ان دنوں عام تھی-
یکم مارچ 1953ء کو لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئ-
دہلی دروازے پر اس روز بھی ساٹھ ہزار فدائین کا مجمع تیّار کھڑا تھا-
" آج کون سے رہنماء گرفتاری دیں گے" لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے-
اچانک مولانا احمد علی لاہوری رح لاٹھی ٹیکتے ہوئے اسٹیج پر تشریف لائے- سفید براق داڑھی ، چہرے پر بڑھاپے کا نور ، پیرانہ سالی اور مسلسل بیماری سے جسم لاغر !!!!
" آج رضاکاروں کے ساتھ گرفتاری دینے میں جاؤں گا !!! "
فضاء نعرہء تکبیر سے گونج اُٹّھی-
زندگی بھر انگریز جیل کی چکّی پیسنے والے احمد علی لاہوری رح کو ربّ تعالی نے عشقِ محمّد ﷺ کی قید کے لئے بھی قبول فرما لیاتھا- آپ نے اعلان کیا :
" حکومت جان لے ..... ایک مسلمان کےلئے ختمِ نبوّت پر جان وارنے سے بڑی کوئ سعادت نہیں ..... آج ہر وہ شخص جس کے دل میں ایمان کی رمق بھی موجود ہے ..... تختِ محمدی ﷺ کے دفاع کےلئے سینہ سپر ہے .... حکومت عوام سے ٹکرانے کا نتیجہ سوچ لے .... یہ سراسر خسارے کا سودا ہے .... !!!!! "
اس کے بعد مولانا لاہوری رح نے رضاکاروں کو صبروتحمل کی تلقین کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں سختیاں برداشت کرنے کی ھدایت فرمائ اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے بچنے کی تاکید کی- آپ رضاکاروں کا قافلہ لیکر گورنمنٹ ہاؤس کی طرف چلے تو عوام کا ایک سمندر پیچھے پیچھے تھا- رضاکاروں کے گلے میں پھولوں کے ہار تھے اور سوائے درود و سلام کے مجمع سے اور کوئ صدا بلند نہ ہو رہی تھی :

سلام اے آمنہ کے لال ، اے محبوبِ سبحانی
سلام اے فخرِ موجودات ، فخرِ نوع انسانی

فدایانِ ختمِ نبوّت کی سج دھج اور مقبولیّت دیکھ کر حکومتی ایوان لرز اُٹّھے-
گورنر ہاؤس سے کچھ دور ہی رکاوٹیں لگا کر جلوس کو روک لیا گیا- جلوس کی کاروائ روکنے کےلئے آئ-جی ، ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ ، کمشنر اورھوم سیکرٹری بذاتِ خود موجود تھے- آج پولیس نہایت ہی اوچھّے ہتھکنڈوں پر اتری ہوئ تھی- جگہ جگہ رکاوٹیں لگا کر نہ صرف جلوس کو روکا جارہا تھا بلکہ لاٹھی چارج سے مشتعل کرنے کی بار بار کوشش بھی کی جا رہی تھی-جلوس کے شرکاء اگر چاھتے تو ایک جست میں ان رکاوٹوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا سکتے تھے- لیکن صبروتحمل کا درس اس موجِ بے کراں کو روکے ہوئے تھا-
پولیس نے حضرت مولانا لاہوری رح ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی رح اور دیگر رضاکاروں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا- گرفتار شدگان کے گرد پولیس نے گھیرا ڈال لیا- اس کے بعد پولیس کی گاڑیاں حضرت لاہوری رح کو لے کر شاہی قلعے کی طرف روانہ ہو گئیں- اور رضاکاروں کو دو ٹرکوں میں سوار کرکے ، لاہور سے 80 کلومیٹر دور چھانگا مانگا میں جاکر اتار دیا گیا-
عِشق کے مسافر رات بھر بھوکے پیاسے ، سفر کرتے کرتے اگلے دن شام کو دوبارہ لاہور پہنچ گئے-
حکومت تحریک کو تھکا کر مارنا چاھتی تھی- اس حکومتی عمل سے عوام کسی حد تک بدنظم ہو گئے- چناچہ یکم مارچ کو سارا دن غیر منظم جلوس نکلتے رہے- ہزارہا رضاکار ، پھولوں کے ہار پہن کر ، دورود شریف پڑھتے ہوئے نکلتے رہے اور پولیس طاقت کے زور پر انہیں منتشر کرتی رہی-اس روز یہ ثابت ہو گیا کہ حکومت مجلس عمل کا چیلنج قبول کر کے بری طرح پِٹ چُکی ہے- اور اس کے پاس اوچھے ہتھکنڈوں کے سوا اب کوئ ہتھیار نہیں رہا-

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers