سائبر بل کی منظوری کے بعدعام افراد کے لئے سائبر جرائم اور ان کی سزاؤں کا جاننا بے حد ضروری ہے۔
1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
7) جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
8) سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
10) الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
15)بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
17)کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔.
20)سپامنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
.
21) سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
یہ شاید ہمیں مذاق سا لگ رہا ہو،،،،،،؛
لیکن کوئی اس کی لپیٹ میں آیا،،،،
تو خود اک مذاق بن جائے گا،،،،!
خود بهی محتاط رہیں دوسروں کو بهی محتاط رہنے کی تلقین کریں،

1 فروری --- 1953ء
پورا ملک علماء کی ولولہ انگیز تقاریر سے گونج اٹھّا-
کراچی تا خیبر تحریک کی بازگشت سنائ دینے لگی- اس طوفان بلاخیز کا مقابلہ کرنے کےلئے مرزائیوں نے شہر شہر سیرت کانفرنسوں کا انعقاد کیا لیکن عوامی غیض و غضب نے یہ جعلی دکانیں الٹ کر رکھ دیں-
میں اور چاند پوری ، پاؤں میں بھنور باندھے شہر شہر گھوم رہے تھے-
صبح آٹھ بجے ہم چک ڈگیاں پہنچے جہاں ساٹھ ہزار کے مجمع سے خلیفہ کا خطاب جاری تھا- خطاب کیا تھا ، اونچے درجے کا سیلاب تھا !!!

" سُن لو ----- کان کھول کے سُن لو ----- !!!
اُن کا خُدا اور ہے ----- ہمارا خدا اور ہے ----- !!!
ان کا اسلام اور ہے ------ ہمارا اسلام اور ہے ------ !!!!
ان کا رسول اور ہے ------- ہمارا رسول اور ہے -------!!!!
ان کا حج اور ہے ------- ہمارا حج اور ہے ---------------!!!!
ہر بات میں ہمیں ان سے اختلاف ہے ----- ہر عمل میں اختلاف ہے ----- ہر چیز میں اختلاف ہے ----- !!!! "

نعرہء ہائے تکبیر سے ربوہ گونج رہا تھا-
خلیفہ ایک سو بیس کی رفتار سے تقریر کر رہے تھے ، اور چاند پوُری دو سو بیس کی رفتار سے مسلسل نوٹس لئے جا رہے تھے- میں نےکچھوے کی رفتار سے ان دونوں کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا- کبھی دو لفظ لکھتا ، پھر کاٹ کے چاند پوری کی نقل مارنے لگتا- پھر تھوک سے مٹانے لگتا- سوچا کیوں نہ موبائل پر ریکارڈنگ کی جائے- جیب سے موبائل نکالا تو اسے پھپھوندی لگ چکی تھی-

" احمدیوں کی غیر احمدیوں سے قوم جُدا ------ نسل جُدا ------ گوت جُدا ------ ملّت جُدا ------ !!!
خُدا کی قسم ----- !!! ہمارے اور ان کے درمیان وہی فرق ہے جو ہندو اور مسلمان میں تھا ----!!!! "
نعرہء تکبیر ...... اللہ اکبر !!!!!!

میں نے کہا " آج تو چائے سے زیادہ کیتل گرم ہے "
" گیلی لکڑیوں کی آگ ہے .... اثر تو دکھائے گی !!! " چاند پوری مسلسل قلم چلاتے ہوئے بولے-

" مبارک ہو ------ مبارک ہو ------ مبارک ہو ------ عالمِ رویا سے ایک اور چٹّھی آئ ہے ---- !!! "
چاند پوری مجھے کہنی مار کر بولے " لو جی پھر آمد ہو گئ !!! "
" حضرات ...... میں نے ایک گائے دیکھی ------ !!!
گائے ، جس کی لمبائ شرق تا غرب پھیلی ہوئ تھی ------ !!!
جس کے سینگ بادلوں سے اونچے تھے -------!!!
میں اس گائے پر سوار ہوا ------- وہ چلتی گئ ----- چلتی گئ ----- چلتی گئ ----- یہاں تک کہ دلّی پہنچ گئ ----- !!!"

" گائے ہو ، بھینس ہو ، بکری ہو ، کھوتی ہو ... جائے گی سیدھا دلّی" چاند پوری نے تبصرہ کیا-
" سُنو ------ سنو ------ سُنو ----- تعبیر بھی سُنتے جاؤ ----- !!!! " خلیفہ نے پانی پی کر دوبارہ اسٹارٹ پکڑا-
" پاکستان بنانا ہماری مجبوری تھی ------ تاکہ خدا کا تخت بچایا جا سکے ------- لیکن اب یہ تخت ہم سے چھینا جا رہا ہے ------ اور یہ مقدس سرزمین خونی ملاؤں کے قبضے میں دی جا رہی ہے ------ !!!
یاد رکھو ----- !!! مسیحِ موعود کی سرزمین ----- اگر احمدیوں پر تنگ ہوئ تو دوبارہ اکھنڈ بھارت بنے گا ----- !!! "
نعرہء تکبیر .......... !!!!
فلک شگاف نعروں سے چنیوٹ کی پہاڑیاں لرز اٹھیں !!!

" اُٹھو .... چلتے ہیں .... کل یہی اکھنڈ بھارت والی ھیڈ لائن لگائیں گے .... شاید حکومت کی عقل ٹھکانے آ جائے "
"حکومت "ڈان " اور "سول" پڑھتی ہے .... افلاک صرف عوام پڑھتے ہیں " میں نے اٹھتے ہوئے کہا-
ہم وہاں سے لاہور کےلئے روانہ ہوئے- عصر کی نماز ہم نے جامع مسجد شیرانوالا میں پڑھی-
یہاں بھی ایک خلقِ کثیر جمع تھی-
نماز کے بعد شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رح کا خطاب شروع ہوا-

" پاکستان کے غیرت مند حکمرانوں ----- !!!
خون کے دریا بہا کر پاکستان بنانے والو ------!!!
تُم تو کہا کرتے تھے یہاں اسلام نافذ ہوگا --------!!!
شریعتِ محمّدی ﷺ کا نفاذ ہوگا ..... !!!
کیا پاکستان اس لئے بنایا تھا کہ اسے مرزائستان بنا دیا جائے ------ ؟؟؟
اس میں شریعتِ غُلام احمدی کا کھوٹا سکّہ چلایا جائے ------- ؟؟
کیا خواجہ ناظم الدین مرزائیّت کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں -------؟؟
کیا گورنر غلام محمد پاکستان کا مفتئ اعظم ہے --------؟؟
جب یہ لوگ عالم دین نہیں ہیں ، مفتی نہیں ہیں تو مرزائیت کے متعلق ہم ان کا فیصلہ کیوں مانیں ------ !!! "

حضرتِ شیخ التفسیر کا تعلق گوجرانوالہ کے ایک صوفی گھرانے سے تھا - آپ کے والد گرامی شیخ حبیب اللہ سلسلہء چشت سے بیعت تھے- آپ مولانا عبیداللہ سندھی رح کے شاگرد تھے اور زندگی بھر انگریزی استعمار سے نبرد آزماء رہے- برٹش راج کے دوران قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے-
" خُدا کا شُکر ادا کرو ------- اگر علمائے دین نہ ہوتے ------ اگر صوفیاء نہ ہوتے ----- اگر فقہا نہ ہوتے ----- تو آج سارا پنجاب مُرتد ہو چُکا ہوتا ------ انگریز دور سے آج تک علماء چٹان بن کر اس فتنے کے سامنے کھڑے ہیں ------ ان بزرگوں کی وجہ سے آج ہمارے ایمان سلامت ہیں ------- میری بات لکھ کے لے جاؤ ------- اگر ان حکمرانوں نے مسلمانوں کے مطالبات نہ مانے تو ایک برے انجام سے دوچار ہونگے ------ مستقبل کا مؤرخ ------ جب بھی پاکستان کی تاریخ لکھّے گا -----
ان حکمرانوں پر لعنت بھیجے گا -----!!!!"

مغرب کے بعد ہم موچی گیٹ پہنچے جہاں مخدومِ اہلسنّت جناب شیخ عبدالغفور ہزاروی چشتی خطاب فرما رہے تھے :
" عزیزانِ وطن ------ !!!
تقریروں کا وقت بیت گیا ------ اب عمل کا وقت ہے ---- !!!
بہت صبر کر لیا اس قوم نے ------ !!!
پانچ برس ہو گئے اس ملک کو وجود میں آئے ہوئے ----- پانچ برس ----!!!!
اور آج تک ایک ہی تماشا چلتا رہا ------ !!!
چند پیٹ یہاں کا سارا آٹا کھاتے رہے ------- مسلمان چُپ رہا ------- !!!
غریب ایک ایک دانے کو ترس کر رہ گیا -------- مسلمان صبر کرتا رہا ----- !!!
تُم نے کاروباری سرگرمیاں معطل کیں ----- ہم کچھ نہ بولے ----- !!!
تم دستوری سفارشات لے کر آئے ------- ہم دیکھتے رہ گئے ---------!!!!
ارے یہ کیسا دستور لے ہو ------ ؟؟؟
نبی ﷺ کی جوتیوں کے صدقے ملا تھا تمہیں پاکستان ----- اور آج اسی پاکستان کے دستور میں نبی ﷺ کی شخصیّت ہی محفوظ نہیں ------- ؟؟؟ ناموسِ رسالت محفوظ نہیں ------ ؟؟؟ ختمِ نبوّت محفوظ نہیں ------؟؟؟ یہ ہے تمہارا دستور ------؟؟
ایک اسلامی ملک کا دستور ایسا ہوتا ہے ------- ؟؟؟؟
تم نے غریب سے روٹی چھینی ------ اس کی چھت چھینی ------- اس کا آرام و سکون چھینا ----- اور اب منصبِ رسالت پر ڈاکہ مارنے چلے ہو -------- ؟؟؟
خواجہ ناظم الدین صاحب !!!!
یہ عہدے ------ یہ وزارتیں ------ یہ گدیاں ----- تمہیں مبارک ہوں ------!!!
ہمیں ہمارے نبی ﷺ کی ناموس رسالت لوٹا دو ------- !!!
تحفّظ ختم نبوّت کا قانون بنا کر ہمیں دے دو ------!!!!
اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو نتائج کی تمام تر ذمہ داری تمہارے سر پر ہوگی ------!!!! "
صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگالی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا‘
مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘۔
بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔
آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہوگا۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا۔ لوگوں نے کہا’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘۔ گامے نے جواب دیا ’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘۔
قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا۔ ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا ۔آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے.
قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا۔
ان کی دوسری کامیابی خارش تھی۔ انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔ بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا۔ یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے۔ بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی۔
بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا۔
دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے.
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ شائد قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں؟
اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے۔
ایک بار ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ’’یارسول اللہ ﷺآپ مجھے زندگی کو پر سکون اور خوبصورت بنانے کاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘
آپﷺ نے فرمایا ’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔
اول وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں۔
دوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں.
سوم وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘
آپﷺ نے فرمایا ’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘۔ غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔
برداشت دنیا کی سب سے بڑی اینٹی بائیوٹک اور دنیا کا سب سے بڑا ملٹی وٹامن ہے۔ آپ اپنے اندر صرف برداشت کی قوت پیدا کر لیں تو آپ کو ایمان کے سوا کسی دوسری طاقت کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ انسان اکثر اوقات ایک گالی برداشت کر کے سینکڑوں ہزاروں گالیوں سے بچ سکتا ہے اور ایک بری نظر کو اگنور کر کے دنیا بھر کی غلیظ نظروں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
آج کے بعد آپ کو جب بھی غصہ آئے تو فوراً اپنے ذہن میں اللہ کے رسول ﷺ کے یہ الفاظ لے آئیے۔ آپﷺ نے فرمایا تھا ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘ مجھے یقین ہے اللہ کے رسولﷺ کے یہ الفاظ آپ کی قوت برداشت میں اضافہ فرما دیں گے۔
ملاّ دو پیازہ کا اصل نام ابوالحسن بن ابو المحاسن بن ابو المکارم تھا۔ مکّہ معظمہ کے قریب شہر طائف میں (عرب)میں 1540؁ کو پیدا ہوئے۔فطری طور پر ہنسوڑ اور ظریف تھے۔ ہنسنا ہنسانا عادت ثانیہ تھی۔ اس کے والد اس کی سوتیلی ماں سے لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل گئےتو یہ اپنے والد کی تلاش میں نکلےاور قافلہ در قافلہ پھرنے لگے۔آخرکار ایک ایرانی قافلے کے ہمراہ ایران پہنچے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نصیر الدین ہمایوں،شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر امداد لینے ایران آیا ہوا تھا۔ہمایوں کے سپہ سالار بخش اللہ خان اور ایرانی سپہ سالار اکبر علی کی آپس میں گہری دوستی ہو گئی تھی۔ابو الحسن کی خوش مزاجی ، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی نے سپہ سالار بخش اللہ خان کو بے حد متاثر کیا۔اس نے سپہ سالار اکبر علی سے ابوالحسن کو بطور یادگار مانگ لیا۔شو مئی قسمت ابو الحسن کا مربی سپہ سالار بخش اللہ خان کابل کے ایک محاصرے میں مارا گیا، اور ابو الحسن فوج کے ہمراہ ہندوستان پہنچا۔1556؁میں ماچھی واڑے کی لڑائی کے بعد ابو الحسن دہلی آ کر رہنے لگا۔ اس وقت ابو الحسن کی عمر 15،16 برس تھی مگر علم خاصا تھا۔ابو الحسن نے دنیا سے بیزار ہو کر شمس الامراء محمد خان لودھی کی مسجد میں ٹھکانا کر لیا۔علم کے اظہار اور خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا وصف بھی تھا، لہٰذا سب ابو الحسن کو ملاّ جی ، ملاّ جی کہنے لگے۔رفتہ رفتہ ان کی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی نے شہر بھر میں دھوم مچا دی۔ایک روز ملاّ جی ایک امیر کے ہاں دعوت پر گئے،وہاں ان کو ایک قسم کا پلاؤ بہت پسند آیاجو شخص ان کے برابر میں دسترخوان پر بیٹھا تھا اس سے دریافت کیا کہ اس کھانے کا نام کیا ہے؟جواب ملا اسے دو پیازہ پلاؤ کہتے ہیں،کہ اس میں پکاتے وقت دو بار پیاز ڈالی جاتی ہے۔ ملاّ جی اس نام سے بہت خوش ہوئےاور یاد کر لیا، بلکہ عہد کر لیا کہ جب تک دوپیازہ پلاؤ دسترخوان پر نہ ہوگا وہ کسی کی ضیافت قبول نہ کریں گے۔
ملاّ جی کی یہ معصوم اور البیلی ادا بھی لوگوں کو بہت پسند آئی، پس لوگوں نے ملاّ جی کی دو پیازہ پلاؤ سے یہ رغبت دیکھ کر ان کا نام ہی ملاّ دو پیازہ رکھ دیا اور یہی نام وجۂ شہرت بنا، اور اصل نام ابو الحسن بس پردہ رہ گیا۔علامہ ابو الفیضی(ثم فیاضی)اور علامہ ابو الفضل دونو بھائی ہی ملاّ دوپیازہ کے ہم جلیس اور مداح تھے۔علامہ فیضی اور ملاّ دوپیازہ کی دوستی تو یہاں تک بڑھی کہ علامہ فیضی نے عبادت خانہ الہٰی کا انتظام و انصرام ملاّ دوپیازہ کے سپرد کر دیا،اور شہنشاہ اکبر تک ان کو پہنچا دیا۔یوں قدرت نے انہیں ان کے صحیح مقام پر لا کھڑا کیا۔ ملاّ دوپیازہ کی ظرافت دربار میں پھلجھڑی چھوڑتی، باہر کا رخ کرتی تو کیا امیر کیا غریب سبھی سے خراج وصول کرتی۔ابو الحسن عرف ملاّ دوپیازہ نے 60 برس کی عمر پائی۔مغل اعظم احمد نگر کے محاصرے سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ملاّ دوپیازہ بیمار پڑ گئے، اور مہینہ بھر بیماری کاٹ کر 1600؁میں قصبہ ہنڈیا میں انتقال کرگئے، چنانچہ کسی ظریف نے اسی وقت کہا کہ”واہ بھئی! ملاّ دوپیازے۔مر کے بھی ہنڈیا کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ملاّ دوپیازہ اور لالا بیربل کے چٹکلوں سے مہابلی اکبر کا من خوب بہلتا تھا، سو ملا جی کی وفات پر اکبر کئی دن تک غمگین رہا۔
ایرانی رجیم کو پوری دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا حامی اور پشت پناہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایرانی رجیم دنیا بھر میں بالخصوص خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں ملوث رہی ہے۔ خطے کی اقوام اور یہاں کے باشندے ایرانی دہشت گردی کا برسوں سے سامنا کررہے ہیں۔
بیرون ملک دہشت گردی کے فروغ کے لیے ایران نے کئی ایسے گروپ پال رکھے ہیں جو تہران سرکار کے اشاروں پر دہشت گردی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ،سعودی عرب اور خلیجی ملکوں میں "حزب اللہ الحجاز"، عصائب اھل الحق، عراق میں درجنوں فرقہ پرست ملیشیاؤں کا قیام، یمن میں حوثی گروپ ایران کے پروردہ تنظیمیں ہیں جو تہران کے اشاروں پر ان ممالک میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ بھی نہ صرف تعاون کیا بلکہ القاعدہ رہ نماؤں اور جنگجوؤں کو اپنے ہاں پناہ دی اورانہیں ایرانی سرزمین دہشت گردی کے  لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

25 جنوری 1953ء ... گورنمنٹ ہاؤس لاہور !!!
اسٹیورڈ نے سر پر لمبے طُرّے والی پگڑ پہنی اور خود کو آئینے میں اچھّی طرح دیکھا-
اس کے بعد وہ بار ٹرالی دھکیلتا گورنر ہاؤس کے خُفیہ میٹنگ روم میں داخل ہو گیا-
یہاں اسٹیبلشمنٹ سر جوڑے بیٹھی تھی-
کمرے میں سگریٹ اور ولائتی شراب کی مہک پھیلی ہوئ تھی- ایک بڑا سا ایگزاسٹ فین ماحول کی حبس دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا-
" دیکھو.... کیا ہے یہ ؟؟" گورنر جنرل غلام محمد نے ایک اخبار لہراتے ہوئے کہا-
" اخبار ہے سر.... " ایک مُچھّل وردی پوش بولا-
" فردوس شاہ .... مُجھے بھی پتا ہے اخبار ہے .... اس پر کُچھ لکھّا ہوا بھی ہے .... پڑھو اسے"
" یس سر !!!" ڈی ایس پی فردوس شاہ بیلٹ درست کرتا ہوا اُٹھا اور گورنر کے پاس جاکر اخبار میں جھانکنے لگا:
"امریکہ سے ایک لاکھ پچھتّر ہزار ٹن گندم کی کھیپ ......"
" او نالائق آدمی .... یہ نہیں .... یہ پڑھو " باس نے ایک چوکٹّھے پر انگلی دھر دی-
" سر ...سر ...سر...." فردوس شاہ اخبار پر پورا جھُک گیا:
" پچیس .... دِن .... باقی ہیں ... "
" کچھ آیا سمجھ شریف میں ؟" گورنر نے سگار کا دھواں چھوڑتے ہوئے کہا-
"یس سر .... پچیس دن باقی ہیں"
" کس چیز میں ؟" گورنر نے پوچھا
" امریکہ سے گندم آنے میں !!! "
" ہمیشہ پیٹ سے سوچتے ہو فردوس شاہ !!! سوال چنّا جواب گندم .... یہ الٹی میٹم کی خبر ہے"
"الٹی میٹم ؟؟ "
"ہاں الٹی میٹم .... اگر پولیس کی یہ حالت ہے تو باقی ادارے کس حال مں ہونگے .... بیٹھو " گورنر نے ڈانٹتے ہوئے کہا-
" یس سر ... یس سر " ڈی ایس پی واپس کرسی ہر جا بیٹھا"
"مولویوں کی ایک تحریک چل رہی ہے آجکل .... کچھ علم ہے اس بارے میں" گورنر نے کہا-
"یس سر .... اینٹی احمدی موومنٹ "
"جی ہاں .... اور اس تحریک نے ایک الٹی میٹم دے رکھّا ہے .... تیس دن کا الٹی میٹم .... جس میں پچیس دن باقی ہیں .... زمیندار میں روزانہ یہ چوکٹّھا چھُپتا ہے ..... دیکھا ہے کبھی زمیندار ؟؟"
" نو سر ..... " فردوس شاہ نے معصومیت سے کہا-
" اسی لئے تم نے ابھی تک ترقّی نہیں کی !!! "
" آج کی یہ میٹنگ انتہائ غیر معمولی حالات مں بلائ گئ ہے .... مولویوں کی اس تحریک کو طاقت سے کُچلنا ہے .... نو تھرڈ آپشن .... تاکہ یہ لوگ دوبارہ اکٹھے نہ ہو سکیں ..."
اسٹیورڈ گلاسوں میں شراب انڈیلنے لگا-
" لیکن فی الحال تو وہ لوگ پرامن ہیں سر ، انتظامیہ سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں" ڈی آئ جی نے کہا-
" ڈی آئ جی صاحب .... لگتا ہے آپ کو پروموشن سے کچھ لگاؤ نہیں ؟؟"
"یس سررر .... نو سر .... آئ وانٹ پروموشن سر " ڈی آئ جی بوکھلا گیا-
" مُلا جب مسیت سے نکل کر سڑک پر آ جائے تو ریاست کے پاس دو ہی رستے بچتے ہیں .... یا تو سفید ٹوپی اوڑھ کر اللہ اللہ شروع کردے یا پھر ڈٹ کر مقابلہ کرے .... نو تھرڈ آپشن !!!
" یس سر .... یس سر !!!" ڈی آئ جی نے ڈائری میں نوٹس لیتے ہوئے کہا-
" مولوی مسیت سے نکل چکا ہے .... اب جو کچھ کرنا ہے ریاست نے کرنا ہے .... اب وہ صرف تقریریں نہیں کرے گا .... ایجیٹیشن کرے گا .... گرفتاریاں دے گا .... اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھائے گا .... "
" یس سر .....یس سر .... "
ان لوگوں کو پہلے خوب برانگیختہ کرو .... تشدّد پر اکساؤ .... پھر تشدّد کرو .... یہ ہے اصل طریقہ !!!"
"یس سر ... انڈراسٹینڈ سر !!!! "
" آپ کو اڑھائ سو رضاکار مل جائیں گے .... احمدی کمیونٹی سے ... " گورنر نے جام بھرتے ہوئے کہا-
" یس سر .... !!! "
" یاد رکھّو .... اگر ایک بار بھی .... اس مُلک میں .... مولوی قابض ہو گیا .... تو شراب کے ایک ایک قطرے کو ترس جاؤ گے تم لوگ .... تمہارے یہ سب رنڈی خانے ویران ہو جائیں گے .... یہ چہل پہل سب برباد ہو جائے گی .... بڑی مشکل سے ایک آزاد ریاست حاصل کی ہے .... جہاں شرفاء آزادی کا سانس لے سکیں .... اور یہ مولوی ...... پہلے پارٹیشن کی مخالفت میں کھڑا تھا .... اب آزاد ملک کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے ...."
"سر میں تو کہتا ہوں کل ہی سب کو اریسٹ کر کے اندر کر دیں .... نہ رہے گا بانس ، نہ رہے گی بنسری" چیف سیکرٹری نے کہا-
" معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے چیف سیکرٹری صاحب .... پبلک کو مطمئن کرنا پڑتا ہے .... جنہیں اسلام کا نعرہ دیکر ہم نے یہ ملک بنایا .... امتِ مسلمہ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے .... جن سے اسلام کے نام پر ہم امداد وصول کر رہے ہیں ... ریاست کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں ...."
" میں آج ہی جوانوں کو الرٹ کر دیتا ہوں سر !!! " ڈی آئ جی نے کہا
" دیکھو ...... پہلے تھوڑا بلوہ کراؤ .... دوچار لاشیں گراؤ .... عوام خود ان کے خلاف ہو جائے گی .... اس کے بعد ہم انہیں فوجداری مقدمات میں باندھ لیں گے .... یوں سانپ بھی مر جائے گا .... اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی "
" بے فجر رہیں سر .... موقع ملتے ہی ہم مظاہرین پر ٹوٹ پڑیں گے "
" یاد رکھو !!!! یہی پہلا اور آخری موقع ہے .... اگر آج مولوی بچ گیا تو یہ اور طاقتور ہوگا ... ڈرو اس وقت سے جب یہی مولوی تمہارے سرپر سوار ہو کر تمہارے مونہہ سونگھ رہا ہوگا .... تم سے نکاح نامے طلب کر رہا ہوگا .... فحاشی فحاشی کا راگ الاپ رہا ہوگا .... اگر ملک کو ترقّی دینی ہے تو اس تحریک کا وہ حشر کرو .... کہ آئیندہ سو سال تک یہ لوگ اُٹھ نہ سکیں ...."
" لیکن سر .... اتنے بڑے ایجی ٹیشن کو روکنا اکیلے پولیس کا بس نہیں .... اگر ملٹری ایڈ میسر ہو جائے ... "
" ہم کوشش کر رہے ہیں .... بارڈر پولیس منگوانے کی .... خان بہادر سے رابطہ ہے میرا .... مسجد شہید گنج تحریک میں اس نے بہترین کارکردگی دکھائ تھی .... اسے مولوی کو مارنے کا پرانا تجربہ ہے .... "
"ٹھیک ہے سر !!!"
" ایڈیٹر حضرات .... آپ کو یہاں بلانے کا مقصد یہ ہے کہ " ڈان" اینڈ " سول" اخبارات کا کردار بہت اہم ہے .... اس آگ پر اتنا تیل چھڑکو کہ شُعلے آسمانوں کو چھونے لگیں .... تاکہ ہمیں گولی چلانے کا لاجک مل سکے .... دِس از اے وار اگینسٹ اسٹیٹ !!!"
"یس سر .... یس سر !!!"

کوئٹہ سے ایک سو تیرہ کلو میٹر دور ایک پہاڑی سلسلہ ہے جسے خواجہ عمران کا پہاڑی سلسلہ کہا جاتا ہے اس پہاڑی سلسلے میں شانزلہ اور شیلا باغ کے درمیان دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل ہے جسے کوجک ٹننل کہتے ہیں اس ٹنل کی تعمیر ،یہ ٹنل 14 اپریل 1888کو تعمیر ہونا شروع ہوئی یہ پانچ کلو میٹر لمبی ہے اور اس کی تعمیر میں لگ بھگ آٹھ سو مزدور ہلاک ہوئے اور ان میں سے اکثر وہیں آس پاس دفن ہو گئے اس ٹنل میں ایک کروڑ ستانوے لاکھ چوبیس ہزار چار سو چھبیس اینٹیں لگی ہیں مزدور وں کی اول صف کھدائی کرتی جاتی جبکہ پچھلی اینٹیں لگاتی اور ان سے پیچھلی صف پٹٹڑی بچھاتی جاتی ،بھاری مشینری کا وجود نہ ہونے کی وجہ سے کھدائی کا سارا کام انسانی ہاتھوں سے ہوتا،اس ٹنل کی تعمیر کے لیے 80 ٹن پانی روزانہ کی بنیاد پہ صرف ہوتا، دن اور رات کو کام کرنے کے لیے چھ ہزار پانچ سو چورانوے چراغ جلتے جو پوری ٹنل کو اندر سے روشن رکھتے،مزدوروں کی ریفریشمنٹ کے لیے آج کے انڈیا کے علاقے سے مشہور زمانہ رقاصہ شیلا منگوائی گئی جو رات کو رقص کرتی اور دن کے تھکے ماندے مزدوروں کی تفریح کا کچھ سامان پیدا کیا جاتا،اب آئیے اس دلچسپ و عجیب ٹنل کے سب سے مزیدار پہلو کی طرف ،اس ٹنل کے انجنئیرجس نے اس کا سروے کیا اس کے مطابق اگر پہاڑ کے دونوں طرف سے اس ٹنل کی کھدائی کی جائے تو 3 سال 4ماہ اور21 روز بعد دونوں طرف سے کھدائی کرنے والے مزدور ایک دوسرے سے آ ملیں گے،کام شروع ہوا اور بڑی ہمت بہادری اور دلیری سے جاری رہا،مزدور دن کو کام کرتے رات کو پہاڑ کی چوٹی پر شیلا رقص کر کے مزدوروں کا دل بہلاتی،کچھ تھک کر وہیں سو جاتے اور اگلی صبح اٹھ کر وہیں سے دوبارہ کام میں جت جاتے،5 ستمبر 1891 کو انجنیئر کے لگائے اور بتائے گئے تخمینے کے مطابق اس ٹنل نے مکمل ہوناتھامقررہ تاریخ نزدیک سے نزدیک آتی جا رہی تھی اور سرا نہیں مل رہا تھا اور چند لوگوں نے افواہیںاڑانا شروع کر دیں کہ مزدور راستہ بھول کر راستے سے ہٹ گئے ہیں انجنئیر نے غلط سروے کیا ناقص منصوبہ بندی تھی کروڑوں ڈوب جائیں گے،مگر انجنئیر پر امید تھا لیکن دل میں کہیں یہ خیال بھی راسخ ہو چکا تھا اس کے کہ اگر واقعی ایسا ہو گیا تو،،،،اور ایک دن واقعی مقررہ تاریخ آگئی آج دونوں طف آنیوالی اور بچھائی جانیوالی پٹڑ ی کے آخری بولٹ لگنے تھے دن بارہ بجے تک ٹنل کے اندر سے کوئی خبر نہ آئی ساری رات بے چینی سے ٹہلتا انجنیئراب بھی ٹہل رہا تھا،اسے لگاآج اس کا علم اسے دھوکا دے گیا،آج اس کا سب سے بڑا خواب پورا ہونے کی بجائے ریزہ ریزہ ہو رہا تھاانجنیئر چپکے سے اٹھا اور پہاڑی کے اوپر اس مقام پر جا پہنچا جہاں پر رات کو شیلا رقص کرتی تھی،وہاں پہنچ کے رکا چند لمحے ٹنل کے دھانے پر نظر ڈالی اور پہاڑی کی چوٹی سے گہری کھائی میں چھلانگ لگا دی ،اور تقریبا! عین اسی وقت دونوں طرف سے کھدائی کرتے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے مزوروں کے درمیان ریت کی آخری دیوار بھی گر گئی،دنیا کی سب سے بڑی خوجک ٹننل مکمل ہو گئی دو نوں طرف کے مزدوروں نے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے بعد اپنی اپنی مخالف سمت میں دوڑ لگا دی اور نعرے لگاتے چیختے چلاتے اڑھائی اڑھائی کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے ٹنل سے باہر نکلے دو نوں طرف جشن کا ساماں برپا ہو گیا،معاً کسی کو انجنیئرکا خیال آیااور جب تلاش کی گئی تو انجنیئرغائب،کافی دیر بعد کسی نے کھائی میںکسی انسانی باڈی کی نشاندہی کی اور جب دیکھا گیا تو وہ وہی انجنیئر تھا جس نے دنیا کی سب سے بڑی ٹنل کا سروے کیا اور اس کی فزیبلٹی تیا ر کی اور مقررہ مدت تک اپنی کمٹمنٹ پوری نہ ہونے کی صورت میں ندامت سے بچنے کے لیے پہاڑ کی چوٹی پر سے چھلانگ لگا دی،یہ اور اس جیسے کئی واقعات ملیں گے مگر تمام کے تمام گوروں کے ہاں،اگر آج کے پاکستان کے حکمران یا ذمہ داران ہوتے تو یقینناً درمیان میں ہی چھوڑ کر کس نئی طرف سے شروع کرا دیتے اور اگر پھر بھی کامیاب نہ ہوتے تو پہاڑ سے چھلانگ لگا نا تو دور کی بات آنکھیں تک نیچی نہ کرتے،اپنے ملک میں بڑی سے بڑی آفت اور مصیبت یا حادثے پہ ذمہ داران یوں بغلیں جھاڑ دیتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں،
پاکستان کے پہلے وزیراعظم "خان لیاقت علی خان"کی زندگی کے کچھ دلچسپ پہلو٭ خان صاحب کا تعلق بھارت کے ضلع كرنال سے تھا اور وہ اپنے علاقے کے سب سے بڑے جاگیردار اور نواب تھے۔ لیکن انہوں نے تقسیم ہند کے بعد نا صرف اپنی ساری زمین اور جائیداد چھوڑ دی بلکہ انہوں نے پاکستان آ کر اُس جائیداد کے عوض کوئی کلیم بھی جمع نہی کروایا، خان لیاقت علی خان کے پاس پاکستان میں ایک انچ زمین کوئی ذاتی بنک اکاؤنٹ اور کوئی کاروبار نہی تھا۔ خان صاحب کے پاس دو اچکن، تین پتلونیں، اور بوسکی کی ایک قمیض تھی اور اُن کی پتلونوں پر بھی پیوند لگے ہوتے تھے وہ اپنی پتلونوں کے پیوندوں کو ہمیشہ اپنی اچکن کے پیچھے چھپا لیتے تھے۔ 16 اکتوبر 1951 کو جب راولپنڈی میں خان لیاقت علی خان شہید ہوئے تو اُن کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لیجائی گئی تو دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نے اچکن کے نیچے نا صرف پھٹی ہوئی بنیان پہنی رکھی تھی بلکہ اُن کی جرابوں میں بھی بڑے بڑے سوراخ تھے۔ شہادت کے وقت نا صرف خان صاحب کا اکاؤنٹ خالی تھا بلکہ گھر میں کفن دفن کے لیے بھی کوئی رقم نہی تھی خان صاحب اپنے درزی حمید ٹیلر اور ایک کریانہ سٹور کے بھی مقروض تھے. بیگم رعنا لیاقت علی خان، خان صاحب کی بیگم نے خان صاحب کی شہادت کے بعد حکومت کو بتایا کہ حکومت نے وزیراعظم ہاوس کے لیے چینی کا کوٹہ طے کر رکھا تھا۔ یہ کوٹہ جب ختم ہو جاتا تھا تو وزیراعظم اور ان کی بیگم اُن کے بچوں اور اُن کے مہمانوں کو بھی چائے پھیکی پینا پرتی تھی۔ پچاس کی دہائی میں ایک بیوروکریٹس نے بیگم رعنا لیاقت علی خان سے پوچھا انسان ہمیشہ اپنے بیوی اور بچوں کے لیے کچھ نا کچھ ضرور جمع کرتا ہے، خان صاحب نے کیوں نہ کیا تھا۔ بیگم صاحبہ نے جواب دیا یہ سوال میں نے بھی ایک مرتبہ خان صاحب سے پوچھا تھا، لیکن خان صاحب نے جواب دیا تھا میں ایک نواب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے زندگی میں کبھی ایک لباس دوسری بار نہیں پہنا تھا۔ میرے خاندان نے مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں خانساماں، خادم اور ڈرائیور دے رکھا تھا۔ اور ہم لوگ کھانا کھاتے یا نہ کھاتے مگر ہمارے گھر میں پچاس سے سو لوگوں تک کا کھانا روز پکتا تھا، لیکن جب میں پاکستان کا وزیراعظم بنا تو میں نے اپنے آپ سے کہا لیاقت علی خان اب تمھیں نوابی یا وزارت عظمیٰ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا، اور میں نے اپنے لیے وزارت عظمی منتخب کر لی۔ بیگم صاحبہ کا کہنا تھا کہ خان صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں جب بھی اپنے لیے نیا کپڑا خریدنے لگتا ہوں تو میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کیا پاکستان کی ساری عوام کے پاس کپڑے ہیں ؟ میں جب اپنا مکان بنانے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کیا پاکستان کے سارے لوگ اپنے مکانوں میں رہ رہے ہیں ؟ اور جب میں اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ رقم جمع کرنے کے لیے سوچتا ہوں، تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کیا پاکستان کے تمام لوگوں کے بیوی بچوں کے پاس مناسب رقم موجود ہے؟ مجھے جب ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے تو میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ لیاقت علی خان ایک غریب ملک کے وزیراعظم کو نیا لباس، لمبا چوڑا دسترخوان اور ذاتی مکان زیب نہیں دیتى.
22 جنوری .... 1953ء .... کراچی
آج پھر گورنمنٹ ہاؤس کے سامنے رونق تھی-
مختلف اخباری نمائیندے ادھر ادھر سرگوشیاں کرتے پھرتے تھے-
بہت سی افواہیں گردش کر رہی تھیں-
ہم وزیرِ اعظم ہاؤس کے باہر کھڑے تھے-
" سنا ہے کہ مجلس عمل آج کوئ الٹی میٹم دینے والی ہے" ایک دبلے پتلے صحافی نے مجھ سے سرگوشی کی-
" دیکھئے 1952ء گزر چکا ..... ایک سال سے تحریک چل رہی ہے ..... ظاہر ہے مجلس عمل وزیراعظم صاحب کو پھولوں کا ٹوکرا دینے سے تو رہی .... الٹی میٹم ہی دے سکتی ہے !!!! "
" ویسے ایک بات تو ماننی ہی پڑے گی ...." وہ چشمہ درست کرتے ہوئے بولا- " مجلس کی تشکیل کے بعد خلیفہ نے پاکستان میں مرزائیت کا جھنڈا گاڑنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے "
" ظاہر ہے ... جب خلیفہ سوئے گا نہیں .... تو خواب کیسے دیکھے گا " میں نے جواب دیا-
"سنا ہے آج ایک بہت بڑی شخصیّت وزیرِ اعظم سے ملنے آ رہی ہے ؟ کون ہو سکتا ہے ؟ " وہ کچھ اور قریب ہو کر بولا-
" چاند پوری ...." میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-
"کون چاند پوری ؟ " وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگا-
" میرا مطلب ہے چاند پوری ہی اس سوال کا بہتر جواب دے سکتے ہیں ... وہ لکّی اسٹار تک گئے ہیں سموسے لینے"
"یہ دیکھئے ... الفضل میں اشتہار چھپا ہے .... خونی مُلاّ کے آخری دن " اس نے جیب سے ایک پرچہ نکال کر دکھایا-
" یہ کہاں سے ملا تمہیں ؟ "
" ایک مرزائ سے منگوایا ہے"
" مجھے دے دو .... اس میں سموسے ڈال کر کھائیں گے-
اتنے میں چاند پوری آ گئے-
" آج پیر صاحب آف سرسینہ شریف تشریف لا رہے ہیں .... " انہوں نے دور سے اعلان کیا- " بنگال کی ایک مقتدر مذھبی شخصیّت .... خواجہ ناظم الدین بھی بنگالی ہیں .... سو لوہے کو لوہا کاٹنے آ رہا ہے بھائ .... سموسہ لیجئے"
کچھ ہی دیر بعد علماء کا وفد بھی پہنچ گیا-
وفد اندر گیا تو اخباری نمائندگان بھی پیچھے پیچھے ہولئے-
وزیرِ اعظم وفد کے ہمراہ پیر صاحب کو دیکھ کر پریشان ہو گئے اور کہا:
" پیر ساب ؟؟ کیا بنگال تک مرزوئیت پونس گیا ؟؟"
" اگر آپ کی شفقت رہی تو مرزائیت کاشغر تک بھی پہنچے گی" پیر صاحب نے وزیرِ اعظم سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا-
" اللہ نہ کرے .... حکومت مجلس عمل کے مطالبات کی روسنی میں اہم اقدامات اٹھانے پر گور کر رہی اے"
" کون سے اقدامات وزیراعظم صاحب ...." ابوالحسنات بول پڑے- "ہم کئ بار آپ کے پاس آ چکے ہیں ... آپ کو بتا چکے ہیں کہ خدارا آفس سے نکل کر باہر دیکھئے .... ملک میں کیا ہو رہا ہے .... مرزائیت ملک کی رگ رگ میں بیٹھ چکی ہے .... سرظفراللہ کلیدی آسامیاں ریوڑیوں کی طرح قادیانیوں میں بانٹ رہے ہیں .... ہم آپ کے سامنے کئ بار احتجاج کر چکے .... فریاد کر چکے .... مگر آپ کہ جیسے سنتے ہی نہیں .... "
" دیکھئے .... ہم آپ کو بار بار بتا سُکا ہے کہ جفراللہ کو فی الفور ہٹانا ملکی مفاد میں نئیں ہے .... کیا بولے گا ؟ امریکہ سے گندم کا بات سَل ریا ہے .... مؤسئلہ کسمیر پر سلیوسن آنے والا ہے .... جفراللہ کو ہٹایا گیا تو پاکستان کو نقصان ہوئے گا ... کیا بولے گا ؟" وزیرِ اعظم نے کہا-
"لیکن اگر آپ نے سرظفراللہ کو برخواست نہ کیا توملک پر اس سے بھی بڑی آفت آئے گی" وفد نے کہا-
" وہ کائیسے ؟؟ "
" حُضور امتِ مرزائیہ کی تار ربوے سے ہلائ جاتی ہے .... کل کلاں ملک پر کوئ کڑا وقت آگیا تو بطور وزیرِ اعظم آپ کی کوئ نہیں سُنے گا .... سب ربوہ کے خلیفہ کی طرف دیکھیں گے "
" دیکھو .... یہ ایک دم فجول بات ہے .... مجوسی مت پھیلائیے" وزیرِ اعظم نے کہا-
" حُضور ہم کاہے کو مایوسی پھیلائیں گے ... ابھی کل ہی کا واقعہ ہے .... آپ کی راجدھانی میں مرزائیوں کا جلسہ ہوا ... آپ کا حکم تھا ظفراللہ خان کراچی نہ آئیں .... آپ کے احکامات ہوا میں اُڑا دیے گئے .... خلیفہ کی مان لی گئ .... اب آپ ہی بتائیے .... اس ملک کا اصل حاکم کون ہوا؟ آپ یا خلیفہ ؟" علماء نے سوال کیا-
" دیکھئے .... پالیٹیکس میں اونچ نیچ سب سَلتا ہے .... جیادہ ٹینسن لینے کا نئیں ہے !!! "
" کیوں نہ لیں ٹینشن ؟؟ .... ایک آزاد اسلامی مملکت میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان مرزائیت کی نشرو اشاعت کےلئے وقف ہے اور ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ گریڈ سترہ سے بائیس تک کی ہر آسامی پر ایک قادیانی بیٹھا ہے ، ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ بیوروکریسی ، مقنّنہ ، عدلیہ ، انتظامیہ کے ہر تبادلے پر ظفراللہ خان کی مہر لگتی ہے ، ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ .... بلدیہ سے لیکر ریلوے تک کا ہر ملازم چھوٹے چھوٹے مفاد کےلئے مرزائ افسروں کے سامنے ایمان گروی رکھے بیٹھا ہے .... اور ہم ٹینشن نہ لیں !!!"
وزیرِ اعظم کچھ دیر سوچتے رہے ، پھر بولے:
" دیکھو .... جب تک اس کرسی پر ایک پنجابی وجیرِ اعجم بیٹھا تھا .... سب ایک دم بڑھیا تھا .... مولوی بھی خُس تھا .... اور مرزؤئ بھی خاموس .... ایک بنگاؤلی وجیرِ اعجم کیا بنا ... سب اُٹھ کھڑے ہوئے "
" کیا مطلب ؟؟ .... ہم کچھ سمجھے نہیں ؟؟ " پیر صاحب سرسینہ شریف نے پُوچھا-
" پیر صاحب !!! یہ سازس ہے .... ہم بتاتا ہے .... میرا کھلاف سازس سُروع ہو گیا ہے .... اور اس سازس کے پیچھے پنجاب کا وجیرِ اعلی ہے .... ممتاج دولتانہ .... اب مولبی لوگ کو یہ بات سمجھ نئیں آتا "
"آخر کیوں ؟؟ دولتانہ آپ کے خلاف کیو ں سازش کرنے لگے ؟؟ "
" وہ کیا ہے کہ ہم بنگاؤلی ہے .... اور بنگال کے مساوی حقوق کا بات کرتا ہے .... دولتانہ مولبی کو استعمال کر ریا ہے ... تا کہ میرے پہ دباؤ ڈال کے اپنا کرسی مجبوط کرے .... کیا بولے گا ؟؟ "
پیر صاحب سرسینہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا " خواجہ صاحب !!!! خُدا کےلئے .... سازش کوئ اور کر رہا ہے .... اور آپ کی نظریں کہیں اور ہیں .... ہم فی الحال آپ کو صرف تیس دن کا الٹی میٹم ہی دے سکتے ہیں"
وزیر اعظم نے پریشان ہوکر کہا " الٹی میٹم .... کائیسا الٹی میٹم ....؟؟"
" یہ میرا نہیں آل مسلم کنوینشن کا فیصلہ ہے .... 22 فروری تک اگر مجلس کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو ڈائریکٹ ایکشن ہو گا .... بہتر ہے مان لیجئے .... ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارا ہی خسارا ہے"
وزیرِ اعظم میز کے پیچھے سے چل کر پیر صاحب کے سامنے آ گئے اور کہا :
" میرے ساتھ تسریف لائیے .... ہم آپ کو اندر کا بات بتاتا ہے "
اس کے بعد وہ پیر صاحب کا ہاتھ پکڑ کے ایک کونے میں لے گئے اور بنگالی زبان میں کچھ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن پیر صاحب مسلسل انکار میں سر ہلاتے رہے-
وزیرِ اعظم واپس آئے تو کافی مایوس تھے-
انہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا :
" مُسکل تو یہ ہے کہ کوئ ہمارا بات سمجھنے کو تیّار نہیں ..... نہ تو مولوی ساب .... نہ دولتانہ ..... ٹھیک ہے .... کوئ بات نہیں ...... ہم بھی دولتانہ کو ٹینسن دے گا ..... ہم سرگودھا جائے گا .... اور دولتانہ کے سیاسی حریف خضرحیات خان کے ساتھ تیتر کا سکار کھیلے گا .... سکار کا فوٹو اخبار میں لگے گا تو دولتانہ کو بھی تھوڑا ٹینسن ہو گا .... اگر وہ مولویوں کے ذریعے ہمیں ٹینسن دے سکتا ہے .... تو ہم بھی اس کو بروبر ٹینسن دے گا "

دو سال قبل جامعہ کراچی میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا تھا جس میں مجھے عبدالستار ایدھی صاحب کے سوشل ورک کے مثبت اور منفی کرادار کو اجاگر کرنا تھا تھا لہٰذا ایدھی ہیڈ آفس یا ایدھی فائونڈیشن کے کسی ادارے کا وزٹ لازمی قرار پایا، مقصد پریزینٹیشن کو مزید جاندار بنانا تھا. اس حوالے سے سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی دارالامان جانے موقع ملا. ایدھی فائونڈیشن کے اہلکاروں نے سروسز کے بارے میں معلومات فراہم کیں. وہاں موجود خواتین کی روزمرہ زندگی، کھانے پینے، تعلیم و صحت، دست کاری اور دوسرے ہنر سکھانے اور جاب کی سہولیات کی فراہمی کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا. خواتین مایوسی کے بجائے گزری زندگی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کےلیے پرعزم تھیں.
دارالامان میں ایدھی ٹیم نے اس حصے کا وزٹ بھی کروایا جہاں ذہنی طور ہر معذور خواتین موجود تھیں. مناظر بڑے تکلیف دہ تھے، نگاہیں سوچ اور قفس کی حالت میں تھیں. ایدھی کئیر لیڈی نے بتایا کہ یہ پورے ملک سے آئی وہ خواتین ہیں جو کسی کی دھوکہ دہی، طلاق، سسرال کے تشدد، گھر والوں کے خوف اور معاشرے کی ستم ظریفی سے اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہیں اور ایدھی کئیر ٹیم اور ڈاکٹرز انھیں سنبھالے ہوئے ہیں اور انھیں نارمل زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے علاج اور دماغی مشقیں کرائی جار ہی ہیں۔ ان کی یادداشت اگر کچھ باقی تھی تو اس میں زندگی کے تلخ باب اور معاشرے کی ستم ظریفی پوری طرح عیاں تھی، مگر اب وہ “دارلامان”میں محفوظ اور خوف وخطر سے باہر تھیں. دارالامان نے نہ صرف انھیں پناہ دی بلکہ ان کی اولاد کو بھی اپنایا.
عبدالستار ایدھی عجز و انکساری کا پیکر، انسانی فلاح و بہبود کے عظیم رہنما اور خلق خدا کی خدمت کے لیے آخری لمحے تک کوشاں ایک درخشندہ ستارہ تھا جس نے کینسر کی مریضہ ماں کے علاج معالجے کےلیے بھاگ دوڑ کرتے وقت اپنے دل میں عجیب سی کسک محسوس کی جو بعد میں انسانیت کے درد کی تسکین بن کر غالب ہوگئی. ماں کےگزرنے کے بعد ایدھی کے بےچین دل نے غریب اور بےسہارا لوگوں کے لیے ایک چھوٹی سے ڈسپنسری قائم کی اور مفت علاج کے ساتھ ادویات فراہم کیں. ایدھی صاحب نے اس کے بعد انسانی خدمت کے لیے دن رات ایک کردیے اور نو عمری میں دوسروں کی داد پرسی کے لیے ہاتھ پھیلانا شروع کر دیا. انھوں نے اپنے لیے کٹھن راستے کا انتخاب کیا مگر اس سےلاکھوں ناداروں، غریبوں، لاوارثوں، محتاجوں، یتیموں، پاگلوں اور معذوروں کا بھلا ہو گیا.
اس وقت ملک بھر ایدھی فائونڈیشن کی 1200 سے زائد ایمبولینس کام کر رہی ہیں، ان میں سے 300 کراچی کے لیے وقف ہیں. دو طیارے بھی موجود ہیں۔ ایدھی فائونڈیشن کا نیٹ ورک ملک کے ایک سو سے زائد شہروں میں موجود ہے. کراچی میں 8 عمومی اور دو کینسر اسپتال کام کر رہے ہیں جہاں غریبوں، بے کسوں اور لاوارثوں کا مفت علاج اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ “اپنا گھر” کے نام سے 15 عمارتیں موجود ہیں جہاں ملک بھر کے نفسیاتی مریضوں، بوڑھوں، پاگلوں اور نشے بازوں کے لیے رہائش و علاج سمیت دیگر سہولیات دستیاب ہیں.
ایدھی فائونڈیشن، امریکہ، برطانیہ، بنگلہ دیش، افغانستان، عراق، چیچنیا، سوڈان، ایتھوپیا سمیت مختلف ممالک میں خدمات انجام دی ہیں، اسی وجہ سے پوری دنیا میں ایدھی انسان دوستی کی مثال دی جاتی ہے۔ یورپی ملکوں میں ایدھی کو “فادر ٹریسا” اور ” اینجل آف مرسی” کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ 1986ء میں فلپائن حکومت نے ملک کے سب سے بڑے ا عزاز سے عبدالستار ایدھی کو نوازا۔ 1988ء میں انھیں متحدہ عرب امارات میں طبی خدمات برائے انسانیت، امن و بھائی چارہ کا ایوارڈ دیا گیا. 1992ء میں پیرس آف فیلوروٹری انٹرنیشنل فائونڈیشن کا ایوارڈ جبکہ 2009میں انھوں نے یونیسکو کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا. عبدالستار ایدھی نے آج سے تقریباً 31 سال پہلے 1985ء میں مواچھ گوٹھ میں ایدھی قبر ستان قائم کیا جہاں لاوارث افراد کو سپرد خاک کیا جاتا ہے. ایدھی سرد خانے میں ایک وقت میں 150 سے زائد میتتوں کو رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں قدرتی آفات کے موقع پر ایدھی فائونڈیشن پیش پیش نظر آتی ہے.
ایدھی فائونڈیشن کی انسانیت کے لیے خدمات قابل تحسین ہیں۔ ایدھی صاحب نے ساری عمر شاہی پر گدائی کو ترجیح دی اور یہ سبق دیا کہ انسانیت کی خدمت بلنگ بانگ دعووں سے نہیں، دکھی انسانیت کے درد کو اپنانے سےممکن ہے.
16 جنوری .... 1953 .... نسبت روڈ لاہور
تاحدِ نظر انسانوں کا سمندر تھا-
ہر طرف سر ہی سر نظر آ رہے تھے- علماء کرام کے خطاب کے لئے ایک اونچا پلیٹ فارم بنایا گیا تھا- اسٹیج کی داہنی جانب کچھ آبادی تھی- ہم جلسہ گاہ پہنچے تو لوگ جلسہ چھوڑ کر گیس بتیاں اٹھائے آبادی کی طرف دوڑتے دکھائ دیے- کچھ دور ایک مکان کے قریب بتیاں ہی بتیاں نظر آئیں- لوگ ادھر ہی جمع ہو رہے تھے -
" اُدھر کیا ہوا ہے بھائ ؟ " چاند پوری نے ایک لڑکے سے پوچھا
"پھڈّا ہو گیا اے.... پھڈّا " یہ کہتے ہوئے اس لڑکے نے بھی آبادی کی طرف دوڑ لگا دی-
"یا الہی خیر" میرے مونہہ سے نکلا-
اس طرف واقعی کچھ گڑبڑ تھی- ہم بھی ادھر لپکے ، تاکہ بلوے کی وجہ معلوم کر سکیں-
" بابا جی کیا ہوا ہے ادھر ؟؟ رش کیوں ہے ؟؟" میں نے ایک بزرگ کو متوجّہ کیا-
" پُت .... کُاکی دا سر پھوڑ دِتّا کسے نے .." بابا نے مُختصرا جواب دیا-
" سر پھوڑ دِتّا ؟؟ کِس نے ؟؟"
"کسّے مرجئ ملُون نے وٹّا ماریا ..... "
ہم مجمع سے ٹکراتے ، دھکّے کھاتے آخر میں جائے وقوعہ تک پہنچ ہی گئے-
یہاں ایک بزرگ پھول سی بچّی اٹھائے کھڑے تھے جس کے سر سے مُسلسل خُون بہہ رہا تھا- بچّی کی دلدوز چیخیں لرزا دینے والی تھیں-
" استغفراللہِ العظیم .... توبہ توبہ !!!" میں زیرِ لب بڑبڑایا-
"بھائ صاحب ... کیا ہوا بچّی کو ؟؟" چاند پوری ایک شخص نے صورتِ حال جاننا چاہی-
" سامنے مرزائیوں کا گھر ہے .... وہاں سے جلسے پر پتھراؤ ہوا ہے .... ایک پتّھر بچّی کو لگ گیا ہے" آدمی نے مختصر روئیداد سنائ-
تحریکِ ختمِ نبوّت 1953ء میں بہنے والا یہ پہلا خون تھا-
میں حیران تھا کہ اتنا بڑا مجمع ابھی تک شانت کیوں کھڑا ہے ؟ صبح سے شام تک تحریک کے فلک شگاف نعرے لگانے والے کارکن اس بربریّت پر خاموش کیوں ہیں ؟ مرزائیت کے خلاف لاکھوں کا جلسہ ہو ، جلسہ گاہ کے قریب ایک مرزائ کا مکان ہو ، اس مکان سے شرکائے جلسہ پر پتھراؤ کیا جائے اور مسلمان مونہہ میں گُھگھنیاں ڈالے خاموش کھڑے رہیں ؟؟؟
صرف پانچ منٹ میں اس مکان کو مکینوں سمیت ملیا میٹ کیا جا سکتا تھا- میں حیرت سے سوچنے لگا کہ ان لوگوں کا اسلام کتنا "کمزور" ہے اور ہمارا کتنا طاقتور !!!!
جن کے سروں پر عطاء اللہ شاہ بخاری رح جیسا شعلہ بیاں مقّرر کالے بادل کی طرح گرجتا ہو ، ، ابوالحسنات رح جیسا ولی جنہیں نمازِ عشق پڑھاتا ہو ، عبدالستار نیازی جیسا مجاھدِ ملّت " غلامئ رسول (ص) کا درس دیتا ہو ، احمد علی لاہوری رح جیسا سالار جن کے شانے تھپتھپاتا ہو ، مظفّر علی شمسی رح ، محمد علی جالندھری رح ، مولانا ترنّم اور تاج الدین انصاری جیسے خطیب جن کا لہو گرماتے ہوں ، مودودی رح جیسا صاحبِ قلم جن کےلئے الفاظ تراشتا ہو ، اختر علی خان جیسا صحافی جن کی روئداد چھاپتا ہو ، وہ ہماری طرح کے سرپھرے مسلمان کیوں نہ بن سکے ؟؟؟
زخمی ہونے والی بچّی اپنے بوڑھے باپ کے کندھے پر سر دھرے خاموش ہو چُکی تھی- شاید بے ہوش تھی یا شہادت کا جام پی چُکی تھی- اس کے سر سے بہتا ہوا خون باپ کی سفید قمیض کو رنگین کر چُکا تھا- اور وہ بزرگ راہ عشق میں اپنی کل متاع لُٹا کر بڑے اطمینان سے مجمع سے باہر جا رہا تھا-
اتنے میں ابوالحسنات رح اور علامہ حافظ کفایت حسین صاحب بھیڑ کو چیرتے ہوئے پلیٹ فارم تک آن پہنچے- مجھے خیال ہوا کہ مجمع شاید قائدین کا ہی انتظار کر رہا تھا- مجھے قوّی امید تھی کہ سالارانِ ختمِ نبوّت آج اپنی تقریر میں اس خون ناحق کے انتقام کا ضرور اعلان کریں گے اور آج کی رات ذریّت مرزا پر بہت بھاری ہوگی-
اسپیکر پر ابولاحسنات رح کی آواز گونجی:
"تمام لوگ مکان کا گھیراؤ چھوڑ کر یہاں آ جائیں ....... میں سیّد احمد قادری ختمِ نبوّت کے صدقے ..... آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ ادھر تشریف لے آئیں .... طائف میں پتھّر کھا کر دعا دینے والے نبی ّﷺ کی امّت .... یہاں آ جائیے .... ختمِ نبوّت کے پروانوں ... غُصّے اور ذاتی اشتعال پر چلنے والی تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں .... یہ بہت جلد حکمرانوں کا کھلونا بن جاتی ہیں .... یہ کوئ جائیداد یا اقتدار کا جھگڑا نہیں ہے .... اصول کی جنگ ہے .... اصول سے ہی لڑی جائے گی .... عاشقانِ رسول ﷺ پتھر مارتے نہیں ، پتھر کھاتے ہیں .... خُدا کی قسم اس تحریک کے سب علماء کا مشترکہ فیصلہ ہے .... کہ کسی مرزائ کی نکسیر بھی پھُوٹی .... تو ہم اسی وقت یہ تحریک ختم کر دیں گے .... شانت ہو جائیے .... یہاں آ جائیے .... اسٹیج کے پاس تشریف لے آئیے !!!! "
لوگ آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے اسٹیج کی طرف آنے لگے- میں اس قافلہء عشق و مستی کی صبر و رضاء دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوب گیا- کیا یہی ہمارے اکابرین تھے ؟؟ یا ہم جرمن نازیوں کی بھٹکی ہوئ وہ بدروحیں ہیں جو مسلمان کا شناختی کارڈ بنوا کر ان بزرگوں سے چمٹی ہوئ ہیں ؟؟ انہیں کس بات کا ڈر تھا ؟ پوری قوم ان کی پُشت پر کھڑی تھی- عجب صابر لوگ تھے- چاہتے تو ایک پھونک مار کر مرزائیت کا بُت پاش پاش کر سکتے تھے- جن کی ہڑتال پر لاہور کے پرندے بھی گھونسلوں میں دُبک کر بیٹھ گئے ، وہ کس برتے پر فاختہ کی طرح پر سمیٹے بیٹھے تھے ... ؟؟
شاید اس لئے کہ یہ سچّے عاشق تھے- دنیا کا چلن اور ہے اور عِشق کی سج دھج کچھ اور- دنیا کے ضابطے اور ہیں اور عشق کے قواعدو ضوابط کچھ اور- دنیا کچوے لگا کر خوش رہتی ہے اور عاشقانِ صادق زخم کھا کر پھولے نہیں سماتے !!!
عشق سینہ زوری کا نہیں ، صبرو رضاء کا نام ہے- یہاں ہر گھڑی نگاہیں درِ یارکی طرف ہی اٹھتی ہیں ، یار راضی تو ستّے خیراں ، محبوب روٹھ گیا تو کچھ بھی باقی نہ بچا-
مجاھدِ ملّت مولانا عبدالستار نیازی صاحب پلیٹ فارم پر تشریف لا چکے تھے اور رب کے سچّے محبوب ﷺ کے سامنے احوالِ دردِ دِل پیش کر رہے تھے- لاہور کی اس سرد رات میں عشق کی حرارت سے مجمع پگھل رہا تھا اور آنکھیں اشکبار ہو رہی تھیں:

یا شفیعِ امم ، لِلّہ کر دو کرم ، شالا و سدا رہوے تیرا سوہنا حرم
ہم غلاموں کا رکھنا خدارا بھرم ، شالا و سدا رہوے تیرا سوہنا حرم

کس کو جاکر کہیں تاجدارِ حرم ، گھیرا ڈالے ہوئے ہیں زمانے کےغم
دور ہو جائیں غم یا شہہ محترم ، شالا وسدا رہوے تیرا سوہنا حرم


اس نے امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت‘ جلد‘ نقوش اور حرکات و سکنات بدل گئیں۔ سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ اس نے 1987ء میں بیڈ کے نام سے اپنی تیسری البم جاری کی‘ یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی‘ یہ البم بھی کامیاب ہوئی اور اس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس البم کے بعد اس نے اپنا پہلا سولو ٹور شروع کیا۔ وہ ملکوں ملکوں ‘ شہر شہرگیا ‘ موسیقی کے شو کئے اوران شوز سے کروڑوں ڈالر کمائے۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔ اس کے بعد ماضی کی باری آئی ‘ مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا‘ اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے‘ اس نے کرائے پر گورے ماںباپ بھی حاصل کر لئے اور اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔ اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی بھی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اس کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی‘ اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی لہٰذا اب اس کی آخری نفرت یا خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتاتھا‘ مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا‘ وہ جراثیم‘ وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔ یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے‘ اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا‘ اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں‘ گردوں‘ آنکھوں‘ دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا‘ یہ ڈونر تھے جن کے تمام اخراجات وہ اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے چنانچہ اسے یقین تھا وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہے گا لیکن پھر 25جون کی رات آئی ‘ اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی‘ اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئرڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا‘یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو یہ اسے ہسپتال لے گئے اور وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ جو ننگےپاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا‘ جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا‘ جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا تھا۔ وہ شخص 50سال کی عمر میں صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی‘ یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔ مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا‘ وہ سر سے گنجا تھا‘ اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ اس کے کولہے‘ کندھے‘ پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز‘ یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہان شفٹ ہو گیا جس میں ہر زندہ شخص نے پہنچنا ہے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے‘ انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا کوئی فرعون وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ قبر کو شکست نہیں دے سکتا لیکن حیرت ہے ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے‘ ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کوئٹہ سے ایک سو تیرہ کلو میٹر دور ایک پہاڑی سلسلہ ہے جسے خواجہ عمران کا پہاڑی سلسلہ کہا جاتا ہے اس پہاڑی سلسلے میں شانزلہ اور شیلا باغ کے درمیان دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل ہے جسے کوجک ٹننل کہتے ہیں ;; یہ وہی خوجک ٹنل ہے جس کی پانچ روپے کے نوٹ پر تصویر ہوتی تھی۔ ،یہ ٹنل 14 اپریل 1888کو تعمیر ہونا شروع ہوئی یہ پانچ کلو میٹر لمبی ہے اور اس کی تعمیر میں لگ بھگ آٹھ سو مزدور ہلاک ہوئے اور ان میں سے اکثر وہیں آس پاس دفن ہو گئے اس ٹنل میں ایک کروڑ ستانوے لاکھ چوبیس ہزار چار سو چھبیس اینٹیں لگی ہیں مزدور وں کی اول صف کھدائی کرتی جاتی جبکہ پچھلی اینٹیں لگاتی اور ان سے پیچھلی صف پٹٹڑی بچھاتی جاتی ،بھاری مشینری کا وجود نہ ہونے کی وجہ سے کھدائی کا سارا کام انسانی ہاتھوں سے ہوتا،اس ٹنل کی تعمیر کے لیے 80 ٹن پانی روزانہ کی بنیاد پہ صرف ہوتا، دن اور رات کو کام کرنے کے لیے چھ ہزار پانچ سو چورانوے چراغ جلتے جو پوری ٹنل کو اندر سے روشن رکھتے،مزدوروں کی ریفریشمنٹ کے لیے آج کے انڈیا کے علاقے سے مشہور زمانہ رقاصہ شیلا منگوائی گئی جو رات کو رقص کرتی اور دن کے تھکے ماندے مزدوروں کی تفریح کا کچھ سامان پیدا کیا جاتا،
بلوچستان میں ایک ریلوے اسٹیشن کا نام ’’شیلاباغ‘‘ ہے جو صدیوں پہلے کی اُس رقاصہ کے نام پر رکھا گیا جو دن بھر تھکے ہارے خوجک ٹنل کی تعمیر پر معمور مزدوروں کو اپنے تھرکتے اوربل کھاتے اعضاء کے نرت بھاؤ سے فریفتہ کر دیا کرتی تھی۔ اُس کے پیروں میں بندھے ہوئے گھنگھرو جو کہ ایک بلند مقام پربنے ہوئے سٹیج پر جچے تلے قدموں کے ساتھ آگے بڑھتی جہاں بجلی کا نام و نشان تک نہیں تھا، مٹی کے چراغ جلا کرتے تھے۔ ان ہزاروں چراغ کی لو میں ’’شیلا‘‘ بارش کے پانی کی طرح پہاڑ کے پہلو سے نمودار ہوتی اور پہاڑی ندی کی طرح ٹپکتی بوندوں کی تال پر ہوا میں سرسراہٹ میں کسی پراسرار نغمے کی لے پر گھنگھروں کی جھنکار سے اپنے رقص کا آغاز کرتی ۔بمبئی، لاہور اور قصور سے منگوائے سازندے سازوں کی تاروں کو چھڑتے طبلے اور ڈھولک کی تھاپ لگاتے اور ایک تارے کو تار کی انگلی سے اشارہ کرتے تو پورا راگ چھڑ جاتا، پہاڑی رقص کا نغمہ ابھرتا، سازوندوں کے سروں سے نکلتا، بھیروی کا الاپ رقاصہ کے قدموں سے لپٹ جاتا اور شیلا وجد میں آ جاتی اور پھر دم بخود کر دینے والا رقص وجود میں آتا جو ہزاروں مزدوروں کو سحرزدہ کر دیتا۔ دن بھر کی تھکن سے چور بدن اپنے نیم مردہ جسموں میں زندگی کی حرارت محسوس کرتے، رقص ختم ہوتا تو ہزاروں مزدوروں کی تھکاوٹ کو نیند کا بہانہ مل جاتا اور وہاں صرف ایک بدن تھکن سے چور ہو کر رہ جاتا اور وہ شیلا کا بدن ہوتا۔

16 اگست .... 1952ء.... گورنمنٹ ہاؤس کراچی !!!
ہم اس تاریخ ساز بلڈنگ کے سامنے کھڑے تھے جو سوسالہ برٹش راج کی یادگار ہے- یہ وہی بلڈنگ ہے جہاں کبھی حضرت قائدِاعظم ، گورنر جنرل کی حیثیّت سے بیٹھا کرتے تھے-
میں بڑے کالر والی شرٹ اور کھلے پائنچوں والی تنگ پتلون میں "مارک ٹیلی " لگ رہا تھا اور چاند پوری تنگ پاجامہ ، شیروانی اور قراقلی ٹوپی پہنے آغا حشر کاشمیری- ہمارے علاوہ یہاں اور بھی اخبار نویس آئے ہوئے تھے- آنکھوں پر موٹے فریم کے چشمے ٹکائے ، ہاتھوں میں پنسل اور ڈائریاں تھامے اور گلے میں ڈبّہ کیمرہ لٹکائے مختلف جرائد کے صحافی-
کچھ ہی دیر بعد ایک ٹرام سڑک پر آکر رکی اور اس سے مجلسِ عمل کے مولانا ابوالحسنات ، ماسٹر تاج الدین انصاری ، مولانا مرتضی احمد خان میکش ، شیخ حسام الدین اور مولانا عبدالحامد بدایونی نیچے اترے-
یہ وفد گورنمنٹ ہاؤس کے صدر دروازے کی جانب چلا تو اخبار نویس بھی پیچھے پیچھے لپکے-
ایک سنتری نے مولانا ابوالحسنات کے ہاتھ میں پکڑی ہوئ پرچی دیکھی اور ایک دستار پوش اردلی کو ہمارے ہمراہ کرتے ہوئے ہاؤس کا آہنی گیٹ کھول دیا-
اردلی ہمیں مختلف برامدوں اور راھداریوں سے گزارتا ایک پرانی طرز کے آفس میں لے آیا جہاں لکڑی کی کرسی پر ایک شریف قسم کا آدمی بیٹھا ہوا تھا- اس نے اٹھ کر نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا- اور سامنے پڑی کرسیوں کی طرف اشارہ کر دیا-
عاشقانِ پاک طینت کرسیوں پر تشریف فرما ہوئے اور اخباری نمائندگان پیچھے پڑے لکڑی کے اسٹولوں پر بیٹھ گئے-
پرسش احوال ہوئ تو میں نے چاند پوری کے کان میں سرگوشی کی:
" وزیرِ اعظم صاحب کب تشریف لائیں گے ؟؟ "
انہوں نے مجھے حیرت و استنجاب سے گھورا پھر مسکراتے ہوئے کہا :
" سامنے ہی تو بیٹھے ہیں .... خواجہ ناظم الدین صاحب "
اب حیران ہونے کی باری میری تھی- میں نے پہلی بار آنکھیں کھول کر قائدِ اعظم کے دستِ راست ، تحریک پاکستان کے اہم کارکن ، پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل جناب خواجہ ناظم الدین صاحب کو دیکھا جو لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد وزارتِ عظمی کی کرسی پر جلوہء افروز ہوئے تھے ، پھر اس سادہ و پروقار آفس کے درودیوار پر نظر ڈالی- فرنیچر پرانی طرز کا تھا لیکن دیدہ زیب- پسِ منظر میں قائدِ اعظم کا خوبصورت پورٹریٹ اور ایک کونے میں اس نو آزاد ریاست کا رنگین نقشہ آویزاں تھا ، جو ایک روز پہلے اپنی پانچویں سالگرہ منا چکی تھی-
" ملونا ساب .... پائلے یہ بتائیے .... سائے منگواؤں یا سربت " وزیرِ اعظم نے خاص بنگالی لہجے میں کہا-
"ٹھہریے .... وزیرِ اعظم صاحب ..... ہم یہاں چائے شربت پینے نہیں آئے" ابوالحسنات بول پڑے-
" ٹھیک ہے ٹھیک ہے ..... کیا بولتا ہے .... ؟؟ "
" ملک خطرے میں ہے ، اسے بچانے میں ہماری مدد کیجئے" ابوالحسنات نے ارشاد کیا-
" مُولک کھترے میں؟ وہ کائسے ؟ .... سب ٹھِیک ٹھاک ہے ناں ؟؟ " وزیراعظم ایک دم پریشان ہو گئے-
" سب ٹھیک ٹھاک ہوتا تو ہم آپ کے پاس آتے ہی کیوں ...... یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا ..... لا الہ الا اللہ کے نعرے پر حاصل کیا گیا تھا ..... اس کی بنیادیں لاکھوں شہداء کے خون سے تر ہوئ تھیں .... ہزاروں عصمتیں قربان ہوئ تھیں .... یہ سب کچھ اس لئے نہیں کیا گیا تھا کہ ایک آزاد ریاست حاصل کر کے اس پر مرزائیت مسلّط کر دی جائے"
"لیکن ...موُلک میں امن و امان تو ایک دم بَڑھیا ہے ناں ؟؟ " وزیرِ اعظم نے ٹیبل پر رکھی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا-
" امن و امان ضرور اچھا ہے لیکن یہ خاموشی ایک بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے "
" کیا ہوا ؟ کائسا طوفان ؟؟ "
" آپ نے اختر علی خان سے ایک وعدہ کیا تھا .... سر ظفراللہ کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا "
" ہاں یاد ہے .... بروبر یاد ہے .... ہم نے بات جرور کیا تھا .... لیکُن اختر علی خان نے یہ خبر پیپر میں ساپ کے .... معاملہ جو ہے ناں .... ایک دم چَوپٹ کر دیا ہے .... حالات اب پائلے زیسے نئیں رہے"
" یعنی آپ سر ظفراللہ خان کو وزیرِ خارجہ کے عہدے سے برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے "
" جفراللہ کو میں نے نئیں ، بانیء پاکستان نے وجیرِ خارجہ بنایا تھا" وزیرِ اعظم نے کہا-
"اور قائدِ کا پاکستان آج ظفراللہ خان کے ہاتھوں ہی خطرے کا شکار ہے- قائد اعظم حیات ہوتے ، تو وہ بھی یہی فیصلہ فرماتے...."
" وہ تو سُب بروبر اے ... لیکن مؤسئلہ کیا ہے سرجفراللہ سے ؟؟ " وزیرِ اعظم نے معصومیت سے دریافت کیا-
"کوئ ایک مسئلہ ؟؟....جنابِ وزیرِاعظم !! ظفراللہ خان بحیثیّت وزیرِ خارجہ قادیانیوں کے مذھبی اجتماعات میں شریک ہوتا ہے، ایک ایک مشورے کےلیے مرزا بشیرالدین محمود کے پاس ربوہ بھاگا چلا جاتا ہے، غیر ملکی سفارت خانوں میں دھڑا دھڑ مرزائی تعیّنات ہو رہے ہیں ، سرکاری دفاتر میں ہر اونچی پوسٹ پر مرزئ بیٹھا ہوا ہے ، دفتروں میں کھلم کھلا قادیانیّت کی تبلیغ ہو رہی ہے .... یہ ہے اسلامی جمہوریہء پاکستان ؟؟..... جس کےلیے راوی و چناب کا پانی سُرخ کیا گیا تھا ؟؟ "
وزیرِ اعظم نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کرسی کی پشت سے ٹیک لگائ اور کہا:
" ریاؤست کی مزبوری ہے .... مرزائ حجرات پڑا لکھا اے .... تالیم یافتہ ہے .... کیا بولے گا ؟ .... انہیں ایک دم ... دفتروں سے کائسے کھلاس کرے .... ؟؟ "
"سب سے زیادہ پڑھا لکھا تو انگریز تھا جناب ..... اسے سر پر بٹھائے رکھتے .... ایک اسلامی ریاست کے نام پر ہماری نسلیں کٹوانے کی کیا ضرورت تھی ....؟؟"
" وہ تو سب بروبر ہے .... پر اب آپ لوگ ساھتا کیا ہے ؟ " وزیرِ اعظم زِچ ہو کر بولے-
" ہم صرف یہ چاہتے ہیں ہماری نسلیں کسی ٹیچی ٹیچی کی بجائے .... جبرئیلِ امین کا لایا ہوا قران پڑھیں .... مرزا قادیانی کی بجائے محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھیں .... ایک ملک میں دو نظام کیسے چل سکتے ہیں .... ایک طرف شریعت اطہر اور دوسری طرف نرا کذب ؟؟ "
وزیرِ اعظم خاموش ہو گئے-
"یہ رہے ہمارے مطالبات" ابولحسنات نے ایک کاغذ کا ٹکڑا وزیرِ اعظم کے سامنے رکھتے ہوئے کہا-
" قادیانیوں کو فی الفور غیر مسلم قرار دیا جائے ، ظفراللہ خان سے وزرات خارجہ کا قلمدان واپس لیا جائے اور ربوہ کا نوگو ایریا ختم کرکے وہاں بے گھر مہاجرین کی آبادکاری کی جائے-"
" دیکھیں .... جہاں تک قادیونیوں کو غیرمسلم بنانے کا مؤسلہ ہے ..... تو ہم اس فیصلے کا اختیار نہیں رکھتا یہ فیصلہ کوبینہ ہی کر سکتی اے ... کیا بولے گا ؟ "
" اور ربوہ کی زمین....؟" ابوالحسنات نے دریافت کیا-
"وہ صوبوئ گورنمنٹ کا مؤسلہ ہے"
" ظفراللہ کو برخواست کرنے کا اختیار تو ہے ناں آپ کے پاس؟"
" ایک دم بروبر .... لیکن کیا ہے کہ .... فی الحال ہم یہ اختیار استعمال نئیں کر سکتا " وزیرِ اعظم نے بے بسی سے جواب دیا-
"آخر کیوں....؟؟ " ابوالحسنات اور ماسٹر صاحب یک زبان ہو کر بولے-
" امریکی امدود بند ہو جائے گا .... کال پڑ جائے گا مُلک میں .... پبلک روٹی کو ترس جائے گا .... کیا بولے گا ؟"
"لاحول ولا قوہ الا بااللہ .... ہم تو سمجھے تھے کہ پاکستان کا رازق اللہ ہے....آج معلوم ہوا کہ امریکہ ہے" ابوالحسنات نے کہا-
وزیرِ اعظم نے ایک سرد آہ بھری پھر ایک فائل کھول کر اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے کہا:
" آپ سائے پئے گا یا سربت .....؟؟؟ "
900 سال پرانے ٹاور آف لندن قلعے میں ایک وقت میں شاہی قیدیوں اورخطرناک جانوروں کو قید کیا جاتا تھا یہاں بھوتوں اور بدروحوں کو دیکھے جانےکا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
برطانیہ اپنے عظیم عالمی ورثےکی وجہ سے دنیا بھرمیں شہرت رکھتا ہے، تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ سینکڑوں برس پہلے کی لرزہ خیز داستانوں اور بربریت کے ہولناک قصوں کی وجہ سے لندن کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ آسیب زدہ دارالحکومت کےطور پر بھی کیا جاتا ہے۔
اگرچہ ہم سائنس کی ترقی کے دور میں زندہ ہیں لیکن آج بھی مافوق الفطرت چیزوں پریقین رکھا جاتا ہے اور لوگوں میں ماورائی مخلوق کے قصے اور کہانیوں کے حوالے سے دلچسپی پائی جاتی ہے۔ قارئین کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے لندن کے مشہور آسیب زدہ سیاحتی مقامات کی فہرست تیارکی ہے جس کا ذکر ذیل میں ہے۔
ٹاور آف لندن : ٹاور آف لندن کا سرکاری نام عزت مآب شاہی محل یا قلعہ ہے۔ یہ قلعہ وسطی لندن میں دریائے ٹیمز کے شمالی کنارے پر واقع ہے جسے ولیم فاتح نے 1078 میں تعمیر کیا تھا۔ اس قلعے میں ایک سے زیادہ پیچیدہ عمارتیں ہیں ٹاور آف لندن ایک مشہور سیاحتی مقام ہونےکے ساتھ ساتھ آسیبی قلعے کی حیثیت سے مشہور ہے۔ یہاں ماضی کی اذیتوں کی داستانیں دفن ہیں۔
ٹاور آف لندن برطانیہ کا مشہور عقوبت خانہ، اذیت گاہ اور قید خانہ رہا ہے جہاں لوگوں کے سر قلم کئے گئے ہیں اور اذیتیں دے کر موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ۔ صدیوں پرانے اس قلعے میں ایک وقت میں شاہی قیدیوں اور خطرناک جانوروں کو قید کیا جاتا تھا یہاں متعدد بھوتوں اور بدروحوں کو دیکھے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ گھوسٹ تھامسن اے بیکٹ ماضی میں مبینہ طور پر قلعے میں بظاہر نظر آنے والا پہلا بھوت تھا۔ کہا جاتا ہےاس عظیم
الشان قلعے کی ایک عمارت مارٹن ٹاور میں ایک ریچھ کی شکل کی بدروح کا قبضہ ہے جسے دیکھ کر ایک گارڈ خوف سے مر چکا ہے۔
ہاں ایک خونی ٹاور ہے جہاں دو شہزادوں ایڈورڈ وی اور رچرڈ کی روحوں کا بسیرا ہے جنھیں ان کے چچا ڈیوک آف گلوسٹر رچرڈ سوئم نے قتل کرا دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں بھائیوں کو ان کے کمرے میں دیکھا جاتا ہے جہاں وہ کبھی رہا کرتے تھے۔ وائٹ ٹاور میں وائٹ لیڈی کے بھوت کو ٹاور کی بالکونی پر ٹہلتا دکھائی دینے کے حوالے سے لوگوں نے اطلاع دی ہے۔ویکفیلڈ ٹاور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں ہنری ششم کے بھوت نے بسیرا کر رکھا ہے جسے ڈیوک آف گلوسٹر نے رچرڈ سوئم بننے سے قبل قتل کرایا تھا۔
ٹاور گرین کی عمارت کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ لوگوں کو پھانسی دینے کی جگہ تھی۔ کوئین این بوئلن کو کنگ ہنری ہفتم سے شادی کرنے پر گرفتار کر کے 1536 میں اسی جگہ پر ان کا سر قلم کیا گیا تھا یہاں نظر آنے والا بھوتوں میں کوئین این کا بھوت سب سے زیادہ خوفناک ہے جو سرکٹی لاش کی صورت میں قلعہ میں ٹہلتا دکھائی دیتا ہے جبکہ یہاں کا دوسرا مشہور بھوت اربیلا اسٹیوراٹ کا ہے۔ اس کے علاوہ سر قلم کی جانے والی ملکہ لیڈی جین گرے اور مارگریٹ پول کی روحوں کو بھی یہاں بھٹکتا ہوا دیکھا گیا ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاوس کو بم سے اڑانے کی سازش کرنے والے مجرم گائے فاکس نے زندگی کے آخری ایام یہاں قید میں گزارے تھے۔

کالم کا عنوان پڑھ کر قارئین یہ نہ سمجھیں کہ مَیں فوج کی ملازمت کے دوران یا اس سے ماقبل یا مابعد کبھی پیشہ ءطب و جراحت سے بھی منسلک رہا ہوں.... ایسی کوئی بات نہیں۔مَیں تو اس عنوان کے حوالے سے اپنی زندگی کا ایک عجیب و غریب واقعہ آپ کو سنانے جا رہا ہوں جو علم الیقیں نہیں، عین الیقیں کے زمرے میں آتا ہے۔یعنی یہ واقعہ جگ بیتی نہیں، ”ہَڈ بیتی“ ہے۔
اس سے پہلے کہ مَیں یہ آپ بیتی آپ کی نذر کروں، یہ بتانا چاہوں گا کہ اس واقعہ کی یاد کیسے آئی.... ہوا یہ کہ بریگیڈیئر محمد اقبال میرے دیرینہ دوستوں میں ہیں۔انہوں نے فرسٹ پنجاب کمانڈ کی اور پنجاب رجمنٹل سنٹرمردان کے کمانڈنٹ بھی رہے۔آج کل بعد از ریٹائرمنٹ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔1970-71ءمیں ہم نے کراچی میں چھ ماہ کا ایک کورس اکٹھے کیاتھا۔ تب وہ کپتان تھے اور مَیں نیم لفٹین۔ان کے دو بیٹے ماشاءاللہ آج کل سٹاف کالج کررہے ہیں۔دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے پلے بڑھے۔اپنے والد کی طرح وہ بھی ایس ایس جی کا تجربہ کرچکے ہیں۔میجر ارشد نے تو باقاعدہ فاٹا میں ایک آپریشن کے دوران جسم پر کئی زخم کھائے۔ لیکن خدا کا فضل و کرم شاملِ حال ہوا اور ارشد ایک سے زیادہ آپریشنوں کے بعد صحت یاب ہوگیا۔مَیں نے جب ارشد کا حال پوچھا تو ساتھ ہی دریافت کیا کہ اس کا سٹاف کالج کیسا جا رہا ہے؟.... بریگیڈیئر صاحب بولے: ”ارشد کو شدید Sciatica Painہو گئی تھی۔اس کا آپریشن ہوا، لیکن اب ماشاءاللہ چلنے پھرنے کے قابل ہے، لیکن از روئے عسکری ضوابط ہسپتال میں مقررہ مدت سے زیادہ گز ارنے کی وجہ سے اس کا سٹاف کالج رہ گیا ہے۔وہ اگلے برس پھر سے سٹاف کورس مکمل کرے گا“۔
بریگیڈیئر اقبال صاحب نے بیٹے کی اس بیماری اور آپریشن کا تفصیلی ذکر کیا تو مجھے اپنا وہ واقعہ یاد آ گیا جو میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
یہ Sciatica Painجسے مشرقی اطبا عرق النسا کے نام سے پکارتے ہیں، ایک نہایت نامراد درد ہے۔کمر سے اٹھتا ہے اور دائیں یا بائیں ران سے ہوتا ہوا ٹانگ اور تخنے تک چلا جاتا ہے۔اس کا مریض چار پائی کے ساتھ لگ جاتا ہے اور ہلنے جلنے کے قابل نہیں رہتا۔ذرا سا بدن اِدھر اُدھر ہو جائے تو غضب کا درد ہوتا ہے جو بعض اوقات ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں اور اس کے علاج بھی بہت سے ہیں، جن میں آپریشن بھی ایک ہے۔
ڈاکٹر آپریشن کرکے اس رگ کو Freeکردیتے ہیں یا اس غدود کو کاٹ کر نکال دیتے ہیں جو بالعموم مہرہ نمبر6اور7کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ایک غدود کی طرح کی یہ گلٹی مہرے کی رگ کو جب دباتی ہے تو درد سیدھا ٹانگوں تک جاتا ہے جو شدید تکلیف کا باعث بنتا ہے۔چونکہ مجھے یہ درد ہو چکا ہے، اس لئے مجھے اندازہ ہے کہ اس میں درد کی شدت اور اس کا کیف و کم کیا ہوتا ہے۔یہ ”جس تن لا گے سو تَن جانے“ والی بات ہے۔اللہ کریم سب کو اس ”عرقِ النسا“ سے محفوظ رکھے.... مَیں نے اکثر اطبا صاحبان سے پوچھا ہے کہ عرق النساءکو یہ نام کس وجہ سے دیا جاتا ہے۔لغوی اعتبار سے عرق کا معنی ”رگ“ ہے اور نساءکا معنی عورت.... یعنی ”عورتوں کی رگ“ یا عورتوںکی رگ والا مرض....لیکن کسی حکیم صاحب سے اب تک اس سوال کا کوئی شافی جواب نہیں مل سکا کہ اس ظالم درد کو ”عورتوںکا درد“ کیوں کہا جاتا ہے۔ دردِ نسواں اگر کسی کو ہو بھی تو وہ دل میں یا جگر میں ہوتا ہوگا،ٹانگوں، ٹخنوں وغیرہ میں اس کا کیا کام؟.... اگر کوئی قاری اس کی وضاحت فرما سکیں تو ان کا ممنون ہوں گا۔
میں اپنے عرق النساءکی بات کررہا تھا.... جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت میری عمر 20,19برس کے لگ بھگ ہو گی۔ایک روز شام کو ہاکی گراﺅنڈ سے فارغ ہو کر گھر لوٹا تو حسبِ عادت گرم پانی سے غسل کیا اور تولیہ کررہا تھا کہ ایک دم کمر میں درد اٹھا اور سیدھا ہونے کی تاب نہ رہی۔بڑی ہی مشکل سے چھوٹے بھائی کو آواز دی۔اتنے میں والدہ بھی متوجہ ہوگئیں۔مَیں بمشکل جا کر بستر پر لیٹ سکا۔لیکن بستر تک جانا اور بیڈ پر کمر سیدھی کرنا گویا پل صراط عبور کرنا ہوگیا۔
رات تو جیسے تیسے گزری، صبح ہوئی تو عیادت کے لئے آنے والے اور والیوں کا تانتا بندھ گیا۔ان کے تجویز کردہ ٹوٹکے تو ناگفتنی کے علاوہ نا نوشتنی بھی تھے....ایک پھوپھی صاحبہ نے بڑے یقین سے فرمایا: ” جیلانی کو چُک پڑ گئی ہے۔ فلاں پہلوان کو بلا لاﺅ“ والد مرحوم نے سنا تو پریشان ہو گئے۔لیکن میرا دل رکھنے کے لئے کہا: ”بیٹا! یہ ”چُک“ کوئی زیادہ بڑا مرض نہیں ہوتا۔بس ایک دو دن کے بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گی“۔لیکن جب پانچ چھ روز گزر گئے اور ”چُک“ نہ نکل سکی تو ”ڈبہ حکیم“ کو بلایا گیا۔ (ان کا کوئی تعلق کسی ”ڈبہ پیر“ سے نہ تھا)پاک پتن شہر میں وہ ایک نہایت فاضل طب و جراحت حکیم صاحب شمار کئے جاتے تھے۔ان کے چہرے اور بدن پر چونکہ برص(پھل بہری) کے بڑے بڑے ”ڈب کھڑبے“ سے داغ تھے،اس وجہ سے ”ڈبہ حکیم“کے نام سے مشہور ہو گئے۔وطنِ مالوف ان کا فیروز پور کی تحصیل مکتسر تھی۔وہ تشریف لائے۔اس وقت ان کی تقریباً65،70برس ہوگی.... انہوں نے آکر ساری ”حقیقت“ سنی تو فرمایا ”یہ چُک وُک نہیں، عرق النساءہے۔میں دوائی بھیجتا ہوں۔ انشاءاللہ دو چار دن میں آرام آ جائے گا“.... ان کی ایک مشہور دوائی کا نام ”یاقوتی“ تھا جو بڑی خوشبودار اور میٹھی ہوتی تھی اور ہر عمرکے مریض اس کو بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے۔
لیکن تین دن کے بعد جب یاقوتی اور دوسری ادویات نے کچھ اثر نہ کیا تو ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو زحمت دی گئی۔ریلوے ہسپتال ، پاک پتن کے ان ڈاکٹر صاحب کی بہت تعریف سنی گئی تھی۔ انہیں بلایا اور دکھایا گیا۔ان کی تشخیص بھی یہی تھی کہ یہ Sciatica Painہے اور اس کا علاج سرجری ہے۔
اسی کشمکش میں دو ہفتے گزر گئے۔والد لاہور لے جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔اسی روز دوپہر کو ابا جی کے ایک دوست تشریف لائے اور انہوں نے ایک ایسا نسخہ تجویز کیا جس کو سن کر میں زور دار قہقہہ لگانا چاہتا تھا ،لیکن صرف مسکرا کر رہ گیا....اس مرض میں ہلکی مسکراہٹ کی ”حد“ عبور کرنے سے بھی دور ہوتا ہے۔
ان بزرگ نے والد صاحب کو بتایا کہ ”فلاں محلے میں فلاں جگہ ایک حویلی ہے۔ بیٹے کو وہاں لے جائیں اور اس حویلی کی بیرونی دیوار سے سات بار بیٹے کی کمر کو رگڑیں اور پھر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھیں“۔
میں بچپن ہی سے اس قسم کے توہمات ،لغویات اور ٹونے ٹوٹکوں کا از حد مخالف تھا۔مجھے اس بزرگ کی باتیں سن کر ایک کراہت سے ہونے لگی....پھر وہ اور والد صاحب دوسرے کمرے میں جا کر باہمی مشورہ کرنے لگے۔آدھ گھنٹے کے بعد والد صاحب میرے کمرے میں آئے اور کہا : ”بیٹا، کل تو ہم لاہور جا ہی رہے ہیں۔میں نے فلاں فلاں سرجن سے وقت لے لیا ہے۔لیکن اگر بھائی صاحب (بزرگ) کی بات مان لی جائے تو کیا ہرج ہے؟“
وہ شائد میرے لئے کوئی بابرکت گھڑی تھی۔ مَیں چپ ہوگیا....لیکن کہا کہ ”جب رات ہوگی تو لے جائیں۔دن کو روشنی میں لوگ دیوار سے کمر رگڑتے دیکھ کر مجھے کیا کہیں گے؟....میں تماشا بننا نہیں چاہتا“۔
چنانچہ والد صاحب نے میری اس درخواست سے اتفاق کیا۔رات کے شائد بارہ بجے ہوں گے۔چار آدمیوں نے میری چار پائی اٹھائی اور چل نکلے۔وہ بزرگ بھی ساتھ تھے۔ہمارا گھر محلہ بدردیوان میں تھا جو پاک پتن کی سب سے اونچی جگہ پر ہے۔اس وقت آدھا پاک پتن پہاڑی پر بستا تھا اور آدھا پہاڑی کے دامن میں چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔زیریں علاقے کو ہم لوگ ”ہٹھاڑ“ بولتے تھے اور جہاں ہمارا گھر تھا اس کو ”اُتاڑ“ کہا جاتا تھا۔حویلی کی وہ دیوار جہاں ہم نے جانا تھا، ہمارے گھر سے کوئی ایک فرلانگ کے فاصلے پر ہوگی۔لیکن مجھے یاد ہے گلیوں سے ہوتے ہوئے ایک فرلانگ کا وہ سفر جو مَیں نے چارپائی پر پڑے پڑے طے کیا، ایک میل سے بھی زیادہ لگا....۔خدا خدا کرکے وہ دیوار آ گئی۔
دیوار بوسیدہ قسم کی تھی۔چھوٹی اینٹ کی چنائی کی ہوئی تھی اور جگہ جگہ سے اینٹیں اِدھر اُدھر کو کھسکی ہوئی تھیں۔میرا خیال تھا کہ دیوار ہموار ہوگی، لیکن اس کی ناہمواری عجیب طرح کے خیالات کو جنم دینے لگی،مثلاً یہ کہ اس اونچی نیچی دیوار سے کمر کو کیسے رگڑا جا سکتا ہے اور اگر کوئی اینٹ نیچے آ گری تو پاﺅں زخمی ہو جائیں گے۔وغیرہ وغیرہ....
اکتوبر کا مہینہ تھا۔رات چپ تھی اور وہ گلی جس میں وہ دیوار تھی،پاک پتن کے رحموں دروازے سے 150گز پیچھے واقع تھی.... بڑی مشکل سے مجھے بازوﺅں اور کمر سے پکڑ کر اٹھایا گیا اور دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا۔
وہ بزرگ جو میرے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر آئے تھے، وہ بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے ایک بازو سے پکڑا اور دوسرا بازو والد صاحب نے....۔باقی ”کہاروں“ نے بھی اب یاد نہیں کہ کہاں کہاں سے پکڑا۔ان بزرگ کی ہدایات کے مطابق دو آدمیوں نے کمر کے نچلے حصے کو دبا کر رکھا اور ”رگڑا“ شروع ہوگیا....-
دیوار کافی اونچی تھی۔اس کا طول بھی 20،30فٹ ہوگا۔ ”کمر رگڑنے“ والا حصہ شائد آٹھ دس فٹ طول کا تھا۔پہلے دو چکروں میں تو میرے پاﺅں زمین پر نہ لگ سکے۔تیسرے چکر میں آہستہ آہستہ زمین پر پاﺅں ٹکانے لگا۔جب سات چکر مکمل ہوئے تو یوں محسوس ہوا، جیسے مجھے لوگوں نے بازوﺅں سے زبردستی سے پکڑا ہوا ہے۔مَیں نے والد صاحب سے کہا: ”ابا جی! آپ مجھے چھوڑ دیں.... مَیں کھڑا ہو سکتا ہوں“۔یہ سن کر ان کے آنسو نکل آئے، لیکن وہ چپ رہے....
کیا آپ باور کریں گے کہ مَیں اپنے پاﺅں پر چل کر گھر واپس آیا۔
معلوم ہوا کہ یہ دیوار اس ہندو برہن کے اسلاف کی ملکیت ایک حویلی کی تھی جو حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے عرس پر دیوان صاحب (گدی نشینِ درگاہ)کی ڈولی کے آگے آگے گھنٹی بجاتا چلتا تھا۔پاکستان بننے کے بعد بھی ہندو پنڈتوں کا وہ خاندان پاک پتن ہی میں مقیم رہا۔ آج بھی حسنِ اتفاق سے ذی الحج کی 27تاریخ ہے اور بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کا عرس مبارک شروع ہے۔ 25ذی الحج سے لے کر 10محرم الحرام تک یہ عرس جاری رہتا ہے۔یکم محرم تک دیوان صاحب سماع پر آتے ہیں ۔ ان کی رہائش گاہ سے بابا فریدؒ کے گیٹ نمبر3تک کا فاصلہ شائد 50گز سے زیادہ نہیں ہوگا۔اس راستے پر اس برہمن خاندان کا ایک فرد گدی نشین کی ڈولی کے آگے آگے گھڑیال بجاتا ہوا چلتا تھا۔....(اب معلوم نہیں، یہ رسم /روائت موجود ہے یا ختم ہوگئی)عرق النساءکے علاج کے علاوہ بھی شائد پنڈت جی کے بانگِ درا کی توجیہہ اور بھی تھی جو اب یاد نہیں آ رہی۔
سوچتا ہوں کہ دعا اور دوا میں کتنا فرق ہوتا ہے....مجھے نہیں معلوم ڈاکٹر اور حکیم صاحبان دیوار سے کمر رگڑنے کے اس واقعہ کی کوئی طبی توجیہہ بھی کر سکیں گے یا نہیں۔زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ دیوار کی اینٹوں کی ناہمواری شائد کمر کے کسی حصے سے ٹکرا کر اس غدود کو الگ کر دیتی ہوگی جو ایلو پیتھی کے سرجن، آپریشن کرکے نکال کر باہر پھینکتے یا الگ کر دیتے ہیں! واللہ اعلم!! ٭
" مبارک ہو ------- مبارک ہو ------ مبارک ہو ------ امام مہدی کے لشکر میں قبُولے گئے ہو -----!!!
مسیحِ موعود کی اُمّت میں اٹھائے گئے ہو ------ !!!
یہ وہی مقام ہے ------ وہی مقام ہے ----- کہ کتنی امتیں جس کی طلب میں جہاں سے کُوچ کر گئیں ------ !!!
یہ وہی جائے قرار ہے جس کا ذکر قران میں آیا ہے ------ ربوةٍ ذاتِ قرارٍ و معین !!!! "
نعرہء تکبیر ------ اللہ اکبر !!!!"
ہم ایک بہت بڑے پنڈال میں پہنچے جہاں ہزاروں افراد کے مجمع سے خلیفہ کا خطاب جاری تھا-
اس دوران فضاء میں جنگی جہازوں کی گڑگڑاہٹ سنائ دی- پاکستان ایئرفورس کے دو " سُپر میرین اٹیکر" طیارے فضاء میں نمودار ہوئے اور اسٹیج کے عین اوپر آکر سیدھے فضاء میں بلند ہو گئے-
"حضرت یہ کیا....؟؟" میں نے وفورِ حیرت سے پوچھا-
"سلامی !!! .... آج اس بدقسمت ملک کا یومِ آزادی ہے !!! " انہوں نے اطمینان سے جواب دیا-
ہوائ جہازوں کی گڑگڑاہٹ تھمی تو خطاب پھر شروع ہو گیا-
" اسلام کا سایہ کِھنچنے لگا ------- !
خُدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئ ------- !!
دُنیا پِھر شیطان کے قبضے میں دے دی گئ ------- !!!
اب خُدا کی غیرت پِھر جوش میں آئ ہے ------- اور تم کو ------- ! ہاں تم کو ------- !! ہاں تُم کو ------- !!!
خدا تعالی نے پِھر اس نوبت خانے کی خدمت سپرد کی ہے ------- !!!"
" اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو ------ !!
اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو -------- !!!
اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو ---------!!!!
ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں --------!!!!!! "
کان پھاڑ نعروں کا شور بلند ہوا - خلیفہ نے پسینہ پُونچھا اور پانی پِینے لگے-
خلیفہ جانے کون سی نوبت بجوانا چاھتے تھے ، میرا تو مغز پھٹا جا رہا تھا- جلسہ گاہ میں آگے بیٹھے ایک صاحب بار بار پہلو بدل رہے تھے .... پتا نہیں گوبھی کھائے بیٹھے تھے یا مُولی کا کھیت اجاڑ کے آئے تھے .... سانس لینا دشوار کر دیا تھا-
میرے برابر بیٹھے چاند پوری تقریر کے برابر نوٹس لئے جا رہے تھے-
"حضرت یہاں قریب میں کوئ درخت ہے ؟" میں نے کہا-
" ہوں .... کیوں ؟؟" وہ بڑبڑائے-
" درخت پر بیٹھ کر خلیفہ کی تقریر سنتے ہیں .."
وہ شارٹ ھینڈ لیتے ہوئے بولے " بُہت اہم تقریر ہے .... " افلاک " میں چھُپے گی تو حکومت کی آنکھ کھُل جائے گی"
" حکومت کی آنکھ نہیں .... شاید ناک بند ہے" میں نے کہا-
اس دوران پانی کا وقفہ ختم ہوا .... اور خطاب دوبارہ شروع ہو گیا:
" ایک دفعہ پھر اپنا خون اپنے نعروں میں بھر دو ------- !!!
ایک دفعہ پھر اپنا خون اپنے نعروں میں بھر دو ------- !!!
کہ عرش کے پائے بھی لرز اٹھیں -------!! اور فرشتے بھی جاگ اٹھیں ------- !!!
اسی لیے میں نے تحریکِ جدید شروع کی ہے ------- اللہ کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ ------- !!!
نبی کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے ------- تُم نے مسیح سے چھین کر وہ تخت نبی کو دینا ہے ------- اور نبی نے وہ تخت خُدا کو پیش کرنا ہے ------- اور خُدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے -------!!!!!"
"اس کا کیا مطلب ہے...؟؟ کون سا تخت ؟؟ "
" تختِ پاکستان " چاند پوری کاغذ پر شارٹ ھینڈ لیتے ہوئے بولے-
" 1952ء گزرنے نہ دیجئے -------!!
1952ء گزرنے نہ دیجئے ----------!!!
1952ء گزرنے نہ دیجئے ----------!!!!!
اپنا رعب دشمن پر طاری کر دیجئے ------!!!! تاکہ دشمن محسوس کرلے ------- ہاں محسوس کرلے ----- ہاں محسوس کرلے کہ خدا کا دین مٹایا نہیں جا سکتا ------ اور وہ مجبور ہو کر احمدیّت کی آغوش میں آن گرے ------- !!!!
"
"خلیفہ کو آخر کس چیز کا غصہ ہے ؟" میں نے پوچھا-
" مجلسِ عمل کی تشکیل کا .... ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ نصف صدی سے آپس میں سینگ اڑائے علمائے کرام ختمِ نبوّت پر اتنا جلدی باہم شیرو شکر ہو جائیں گے .... مجلس عمل کی تشکیل ہی علمائے حق کا وہ کارنامہ ہے جس سے مرزائ "نوبت" میں سوراخ ہو چکا ہے "
" لیکن یہ ہنگامہ تو صرف ربوہ کے اندر ہی دکھائ دیتا ہے"
" پاکستان بھر میں اس کی فل نمائش جاری تھی بھائ ..... ان کا تبلیغی مشن ایک ایک وزیر کا پیچھا کر رہا تھا .... سرظفراللہ خان وزراء کی نبض پر ہاتھ رکھ چکے تھے .... ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے ..... انہیں ایک ایک کر کے ربوہ کا دورہ کروا رہے تھے .... ظاہر ہے جو مذھب بادشاہ کا ہوگا وہی رعایا کا بھی ہو گا .... مجلس عمل کے قیام کے بعد یہ سلسلہ رُک چکا ہے .... بس یہی خلیفہ کی پریشانی ہے ..... "
خلیفہ نے پھر اسٹارٹ لیا:
آخری وقت آن پہنچا ----- !!!
آخری وقت آن پہنچا --------!!!!
آخری وقت آن پہنچا --------!!!!!!
ان احمدی علماؤں کے خون کا بدلہ لینے کا ----- جن کو شروع سے آج تک ------ یہ خونی مُلا قتل کرتے آئے ہیں ----- ہم بدلہ لیں گے عطاءاللہ شاہ بخاری سے ------ !!
ملا بدایونی سے ----- !!!
ملا احتشام الحق سے ----- !!!!
ملا محمد شفیع سے ----- !!!!!!
اور پانچویں سوار ملا مودودی سے ------- !!!!!!!"
ہم فتح یاب ہونگے ----- !!
ہم فتح یاب ہونگے ------ !!!
ہم فتح یاب ہونگے ------ !!!!
" اور ضرور ---- اور ضرور تُم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش کئے جاؤ گے ----- اور اس دن ---- اس دن ----- تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا ------- !!!! "
پانی کا وقفہ ہوا تو کچھ سکون نصیب ہوا-
" اور سٌن لو ------- کان کھول کے سُن لو ------ سُن لو عالمِ رویا سے ایک نئ خبر آئ ہے-------- !!!!! " خلیفہ نے پھر اسٹارٹ لیا-
" خلیفہ کا وطیرہ ہے کہ اہم سیاسی بیان ہمیشہ خواب میں لپیٹ کر دیتا ہے ..... " چاند پوری بولے-
" وہ کیوں ؟؟ "
" تاکہ کسی عدالت میں چیلنج نہ ہو سکے .... خواب ہمیشہ قانون کی گرفت سے آزاد ہوتے ہیں- جھوٹے ہوں یا سچّے "
"سُنو --- سُنو ---- سُنو ----!!!!"
" میں نے ایک خواب دیکھا ----- میں نے دیکھا کہ ایک کھاٹ پہ لیٹا ہوں ----- گاندھی جی آتے ہیں ---- اور میرے ساتھ کھاٹ پہ لیٹ جاتے ہیں ------ اور جب اٹھ کر جانے لگتے ہیں ------ تو قدرے فربہ دکھائ دیتے ہیں ----- !!!! "
"گاندھی کو بھی نہیں چھوڑا ؟؟ " میں نے ہونقوں کی طرح چاند پوری کی طرف دیکھا-
" ابھی تعبیر سُننا .... مزید ٹھنڈے ہو جاؤ گے " وہ نوٹس لکھتے ہوئے بولے-
" اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اگر خُدا کے سپاہیوں کا رستہ روکا گیا ------- اگر ہماری راہ میں روڑے اٹکائے گئے ---- یہ مُلک نہیں رہے گا ------- ٹوٹ جائے گا پاکستان ------- پھر سے ایک ہو جائے گا ھندوستان ------ !!!! "
مخلوق پھر نعرہ زن ہو گئ-
" اب خود ہی فیصلہ کر لو " چاند پوری نوٹس سمیٹتے ہوئے بولے- " اگر یہی بات کوئ مولوی کہتا تو راتوں رات مشقیں کس کے حوالات میں نہ پھینک دیا جاتا ؟؟ لیکن خلیفہ کو کون پوچھے ؟؟ اندھیر نگری ہے بھائ اندھیر نگری !!! "
کہتے ہیں اقتدار کی آخری سیڑھی پر بادشاہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں.
ہلاکو خان کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ جب بغداد پہنچا اس نے بغداد فتح کر لیا، تاتاری فوجی شہر میں داخل ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سر اتارنے شروع کر دیئے، خواتین کی بے حرمتی شروع کی، بچوں کو نیزوں پر پرونا شروع کیا، عمارتوں کو آگ لگانا شروع کی اور کتب خانے نزر آتش کر دیئے.
امیر تیمور کا کردار بھی نرالا ہے ایسا سفاک بادشاہ بھی مسلم تاریخ میں نہیں ملتا .. تیمور حافظ قرآن بھی تھا اور علم کا یہ عالم کہ مفتی اس کے اگے پانی بھرتے تھے. قرآن کا ایسا قاری کہ بیک وقت قرآن سیدھا بھی ازبر پڑھ لیتا اور الٹی طرف سے بھی.پر یہی امیر تیمور جب میدان جنگ میں نکلتا ہے تو 54 ممالک میں کھوپڑی کے مینار بنا دیتا ہے.
محمّد شاہ رنگیلا ایک عیاش طبیعت اور غیر متوازن بادشاہ گزرا ہے جو چوبیس گھنٹے نشے میں دھت رہتا اکثر دربار میں ننگا آ جاتا اور بیٹھے بیٹھاے حکم دیتا کہ کل تمام درباری زنانہ لباس پہن کر آئیں اور فلاں وزیر پاؤں میں گھنگھرو باندھ کر آے.
اٹلی کے ایک بادشاہ نے ہنسنے پر پابندی لگا رکھی تھی. اور قانون بنا دیا کہ سلطنت کی تمام خواتین دانتوں پر راکھ ملا کریں گی یہی وہ وقت تھا جب لیونارڈو "مونا لیزا" بنا رہا تھا
شاید یہی وجہ ہے کا مونا لیزا کے ہونٹ بھنچے ہوے ہیں.

روم کے ایک بادشاہ نے جوش شاہی میں پورے روم کو آگ لگا دی اور خود محل کی چھت پر چڑھ کے بانسری بجانے لگا.
ایران کا ایک بادشاہ اپنی بیگم کے ساتھ شطرنج کھیلتا تھا اگر ملکہ بازی ہار جاتی تو بادشاہ کو ایک لونڈی پیش کرتی اور اگر بادشاہ ہر جاتا تو ملکہ کو ایک غلام پیش کرتا .کھیل کے اختتام پر ان غلام لونڈیوں کو ذبح کر دیا جاتا
ہندوستان کا ایک بادشاہ قطب دین مبارک شاہ ہم جنس پرست تھا وہ ایک ہندو لڑکے پر عاشق تھا بادشاہ ایک دن دلہن بنتا اور ہندو لڑکا دولہا درباری باراتی بنتےاور نکاح ولیمہ رخصتی ہوتی.
آپ تاریخ کا کوئی بھی باب اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ایسے فرمان روا کثرت سے مل جائیں گے
بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟ انکی تاریخ کیا ہے اور کیا بوہری اور آغا خانی مسلمان ہیں؟
اس مضمون کا مقصد کسی کو مسلم یا غیر مسلم کا سرٹیفکیٹ دینا قطعی نہیں ہے لہٰزہ اس کو کسی بھی قسم کی فرقہ بندی یا تعصب سے بالا تر ہو کر صرف ایک معلومات
عامہ کے طور پر پڑھا جائے۔۔
پاکستان میں بسنے والے ہر پاکستانی کو بلا امتیاز مزہب، رنگ اور نسل تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں اور ہر غیر مسلم پاکستانی کی جان کی حرمت بھی اتنی ہی محترم ہے جتنی کہ کسی مسمان کی۔۔
بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟ انکی تاریخ کیا ہے اور کیا بوہری اور آغا خانی مسلمان ہیں؟
بوہری اور آغا خانی دونوں کی اصل ایک ہے۔ امام جعفر صادق(ع) کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔ امام صادق(ع) کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام صادق(ع) کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادق(ع) کی زندگی میں ہی ہو گئی، امام صادق(ع) بعض لوگوں کے اس عقیدے کو جانتے تھے کہ اسماعیل کو ہی وہ امام سمجھتے ہیں، امام(ع) نے اسماعیل کی وفات کے بعد اس کا جنازہ لوگوں کو دکھایا اور لوگوں کی معیت میں ہی ان کی تجہیز و تکفین کی کئی۔
جب امام صادق(ع) کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثر شیعوں نے امام کاظم(ع) کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے، اب وہ نہیں تو ان کی اولاد میں امامت رہنی چاھئے، یہ لوگ اسماعیلی کہلائے۔ کچھ لوگوں امام صادق(ع) کے ایک اور بیٹے عبداللہ افطح کو امام مانا، یہ لوگ فطحی کہلائے۔
جن لوگوں نے امام جعفر صادق(ع) کی شہادت کے بعد امامت کو حضرت اسماعیل کی نسل میں مان لیا تو آگے چل کر ایک وقت آیا جب ان اسماعیل کی اولاد میں سے ایک شخص مہدی کو مصر میں خلافت ملی جہاں اس نے خلافت فاطمی کی بنیاد رکھی۔ یہ خلفاء بہت شان و شوکت سے وہاں حکمرانی کرتے رہے، قاہرہ شہر اور جامعۃ الازھر کی بنیاد انہی اسماعیلی خلفاء نے رکھی۔ اور اس وقت تک یہ باعمل قسم کے شیعہ تھے لیکن اثنا عشری نہ تھے۔
ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔ مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے بوھرہ ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے آغا خانی ہیں۔ لیکن چونکہ خلافت مستعلی کو ملی تو نزاری فرار ہو کر ایران آئے اور قزوین نامی شہر کا اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں کئی برس تک جاہ و حشم کے ساتھ انہوں نے حکمرانی کی۔ حسن بن صباح کے دور میں ان کو عروج حاصل ہوا اور ان کی فدائین کی تحریک بہت کامیاب ہوئی اور پوری سرزمین ایران میں اپنی دہشت بٹھا دی۔ بعد میں ان کا امام "حسن علی ذکرہ السّلام" آیا جس نے ظاہری شریعت ختم کردی اور صرف باطنی شریعت برقرار رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خانیوں کو فرقۂ باطنیہ بھی کہا جاتا ہے۔
آغا خانی ایک طویل عرصے تک ایران میں مقیم رہے، ان کے امام کو "آغا خان" کا لقب بھی ایران کے قاجاری حکمران نے دیا تھا۔ شاہ ایران نے آغا خان کو کرمان کے قریب "محلاّت" نامی جگہ پر ایک وسیع جاگیر بھی عطا کر رکھی تھی لیکن انگریزوں کی تحریک پر آغا خان اوّل نے ایرانی قاجاری سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی لیکن جب اس کو شکست ہوئی تو بھاگ کر ہندوستان میں پہلے سندھ اور پھر بمبئی شفٹ ہوا۔ انگریزوں نے ان کو "سر" کا خطاب دیا اور بہت عزّت و تکریم کی۔
بوہریوں کی خلافت جب مصر میں ختم ہوئی تو انہوں نے ہندوستان و یمن کو اپنا مرکز بنالیا البتہ یہ لوگ باعمل مسلمان ہیں اور پابندی سے نماز وغیرہ پڑھتے ہیں۔
جہاں تک ان کے اسلام کا تعلّق ہے تو بوہریوں کے مسلمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں جب تک کہ یہ کسی امام کو گالی نہ دیں۔ کہتے ہیں کہ ایک زمانے تک یہ امام موسی کاظم(ع) کو گالیاں دیتے تھے جو بقول ان کے امامت کو غصب کر بیٹھے (نعوذباللہ)۔ لیکن یہ روش انہوں نے چھوڑ دی تبھی آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی کے دور میں ان کو نجف و کربلا زیارت کی اجازت دی گئی۔ وہاں موجود ضریحوں اور حرم کی تعمیر اور چاندی سونے میں بوہریوں نے کافی مدد کی۔
دوسری طرف آغاخانیوں کا اسلام اس لئے مشکوک ہے کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے کئی چیزوں کے منکر ہیں۔ نماز کے بارے میں تو ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ نماز سے انکار نہیں کرتے لیکن نماز کا طریقہ الگ ہے۔ جو چیز ان کے اسلام کو مشکوک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ "حلول" کے عقیدے کو مانتے ہیں۔ ان کے مطابق اللہ کا نور علی(ع) میں حلول کر گیا اور علی(ع) کا نور ان کے ہر امام میں آتا رہا، ان کے حساب سے پرنس کریم آغا خان اس وقت کا علی(ع) ہے، اور جب یہ لوگ "یاعلی مدد" کہتے ہیں تو ان کی مراد ہماری طرح مولا علی(ع) نہیں ہوتے بلکہ پرنس کریم آغا خان ہوتے ہیں۔
لیکن ہمارے لوگ خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی سلام کے طور پر یاعلی مدد کہنا شروع کیا۔
آغا خانیوں میں ایک اور خرابی یہ ہے کہ وہ "معاد جسمانی" کے منکر ہیں یعنی ان کے نزدیک میدان حشر، پل صراط، جنّت و جہنّم کا کوئی ظاہری وجود نہیں بلکہ یہ کنایہ ہے۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم اس جسم کے ساتھ حشر کے دن نہیں اٹھائے جائیں گے۔ "معاد جسمانی" ہماری ضروریات دین میں سے ہے اور جو اس کا قائل نہیں تو اس کے اسلام پر حرف آتا ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers