خیبر میل ہمیشہ کی طرح لیٹ ہو گئ !!!
تقریباً مغرب کا وقت تھا اور ٹرین ساہیوال میں کھڑی تھی-
نوجوانوں کی ایک ٹولی ڈبّے میں سوار ہوئ اور ہر طرف نعروں کا شور مچ گیا-
تاج و تخت ختم نبوّت .... زندہ باد !!!
مولانا شفیع اوکاڑوی .... زندہ باد !!!
انہی کی زبانی ہمیں معلوم ہوا کہ بانئ اہلسنت ، خطیب اعظم مولانا شفیع اوکاڑوی بھی اسیر ہو چکے ہیں- یہ لوگ تحریک میں شامل ہونے کےلئے لاہور جا رہے تھے- اس سے پہلے ملتان اسٹیشن پر ہم مولانا مفتی محمود کی گرفتاری کی خبر بھی سن چکے تھے-
چاند پوری گاڑی سے اترے اور کچھ ہی دیر بعد "ڈان" بغل میں دبائے واپس آئے-
" یہ کیا ؟ اب آپ ڈان پڑھیں گے ؟ .... یہ تو تحریک کے مخالف لکھتا ہے"
انہوں نے بے ساختہ شعر پڑھا:
شہرِ آسیب میں آنکھیں ہی نہیں ہیں کافی
اُلٹا لٹکو گے تو کچھ سیدھا دکھائ دیگا
میں نے کہا " وہ تو ٹھیک ہے .... لیکن کم از کم اخبار تو سیدھا پکڑ لیجئے"
گاڑی ابھی چلی نہ تھی کہ ریڈ ہو گیا- ایک پولیس پارٹی بوگی میں داخل ہوئ اور شور کیا :
" چلو اوئے باہر نکلو .... مولبی لوگ سب باہر نکلو .... جلدی !!! "
نوجوانوں کی ٹولی نعرے لگاتے ہوئے گاڑی سے نیچے اترنے لگی-
ایک پولیس والا تیر کی طرح ہمارے پاس آیا اور بولا:
"سُنا نہیں ..... مولوی لوگ .... نیچے اترو سب .... "
چاند پوری چشمے سے جھانکتے ہوئے بولے -
" پروفیسر آفتاب چاند پوری .... کچھ ہم سے کہا آپ نے ؟؟ "
" نئیں ... نئیں ... سر آپ بیٹھیں .... ہم تو مولویوں کو اتار رہے تھے .... لاہور میں ہنگامے شروع ہو گئے ہیں"
صبح سویرے سورج نکلنے سے بھی پہلے ہم لاہور پہنچ گئے-
پلیٹ فارم سے نکلے تو پولیس کی بے شمار گاڑیاں نظر آئیں-
باہر سے آنے والے مسافروں کی تلاشی کا عمل جاری تھا- ہم نے پلیٹ فارم سے ہی " ڈیلی سول" کی دو کاپیاں خرید لیں اور انگریزی اخبار پڑھتے ہوئے بڑے آرام سے شہر میں داخل ہو گئے-
ہم بیرونِ باغ دھلی دروازہ پہنچے تو عوام کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا- یہ لوگ کراچی میں مجلس کے رہنماؤں کی گرفتاری پر برانگیختہ تھے- لوگ اتنے غُصّے میں تھے کہ قادیانیوں کے دفاتر اور مکانات جلا کر بھسم کر دینا چاھتے تھے-
کچھ ہی دیر بعد اسٹیج پر مولانا لاہوری رح کی آمد ہوئ- عوامی شور یکلخت تھم گیا :
" ختمِ نبوّت کے پروانو !!! ہم قربانیاں دینے آئے ہیں .... جانوں کے نذرانے پیش کرنے آئے ہیں .... قید ہونے کےلئے آئے ہیں .... ختمِ نبوّت کےلئے تکالیف برداشت کرنے آئے ہیں .... یہی امتحان کی گھڑی ہے .... اللہ تعالی ہمارا عشق آزماء رہا ہے .... پر سکون رہئے ... اور حکومت کو کوئ ایسا موقع مت دیجئے کہ وہ ہماری پرامن تحریک کو متشّدد بنا سکے"
مولانا لاہوری کی تقریر سُن کر لوگ کسی قدر شانت ہو گئے- ہم بیرون باغ سے نکل ہی رہے تھے کہ ایک وین میں کچھ بزرگان بیٹھے نظر آئے- ان میں مجلس احرار کے محمود غزنوی ، اہلحدیث عالم مولانا محمد اسمعیل ، مولانا امین اصلاحی اور مولانا عبدالستار نیازی شامل تھے-
چاند پوری بھاگ کر وین کے پاس گئے ، کچھ بات چیت کی ، پھر مجھے بھی اشارہ کر کے بلا لیا-
ہم وین میں بیٹھ گئے- یہاں ایک پرجوش نوجوان بزرگان کو اپنی بپتا سنا رہے تھے-
" ..... والدِ محترم کی گرفتاری کی خبر مجھے بزریعہء ٹیلیفون موصول ہوئ- میں طیّبہ کالج لاہور کا اسٹوڈنٹ ہوں .... 27 فروری سے ہی پنجاب بھر میں چھاپے اور گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں .... "
"بھائ آپ کا تعارف ؟؟ " چاند پوری نے دریافت کیا-
"سیّد خلیل احمد ..... میں ابوالحسنات سیّد احمد قادری کا بیٹا ہوں "
" ماشاءاللہ .... ایک عظیم باپ کا مشن .... ایک قابل فخر بیٹا ہی آگے بڑھا سکتا ہے .... آپ کے والد سے کراچی جیل میں ملاقات ہو چکی ہے ..... وہ بخیریت ہیں " چاند پوری نے کہا-
والد محترم کے ذکر پر سیّد خلیل مزید پُرجوش ہو گئے اور کہا:
" اگرچہ حکومت پوری قوّت لگا کر اس تحریک کو کچلنا چاھتی ہے لیکن ہم اس تحریک کو تھمنے نہیں دیں گے مولوی آپس کے بغض ختم کر کے ایک کشتی میں کیا سوار ہوئے، سارے کے سارے مسٹرز ، قادیانیت کے جہاز پر چڑھ گئے !!!"
" اب کیا پروگرام ہے آپ کا ؟؟؟" چاند پوری نے پوچھا-
" ہم قیادت کی تلاش میں ہیں .... عوام سینہ تان کر گھروں سے نکل چُکی ہے .... اور باہر کوئ ایسا رہنماء نہیں .... جو تحریک سنبھال سکے .... لے دے کے جماعتِ اسلامی ہی بچی ہے .... اس نے بھی شرعی دھنیا پی لیا ہے "
"شرعی دھنیا ؟؟ " چاندپوری نے حیرت سے پُوچھا-
" مودودی صاحب کے پاس کل بھی جا چکے ہیں .... آج پھر جا رہے ہیں .... خدا کرے وہ حامی بھر لیں "
ٹھیک گیارہ بجے یہ وفد اچھرہ میں مودودی صاحب کی رہائش پر پہنچ چکا تھا-
ابوالاعلی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا- اور بزرگان کو ایک کمرے میں قالین پر بٹھا کر چائے پانی کےلئے جانے لگے-
سیّد خلیل احمد نے کہا " حضرت والا .... چائے پانی پھر کبھی .... پہلے ہماری بات سن لیجئے"
"جی فرمائیے .... " وہ وفد کے سامنے تشہد کی حالت میں بیٹھ گئے-
" ہم کل بھی آئے تھے .... آج پھر حاضر ہوئے ہیں .... آپ ہماری قیادت فرمائیں "
" لیکن یہ تو بتائیے کہ آپ تحریک کو کن خطوط پر چلانا چاھتے ہیں ؟"
" ہم روزانہ جلسے کریں گے .... اور گرفتاریاں پیش کریں گے"
" دیکھیں میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا .... آج بھی آپ کے ساتھ ہوں .... لیکن جہاں تک " ڈائریکٹ ایکشن" کا تعلق ہے فی الحال میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا ... اس لئے کہ عوام میں تحریک کےلئے ھمدردی کے وہ جزبات نہیں ہیں .... جو ایسی تحریکوں کا خاصا ہوتے ہیں.... یہ وقت عوامی شعور بلند کرنے کا ہے ....نہ کہ گرفتاریاں دینے کا"
" آپ میرے ساتھ باہر چلیں .... اور لوگوں کا جوش و خروش دیکھیں .... عوام تو دل و جان سے تحریک کے ھمدرد ہیں .... اور ہر قربانی کےلئے تیار ہیں ...." سید خلیل نے کہا-
"دیکھو بھائ ..... مجھے تحریک سے ھمدردی ہے .... لیکن میں ڈائریکٹ ایکشن کی تجویز سے فی الحال متفق نہیں ہوں" انہوں نے صاف گوئ سے جواب دیا-
" ڈائریکٹ ایکشن کا فیصلہ کمیٹی نے کیا تھا حضرت .... اور آپ کمیٹی کا حصّہ ہیں .... اس نازک گھڑی میں ساتھ چھوڑنے کا مقصد؟؟ .... یہ تو سراسر دھوکا ہے !!! "
"بھائ ایسی بات نہیں ہے .... اگر سب لوگ ایجی ٹیشن کریں گے ...گرفتاریاں دیں گے ... تو پیچھے لڑے گا کون ؟؟؟ قلمی محاذ پر بھی تو کوئ ہونا چاھئے .... میرا خیال یہ ہے کہ کچھ لوگ سامنے آکر لڑیں اور کچھ انڈر گراؤنڈ چلے جائیں .... تمام انڈے ایک ہی تھیلی میں رکھ دیے تو نقصان ہوگا ...."
مولانا نیازی نے کہا:
"حضرت لوگ تو بس یہی ہیں جو یہاں بیٹھے ہیں .... اس میں سے کتنے انڈرگراؤنڈ جائیں گے ... کتنے فرنٹ پر لڑیں گے ؟؟ "
مولانا مودودی نے جواب دیا:
" دیکھئے میری تجویز یہ ہے کہ جماعت اسلامی ، جے یو آئ اور جمیعت اہلحدیث پیچھے رہ کر کام کریں ... لٹریچر وغیرہ شائع کریں ... باقی مجلس احرار ، جمیعتِ علمائے پاکستان اور ادارہء تحفظِ حقوقِ شیعہ فرنٹ محاذ پہ لڑتے رہیں .... ہم پیچھے رہ کر ان کےلئے پروپیگنڈہ کرتے رہیں گے ...."
اس پر اہلحدیث مولانا اسمعیل بول اٹھے :
" جمیعت اہلحدیث تو ڈائریکٹ ایکشن میں کود چُکی مولانا ... فیصل آباد میں اہلحدیثوں نے گرفتاریاں پیش کر دی ہیں .... اور جے یو آئ کے مولانا لاہوری رح ابھی ابھی جلسہء عام میں تقریر کر کے محاذ کھول چُکے ہیں ... اب تو لے دے کے آپ ہی بچّے ہیں ..... اس وقت سب کی نظریں آپ پر ہیں"
" تحریک ناکام ہونے لگے گی تو میں اسے سنبھال لونگا .... فی الحال ہم پیچھے رہ کر لٹریچر وغیرہ شائع کریں گے"
"آپ چلائیں مُنشی گلاب سنگھ کا چھاپہ خانہ" سیّد خلیل اُٹھ کھڑے ہوئے- " ہم چلائیں گے تحریک ... ہم مار بھی کھائیں گے .... گرفتاریاں بھی دیں گے .... اور جانیں بھی دیں گے .... یہ ختمِ نبوّت کا مسئلہ ہے .... کوّا حلال حرام کا مسئلہ نہیں ہے ... جس پر کاغذ سیاہ کئے جائیں !!!! "
مولانا مودودی صاحب سے رخصت ہو کر وفد دوبارہ بیرون باغ واپس جا رہا تھا-

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers