دیپالپور کے تاریخی شہر میں ہمارا تاریخی استقبال ہوا-
دیومالائ دور سے آباد قلعہء دیپالپور ہزارہا برس کی تاریخ کا امین ہے- یہ قلعہ یورپ اور وسط ایشاء کے ہر حملہ آور کے سامنے برصغیر کی پہلی ڈھال بنا- ہر حملہ آور نے اسے نشانہ بنایا اور خوب تاراج کیا- دیپالپور کا محل وقوع ہی اس کے آلام و مصائب کی سب سے بڑی وجہ تھی- یہ وہ شہر ہے جسے امتداد زمانہ نے ہمیشہ مسمار کیا اور ذوقِ حیات نے انہی کھنڈرات پر دوبارہ لا کھڑا کیا-
تیرہویں صدی کے آخر اور چودھویں صدی کے آغاز میں دیپالپور کی اہمیّت دفاعی اعتبار سے لاہور سے کم نہ تھی- یہاں باقاعدہ فوجی دستے رکھے جاتے تھے- اور اسلحے کا بہت بڑا ذخیرہ بھی موجود تھا-
سِکھّا شاہی دور میں یہاں نسبتاً امن و امان تھا- ان دنوں یہاں داؤد خان قصوری کی حکومت تھی جو پٹھان تھا اور مرہٹوں کو بے دخل کر کے یہاں کا سردار بنا تھا- انتظام حکومت البتہ سکھّوں کے حوالے تھا- معاشی لحاظ سے دیپالپور ان دنوں باقی پنجاب سے قدرے مستحکم تھا اور اس کی بڑی وجہ یہاں کی زراعت تھی- ہر سال دریائے راوی اور بیاس کا دوآبہ کناروں سے اچھل کر زمین کو نئ مٹّی فراہم کر دیتا تھا ، اور زمین پہلے سے بھی زیادہ نرم اور زرخیز ہو جاتی-
دور سے بہاولپور کی فصیل نظر آ رہی تھی- یہ فصیل پچیس فٹ اونچی تھی اور ہزاروں سال کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے تھی- تغلق دورِ حکومت میں اسے نئے سرے سے تعیر کیا گیا تھا-
کچّی سڑک پر اجناس سے بھری بیل گاڑیاں چل رہی تھیں- شہر سے باہر ڈیرے اور بھینیاں تھے جہاں بندھے ہوئے جانور ارڑاتے ہوئے اپنے اپنے "کِلوں" کے گرد چکر کاٹ رہے تھے- بائیں جانب دور دور تک کھیت ہی کھیت تھے جن میں لوسن ، برسین ، سرسوں ،اور جماہاں لہلہا رہا تھا-
دائیں جانب وتر والی زمین تھی جہاں کسانوں کی " ونگار" چل رہی تھی- ادھر سے "تت تت... پیر کھبی....ہوں ہوں " کی آوزیں آ رہی تھیں- یہ وہ خُفیہ رموز تھے جنہیں بیل اور کسان کے سوا کوئ نہ سمجھتا تھا- دس بارہ دہقان ایک کھیت میں ہل چلا رہے تھے-
ایک کسان نے بیل روک کر دور ہی سے ہمیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا شروع کردیا-ابھی ہم نصف کوس دور تھے کہ وہ ہل چھوڑ کر ہماری طرف ہی چل پڑا-
"رب نہ بھلائے تے اے کِدرے وارث شاہ تے نئیں ؟ " وہ دور سے ہی پکار اٹّھا-
قریب آکر اس نے شاہ صاحب کا ہی ایک بند پڑھا:
دوست سوئ جو پریت وچ بھَیڑ کٹّے
یار سوئ جو جان قربان ہووے
دوست وہی ہے جو دوستی میں مشکلات برداشت کرے- یار وہی ہے جو جانثار ہو-
وہ شاہ صاحب کے گلے لگ گیا- اس کی خوشی دیدنی تھی- اس دور میں دودھ اور مکھن کی طرح دوستی اور پیار کے رشتے بھی خالص ہوا کرتے تھے !!!!
اس کا نام مہر اللہ وسایا تھا-
اللہ وسایا کچھ عرصہ قصور کے مدرسے میں پڑھ چکا تھا- دوران تعلیم وہ شاہ صاحب کا پکّا بیلی تھا اور ان کی شاعری کا دلدادہ- والد کی وفات کے بعد اللہ وسایا تعلیم کا سلسلہ ترک کرکے واپس دیپالپور آگیا- اور زمین کا سینہ چیر کر اناج اگانے لگا- آج تین سال بعد دو بچھڑے بیلی ملے تو آبدیدہ ہو گئے-
اللہ وسایا نے ہل کندھے پر رکھا اور بیلوں کی جوڑی پنجالی سمیت کھینچتا ہمارے ساتھ چل پڑا- خوشی سے اس کے پاؤں زمین پر نہ ٹِک رہے تھے- میں سوچ رہا تھا کسی ہمدم دیرینہ کا اچانک مل جانا بھی ایک بہت بڑی خوشی ہوا کرتی تھی جو موبائل نے ہم سے چھین لی ہے-
ہم دیپالپور قلعے کے مشرقی دروازے سے شہر میں داخل ہوئے-
شہر میں خوب چہل پہل تھی- اکثر مکانات پختہ تھے اور چھولداریوں کا رواج تھا- شہر کی سڑکیں بھی اکثر پختہ تھیں اور جگہ جگہ پانی والے کنویں تھے جن پر اچھا خاصا رش لگا ہوا تھا- میں اس عظیم قلعے کے درودیوار میں کھویا ہوا تھا کہ اللہ وسایا کی حویلی آ گئ-
یہ تین کچے کوٹھوں پر مشتمل ایک سادہ اور پروقار حویلی تھی- کوٹھوں کے بیچ ایک کچی سیڑھی چھت تک جاتی تھی- حویلی کی کچّی دیواروں پر پھولدار بیل چڑھی ہوئ تھی-دیوار کے ساتھ ساتھ انار اور امرود کے بوٹے لگے تھے- نُکّر میں مٹی کا بھڑولا تھا جس میں گندم ذخیرہ کی جاتی تھی- باورچی خانہ کے نام پر ایک "کال کوٹھی" تھی جس کے دروازے دھویں سے سیاہ ہو چکے تھے- اس کے ساتھ ایک "چولہانڑاں" تھا جو اس دور کا اوپن ایئر کچن ہوا کرتا تھا- اس پر مٹی اور سلور کے برتن رکھے ہوئے تھے-"گھڑونجی" پر مٹّی کے کورے گھڑے دھرے تھے- تھڑے پر دودھ والا ریہڑکا رکھّا تھا- گھر کے ایک کونے میں ہاتھ سے آٹا پیسنے والی چکّی تھی- اس کے قریب ایک رنگین چرخہ ایستادہ تھا- صحن میں رنگیلی چارپائیاں بچھی ہوئ تھیں- درمیان میں حقّہ رونق افروز تھا-
" او بھلئیے لوکے ویخ کون آیا ای....وارث شاہ ہوری آئے نیں قصور چوں" مہر اللہ وسایا گھر میں داخل ہوتے ہی پکار اٹھّا-
اس کی جورُو سَت بِھرائ چادر کا پلّو درست کرتی ادب و تعظیم کی تصویر بنی ہماری طرف آئ- شاہ صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ دھّرا- یہ پنجاب کی ایک روایت تھی- عورت کی چادر اور چولہانڑاں ہی گھر میں مہمانوں کے سامنے اس کا پردہ ہوا کرتا تھا-
ایک بزرگ عورت تھلّے پر نماز پڑھ رہی تھی- وہ سلام پھیرتے ہی بسم اللہ بسم اللہ کرتی سیدھا ہماری طرف آئ- اس نے شاہ صاحب کا کندھا چُوما اور میرے سر پر ہاتھ رکھّا-
یہ اماّں رحمتاں تھیں....اللہ وسایا کی امّاں-
دوبچّے جنہوں نے محض چولے پہن رکھّے تھے ، ہمیں دیکھتے ہی بھاگتے ہوئے کمرے میں چھُپ گئے-
اللہ وسایا ایک چھوٹی سی چاٹی میں نمک والی چھاچھ بنا لایا- پھر دیسی گھی کے پراٹھے تیّار کروائے جن پر مکھن کا پیڑا اور کوُٹّا ہوا گُڑ ڈال کر ناشتے کو دو آتشہ کیا گیا تھا-
میرے جیسے بھوکے کےلئے یہ کھانا کسی بڑے افطار سے کم نہ تھا-
شاہ صاحب چند لقمے لیکر چارپائ پر نیم دراز تسبیح میں مشغول ہو گئے- اور اللہ وسایا شام کی ضیافت کےلئے ایک دیسی کُکّڑ کے پیچھے سرپٹ بھاگنے لگا-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers