لکھّی جنگل میں رات کی تاریکی پھیل چکی تھی- جوگیوں نے آگ کا الاؤ روشن کر دیا-
وارث شاہ صاحب نماز کے بعد دوبارہ ناتھ کے پاس جا بیٹھے- اور میں کسی نئے جوگی کا انٹرویو کرنے نوخیز جوگیوں کے پاس چلا آیا- یہاں دیپک نامی ایک جوگی بیٹھا ہوا تھا- اس کی عمر تیس سال سے کچھ اوپر تھی- یہ عاشق نامراد پانچ سال سے عشق کی جوگ لئے جنگل جنگل گھوم رہا تھا-
دیپک مالیگاؤں کا رہنے والا تھا- پیشے کے لحاظ سے وہ ایک یکّہ بان تھا- مالگاؤں میں صرف ایک ہی یکّہ تھا جسے دیپک چلاتا تھا- یکّہ یا تانگہ ان دنوں رومانس کا گڑھ ہوا کرتا تھا- یہ کسی کےلئے وصال یار کا بہانہ تھا تو کسی کو ہجر کا دکھ دیتا تھا- تانگے والا وصل و ہجر سے بے نیاز عاشقان دلگیر کےلئے ہمیشہ خیر مانگا کرتا تھا-
دیپک 18 برس کا ہوا تو اسے بھی عشق بیماری لگ گئ-
شکنتلا مالگاؤں کے ایک کسان گوپال کی بیٹی تھی- دیپک اسے روزانہ سکول چھوڑنے جایا کرتا تھا-
دیپک اور شکنتلا چار سال تک ایک دوسرے کو محبّت نامے بھیجتے رہے- یہ خطوط دل کے کاغذ پر لکھے جاتے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں پڑھے جاتے- دن میں دو بار دونوں کے نین مل جاتے اور دل کی چٹھّی دل تک پہنچ جاتی-
یہی ان کا عشق تھا- اس دور میں عاشق لوگ بہت سست ہوا کرتے تھے- وہ کچھوے کی رفتار سے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے- زندگی بھر کےلئے ایک ہی عشق کافی تھا- عاشق اس وقت تک بھنورا نہ بنا تھا- وہ ایک ہی شمع کا پروانہ بن کر زندگی کا چراغ گل کر دیتا- کبھی پروانہ جل کر راکھ ہو جاتا تو کبھی شمع بجھ جاتی- عاشقوں کی اس نسل کو سچّے عاشق کہا جاتا تھا-
دیپک کی ماں اسکے بچپن میں فوت ہو چکی تھی- اس کا باپ ہری داس ہریا کمنشری سے بطور منشی ریٹائرڈ تھا- باقی زندگی اس نے دکان چلائ تھی اور کافی سرمایہ اکٹھا کیا تھا- دیپک اس کا اکلوتا بیٹا تھا-
عشق سر چڑھ کر بولا تو دیپک نے باپو کو اپنی پسند سے آگاہ کیا- ہری داس رشتہ لیکر گوپال کے پاس گیا- گوپال کچھ پس و پیش کے بعد رشتے پر راضی ہو گیا- بات پکّی ہو گئ اور جوتشی نے بساکھ کی 18 کا مہورت نکال دیا-
ہری داس نے گھر کے کونوں کھدروں میں چھپا سرمایہ برآمد کیا، اور دیپک کے حوالے کر کے اسے زیورات بنوانے دیولالی بھیجا- جو بمبئ کے قریب ایک متموّل شہر تھا-
دیپک نے شہر جا کر سب سے اچھے جوہری کی تلاش کی- من پسند زیور خریدا اور شام سے پہلے پہلے تانگہ گاؤں کی طرف واپس موڑ دیا-
وہ مالیگاؤں سے کوئ پندرہ کوس دور چاندوڑ کے پاس تھا کہ اسے رہزنوں نے آن گھیرا- ڈاکو دیولالی سے اس کا پیچھا کرتے آرہے تھے- دیپک ایک اتھرا اور جوشیلا نوجوان تھا- وہ ڈانگ سونت کر ڈاکوؤں کے مقابلے میں آن کھڑا ہوا اور ڈٹ کر لڑا لیکن ڈاکو تعداد میں زیادہ تھے- کسی نے پیچھے سے اس کے سر میں لٹھ پھیری تو وہ کٹے ہوئے شہتیر کی طرح آن گرا-
ڈاکو سونا لوٹ کر چلتے بنے-
دیپک جانے کب تک اس اجاڑ جنگل میں پڑا رہا- اتفاق سے وہاں سے گزر جوگیوں کے اس قافلے کا ہوا- جوگی بہت اچھے وید بھی ہوا کرتے تھے- وہ اسے اٹھا کر اپنے ساتھ اپنی آشرم میں لے گئے- دیپک علاج معالجے سے اگلے ہی دن ہوش میں آگیا لیکن اس کی یاداشت ساتھ چھوڑ چکی تھی-
شہر بستے بھلے .... جوگی چلتے بھلے .... بدقسمتی سے گرو ناتھ کو اگلے ہی روز کچھ مقامی برہمنوں کے دباؤ پر چاندوڑ چھوڑنا پڑا- اس کا اگلا پڑاؤ ہوا بھی تو کہاں.... سو کلومیٹر دور پاٹن دیوی کے جنگلات میں-
ناتھ نے تندرست ہونے پر دیپک کو جوگی کا لباس ضرور پہنایا لیکن تیرتھ چیلا نہ بنایا کہ اس کےلئے پہلی شرط ہی ماتا پتا کی رضامندی تھی- وہ دیپک کی یاداشت پلٹنے کا منتظر رہا-
چیت بیت گیا تو بیساکھ آیا- شکنتلا ، گوپال ، اور ہری داس دیپک کے انتظار میں سوکھ گئے- ہر طرف مخبریاں دوڑائ گئیں لیکن دیپک کا کچھ پتا نہ چل سکا .... اگر ہاتھ آیا تو صرف تانگہ گھوڑا ، جو بے فکری سے جنگل میں گھاس چر رہا تھا-
آٹھ ماہ بیت گئے لیکن جوگی دیپک کی یاداشت واپس نہ لا سکے- وہ کھاتا پیتا ہنستا کھیلتا باتیں کرتا لیکن وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے اسے کچھ یاد نہ تھا-
ساون آیا تو بادل ٹوٹ کر برسے اور سارے جنگل میں جل تھل ہو گیا- جوگی ایک گھنے درخت کے نیچے سر چھپائے بیٹھے تھے- اچانک زور کا بادل کڑکا اور اسی درخت پر بجلی گری جس کے نیچے گرو کی پلٹن آرام کر رہی تھی- بجلی کی لہریں گیلے درخت سے ہوتی ہوئ نیچے بیٹھے چیلوں تک جاپہنچیں- اس حادثے میں ایک جوگی کالو رام چل بسا اور دیپک بے ہوش ہو گیا-
دیپک کو اگلی صبح ہوش آیا تو اس کی یاداشت واپس آ چکی تھی-
اس نے گرو کو بتایا کہ وہ مالگاؤں کا رہنے والا ہے اور اس کی شادی ہونے والی ہے-
گرومہادیو نے قریبی گاؤں "چالیسگاؤں" رابطہ کر کے اپنے ایک معتقد کے ذریعے دیپک کو فوری طور پر مالگاؤں واپس بھجوانے کی تدبیر کی-
دیپک تیسرے روز مالگاؤں پہنچ گیا- لیکن اب اس کےلئے گاؤں میں کچھ بھی باقی نہ تھا- باپ صدمہ لیکر مر چکا تھا- اور محبوبہ جلگاؤں کے ایک سیٹھ کے ہاں بیاہی جا چکی تھی-
گاؤں میں کسی نے بھی دیپک کےلئے اپنا دروازہ نہ کھولا- سب اس بات پر متفق تھے کہ وہ ایک نمبر تلنگا ہے اور باپ کا دھن بمبئ کی رنڈیوں پر نچھاور کرکے واپس لوٹا ہے- وہ ایک ایک دوست اور رشتہ دار کے پاس گیا .... اور رو رو کر اپنی بپتا سنائ لیکن کسی کو یقین نہ آیا- بالاخر اسے دھکے دے دے کر گاؤں سے نکال دیا گیا-
دیپک واپس چالیسگاؤں چلا آیا اور کنڑ کے جنگلات سے ہوتا ہوا گوتالہ کے ویرانوں میں دوبارہ جوگیوں کے ٹھکانے پر جا پہنچا-
وہ بالے ناتھ کے قدموں میں جا گرا اور جوگی بن گیا-
دیپک کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام رشتے غرض کی ڈور کے ساتھ جڑے ہیں- اور غرض نفس کا عارضہ ہے- دنیاوی خواہشات سے چھٹکارہ حاصل کرکے ہی مکتی مل سکتی ہے- اسی مکتی کی تلاش میں وہ اب گروناتھ کے ساتھ جنگلوں کی خاک چھانتا پھرتا تھا-
⊙-------------------------⊙
دیپالپور کے لکھّی جنگل میں رات پورے شباب پر تھی-
پرندے اپنے اپنے گھونسلوں میں دبک چکے تھے- جوگیوں کا جلایا ہوا الاؤ اب مدھم پڑ چکا تھا- اسی الاؤ کی روشنی میں رات کے بھولے بھٹکے مسافر ان کی جھوک تک آ جاتے تھے-
میں نے دیپک سے پوچھا " تمہیں یوں جنگل جنگل پھرنے سے ڈر نہیں لگتا...."
وہ بولا " صاحب ڈر تو انسانی بستیوں میں چھوڑ آئے .... جنگل میں کاہے کا ڈر .... ہمارے پاس سانپ کے زہر کا تریاق تو موجود ہے....آدمی کے زہر کا نہیں "
میں نے کہا " تم واقعی نردوش ہو- ایک حادثے نے تمہارا سب کچھ چھین لیا- لیکن تمہیں کم از کم ایک بار شکنتلہ کے دروازے پر جاکر اسے اصل صورت حال سے ضرور آگاہ کرنا چاہیے تھا"
"میں گیا تھا صاحب...." دیپک نے سر جھکائے جواب دیا- " باپو اور ماں تو سورگ سدھار چکے تھے .... آخری سہارا شکنتلہ کا ہی تھا- میں جانتا تھا کہ گھر والوں نے اسے زبردستی بیاہا ہوگا- جب دل کا درد سوا ہو گیا تو میں نے گرو سے شکنتلہ کے گاؤں جانے کی اجازت چاہی-
گرو مہاراج نے کہا " رن ، فقیر ، تلوار اور گھوڑا اسی کا ہوتا ہے جس کے قبضے میں ہو .... بے مراد لوٹو گے"
اس کے باوجود میں جلگاؤں گیا- اپنا کاسہ لیکر ایک ایک دروازے پر دستک دی-
دسویں روز ایک بڑی حویلی کا دروازہ کھٹکھٹایا تو مراد بر آئ- دروازہ شکنتلہ نے ہی کھولا- اسے دیکھ کر میرے دل میں درد کی ٹیس سی اٹّھی- وہ بہت کمزور اور بیمار لگ رہی تھی-
میں نے کہا " شکنتلا میں دیپک ہوں ..... مالگاؤں کا دیپک"
اس نے ایک اچٹتی سی نظر مجھ پر ڈالی اور مجھے ایک گُڑ کی ڈلّی دے کر خاموشی سے لوٹ گئ-
میں پہروں وہاں کھڑا رہا لیکن وہ دوبارہ دروازے پر نہ آئ-
میں ایک بار پھر لہو دل ہو کر واپس جنگل میں لوٹ آیا اور گرو جی کے قدموں میں آن بیٹھا .... آپ کیا جانو صاحب .... جوگ کس چیز کا نام ہے ..... جوگ من میں روگ پال کر سوگ منانے کا نام ہے-
دیپک کی کتھا جاری تھی کہ ایک جوگی نے آکر اطلاع دی کہ بھوجن پر ہمارا انتظار ہو رہا ہے-
ہم نے جوگیوں کے ساتھ بیٹھ کر رات کا کھانا کھایا- تازہ روٹی، باسی روٹی، باجرے کی روٹی ، گندم کی روٹی ، مکئ کی روٹی ،سوکھا پراٹھا .... جسے جو خیرات ملی ، اٹھا لایا تھا- ہر جوگی ایک پوٹلی اور کاسہ لیکر صبح سویرے آبادی کا رخ کرتا- اور در در پر جاکر ایک روٹی کا سوال کرتا- یہ لوگ روپے پیسے یا آٹا گندم قبول نہیں کرتے تھے- عموماً یہ پرانی اور بے کار روٹی شوق سے لیتے تھے- بھیک مانگنے کا مقصد بھی خودسری اور غرور کا خاتمہ کرکے عاجزی پیدا کرنا تھا-
جوگی سترہویں صدی کے معاشرے کا ایک اہم کردار تھا- سچّے عاشق محبت میں ناکام ہوکر جوگ کو گلے لگا لیتے- کچھ لوگ فقیری کی طلب میں ادھر کا رخ کرتے- کچھ گناہوں سے بیزار ہو کر شانتی کی تلاش میں جوگی بن جاتے- جوگی تصوّف سے متاثر ہوئے تو تصوّف بھی کسی حد تک جوگ کے رنگ میں رنگ گیا- صوفیاء نے اسے شاعری کا عنوان بنایا- ایک ایسا کردار جو اپنے حقیقی محبوب کی تلاش میں فکر کے جنگل میں مارا مارا پھرتا ہے-
رات کے کسی پہر بالے ناتھ نے شاہ صاحب کو دعوت کلام دی اور کہا کہ وہ اس کے چیلوں کو پندونصاح کریں- ہم سب اٹھ کر محفل سخن میں جا بیٹھے- جنگل کی سنسان فضاء شاہ صاحب کی پرسوز آواز سے گونج اٹھی !!!
من ماریے جوگ نوں پا لیّے
جیہا ماریے ناگ رکھ سوٹڑی نوں
بچّہ نفس پلیت نُوں گھُٹ ماریں
جتھے ویکھسیں کوارڑی ووہٹری نوں
نفس کو مار کر ہی جوگ کا حصول ممکن ہے- جیسے شیش ناگ کو چھڑی کے ذریعے کچلا جاتا ہے- بیٹا تو اگر کسی کنواری لڑکی کو دیکھے تو اپنے نفس کی سرکشی کو قابو میں رکھنا-
داغ دنب توں بوہت سنبھال رکھّیں
چادر فقر دی چِٹڑی دھوتڑی نُوں
ہتھ پکڑ مَطَہر یقِین والی
مارِیں نَفس شَیطان دِی کھوتڑی نوں
فقر کی سفید دُھلی چادر کو داغ اور ناپاکی سے بچائے رکھنا- ہاتھ میں یقین کی لاٹھی پکڑ کر نفس کے شریر گدھے کو برابر مارتے رہنا-
حال فقر دے نوں نئیں لنگ لائیں
دلوں صاف رکھیں نیّت کھوٹڑی نوں
فقر مِٹھڑا کھیت کَماد دا ای
چُوہا چور لاگُو گنّے ٹوٹڑی نوں
فقیری کو کسی صورت مطعون نہ ہونے دینا ، دل کو ہر قسم کی بدنیّتی سے ہمیشہ صاف رکھنا- فقر کماد کے اس میٹھے کھیت کی طرح ہے جسے نفس کا چوہا چوری چھپے برباد کرتا ہے-
جتّی ستّی نمانیاں ہو جائیں
رکھیں ثابت ایس لنگوٹڑی نوں
وڈّی ماں برابر جاننی ایں
تے بھین برابر چھوٹڑی نوں
گناہ اور بدنظری سے دامن ہمیشہ پاک رکھنا- اپنے سے بڑی عمر کی عورت کو ماں سمجھنا اور چھوٹی کو ہمیشہ بہن کا درجہ دینا-
لکھّی جنگل میں گھاس کے تکئے اور مٹّی کے بستر پر سوئے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہم نے زندگی نفس کی من مانیوں میں گزار دی- ہمارے من کے میٹھے کھیت کو نفس کا چوہا برباد کرتا رہتا ہے لیکن ہم زندگی بھر دوسروں کے چوہے ہی تلاش کرتے رہتے ہیں-

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers