جزیرہ نما کوریا ایک آزاد خطہ تھا جس پر جاپان نے 1910 میں قبضہ کرلیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جاپان کو عبرتناک شکست ہوئی تو وہ کوریا سے بھی نکلنے پر مجبور ہوگیا۔ 15 اگست 1945 کو جاپان نے کوریا کو آزاد کردیا۔ یہی دن متحدہ کوریا کا یوم آزادی کہلایا۔ 15 اگست 1945 کو جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اتحادی افواج نے ایک کمیشن قائم کیا تھا جس میں جاپان و جرمنی کو جرمانے اور پابندی کی سزائیں سنائیں گئیں تھیں۔ اس پابندی کے تحت جاپان میں امریکی فوجی اڈے قائم کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کوریا کے جنوبی حصے میں بھی امریکی فوجی اڈے قائم ہوئے۔ جاپانی قبضے کے دوران ہی جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے پر روس کے کمیونزم اور چینی سوشلزم کا اثر زیادہ تھا۔ آزادی کے وقت ہی متحدہ کوریا کے آپسی اختلافات تھے۔ جو وقت کے ساتھ بڑھتے چلے گئے۔

سرکاری طور 15 اگست 1945 کوریا کا جاپان سے آزادی کا دن اور 15 اگست 1948 میں کوریا کو جمہوریہ قرار دیا گیا تھا۔ ان دو دنوں کو ملا کر مجموعی طور پر 15 اگست کو یوم آزادی منایا جاتا ہے۔ اور یہ یوم آزادی جنوبی و شمالی کوریا میں بیک وقت ہوتا ہے۔ جنوبی کوریا میں اس یوم آزادی کو "گوانگ بک جل" Gwangbukjeol 광복절 کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے "وہ دن جب روشنیاں واپس آئیں"۔ اس دن جنوبی کوریا کا صدر "آزادی ہال چھن آن" یا "سےجنگ آرٹ ہال سیول" میں قومی تقریب سے خطاب کرتا ہے۔ جس میں قومی پرچم لہرا کر قومی ترانہ بجایا جاتا ہے۔ قومی ترانہ Jeong Inbo 정인보 نے لکھا تھا جبکہ اس کی دھن 윤용하 Yoon Yongha نے بنائی تھی۔ تمام سڑکوں اور گلیوں میں حکومتی سطح پر پرچم لگائے جاتے ہیں۔ اس دن سیول کے تمام سرکاری پارک اور عجائب گھر عوام کیلے مفت کھلے ہوتے ہیں۔ مختلف علاقوں سے پارک و عجائب گھروں کیلے مفت بس سروس چلائی جاتی ہے۔
15 مئی 1948 کو جنوبی کوریا کو جمہوریہ قرار دیا گیا اور سینگمن ری کو صدر منتخب کر لیا گیا۔ سیول اس مملکت کا دارالحکومت قرار پایا۔ 5 جولائی 1950 کو شمالی کوریا کی فوجوں نے جنوبی کوریا پر چڑھائی کر ڈالی۔ اس طرح جنگ کوریا کا آغاز ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے فوجی دستے امریکہ کی زیر قیادت جنوبی کوریا کی امداد کو پہنچے۔ یہ جنگ تین سال جاری رہی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کوریا کی جنگ امریکہ کی پہلی محدود اور پہلی غیر اعلانیہ جنگ تھی۔ اور امریکہ کی پہلی جنگ تھی جسے وہ جیت نہ سکا۔ اسی طرح جنگ کوریا دنیا کی پہلی جنگ تھی جسے دنیا کی دو سپر طاقتیں امریکہ اور روس بالواسطہ جنگ (Proxy War) کے طور پر لڑتی رہیں۔ اس تین سالہ جنگ میں تقریبا 30 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے جس میں 36940 امریکی شامل تھے۔ (جبکہ ویتنام کی 16 سال جنگ میں امریکہ کے 58218 شہری مارے گئے تھے۔) 1953 میں جنگ بندی عمل میں آئی اور اس کے ساتھ ہی دونوں کوریائی ریاستیں 38 عرض بلد پر مستقل تقسیم ہو کر رہ گئیں۔ سرحد کو بارودی سرنگوں اور خاردار تاروں سے محفوظ بنانے کا اہتمام کیا گیا۔بعد میں دونوں ریاستوں کو اقوام متحدہ کا ممبر بنا لیا گیا۔
جنوبی کوریا کے علاوہ 15 اگست کو ہی چند اور ممالک بھی اپنا یوم آزادی منانے ہیں جن میں جمہوریہ کانگو 15 اگست 1960 ہے۔ بھارت 15 اگست 1947 ہے۔ بحرین 15 اگست 1970 ہے اور دنیا کے چھٹے سب سے چھوٹے ملک Liechtenstein کی یوم آزادی 15 اگست 1866 ہے۔
(یہ مضمون پاکستانی کمیونٹی کوریا کے چئیرمین شفیق خان و سابق چئیرمین یاسین بلوچ کی خواہش پر کوریا کے یوم آزادی پر خصوصی طور پر لکھا گیا ہے)

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers