23 گنگا رام مینشن لاہور-آج بھی اس عظیم مصورہ کا گھر لاہور میں موجود ہے۔ امرتا شیر گل
اس سال کے آغاز میں، جب میں نے لاہور کے کچھ قدیم گھروں، جہاں کبھی عظیم فنکار رہائش پذیر تھے، کے بارے میں تحقیق کا آغاز کیاتو میں ایک پنجابی فنکارہ امریتا شیرگل ، جس نے اس شہر میں اپنی زندگی کے دن پورے کیے تھے، کے گھر تک پہنچ گیا۔ وہ 23۔گنگا رام مینشن ،جو کبھی ایکسچینج مینشن کہلاتاتھا،میں رہتی تھی۔ آج کل یہاں ایک آٹو مکینک کا خاندان آبادہے۔ جب میں اُن سے ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ لوگ اس گھر کی تاریخی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ میں نے ان کی مہمان نوازی کا لطف اٹھایا اور اس گھر کی بہت سی تصاویر لیں۔ اتفاق سے مجھے پتہ چلا کہ تیس جنوری ،جسے پاکستانی، بلکہ ہندوستانی میڈیا نے بھی نظر انداز کر دیا تھا، امریتا شیرگل، جسے ’’انڈیا کی فریڈہ کاہلو‘‘ کہا جا سکتا ہے، کا سوواں یومِ پیدائش تھا۔ اس عظیم فنکارہ، جو اٹھائیس سال کی جوان عمری میں فوت ہوگئی، نے ہندوستانی عورت کے مصائب کا فن کے ذریعے اظہار کیا تھا۔
امرتا شیر گل (1913-1941) بھارت کی ایک بااثر اور “انمول” خاتون مصور تھیں۔ ان کے والد کا نام عمرائو سنگھ شیر گل مجیتھیا تھا جو ایک سکھ اور حکمران اشرافیہ سے تعلق اور سنسکرت اور فارسی پر عبور رکھتے تھے۔ امرتا کی والدہ، میری اینٹونیٹی گوٹسمن، ہنگری سے تعلق رکھنے والی ایک یہودی اوپیرا سنگر تھیں۔
نو سال کی عمر میں، امرتا نے وائلن اور پیانو بجانا سیکھ لیا تھا اور 20 سال کی عمر تک وہ اور ان کی بہن اندرا مختلف کانسرٹس میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتیں اور شملہ کے گیٹی تھیٹر میں اداکاری کرتیں۔ 1929 میں جب امرتا 16 برس کی تھیں تو وہ پیرس گئیں تا کہ مصوری کی تربیت حاصل کر سکیں۔ 1934 میں وہ بھارت واپس پہنچیں۔
ان کی شادی ہنگری سے تعلق رکھنے والے اپنے پہلے کزن ڈاکٹر وکٹر ایگن سے 1938 میں ہوئی اور بعد میں وہ بھارت منتقل ہوگئیں تاکہ وہاں اپنے آبائی گھر میں قیام کر سکیں جو بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر گورکھ پور کے علاقے سارایا میں ہے۔
مصوری میں ان کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز غریب، نادار اور محروم طبقہ ہوتا تھا اور اپنی پینٹنگز میں انہوں نے بھارتی دیہاتیوں اور خواتین کی عکاسی کی ہے۔ گاندھی جی کے فلسفے اور ان کے طرز زندگی نے انہیں متوجہ کیا جبکہ جواہر لعل نہرو ان کی خوبصورتی اور فن سے بہت متاثر تھے۔
ستمبر 1941 میں، وہ اپنے شوہر کے ساتھ لاہور منتقل ہوگئیں کیونکہ یہ شہر اس وقت ثقافت اور ادب کا بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے لاہور کے مال روڈ (23 گنگا رام مینشن) میں رہائش اختیار کی۔ امرتا کو خواتین اور مردوں، دونوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ 1941 میں، لاہور میں اپنی پہلی پرفارمنس سے قبل، وہ شدید علیل ہوگئیں، کوما میں چلی گئیں اور بالآخر چل بسیں۔ ان کے انتقال کی اصل وجہ سے معلوم نہیں ہو سکی لیکن کہا جاتا ہے کہ ناکام مانع حمل (ایبورشن) اور ورم صفاق کی وجہ سے ان کی موت ہوئی۔ امرتا کی ماں نے امرتا کے ڈاکٹر شوہر وکٹر پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
انہوں نے اپنے فن کے ذریعے خواتین کی حالت زار پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی اپنے دور کی ایک نسل کو متاثر بھی کیا۔ امرتا کے فن پاروں کو بھارتی حکومت کی جانب سے قومی خزانہ قرار دیا ہے۔ 1978 میں امرتا شیر گل کی یاد میں ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا جبکہ دلّی میں ان کے نام سے ایک یادگار بھی قائم کی گئی ہے۔ 2006 میں “گائوں کا منظر” نامی امرتا کی پینٹنگ نیلامی میں 6.9 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی تھی۔ یہ بھارت میں نیلامی کے ذریعے فروخت ہونے والی سب سے مہنگی ترین پینٹنگ تھی۔
امرتا کی ایک پینٹنگ “وینا پلیئرز” لاہور کے میوزیم میں موجود ہے اور ایک پینٹنگ اسلام آباد کی نیشنل آرٹ گیلری میں موجود ہے جو اشفاق احمد نے اس گیلری کی بانی زبیدہ آغا کو تحفتاً دی تھی۔ اشفاق احمد نے یہ پینٹنگ لاہور کے ایک کباڑی سے کوڑیوں کے دام خریدی تھی۔ کم از کم امرتا شیر گل کی یاد میں 23 گنگا رام مینشن پر ایک تختی لگائی جا سکتی ہے تاکہ اس عظیم مصور کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے جس نے اپنی زندگی کے آخری دو سال لاہور میں گزارے اور جس کی آخری رسومات دریائے راوی کے کنارے پر ادا کی گئی تھیں۔ 







Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers