حجرہ سے دیپالپور کے سفر نے ہمیں تھکا کر رکھ دیا-
راستے میں ہم نے درختوں کے ایک جھنڈ تلے آرام کیا-
یہاں بیری کی خود رو جھاڑیوں پر پیلے اور سرخ بیر لگے ہوئے تھے- شاہ صاحب سستانے بیٹھ گئے اور میں نے بیری کو ڈھیلے مار مار کر ویران کر دیا- بیروں کا ذائقہ کھٹاس اور مٹھاس کا حسین سنگم تھا-
شاہ صاحب نے چھاگل سے پانی پیتے ہوئے کہا:
" بیری او بدقسمت ماں ایں جہڑی ہمیشہ اولاد دی وجہ توں پِٹدی اے"
" لیکن اولاد کے اندر بھی تو کیڑا ہے....یہ دیکھیں" میں نے ایک کیڑے والا بیر شاہ صاحب کو دکھاتے ہوئے کہا-
کچّی سڑک پر دو آدمی آتے دکھائ دیے- انہوں نے پانی کے مٹکے اٹھا رکھّے تھے- ان کی وضع قطع کچھ عجیب سی تھی-
دونوں نے گیروے رنگ کی چادریں باندھ رکھّی تھیں اور اسی رنگت کی ایک چادر جسم پر بھی اوڑھ رکھّی تھی - یہ باریش تھے ، اور لمبے لمبے بال رکھّے ہوئے تھے- کانوں میں مُندریں ، گلے میں مالائیں ، ہاتھوں میں کڑے اور رنگ برنگی انگوٹھیاں-
"حضرت یہ کون سی مخلوق ہے" میں نے شاہ صاحب کو توجہ دلائ-
"اے جوگی نیں.....نگر نگر گُھمن آلے جوگی" شاہ صاحب انہیں دیکھ کر مسکرائے-
" جوگی ؟؟ یہ جوگی کیا ہوتا ہے ؟؟" میں نے بیر پھینکتے ہوئے پوچھا-
"چل کے پُچھ لینے آں" شاہ صاحب نے گٹھڑی مجھے تھمائ اور ڈانگ ٹیکتے ہوئے جوگیوں کی طرف چل پڑے-
جوگی اس ویرانے میں دو اجنبیوں کو دیکھ کر پہلے تو ٹھٹھکے پھر ایک مشترکہ نعرہ لگایا......." اَلَکھ نرِنجن !!!!!"
اور میرا " تراہ" نکل گیا-
میں نے سوچا خودکُش حملے سے پہلے فدائ بھی اَلَکھ نرِنجن کا نعرہ لگا دے تو کچھ لوگ تراہ سے ہی مرجائیں-
شاہ صاحب جوگیوں سے ہمکلام ہوئے " جھوک منڈلی کہاں بسائیو رے گرو مہادیو نے....؟"
مجھے حیرت ہوئ کہ شاہ صاحب کو جوگیوں کی زبان بھی آتی ہے- وہ شاید ان کے گرو کا پّتہ معلوم کر رہے تھے-
"لکھّی جنگل میں ... !!! " جوگی نے جواب دیا-
لکھّی جنگل دیپالپور کا تاریخی جنگل تھا- یہ دیپالپور کے رہائشیوں کے ایندھن کی ضروریات بھی پورا کرتا تھا اور ڈاکوؤں ، چوروں کی آماجگاہ بھی تھی- یہاں جنگلی جانور بھی بکثرت پائے جاتے تھے-
ہم جوگیوں کے ساتھ ہولیے- شاہ صاحب جوگیوں میں یوں گھل مل گئے جیسے خود بھی کبھی جوگی رہے ہوں- یہ بھگتی تحریک کا دور تھا- مذاہب ایک دوسرے کے قریب آ رہے تھے- اور ایک دوسرے کی اچھی روایات اپنانے کی کوشش ہو رہی تھی -
مجھے زور کی بھوک لگی تھی - میں نے بے خیالی میں جوگی کے کندھے سے لٹکتی تھیلی میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا-
جوگی برّصغیر میں پہلی بار نویں دسویں صدی عیسوی میں نظر آئے- یہ ناتھ تحریک کے علمبردار تھے- ناتھ مت ھندوؤں میں برہمن مخالف ردعمل تھا- ان کے روحانی پیشوا کو ناتھ یا سدھ کہا جاتا تھا-
ناتھ جوگی موحد تھے اور عقائد میں مسلمانوں کے قریب سمجھے جاتے تھے- ان کے نصف عقائد بدھ مت سے مستعار لئے گئے تھے-
یہ لوگ حد درجہ نفس کش اور تارک الدنیا تھے- ان کی زندگی سادگی کا اعلی نمونہ تھی- جوگ دراصل دکھ ، سکھ ، خوف ، نفرت اور غّصہ میں برابر مطمئن رہنے کا نام ہے- کن پھٹے جوگی ہندو مت میں وہی مقام رکھتے تھے جو مسلمانوں میں صوفیاء کو حاصل تھا- یہ خیرات مانگ کر گزارا کرتے اور ہمیشہ آبادی سے باہر اپنا مسکن بناتے تھے-
ہم لکھّی جنگل میں جوگیوں کے ٹھکانے پر پہنچے تو گرو ناتھ نے ہمارا استقبال کیا- اس کا نام سدھ ناتھ تھا- یہ جوگیوں کی ایک قسم جٹا دھاری سے تعلق رکھتا تھا- اس کی سفید داڑھی قرینے سے بنی ہوئ تھی اور بال کمر تک آئے ہوئے تھے- دس پندرہ جوگیوں کی ایک جماعت اسکے گرد حلقہ بنائے اس کے ارشادات سن رہی تھی- کچھ میرے جیسے نالائق جوگی گرو کے لیکچر سے بے نیاز یا تو خراٹے رہے تھے یا ادھر ادھرگپیں ہانکنے میں مصروف تھے-
شاہ صاحب نے ملتے ہی شعر کی صورت ناتھ کی نذر اتاری....
تُسی جوگ دا حرف بتاؤ مینوں
شوق جاگے نیں حَرف نگِینیاں دے
اِس جوگ دے پنتھ وچ آن وڑیاں
چُھپّن عیب ثواب کمینیاں دے
آپ مجھے جوگ کا تعارف کرائیں- آپ سے اقوال زریں سننے کا شوق بیدار ہوا ہے- شاید آپ کے دائرہء فقر میں بیٹھ کر ہمارے گناہ ثواب بھی چھُپ جائیں-
ناتھ بہت عزّت اور تکریم سے پیش آیا- عجزوانکسار اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا-
شاہ صاحب اس کے پاس جا بیٹھے-
ناتھ نے اپنا لیکچر جاری رکّھا:
" جوگ انترآتما کو مار مٹانے کا نام ہے ... پاچ سنودنا جیسے یاهنے، ایکهنے، واس گهینے، چوگهینے،واٹنے سب کو الگ الگ کر کے انکی سرکشا اور پوترتا کا مان کرنا ہی جوگ ہے- سارے رشیوں، مہارشیوں صوفیوں اور سنیاسیوں کا یہی گیان ہے "
پہلی جماہی کی آمد کے ساتھ ہی میں بور ہو کر اٹھا اور کافی دور جا بیٹھا-
ادھرکچھ نوخیز قسم کے جوگی محفل سجائے بیٹھے تھے-
ان میں سے ایک مدھورام بھی تھا- یہ سولہ سترہ سال کا ایک پر کشش جوگی تھا اور گیروے لباس میں اس کا بدن تانبے کی طرح چمک رہا تھا- میں نے اس سے گپ شپ لگانی شروع کی- مجھے تجسس ہوا کہ آخر اس جوان رعنا پر جوگی بننے کا بھوت کیسے سوار ہوا؟
مدھو کی کہانی بڑی دردناک تھی- وہ ایک سردار سدھاری سنگھ کے گودام میں کام کرتا تھا- اس کا کام گودام کی صفائ اور چوہوں کو مارنا بھگانا تھا- سدھاری سنگھ نے اسے جنسی تشدّد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا- مدھو کچھ روز تو برداشت کرتا رہا- ایک دن جب سدھاری دیسی ٹھرّا چڑھائے کھاٹ پر مدہوش پڑا تھا مدھو نے درانتی اس کے پیٹ میں گھسیڑی اور قریبی جنگل میں روپوش ہو گیا- یہیں اس کی ملاقات ناتھ سے ہوئ اور یوں مدھو اب فقیر بننے جا رہا تھا-
جوگیوں کا خیال تھا کہ نفس کشی اور سخت جسمانی ریاضتیں انہیں لافانیت تک لے جاتی ہیں- ان کے نزدیک دنیاوی تعلقات اور جسمانی لذات کی کنارہ کشی کامیابی کی شرط اوّل تھی- وہ گوشت کے ساتھ ساتھ عورت سے بھی سخت پرہیز کیا کرتے تھے-
صوفیاء کرام کا جوگیوں سے ملاقات کرنا اچھنبا نہ سمجھا جاتا تھا- یہ تہذیبوں کے باہمی ادغام کا دور تھا- مقصد سب کا ایک ہی تھا .....اپنے نفس کو مار کر رب کی پہچان کرنا....صوفیاء کے طریقے البتہ اسلامی تھے جیسے روزہ ، نوافل اور اعتکاف کا اہتمام کرنا البتہ جوگی غیر فطری طریقے بھی اپناتے تھے- بعد میں جوگ یا ناتھ ازم کے بعد تصورات متاخرینِ تصوّف میں بھی در کر آئے- ان میں صوفیاء سے منسوب نفس کشی کے غیر فطری طریقے اور پیر کا بعد از وفات لافانی طاقت حاصل کرلینا شامل ہے-
گرومہادیو نے ایک صاف ستھری سفید چادر شاہ صاحب کو دی- ہم نے اسے سبزہ پر بچھا کر نماز مغرب ادا کی- دعا کے بعد شاہ صاحب نے مجھ سے پوچھا :
" اساّں تے جوگیاں تو نفس کَشی دا درس لیا اے.....تسُاں وی کُچھ سِکھیا اے..... ؟؟ "
میں نے کہا " جی ..... یہی سیکھا ہے ....کہ کبھی کسی سردار کے گودام میں کام نہیں کرنا چاہیے-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers