اب چونکہ آپ حضرات " مولوی اور ماڈل" کے سحر سے نکل چکے ہیں ... اور اگلا بڑا واقعہ بلکہ حادثہ رونماء ہو چکا ہے ، اس لئے یہ عنوان آپ کو کُچھ پھیکا پھیکا لگے گا- لیکن کیا کیجئے کسی کی خودسری و خود نمائ کو سوشل میڈیا پر اچھالنے کا ٹھیکہ بہرحال ہم نے تو نہیں لے رکھا ناں-
شاہ اسمعیل شہید رح کا طوائفوں کے محلّے جا کر انہیں قران سنانے کا تذکرہ اس لئے نہیں کرونگا کہ وہ وقت کے ولی تھے اور اس دور میں طوائف کا لفظ وہ معانی نہیں رکھتا تھا جو آج مستعمل ہے- مولانا طارق جمیل کا تلمبہ کے "کنجر بازار" کو مدرسے میں بدل دینے کا قصّہ بھی یہاں مناسب نہیں کہ میں نے مولانا کو سنا ہے ، ان سے ملاقات کی ہے اور وہ مدرسہ بھی دیکھا ہے ، بلاشبہ وہ اللہ کے ولی ہیں .... یا پھر ولیوں جیسے -
اللہ کے ولیوں کا ظرف اتنا بڑا ہوتا ہے کہ کسی آتش فشاں کو بھی موم بنا کے رکھ دیتے ہیں !!!
ڈی لارا یونین ایک جزیرہ ہے .... مڈگاسکر سے 175 کلو میٹر مشرق کی طرف- یہ فرانس کے زیرکنٹرول ہے- یہاں کی سب سے مشہور چیز وہ آتش فشاں پہاڑ ہے جو کبھی کبھی ابلتا ہے- جب بھی پہاڑ پر جوبن ہوتا ہے ، یہاں سیاحوں کا رش لگ جاتا ہے- آتش فشاں کا ابلتا ہوا لاوہ جزیرے کی چٹانوں سے پانی کی طرح رستہ بناتا ہوا سمندر میں آن گرتا ہے- ہزاروں ڈگری فارن ہائٹ کا حامل لاوہ ٹھنڈے پانی میں گرتا ہے تو بھاپ کے بادل اٹھنے لگتے ہیں-
اس منظر کی تصویر کشی کےلئے سیاح بڑے جتن کرتے ہیں- اور بعد تو ھیلی کاپٹر کرائے پر لیکر اس کی فلم بندی کرتے ہیں- پھر یہ مناظر ٹی وی چینلز اور رسالوں کی زینت بنتے ہیں - سمندر کا پانی گرم لاوے کو نرم سیال میں بدل دیتا ہے ، برسوں بعد یہی سیال چٹان کا روپ دھار لیتی ہے اور اس پر سبزہ اگنے لگتا ہے-
نہ تو آتش فشاں اپنا مقام بدلنے پر قادر نہ ہی سمندر نقل مکانی کی صلاحیّت رکھتا ہے- دونوں اپنی اپنی خصوصیات میں یکتا ہیں- سو یہ تماشا چلتا ہی رہتا ہے-
مولوی بے چارہ کیا کرے ؟ اگر وہ ستّر تالے توڑ کر سنتِ یوسفی بھی ادا کر لے تو انگلیاں اٹھتی ہیں- اگر وہ جے جے کی طرح " ماحول میں ایڈجسٹ " ہونے کی کوشش کرے تب بھی لوگ بولتے ہیں- اور اگر مفتی صاحب کی طرح دیدہ و دل واء کر لے تب بھی تماشا بنتا ہے- خاص طور پر اس ماحول میں جب ہم میں سے ہر کوئ تماشائ بنا ہوا ہے-
انگلیاں اٹھانا اور تنقیص کرنا ہمارا قومی مزاج ہے- اور "مارگزیدہ" مولوی ہو تو وارے نیارے ہیں-
کوئ شخص پیدائشی مولوی نہیں ہوتا- اسے دین کی تعلیم دلائ جاتی ہے- ایک اچھا ماحول دیا جاتا ہے- پھر اسی ماحول کے مطابق وہ ایک مسنون وضح قطع اختیار کر کے مولوی کہلاتا ہے- لیکن اس کے باوجود بہرحال وہ ایک انسان ہے- اور انسان مختلف المزاج ہوتا ہے- مولوی کا مزاج صوفیانہ بھی ہو سکتا ہے ، اور جابرانہ بھی- فنکارانہ بھی ہو سکتا ہے اور عاشاقانہ بھی- ہم تو مولوی کو کرکٹ کھیلتے دیکھ کر بھی حیرت کا اظہار کرنے لگتے ہیں کہ جانے مولوی صاب کو کس کی نظر لگ گئ ہے ؟ کل تک تو اچھا بھلا تھا-
حضرت عیسی ع کا ایک واقعہ کہیں پڑھا ہے کہ ایک بار حوارین کے ساتھ کسی جنگل سے گزر رہے تھے- راستے میں ایک کُتّا مرا پڑا تھا- ایک حواری نے کہا اف کتنی بدبو آ رہی ہے- دوسرے نے کہا دیکھو اس میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں- تیسرے نے تبصرہ کیا دیکھو اس کی کھال کتنی خراب ہو چکی ہے- پیغمبر ع نے کہا یہ بھی تو دیکھو اس کے دانت کس قدر چمک رہے ہیں-
آپ چاہے کچھ بھی تبصرہ کریں مجھے یقین ہے کہ مفتی صاحب کو ان کی "مختلف المزاجی" نے نقصان پہنچایا ہے- شاید اسی وجہ سے ایک سستی ماڈل نے دو ٹکّے کی شہرت کےلئے انہیں استعمال کیا ہے- اب یہ وقت بتائے گا کہ آتش فشاں کا لاوہ سمندر کو بھاپ بنا کر اڑا دیتا ہے یا سمندر اسے ایک نرم سیال میں تبدیل کر کے کارآمد چٹان بناتا ہے-
سوشل میڈیا پر مادر پدر آزادی....معاملہ شعائر اسلام ، ناموس رسالت کی توہین تک پہنچ گیا -عابد محمود عزام-------------------
جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی تعلقات کی نت نئی شکلیں پیدا کرکے ان کے دائرے کو وسیع ترکردیا ہے۔ ان ہی ترقیاتی شکلوں میں نیٹ ورک سوشل میڈیا بھی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں اس میں انتہائی تیز رفتار ترقی ہوئی ہے اور اب سوشل میڈیا نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی کا محور و مرکز بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص فیس بک، ٹوئٹر، لنکڈ اور دیگر بہت سی سوشل سائٹس سے جڑی دنیا کا باشندہ بن چکا ہے۔ آج جملہ ذرایع ابلاغ میں سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ ہورہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا نے الیکٹرانک میڈیا کو بھی مات دے دی ہے، کیونکہ ماضی میں کچھ عرصہ قبل تک الیکٹرانک میڈیا اپنی مرضی سے جو کچھ چاہتا عوام کو دکھاتا اور جس چیز سے چاہتا بے خبر رکھتا، لیکن ممتاز قادری کی پھانسی، جنازے اور دیگر کئی واقعات میں سوشل میڈیا نے یہ ثابت کردیا کہ اب باخبر ہونے کے لیے عوام الیکٹرانک میڈیا کے محتاج نہیں ہیں۔ جس طرح ہر چیزکے مثبت و منفی اثرات ہوتے ہیں،  تفصیل سے پڑھئے
مغرب میں عورت کی باقاعدہ تجارت ہو تی ہے 1997 میں مغربی محقق"کریس ڈی اسٹوب" نے یورپ میں عورتوں کی تجارت پر تحقیق کی اورانکشاف کیا کہ" مغرب میں عورت کی زندگی جہنم ہے، صرف اسپین مین 5 لاکھ خواتین جسم فروشی پر مجبور ہیں، ڈنمارک جس کو ملحدین کا گڑھ کہا جاتا ہے اب اس کو بے غیر نکاح کے شادی کی جنت کہا جا رہا ہے، سوٹزرلینڈ کو اب کلب کی لڑکیوں کا ملک کہا جاتا ہے"۔
مصدر: کریس ڈی اسٹوب/ یورپ میں عورت کی تجارت
دوسری طرف امریکی نیوز چینل CNN نے ایک اخباری رپورٹ نشر کی کہ جس میں Maryland (امریکہ) میں johns Hopkins یونیورسٹی کے اہم تحقیقات پراعتماد کیا گیا ہے جس کے مطابق امریکہ میں ہر سال 2 لاکھ بچوں اورعورتوں کی باقاعدہ غلام کے طور پرخرید و فروخت ہو تی ہے اور ایک لاکھ 20 ہزارعورتیں مشرقی یورپ(روس اور اس کے آس پاس غریب ممالک) سے جسم فروشی کے لیے مغربی یورپ سمگل کی جاتی ہیں ۔
15 ہزارعورتوں کو جسم فروشی کے لیے امریکہ بھیج دیا جاتا ہے جن سے اکثریت کا تعلق میکسیو سے ہو تا ہے۔ مشرقی ایشاء سے لائی جانے والی عورت کو امریکہ میں 16 ہزار ڈالر میں بیچا جاتا ہے جن کو بے حیائی کے اڈوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔
http://saaid.net/female/097.htm
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سے بھی بڑی مصیبت ہو سکتی ہے جواب یہ ہے کہ جی اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ان عورتوں کو بیچتے وقت نمبر اور اسٹمپ لگا یا جاتا ہے۔ برطانوی اخبار" انڈیپنڈنٹ" نے 30 ستمبر 2014 کو ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا"Human Traffickers Victims branded like cattle " جسم فروشی کی غرض سے برطانیہ سے غلاموں کو ٹرکوں میں بھر دیا جاتا ہے پھران کو 200 سے 6000 پاونڈ کے درمیان فروخت کیا جاتا ہے۔
اخبار نے اس کو عورت کی غلامی کہا ہے جس کو جانوروں کی طرح امریکہ اور یورپ میں فروخت کیا جاتا ہے باقاعدہ کمشن والے دلال ہیں جو اس میں ہزاروں ڈالرز کماتے ہیں۔
مگر میڈیا کو مغرب کی برائی نظر نہیں آتی صرف اسلامی دنیا میں تیزاب پھینکنے کے واقعات اور شوہر کی طرف سے تشدد کے واقعات ہی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ مغرب کے ایمج کو خراب نہیں کرنا ہے اسلام کا ایمج خرب بھی ہو جائے کونسی بڑی بات ہے!!
اس میں تو كوئی شك نہیں كہ حضرت الیا س علیہ السلام خدا كے عظیم انبیاء میں سے ایك ہیں اورقرآنى ایات نے یہ مسئلہ صراحت كے ساتھ بیان كیا ہے كہ” الیاس خدا كے رسولوں میں سے تھے”۔( سورہ صافات آیت 123)
اس پیغمبر كانام قران مجید كى دو ایات میں ایا ہے ایك تو سورہ صافات میں اور دوسرا سورہ انعام میں چند انبیاء كے ساتھ ۔لیكن اس بارے میں كہ قران میں جن انبیاء كا نام ایا ہے انہى میں سے ایك پیغمبر كانام الیاس ہے یا یہ كسى پیغمبر كا مستقل نام ہے نیز اس كى خصوصیات كیا ہیں ؟اس ضمن میں مفسرین میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ،ان كا خلاصہ كچھ یوں ہے :
الف:۔بعض كہتے ہیں كہ” الیاس”،”ادریس”كا دوسرانام ہے (كیونكہ ادریس كا دوسرا نام” ادراس” بھى تلفظ ہوا ہے اور وہ مختصر سى تبدیلى كے ساتھ الیاس ہو گیا)۔
ب:۔بعض كا كہنا ہے كہ الیاس بنى اسرائیل كے پیغمبروں میں سے ہیں ”یاسین”كے فرزند ہیں اور موسى علیہ السلام كے بھائی ہارون كے نواسوں میں سے ہیں ۔
ج:۔كچھ كا یہ بھى كہنا ہے كہ الیاس خضر كا دوسرا نام ہے جب كہ بعض دوسروں كا كہنا ہے كہ الیاس خضر كے دوستوں میں سے ہیں اوردونوں زندہ ہیں اس فرق كےساتھ كہ الیاس تو خشكى پر مامور ہیں لیكن خضر جزیروں اوردریاو ں پر مامور ہیں ،بعض دوسرے الیاس كى ماموریت بیابانوں میں اور خضر كى ماموریت پہاڑوں پر خیال كرتے ہیں اور دونوں كے لئے عمر جاودانى كے قائل ہیں ،بعض الیاس كو”الیسع”كا فرزند سمجھتے ہیں ۔
د:۔بعض كہتے ہیں كہ الیاس بنى اسرائیل كے وہى ”ایلیا ”پیغمبرہیں جو”اجاب”بادشاہ بنى اسرائیل كے ہم عصر تھے جنھیں لوگوں نے ”یح”بھى جانا ہے جو مسیح كےتعمیددہندہ تھے ۔
لیكن قران كى ایات كے ظاہر كے ساتھ جو بات ہم آہنگ ہے وہ یہ ہے كہ یہ لفظ مستقلاً ایك پیغمبر كانام ہے اور قران میں جن دیگر پیغمبروں كے نام ائے ہیں یہ انكے علاوہ ہیں جو ایك بت پرست قوم كى ہد آیت كے لئے مامور ہوئے تھے اور اس قوم كى اكثریت ان كى تكذیب كے لئے اٹھ كھڑى ہوئی لیكن مخلص مومنین كے ایك گروہ نے ان كى پیروى كی۔
بعض اس بات پر توجہ كرتے ہوئے كہ اس قوم كے بڑے بت كا نام”بعل” تھا یہ نظریہ ركھتے تھے كہ یہ پیغمبر سر زمین ”شامات”میں مبعوث ہوئے تھے اور ان كى فعالیت كامركز شہر”بعلبك”تھا جو اس وقت لبنان كا حصہ ہے اور شام كى سرحد پر واقع ہے۔
بہرحال اس پیغمبر كے بارے میں مختلف داستانیں كتابوں میں بیان كى گئی ہیں اور چونكہ وہ قابل اعتماد و اطمینان نہیں لہذاہم نے انھیں نقل نہیں كیا۔
پیغمبرخدا مشركین كے مقابلے میں قران میں جناب الیاس علیہ السلام كے واقعہ كو بیان كرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :اس وقت كویاد كرو جب اس نے قوم كو خبردار كیا اور كہا:”كیا تم تقوى اختیارنہیں كرتے”؟( سورہ صافات آیت 124)
آگےچل كر قرآن میں اس مسئلہ كے بارے میں ،اس سے بھى زیادہ صراحت كے ساتھ بیان فرماتاہے :”كیا تم” بعل ”بت كو پكارتے ہواور بہترین خالق كوچھوڑرہےہو”۔( صافات آیت 125)
اس سے واضح ہو جاتا ہے كہ ان كا ایك معروف بت تھا ،جس كانام”بعل”تھا۔ اور وہ اس كے سامنے سجدہ كیا كرتے تھے حضرت الیاس علیہ السلام نے انھیں اس قبیح
عمل سے روكا اور عظیم افریدگار عالم اور توحید خالص كى طرف دعوت دی۔
اسى وجہ سے ایك جماعت كا نظریہ ہے كہ حضرت الیا س علیہ السلام كى فعالیت كا مركز” شامات” كے شہروں میں سے شہر ”بعلبك ”تھا۔كیونكہ ”بعل”اس مخصو ص بت كانام تھا اور ”بك”كا معنى ہے شہر۔ ان دونوں كى اپس میں تركیب سے ”بعلبك ”ہوگیا،كہتے ہیں كہ سونے كا اتنا بڑا بت تھا كہ اس كا طول بیس ہاتھ تھا ،اس كے چارچہرے تھے اور اس بت كے چار سوسے زیادہ خادم تھے البتہ بعض كسى معین بت كو ”بعل”نہیں سمجھتے بلكہ بت كے مطلق معنى میں لیتے ہیں مگر بعض دوسرے اسے ”رب اور معبود”كے معنى میں سمجھتے ہیں ۔
بہر حال الیاس علیہ السلام نے اس بت پرست قوم كى سخت مذمت كى اور مزید كہا :”اس خدا كو چھوڑ رہے ہو جو تمہارا اور تمہارے گزشتہ اباواجدادكاپروردگارہے۔”(سورہ صافات 126)
تم سب كامالك و مربى وہى تھا اور ہے ،اورجو نعمت بھى تمہارے پاس ہے وہ اسى كى طرف سے ہے اور ہر مشكل كا حل اسى كے دست قدرت سے ہوتا ہے ، اسكےعلاوہ نہ تو خیر و بركت كا كوئی اور سر چشمہ موجود ہے اور نہ ہى شرو افت كا كوئی اور دفع كرنے والا ہے ۔
قوم الیاس علیہ السلام كارد عمل
لیكن اس سرپھر ى اور خود پسند قوم نے خدا كے اس عظیم پیغمبر كے استدلالى پند و نصائح اور واضح ہدایات پر كان نہ دھرے اور ”اس كى تكذیب كے لئے اٹھ كھڑےہوئے ”۔( سورہ صافات127)
خدا نے بھى ان كى سزا كو ایك مختصر سے جملے میں بیان كرتے ہوئے كہہ دیا” :وہ بار گاہ عدل الہى اور اس كى دوزخ كے عذاب میں حاضر كئے جائیں گے ۔”(سورہ صافات127)اور اپنے قبیح اور بد اعمال كى سز اكا مزا چكھیں گے۔ لیكن ظاہر ہوتا ہے كہ چھوٹا سانیك ،پاك اور مخلص گروہ حضرت الیاس علیہ السلام پر ایمان لےایاتھالہذا ان كا حق فراموش نہ كرتے ہوئے بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے :”مگر خدا كے مخلص بندے۔”(سورہ صافات128)
قران اس واقعہ كے اخر میں فرماتا ہے :”ہم نے الیاس كا نیك نام بعد والى امتوں میں جاوداں كر دیا۔”(سورہ صافات129)دوسرے مرحلے میں قران مزیدكہتاہے:”الیاسین پر سلام و درود ہو۔”(سورہ صافات130)( ”الیاس ”كى جگہ ”الیاسین ”انا اس وجہ سے ہے كہ الیاسین بھى الیاس كے ہم معنى ہیں یا الیا س اوران كے پیرو كاروں كے لئے ایا ہے)
تیسرے مرحلے میں فریاماگیا ہے :”ہم نیكوں كاروں كو اسى طرح سے بدلہ دیا كرتے ہیں ۔”(سورہ صافات131)
چوتھے مرحلے میں ان تمام باتوں كى اصل بنیادى یعنى ایمان كا ذكر ہے :یقینا وہ (الیاس )ہمارے مومن بندوں میں سے ہے ”(سورہ صافات132)
”ایمان ”و”عبودیت”احسان كا سر چشمہ ہے اورا حسان مخلصین كى صف میں شامل ہونے اور خدا كے سلام كا حقدار ہونے كا سبب ہے ۔
ھندوستانی قوم کی بدقسمتی ہے کہ دوگز لٹھا خریدنے کےلیے پچاس دکانوں کے تھان کھلوائیں گے.... دو کلو آلو لینے کےلیے دو کوس دور سستے بازار کا رخ کریں گے....
لیکن جب معاملہ مذہب کا ہو تو وجدنا اباءنا کذلک یفعلون پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں ....
یا پھر جو مولوی صاحب نے فرما دیا .... سبحان اللہ .... ماشاءاللہ !!!!
ہمیں یا تو اسلام کا درس جمعہ کے خطبے سے ملتا ہے ... یا کسی مذہبی جلسے میں جاکر ہم ایمان تازہ کر آتے ہیں- جلسے کے بعد اگر تبرک یا شیرینی میسر ہو جائے تو ایمان کے ساتھ ساتھ منہ کا ذائقہ بھی تازہ ہو جاتا ہے- ہم تحقیق کے معجون مرکب سے اپنے منہ کا ذائقہ کیوں خراب کریں .... قران کا ترجمہ، احادیث کی شرع، فقہ کی تعلیم ....یہ سب مولوی کے دھندے ہیں .... ہماری بلا جانے .... !!!     تفصیل سے پڑھئے
حمزہ علی عباسی صاحب...........!!!
آپ نے سوال پوچھا تھا کہ: کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے...؟؟؟
جواب حاضر ہے................!
١- یہ ذوالحمار اسود عنسی ہے، یمن کا باشندہ۔ چرب زبانی اور کہانت کے زور پر اور گدھے کے ساتھ شعبدہ بازی دکھا کر لوگوں کو بے وقوف بناتا ہے، اور کچھ عرصے میں انھیں گرویدہ پا کر نہ صرف نبوت کا دعویٰ کر ڈالتا ہے، بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر حاکم صنعا کو شہید کرکے دارالحکومت پر قبضہ کر لیتا ہے۔ ریاست مدینہ کے سربراہ آنحضور ﷺ کو خبر ہوتی ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنھم کو اس ملعون مدعی نبوت کی سرکوبی کے لیے متعین فرمایا جاتا ہے۔ چنانچہ حکمت سے یہ ملعون قتل ہوتا ہے، پیروکاروں کی بڑی تعداد ماری جاتی ہے۔ رحلت سے ایک رات پہلے بذریعہ وحی الٰہی آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ' آج رات اسود عنسی مارا گیا، ایک مردِ مبارک نے اسے مارا ہے، نام اس کا فیروز ہے۔ پھر فرماتے ہیں ''فاز فیروز'' فیروز کامیاب ہوگیا؛
٢- یہ مسیلمہ کذاب ہے۔ ہو بہو مرزا قادیان جیسا۔ آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لاتا مگر اپنی جھوٹی نبوت کا دعوی بھی ساتھ کرتا۔ یہاں تک کہ اذان میں " اشھد ان محمدا رسول الله" پکارا جاتا تو وہ اس کی گواہی دیتا۔ اس کے پیروکار کلمہ اسلام پڑھتے، قرآن پر ایمان لاتے، اذان اور اقامت بھی یہی، اور مساجد بھی بناتے اور قلبہ رو ہو کر نمازیں بھی پڑھتے۔ مگر بالاجماع صحابه کرام رضوان الله تعالی علیهم اجمعین نے اس جھوٹے نبی اور اس پر ایمان لانے والوں کو کافر سمجھا۔ اور جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی سرکوبی کے لیے لشکر روانہ فرمایا تو کسی ایک نے بھی جنگ سے انکار نہیں کیا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں، نماز، روزه، حج، زکوة ادا کرتے ہیں،ان کو کیسے کافر سمجھ لیا جائے؟ (جیسا کہ آج کل قادیان کے وکلا کہہ رہے رہیں) اس بدبخت نے آپ ﷺ کی خدمت میں ایک خط بھیجا کہ میں رسالت میں تمہارا شریک کیا گیا ہوں۔ آدھی زمین ہماری ہے اور آدھی قریش کی، مگر قریش ایسی قوم ہے جو ظلم کرتی ہے۔ اس کذاب کے ساتھ حتمی معرکے میں سیف اللہ جناب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سپہ سالار ہیں۔ کذاب کا لشکر 40 ہزار جبکہ مسلمانوں کا لشکر 24 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ معرکے میں 21 ہزار اور بعض روایات کے مطابق 28 ہزار منکرین ختم نبوت جہنم واصل ہوتے ہیں ۔ جبکہ 1200 صحابہ کرام و تابعین شہادت کے مرتبے سے سرفراز ہوتے ہیں، 700 ان میں سے حفاظ ہیں۔ مسیلمہ کذاب حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچتا ہے، وہی وحشی جنھوں نے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا۔
٣- یہ مشہور قبیلہ طے کا طلیحہ اسدی ہے، اس نے بھی دیکھا دیکھی میں نبوت کا جھوٹا دعوی کر دیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی سرکوبی کےلیے بھی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر بھیجا جس نے اس کذاب کو شکست سے دوچار کیا۔اور یہ مختار بن عبید ثقفی بھی نبوت کا مدعی ہے جسے حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے انجام سے دوچار فرمایا۔
دیکھ لیجئے...!!!
یہ آنحضور ﷺ اور صحابہ کرام کا طرز عمل ہے، جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکار نہ صرف کافر بلکہ واجب القتل تھے اور ان کے خلاف جنگ کی گئی، اور شکست سے دوچار کرکے ان کا خاتمہ کر دیا گیا۔ خلیفہ اول سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جھوٹے مدعیان نبوت کی سرکوبی کےلیے مجموعی طور پر 11 لشکر ترتیب دیے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اگر ابوبکر آپ ﷺ کے بعد خلیفہ نہ بنائے جاتے تو روئے زمین پر اللہ کی عبادت نہ کی جاتی۔
لیکن ٹھہرئیے... بات ابھی جاری ہے...!!!
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے دور حکومت کے بعد بھی جب کبھی کسی فاترالعقل نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو مسلم حکومتوں نے خارج از اسلام قرار دے کر ان سے جنگ کی، اور گرفتار کرکے سزائے موت دی۔ حتیٰ کہ بعض عرصے تک عبرت کے لیے سولی پر لٹکا کر رکھے گئے۔ ان جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے انجام کی تفصیل یہ ہے:
حارث کذاب دمشقی عبد الملک مروان کے حکم پر ہلاک کیا گیا۔ مغیرہ بن سعید عجلی اور بیان بن سمعان تمیمی، دونوں کو امیر عراق خالد بن عبد اﷲ قسری نے زندہ جلا کر راکھ کر دیا۔ بہا فرید نیشا پوری کا سر ابو مسلم خراسانی نے قلم کیا۔ اسحاق اخرس مغربی ابو جعفر منصور کی فوج سے شکست کھا کر ہلاک ہوا۔ استاد سیس خراسانی کو ابوجعفر منصور کے حکم پر خازم بن خزیمہ نے شکست دی اور گرفتار کر کے گردن اڑا دی۔ ابوعیسیٰ بن اسحاق یعقوب اصفہانی بھی انھی ابوجعفر منصور کے حکم پر قتل کیا گیا۔ علی بن محمد خارجی، خلیفہ معتمد کے زمانے میں موفق نے اس کی فوج کو شکست دے کر اس کا سر کاٹ کر نیزوں پر چڑھایا۔ بابک بن عبد اﷲ ، خلیفہ معتصم کے حکم پر اس کا ایک ایک عضو کاٹ کر الگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ علی بن فضل یمنی کو بغداد کے لوگوں نے زہر دے کر ہلاک کر دیا۔ علی بن محمد عبدالرحیم کو المعتمد علی اللہ، ابوسعد حسن بن سیرام کو المعتضد باللہ اور محمد بن علی شمغانی کو راضی باللہ کے حکم پر قتل کیا گیا۔ عبد العزیز باسندی کو لشکر اسلامی نے محاصرہ کر کے شکست دی اور سر کاٹ کر خلیفہ المسلمین کو بھجوا دیا۔ حامیم مجلسی قبیلہ معمودہ سے احواز کے مقام پر ایک لڑائی میں مارا گیا۔ ابو منصور عسبی برغواطی کو بلکین بن زہری سے جنگ میں شکست ہوئی اور ہلاک ہوا۔ اصغر تغلبی کو حاکم نصر الدولہ بن مروان نے دستہ بھیج کر گرفتار کروایا اور جیل میں ڈال دیا جہاں یہ ہلاک ہوا۔ احمد بن قسی نے کو حاکم عبد المومن نے گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا جہاں یہ ہلاک ہوا۔ عبد العزیز طرابلسی کو حاکم طرابلس کے حکم پر ایک لشکر نے گرفتار کر کے قتل کر دیا۔
لہذا امت مسلمہ کے ہاں یہ ایک طے شدہ معاملہ ہے کہ:
مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست، خلفائے راشدین کے دور اور مابعد کی مسلم تاریخ میں کبھی کسی حکومت کو اشکال نہیں رہا کہ اس نے جھوٹے مدعیان نبوت اور اس کے پیروکاروں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے، مرزا قادیان کی خوش قسمتی کہہ لیجیے کہ اس نے برطانوی دور میں جنم لیا۔ اگر اس وقت برصغیر میں مغل حکومت کر رہے ہوتے یا کوئی اور مسلمان حکمران ہوتا تو اس کا انجام اپنے پیشرئووں سے مختلف نہ ہوتا۔ مرزا قادیان کے غم میں گھلنے والوں کو خوش ہونا چاہیے کہ پاکستانی ریاست نے آئینی راستہ اختیار کرکے ایک لحاظ سے اس اقلیت کو تحفظ فراہم کیا ہے، اور انھیں اپنے معاملات کی انجام دہی میں آزادی ہے باوجودیکہ کہ وہ پاکستان کا آئین اور قانون ماننے کےلیے تیار نہیں ہیں۔ مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی یاد آتے ہیں، فرماتے تھے ”ردة ولا ابا بکرلہا“ کہ ارتداد نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے، مگر افسوس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ابوبکرصدیق نہیں ہے۔
امید ہے کہ...!!!
آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہو گا-
عثمانی خلافت میں عائلی قوانین اور خاص کر شادی کا قانون بہت زبردست تھا۔ اکتوبر 1922 میں جس قانون کا اجرا کیا گیا اس کی چند شقیں نظر سے گزری جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے:
1 ۔ شادی کی عمر 18 سال ہے، 25 سال کی عمر تک جس نے شادی نہیں کی ریاست اس کو شادی پر مجبور کرے گی۔
2 ۔ جو شخص کسی بیماری کا بہانہ کر کے 25 سال کے بعد بھی شادی نہ کرے تو ریاست اس کا میڈیکل چیک اپ کرے گی اگر قابل علاج بیماری ہو تو اس کا علاج کیا جائے گا اگر ناقابل علاج ہو تب اس کا عذر قبول کیا جائے گا۔
3 ۔ بغیر کسی عذر کے جو شخص 25 سال کی عمر کے بعد بھی شادی نہ کرے تو اس کو اپنے آمدن کا 25 ٪ ریاست کو دینا ہو گا جس کو ان لوگوں پر خرچ کیا جائے گا جو شادی تو کرنا چاہتے ہیں مگر پیسوں کی ضرورت ہے۔
4 ۔ جو بھی شخص 25 سال کی عمر کے بعد بھی غیر شادی شدہ ہو وہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے نااہل ہو گا اگر پہلے سے ملازم ہو برطرف کیا جائے گا۔
5 ۔ ہر وہ شخص جس کی عمر 50 سال سے اوپر ہو اور وہ صحتمند اور تندرست ہواور ایک ہی شادی کی ہواور مالی لحاظ سے بھی دوسری شادی کے قابل ہو تو اس کو دوسری شادی کی ذمہ داری دی جائے گی تاکہ وہ معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے میں کردار ادا کرے اگر وہ بلاوجہ دوسری شادی سے انکار کرے تو ایک سے تین فقراء کی کفالت کی ذمہ داری اس پر ڈال دی جائے گی۔
6 ۔ جو شخص 18 سے 25 سال کی عمر کے دوران شادی کرے اور وہ مالی لحاظ سے کمزور ہو تو ریاست اس کو اس کے گھر سے قریب تر جگہ میں 150 سے 300 "دونم"تک زمین مفت دے گی، ایک دونم 900 میٹر ہو تا ہے۔
7 ۔ اگر وہ کوئی ہنر مند یا صنعت کار ہو تو اس کو زمین کی بجائے 100 عثمانی لیرہ بلاسود تین سال کے لیے قرضہ دیا جائے گا۔
8 ۔ جو شخص 25 سال سے کم عمر میں شادی کرے اور اس کا کوئی اور تندرست بھائی بھی نہ ہو جو والدین کی خدمت کرتا ہو تو اس کو عسکری خدمت سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا، اسی طرح جس لڑکی کی شادی ہو جائے اور اس کے والدین کی خدمت کرنے والا کوئی نہ ہو تو اس کے شوہر کو عسکری خدمت سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
9 ۔ ہر وہ شخص جو 25 سال سے کم عمر میں شادی کرے اور اس کے تین بچے بھی ہو جائیں تو ان کی تعلیم کا تمام خرچہ سرکار کا ہو گا اگر تین سے زیادہ ہوں تو تین کو مفت تعلیم باقی کو 13 سال کی عمر تک دس لیرہ ملے گا، جس عورت سے چا ر بیٹے پیدا ہوں اس کو اعزای 20 لیر ہ دیا جائے گا۔
10 ۔ جو شخص ریاست کے اندر یا باہر کہیں بھی تعلیم مکمل کرنے میں مصروف ہو اور شادی کو موخر کرنے کی درخواست کرے تو اس کو تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
11 ۔ جو شخص کسی بھی کام کے لیے بیرونی سفر پر جائے تو اپنی بیوی کو ساتھ رکھے گا ورنہ اس کو منا کرجائے گا اور اس ملک میں دوسری شادی کرے گا واپس آکر دونوں بیویوں کو ساتھ رکھے گا۔
اکبر بادشاہ نے بیربل کو کہا کہ اسکے مملکت میں سے 5 احمق ترین لوگوں کو ایک مہینے میں تلاش کرکے اس کے حضور پیش کیا جائے.
ایک مہینے کی جدوجہد کے بعد بیربل نے صرف 2 احمقوں کو پیش کیا.
اکبر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تو 5 احمقوں کو پیش کرنے کا کہا تھا.
بیربل نے کہا کہ مہاراج، مجھے ایک ایک کرکے احمقوں کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے.
بیربل نے پہلا احمق پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا احمق اسلیے ہےکہ بیل گاڑی میں سوار ہونے کے باوجود اس نے سامان اپنے سر اٹھایا ہوا تھا.
دوسرے احمق کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کے گھر کی چھت پر بیج پڑے تهے. ان بیجوں کی وجہ چهت پر گھاس اگ آئی. یہ شخص اپنے بیل کو لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بیل چھت پر چڑھ کر گھاس چر لے.
بیربل نے کہا مہاراج، بطور وزیر مجھے اہم امور سلطنت چلانے تهے. مگر میں نے ایک مہینے ضائع کیا اور صرف 2 احمق تلاش کئے. اسلئے تیسرا احمق وہ خود ہے.
بیربل نے ذرا سا توقف کیا. تو اکبر چلایا کہ چھوتا احمق کون ہے.
بیربل نے عرض کیا کہ مہاراج، جان کی امان پاؤں تو عرض کروں.
اس نے کہا کہ مہاراج، آپ بادشاہ وقت ہیں اور تمام رعایا اور سلطنت کے امور چلانے کے ذمہ دار ہیں. مگر قابل ترین اور اہل افراد کو تلاش کرنے کی بجائے آپ نے احمق ترین لوگوں کو تلاش کرنے میں نہ صرف اپنا وقت برباد کیا بلکہ ایک اہم وزیر کا وقت برباد کیا. لہٰذا چوتھے احق آپ ہیں.
مہاراج، پانچواں احمق یہ شخص ھے. جو کہ فیس بُک سے چمٹا ہوا ہے. اور اپنے دفتری فرائض اور خاندانی امور سے لاپرواہی برت رہا ہے. اور اپنا قیمتی وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں کر رہا ہے.
اکبر نے فوراً حکم دیا کہ اس کو جلد از جلد شیر کرو .کیونکہ بہت سارے احمق ترین لوگ ایسی پوسٹوں کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں.
 ایک ویران سی جگہ پر واقع کھنڈر نما مکان سے 19نومبر 2011کوایک ایسے شخص کو گرفتار کیا گیا جو اس کمرے میں تقریباً پچھلے پانچ یاچھے ماہ سے چھپا ہو ا تھا وہ شدید زخمی اور بیمار تھا کمرے کی حالت اتنی خستہ تھی کہ اس میں نہ تو کوئی روشنی کامناسب انتظام تھا اور نہ ہی کمرے میں تازہ ہوا آنے کا کوئی راستہ موجود تھا یہاں تک کہ کمرے میں باتھ روم تک کی سہولت بھی میسرنہ تھی۔ اُس شخص کا کھانا پینا سونا اور پیشاب وغیرہ کرنا سب کچھ اسی کمرے کی چار دیواری کے اندر ہی محدود تھا۔ جب اس شخص کو گرفتار کیا گیا تو اُس کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا تھا جیسے وہ کئی دنوں سے بھوکا پیاسا ہے اور کئی ہفتوں سے نہایا ہوا بھی نہیں ہے۔ اس کمرے میں پڑ ا میٹرس تکیہ اور کمبل اس قدر گندہ اور بدبو دار تھا کہ ان کو استعمال کرنا تو رہی دور کی بات دیکھ کر بھی گھن آرہی تھی۔ گندے اور بدبو دار کمبل میں لپٹا ہوا جو شخص گرفتار ہوا وہ شخص کوئی عام آدمی نہیں تھابلکہ کچھ عرصہ پہلے تک وہ دنیا کا ایک امیر ترین آدمی تھا-  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے جو کچھ سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پرہو رہا ہے ۔ وہ شرمناک ہے۔ عبرتناک ہے۔ الم ناک ہے۔ کسی بھی شخص کی بیماری کے حوالے سے تمسخر، تضحیک اور طعنہ زنی ہماری روایت ہے نہ ہمارے پرکھوں کا ورثہ، نہ ہماری تہذیب ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے نہ تمدن اس بات کا غماز ہے۔ نہ ایسے نازک موقع پر نفرتوں کا کاروبار ہماری سرشت ہے نہ یہ اخلاقی معیار ہے۔ نہ یہ ٹھٹھے بازی سماجی اقدار کا حصہ ہیں، نہ ہماری ثقافت ہمیں یہ سبق دیتی ہے۔ نہ مذہب اس کی تعلیم دیتا ہے نہ معاشرہ اس کی تلقین کرتا ہے۔   تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers