ھندوستانی قوم کی بدقسمتی ہے کہ دوگز لٹھا خریدنے کےلیے پچاس دکانوں کے تھان کھلوائیں گے.... دو کلو آلو لینے کےلیے دو کوس دور سستے بازار کا رخ کریں گے....
لیکن جب معاملہ مذہب کا ہو تو وجدنا اباءنا کذلک یفعلون پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں ....
یا پھر جو مولوی صاحب نے فرما دیا .... سبحان اللہ .... ماشاءاللہ !!!!
ہمیں یا تو اسلام کا درس جمعہ کے خطبے سے ملتا ہے ... یا کسی مذہبی جلسے میں جاکر ہم ایمان تازہ کر آتے ہیں- جلسے کے بعد اگر تبرک یا شیرینی میسر ہو جائے تو ایمان کے ساتھ ساتھ منہ کا ذائقہ بھی تازہ ہو جاتا ہے- ہم تحقیق کے معجون مرکب سے اپنے منہ کا ذائقہ کیوں خراب کریں .... قران کا ترجمہ، احادیث کی شرع، فقہ کی تعلیم ....یہ سب مولوی کے دھندے ہیں .... ہماری بلا جانے .... !!!     تفصیل سے پڑھئے
مرزا غلام احمد قادیانی نے ھندوستانی مسلمانوں کی اسی روائتی کمزوری سے فائدہ اٹھایا ....
1870ء کے عشرے میں وہ بظاہر ایک مصلح ، مناظر اور پرجوش مذہبی لیڈر کے طور پر سامنے آیا....
1880ء کے بعد کا زمانہ اس کے عروج کا دور تھا - ہندؤں اور عیسائیوں سے مناظروں نے اس کی شہرت کو دوام بخشا .... لاہور کے ایک جلسے میں ملکہء برطانیہ کو اسلام کی دعوت نے اس میں مزید رنگ بھرا اور 1893ء میں شاتم رسول (ص) ڈپٹی عبداللہ آتھم کے ساتھ پنجہ آزمائ سے اس نے عقیدت مند مسلمانوں کے دل میں خوب جگہ پیدا کر لی ....
مرزا بہترین مقرّر تھا ... وہ ہر مذھبی جلسے میں آن دھمکتا .... اور اپنی شعلہ بیانی سے جلسہ لُوٹ کے چلا جاتا....
1880ء میں اس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں "صاحبِ الہام " ہونے کا دعوی کردیا .... اپنی پہلی کتاب براھین احمدیہ میں اس نے پہلی بار خود کو (ملہم) صاحبِ الہام لکھا- یہ عہدہ مرزا نے خود تخلیق کیا یا اس کے پیچھے کوئ منجھا ہوا سکرپٹ رائٹر تھا .... جس نے بھی یہ ڈور الجھائ خوب سوچ سمجھ کے الجھائ-
" صاحبِ الہام " کا عہدہ مرزا کے مشن کو آگے بڑھانے کےلیے کافی تھا- نپولین کی طرح باقی میڈل اس نے خود ہی سجانے شروع کر دیے ... وہ خود کو عہدے پہ عہدہ دیتا گیا ... اور اس کے معتقدین اس پر تصدیق کی مہر لگاتے گئے .... وہ ملہم سے مجّدد بنا ... پھر امام زماں اور محدث کہلایا .... پھر مثیل مسیح (مسیح جیسا) سے ترقی کرتا مسیح ابن مریم .... اس کے بعد جست لگا کر مہدی بنا اور پھر امام آخرالزمان کہلوانے لگا ....
اوائل 1900 میں اس نے صاف صاف نبوّت کا دعوی کر دیا اور اس کے پیروکار دیکھتے ہی رہ گئے .... کسی نے سوال کرنے کی زحمت نہ کی کہ نبّوت کا درجہ تو یک بارگی ملتا ہے آپ کو قسطوں میں کیونکر مل رہا ہے ؟؟
اس کے معتقد ظلّی نبی اور بزوری نبی کی تاویلیں گھڑ گھڑ کر عوام کو مطمئن کرتے رہے- اور یوں ایک "بلیک ہول" کو "قطبی تارا" بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا گیا- اور مخلوق سربسجود ہوتی چلی گئ-
علماء حق کی تنقید اور عوامی ردعمّل سے ماوراء وہ خود پسندی کی شراب پئے خوش فہمیوں کی سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا-
بحیثیت ایک مناظر وہ ایک چکنا گھڑا تھا .... وہ کبڈی کے کھلاڑی کی طرح جسم پر تاویلات کا تیل مل کر آتا اور مد مقابل کے ہاتھوں سے ہمیشہ پھسل کر نکل جاتا- جو کچھ وہ کتابوں میں لکھتا اکثر مناظروں میں آ کر مکر جاتا- اکثر وہ نبوّت کے دعوے سے بھی مکر جاتا.... اس نے اپنی کتابوں میں بھی بار بار ترامیم کیں .... بعد دفعہ ایسا بھی ہوا کہ عین مناظرے میں وہ اپنی بات سے پھر گیا جب اس کی کتاب پیش کی گئ تو اس نے وہ عبارت بھی سب کے سامنے مٹا دی- وہ عجز و انکساری کی تصویر بن کر کہتا "ہور کچھ میرے لائق ؟ " اور مولوی اس کا مونہہ دیکھتے رہ جاتے-
لیکن اس کے باوجود وہ " ملہم" کے مورچے پر آخر دم تک قابض رہا کہ اس پٹاری سے وہ من چاھا سانپ نکال سکتا تھا ....
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی اپنے پیروکاروں کو یہ باور کرانا شروع کردے کہ اسے الہام ہوتا ہے یا عالم رویا سے بشارتیں آتی ہیں تو سمجھ لیں کہ کسی ایک رتبے پر اس کی ضرور نظر ہے .... نبوّت .... مہدیت .... ولایت یا پھر سیدھے سبھاؤ حکومت !!!!!
مرزا کی داستانِ عبرت جاری ہے .... اس کہانی میں ایک سبق یہ بھی ہے کہ اندھی تقلید اور شخصیت پرستی ہمیشہ ایک بانجھ سوسائٹی پیدا کرتی ہے .... جس میں آنکھیں تو سب کے پاس ہوتی ہیں .... دیکھنے کی تاب کوئ بھی نہیں رکھتا- لہذہ تحقیق کیجیے .... سوال کیجیے .... اختلاف کیجیے .... محض سفید چھڑی پکڑ کر کسی کے پیچھے مت چلیے ..... کہ اللہ نے آپ کو بھی حواس خمسہ اور عقل سلیم سے نواز رکھا ہے ....
اس تصویر میں دکھائ دینے والے حضرات میں اس وقت کوئ بھی دنیا میں موجود نہیں .... یہاں تک کہ وہ بچہ بھی جو معصومیت کی تصویر بنے کیمرے کی آنکھ میں جھانک رہا ہے- عقیدت اور اندھی تقلید کا کالا چشمہ پہنے یہ لوگ تاریخی غلط فہمی کا شکار ہوئے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کیا ہوا پیمان توڑ بیٹھے - یقیناً قیامت کے روز بھی یہ مرزا کے ساتھ ہی اٹھائے جائیں گے تاآنکہ ان میں سے کوئ تائب ہو کر مرا ہو-
اللہ تعالی ہم سب کو ختمِ نبوّت کے کام میں کسی نہ کسی درجہ پر قبول فرما لے ... امین !!!
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا-
مرزا کا مقابلہ فقہاء اور صوفیاء دونوں سے تھا.....
یہ حقیقت ہے کہ برصغیر میں اسلام کی شمع صوفیائے کرام نے روشن کی- صوفیاء نے لاکھوں کفار کو کفر کی ظلمت سے نکال کر ہدایت کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ علیہ ، حضرت علی ہجویری رحمہ اللہ ، حضرات مشائخ چشت اور دیگر اولیائے کرام کے ہاتھ پر لاکھوں غیر مسلموں نے کلمہء توحید پڑھا اور آج تک برصغیر کے لوگ ان کے نام کا احترام کرتے ہیں - 
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ علماء و فقہاء کا دامن خدا نخواستہ خالی ہے- علماء دین کا ستون ہیں- صوفیاء اگر دلوں کے قلعے فتح کرتے ہیں تو فقہا ان قلعوں کی حفاظت کرتے ہیں- برصغیر میں اگر اسلام صوفیاء کے دم بدم پھیلا تو علماء نے خون دیکر اس پودے کی آبیاری بھی کی-
برصغیر کے عوام فطرتاً صوفیاء کی طرف زیادہ مائل ہیں- اس کی وجہ صوفیاء کا نرم رویہ ، درد آشنائ اور انسانیت سے محبت ہے- صوفیاء سے عقیدت کی دوسری بڑی وجہ عوام کا کشف و کرامات کی طرف زیادہ مائل بہ ہونا ہے- اس بنا پر لوگ صوفیاء کو روحانی اعتبار سے مولوی سے زیادہ احترام اور توجہ دیتے ہیں - علماء کے ساتھ صرف مذہبی طور پر باشعور اقلیّت جڑی ہوتی ہے ، جبکہ اس کے مقابلے میں صوفیاء کے ساتھ عوام کی اکثریت محبت کرتی ہے- 
جب تلک مرزا قادیانی نے مسیحت کا دعوی نہیں کیا طبقہء علماء نے اس سے درگزر ہی کیا- دعوی مسیحت اور مہدویت کے بعد علماء اس طرف متوجہ ہوئے- مولانا ثناءاللہ امرتسری ، مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا عبدالحق غزنوی، اور مولانا غلام دستگیر قصوری وغیرہ نے مرزا کے ساتھ خوب مناظرے کیے- مرزا عربی اور فارسی پر اچھی قدرت رکھتا تھا- وہ مناظر ہونے کی وجہ سے مد مقابل کو الجھانا جانتا تھا- چنانچہ گھیر گھار کر اپنے من پسند موضوع پر لے جاتا- 
ایک اور سبقت جو مرزا قادیانی کو حاصل تھی وہ اس کا شاطر میڈیا تھا- نجانے اس کے پاس سائیکلوسٹائل مشین تھی یا کاتبوں کی فوج .... ادھر مناظرہ ختم ہوتا .... ادھر دھڑا دھڑا اس کی کامیابی کے بینر لگ جاتے- علماء اس دور میں چھاپہ خانے کو حرام سمجھتے تھے اس لیے میڈیا سیل میں بھی انہیں خاطر خواہ برتری حاصل نہ تھی .... اور یہ صورتحال آج تک قائم ہے .... مجھے یاد ہے کہ جب ہم اپنے علماء کی اپیل پر ٹی وی توڑ ہفتہ منا رہے تھے قادیانیوں کا ٹی وی چینل دھڑلے سے چل رہا تھا- غنیمت ہے کہ سوشل میڈیا شروع سے حلال ہے ورنہ آج ہم یہاں بھی یقیناً پس رہے ہوتے-
ایک اور کمزوری جس سے مرزا نے فائدہ اٹھایا وہ علماء کے درمیان فرقہ ورانہ اختلاف تھا-
1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ھندوستان میں فقہ حنفی واضح طور پر دو حصوں میں منقسم ہو چکا تھا- ایک گروہ "عثمانی " طرز فکر کے زیراثر تھا تو دوسرا بلادِ عرب میں وہابی انقلاب سے متاثر تھا- یہ چپقلش مقامی مناظروں سے آگے نکل چکی تھی اور دونوں مکتب ہائے فکر مکے مدینے سے ایک دوسرے کے خلاف فتوے منگوا منگوا کر ھندوستان کے درودیوار پر چپکا رہے تھے - چنانچہ شروع میں مرزا قادیانی کے خلاف کفر کے فتووں کو عوام میں وہ پزیرائ نہ مل سکی جس کا وہ مستحق تھا-
مرزا جانتا تھا کہ عوام کی اکثریت علماء سے زیادہ صوفیاء سے متاثر ہے چناچہ اس نے صوفیاء پر اپنا جادو چلانے کا فیصلہ کیا- 
اس وقت ھندوستان میں دو ہی آستانے ایسے تھے جہاں سے تصوف کی کچھ کرنیں پھوٹ رہی تھیں- ان میں حضرت خواجہ غلام فرید آف چاچڑاں شریف اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ شریف کی خانقاہیں شامل تھیں-
مرزا قادیانی نے 1894 میں خواجہ غلام فرید (رح) سے رسمی خط و کتابت کا آغاز کیا- ان خطوط میں نہ صرف وہ خواجہ صاحب کی شاعری کی تعریف کرتا بلکہ خود کو ان کا عقیدت مند اور اسلام کا سچا خیر خواہ بھی ثابت کرتا رہا- خواجہ غلام فرید (رح) ایک درویش صفت صوفی شاعر تھے سو محبت کا جواب محبت سے دیتے رہے- مرزا نے خواجہ صاحب کی طرف سے موصولہ جوابی خطوط کو اشتہار بازی اور رسائل کے ذریعے اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کردیا- 
علماء کا ایک وفد صورتحال کی سنگینی کا ادراک کر کے مولانا محمد حسین بٹالوی کی قیادت میں 1897 میں خواجہ غلام فرید (رح) سے ملنے چاچڑاں شریف گیا- اور مرزا کے خلاف دستاویزی ثبوت دکھاکر خواجہ صاحب سے مدد چاہی- اس زمانے مں مرزا نے ملہم ، مجدّد اور مسیح موعود کے دعوے کر رکھے تھے- خواجہ غلام فرید صاحب اپنی نرم خوئ اور صوفیانہ مزاج کے باعث اتنی عجلت میں کوئ فیصلہ نہ کر سکے- سو وفد کو ناکام لوٹنا پڑا-
خواجہ غلام فرید (رح) نے 1900ء میں رحلت فرمائ- ٹھیک ایک سال بعد 1901ء میں مرزا نے نبوّت کا باقاعدہ دعوی کر دیا-
مرزائیت کی آکاس بیل ہر طرف پھیلنے لگی- علمائے ھند کی نگاہیں اب آفتابِ ولایت حضرت پیر سید مہر علی شاہ جیلانیؒ کی طرف اٹھ رہی تھیں جو سلسلہ چشت اہلِ بہشت کے حقیقی جانشین تھے !!!
خوبصورت چمکدار روشن پیشانی.....
گھنی سیاہ داڑھی ....کشادہ آنکھیں ....گھنیری سیاہ زلفیں .....
عمر 42 سال .... فارغ التحصیل ہوئے 22 واں برس ....
خلافت ارشاد کا اٹھارواں سال .....
کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں
علمائے حق نے آپ کا دروازہ کھٹکایا اور فتنہء قادیانیت کی سرکوبی کےلئے مدد اور رہنمائ کے طالب ہوئے- ھندوستان کی تاریخ میں پہلی بار بریلوی ، دیوبند ، اہلحدیث اور شیعہ علمائے کرام اتفاق باہمی کی تصویر بنے ایک صوفیء باعمل سے قیادت کی استدعا کر رہے تھے-
صادق اور امین نانا ﷺ کے سچے دین پر قادیانیّت کا ناگ پھنکار رہا ہو .... مسلمان دن کے اجالے میں ڈسے جا رہے ہوں .... اور پیر صاحبؒ خاموش بیٹھے رہتے .... بھلا کیسے ممکن تھا .... وہ منتظر تھے تو علماء کے اتفاق و اتحاد کے .... ورنہ مرزا تو کب سے آپ کی آنکھوں میں کھٹک رہا تھا-
مرزا لکڑی کے جس گھوڑے پر سوار تھا وہ اس کا "نظریہء حیات مسیح " تھا- احادیث نزول عیسی کی من چاہی تاویل کرتے ہوئے وہ قادیان کو دمشق قرار دے چکا تھا- اور لدھیانہ کو "لد"-
اس اعتراض پر کہ حضرت عیسی (ع) مینارہ سے اتریں گے .... اس نے راج گیروں کو بلا کر قادیان میں ایک مینارہ بنوایا ، پھر اس پر چڑھ کر اترتے ہوئے بولا .... " لو یہ شرط بھی آج پوری ہو گئ !!! "
پیر مہر علی شاہ صاحب نے 1899ءمیں ایک رسالہ ”شمس الہدایت“ تحریر کیا- جس میں انتہائی علمی اور مدلل انداز میں حیات مسیح اور قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کے موضوع پر روشنی ڈالی۔اور واضح دلائل سے ثابت کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ غلط، باطل اور جھوٹا ہے-
مرزا قادیانی ”شمس الہدایہء“ کا کیا جواب لکھتا .... فوراً مجلس ابلیس بٹھائ - مصاحبین کے مشورے سے دھوکا دہی کا ایک منصوبہ بنایا اور پیر صاحب کو مباہلہ کا چیلنج دے دیا- اس کا مقصد پیر صاحب پر نفسیاتی دباؤ بڑھانا تھا- ساتھ ہی ھندوستان بھر میں قادیانیوں نے اشتہار لگا دیے گئے کہ چلو چلو لاہور چلو .... بیمار لنگڑے اندھے بہرے اور لاچار لاہور آ جائیں- 25 اگست 1900ء بادشاہی مسجد لاہور .... اور دیکھیں .... مسیحائے زمان کا مباہلہ پیرمہرعلی شاہ سے !!!!
پیر صاحب نے جواب دیا " مرزا کو بولو .... اگر مردے بھی زندہ کرانے ہیں تو آجاؤ "
مباہلہ کی خبر سن کر اہلحدیث عالم ابولوفاء ثناءاللہ امرتسری نے پیر صاحب کو درخواست بھجوائ کہ ان کے ایک نابینا دوست مولوی عبدالکریم کو مباہلہ میں ضرور بلوائیں تاکہ وہ بھی اس کرامت سے فیض یاب ہو سکے اور ان کی بینائ لوٹ سکے-
سبحان اللہ .... اتنا یقین تھا ابوالوفاء کو بھی مباہلہ میں پیر صاحب کی کامیابی کا !!!
مرزا کو مباہلہ میں اپنی کامیابی صفر نظر آئ تو اس نے فوراً پینترا بدلا اور پیر صاحبؒ کو عربی میں تفسیر نویسی کے مقابلے کا چیلنج دے دیا۔ مد مقابل کو تاویلات میں الجھا کر تھکانا اس کا پرانا ہتھیار تھا-
پیر صاحبؒ نے جواباً لکھ بھیجا "مجھے چیلنج قبول ہے، ہم فخر نہیں کرتے .... لیکن امت محمدی میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ قلم پر توجہ کریں تو وہ قران کی تفسیر لکھنا شروع کردے .... پہلے اپنے دعویٰ مسیحیت پر مجھ سے تقریری بحث تو کرو .... پھر تفسیر بھی لکھ لیں گے"
25 اگست 1900ء کو حضرت قبلہ پیر صاحب علما و مشائخ کی معیت میں لاہور تشریف فرما ہوئے تو علما و مشایخ کے ساتھ ساتھ عوام کے سمندر نے آپ کا فقید المثال استقبال کیا۔ اس تاریخی مناظرے کو دیکھنے کےلیے بے شمار قادیانی بھی موجود تھے- یہ علمی مباحث کا دور تھا جب تشدد کی بجائے دلائل اور منطق سب سے بڑا ہتھیار سمجھا جاتا تھا-
25 اور 26 اگست کو دونوں اطراف سے مذھبی نمائندے اور عوام شاہی مسجد میں آکر سارا دن مرزا قادیانی کا انتظار کرتے رہے۔ لیکن مرزا کو نہ آنا تھا نہ آیا- بلکہ "جان کا خطرہ" ظاہر کر کے قادیان میں ہی دبکا رہا-
27 اگست کو شاہی مسجد میں مسلمانوں کا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں تمام مسالک کے علمائے کرام نے شرکت فرمائ- علمائے کرام نے ولولہ انگیز تقاریر کر کے اس دعوتِ مناظرہ کی مکمل داستان بیان فرمائ اور برصغیر کے سادہ دل عوام کے ذہنوں سے کھینچ کھینچ کر قادیانی وائرس نکالا- اس دن بے شمار قادیانی تائب ہوکر دائرہء اسلام میں دوبارہ داخل ہوگئے-
اسی دن ملت اسلامیہ کے 60 جید علماء کرام نے عقیدہء ختمِ نبوت کی دوبارہ توثیق فرمائ- اور اس بات پر کلی اتفاق کیا گیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا اور جو اس عقیدہ کا منکر ہے بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
لاہور کا کامیاب مناظرہ مرزائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے پہلا بند تھا-
اس کے بعد اگرچہ عوام پر اس مکر کی حقیقت عیاں ہو گئ اور اس فتنہ کا زور ٹوٹنے لگا ، البتہ اس کی مکمل بیخ کنی نہ ہو سکی- اسلامی حکومت تو تھی نہیں کہ صدیقِ اکبر رض کی سنّت زندہ کی جاتی اور جڑوں تک صفائ کی جاتی- چنانچہ انگریزی کھاد کے طفیل یہ زقوم کسی نہ کسی صورت پھلتا پھولتا ہی رہا-
لاہور کا ناکام مناظرہ ، مرزا اور اس کی جماعت کےلیے بہت بڑا صدمہ ثابت ہوا-
پیر مہر علی شاہ صاحب (رح) کی کامیابی نے تحریک احمدیہ کو قادیان تک محدود کر دیا .... اور یوں احمدیت محض قادیانیت بن کر رہ گئ-
لاہور جو کہ 1900ء تک مرزائیت کا گڑھ بنتا جا رہا تھا اب اس بخار سے روبہء صحت ہونا شروع ہوگیا تھا- 
پیر مہرعلی شاہ (رح) کی اس ضرب یداللہ کے بعد علمائے حق کھل کر فتنہء قادیانیت کی سرکوبی کیلئے نکلے- ان میں مولانا محمد حسین بٹالوی اور مولانا ثناءاللہ امرتسری پیش پیش تھے-
1901ء میں مرزا نے نبوت کا دعویٰ بھی کر دیا-
مرزا کا استدلال تھا کہ وہ ایک ظلّی اور بزوری نبی ہے - وہ گھنٹوں ختم نبوّت کے حق میں دلائل دیتا اور آخر میں یہ کہ کر دودھ میں مینگنیاں ڈال دیتا کہ اس کے دعوی نبوت سے حضور ﷺ کی ختم نبوّت پر کوئ فرق نہیں پڑتا- اور نہ ہی اس کےلئے کسی نئے کلمے کی ضرورت ہے- اس نے قرانی آیات کو اپنے حق میں مسخ کرنا شروع کر دیا نیز اپنی کتابوں میں انتہائ بودے اور گھٹیا افکار بھی پیش کرنے شروع کر دیے- اس کی جماعت کے غالی شعراء نے مرزا کا مرتبہ نبی کریم ﷺ سے بھی بڑھانا شروع کر دیا اور یوں اہل قادیان کھلم کھلا توہین رسالت کا ارتکاب بھی کرنے لگے-
مرزا کی ان نئ شرانگیزیوں کے آگے بند باندھنے کےلیے مولانا محمد حسین بٹالوی نے مرزا قادیانی کی تکفیر پر فتویٰ حاصل کر کے شائع کرایا - اس فتویٰ پر برصغیر کے دوسو جیّد علمائے کرام کے دستخط تھے، جن میں مترجمِ قران سید نذیرحسین محدث دہلوی بھی شامل تھے۔
1907ء میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے آخری بار قادیان جاکرمرزا کو مباحثے کےلیے للکارا، لیکن مرزا اس بار بھی مقابلے کےلیے نہ نکلا- اور مولانا امرتسری فاتح قادیان بن کر لوٹے- 
مرزا ان پے درپے حملوں سے اگرچہ دفاعی پوزیشن میں آ گیا- لیکن اس کا انداز مزید جارحانہ ہو گیا- اس نے عدم تشدد کی پالیسی ترک کر کے اپنے منکرین کو نہ صرف بدترین مخلوق قرار دے دیا، بلکہ مولانا بٹالوی کو ابولہب اور مولانا امرتسری کو ابوجہل کا لقب دے دیا..... قادیان کا زہریلا سانپ علمائے حق کےگھیرے میں آ چکا تھا اور آخری بار پوری قوت سے پھنکار رہا تھا-
اگرچہ مرزا کو کامل یقین تھا کہ اس پر الہام کا نزول ہوتا ہے لیکن وہ ان الہامات کے پیچھے چھپے رانگ نمبر کو نہ پہچان سکا- اسی غلط فہمی میں 1907ء میں وہ اپنا کیس سچے رب کی عدالت میں لے گیا- 
مولانا امرتسری کے مباہلہ چیلنج کے جواب میں مرزا نے ایک دعائیہ اشتہار شائع کرایا- وہ سچے رب کے دربار سے اپنے اور مولانا کےلیے انصاف کا طالب ہوا- اس نے استدعا کی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ مخالف کی زندگی میں ہی طاعون یا ہیضہ سے ہلاک ہوجائے ... ساتھ ہی اس نے یہ پشین گوئ بھی شائع کرادی کہ 1908ء میں "ھند کا ابوجہل " ثناءاللہ امرتسری ضرور فوت ہوجائے گا-
اس کے معتقدین نے یہ اشتہارات بھی دیواروں پر چسپاں کر دیے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب 1908ء میں جیٹھ کے مہینے میں ضرور فوت ہو جائیں گے-
پیر صاحب کو ان پشین گویوں کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا " زندگی موت تو اللہ کے اختیار میں ہے...لیکن یاد رکھنا مرزا اپنی ہی گندگی میں گر کر مرے گا"-
مرزا قادیانی کو اپنی دعا اور پشین گوئ پر اتنا یقین تھا کہ وہ مئ 1908ء میں لاہور پہنچ گیا- بظاہر وہ یہاں ہندو مسلم اتحاد کا داعی بن کر آیا ... لیکن مقصد لاہور میں قادیانیت کی گرتی ہوئ دیوار کو سہارا دینا تھا- مرزا کی عمر اس وقت تقریباً 73 سال تھی اور وہ بالکل چاک و چوبند صحت مند تھا- وہ سارا دن مصروف رہتا اور ھندوؤں اور مقامی پیروکاروں کے وفود سے ملاقاتیں کرتا رہتا-
مئ 1908ء میں ہی اللہ پاک کی عدالت سے فیصلہ آگیا ... قدرت نے مرزا صاحب کےلیے طاعون کی بجائے ہیضہ پسند کیا - طاعون ایک متعدّی بیماری تھی جس سے بستیوں کی بستیاں تباہ ہوجاتی تھیں- اللہ بڑا غفورو رحیم ہے اس کی قدرت عالیہ نے دین کے اس کھلے دشمن کےلئے "ٹارگٹڈ " آپریشن ہی پسند فرمایا-
25 مئ 1908ء کی رات مرزا نے رات کا کھانا اپنے اہل خانہ کے ساتھ بڑے اطمینان سے کھایا- رات کے کسی پہر اسے پیٹ کی شدید تکلیف ہوئ- اس دور میں ہیضہ ایک جان لیوا مرض تھا اور ڈائریا کے بہت کم مریض ہی صحت یاب ہوا کرتے تھے-
اس اچانک افتاد کو دیکھ کر مرزا کی زوجہ نے گھبرا کر کہا " یا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے"
مرزا کے منہ سے پہلی بار سچ نکلا "بیگم یہ وہی ہے جو میں اکثر کہا کرتا تھا .......
جوں جوں رات گزرتی گئ مرزا کی طبیعت شدید خراب ہونے لگی-
پیٹ میں درد کے ساتھ ساتھ دست اور الٹیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا-
زوجہ نے فورا لاہور چھوڑ کر واپس قادیان جانے کا کہا لیکن مرزا سفر کے قابل نہ تھا- اس نے فوراً اپنے دست راست حکیم نورلدین کو طلب کیا- حکیم نورالدین "سیرت المہدی" میں لکھتا ہے کہ میں نے پہلی نظر مرزا قادیانی پر ڈالی تو اس کی حالت دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا- میں نے آج تک اس کی ایسی حالت نہ دیکھی تھی-
اس دور میں نہ تو فلیجل تھی اور نہ ہی ڈرپ کا کوئ تصور- انجیکشن بھی خال خال ہی ملا کرتے تھے- فوراً ایک مستند معالج ڈاکٹر محمد حسین شاہ لاہوری کو بلایا گیا- ڈاکٹر نے وبائ ہیضہ تشخیص کیا-اور درد کا انجیکشن لگا دیا- جس سے وقتی طور پر تشفی ہو گئ اور مریض کو نیند آگئ- اگلے دن پھر موشن اور الٹیاں شروع ہوگئیں- نقاہت اتنی بڑھ گئ کہ لیٹرین تک جانا بھی دوبھر ہو گیا-
26 مئ 1908ء صبح ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے قدرت نے مرزا کی زبان پر تالا لگا دیا- ڈاکٹر نے احوال پوچھا لیکن مرزا کوشش کے باوجود منہ نہ کھول سکا- اس نے ہاتھ کے اشارے سے کاغذ قلم منگوایا-
جب مطلوبہ چیزیں مہیّا کر دی گئیں تو مرزا نے بائیں ہاتھ کا سہارا لیکر اٹھنا چاہا لیکن نقاہت نے دوبارہ بستر پر گرا دیا- اس نے قلم سے کاغذ پر کچھ لکھنا چاہا لیکن وہ انگلیاں پتھرا چکی تھیں جنہوں نے زندگی بھر کِبّر ، نخوت ، خود پرستی اور دجل کے سوا کچھ نہ لکھا تھا-
ٹھیک 9 بجے مرزا کی سانسیں اکھڑنا شروع ہو گئیں- اس کے اہل خانہ اس کی چارپائ کے پاس آکر بیٹھ گئے-ڈاکٹر نے فوری طور پر سینے میں پستان کے مقام پر انجیکشن لگایا- یہ انجیکشن رواں نہ ہو سکا اور جگہ سوجنے لگی- اس پر رشتہ داروں نے واویلہ کیا کہ قریب المرگ مریض کو مزید تکلیف نہ پہنچائ جائے-
دن کے تقریباً دس بجے مرزا نے بے ہوشی کے عالم میں دم توڑ دیا-
"بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے "
موت کی خبر گھنٹے بھر میں پورے لاہور میں پھیل گئ- ایک طرف مرزا کے پیروکار غم و الم کی تصویر بنے سڑکوں پر نکلے تو دوسری طرف مسلمان اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے اس مکان کے سامنے جمع ہو گئے جہاں مرزا کذاب کی لاش عبرت کی تصویر بنی پڑی تھی- دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا تھا اور مرزا کے کذب و دجل میں اب کوئ ابہام نہ بچا تھا-
27 مئ یعنی اگلے ہی روز مرزا کی لاش لاہور سے قادیان لے جائ گئ ، جہاں آخری رسومات کے بعد اسے دفنا دیا گیا- یوں برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ گر اور کذاب ، عذاب الہی کا شکار ہو کر زمین برد ہوا-
پیر مہر علی شاہ صاحب رح مرزا قادیانی کی موت کے بعد 29 برس تک تصوف کی کرنیں بکھیرتے رہے... اور مولانا ثناءاللہ امرتسری 40 سال تک اسلام کی خدمت پر کمر بستہ رہے-
مرزا کذاب کی موت کے بعد قادیانی جماعت دو حصوں میں بٹ گئ- ایک لاہوری گروپ جو مرزا کو محض مُصلح اور امام تسلیم کرتا ہے- دوسرا گروہ خود کو جماعت احمدیہ کہتا ہے اور مرزا کو ظلی اور بزوری نبی مانتا ہے-
قادیانیّت وہ آکاس بیل تھی جسے اسلام کے درخت کا رس چوس کر ہی پھلنا پھولنا تھا- یہ لوگ تحریک پاکستان کا حصّہ بنے اور تقسیم کے ساتھ ہی اپنے قادیان جیسے تاریخی مرکز کو چھوڑ کر پاکستان سدھارے-
1955ء تک یہ لوگ پاکستان کو اپنی ارتدادی سرگرمیوں کا مرکز بنا چکے تھے- ان کے ربوہ ھیڈکوارٹر سے دھڑا دھڑ کتابیں شائع ہونے لگیں- نوکری روزگار اور شادی جیسے پھندے لگا کر یہ سیدھے سادھے مسلمانوں کو پھانسنے لگے- یہ لوگ سراؤں بس اسٹاپس اور دوسرے عوامی مقامات پر مفت کھانا اور پانی مہیّا کرتے تاکہ عوام کا اعتماد حاصل کیا جاسکے- دوسری طرف یہ طائفہ پاکستان کی بڑی بڑی پوسٹوں پر فائز ہوکر عام مسلمانوں کا استحصال کرنے لگا-
قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کے خلاف کئی سال تک تحریکیں چلتی رہیں، 1953 اس حوالے سے زیادہ مشہور سال ہے- ان تحریکوں میں مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری ، مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا مودودی صاحب کو مارشل لاء کے تحت پھانسی کی سزائیں بھی سنائی گئی جنہیں بعد میں ہائ کورٹ نے منسوخ کر کے انہیں باعزت بری کر دیا-
ربوہ میں 29 مئی 1974ء کو مسلمان طلباء پر قادیانیوں نے حملہ کرکے تشدد کیا جسے سانحہ ربوہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی ایک لہر دوڑ گئی- اس واقعہ کے تھوڑا عرصہ بعد مولانا شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی میں 30 جون 1974 کو احمدیوں اور لاہوری گروپ کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول تھے لہٰذا اس باطل عقیدے کی بناء پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے-
اس تحریک میں سب مکاتب فکر کے علماء مثلاً مولانا محمد یوسف بنوری، مفتی محمود اورمولانا مودودی کے علاوہ شیعہ علماء بھی شامل تھے علماء کے علاوہ دیگر بہت سے سیاستدانوں نے حصہ لیا جن میں جناب نوابزادہ نصر اللہ خان کا نام نمایاں ہے- سوائے چند ایک ارکان قومی اسمبلی پاکستان کے اکثر ارکان نے اس قرارداد کی حمایت میں دستخط کر دئیے، مرزائی/قادیانی اور لاہوری گروپ کے نمائندوں کو ان کی خواہش کے مطابق اپنی صفائی کا مکمل موقع دیا گیا اور دوماہ اس پر بحث ہوتی رہی پوری قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی گئی تھی اور کئی کئی گھنٹے کیمرے کے سامنے بیانات و دلائل و جرح کا سلسلہ جاری رہتا، اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار فریقین کے مؤقف کو سن کر ایک دوسرے تک بیان پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ کمیٹی اس بات کی پابند تھی کہ کئی سال تک اس مناظرے کو کہیں نشر نہیں کرے گی-
بہت سے سیاستدان اس تحریک سے قبل اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف تھے، لیکن جب انہیں کیمرے کے سامنے قادیانی نمائندوں (مرزا ناصر وغیرہ) کے قول و اقرار سے اصل صورت حال کا علم ہوا تو وہ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے سلسلے میں سنجیدہ ہو گئے، بالآخر مرزا ناصر سے ایک سوال ہوا کہ اگر کبھی دنیا میں کہیں تم لوگوں کی حکومت قائم ہوجائے تو تم غیر احمدی مسلمانوں کو وہاں کس درجے میں رکھو گے تو اس نے جواب دیا کہ ہم انہیں اقلیت سمجھیں گے، یوں اس کے کلیہ کے مطابق قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اب پاکستان کے مسلمان غیر سرکاری طور پر 7 ستمبر کو یوم ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں-
اللہ پاک پیر مہر علی شاہ صاحب اور ان تمام علمائے کرام کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے برصغیر کے اس سب سے بڑے فتنے کی سرکوبی کی اور مسلمانان ھند کے ایمان کو اس کے زہر سے آلودہ نہ ہونے دیا-
تاریخ اگر ڈھونڈے گی ثانیءِ محمد ﷺ
ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملے گا
Refrences:
پیر مہر علی شاہ اور قادیانیت....فاروق درویش
محاسبہء قادیانیت...................محمد آصف بھلی
کلمہ فصل....................مرزا غلام احمد قادیانی
روحانی خزائن.................مرزا غلام احمد قادیانی
2 Responses
  1. Zafar Says:

    Also write one article about tahir ul qsdri.a and his possible ambitions.


  2. Zafar Says:

    Also write one article about tahir ul qsdri.a and his possible ambitions.


Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers