عصر تک ہم ٹھینگ گاؤں پہنچ گئے-
یہاں مسلمانوں اور سکھوں کے تقریباً ڈیڑھ دو سو گھرانے آباد تھے- بہت سے رنگ برنگے کُتّے ہمارے استقبال کو دوڑے- شاہ صاحب نے ڈانگ کو گٹھڑی کے بوجھ سے آزاد کیا-
اب گھٹڑی میرے سر پر تھی اور ڈانگ شاہ صاحب کے ہاتھ میں !!!
بنا چاردیواری والے کچّے گھروندے سے ایک دھوتی بردار شخص نکلا- اس نے کتّوں کو " دُھور دُھور" کی اور ہمیں " آؤ جی " کہا-
اس کا نام وریام تھا- وہ جانگلی النسل تھا- اس کا گھرانہ دو افراد پر مشتمل تھا- وریام اور اس کی بیٹی صغرٰی-
ہم صحن میں دھری منجی پر جا بیٹھے-
وریام مٹّی کی بٹھلی میں ہمارے لئے گدلا پانی لے کر آیا- گاؤں میں پانی کی شدید کمّی تھی- کنواں نام کو نہ تھا- یہ لوگ ایک تالاب سے پانی بھرتے تھے جسے " ٹوبہ" کہا جاتا تھا- ان کے جانور بھی یہیں سے پانی پیتے تھے-
غربت اور مجبوری نے پانی کو بھی لادین بنا رکھا تھا- چنانچہ ہندو مسلم اور سکھ اسی ایک ٹوبے پر قناعت کئے ہوئے تھے- ٹوبہ سوکھ جاتا تو یہ لوگ گدھوں پر گھڑے اور چاٹیاں ڈال کر تلونڈی جاتے اور وہاں سے پانی بھر کر لاتے- غرض کہ عملی طور پر یہ لوگ موہینجو ڈرو کی قبل مسیح تہذیب سے بھی پیچھے تھے کہ وہاں بھی ہر گھر میں پختہ کنواں موجود تھا-
وریام نے مقدور بھر ہماری خدمت کی- وضو کےلیے ایک کوزہ پانی مہیّا کر دینا ہی اس کا بہت بڑا احسان تھا- اس کی بیٹی صغریٰ نے ہمارے لئے بھینس کے نومولود دودھ کی بوہلی بنائ جسے کھا کر میں نے بمشکل اپنی ابکائ روکی-
نماز عصر ہم نے ان کے کچّے تھڑے پر ہی ادا کی-
شاہ صاحب نے سلام پھیر کر دعا کےلئے ہاتھ اٹھائے تو وریام بولا:
" مولوی صاب... ساڈے واسطے وی دوعا شُوعا چاء کرو....سانوں تے پیدا کر کے سائیں بھُل ای گیا اے"
شاہ صاحب نے کہا " تُسّی سائیں نوں کِنّاں یاد کیتا ؟ "
وریام شرمندگی سے بولا " ساڈے کول تے انّاں ویل نئیں .... لیکن رب سائیں تے ویہلا بیٹھا "
میں نے سوچا شاہ صاحب ابھی اس گستاخ کی مٹّی پلیت کریں گے لیکن وہ خاموشی سے دعا کرتے رہے-
نماز کے بعد شاہ صاحب وریام کو ساتھ لیکر زمین کے مشاہدے کےلیے نکلے- وہ جگہ جگہ رک کر تھوڑی سی مٹّی اٹھاتے ، اسے سونگھتے اور پھینک دیتے- ایک جگہ جا کر وہ رک گئے-
" ایس جگہ تے پانی بہت قریب اے .... تُسّی پنج ست بندے بلاؤ .... تے فوراً کھدائ شروع کراؤ" شاہ صاحب نے کہا-
نصف گھنٹے کے اندر اندر کھدائ شروع ہو گئ- شاہ صاحب نے ادھر ہی قیّام فرمایا- سورج ڈوبنے سے پہلے ہی پندرہ فٹ گہرا کنواں کھودا جا چکّا تھا- اور گیلی ریت پانی کا مژدہ سنا رہی تھی- مغرب کی اذان کے ساتھ پانی نکل آیا-
سب اسے شاہ صاحب کی کرامت قرار دے رہے تھے-
وریام رسّی لے آیا اور شعبان نے ڈول کا بندوبست کیا- پہلا ڈول نکالا گیا تو شاہ صاحب نے سب کو وضو کا طریقہ سکھایا- پھر نماز کا سبق دیا- اتنا جلدی کس کو نماز یاد ہونا تھی لوگ شاہ صاب کے پیچھے مقدور بھر اٹھک بیٹھک کرتے رہے-
نماز کے بعد شاہ صاحب نے کہا " رب اپنی مخلوق نوں کدی نئیں بُھلدا ..... لیکن رب زمین تے آکے تہانوں کھوہ نئیں کھٹ کے دینا .... رب نے تہانوں ہتھ پیر تے دماغ دتّا اے .... انہاں نوں استعمال کرو .... ہتھ تے ہتھ رکھ کے بیٹھو گے تے خالی ہتھ ہی رہو گے"
رات کو کھلے آسمان تلے چارپائیاں بچھادی گئیں- بیچ میں آگ جلا کر سردی سے بچنے کا انتظام بھی کیا گیا- وریام ، شعبان ،گاما، سُکھبیر، رنجیت ، جیندو، شُدَلّی اور بھانا سب بستر اٹھائے چلے آئے-
سُکھبیر نے کہا " شاہ صاحب....اے مُسلیاں دا کھوہ اے ... سکھّاں لئی وی اک کھوہ کھٹوا دیو"
شاہ صاحب نے کہا " سُکھبیر ...کھوہ نہ مسلمان ہُندا اے نہ سِکھ...کھوہ ہمیشہ کھوہ ای ہندا اے- پیار نال ورتو گے تے آباد رہے گا.....لڑو گے تے سُک جائے گا....
سیج وسدے جیڈ نہ بھلا کوئ
برا کم نہ ہور فتور جیہا
غُصّے جیڈ ناہیں کوئ چیز کوڑی
مٹھا یار دے لب دے بور جیہا
امن جیسی کوئ بھلائ نہیں اور فساد جیسی کوئ برائ نہیں- غصّے جیسی کوئ کڑواہٹ نہیں اور میٹھے بول جیسی کوئ مٹھاس نہیں-
ٹھینگ والوں نے فجر کی نماز بھی شاہ صاحب کی اقتداء میں ادا کی-
نماز کے بعد شاہ صاحب نے اعلان کیا:
"میں وریام دی دھی صُغرٰی دا رشتہ شعبان دے پتّر اچھّو نال کر دتّا اے....سب دعا خیر پڑھو " اس کے ساتھ ہی شاہ صاحب نے دعا کےلئے ہاتھ اٹھا دیے-
میں اگر رات کو سب کچھ سن نہ لیتا تو شاہ صاحب کے اس اچانک فیصلے پر ضرور حیران ہوتا- صبح جب سب سو رہے تھے تو شعبان نے سیّد صاحب کو تہجّد میں جا پکڑا- اس نے روتے ہوئے انہیں بتایا کہ اس کا اکلوتا پتّر اچھّو اور وریام کی بیٹی صغرٰی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں جبکہ صغرٰی کا باپ ضد پر اڑا ہے- وہ دھی کا ساک شُدَلّی مُسلّی کو دیکر بدلے میں ایک بھینس لینا چاھتا ہے-
ٹھینگ والوں کے دل شاہ صاحب کی مٹّھی میں آ چکے تھے- کس کی مجال تھی کہ ان کے فیصلے کی سرتابی کرتا-
یہ لوگ دلوں پر حکومت کرتے تھے- ہم کافر ، منافق ، ملحد کہ کر پہلے خصم کا دل توڑتے ہیں- پھر اسکے سامنے اپنا مذہب پیش کرتے ہیں-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers