28 فروری .... 1953 .... کراچی
دُوسرے دِن شہر پھر بند ہوا-
آج پولیس کے دوٹرک تین لاریاں اور آٹھ ویگنیں آئ ہوئ تھیں-
صبح نو بجے جلوسوں کی آمد شروع ہوئ-تھوڑی ہی دیر میں ایمپریس مارکیٹ سے لیکر ڈرگ روڈ تک سر ہی سر نظر آنے لگے- ڈرگ روڈ شاہراہ فیصل کا پرانا نام ہے- لوگ گرفتاری دینے کےلئے ٹرکوں اور لاریوں پر چڑھ گئے- ہر شخص کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح گرفتار ہو کر جیل پہنچنے میں کامیاب ہو جائے-
پولیس قیدیوں کو لیکر سینٹر جیل پہنچی تو ایک نئ مصیبت کھڑی ہو گئ-
جیل سپریڈنٹ نے قیدیوں کو لینے سے صاف انکار کر دیا- جیل کا گیٹ بند کر کے تالہ لگا دیا گیا-
" انسپکٹر صاحب.... یقین کریں .... ہمارے پاس بالکل گنجائش نہیں ہے" جیلر نے کہا-
" سر .... آپ انہیں جیل کے احاطے میں بٹھا دیں" پولیس انسپکٹر نے منّت کی-
" بھائ احاطے میں کیسے بٹھا دوں .... اتنے لوگوں کا کھانا کون پورا کرے گا؟؟"
"لیکن میں ان کو کہاں لیکر جاؤں ؟؟" انسپکٹر نے بے چارگی سے کہا-
"یہ آپ کمشنر صاحب سے پُوچھو ... جنہوں نے گرفتاری کے احکامات دیے ہیں"
انسپکٹر وائرلیس پر کمشنر کراچی اے - ٹی- نقوی سے رابطہ کرنے لگا-
" ایچ کیو ون ... ایچ کیو ون .... سر جیلر صاحب قیدیوں کو ایکسیپٹ نہیں کر رہے ....اووَر .... !!!"
" کتنے لوگ ہیں یہاں.... اوور !!! " کمشنر صاحب نے پوچھا-
" سر یہاں تو تقریباً .... تین سو کے لگ بھگ ہیں.... لیکن صدر میں ایک لاکھ آدمی کھڑا ہے .... اوور!!! "
" تمہارے پاس کتنے ٹرک ہیں .... !!!"
"سر ... فی الحال دو ٹرک ہیں ....اور تین لاریاں .... !!!"
"ایسا کرو ....انہیں لاریوں میں بٹھاؤ اور کراچی سے دس کلومیٹر دور چھوڑ کر آ جاؤ .... !!!"
"کہاں چھوڑ کے آنا ہے سر .... !!!"
"کراچی سے دور چھوڑ آؤ .... کہیں بھی ... اوور !!!"
"اوکے سر !!! اوور اینڈ آؤٹ"
اس کے بعد انسپکٹر لاریوں میں بیٹھے ہوئے مستانوں سے مخاطب ہوا:
"سنو .... آپ سب کو حیدر آباد جیل بھیجنے کا آڈر ملا ہے .... اگر کوئ واپس جانا چاھتا ہے تو ابھی اتر جائے ...."
کوئ ایک شخص بھی لاریوں سے نیچے اترنے پہ آمادہ نہ ہوا-
عاشقوں کا قافلہ انجانی منزل کی طرف روانہ ہو گیا- پولیس وین بھی ساتھ ساتھ چلتی رہی- دو گھنٹے کی مسافت کے بعد یہ قافلہ کراچی سے تقریباً آٹھ دس کلومیٹر دور ایک ویرانے میں جا کر رُک گیا-
"سب لوگ نیچے آ جاؤ بھائ" پولیس والے نے کہا-
"کیا حیدر آباد آگیا ؟؟ "ایک بزرگ قیدی نے پوچھا-
" حیدرآباد کا آرڈر کینسل ہو گیا ہے ... اب یہیں اُترو ...."
"لیکن تم نے تو حیدر آباد جیل لیجانے کا وعدہ کیا تھا " قیدیوں نے شور کیا-
" حیدر آباد جیل میں گنجائش نہیں ہے بابا جی .... جلدی کرو ہم نے باقی قیدیوں کو بھی لیکر آنا ہے"
قیدی اطمینان سے نیچے اترنے لگے-
یہاں دور دور تک کوئ آبادی نہ تھی- ہر طرف ٹیلے ، کھائیاں ، صحرائ تھوہر اور کانٹے دار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہ تھا-
لاریاں قیدیوں کو اس ویرانے میں اتار کر واپس چلی گئیں-
لوگ اس بے آب و گیاہ صحرا کو چیرتے واپس کراچی کی طرف ہو لئے- ان میں ستر اسی سالہ بوڑھے بھی تھے اور سات آٹھ سال کے بچّے بھی- عام دیہاڑی دار مزدور بھی تھے اور متموّل لوگ بھی- بریلوی بھی تھے ، اہحدیث بھی ، دیوبند بھی اور شیعہ بھی- لیکن اس وقت یہ سب اس راہِ عشق کے مسافر تھے جس کے کانٹے بھی پھول معلوم ہوتے ہیں-
سارا دِن کراچی کی پولیس قیدیوں کو لاریوں اور ٹرکوں میں ڈال کر کراچی سے باہر ویرانوں میں چھوڑتی رہی اور سارا دن عشق کے مسافر پیدل چل کے واپس کراچی پہنچتے رہے-
پولیس کا رویّہ قیدیوں کے ساتھ دوستانہ تھا اور قیدی بھی کسی سے الجھ نہیں رہے تھے- ہر کوئ اپنی اپنی ذمّہ داری نبھا رہا تھا- دراصل تحریکِ ختمِ نبوّت کے پروانوں کی تربیّت کا بنیادی جزو ہی برداشت اور قربانی تھا-
جزبے تو سب کے جوان تھے لیکن ایک سات سال کے بچّے کا جزبہ دیکھ کر پولیس والوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں-
ایک پھیرے کے دوران جب پولیس قیدیوں کو ویرانے میں اتارنے لگی تو ان میں ایک ننھا منا سا بچّہ بھی تھا- سفید قمیض میں ملبوس یہ پھول سا بچّہ جانے کب چپکے سے لاری میں سوار ہوگیا اور اب ویرانے میں کھڑا مسلسل "تاج و تختِ ختمِ نبوّت ....زندہ باد" کے نعرے لگا رہا تھا-
پولیس افسر انسپکٹر شجاع بلوچستان کا رہنے والا اور بال بچّے دار آدمی تھا- جب سب قیدی اتر چکے تو اس ننّھے بچّے کو دیکھ کر شجاع کا دل پسیجا ، اس نے ڈرائیور کو لاری روکنے کا کہا-
" آؤ بیٹا.... میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں " انسپکٹر لاری سے نیچے اتر آیا-
" نہیں .... میں ساتھیوں کے ساتھ پیدل ہی آؤں گا " بچّے نے جواب دیا-
"لیکن بیٹا تم اتنا پیدل نہیں چل سکو گے ... آجاؤ میرے ساتھ"
"کبھی نہیں .... میری ماں نے مجھے ناموسِ رسالت ﷺ پر قربان ہونے کےلئے بھیجا ہے .... "
بالاخر انسپکٹر نے ڈرائیور کو لاری بڑھانے کا حُکم دیا- ابھی وہ بمشکل نصف کلومیٹر ہی چلے تھے کہ انسپکٹر کو پھر بچّے کا خیال آ گیا- اس نے ڈرائیور کو گاڑی واپس موڑنے کا حکم دیا- انسانی ھمدردی ، اسلامی جذبہ یا پدرانہ شفقت تھی کہ انسپکٹر شجاع ایک بار پھر بچّے کی منّت زاری کر رہا تھا-
"بیٹا میرے ساتھ آ جاؤ .... دیکھو ضِد نہیں کرتے"
ساتھی رضاکاروں نے بھی بچّے کو سمجھایا کہ لاری میں بیٹھ جاؤ ، تمھاری حاضری ہو گئ لیکن وہ نہ مانا اور تنک کر بولا "آپ لوگ زیادہ ایمان والے ہو ... اور مجھے کمزور سمجھتے ہو .... میں ہرگز نہیں جاؤں گا .....؟؟ "
آخر درماندہ دل انسپکٹر ہار گیا اور عشق کا یہ ننھا پھول جیت گیا-
پتا نہیں یہ بچہ کون تھا ؟؟ اس نے کتنی زندگی گزاری ؟؟ اس واقعے کو 61 برس بیت گئے .... خدا جانے آج ان سچّے عاشقوں میں سے کوئ حیات بھی ہے کہ سب اللہ کو پیارے ہو چُکے ؟؟ ہم تو اس راہ کی دھول کو بھی نہیں پہنچ سکتے کہ جہاں ان عاشقانِ صادقان کے قدموں کے نشاں ثبت ہیں-
آئے عشاق گئے وعدہء فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers