ممتاز سکالر یوسف حسن نے اپنی ایک پوسٹ میں ریاست بہاولپور کے آخری نواب کی جنسی سرگرمیوں کی کچھ تفصیل بیان کی ہے اسکے مطالعہ کے بعد میں اسے جنسی بھٰیڑیا کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں ۔
بہاولپور ایک صحرائی اور غیر ترقی یافتہ دور افتادہ ریاست تھی جس پر برٹش نے بھی قبضۃ کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کمال مہربانی فرماتےہوئے بہاولپور کو سلطنت پنجاب کی ایک زیلی ریاست کے طور پر زندہ رہنے دیا تھا لیکن اس قدر غیر اہم ریاست کے حکمران کے الے تللے ملاحطہ ہوں کہ اس کے حرم سرا میں تین سو نوے عورتیں موجود تھیں جن سے وہ اپنی ہوس کی پیاس بجھاتا تھا 1955
میں جب ریاست بہاولپور کی جداگانہ حٰئثیت ختم کردی گئی تو پاک فوج نے اس کے محل کا چارج لیا ۔ محل سے پاک فوج کوتقرئبا چھ سو سے زائد جنسی کھلونے اور اوزار بھی ملے جن میں سے کئی انگلینڈ سے خریدے گئے تھے اور کئی مٹی کے بنے ہوئے بھی تھے ۔
مغرب میں جنسی کھلونوں کا استعمال نوجوان نسل میں عام ہے لیکن یہاں مقیم عام مسلمانوں اور پرانے گوروں کو جنسی کھلونوں کا استعمال اب بھی نہیں پتہ ،
اب قابل غور بات یہ ہے کہ نصف صدی سے زاید عرصہ پہلے ایک دورافتادہ پسماندہ ریگستانی ریاست بہاولپور کا نواب ان جنسی کھلونوں کا شیدائی تھا جبکہ ان اشیا کوعام مغربی فیملی میں موجودہ دور میں بھی اچھی نظروں سے نہیں دیکھاجاتا ۔ نواب بہاولپور اپنی شہوانیت کی وجہ سے جلد ہی نامردی کا شکار ہوگیا تھا ۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے نام نہا دسرائکی قوم پرست ریاست بہاولپور کی دہائی دیتے رہتے ہیں اور اس نواب کے قصیدے پڑھتے رہتے ہیں جو ایک جنسی مریض تھا ۔
کیا یہی سرائکی قوم پرستی یے کہ افغانی ایجنٹ سدوزئی کو اپنا ہیرو مان لو یا نواب بہاوپلور جیسے جنسی مریض کو قومی ناخدا ،،،،،،،،،،،،
صرف اور صرف پنجاب دشمنی میں ؟؟؟
سرائکی قوم پرستوں کو کچھ شرم کرنی چاہئے ، انھیں چاہئے کہ اب سدوزئی اور نواب بہاولپور کو اپنا ہیرو مان کر الگ سرائکی قوم کا کھڑاک بند کرکے خود کو عظیم پنجابی قوم کا حصہ بننے میں فخر محسوس کریں ۔
نواب بہاولپور کی جنسی سرگرمیوں کا تزکرہ اس کتاب میں کیا گیا ہے
.. Islamic Slavery By M.A. Khan
کیا آپ جانتے ہیں کہ پلاسٹک کی بوتلوں پر یہ نمبرز کیوں لکھے جاتے ہیں؟ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
پلاسٹک سے بنی بوتلیں ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ آپ ان بوتلوں میں موجود اشیا استعمال کرتے ہیں اور پھر ان کو ضائع کر دیتے ہیں، لیکن کبھی اس چیز پر غور نہیں کیا ہوگا کہ ان بوتلوں کے نیچے تکونیں بنی ہوتی ہیں جن میں کچھ نمبرز درج ہوتے ہیں۔
اگر پلاسٹک کی بوتل کے نیچے بنی تکون میں نمبر 1 درج ہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہ بوتل پولی تھین ٹیریپھتلیٹ سے بنی ہے۔ اس پلاسٹک سے بنی بوتلیں عام طور پر پانی اور سافٹ ڈرنکس کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کو صرف ایک مرتبہ ہی استعمال کیلئے بنایا جاتا ہے۔ اس لئے پراڈکٹ کو استعمال کرنے کے بعد ان بوتلوں کو ضائع کر دینا چاہیے۔
اگر کسی پلاسٹک کی بوتل کے نیچے بنی تکون میں نمبر 2 درج ہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ہے کہ اسے ڈٹرجنٹ اور شیمپو جیسی اشیا کو محفوظ کرنے کیلئے بنایا گیا ہے
۔اگر بوتل کے نیچے بنی تکون میں نمبر 3 درج ہو تو خبردار ہو جائیں کیونکہ اس پلاسٹک کو پولی ونائل کلورائیڈ سے بنایا گیا ہے۔ اس قسم کے پلاسٹک کو صرف چند ایک اشیا کو محفوظ کرنے کیلئے ہی بنایا جاتا ہے جیسے مونگ پھلی سے بنے مکھن وغیرہ
اگر کسی پلاسٹک سے بنی اشیا کے نیچے نمبر 4 درج ہو تو بے فکر ہو جائیں کیونکہ اسے آپ دوبارہ اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ اس قسم کے پلاسٹک سے شاپنگ بیگز بنائے جاتے ہیں۔
سب سے محفوظ پلاسٹک وہ ہوتا ہے جس پر بنی تکون کے اندر نمبر5 درج ہو۔ اس قسم کے پلاسٹک سے آئس کریم کپ، ڈرنکنگ سٹراز، سیرپ کی بوتلیں اور ادویات کو محفوظ رکھنے والی اشیا بنائی جاتی ہیں۔
اگر پلاسٹک کی بنی کسی اشیاءکے نیچے آپ کو نمبر 6 اور 7 لکھا نظر آئے تو جان لیں یہ خطرے کا نشان ہے۔ اس قسم کے پلاسٹک کو پولی سٹائرین اور پولی کاربونیٹ بسفنول اے سے بنایا جاتا ہے۔ اس قسم کا پلاسٹک انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس پلاسٹک کا لگاتار استعمال آپ کو کینسر جیسے موذی مرض اور دل کے عارضے میں بھی مبتلا کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کے پلاسٹک سے چمچ، بوتلیں اور دیگر اشیا بنائی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ پلاسٹک سے بنی اشیا میں آپ نے چمچ اور گلاس کا نشان بنا بھی دیکھا ہوگا۔ اس نشان کا مطلب ہے کہ یہ پلاسٹک کھانے پینے کی اشیا کیلئے محفوظ ہے۔
غیر مسلموں کا ایک طبقہ خصوصا عیسائی مشنریز یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھانے اور اسے مارنے کا حکم دیتا ہے ۔گزشتہ کچھ دنوں سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا شیرانی کے بیان کو لے کر لبرل طبقے نے بھی اسی انداز میں طوفان اٹھایا ہوا ہے ۔ عیسائی معترضین قران مجید سورۃ نساء کی آیت 34 کو بطور دلیل پیش کر تے ہوئے اسلام کو نشان بناتے ہیں اور لبرلوں نے فی الحال مولانا شیرانی کی آڑ لی ہوئی ہے۔
مسئلے کی حقیقت سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قران کے کسی بھی ایک لفظ یا ایک آیت کو لے کر اس کی من مانی تشریح کرنا اور اپنا مقصد ثابت کرنے کے لیۓ استعمال کرنا کوئی درست اور منطقی علمی طریقہ نہیں ہے ۔ ہر آیت کو اس کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوۓ اسلامی اطوار و تعلیمات کے ساتھ ملا کر اس کا معنی سمجھنا ضروری ہوتا ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
پاکستانی فوج 1998 کے آخر میں کارگل کے علاقے میں گھسنا شروع کرتی ہے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیتی ہے جسکی خبر نہ بھارتی فوج کو ہوتی ہے نہ ہی بھارتی را کو ہوتی ہے۔۔۔
کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
130 مقامات پر قبضہ ہو جاتا ہے اور بھارت میں کسی کو اس بارے میں علم نہیں ہوتا ۔۔۔ کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
6 ماہ گزرنے کے بعد بھارتی فوج کے 60 فوجی اس علاقے میں جاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں بھارت میں کسی کو بھی اس بات کی خبر نہیں ہوتی ---کارگل بھارت کی جیت
کچھ دن بعد دوبارہ ان فوجیوں کو ڈھونڈنے کم از کم 300 فوجیوں کو بھیجا جاتا ہے جن میں سے کوئی بھی واپس نہیں آتا۔۔۔
کارگل بھارت کی جیت ؟؟؟
اسی چکر میں بھارتی فوج پرانے فوجیوں کو تلاش کرنے کے چکر میں نئے فوجی بھیجتی رہی اور 500 تک بھارتی فوجی مارے جاتے ہیں۔۔۔۔
کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
بھارتی فوج کو جب یہ نظر آتا ہے کہ معاملہ زیادہ خراب ہے کوئی جانے والا واپس نہیں آرہا تو اس علاقے میں بھارتی فوج کی 27 بٹالین 30،000 تک آرمی بلوالی جاتی ہے جب کے دوسری طرف ہماری فوج اور مجاہدین کی تعداد صرف 5000 تک ہوتی ہے۔۔۔
کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
بھارتی فوج اپنی ائیر فورس کا استعمال کرتی ہے پاکستانی فوج نہیں دوسری طرف بھارتی را اور بھارتی فوج یہ جاننے میں ناکام رہے کہ انکے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔۔
کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
بھارتی فوج کو جب اپنی ائیرفورس کی مدد سے لی گئی تصویروں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس پورے علاقے میں پاک فوج نے اور مجاہدین نے قبضہ کرلیا ہے تو اس علاقے کو خالی کروانے کیلئے آپریشن کا آغاز کیا جاتا ہے بھارتی فوج"1 naga regiment" کو یہ زمہ داری دیتی ہے لکین اسکا حال بھی پاک فوج کے باتھوں پہلے فوجیوں جیسا ہی ہوا ان میں سے بھی سب مارے گئے سوائے ایک دو کے جو اپنی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور باقی فوجیوں کی لاشیں اسی پہاڑی علاقے میں بکھری پڑی رہی اسکے بعد اس علاقے کو خالی کروانے کیلئے "18 grenadiers" کو زمہ داری دی جاتی ہے انکا حشر بھی ان جیسا ہی ہوتا ہے یہ بھی لڑنے میں ناکام رہتے ہیں اور مارے جاتے ہیں ان میں سے کچھ زخمی حالت میں پکڑے جاتے ہیں جو اپنے بھگوان کا واسطہ دے کر وہاں سے زندہ بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔۔۔
کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
بھارتی ائیر فورس اپنے آپریشن "operation safed sagar" کا آغازکرتی ہے بھارتی جہاز جو اس علاقے میں بھیجا جاتا ہے تباہ کر دیا جاتا ہے اسکے کچھ دن بعد چار mig 27 اس علاقے میں حملہ کرنے کیلئے بھیجے جاتے ہیں جن میں سے ایک پھر پاکستانی مزائل کے نشانے میں آکر تباہ ہوجاتا ہے اور اسکا پائیلٹ پکڑ لیا جاتا ہے اسکی تلاش میں دوسرا پائیلٹ اشوک آہوجا آتا ہے جسکا جہاز بھی تباہ کر دیا جاتا ہے اور پائیلٹ مارا جاتا ہے اسی طرح بھارتی ائیر فورس کے دو ہیلی کاپٹرز بھی اس علاقے میں بھیجے جاتے ہیں جن کو مزائلوں سے تباہ کر دیے جاتے ہیں پائیلٹ سمیت اندر بیٹھے تمام فوجی مارے جاتے ہیں اس طرح بھارتی فوج اپنی تمام فضائی آپریشن بند کر دیتی ہے اور "operation safed sagar" بری طرح سے ناکام ہو جاتا ہے
کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
دوسری طرف زمینی فوج کا "operation vijay" بھی بری طرح سے ناکام ہوگیا کیونکہ اس 2 ماہ کی لڑائی میں بھارتی فوج صرف اپنے ساتھیوں کی لاشیں ہے اٹھاتی رہی وہ بھی رات کے اندھیرے میں تاکہ انکواور زیادہ نقصان نہ اٹھانا پڑے کیونکہ پہلے ہی بھارتی فوج کے ہزاروں فوجی مارے جا چکے تھے پاکستانی ٹی وی چینل پر جب بھارتی ائیر فورس کا کچرا اور بھارت فوج کو جو نقصان ہوا وہ دیکھایا جاتا ہے تو بھارت میں پی ٹی وی چینل بند کر دیا جاتا ہے۔۔۔دینا میں اپنی کٹتی ہوئی ناک کو چھپانے کیلئے بھارت نے بل کلنٹن کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان کو پولے اس علاقے کو خالی کرنے کیلئے کیونکہ بھارت کے جتنے فوجی مارے جا چکے تھے بھارت کی طرف تابوتوں کی کمی ہوگئی تھی۔۔۔ نواز شریف پر امریکی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو ان علاقوں سے اپنی فوج کو واپس بلوانا پڑا اور جنگ کے اختتام پر بھارتی فوج 130 میں سے صرف 3 جہگوں پرقبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی باقی جہگوں پر زیادہ جانی نقصان کی وجہ سے بھارتی فوج آپریشن کرنے میں ناکام رہی اور اس علاقے کی سب سے اونچی چوٹی پوائینٹ 5353 جنگ کے ختم ہونے کے کئی سال تک پاک فوج کے قبضے میں رہی اس جنگ میں پاکستان کے 347 جوان شہید ہوئے جبکے بھارت کے 7000 سے 8000 فوجی مارے گئے بھارت ہر سال اپنی عوام کو پاگل بنانے کیلئے اپنے میڈیا اور فلموں کا سہارا لیا ہے لکین جنکوں جنگ میں شکست کی اصلیت کا پتہ ہے انکو ٹی وی پر نہیں دیکھایا جاتا جیسا کہ بھارت آرمی کے جنرل کشن پال جو اس جنگ میں لڑے اور جنہوں نے جنگ کے 11 سال بعد اس بات کا اعتراف کیا کے بھارت کو اس جنگ میں شکست ہوئی۔۔۔
کارگل بھارت کی جیت؟؟؟
نوے کی دہائی میں بھارت وزرائے اعظم اندر کمار گجرال اور اٹل بہاری واجپائی نے لگا تار ایران کے دورے کئے۔اور ایرانی کھانوں، لباس اور ثقافت پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور بھارت ثقافتی بھائی ہیں۔ دونوں ممالک کی تہذیب اور کھانے ایک جیسے ہیں۔ ایران ہمارا دوسرا گھر ہے۔ ایران آکر ایسا لگا جیسے بھارت میں ہی ہیں۔
ایسے بیانات عموما اس وقت دئے جاتے ہیں جب اس ملک کے عوام کے دل میں اپنی محبت جگانی ہو۔ کیونکہ بھارت وہاں برہنہ بولی ووڈ لے کر نہیں جا سکتا تھا جیسا وہ خلیجی ریاستوں میں لے گیا تھا اور وہاں کے عوام کو ہندوستانی میک اپ زدہ حسن کا گرویدہ بنا چکا تھا۔
اس کے بعد ہندوستان نے یکے بعد دیگرے بین القوامی شہرت کے حامل چینلز خریدنا شروع کر دئیے عرب ریاستوں اور مملک میں عربی زبان میں ترجمہ کی ہوئی بھارتی فلمیں چلنے لگیں اور سارا عرب بھارتی حسن کی زد میں آگیا۔
پھر بھارت کی مشہور زمانہ زنانہ صنعت قائم ہوئی اور بھارتی عورت کی فروخت کا کاروبار ہونے لگا۔ ریال کی لالچ میں بہت سے بھارتیوں نے غربت سے تنگ آکر اپنے گھر کی عورتوں کو اس کام کے لئے پیش کیا ۔ بھارت نے پھر تھوڑی پڑھی لکھی خواتین کو یورپی ممالک میں بھیجا اور تعلیم دلوا کر مشہور چینلز بی بی سی اور سی این این میں اینکرز بھرتی کروایا۔ ان میں سے بیشتر خواتین نے مشہور اور تجربہ کار صحافیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اپنے مطلب کی رپورٹس چلوائیں۔ کچھ خواتین شادی کرکے اور کچھ ان اینکرز کی گرل فرینڈز بن کر بھارت کے لئے کام کرتی رہیں۔ 
یہی نہیں بھارت نے اپنی فلم انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے فلموں کے ایوارڈدز یورپی ممالک میں منعقد کرنا شروع کئے وہاں کے فلم سٹارز اور بڑی بڑی شخصیات کو مدعو کیا وہاں اپنی خواتین متعارف کروائیں اور وہاں کے عوام کے دل میں اپنی جگہ بنا لی۔
بھارتی صدر عبدالکلام نے بھی کہا تھا کہ دنیا کو پیار سے فتح کرو دنیا کے دل اور دماغ پر قبضہ جما لو جو دل پر راج کرے گا وہ دنیا پر راج کرے گا۔
بھارتی مذہبی کتابوں میں بھی ذکر ملتا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ جب بھی کوئی جنگ جیتی تووہ عورت کے بل بوتے پر جیتی ہے۔مسلمان ا فواج کے بارے میں بھی لکھا جاتا ہے مسلمان جب ہندوستان پر حملے اور ہندہ عورتوں سے شادیاں کرنے لگے تو ہندووُں نے اپنی بیٹیوں کو بچپن سے ہی سانپ اور بچھووُں سے دسوانا شروع کر دیا، جوانی تک وہ زہر برداشت کرنے کے قابل ہو جاتیں اور پھر وہ جس کو ناخن بھی مارتیں وہ بندہ مر جاتا۔ یہ بات من گھڑت ہی سہی مگر بھارت کا اوڑھنا بچھونا عورت کے دم سے ہی رہا ہے۔ 
دوسری طرف بھارتی را کے غنڈے پاکستان آکر پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کاردز بنوا کر پوری دنیا میں قتل و غارت گری پھیلاتے رہے جب بھی پکڑے جاتے پاکستان کا نام بدنام ہوتا رہا۔ پہلی بار 2000ء میں اٹلی کی حکومت نے دھماکہ خیز موادرکھنے اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنےوالے 15 پاکستانی طالب علم گرفتار کئے تو معلوم ہوا کہ وہ بھارتی تھے جو پاکستان کی جعلی شناخت کے ساتھ اٹلی میں مقیم تھے۔ مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ ایسے بہت سے لوگ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔جن کا مقصد پاکستان کو بدنام کروانا ہے اور پاکستان کی ریاست کو دہشت گرد ریاست قرار دلوا کر دنیا میں تنہا کرنا ہے۔
ایک طرف بھارت دنیا میں نام کماتا رہا تو دوسری طرف پاکستان میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹتے رہے بسوں عباد گاہوں میں را کے ایجنٹس دھماکے کرتے رہے اور بھارتی را کی ایجنٹس سیاستدان جان بوجھ کر پاکستان کو ہر محاذ میں بھارت سے پیچھے رکھتے رہے۔ تاکہ بھارتی عوام کا مورال پاکستانیوں کے مقابلے میں بڑھایا جائے-
بھارت پاکستان کو تنہا کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے-
حال ہی میں بھارت نے پاکستان کو عرب ایران جنگ میں پھنسانے کے لئے عالمی طاقتوں کی مدد سے جو سازش رچی تھی اور اس میں پاکستان کےغیر جانبدار رہنے کے فیصلے کی خفت مٹانے کے لئے سعودیہ عرب اور ایران کے دورے کئے اور پاکستان پر دباوُ دالنے کی کوشش کی ہے کہ اگر تم اس جنگ میں شامل نہیں ہوتے تو تنہا رہ جاوُ گے۔ اسی طرح سعودیہ عرب اور ایران نے بھی بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھا کر پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ جنگ میں شامل ہو جاوُ ورنہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔
پاکستانی جن کو برادرما لک سمجھتے تھے ان کا پاکستان مخالف رویہ دیکھ کر پریشان ضرور ہیں۔ مگر پاکستانیوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ان تمام واقعات سے بہت سے چھپے چہرےبے نقاب ہوئے ہیں۔
ایک تو سعودی شاہ سلمان کا جو مسلمان دنیا کا چوہدری بننے کی ناکام کوشش کر رہا تھا اس نے مسلمانوں کے قاتل بھارت کو اپنے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈدے کر ثابت کر دیا کہ کہ سعودیہ عرب کو کسی مسلم ملک اور کسی مسلمان کی جان و مال کی پروا نہیں اسی لئے وہ بے دردی سے اہل یمن پر بن برسا کر انہیں شہید کئے جا رہا ہے۔ دوسرا ایران کا کہ اپنے گارڈز کی موت کا بہانہ بنا کر وہ پاکستان پر حملے کرتا رہا ہے اور جب پاکستان نے ثبوت کے ساتھ ایران کو بتایا کہ یہ حملے پاکستانی نہیں بلکہ بھارتی را ایجنٹس کرتے ہیں تو ایران نے بھارت سے بجائے احتجاج کے، محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔
پاکستانیوں کو اب عقل کے ناخن لینے چاہئں جو سمجھتے ہیں کہ شام، مصر، لیبیا، عراق، فلسطین کشمیر افغانستان میں مسلمانوں کے خون کی ہولی پر خاموش رہنے والے سعودیہ عرب اور ایران انکے دینی بھائی ہیں اور پاکستان کی وہ 65 کی جنگ کی طرح امداد کریں گے تو یہ انکی غلط فہمی ہے۔ پاکستانیوں کو یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ عراق اور افغانستان میں القائدہ بھیج کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جو در اصل پاکستان کو ختم کرنے کے لئے رچائی گئی تھی اس میں تو اللہ نے پاکستان کو بچا لیا مگر طاغوت نے عرب ایران جنگ جو پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اس کو اسلام کا رنگ دے کر رچائی اور اس میں پاکستان کو پھر سے اللہ نے بچا لیا اسکے بعد یہ دشمن پھر کوئی نہ کوئی چال چلیں گے۔ وہ پاکستانی جو سعودی عرب اور ایران کے منہ پھیرنے پر ٹکڑوں میں بنٹے ہوئے ہیں انکو سوچنا چاہئے کہ نہ تو ایران نے شیعہ ملک شام کو بچایا نہ ہی سعودی عرب نے سنی ملک بچائے۔ صرف بیان بازی سے جان نہیں بچتی۔ بمباری جب ہوتی ہے تو وہ کسی لبرل، کسی انتہا پسند کسی مسلم غیر مسلم کو نہیں دیکھتی۔ وہ بھولے افراد جو غیروں کی شہہ پر اپنے نظریہ پاکستان کے خلاف ہو رہے ہیں انکو یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ جو انکو ورغلا رہے ہیں انکے گھر ملک سے باہر بھی ہیں۔ جنگ شروع ہوتے ہی انکو ہوائی جہاز کے ٹکٹس بھی مل جائیں گے اور ویزے بھی۔
مرنا ہم لوگوں نے ہے۔ جنازے ہم نے اٹھانے ہیں۔ بلا رنگ و نسل اور فرقے کی تفریق کے۔
(نعوذ باللہ)
اب فیصلہ بھی ہم نے ہی کرنا ہے۔ کہ ہم اپنے گھر کو مضبوط کر کے آنے والے سیلاب کے خطرے سے اپنے خاندان کو بچاتے ہیں یا پھر اپنے گھر کی بنیادیں کھوکھلی کر کے اس کے گرنے اور اپنے خاندان کے تباہ و برباد ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ 
بابل دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہونے والا ایک تاریخی شہر ہے۔ بخت نصر کا تعمیر کردہ شاہی محل اور بابل کے معلق باغ قدیم فن تعمیر کے بہترین نمونے تھے وہ بھی اسی شہر میں موجود تھے۔ بابل کے معلق باغات کو دورِ قدیم کے عجائبات عالم میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ 
بابل (Babylon) میسو پوٹیمیا (موجودہ عراق) کا ایک قدیم شہر ہے جو سلطنت بابل اور کلدانی سلطنت کا درالحکومت تھا ۔ یہ موجودہ بغداد سے 55 میل دور، بجانب جنوب ، دریائے فرات کے کنارے آباد تھا۔ چار ہزار سال قبل مسیح کی تحریرں میں اس شہر کا تذکرہ ملتا ہے۔ 175 قبل مسیح میں بابی لونیا کے بادشاہ حمورابی نے اسے اپنا پایہ تخت بنایا تو یہ دنیا کا سب سے بڑا اور خوب صورت شہر بن گیا۔ 689 ق م میں بادشاہ بنوکدنصریا بخت نصر دوم نے اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ پرانا شہر دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔ بخت نصر نے دریا پر پل بنوایا اور مغربی کنارے کا ایک وسیع علاقہ بھی شہر کی حدود میں شامل کر لیا۔ اس کے عہد میں شہر کی آبادی 5 لاکھ کے قریب تھی۔ معلق باغات، جن کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا ہے ، اسی بادشاہ نے اپنی ملکہ کے لیئے بنوائے تھے۔ 539 ق م میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل پر قبضہ کر لیا۔ 275 ق م میں اس شہر کا زوال شروع ہوا اور نئےتجارتی مراکز قائم ہونے سے اس کی اہمیت ختم ہو گئی ۔ اب اس کے صرف کھنڈر باقی ہیں۔
بابل کا ذکر ہاروت اور ماروت دو فرشتوں کی کہانی کے ساتھ ساتھ قرآن پاک میں بھی موجود ہے۔ قصہ ہاروت ماروت کا تذکرہ اس دلچسپ معلومات پیج پر ہوچکا ہے۔ انگریزی میں اس شہر کا نام Babylon اور ملک یا سلطنت کا نام Babylonia کہلاتا ہے ۔مسلمان تاریخ دانوں اور جغرافیہ کے مطابق بابل کا شہر اسلام کی آمد سے طویل عرصہ قبل تباہ کر دیا گیا تھا۔بابل کی جگہ کےبارے میں کہا جاتا ہےکہ سن چار سو ہجری میں عباسیوں کے دور میں ایک چھوٹا سا گاؤں بابل کے نام سے موجود تھا۔ابن نووفال Nowfil نے بھی اسکے وجود کا ذکر کیا ہے ۔ان کے مطابق اسکی عمارتوں کو عراق میں سب سے قدیم سمجھا جاتا ہے ۔یہ بادشاہوں نے بطوردارالحکومت تعمیر کروایا تھا ۔ ان کے جانشینوں نے بھی دارالحکومت کے طور پر اسے استعمال کیا ۔
ابوالفداء لکھتے ہیں کہ یہی وہ شہر تھا جس میں نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا تھا۔آج کل کھنڈرات کے سوا کچھ بھی نہیں نظر آتا ہے۔تاہم، کھنڈرات کے درمیان میں ایک چھوٹا سا گاؤں اب بھی موجود ہے۔
یاد رہے۔یہ وہ ہی شہر ہے جس میں سکندر یونانی 32 سال کی عمر 323 قبل مسیح میں اس دنیا سے رخصت ہوا تھا۔ یہ وہ ہی سکندر ہے جس کے بارے مشہور ہے کہ اس نے آدھی سے زائد دنیا کو فتح کیا تھا۔
سلطنت بے بی لونیا
سلطنتِ بابل جس کو بے بی لونیا بھی کہتے ہیں۔ان دو سلطنتوں کا نام ہے جو جنوبی میسو پوٹیمیا (موجودہ عراق) میں‌ قائم ہوئیں۔
پہلی سلطنت قدیم بےبی لونیا کا دورتقریباً 1750 تا 1200 ق م کا ہے اس کا بانی حمورابی تھا۔
جبکہ نیا بے بی لونیا یا کلدانی سلطنت کا دور ہے جو چھٹی صدی قبل مسیح میں شاہ نیبو پولسار نے اشوری سلطنت کے کھنڈروں پر قائم کی۔ اور جسے شاہ بنو کد نصر یا بخت نصر نے عروج بخشا۔ ان دونوں ہی سلطنتوں کا دارالحکومت بابل تھا۔ 539 ق م میں سائرس اعظم نے بابی لونیا کو سلطنت فارس (ایران) میں شامل کر لیا۔
بابی لونیا اپنے عہد کا مہذب ترین ملک تھا۔ یہاں کی زبان موجودہ سامی زبانوں (عبرانی ، عربی) کی ماں تھی۔ اس کا رسم الخط میخی یا پیکانی (سہ گوشی ) دنیا کے قدیم ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ لوگ مظاہر پرست تھے لیکن انھیں مذہب سے زیادہ دنیا سے دلچسپی تھی۔ انھوں نے دیوی دیوتاؤں کے معبد بھی بنائے لیکن ان سے کہیں‌زیادہ پرشکوہ شہر اور باغات تعمیر کیے ۔ بخت نصر کا تعمیر کردہ شاہی محل اور معلق باغ قدیم فن تعمیر کے بہترین نمونے تھے۔ بابل کے لوگ علم ریاضی کے ماہر بھی تھے۔ سب سے پہلے انھوں ہی نے علم ہئیت کو سائنس کا درجہ دیا۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اگر آپ ماؤنٹ ایورسٹ کو دنیا کی بلند ترین چوٹی مانتے ہیں تو درحقیقیت تیکنیکی طور پر ایسا بالکل نہیں۔
جی ہاں واقعی سطح سمندر سے بلندی کے لحاظ سے ماؤنٹ ایورسٹ واقعی دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے تاہم اگر ہم کسی پہاڑ کی زمین کی اندر چھپی لمبائی کا جائزہ لیں تو دنیا کی سب سے بلند چوٹی جزیرہ ہوائی کی ماؤنا کیا ثابت ہوگی۔

ایسا دلچسپ دعویٰ ایک نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ سطح سمندر سے 29 ہزار 35 فٹ (یا 8850 میٹر) بلند ہے جبکہ ماؤنا کیا کی سطح سمندر سے بلندی صرف 13 ہزار 796 فٹ ہے تاہم یہ پہاڑ زمین کی سطح کے اندر بحر اوقیانوس میں بھی 19 ہزار 700 فٹ تک پھیلا ہوا ہے یعنی اسکا آدھے سے بھی کم حصہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔
اس طرح اس پہاڑ کی مجموعی لمبائی 33 ہزار 500 فٹ (یا تقریبا 10200 میٹر) بنتی ہے یعنی ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی ایک میل زیادہ۔ ماؤنا کیا درحققیت ایک متحرک آتش فشاں ہے جو کہ لگ بھگ 10 لاکھ سال پرانا پہاڑ ہے اور اس سے لاوا کا آخری بار اخراج 4600 سال قبل ہواتھا۔
جزیرہ ہوائی (امریکہ) کا یہ پہاڑ خلائی تحقیق سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک جنت سے کم نہیں کیونکہ بہت کم نمی، شفاف آسمان اورکسی بھی آلودگی سے دوری کے نتیجے میں یہاں سے مختلف کائناتی سلسلوں کا نظارہ بہت زبردست ثابت ہوتا ہے۔
یہ آتش فشاں پہاڑ آخری دفعہ تقریبا 2460 قبل از مسیح میں پھٹا تھا۔ یعنی آج سے تقریبا 4500 سال سے یہ آتش فشاں نہیں پھٹا۔ اس پہاڑ کی دریافت بعض کتب کی رو سےبارویں یا تیرہویں صدی میں ہوئی۔ اس جگہ کو لوگ شکار کرنے کے لئے ' پتھروں کے اکٹھا کرنے کے لئے اور مذہبی رسومات کے لئے بھی استعمال کرتے آئے ہیں۔
گوگل نے 2 ایسی ایپلی کیشنز متعارف کرا دیں کہ واٹس ایپ، فیس بک میسنجر اور سکائپ نیندیں اڑا دیں، صارفین انتہائی پرجوش
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اپنوں سے رابطوں کیلئے بہت سی ایپلی کیشنز مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں فیس بک میسنجر، واٹس ایپ، ٹیلی گرام قابل ذکر ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے کمپنیاں اس شعبے میں نت نئی ایپلی کیشنز متعارف کرانے میں مصروف ہیں جن میں حالیہ اضافہ کسی اور کمپنی کی جانب سے نہیں بلکہ خود گوگل نے ہی کر دیا ہے اور اس کیساتھ ہی حریف کمپنیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی ہے۔
گوگل نے اپنی سالانہ تقریب میں نئی میسجنگ ایپلی کیشنز "Allo" اور "Dou" کے نام سے متعارف کرا دی ہیں۔ "Allo" ایپلی کیشن چیٹنگ کیلئے بنائی گئی ہے جبکہ "Duo" کو ویڈیو کالنگ کیلئے بنایا گیا ہے۔ ان ایپلی کیشنز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے استعمال کیلئے کسی ای میل کی ضرورت نہیںبلکہ صرف فون نمبر کی ضرورت ہے جبکہ اس میں کچھ ایسے فیچرز بھی متعارف کرائے گئے ہیں جو مارکیٹ میں موجود کسی اور ایپلی کیشن میں دستیاب نہیں ہیں۔
پہلے جائزہ لیتے ہیں "Allo" کا جو گوگل کے مطابق ”سمارٹ میسجنگ ایپ“ ہے اور اس میں گوگل اسسٹنٹ کا استعمال بھی کیا گیا ہے جو وقت کیساتھ ساتھ صارفین کے درمیان ہونے والی گفتگو کا جائزہ لے کر آپسی بات چیت کو مزید آسان اور سہل بنائے گا۔ اس ایپلی کیشن میں زبردست ”سٹیکرز“ بھی مہیا کئے گئے ہیں اور ایک ”Whisper Shout“ نامی فیچر بھی شامل ہے جو صارف کو میسج کا ٹیکسٹ چھوٹا یا بڑا کرنے کی سہولت فراہم کرے گا اس کے علاوہ اس میں ”Ink“ نامی فیچر بھی شامل ہے جو صارف کو کسی بھی تصویر پر انگلی کی مدد سے ڈرائنگ کرنے کی سہولت مہیا کرے گا۔

اس کا سب سے زبردست فیچر ”سمارٹ ریپلائے“ ہے جو صارف کو روزمرہ معمول کے سوالوں کے جواب جلد لکھنے میں مدد دے گا جیسا کہ اگر کسی دوست کی جانب سے آپ کو میسج ملے کہ ”ڈنر لیٹ ہے؟“ تو یہ ایپلی کیشن آپ کو فوراً اس کے جواب میں تین سے چار تجاویز پیش کر دے گی۔ یہ فیچر وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ماضی میں کی گئی بات چیت کا جائزہ لے کر بہتر سے بہتر تجاویز فراہم کرنا شروع کر دے گا۔
گوگل نے "Dou" نامی ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی ہے جسے "Allo" کاچھوٹا بھائی کہا گیا ہے اور اس کا مقصد ویڈیو کالنگ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ویڈیو کالنگ کیلئے تو پہلے سے ہی بہت سی ایپلی کیشنز موجود ہیں تو پھر اس میں ایسا کیا ہے۔ تو جناب اس میں "Knock Knock" نامی زبردست فیچر شامل کیا گیا ہے جو ویڈیو کالنگ کو ایک نئی جہت فراہم کرے گا ۔ یہ فیچر موصول ہونے والی کسی بھی ویڈیو کال کا جواب دینے سے پہلے ہی ایک ویڈیو کی صورت میں ہی ایک جھلک دکھلا دے گا کہ آپ کو کال کرنے والا کون ہے ، اور یہ جھلک کسی تصویر کی صورت میں نہیں بلکہ کال کرنے والی کی اوریجنل ویڈیو کی صورت میں ہو گی اور پھر آپ باآسانی فیصلہ کر سکیں گے کہ آپ نے اس کال کا جواب دینا ہے یا پھر نہیں۔
گوگل کا ماننا ہے کہ اگر کال ریسیو کرنے سے پہلے ہی آپ کو پتہ چل جائے کہ دوسری جانب شخص کون ہے اور کیوں کال کر رہا ہے تو آپ بلاجھجھک اور ہچکچائے بغیر ہی کال سے متعلق فیصلہ کر سکیں گے۔ ابتدائی طور پر یہ صرف ”ون ٹوون“ ویڈیو کالنگ کی سہولت فراہم کرے گی تاہم آنے والے وقت میں گروپ کالنگ کا فیچر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
سراج الدولہ نواب بنگال اور انگریز جرنیل کلائیو کے درمیان جنگ پلاسی کلکتے سے 70 میل کے
فاصلے پر دریائے بھاگیرتی کے کنارے قاسم بازار کے قریب واقع ہوئ۔انگریز جرنیل کلایو تمام بنگال پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ شہنشاہ دہلی پہلے ہی اس کے ہاتھ میں کٹھ پتلی تھا۔ بنگال پر قبضے کے لیے ’’بلیک ہول‘‘ کا فرضی افسانہ تراشا گیا اور میر جعفر سے سازش کی گئی ۔ میر جعفر سراج الدولہ کے نانا علی وردی خان کا بہنوئی تھا۔ اس کو نوابی کا لالچ دے کر توڑ لیا گیا۔ اس کے علاوہ اوما چند نامی ایک سیٹھ کو بھی ساز میں شریک کیا گیا۔ لیکن اس کو تیس لاکھ روپیہ دینے کا جو معاہدہ کیاگیا وہ جعلی تھا۔

کلائیو اپنی روایتی تین ہزار فوج کو لے کر نواب پر چڑھ آیا۔ نواب کے پاس بقول مورخین پچاس ہزار پیادے اور ، اٹھارہ ہزار سوار اور 55 توپیں تھیں۔ لیکن اس فوج کا ہر حصہ میر جعفر کے زیر کمان کلائیو سے مل چکا تھا۔ اس لیے نواب میدان جنگ میں ناکام ہوا۔ اور گرفتار ہو کر میر جعفر کے بیٹے میرن کے ہاتھوں قتل ہوا۔
انگریز مورخوں کا یہ دعوی کہ کلائیو نے تین ہزار سپاہیوں کی مدد سے نواب کی لاتعداد فوج پر فتح پائی قرین قیاس نہیں ہو سکتا کیوں کہ پچاس ہزار میں سے ہر ایک کے حصے میں تین ہزار کی بوٹی تک نہیں آسکتی۔ دراصل خود نواب کی فوج کا بیشتر حصہ اپنے گھر کو آگ لگا رہا تھا۔ نیز یہ کہنا کہ میر جعفر آخر دم تک کلائیو کے ساتھ نہیں ملا۔ بالکل غلط ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کو انگریز کبھی نواب نہ بناتے یہ اسی شخص کی غداری تھی جس کے باعث بنگال میں اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس پر بھی اگر سراج الدولہ کا سپہ سالار نہ مرتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ اس سپہ سالار کو، جو میر جعفر کے ساتھ شریک نہ تھا۔ میر جعفر کے آدمیوں نے قتل کر دیا تھا۔ جس سے وفادار فوج بھی بدحواس گئی۔ کلائیو کے صرف بیس آدمیوں کا مارا جانا اور پچاس کا زخمی ہونا تعجب خیز نہیں۔ کیوں کہ توپ خانے کو بھی پہلے ہی خرید لیا گیا تھا۔ اور توپوں میں پانی ڈلوا دیا گیا تھا۔
لڑائی کے بعد کلائیو مرشد آباد پہنچا جو ان دنوں بنگال کا دارلحکومت تھا۔ کٹھ پتلی شاہ دہلی سے پہلے ہی میر جعفر کی تقرری کا فرمان حاصل کیا جا چکا تھا۔ چنانچہ اس کو گدی پر بٹھا دیا گیا۔ میر جعفر کو تمام خزانہ اور ذاتی زروجواہر کلائیو کی نذر کرنے پڑے جن میں سے ہر انگریز کو معقول حصہ دیاگیا۔ صرف کلائیو کا حصہ 53 لاکھ دس ہزار روپے تھا۔ اس کے علاوہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک کروڑ روپیہ کلکتے کے نقصان کے عوض اور حملے کی پاداش میں دیا گیا۔
اس کے علاوہ بنگال میں چوبیس پرگنے کا زرخیز علاقہ بھی کمپنی کی نذر ہوا۔ 1759ء میں شاہ عالم نے اس تمام علاقے کا محاصل جو چار لاکھ پچاس ہزار ہوتا تھا۔ کلائیو کو بخش دیا اور اس طرح تقریباً سارا بنگال انگریزوں کے تسلط میں آگیا۔ چند روز بعد انگریزوں نے میر جعفر کو بے دست و پا کر دیا۔ لیکن یہ شخص نہایت سمجھ دار نکلا۔ اس نے ایسے اقدامات شروع کیے جن سے انگریزوں کے پنجے ڈھیلے ہونے شروع ہوگئے اور پٹنہ میں دو سو انگریز قتل کر دیے گئے۔ میر قاسم نے دیگر مسلمان نوابوں کو متحد کرکے بکسر کے مقام پربہادری سے انگریزوں کا مقابلہ کیا جس میں ایک ہزار انگریز مارے گئے لیکن پھر غداری اور سازش اپنا رنگ لائی ۔ میر قاسم کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور انگریز بنگال پر قابض ہوگئے۔
 فیس بُک کی میسیجنگ سروس واٹس ایپ نے آج ڈیسک ٹاپ اور میک کے لیے اپنی ایپلی کیشن متعارف کروادی ہے۔ واٹس ایپ کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ کی ایپلی کیشن اب ڈیسک ٹاپ پر ونڈوز 8 اور میک کے OS10.9 پر استعمال کی جا سکیں گی۔ واٹس ایپ ویب کی طرح واٹس ایپ کی ایپلی کیشن بھی موبائل میں موجود واٹس ایپ سے مطابقت رکھتی ہے۔
کمپنی کے بیان کے مطابق یہ ایپلی کیشن موبائل میں موجود گفتگو اور میسیجز کی بھی عکاس ہے ڈیسک ٹاپ پر بآسانی استعمال کیے جانے کے لیے جلد ہی اس ایپلی کیشن کے نوٹی فکیشن اور کی بورڈ کے شارٹ کٹ سے متعلق بھی تبدیلیاں کی جائیں گی۔
واٹس ایپ کی ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے صارفین اپنے ڈیسک ٹاپ براؤزر سے 'https://www.whatsapp.com/download' اس سائٹ کو وزٹ کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد اپنے موبائل سے کیو آر کوڈ اسکین کرنے پر صارفین واٹس ایپ ایپلی کیشن کو اپنے ڈیسک ٹاپ پر استعمال کرسکیں گے، جبکہ کمپنی کی جانب سے صارفین کو اپنا موبائل فون وائی فائی سے کنیکٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وواٹس ایپ کی جانب سے واٹس ایپ ویب متعارف کروانے کے 16 ماہ بعد واٹس ایپ نے ڈیسک تاپ اور میک (MAC) کے لیے ایپلی کیشن متعارف کروائی ہے ۔
وٹس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے صرف انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے اپ کسی بھی وٹس ایپ صارف کے ساتھ ٹیکسٹ میسج، تصاویر ،وڈیوز اور وائس کال کا فوری تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اگرآپ موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور خاص طور پر اگر سمارٹ فون کے مالک ہیں ، تو لازمی طور پر وٹس ایپ کے صارف بھی ہوں گے۔ وٹس ایپ نے ایک کراس پلیٹ فارم میسجنگ سروس کی حیثیت سے اپنے سفر کا ا?غاز کیا اور قریباً ہر موبائل پلیٹ فارم پر دستیاب ہونے کی وجہ سے یہ آج ہر موبائل صارف کی ضرورت بن گئی ہے۔وٹس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے صرف انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے آپ کسی بھی وٹس ایپ صارف کے ساتھ ٹیکسٹ میسج، تصاویر ،وڈیوز اور وائس کال کا فوری تبادلہ کر سکتے ہیں۔یہاں ہم اس انتہائی مقبول انسٹنٹ میسجنگ سروس کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق بیان کرتے ہیں۔ وٹس ایپ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ ایپ ہے۔
دو سال قبل فروری 2014ء میں وٹس ایپ کی مقبولیت کی وجہ سے فیس بک نے اس کو 19 ارب ڈالر کی ناقابل یقین قیمت میں خرید لیا تھا۔ 19 ارب ڈالر کتنی بڑی قیمت ہے ؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ نوکیا جیسی معروف کمپنی کا موبائل ڈویڑن مائیکرو سافٹ نے قریباً ساڑے 7 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔ اس کے علاوہ گوگل نے ایک اور موبائل ساز ادارے مٹرولا موبلیٹی کو صرف پونے 3 ارب ڈالر میں چینی کمپنی لینوو کے ہاتھ بیچا تھا۔اسی وجہ سے وٹس ایپ کی فروخت ٹیکنالوجی کی دنیا کی ا?ج تک کی سب سے مہنگی قیمت میں ہوئی ہے۔وٹس ایپ کے فعال صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے،یعنی دنیا میں ہر 7 میں سے ایک آدمی کے پاس وٹس ایپ کا اکاؤنٹ موجود ہے۔ایک سال پہلے کمپنی نے 50 کروڑ صارفین حاصل کرنے کا سنگ میل عبور کیا تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف ایک سال میں وٹس ایپ پر 50 کروڑ افراد نے اکاؤنٹ بنایا ہے، یعنی اس ایپ کی مقبولیت مزید تیزی سے بڑھ رہی ہے۔وٹس ایپ کے مطابق اس ایپلی کیشن کے صارفین روزانہ 42 ارب میسجز کا تبادلہ کرتے ہیں یہی نہیں بلکہ وٹس ایپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہر 24 گھنٹوں میں ڈھائی کروڑ وڈیوز بھی ایک دوسرے سے شیئر کی جاتی ہیں۔
بالکل مفت سروس وٹس ایپ کی خاص بات یہ ہے کہ اب یہ سروس بالکل مفت دستیاب ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس سروس کی فیس صرف ایک ڈالر سالانہ تھی، مگر کمپنی نے جنوری 2016ء سے وہ بھی ختم کر دی ہے اور اب ہر صارف زندگی بھر بغیر کسی فیس اور اشتہارات کی جھنجٹ کے وٹس ایپ استعمال کر سکتا ہے۔وٹس ایپ نے اکتوبر 2014ء میں مفت وائس کال فراہم کرنے کی سروس کاآغاز کیا ہے اور بہت سے لوگوں کیلئے اب یہ فون کال کا متبادل ہے اورمفت انٹرنیٹ وائس کال فیچر کی وجہ سے یہ مائیکروسافٹ کی مقبول عام سروس’’سکائپ‘‘کے بالمقابل بھی آ چکی ہے۔اگرچہ وٹس ایپ بین الاقوامی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ سروس ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے ملکوں مقامی میسجنگ ایپس کی حکمرانی ہے۔جیسا کہ میسجنگ ایپ’’ وی چیٹ‘‘ کے چین میں 50 کروڑ صارفین ہیں۔ اسی طرح ’’لائن ‘‘ جاپان جبکہ ’’کاکیو ٹک ‘‘کوریا میں مقبول ترین میسجنگ ایپس ہیں۔پیسے بنانے کی نرم پالیسی وٹس ایپ میں دیگر ایپس کی طرح سب سکرپشن فیس،اشتہارات یا سٹکرز بیچ کر پیسے نہیں کمائے جاتے بلکہ اس کی ایک ڈالر سالانہ قیمت کو بھی وٹس ایپ جنوری 2016ء سے ختم کر دیا ہے ،یوں یہ اب ایک بالکل مفت سروس بن گئی ہے۔کمپنی کے بانی کم جان قوم کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ہر انسان کو قابل بھروسہ اور کم خرچ سروس کی ذریعے دنیا بھر سے رابطہ رکھنے کے قابل بنایا جائے۔ وٹس ایپ کے بانی جان کوم اور برائن ایکٹن نے 2007ء میں یاہو میں ملازمت سے استعفیٰ دیا اور اس کے بعد انہوں سے فیس بک میں ملازمت کیلئے درخواست دی ،جس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ فروری 2009ء میں انھوں نے وٹس ایپ کا آغاز کیااور صرف پانچ سال بعد فیس بک نے ان کی بنائی ہوئی ایپ کو 19 ارب ڈالر میں خریدا، جن میں سے 4ارب کیش جبکہ باقی رقم فیس بک شیئر کی صورت میں دی گئی ،یوں اب یہ دونوں فیس بک میں 12 فیصد شیئر کے مالک ہیں۔
پاکستان میں بہت سے افراد کو انگلش زبان سیکھنے کابہت شوق ہے۔جس کودیکھتے ہوئے انگلش زبان کی کچھ دلچسپ باتیں یہاں پراپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں سے شئیر کرتے ہیں۔
1۔ انگلش زبان کے جس بھی لفظ کے شروع یا درمیان میں "q" ہوگا تو اْسکے بعد ہمیشہ "u" آئے گا۔

2۔ "Dreamt" انگلش میں وہ واحد ایسا لفظ ہے جو "mt" پر ختم ہوتا ہے اس کے علاوہ انگلش میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو’’mt‘‘پرختم ہو۔
3۔ "Underground" انگلش زبان میں واحد لفظ ہے جو "Und" سے شروع اور "Und" پر ہی ختم ہوتا ہے۔اس کے علاوہ انگلش میں کوئی ایسالفظ نہیں جو’’Und‘‘سے شروع ہواور’’Und‘‘پرختم ہو۔
4۔ پوری انگلش زبان میں صرف چار الفاظ ایسے ہیں جو "dous" پر ختم ہوتے ہیں
Tremendous, Horrendous, Stupendous, & Hazardous
5۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق انگلش زبان کا سب سے بڑا لفظ۔۔!
"pneumonoultramicroscopicsilicovolcanoconiosis" یہ ہے جو کہ پھیپھڑے کی ایک بیماری کا نام ہے۔
6۔ "Therein" انگلش کا ایک ایسا لفظ ہے جس سے دس الفاظ نکل سکتے ہیں۔۔!
The, There, He, In, Rein, Her, Here, Ere, There,in,
7۔ Key بورڈ پر صرف بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ٹائپ ہونے والا سب سے بڑا بامعنی لفظ "Stewardesses" ہے۔
8۔ ہم اپنی روزمرہ گفتگو میں (ok) کا لفظ بہت استعمال کرتے ہیں لیکن بہت سے افرادکواس کی تاریخ کے بارے میں معلوم نہیں ہوگا۔کہ یہ کیوں بولاجاتاہے ۔اِس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ ایک امریکی صدر "اینڈریو جیکسن" نے all correct کے غلط ہجے یعنی oll kurrect استعمال کرتے ہوئے اس کے ابتدائی حروف o.k کو پاپولر بنا دیا۔
9۔ بہت سے افرادکوانگریزی میں دنیا کے براعظموں کے نام یادکرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ جن کویادکرنے کاایک آسان ساطریقہ یہ ہے۔کہ اگر انگریزی میں لکھیں تو سوائے America , North اور South کے ہر براعظم کا نام جس انگریزی کے حرف سے شروع ہوتا ہے، اسی پر ختم ہوتا ہے۔
1۔ Asia۔۔۔2۔ Africa۔۔۔3۔ America۔۔۔4۔ Antarctica۔۔۔5۔ Europe۔۔۔6۔ Australia
10۔ "Typewriter" کا لفظ ہی وہ واحد بامعنی لفظ ہے جو Key بورڈ کی صرف پہلی قطار کے حروف کے اندر اندر ٹائپ کر سکتے ہیں۔
11۔ خدا حافظ کہنے کے لیے انگریزی کا لفظ "Good Bye" استعمال ہوتا ہے جس کی اصل "God be with you"ہے۔
12۔ انگریزی میں "Silver" اور "Orange" ہی دو ایسے الفاظ ہیں جن کا کوئی ہم قافیہ لفظ انگریزی میں موجود نہیں۔
13۔ انگریزی زبان میں صرف تین الفاظ ایسے ہیں جن میں دو "u" ایک ساتھ آتے ہیں Vacuum, Residuum, Continuum
جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کے  میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظھار افسوس کرتا تھا
محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا
.قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا-  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے-
ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-
وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-
بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-
وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جا کر کہا مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور ان کی مکمل رکھوالی میں کرونگا, رکھوالا وزیر کے اس فیصلے کو سن کر چونکا لیکن پھر اجازت دے دی-
ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے, اوڑھنے بچھونے, نہلانے تک کے سارے کام اپنے ذمے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دیئے-
دس دن مکمل ہوئے بادشاہ نے اپنے پیادوں سے وزیر کو کتوں میں پھنکوایا لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزیر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بیٹھے آج یہی کتے اس وزیر کے پیروں کو چاٹ رہے ہیں-
بادشاہ یہ سب دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھا کیا ہوا آج ان کتوں کو ؟
وزیر نے جواب دیا, بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے, اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات ایک کر دیئے لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پس پشت ڈال دیا...
بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا, اس نے وزیر کو اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں پھنکوا دیا-

کہانی کا خلاصہ : جب مینیجمنٹ ایک بار فیصلہ کر لے کہ آپ کی بجانی ہے تو بس بجانی ہے...

پاکستان میں سب سے تیز رفتار انٹرنیٹ کس کمپنی کا ہے؟ حکومت نے تفصیلات جاری کردیں،
پاکستان میں 3G اور 4Gانٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا دعویٰ تو ہر موبائل فون کمپنی کرتی ہے مگر کچھ کمپنیوں کی سروس اس قدر ناقص ہے کہ اسے سراسر دھوکہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) نے اپنی تازہ ترین کوالٹی آف سروس رپورٹ میں نہ صرف ایسی کمپنیوں کا پول کھول دیا ہے بلکہ بہترین سروس فراہم کرنے والی کمپنی کا نام بھی سب کے سامنے آ گیا ہے۔
ویب سائٹ پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق موبائل ڈیٹا سپیڈ ( موبائل فون پر دستیاب انٹرنیٹ کی سپیڈ ) کے مقابلے میں زونگ (Zong) نے تمام کمپنیوں کو واضح فرق کے ساتھ شکست دے دی ہے، جبکہ ٹیلی نا ر وہ کمپنی ہے کہ جس کے انٹرنیٹ کی رفتار بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق اول نمبر پر آنیوالی کمپنی زونگ کے 3G انٹرنیٹ کی اوسط رفتار 7.71 Mbps ہے جبکہ دوسرے نمبر پر آنیوالی کمپنی موبی لنک کی اوسط 3Gانٹرنیٹ سپیڈ 5.04 Mbps ہے۔ یوفون کی اوسط 3G سپیڈ 1.17 جبکہ ٹیلی نار کی اوسط 3Gسپیڈ 1.94 Mbps ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی اے کے گزشتہ کوالٹی آف سروس سروے میں ٹیلی نار کی اوسط 3Gسپیڈ 2.2 Mbps تھی، جو اس سروے میں کم ہو کر 1.94 Mbps پر آچکی ہے۔
طاقتور سگنلز کے شعبے میں بھی زونگ اول نمبر پر رہی، جبکہ موبی لنک کا دوسرا ، ٹیلی نار کا تیسرا اور یوفون کا چوتھا نمبر رہا۔ 2Gنیٹ ورک کی دستیابی میں بھی اول پوزیشن زونگ کی رہی ، دوسرے نمبر پر وارد ، تیسرے نمبر پر ٹیلی نار ، چوتھے پر موبی لنک اور پانچویں پر یوفون رہی۔
آواز کی کوالٹی کے شعبے میں ٹیلی نار سرفہرست رہی، جبکہ یوفون دوسرے ، موبی لنک اور وارد تیسرے اور زانگ چوتھے نمبر پر رہی۔SMS کامیابی سے پہنچانے میں زونگ کا پہلا نمبر رہا ، دوسرے نمبر پر ٹیلی نار اور یوفون ، وارد تیسرے اور موبی لنک چوتھے نمبر پر رہی۔
کہانی کی ابتدا ہوتی ہے مہمند ایجنسی سے!فاٹا ایجنسیز میں پولیٹیکل ایجنٹ گورنر کا نمائندہ ہوتا ہے ، اور پوری ایجنسی کے سیاہ و سفید کا مالک ،کسی بھی ایجنسی سے منشیات ، اسلحہ ، ودیگر اشیاء کی سمگلنگ اس وقت تک ناممکن ہوتی ہے، جب تک پولیٹیکل ایجنٹ کی مدد شامل نہ ہو، 
ہر ایجنسی میں بڑے سمگلرز کا غیراعلانیہ ایک کنسور شیم بنا ہوتا ہے، جس میں اہم ترین معاملات طے کئے جاتے ہیں ،
سرکاری حکام کو رشوت دینی ہو، آپس کے جھگڑے طے کرنے ہوں ، یا دیگر جتنے بھی اہم معاملات ہوں ، ان لوگوں نے طے کرنے ہوتے ہیں ، ہر ایجنسی میں ان کی تعداد تین سے پانچ تک ہوتی ہے ، ان کا فیصلہ حرف آخر ہوتا ہے، تمام سمگلرز نے اسے من و عن قبول کرنا ہوتا ہے، ان کے ہر قسم کے تمام اخراجات چھوٹے بڑے تمام سمگلرز نے حصہ بقدر جثہ مل کے ادا کرنے ہوتے ہیں،
مئی 2012 کے تیسرے ہفتہ میں تین قبائلی بڑی خاص سفارش سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ملاقات کے لئے پرائم منسٹر ھاؤس آتےہیں ، ان کی ملاقات کا مقصد مہمند ایجنسی میں اپنی مرضی کا پولیٹیکل ایجنٹ لگوانا ہے، وزیر اعظم سے 25 کروڑ میں سودا طے پاتا ہے، چار ہفتے کا ٹائم دیا جاتا ہے، 
پولیٹیکل ایجنٹ کی تقرری گورنر نے کرنی ہوتی ہے، جو وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے، 
گیلانی صاحب بگ باس کو بھی ان کا حصہ پہنچا چکے ہیں ، کہ 12 جون 2012 کو عدالتی حکم پہ گیلانی صاحب کو پرائم منسٹر ھاؤس سے گھر بھیج دیا جاتا ہے، 
ان کے گھر پہنچنے کے پانچویں دن وہی تین قبائلی ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں ، 
عرض گذارتے ہیں ، حضور آپ نے اپنا کام نہیں کیا، اور آپ اب پرائم منسٹر بھی نہیں رہے، ازراہ کرم ہمارا پچیس کروڑ واپس کردیں !
راجہ پرویز اشرف میری ہی سفارش پہ پرائم منسٹر لگے ہیں اور میں پارٹی کا وائس چئرمین بھی ہوں ، آپ لوگ ٹینشن نہ لیں ، آپ کا کام ہوجائے گا، مجھے ایک ہفتہ مہلت دیں، گیلانی صاحب نے یہ جواب دے کے ان کو واپس بھیج دیا، 
گیلانی صاحب کو مہلت تو مل گئی ، لیکن بگ باس سے رقم بھی واپس نہیں مل رہی تھی ، اور کام بھی نہیں ہورہاتھا، ایک ہفتہ کی بجائے پورا ایک ماہ گذر گیا، لیکن ان قبائلیوں کو رقم واپس نہ کی گئی، 
ایک مہینہ گذرنے پہ قبائلی ملتان پہنچ گئے، 
گیلانی صاحب سے ملاقات کی ، اور انہیں بتلایا، حضور ہم نے اپنا بندہ لگوالیا ہے، کیونکہ ہمارا روزانہ کا کروڑوں کا نقصان ہورہاتھا ، اب آپ ہماری رقم واپس کردیں! 
یہ سنتے ہی گیلانی صاحب کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ، 
جواب دیا، میرے پاس تو دو کروڑ ہے ، جو میرے حصے میں آیا تھا، میں تو وہی واپس کرسکتا ہوں ، نیز اس طرح کے کاموں میں دی ہوئی رقوم واپس نہیں ہوتیں! 
چلیں دو کروڑ دیں ، باقی بات پھر کرلیں گے ، گیلانی صاحب نے دو کروڑ لاکے ان کے سامنے رکھا، رقم قبضے میں لیتے ہی قبائلی وفد کا لیڈر بولا!
جناب ! ہم نے رقم آپ کو دی تھی ، ہم کسی بگ باس کو نہیں جانتے، اور ہم نے لینی بھی آپ ہی سے ہے، اور پوری پچیس کروڑ! 
جو ہم نے آپ کو دی تھی، اب ہم نے واپس نہیں جانا، ہم سندباد ہوٹل ( ملتان کا مشہور ہوٹل ) میں ٹہرے ہیں ، جب تک آپ رقم نہیں دیں گے ہمارا قیام اسی ہوٹل میں رہےگا ، وہ خرچہ بھی آپ نے دینا ہے، اور مہلت بھی صرف تین دن کی ہے، تین روز بعد بقیہ تئیس کروڑ ہمیں واپس چاہئیں ، 
قبائلیوں کے جانے کے بعد گیلانی صاحب نے ملتان پولیس میں اپنے کسی ممنون احسان کو فون کیا، اور کہا! سند باد ہوٹل میں تین قبائلی پٹھان روم نمبر فلاں میں ٹہرے ہوئے ہیں ، ان پہ کوئی ایسا کیس ڈالیں ، کہ یہ دوچارسال جیل سے باھر نہ آئیں ، پولیس نے ہوٹل انتظامیہ کو اعتماد میں لے کے مطلوبہ روم پہ چھاپہ مارا، قبائلیوں کو چرس سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرلیاگیا! 
معاملہ عدالت میں پہنچا، مارچ 2013 میں قبائلی باعزت بری ہوگئے، 
جیل سے رہائی ملتے ہی قبائلی پھر گیلانی ھاؤس پہنچے ، اور عرض گذار ہوئے، آپ کا دیا ہوا دو کروڑ روپیہ تو پولیس ، ججز وغیرہ پہ خرچ ہوگیا ہے، اسی لئے ہم باعزت بری ہوگئے ہیں ، اب آپ کی طرف ہمارا تیس کروڑ ہے، 
پانچ کروڑ ہرجانہ ، پچیس کروڑ اصل رقم! 
اور ٹائم صرف ایک ہفتہ! 
گیلانی صاحب نے جواب دیا !
I Am X Prime Minister ، اور تم میرے ہی گھر میں بیٹھ کے مجھے دھمکیاں دے رہے ہو ، شرافت سے چلے جاؤ، نہیں تو اب ساری زندگی کے لئے جیل میں سڑوگے! 
یہ سنتے ہی قبائلی خاموشی سے وہاں سے چلے گئے، 
ٹھیک ڈیڑہ ماہ بعد 9 مئی 2013 کو الیکشن کمپین میں مصروف علی حیدر گیلانی کے دو گن مینز کو قتل کرکے علی حیدر گیلانی کو اغواکرلیا گیا، 
ایکس پرائم منسٹر کے بیٹے کا اغوا معمولی بات نہیں تھی ، تمام ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دن رات اس کی تلاش میں لگ گئے، لیکن علی حیدر گیلانی کو زمین کھاگئی یا آسمان ؟ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا! 
کچھ روز بعد گیلانی صاحب کو فون آیا، آپ کا بچہ ہمارے پاس ہے! تیس کروڑ روپیہ ادا کردیں ، اور اپنا بچہ واپس لے لیں ، 
دوسری طرف خفیہ ایجنسیز کو اپنے ذرائع سے کچھ معلومات مل گئیں ، کہ مغوی کو اکوڑہ خٹک کے قریب فلاں مقام پہ رکھا گیا ہے! 
پولیس اور ایجنسیز کے ذمہ دار پاور فل ریڈ کی تیاری کررہے تھے، اور لمحہ بلمحہ صورت حال سے گیلانی صاحب کو آگاہ کررہےتھے،
گیلانی صاحب سے یہاں ایک فاش غلطی ہوئی ، کہ ایک صحافی جو ان کا بڑاقریبی دوست ہونے کا دعویدار تھا، اسے اس چھاپے کے بارہ میں آگاہ کردیا، 
اس صحافی دوست نے گیلانی صاحب کی پشت میں چھرا گھونپا ، سب سے پہلے خبر بریک کرنے کے چکر میں اس نے اپنے ٹی وی چینل پہ خبر چلوادی، 
اغواکنندگان کے گرد گھیرا تنگ کردیاگیا ہے، چند گھنٹوں بعد علی حیدر گیلانی کو بازیاب کروالیا جائےگا، 
یہ خبر سنتے ہی اغواکنندگان افراتفری کے عالم میں علی حیدر کو ساتھ لے کے افغانستان فرار ہوگئے، اتنا وقت نہیں تھا، کہ سارے مغویوں کو ساتھ لیجاتے، پولیس نے جب چھاپہ مارا ، علی حیدر گیلانی کو اس وقت تک افغانستان پہنچایا جا چکا تھا، 
افغانستان پہنچنے کے بعد گیلانی صاحب سے پھر رابطہ کیا گیا ، انہوں نے تیس کروڑ ادائیگی کی حامی بھر لی ، اسلام آباد اور اکوڑہ خٹک کی دو اہم ترین شخصیات کو بیچ میں ڈالاگیا ، تیس کروڑ کی ادائیگی کردی گئی لیکن اکوڑہ خٹک کے جس مقام پہ چھاپہ ماراگیا تھا انہوں نے بھی پچیس کروڑ کا مطالبہ علی حیدر کے اغوا کنندگان سے کردیا کیونکہ ان کے دو مغوی پولیس کے ہاتھ لگ گئے تھے،جن کا تاوان پچیس کروڑ ان کے ورثاء سے مانگاگیا تھا!
گیلانی صاحب کے لیت و لعل پہ مغوی کو افغانستان کے ایک گروپ کے ہاتھ پچپن کروڑ میں بیچ دیا گیا، 
گیلانی صاحب ایک بار تیس کروڑ اور دوسری بار پچیس کروڑ کل ملا کے پچپن کروڑ دے چکے تھے ، لیکن ان کے لیت ولعل کے دوران علی حیدر پچپن کروڑ میں آگے بِک چکا تھا، 
افغانی گروپ نے گیلانی صاحب سے رابطہ کیا، اور اسی کروڑ تاوان طلب کرلیا، یعنی قیمت خرید پہ پچیس کروڑ منافع ! 
اس سودے پہ کئی ماہ تک گفت و شنید چلتی رہی ، گیلانی صاحب کا مؤقف یہ تھا ، کہ میں پچیس کا نادھندہ تھا اور ستاون کروڑ ( دو پہلی قسط تیس دوسری قسط اور پچیس تیسری قسط ) ادا کرچکا ہوں ، اب میں ایک روپیہ بھی اور نہیں دونگا،
بالآخر گوجرانولہ کی ایک پارٹی جو گیلانی صاحب کے بہت بڑے سپورٹر اور ذاتی دوست ہیں ، پنجاب کے اہم شہروں میں 70 سے زائد ان کے پیٹرول اسٹیشن ہیں , دیگر کاروبار اس کے علاوہ، بلامبالغہ وہ کھرب پتی پارٹی ہے، انہوں نے گیلانی صاحب کو بتائے بنا اپنی طرف سے پچیس کروڑ مزید ادا کئے، 
یوں علی حیدر گیلانی کو اغوا کنندگان نے افغانستان میں ایسے مقام پہ پہنچایا، جہاں سے افغان فورسز نے اسے وصول کر کے پاکستانی حکام کو اطلاع پہنچائی ، 
اس سارے واقعہ میں گیلانی صاحب ان کی فیملی و دیگر عزیز و اقارب نے جو ذہنی اذیت تقریبا تین سال تک اٹھائی ، وہ بیان سے باھر ہے، 
یوں علی حیدر بخیر و عافیت گھر واپس پہنچ گئے، یہاں یہ بات بھی قارئین کو بتاتا جاؤں ، کہ علی حیدر کینسر کے مریض بھی ہیں ، اغوا کے روز اول سے رہائی تک کسی روز بھی نہ تو ان کے علاج معالجہ میں کوئی کوتاہی کی گئی ، اور نہ ہی ان کی خوراک میں، 
عبرت کی بات یہ ہے، کہ باپ اور فیورٹ انکل ( Big Boss ) کے جرم کی سزا بیگناہ بیٹے اور پوری فیملی کو بھگتنی پڑی ! 
جو روز مر مر کے جیتے رہے۔
یوں اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہوا،

تحریر - صاحبزادہ ضیاء ناصر 
پاناما لیکس امریکہ اور یورپ کی گرتی معیشت کو بچانے کے لئے سی آئی اے کا ڈرامہ ہے... جس کے لئے ایک یہودی جارج سوروس نے بھاری بھر سرمایہ فراہم کیا ہے۔
سیاسی نابالغ اور ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگنے والے ہو ہو کرنے والے ٹھنڈے دماغ سے اس کالم کو پڑھ لیں - 
کیا یہ سب ہنگامہ جو پوری دنیا میں پانامہ لیکس کے بعد برپا ہوا ہے‘ یہ سب ایک اچانک رونما ہونے والا واقعہ ہے۔ جرمنی کے ایک اخبار کے پاس خفیہ معلومات کا ایک پلندہ آتا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں مانگی جاتی۔ اخبار ان معلومات کو تصدیق کے لیے ایک بہت بڑی این جی او ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلزم‘‘ کو بھیج دیتا ہے۔ حیرت ہے کہ پھر بھی معاوضہ طلب نہیں کیا جاتا اور دنیا بھر کے صحافی جو اس این جی او کے ممبران ہیں ان معلومات کی تصدیق میں لگ جاتے ہیں۔
ایک سال کی محنت اور تگ و دو کے بعد پونے دو کروڑ خفیہ دستاویز تصدیق کے مراحل سے گزرتی ہیں اور پھر ایک دن اچانک دھماکا ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں تھرتھرا جاتی ہیں۔ ایک فہرست ان لوگوں کی خفیہ آمدنی کی سامنے آتی ہے جو ان ملکوں میں عزت دار سمجھے جاتے ہیں۔ سیاست دان‘ تاجر‘ صنعتکار‘ ان سب کی خفیہ دولت اور ٹیکس چوری‘ رشوت‘ کرپشن اور جرم سے کمائے ہوئے سرمائے کا پردہ فاش ہوتا ہے۔ یہ سب نہ تو اتنا اچانک ہوا ہے اور نہ ہی یہ کوئی ایسا خیراتی کام تھا کہ سب کا سب مفت ہو گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
معذور لوگوں کو معاشرے میں بوجھ سمجھا جاتا ھے -کیونکہ یہ لوگ پیداواری عمل میں حصہ نہیں لیتے اس لئے وہ معاشرے جن کے معاشی وسائل محدود تھے وہ معذور لوگوں کو برداشت نہیں کرتے تھے -
یونان کی ایک قدیم ریاست اسپارٹا میں یہ دستور تھا -کہ نوزائیداہ بچے کو ایک کونسل کے سامنے پیش کیا جاتا تھاجس کے اراکین یہ جائزہ لیتے تھے کہ بچےمیں کوئی جسمانی نقص تو نہیں ھے -اگر اس میں کوئی کمزوری یا نقص ھوتا تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے گرا کر مروادیا جاتا تھا
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسپارٹا کے جنگجو معاشرے کو صحت مند اور طاقت ور لڑکوں کی ضرورت تھی جو لڑاکو یا جنگجو بنیں-
کچھ تہذیبوں میں لڑکیوں کی پیدائش کو پسند نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں پیدائش کے بعد کسی مقام پر چھوڑ دیا جاتا تھا جہاں سے یا تو کوئی بے اولاد خاندان انہیں لے جاتا یا پھر وہ وہ بھوک اور موسم کی سختیوں سے دم توڑ دیتی تھیں -
جو لوگ ذھنی مریض ھوتے تھے برصغیر ھندوستان میں انکی شہرت ھوجاتی کہ وہ پہنچے ھوے روحانی بزرگ ھیں
اس صورت میں لوگ ان سے ڈرتے اور خیال بھی کرتے دوسری صورت میں مزاروں پر زنجیروں میں جکڑے اور بے بسی کی حالت میں رھتے
اکثر ذھنی مریض عورتوں کے بارے یہ کہا جاتا ھے کہ ان پر جن آگیا ھے
موجودہ زمانے میں سائنس ,ٹیکنالوجی اور علم نفسیات میں جو ترقی ھوی ھے اس سے یہ ثابت ھوا ھے کہ اگر معذور لوگوں کو مواقع دئیے جائیں تو وہ معاشرے پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ اس کی ترقی میں اپنا حصہ ملاتے ھیں
اس کی سب سے اچھی مثال مشہور سائنسدان اسٹیفن ھاکنس ھے جب معذور لوگ معاشرے کے عمل میں حصہ لیتے ھیں تو انکی حیثیت دوسرے صحت مند لوگوں کی طرح ھوتی ھے
موجودہ تاریخ میں بہت سی مثالیں ھیں
جن میں ایک ھیلن کیلر جو نابینا اور گونگی بہری تھی لیکن اس کے باوجود بھرہور زندگی گزاری
یونان کا قدیم شاعرھومر,انگلستان کا شاعر ملٹن اور عربی کا شاعر ابوالعلا مصری بھی نابینا تھے مگر انکی شاعری ادب کا ایک بڑا حصہ ھے
ماخذ =تاریخ کی گواھی
عبدالملک نے حجاج کی درخواست منظور کر کے پانچ ھزار آدمی اسکی امداد کے لئے روانہ کیے اور طارق کو لکھا کہ مدینہ پر حملہ کرو اور فارغ ھو کر مکہ کی طرف جاو اور حجاج کی مدد کرو 
حجاج نے ماہ رمضان میں مکہ کا محاصرہ کرلیا اور کوہ ابوقیس پر منجنیق لگا کر سنگ باری شروع کردی - اھل مکہ کے لئے یہ سارا مہینہ سنگ باری میں گزرا -رمضان کے بعد شوال اور اس کے بعد ذیقعد کا مہینہ بھی آگیا لیکن محاصرہ میں کوی کمی نہ ھوی 
حضرت زبیر رض روز مقابلے پر جاتے اور محاصرین کو پسپا کرنے کی کوشش کرتے لیکن روزانہ ساتھیوں کی تعداد میں کمی ھورھی تھی اور نہ کامیابی کی امید ھوتی
اھل مکہ بھی مکہ سے نکلے جارھے تھے دوسری طرف اشیا خوردونوش کی کمی نے محاصرین کے حوصلہ کو پست کر رکھا تھا
ماہ ذیقعد میں طارق نے مدینہ منورہ پر قبضہ کے بعد خود مکہ معظمہ کی طرف روانہ ھوا اس زبردست امداد کے آنے سے حجاج کے حوصلے بہت بڑھ گئےاور اھل مکہ کی رھی سہی امیدیں بھی ختم ھوگئں
اسی حالت میں ماہ ذوالحجہ شروع ھوگیا لوگ حج کے لئے آنا شروع ھوگئے لیکن جنگ اور سنگ باری جاری اور میدان عرفات میں کوی امام نہ تھا غرض اس سال لوگ ارکان حج نہ ادا کرسکے
ایام حج گزرتے ھی حجاج نے اعلان کیا کہ جو لوگ باھر سے آے ھیں وہ فوری واپس روانہ ھو جائیں کیونکہ ابن زبیر رض پر سنگ باری شروع ھونے والی ھے لوگ جان بچا کر نکل گئے
حجاج نے پھر سنگ باری شروع کردی ایک بڑا پتھر خانہ کعبہ کی چھت پر آگرا اور چھت ٹوٹ کر گرپڑی اب حجاج نے خود اپنے ھاتھ سے پتھر منجنیق میں رکھ کر پھینکنے شروع کردئیے
مکہ معظمہ میں کسی قسم کی بیرونی امداد نہ پہنچی حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ حضرت زبیر رض نے اپنا گھوڑا بھی ذبح کر کے تقسیم کردیا تاکہ حیات بچ سکے
حضرت عبداللہ بن زبیر اپنی ماں کے پاس گئے اور عرض کیا کہ میرے پاس صرف پانچ آدمی بچے ھیں جو بظاہر میرے ساتھ ھیں سارے لوگ حجاج کی پناہ میں چلے گئے حجاج کہتا ھے تم بھی امان میں آجاو میں کیا کروں
حضرتاسمابنت ابوبکر صدیق رض نے تم اپنے معاملہ کو بہتر سمجھتے ھو اگر حق پر ھو تو ڈٹے رھو
عبداللہ بن زبیر رض نے کہا کہ کہ مجھے ڈر ھے کہ وہ قتل کے بعد میری لاش کا مثلہ کریں اور صلیب پر لٹکا دیں گے
حضرت اسما رض نے جواب دیا بیٹا بکری جب ذبح ھو گئی تو اسے کیا پرواہ کہ کیا ھوگا
حضرت زبیر نے حجاج کی سپاہ پر باب صفا کی طرف سے حملہ کیا اور کوہ صفا سے ایک آدمی نے تیر مارا وہ پیشانی پہ لگا ساتھی ایک ایک کرکے مارے گئے حضرت عبداللہ بن زبیر پر تیروں اور پتھروں کی بارش کردی گئی
بالاخر ماہ جمادی الثانی 73 ھجری کو حضرت زبیر شہید ھوگئے
کوی ان کی لاش پر افسوس کرنے والا نہ تھا لشکرشام نے لاش کا سر کاٹنے میں بڑی چابکدستی دکھای اور حجاج کے سامنے لے گئے لاش اسی مقام پر لٹکادی گئی سر عبدالمالک کے پاس بھیج دیا گیا
کفن دفن کی اجازت بھی نہ دی
حجاج نے خانہ کعبہ کو ڈھا کر دوبارہ از سر نو تعمیر کیا
عبدالملک بن مروان نے حجاج کو حجاز کا گورنر مقرر کردیا
تاریخ اسلام سے ماخوذ
شیخ نبیل نعیم مصر میں اسلامی جہاد کے بانی رکن ہیں۔ شیخ نبیل نعیم کی ملاقات القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سے مصر میں قائم الصفاء کیمپ میں ہوئی۔ پھر یہ رفاقت دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک جاری رہی۔ نبیل ایمن الظواہری کے ہمراہ مصر سے پاکستان آئے اور پھر افغانستان گئے۔ انھوں نے افغانستان میں بھی الصفاء کا تربیتی مرکز قائم کیا، جہاں مصری اور عرب مجاہدین کو جہاد کی تربیت دی جاتی تھی۔ افغانستان میں ہی نبیل کی ملاقات شیخ عبداللہ اعظم سے ہوئی۔ شیخ عبد اللہ اعظم اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں۔ شیخ نبیل نعیم افغانستان کے بعد ایمن الظواہری کے ہمراہ سوڈان گئے۔ کہا جاتا ہے کہ شیخ نبیل نعیم اس گروہ کا حصہ تھے جس نے انوار السادات کے قتل کا منصوبہ بنایا اور اس کو عملی جامہ پہنایا۔ علاوہ ازیں مصر کے معزول صدر حسنی مبارک پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا منصوبہ بھی شیخ نبیل نعیم کا کام ہی گردانا جاتا ہے۔ نبیل کو 1994ء میں مصری سکیورٹی اداروں نے انہی الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا۔
نبیل نے ایئر پورٹ کے باہر بھی مصری سکیورٹی اداروں سے مقابلہ کیا، جس میں ان کے سر میں گولی لگی۔ اپنی گرفتاری کے بعد شیخ نبیل دس سال تک مصری جیلوں میں عقوبت کا نشانہ بنے۔ نبیل کی حراست حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے پر ختم ہوئی۔ رہائی کے بعد تقریباً دو ہزار تربیت یافتہ نوجوانوں کا گروہ ان سے متمسک ہوا، جو آج بھی ان کے نظریات کا پیرو ہے۔ شیخ نبیل نعیم اپنی تکفیری اور شدت پسندانہ روش کو ترک کرچکے ہیں۔ وہ اسرائیل کے علاوہ کسی بھی ملک کے بارے میں شدت پسندانہ نظریات نہیں رکھتے۔
گذشتہ ماہ ایک عرب ٹی وی چینل ’’وکالۃ انباء آسیا‘‘ نے شیخ نبیل نعیم کا خصوصی انٹرویو کیا، یہ انٹرویو کافی معروف ہوا، اس کے انگریزی تراجم کئے جاچکے ہیں، تاہم اب تک کوئی اردو ترجمہ موجود نہیں۔ انٹرویو میں شیخ نبیل نعیم نے القاعدہ کے ماضی، اس کی سرگرمیوں اور موجودہ حالات کے کے حوالے سے بہت سے انکشافات کیے۔ علاوہ ازیں نبیل نعیم نے اس انٹرویو میں شام میں جاری جنگ اور اس میں القاعدہ نیز عالمی قوتوں کے کردار کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ القاعدہ کی جانب سے 9/11 کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد سے افغانستان، عراق اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں ہونے والے تغیرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اکثر تجزیہ نگار یہ رائے رکھتے تھے کہ القاعدہ امریکی مفادات کے لیے سرگرم عمل تھی اور ہے، تاہم ان تجزیات کو ثابت کرنے اور ان کی حقیقت پر سے پردہ اٹھانے کے لیے کوئی واضح ثبوت یا گواہ موجود نہ تھا۔ شیخ نبیل نعیم کا حالیہ انٹرویو اس سلسلے میں ایک عینی شاہد کی گواہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اہم انٹرویو میں شیخ نبیل نعیم نے القاعدہ اور جہاد افغانستان کے حوالے سے اہم انکشافات کے علاوہ شام میں لڑنے والے مختلف سلفی گروہوں کو بھی مخاطب کیا اور اپنے جہادی تجربات کی روشنی میں متعدد نصیحتیں کیں، جو پڑھنے اور غور کرنے کے لائق ہیں۔
یہ انٹرویو ایک اہم دستاویز ہے۔ اگر شیخ نبیل نعیم کی باتوں کو ٹھنڈے دل اور کھلے دماغ کے ساتھ سنا جائے تو یقیناً امت مسلمہ کے بہت سے مسائل بالخصوص شدت پسندی اور تکفیریت کا حل کیا جاسکتا ہے۔
آسیا چینل:-  شیخ نعیم آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جہادی سرگرمیوں میں صرف کیا، آپ مصر سے افغانستان گئے، پھر سوڈان اور پھر حسنی مبارک دور میں آپ گرفتار ہوئے، اپنے جہادی تجربات کی روشنی میں آپ شام میں جاری لڑائی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ لوگ جو جہاد فی سبیل اللہ کے عنوان سے اس جنگ میں شامل ہو رہے ہیں، کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔؟
شیخ نبیل نعیم:- اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ جہاد افغانستان اور شام کی جنگ جسے جہاد کا عنوان دیا جا رہا ہے، میں بڑا فرق ہے۔ افغانستان پر بیرونی قوت یعنی سوویت یونین نے حملہ کیا تھا اور عالم اسلام کے مستند علماء نے اس حملہ کو روکنے کے لیے جہاد کے فتاوی دیئے تھے، ہم نے اپنی جدوجہد کی بنیاد اس جنگ کی اچھائیوں اور برائیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر انہی فتاوی پر رکھی، جبکہ شام میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ شام میں کوئی بیرونی قوت حملہ آور نہیں ہے۔ نہ ہی کسی بیرونی قوت نے شام پر قبضہ کیا ہے۔ درحقیقت شام میں اصل جارح صیہونی ہیں، جو شام سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔ یہ جارح گذشہ 60 سالوں سے فلسطین پر قابض ہے۔ اگر شام میں جہاد فی سبیل اللہ کی ابتداء ہونی چاہیے تھی تو وہ صیہونی حکومت کے خلاف ہونی چاہیے تھی، جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے، جو کچھ اس وقت شام میں جاری ہے ہم اسے فتنہ کہیں گے۔ رسول اکرم (ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ الفتنۃ نائمۃ لعنہ اللہ من ایقظھا۔۔۔۔۔۔۔۔فتنہ سو رہا ہے، اللہ کی لعنت ہو اس پر جو اسے بیدار کرے۔
میں شام میں جنگ کرنے والے اپنے بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے آپ کی نیتوں پر کوئی شک نہیں۔ تاہم اس وقت آپ امریکی منصوبے کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ کا مقصد فقط اپنے مقاصد کا حصول ہے، جن میں سے ایک، عرب دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ شدید نفرت کے جذبات پیدا کرکے چھوٹے چھوٹے مذہبی اور نسلی گروہوں میں تقسیم کرنا ہے۔ امریکہ نے نہ کبھی حجاب پہنا ہے اور نہ ہی کبھی اسلام قبول کرے گا۔ شام میں مسائل کو حل کرنے کے لیے جنگ کرنا کیا حقیقت رکھتا ہے؟ میرے بھائیو! آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ ذرا سوچیں! کیا امریکہ شام میں اسلامی خلافت کے قیام یا خدا کی شریعت کے نفاذ کے لیے جنگ کر رہا ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ امریکہ شام میں جمہوریت کے قیام کے لیے لڑ رہا ہے۔ کیا آپ نے عراق میں جمہوریت دیکھی؟ امریکہ نے کب اور کہاں جمہوریت کی مدد کی۔؟ نوم چومسکی اپنی کتاب میں لکھتا ہے اور یہی بات انکل سام بھی کہتا ہے’’کہ جمہوریت ایک سراب ہے، جس کے ذریعے ہم لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔‘‘
میرے بھائیو! آپ یہ جنگ اس وقت لڑ رہے ہیں جب اس کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ امریکہ نے ہم میں سے ہی کچھ حواری اور ایجنٹ چنے ہوئے ہیں جو ترکی اور لندن کے ہوٹلوں میں قیام پذیر ہیں۔ وہ وہاں رہ کر شام کی نئی حکومت تشکیل دے رہے ہیں۔ امریکہ کو یہ افراد فی الوقت جنیوا کی محافل میں شرکت کے لیے درکار ہیں۔ اگر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو یہ افراد کاروبار ریاست سنبھالیں گے اور کسی بھی حکومت کے مقابلے میں امریکہ اور اسرائیل کے زیادہ وفادار ہوں گے۔ پھر آپ کی باری آئے گی۔
میرے بھائیو! آپ جمہوریت کے منکر ہیں۔ آپ کو دہشت گرد پکارا جائے گا اور پھر آپ کا انجام قتل یا قید ہوگی۔ وہی کچھ جو افغانستان سے واپسی کے بعد ہمارے ساتھ ہوا۔ امریکہ نے ہمیں افغانستان میں 15سال جہاد کی اجازت دی۔ اس جنگ میں اس نے ہمیں پیسہ بھی دیا اور مدد بھی کی۔ ہمیں امریکہ اسلحہ بھی دیتا تھا اور معلومات بھی۔ حتٰی کہ ہمارے زخمیوں کو علاج کے لیے لندن اور یورپ لے جایا جاتا تھا۔ ہمارے پاس کیا تھا، ہم تو غریب لوگ تھے، یہ سب وہی کرتے تھے۔ امریکی اس زیر زمین امداد کے باوجود زمین پر غیر جانبدار نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے تمام تر تعاون اور امدادوں کے باوجود ہمیں دہشت گرد قرار دیا گیا اور بیس بیس سال جیلوں میں گزارنے پڑے۔ امریکہ ہمارے ساتھ گزرنے والے حالات سے آگاہ تھا، حتٰی کہ انھوں نے ہمارے بنیادی انسانی حقوق کا بھی انکار کر دیا۔ ہمیں بعد میں احساس ہوا کہ یہ سب بھی لوگوں کو استعمال کرنے کا حربہ تھا۔ ہم پر جیلوں میں تشدد ہوا اور امریکہ اس سارے عمل میں کہیں نظر نہیں آتا تھا۔
میرے بھائیو! انھیں اسلامی شریعت اور خلافت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ان کے اس علاقے میں مقاصد کو دو باتوں میں منحصر کیا جاسکتا ہے۔
1۔ تمام عرب ریاستوں پر اسرائیل کی معاشی اور حربی فوقیت کو قائم رکھنا۔ 2۔ مسلم اقوام کی تقدیر پر شب خون مارنا۔
امریکی انہی مقاصد کے تحت شام کی جنگ میں شامل ہے اور تم امریکہ کی ایماء پر یہ جنگ لڑ رہے ہو۔ میں تمہیں یقین دہانی کراتا ہوں کہ اگر شام میں موجود حکومت کا خاتمہ ہوا، تو پھر تمھاری باری آئے گی۔ تمھیں دہشتگرد پکارا جائے گا اور نتیجہ کے طور پر تم یا قتل کر دیئے جاؤ گے یا حراست میں چلے جاؤ گے۔ میں تم سے پوچھنا چاتا ہوں کہ کیا افغانستان میں شریعت اور خلافت قائم ہوئی؟
میں ڈاکٹر ایمن الظواہری سے کہنا چاہوں گا جو لوگوں کو شام کی جنگ کے لیے بھرتی کر رہے ہیں۔ ایمن! ہم نے افغانستان میں چودہ سال ایک دوسرے کے شانہ بشانہ جہاد کیا۔ پھر قرضاوی آیا اور اس نے صورتحال سے استفادہ کیا۔ ہم لوگ اس وقت سے مفرور ہیں اور بے آسرا ہیں۔ کیا یہی ہے وہ خلافت جس کا آپ نے اپنے آپ سے عہد کیا تھا؟ آپ نے بیس سال خلافت کے قیام کے لیے جنگ کی لیکن صورتحال یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو تحفظ نہیں دے سکتے۔ آپ کس خلافت کی بات کر رہے ہیں؟ کیا ابو مصعب الزرقاوی نے عراق میں خلافت قائم کی، جہاں کے لوگ جنگ کے سبب پتھر کے دور میں چلے گئے؟ کیا یمن اور سوڈان میں خلافت قائم ہوئی؟ حتٰی کہ اخوان المسلمون، جنھیں مصر کے انتخاب میں کامیابی حاصل ہوئی، کیا انھوں نے خلافت قائم کی؟ میری نظر میں قیام خلافت بھی ایک جھوٹ ہے، جو امریکہ اور اس کے حواریوں نے آپ کو استعمال کرنے کے لیے وضع کیا ہے۔
آسیا چینل:-  بہت سے ایسے افراد ہیں جو شام میں جنگ کو اپنے دفاع کی جنگ قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، مثلاً اخوان کہتے ہیں کہ چونکہ شامی حکومت ہمیں برباد کرنا چاہتی ہے، اس لیے ہم جنگ کر رہے ہیں۔ آپ کی نظر میں کیا اپنا دفاع کرنا ایک ذمہ داری نہیں ہے۔؟
شیخ نبیل نعیم:-  یہ دراصل ایک جھوٹ ہے، جس کی جانب لوگوں کو بلایا جا رہا ہے۔ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں اور ایمن الظواہری سے کہتا ہوں کہ وہ شہادت دیں اس قصے کے بارے میں، جو میں ابھی بیان کرنے والا ہوں۔ ایمن الظواہری مجھے خدا کو حاضر ناظر جان کر میری اس بات کا انکار کریں، جس کو ہم سب نے جان دینی ہے اور جس کے سامنے روز حساب کھڑا ہونا ہے۔ اسی کی دہائی کے دوران جب حافظ الاسد اور اخوان کے مابین اختلافات شدید تھے، ایک شامی شخص کویت میں شیخ احمد کے پاس گیا۔ اس نے شیخ کو بتایا کہ شام کی جیلوں میں 200 سنی خواتین قید ہیں۔ جن کے ساتھ شامی حکومت کے افراد نے جنسی زیادتی کی ہے اور وہ اس سے حاملہ ہوچکی ہیں۔ آپ اس سلسلے میں کیا فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ خواتین اپنے حمل کو گرا دیں یا اس کو قائم رکھیں؟ شیخ یہ بات سن کر روئے اور انھوں نے اس قصہ کو اپنے خطبہ جمعہ میں بیان کیا۔ یہ بات کویت سے موریطانیہ تک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ حتٰی کہ میں اور ایمن الظواہری حما کے میدان میں لڑنے والے کمانڈر ابو مصعب سے ملے۔ ہم ان کے پاس سوڈان کے علاقے شمبات میں ان کی رہائش گاہ پر ایک ماہ کے لیے رہے۔ انھوں نے ہمیں خدا کی قسم دیتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ ایک صریح جھوٹ ہے، جو اس شخص نے خود سے گھڑا تھا۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ہم یہ بات کسی حکومتی اہلکار سے نہیں سن رہے تھے بلکہ اس کا راوی شامی حکومت کے خلاف حما کے میدان میں لڑنے والا اخوان المسلمون کا ایک مجاہد راہنما تھا۔ اس شامی نے اپنے اس جھوٹ کے بل بوتے پر کویت میں پانچ ملین کویتی دینار جمع کئے اور ان پیسوں سے اٹلی میں فرنیچر کا کاروبار شروع کیا۔ پس شام کے بارے میں جو کچھ آپ سن رہے ہیں، اس میں بہت سا جھوٹ اور پراپیگنڈہ ہے۔ ایمن الظواہری نے مجھے شامی مجاہدین کے پاس بھیجا، جہاں میں نے دیکھا کہ یہ مجاہد کمانڈر پیسوں سے چھلک رہے ہیں اور مجاہدین کے پاس ایک کھوٹا سکہ بھی نہیں ہے۔ میں نے شام کے عدنان عقدہ جو مجاہدین کے کمانڈر تھے، کا ایک مکتوب ایمن تک پہنچایا جو جرمنی میں موجود ایک کمانڈر عصام العطار کے نام لکھا گیا تھا اور جس میں درخواست کی گئی تھی کہ مجاہدین کو مالی مدد کی ضرورت ہے۔ عدنان عقدہ نے شکوہ کیا کہ کچھ مجاہد راہنما جن میں سعید حروہ، ابو جعفر مصری اور کچھ دیگر شامل ہیں، جنگ کے نام پر اکٹھے کئے گئے مال تک رسائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ عدنان نے عصام سے کہا کہ سعید حروہ نے گذشتہ ایک سال میں اسے صرف ڈھائی لاکھ ڈالر دیئے ہیں جبکہ ہمارے مجاہدین بے سرو سامانی میں پارکوں، ریلوے اسٹیشنوں اور گیس اسٹیشنوں پر سوتے ہیں۔ نوجوانو! یہ ہیں وہ جہادی کمانڈر جو تمھیں استعمال کر رہے ہیں اور تمھاری صلاحیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ تم دیکھو گے کہ تم مر رہے ہوگے اور یہ لوگ امریکہ کے مفادات کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو اسلامی مجاہد اور خلافت کا داعی کہتے ہیں، سے بھی میں کہنا چاہوں گا کہ پہلا شخص جس نے ہمیں مدد، دی بعث پارٹی کا سربراہ صدام تھا۔ اس نے ہمیں ایک پناہ گاہ دی۔ کیا بعث پارٹی آج عالم اسلام کی قیادت کر رہی ہے؟ کیا آج صدام ہمارا خلیفہ ہے؟ صدام اور حافظ الاسد میں یہ فرق تھا کہ صدام نے مذہب کو مال تجارت کے طور پر استعمال کیا۔ آج بشار الاسد کی صورت میں تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ وہ کون ہے جس نے آج آپ کو بشار کے خلاف اسلام کے نام پر لڑنے کے لیے دعوت دی ہے۔ کیا بشار نے فلسطینیوں پر حملے کئے اور ان کے قتل کا حکم دیا؟ کیا بشار لبنان میں قانہ کے واقعے کا ذمہ دار ہے؟ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے قتل و غارت کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ کیا اسرائیل ہی آج جمہوریت کا چہرہ ہے؟ کیا اسرائیلیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔؟ میرے بھائیو! تمھارے ذہنوں کے ساتھ کیا حادثہ وقوع پذیر ہوگیا ہے۔ تم استعمال ہو رہے ہو اور وہ بھی ایسے معاملے میں جس سے تمھارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
آسیا چینل:-  اس بارے میں بہت بحث ہے کہ شامی حکومت نے مسلمان مظاہرین کو قتل کیا۔ کیا ان مسلمانوں کو اپنے دفاع کا حق نہیں ہے۔؟
شیخ نبیل نعیم:-  مصر میں جب انقلاب شروع ہوا تو تقریباً ایک ہزار ہلاکتیں ہوئیں، لیکن اس انقلاب کی قوت اس کا پرامن ہونا تھا۔ اگر طاقت کا جواب طاقت سے دیا جاتا تو یہ مظاہرین اپنا مقصد اور ہدف کھو بیٹھتے۔ انقلاب ایران میں کتنے لوگ قتل ہوئے؟ شام میں تو انقلاب کے آغاز میں دو سو سے تین سو افراد قتل ہوئے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے یہ افراد بھی بشار الاسد کے حکم پر قتل نہیں کیے گئے بلکہ اس میں بھی ان جہادیوں کا ہاتھ ہے جو مظاہرین کو استعمال کر رہے تھے۔ آج مصر میں وہ لوگ جنھوں نے عام شہریوں کو قتل کیا ہے، کو چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ بے قصور قرار دے دیئے گئے ہیں۔ یعنی مصر میں ہونے والی اموات کا کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہے۔ اسی طرح آپ بشار الاسد کی حکومت کو بھی اس قتل کا ذمہ دار نہیں ٹہرا سکتے۔ یہ کوئی بھی ہوسکتا ہے، ممکن ہے اس قتل و غارت کے پیچھے موساد کے ایجنٹوں کا ہاتھ ہو۔ میں یہاں شیخ قطب الزاد کا ایک واقعہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے امام خمینی کو لکھا کہ ہمارا جمال عبد الناصر سے ایک معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت شاہ کی حکومت کے خاتمے کے لیے وہ ایرانیوں کو مسلح کرنے کے لیے تیار ہے۔ امام نے جواب دیا کہ جتنا بھی وقت لگے ہم شاہ کے خلاف مسلح جدوجہد نہیں شروع کریں گے۔ ہم انتظار کریں گے کہ ایرانی قوم شاہ کی اس بربریت کے مقابلے میں خود سے قیام کرے۔ پس نتیجہ کلام یہ ہے کہ ہر مزاحمت میں ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ یہ ہلاکتیں درست ہیں۔ میرا موقف یہ ہے کہ جو لوگ ان ہلاکتوں کے مرتکب ہوتے ہیں وہ مہرے ہوتے ہیں، جیسا کہ ہم نے مصر میں دیکھا۔ کچھ نے کہا کہ وہ موساد کے افراد تھے۔ اسی طرح بعض لوگوں نے دیگر باتیں کیں۔ مجھے ایک ایسی مثال دیں جس میں کسی بھی مصری افسر پر ان ہلاکتوں کا الزام ثابت ہوا اور اسے سزا دی گئی ہو۔ ہم جھوٹ کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہم نے اسی کی دہائی میں دیکھا کہ وہ لوگ جو حافظ الاسد کے خلاف لڑ رہے تھے، نے لاکھوں ڈالر جمع کرنے کے بعد اسی حافظ الاسد سے امن معاہدہ کرلیا۔
آسیا چینل:-  آج ہزاروں مسلمان شام میں جنگ لڑ رہے ہیں، آپ کی نظر میں کس طرح اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو لڑنے کے لئے آمادہ کیا گیا۔؟
شیخ نبیل نعیم:-  اولاً تو انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ ایک مرتد سے جنگ کرنا اہل کتاب سے جنگ کرنے سے افضل ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک انتہائی گمراہ کن نظریہ ہے۔ میری نظر میں ایک جارح، اسلامی ثقافت نیز مذہب کو پامال کرنے والے اور اسلامی زمینوں پر قبضہ کرنے والے سے جہاد کرنا ایک نام نہاد مرتد سے جہاد کرنے سے بدرجہ ہا افضل ہے۔ صیہونیوں نے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا، ہمارے خانوادوں کی بے حرمتی کی اور انھیں ذبح کیا، ہمیں اپنے گھروں سے بے گھر کیا۔ اس کے بعد ہم کس چیز کے منتظر ہیں۔ بشار کو مرتد کہنا ایک جھوٹ ہے۔۔۔ آپ دیکھیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو بشار کو مرتد قرار دے رہے ہیں؟ جہاں تک میرے علم میں ہے بشار سنی ہے۔ جس نے اپنی شادی کے دن اعلان کیا تھا کہ وہ اسلامی برادری پر یقین رکھتا ہے۔ فرض کیا کہ وہ سنی نہیں ہے تو بھی جب تک وہ ہمارے دین، ہمار ے روزوں، ہماری نمازوں اور ہمارے حج کے خلاف اقدام نہیں کرتا، ہم اس کے خلاف نہیں لڑسکتے۔ میں جانتا ہوں کہ شام عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے معاشرتی مساوات کی بات کی۔ شام وہ واحد عرب ملک ہے جہاں ایک غریب آدمی زندہ رہ سکتا ہے اور اپنی گزر اوقات کرسکتا ہے۔ شام تیسری دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر ایک ڈالر کا قرضہ نہیں ہے۔ حافظ الاسد اپنے ملک کے باسیوں کو ضروری سہولیات مہیا کر رہا تھا۔ پس ہم نے فتنے کا آغاز کیوں کیا۔؟
آسیا چینل:-  شام میں دباؤ ہے، آمریت ہے، لوگ آزادی چاہتے ہیں، جس طرح آج آپ کو حاصل ہے۔؟
شیخ نبیل نعیم:-  میرے محترم! ہم آزادی تقریر کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ہم یہاں اصلاح کی بات کر رہے ہیں نہ کہ قتال کی۔ جنگ کی ابتداء ایک غلط قدم تھا۔ بشار بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ میڈیا کو آزادی دے۔ وہ چاہتا تھا کہ حافظ الاسد اور اس کے دور میں کچھ امتیازات ہوں، جس کی عملی شکلیں ہم دیکھ رہے تھے۔ کیا آزادی کے لیے ہمیں لوگوں کو حکومت کے خلاف مسلح جہاد پر ابھارنے کی ضرورت تھی؟ کیا اس بات کی ضرورت تھی کہ ہم شام کی تقسیم کی بات کریں؟ امریکہ جو آزادی تقریر کی بات کرتا ہے، آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ نکارا گوا ، ہنڈراس اور ایل سلوا ڈور میں کیا کر رہا ہے۔ امریکی کب کسی کو آزادی دیتے ہیں۔ وہ کتے کی سی آزادی دیتے ہیں، یعنی آپ کو بھونکے کی اجازت تو دیں گے لیکن کبھی بھی ہڈی کے قریب نہیں جانیں دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ جتنا جی چاہے بھونکو لیکن ہمارے مفادات کی جانب مت بڑھو۔ میں نے اپنے قریبی دوست سعدالدین الابراھیمی سے پوچھا کہ امریکہ کے مشرق وسطٰی میں حقیقی مقاصد کیا ہیں؟ میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے یہاں کبھی کسی ملک کے عوام کی آزادی کے لیے کوئی کام کیا ہو۔ سعد نے کہا کہ وہ یہاں صرف اپنے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کا خطے میں حقیقی مفاد صرف فائدہ اٹھانا ہے۔
آسیا چینل:-  کیا آپ سینیٹر جان میکین کے حالیہ دورہ شام کے مخالف ہیں، جس میں اس نے کہا کہ وہ شامی حزب اختلاف کو مسلح کرنے اور انہیں مدد مہیا کرنے کے نظریئے کی حمایت کرتا ہے۔؟ شیخ نبیل نعیم:-  جان میکین کس حیثیت میں شام کی حزب اختلاف سے مذاکرات کر رہا ہے۔ کیا وہ خلافت کے قیام کی بات کرنے آیا ہے؟ وہ لوگ جو شام میں لڑ رہے ہیں وہ وہاں خلافت کے قیام کی بات کرتے ہیں، نہ کہ جان میکین کی جمہوریت کی۔ وہ اپنی جمہوریتوں کے منکر ہیں۔ وہ ووٹ دینے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ پس جان میکین کیسے النصرہ کے لوگوں سے مذاکرات کرے گا۔ آپ کے خیال میں وہ کن لوگوں سے مذاکرات کے لیے شام گیا؟ وہ وہاں اپنے گماشتوں اور ایجنٹوں سے ملنے گیا تھا۔ یہ لوگ اپنے عوام کے ساتھ وہ سب کرنے کے لیے آمادہ ہیں جو بشار الاسد نہیں کرسکتا تھا۔
آسیا چینل:-  مثلاً 
شیخ نبیل نعیم:-  مثلاً! اسرائیل کے لیے راہ ہموار کرنا، شام کو تقسیم کرنا، مقاومت (حزب اللہ) کا خاتمہ اور جولان کے پہاڑیوں کے معاملے سے دستبرداری۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers