تین روز بعد ہم ہجرہ شاہ مقیم پہنچ گئے ....
ہجرہ ایک چھوٹی سی بستی تھی- ہم صبح صبح بستی میں داخل ہوئے تو گھروں سے پراٹھوں اور قصوری میٹھی میں بنے پکوانوں کی خوشبو آ رہی تھی-
"شاہ صاحب....ہم ناشتہ کہاں کریں گے ؟؟" میں نے بھوک سے بے تاب ہوکر پوچھا-
شاہ صاحب چلتے چلتے رک گئے ، پھر میری طرف مڑ کر گویا ہوئے:
"کدی فاقہ وی کر لیا کرو .... کی کرو گے پیٹ دا جہنم بھر کے ... !!!"
اٹھارہویں صدی کے اس عظیم صوفی شاعر کے ساتھ چلتے ہوئے آج ساتواں دن تھا اور میرا وزن کم از کم دو کلو کم ہو چکا تھا-
میں نے سوچا کہ ان صوفیاء کا بس کلام ہی مزا دیتا ہے ، یا ان کے مزار کی دیگیں سواد کرتی ہیں- چار دن ان کی صحبت میں گزارنا پڑیں تو چودہ طبق روشن ہو جائیں- آج ان کے مزاروں پر راج کرنے والے گدی نشینوں کو صرف ایک دن ان بابوں کے پاس چھوڑا جائے تو شاید انہیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیں- اس لئے کہ یہ بزرگان پیٹ کے دشمن تھے اور ان کے جانشین آٹے کے دشمن بن چکے ہیں- صوفیاء اپنے نفس کو فقر کی لگام دے کے رکھتے تھے اور ان کے پیشرو خود بے لگام ہو چکے ہیں- عوام الناس کےلئے ان دکانداروں نے محض کہانیاں گھڑ رکھی ہیں- انہی کہانیوں کے طفیل مجاوروں کی روزی روٹی کا سامان پورا ہوتا ہے-
شاہ صاحب گاؤں کی گلیوں سے گزرتے ایک مزار پر جا پہنچے- یہ پرانی اینٹوں سے بنا ہوا ایک خستہ سا مزار تھا- باہر کچھ فقیر اور جوگی گیان دھیان میں مصروف تھے- تقریباً تیس چالیس لوگ یہاں موجود تھے- کھڑل کھڑل کرتی ایک دیگ نے ماحول کو معطّر کر رکھا تھا- لوگ شاید دیگ پکنے کا ہی انتظار کر رہے تھے-
"یہ کس کا مزار ہے شاہ صاحب ... !!! " میں نے پوچھا-
" حضرت بابا شاہ مقیم ہوراں دا" وارث شاہ صاحب نے کہا- ہم جوتے اتار کر حجرے کے اندر چلے گئے جہاں ایک کچّی قبر پر کچھ پھولوں کی پتیاں پڑی تھیں-
شاہ صاحب نے بتایا کہ حضرت شاہ مقیم سترہویں صدی کے ایک عظیم مجتہد، عالم ،سکالر، باعمل صوفی اور شاعر تھے- آپ 1599ء میں پیدا ہوئے اور عہد جہانگیری میں تبلیغِ دین و نشرو اشاعتِ اسلام کا فریضہ سر انجام دیا- آپ میں سخاوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئ تھی- آپ کے اجداد بغداد سے ہجرت کر کے یہاں آئے اور ایک ہجرہ تعمیر کرایا- حضرت شاہ مقیم کا تعلق ایک مالدار گھرانے سے تھا چنانچہ انسانیت کی خدمت کو تبلیغ کا اہم جزو بنایا- آپ زندگی بھر ہندو ، مسلم ، سکھ اور عیسائیوں کی برابر مدد کرتے رہے اور غرباء کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتے رہے- آپ نے دارالعجائب نامی ایک کتاب بھی لکھّی- حضرت شاہ مقیم کا انتقال 1640ء میں ہوا- ان سے پہلے اس گاؤں کا نام پتھروال تھا- جو آپ کی نسبت عہد جہانگیری میں حجرہ شاہ مقیم ہو گیا-
وارث شاہ سرکار آنکھیں بند کئے دعا میں مشغول ہو گئے- میں جانتا تھا کہ شاہ صاحب کی دعا بہت طویل ہوگی- یہ لوگ دراصل سچ مچ کی دعا کیا کرتے تھے- ہم لوگ محض فوٹو سیشن کرتے ہیں-
میں بھی ہاتھ اٹھائے کھڑا رہا .... کبھی ایک ٹانگ پہ .... کبھی دوسری پہ .... کبھی چھت کے بالے گنتا .... کبھی قبر پر پڑی پھولوں کی پتیاں .... روح باہر دیگ کی کھڑل کھڑل پر رقص کر رہی تھی ... اور جسم اندر بیزار کھڑا تھا-
خدا خدا کر کے شاہ صاحب نے دعا ختم کی اور ہم مزار سے ملحق ایک تھڑے پر جا بیٹھے جہاں گھاس کی صف بچھی ہوئ تھی- انہوں نے گٹھڑی کھول کر مٹّی کی ایک تھالی نکال کر مجھے تھمائ اور کہا :
"جا کھان پین واسطے کچھ لے آ .... "
میں قلانچیں بھرتا دیگ کی طرف بھاگا اور رستے میں کئ فقیروں سے ٹکراتے ٹکراتے بچا-
دو پلیٹیں چاول چھولے ڈکار کر میں صف پر ہی ڈھیر ہو گیا اور شاہ صاحب اشراق کے نوافل پڑھنے میں مشغول ہو گئے-
سفر کا تھکا مارا جانے میں کتنی دیر سویا رہا- آنکھ کھلی تو ایک ملنگ نے مزار پر تھرتلّی مچا رکھّی تھی :
وہ تومبا بجاتے ہوئے گا رہا تھا....:
حجرے شاہ مقیم دے اک جٹی عرض کرے
میں بکرا دیواں پیر دا جے سر دا سائیں مرے
ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا نت بلے
کتّی مرے فقیر دی، جیڑی چوں چوں نت کرے
پنج ست مرن گوانڈھناں، رہندیاں نوں تاپ چڑھے
سنجیاں ہو جان گلیاں ، تے وچ مرزا یار پھرے
وارث شاہ صاحب وجد میں برابر جھوم رہے تھے- میں نے بھی جھومنے کی کوشش کی لیکن کلام میں کوئ ایسی خصوصیت نظر نہ آئ جو روح کو بے تاب کر دے-
ہجرہ سے دیپالپور کا سفر کافی طویل تھا-
" شاہ صاحب .... ایک بات پوچھوں ؟؟ " میں نے کچّی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے سوال کیا-
" جی ضرو پُچھو ... !!!"
" مزار پر ایک فقیر .... تونبے پر مرزاں صاحباں کا بے کار قصّہ گا رہا تھا .... آپ اس پر بھی جھوم رہے تھے "
شاہ صاحب نے ایک گہری سانس لی اور کہا:
" او کملیا .... پیٹ بھریا ہووے تے ایہہ مرزاں صاحباں دا قصہ ای لگدا اے .... ایہہ بڑا معرفت والا کلام ایں ........."
" ان اشعار میں کون سی معرفت ہے.....مجھے بھی....سمجھا دیجئے... ؟ "
شاہ صاحب کچھ دیر خاموشی سے چلتے رہے پھر گویا ہوئے ...
" میرے دل دے حجرے وچ مقیم سچے بادشاہ اگے میری روح فریاد کردی اے .....
کہ میرے سر تے سوار شیطان لعین میرا پیچھا چھڈ دیوے ....
تاکہ میں سچّے رب دا مخلص بندہ بن سکاّں-
میرے نفس وچ ہر لمحہ جو خواہشات دا ڈیوا بلدا ہے او ہمیشہ لئی بجھ جاوے ......
میرا غرور جو مینوں " میں میں " وچ مبتلا رکھدا ہے فنا ہوجاوے ....
میریاں اوہ پنچ ست عادتاں ، جھوٹ، غیبت، چغلی، دھوکہ بازی، تے بے ایمانی ....
جو ہر ویلے میرے وجود نال چمڑیاں نیں .... ختم ہو جان ، تے باقی برائیاں وی کمزور ہو جان ....
میری سوچ وچار دیاں گلیاں ہر غیر توں خالی ہو جان .....
تے انہاں سنسان گلیاں وچ صرف اوس یار دا گشت ہووے ..... جہڑا وحدہ لا شریک اے"
میں حیرت سے شاہ صاحب کا چہرہ دیکھتا رہ گیا- واقعی خوشبو وہی محسوس کرتے ہیں جن کی ناک کھلی ہو .... ہماری تو روز ازل سے بند ہے ....
میرے کانوں میں اب بھی فقیر تومبا بج رہا تھا .... اور اس کی ایک ایک تان میری روح میں اترتی جا رہی تھی ...
حجرے شاہ مقیم تے اک جٹّی عرض کرے
میں بکرا دیواں پیر دا جے سر دا سائیں مرے
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers