"نکاح سترہ" کا نام آپ نے پہلے کبھی نہیں سنا ہو گا،یہ عرب دنیا میں رائج ہونے والی نکاح کی ایک نئی قسم ہے،اس سے قبل کئی عشروں سے "نکاح مسیار" کے نام سے  بھی شادی کا ایک سلسلہ عرب میں جاری ہے،مسیار کا لفظ" سیر" سے نکلا ہے جس کا مطلب "سفر کرنا  ہے ،بظاہر یہ لفظ "میسار" کی بگڑی ہوئی شکل معلوم ہوتی ہے جس کی اصل "یسر" ہے،یعنی"آسانی"،اس نکاح میں مرد عورت  شادی کی اکثر مروجہ رسموں سے آزاد ہو کر ،اور ایک دوسرے کے متعدد حقوق سے دستبردار ہو کر بڑی آسانی کے ساتھ یہ رشتہ قائم کر لیتے ہیں،عام طور پر وہ لڑکیاں اس طرح کی شادی پر آمادہ ہوتی ہیں جن کی شادی کی عمر ڈھلنا شروع ہو جائے اور اس وقت تک  مسیار کے نام سے قائم کیے گئے رشتے کو باقی رکھتی ہیں جب تک باقاعدہ شادی کا پیغام نہ آجائے۔ تفصیل سے پڑھئے
طاقت کے نشے میں چور مختلف بادشاھوں کی حرکتیں تاریخ سے مختصر ذکر....... 
روم کی سلطنت میں ایسی مثالیں اس وقت ملتی ھیں جب بادشاھت موروثی طور پر منتقل ھوئی 
مثال کے طور پر روم کے بادشاہ کالی گولہ کو اپنے گھوڑے سے اسقدر پیار تھا کہ اس کے لیے سنگ مرمر کا اصطبل بنوایا چاروں طرف پہرا ھوتا کہ کوی وھاں سے نہ گزرے تاکہ گھوڑے کے آرام میں خلل نہ پڑے 
روم کےایک اور بادشاہ نیرو کا یہ حال تھا کہ اپنے سارے شاھی خاندان کو ایک ایک کر کے قتل کرادیا کہ شائد یہ مجھکو قتل نہ کردیں 
اسکا معمول تھا وہ شہر کی گلیوں میں نکل جاتا لوگوں کو لوٹ کر قتل کردیتا لاشیں گندے نالے میں پھینک دیتا اور اسکو شیشے کےسامنے بیٹھ کر چہرے کو بگاڑنے کی عادت تھی اس سے وہ بہت خوش ھوتا
نیرو اپنے آپ کو بہت بڑا موسیقار سمجھتا تھا یونان میں موسیقی کے مقابلوں میں شرکت کرکے اپنےبآپ کو اول انعام دلواتا -جب روم کے شہر کو آگ لگی تو اس نے گانا گایا
ایک دفعہ اپنی حاملہ بیوی کےپیٹ پر لات ماری جس سے وہ مر گئی
آخر کار اس کے محافظوں نے تنگ آکر اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا جس پر اس نے خودکشی کرلی
روم کا ایک بادشاہ ڈای سیشن گھنٹوں اپنے کمرے میں بند ھو کر بیٹھا رھتا اور مکھیوں کو مار کر انہیں پن میں پروتا تھا
روم کے مشہور فلسفی بادشاہ کا بیٹا کموڈس جب بادشاہ بناتو اس کا یہ حال تھا بات بات پر لوگوں کو قتل کرادیتا تھا
ایران کے بادشاہ یزدگر نے چوتھی صدی قبل مسیح میں یونان پر حملہ کیا تو جاتے ھوے دریا پر پل بھی بنایاواپسی پر اس نے دیکھا کہ دریا میں طوفان کی وجہ سے پل ٹوٹا ھوا ھے جس پر اسے دریا پر بہت غصہ آیا کہ دریا نے اسکی حکم عدولی کی ھے لہذا دریا کو کوڑے مارے جائیں اور جن لوگوں نے پل تعمیر کیا ان کے سر قلم کرادئے 
گاؤں اے میرے گاؤں میں کہ جاروب ِ کُشان ِ بے عقل کہیں کا ، تجھ سے اب وہ مانگوں ہو جو تو اب دے نہیں سکتا ،میں کہ تیرے افلاس کا مارا ہوا کچھ لے نہیں سکتا ، تم کہاں رہ گئے ،؟ سنو یہ کیا کہ اک جھمکا سا ہوا ہم یوں بٹ گئے جیسے ، جیسے ہم ہم نہ تھے کبھی باھم نا تھے ، بارہا تم کو یاد کیا ہے ، بارہا آباد کیا ہے ، میں تو تیری گلیوں کے نثار کہ جہاں میں نے پہلا لڑکھڑاتا ہوا قدم رکھا تھا، مُہر تھی کہ نشان ِ پدم رکھا تھا، ان کچی گلیوں کے بل کھاتے ہوئے پھل کھاتے ہوئے دبیز راستے! جہاں پہروں پہروں شیشم کی ڈنڈیا لیے سائیکل کے ٹاٰئر بھگائے میں نے ! گاؤں اے میرے گاؤں ، تیرے سبز اطراف کے میلوں میلوں! میں نے اک اک پگڈنڈی کو قدموں تلے گوندا ہے ،تو جانتا ہے نا میں نے تیری تعظیم میں بچپن سے مو پھوٹنے تلک جوتے نہیں پہنے ، ننگے پاؤں تیری جھاڑیاں تیری آریاں تیرے ببول کے کانٹوں کو انہیں قدموں تلے روندا ہے - تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
جی ہاں! یہ ذکر ہے آج کل مختلف چینلز پر چلنے والے پاکستانی ڈراموں کا جنہیں ڈرامہ کے بجائے ’ڈرامی‘ کہنا ذیادہ بہتر ہوگا کیونکہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اب وہ صرف خواتین کے لیے بنائے جارہے ہیں۔
اکثر ڈراموں کے نام بھی زنانہ ہیں مثلاً میں ’کوئلہ ہوگئی‘، ’کاش میں تیری بیٹی نہ ہوتی‘ (توکیا پھوپھو کی ہوتی؟)، ’عفت‘، ’مریم‘، ’کہانی مناحل کی‘، ’بڑی آپا‘، ’ادھوری عورت‘، ’ڈھائی دن کی عورت‘، ’من چلی‘، ’ملکہ عالیہ‘، ’ناجیہ‘، ’سمدھن‘، ’بلقیس کور‘، ’درِشہوار‘، ’دوسری بیوی‘، ’کنیز‘، ’برنس روڈ کی نیلوفر‘، ’بہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں‘ اور ویسی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد ڈرامہ مزید خود غرضی تک چلا گیا جو ان کے نام سے ظاہر ہے مثلاً میں ’میں بشریٰ‘، ’میری ماں‘، ’میری بیٹی‘، ’میری عنایہ‘، ’ سسرال میرا‘ اور شاید اب ان ناموں سے بھی ڈرامے بنیں مثلاً ’میرا بٹوہ‘، ’میری نند‘، ’میری چپل‘، ’میں اور صرف میں‘۔
دوسری جانب ڈرامے کا کینوس سکڑ کر چار پانچ کرداروں تک محدود ہوگیا ہے جس میں گھسی پٹی گھریلو کہانیوں کو تین کمروں میں فلمایا جاتا ہے اور کئی قسطوں تک پھیلایا جاتا ہے۔ ان ڈراموں کے 80 فیصد مناظر میں کیمرہ عورتوں پر ہوتا اور مرد کا کردار بہت معمولی ہوتا ہے (شاید اگلے دنوں میں مرد کا کردار بھی خواتین ہی کریں گی)۔
ان سیریلز میں مجموعی طور پر 10 سے 20 اداکار اور اداکارائیں 50 یا 60 ڈراموں میں کام کررہی ہیں جبکہ بعض چہرے تو ٹی وی بند کرنے کے بعد بھی نظر آتے رہتے ہیں۔ دو فنکارائیں ایک ڈرامے میں بہنیں ہیں، دوسرے میں ساس بہو ہیں، تیسرے میں بھابھی اور نند ہیں اور مجال ہے کہ ایک سے دوسرے ڈرامے کی ایکٹنگ میں کوئی فرق آجائے!
اب ذرا غور کیجئے کہ ماضی کے ڈرامے کتنے گہرے اور وسیع تھے جن میں معاشرے کا ہر فرد دکھائی دیتا تھا۔ ان ڈراموں کو یاد کیجئے تو ’آسمان تک دیوار‘، ’ہوائیں‘، ’جنگل‘، ’وقت‘، ’خدا کی بستی‘، ’سورج کے ساتھ ساتھ‘، ’وارث‘، ’پیاس‘، ’الاؤ‘، ’اندھیرا اجالا‘، ’پسِ آئینہ‘، ’چاند گرہن‘، ’دھواں‘ اور ’دھوپ کنارے‘ وغیرہ سمیت کتنے نام ذہن میں آتے ہیں۔ منڈی میں مزدوروں کا نوحہ تھا، جانگلوس میں معاشرے کا استحصال نظر آیا، ڈرامہ ’پناہ‘ میں سابقہ سوویت یونین اور افغان زندگی دکھائی گئی، ’دھواں‘ میں منشیات کی تباہیوں کا ذکر تھا اور ’کارواں‘ میں تھر کی زندگی کے رنگ بھرے تھے۔ ان کے لکھنے والے معاشرے پر کتنی گہری نظر رکھتے تھے اور اداکار کردار میں ڈھلنے کے لیے کس قدر محنت کیا کرتے تھے۔ مختصر یہ کہ آج کے ڈرامے میں مچھیرے، کسان، مزدور، استحصالی طبقہ، ظالم ومظلوم کیوں نظر نہیں آرہے؟
چلیے، ٹھیک ہے کہ آج زمانہ بدل چکا ہے اور خواتین ہی ڈراموں کی اصل ناظرین ہیں لیکن معاشرے کے باقی مسائل کہاں ہیں؟ دہشتگردی، معاشرتی برائیاں، نوجوانوں کے مسائل، بچوں کی تفریح، بیروزگاری، تاریخی واقعات اور ملکی چیلنج پر کیوں نہیں لکھا جاتا؟ اگر ڈراموں کا مرکز ایک عورت ہے تو پھر پنڈت اللہ بخش پر ڈرامہ کیوں نہیں لکھا جاتا جنہوں نے آزادی کے بعد ایک ہندو کا روپ دھار کر سکھوں کی جانب سے اغواء کی جانے والی کئی پاکستانی خواتین کو وطن واپس لانے کا بندوبست کیا اور اپنی جان خطرے میں ڈالی۔ یا سوات کی بہادر خاتون مسرت زیب پر کوئی کہانی کیوں نہیں بناتا جنہوں نے کئی خواتین کو طالبان کے چنگل سے چھڑایا۔ کرداروں میں پاکستان کی عظیم اور باہمت خواتین کو کیوں نہیں دکھایا جاتا اور ہمارے ڈرامے کی خاتون ہمیشہ روتی کیوں رہتی ہے؟
کچھ دنوں پہلے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ہدایت کارہ ساحرہ کاظمی اور اداکار خالد انعم نے کہا تھا کہ اتنے سارے ٹی وی چینلز ہونے کے باوجود ورائٹی نہیں ہے۔ انہوں نے ٹی وی چینلزکو آفر دی کہ وہ ایک گھنٹہ بچوں کے پروگرام یا ڈرامے کرنا چاہتے ہیں کوئی چینل انہیں جگہ دے لیکن کروڑوں بچوں کی تربیت و تفریح کی کس کو فکر یہاں تو سب ایک سمت میں بھاگ رہے ہیں۔
آج کے پاکستانی ڈراموں میں مرد کو کائنات کی بدترین مخلوق دکھایا جاتا ہے جس میں کوئی اچھائی نہیں۔ وہ ہوس کا مارا ہے جس کا محور صرف اور صرف عورت اور زندگی کا پہلا مقصد شادی، دوسرا مقصد دوسری شادی اور تیسرا مقصد افیئر ہے۔ میں نے ایسے ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان دیکھے ہیں جو اپنی محدود آمدنی سے گھر چلاتے ہیں، زندگی کی دوڑ دھوپ میں دو دو ملازمتیں کرتے ہیں، چھٹی میں بچوں کو باہر لے جاتے ہیں، اچھی ملازمتوں کے لیے سی وی بھیجتے رہتے ہیں، بیوی کا خیال رکھتے ہیں، دفتر سے گھریلو خرچ کے لیے قرض لے کر مہینوں تنخواہ کٹواتے ہیں اور جوائنٹ فیملی کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ساس، بہو کے بیچ پھنس کر اپنی ماں اور بیوی کے درمیان کچلے جاتے ہیں۔ خواتین یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ وہ مرد کے جذبات کا محور یا ایموشنل جنریٹر ہیں اور کوئی اس پر ڈرامہ کیوں نہیں بناتا۔ افسوس! ان ڈراموں نے مرد و عورت کے خوبصورت رشتے کو سمجھنے اور بڑھانے کے بجائے مرد و عورت کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا ہے۔
پھر ان ڈراموں میں حقیقت سے دوری اور مسائل کو بڑا کرکے دکھانا بھی شامل ہے۔ ہم اپنے گھر کے جو چیلنج ایک دن میں حل کرلیتے ہیں وہ ڈراموں میں کئی قسطوں تک برقرار رہتے ہیں۔ دوسری جانب اسٹار ڈراموں سے ایک وبا آئی ہے جسے ہم جھوٹ ہی کہیں گے مثلاً ایک پاکستانی ڈرامے میں ایک خاتون پالتو کتوں کو آدم خور بنانے کے لیے روزانہ انسانی گوشت کھلاتی نظر آتی ہیں۔ پورا ڈرامہ ختم ہوگیا لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ انسانی گوشت کہاں سے لائیں یا کس دوکان سے خریدتی تھیں۔ ایک اور ڈرامے میں ایک بہن کی جگہ دوسری کو نکاح کے لیے بٹھادیا جاتا ہے اور کسی کو شک بھی نہیں ہوتا۔ شاید نکاح کے وقت شناختی کارڈ بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
بھارتی ڈراموں میں ایسی ایبنارمل صورتحال عام دیکھی جاتی تھی مثلاً ایک زمانے میں لفظ ’ک‘ سے شروع ہونے والے ڈرامے بڑے مقبول تھے اور ان میں ایک ڈرامہ ’کُم کُم‘ تھا جس کی ہیروئن ایک بڑی دماغی سرجری کے اگلے دن آئینے کے سامنے اپنے لمبے بال سنوارتی نظر آتی ہیں۔ کاف سے شروع ہونے والے ان کے دیگر ڈراموں میں ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘، ’کبھی سوتن کبھی سہیلی‘، ’کہانی گھر گھر کی‘ ، ’کسوٹی زندگی کی‘ پاکستان میں مقبول رہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو آج ’کبھی کچھ کچھوے کبوتر تھے‘ کے نام سے بھی ایک ڈرامہ دیکھنے کو ملتا!
لیکن یہ نہیں کہ سارے ڈرامے یکسانیت کے شکار ہیں بلکہ موضوعات کی یکسانیت انہیں بوجھل بنارہی ہیں۔ اگر اس صورتحال میں نئے تجربے کیے جائیں تو تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گے اور بارش کا پہلا قطرہ بھی۔ ناظرین کی فکر نہ کیجئے کہ وہ موجود ہے اور تبدیلی چاہتی ہے ایک قدم آگے بڑھانے اور زندگی کے ذرا اور قریب آنے کی دیر ہے۔
  
شادی کے رسم و رواج کی اہمیت اور سچائی اپنی جگہ لیکن ہمارے برصغیر پاک و ہند میں شادی کی رسومات کو جو حیثیت حاصل ہے اس کی مثال شاید ہی کسی دوسرے معاشرے میں ملتی ہو۔ یہ رسومات شادی سے کوئ ایک ماہ قبل ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ ان رسومات میں مرد حضرات کی حیثیت محض ایک تماشائ کی ہوتی ہے جبکہ خواتین اور لڑکیاں بالیاں ان رسومات اور تقریبات کی کرتا دھرتا ہوتی ہیں۔ گو کہ مسلمان معاشرے میں ایسی تمام رسومات کا کوئ ذکر یا گنجائش نہیں لیکن صدیوں ہندو معاشرے میں رہنے کی بنا پر یا پھر اکثریت ایسی بھی ہے کہ جن کے آبا ئو اجداد نے صدیوں پہلے ہندو مزہب سے تائب ہو کر اسلام قبول کرلیا تھا لیکن وہ بے شمار ایسی رسومات سے جان نہ چھڑا سکے جن کے پس پردہ کوئ نہ کوئ ہندو مزہب کی روایت یا کہانی جڑی ہے۔ یاد رکھئے کہ جن چیزوں کو ہم ثقافت یا تہزیب کا حصہ گردانتے ہیں وہ دراصل کسی نہ کسی ہندو مت کی دیوی دیوتا سے جڑا واقعہ ہوتا ہے جس کو ہندو ایک مزہبی رسم کے طور پر انجام دیتے ہیں. بہرحال اگر ان رسومات میں شرک کا کوئ پہلو نہ نکلتا ہو تو ان کو سرانجام دینے میں کوئ قباحت بھی نہیں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سے شادی کے لمحات یادگار بن جاتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
گر کوئی پوچھے لتا بڑی سنگر ہے یا نور جہاں ؟تو مجھے اچھا نہیں لگے گا، کیونکہ موسیقی اور گائیکی کی دنیا میں نور جہاں کا کوئی ثانی نہیں ، کچھ لوگ ام کلثوم کو نور جہاں کے پائے کی گلوکارہ گردانتے ہیں، دلیل یہ ہے کہ اونچے سروں میں گانے والیاں صرف دو ہی پیدا ہوئیں،ایک نور جہاں ادوسری ام کلثوم۔۔۔۔ کیا ام کلثوم اور کسی میدان میں بھی نورجہاں کی ہم پلہ تھی؟ تو یہ میرے سمیت کوئی بھی نہیں جانتا ہوگا،ایک ہی نظر میں مرد کا ایکسرے کر لینے والی، مرد کی جیب کا بناء دیکھے وزن کر لینے والی، مرد کو اس کی رضامندی سے اغواء کرکے لے جانے والی ، مرد سے جلد ہی اکتا جانے والی نور جہاں کی بہت سی خوبیاں کبھی نہاں نہ ہوئیں، وہ ایک انتہائی فیاض خاتون تھیں اور مستحق لوگوں کی مدد کیا کرتی تھیں، انہیں بڑے، بزرگوں کے احترام اور سر اٹھانے والی نئی گلوکاراؤں کو گندی گالیاں دینے کا سلیقہ بھی خوب آتا تھا پنا بیگم نے ایک بار بتایا کہ نور جہاں کے پرستار ایک خاص حد تک ہی ان کے فن گلوکاری سے محظوظ ہوتے رہے اور ہو رہے ہیں ، نور جہاں کی آواز کے گہرے سمندر کی تہہ تک کبھی کوئی نہ جھانک سکا، اس سمندر میں لوگ تو لوگ خود نور جہاں بھی جانکتیں تو ڈوب جاتیں،   تفصیل سے پڑھئے
(سیرت رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ایک حصہ)
شرفاء عرب کی عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے گردو نواح دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے دیہات کی صاف ستھری آب وہوامیں بچوں کی تندرستی اور جسمانی صحت بھی اچھی ہو جاتی تھی اور وہ خالص اور فصیح عربی زبان بھی سیکھ جاتے تھے کیونکہ شہر کی زبان باہر کے آدمیوں کے میل جول سے خالص اور فصیح و بلیغ زبان نہیں رہا کرتی۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں ''بنی سعد'' کی عورتوں کے ہمراہ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ کو چلی۔ اس سال عرب میں بہت سخت کال پڑا ہوا تھا، میری گود میں ایک بچہ تھا، مگر فقر و فاقہ کی وجہ سے میری چھاتیوں میں اتنا دودھ نہ تھا جو اس کو کافی ہو سکے۔ رات بھر وہ بچہ بھوک سے تڑپتا اور روتا بلبلاتا رہتا تھا اور ہم اس کی دلجوئی اور دلداری کے لئے تمام رات بیٹھ کر گزارتے تھے۔ ایک اونٹنی بھی ہمارے پاس تھی۔ مگر اس کے بھی دودھ نہ تھا۔ مکہ مکرمہ کے سفر میں جس خچر پرمیں سوار تھی وہ بھی
اس قدر لاغر تھا کہ قافلہ والوں کے ساتھ نہ چل سکتا تھا میرے ہمراہی بھی اس سے تنگ آ چکے تھے۔ بڑی بڑی مشکلوں سے یہ سفر طے ہوا جب یہ قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا تو جو عورت رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھتی اور یہ سنتی کہ یہ یتیم ہیں تو کوئی عورت آپ کو لینے کے لئے تیار نہیں ہوتی تھی،کیونکہ بچے کے یتیم ہونے کے سبب سے زیادہ انعام و اکرام ملنے کی امید نہیں تھی۔ ادھر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی قسمت کا ستارہ ثریا سے زیادہ بلند اور چاند سے زیادہ روشن تھا،ان کے دودھ کی کمی ان کے لئے رحمت کی زیادتی کا باعث بن گئی، کیونکہ دودھ کم دیکھ کر کسی نے ان کو اپنا بچہ دینا گوارا نہ کیا۔
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے شوہر ''حارث بن عبدالعزیٰ'' سے کہا کہ یہ تو اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ میں خالی ہاتھ واپس جاؤں اس سے تو بہتر یہی ہے کہ میں اس یتیم ہی کو لے چلوں، شوہر نے اس کو منظور کر لیا اور حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس دریتیم کو لے کر آئیں جس سے صرف حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاہی کے گھر میں نہیں بلکہ کائناتِ عالم کے مشرق و مغرب میں اجالا ہونے والا تھا۔ یہ خداوند قدوس کا فضل عظیم ہی تھا کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سوئی ہوئی قسمت بیدار ہو گئی اور سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی آغوش میں آ گئے۔ اپنے خیمہ میں لا کر جب دودھ پلانے بیٹھیں تو باران رحمت کی طرح برکاتِ نبوت کا ظہور شروع ہو گیا، خدا کی شان دیکھیے کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مبارک پستان میں اس قدر دودھ اترا کہ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی اور ان کے رضاعی بھائی نے بھی خوب شکم سیر ہو کر دودھ پیا، اور دونوں آرام سے سو گئے، ادھر اونٹنی کو دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھر گئے تھے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے شوہر نے اس کا دودھ دوہا۔ اور میاں بیوی دونوں نے خوب سیر ہو کر دودھ پیااور دونوں شکم سیر ہو کر رات بھر سکھ اور چین کی نیند سوئے۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا شوہر حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ برکتیں دیکھ کر حیران رہ گیا،اور کہنے لگا کہ حلیمہ! تم بڑا ہی مبارک بچہ لائی ہو۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ واقعی مجھے بھی یہی امید ہے کہ یہ نہایت ہی بابرکت بچہ ہے اور خدا کی رحمت بن کر ہم کو ملا ہے اور مجھے یہی توقع ہے کہ اب ہمارا گھر خیروبرکت سے بھر جائے گا۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی گودمیں لے کر مکہ مکرمہ سے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے تومیرا وہی خچر اب اس قدر تیز چلنے لگا کہ کسی کی سواری اس کی گرد کو نہیں پہنچتی تھی،قافلہ کی عورتیں حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگیں کہ اے حلیمہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا یہ وہی خچر ہے ؟ جس پر تم سوار ہو کر آئی تھیں یا کوئی دوسرا تیز رفتار خچر تم نے خرید لیا ہے؟ الغرض ہم اپنے گھر پہنچے وہاں سخت قحط پڑا ہوا تھا تمام جانوروں کے تھن میں دودھ خشک ہو چکے تھے، لیکن میرے گھر میں قدم رکھتے ہی میری بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے،اب روزانہ میری بکریاں
جب چراگاہ سے گھر واپس آتیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے حالانکہ پوری بستی میں اور کسی کو اپنے جانوروں کا ایک قطرہ دودھ نہیں ملتا تھا میرے قبیلہ والوں نے اپنے چرواہوں سے کہا کہ تم لوگ بھی اپنے جانوروں کو اسی جگہ چراؤ جہاں حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے جانور چرتے ہیں۔ چنانچہ سب لوگ اسی چراگاہ میں اپنے مویشی چرانے لگے جہاں میری بکریاں چرتی تھیں،مگر یہاں تو چراگاہ اور جنگل کا کوئی عمل دخل ہی نہیں تھا یہ تو رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے برکات نبوت کا فیض تھاجس کو میں اور میرے شوہر کے سوا میری قوم کا کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا تھا۔
الغرض اسی طرح ہر دم ہر قدم پر ہم برابر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکتوں کا مشاہدہ کرتے رہے یہاں تک کہ دو سال پورے ہو گئے اور میں نے آپ کا دودھ چھڑا دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تندرستی اور نشوونما کا حال دوسرے بچوں سے اتنا اچھا تھا کہ دو سال میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خوب اچھے بڑے معلوم ہونے لگے، اب ہم دستور کے مطابق رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی والدہ کے پاس لائے اور انہوں نے حسب توفیق ہم کو انعام و اکرام سے نوازا۔
گو قاعدہ کے مطابق اب ہمیں رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں تھا، مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکات نبوت کی وجہ سے ایک لمحہ کے لئے بھی ہم کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جدائی گوارا نہیں تھی۔ عجیب اتفاق کہ اس سال مکہ معظمہ میں وبائی بیماری پھیلی ہوئی تھی چنانچہ ہم نے اس وبائی بیماری کا بہانہ کرکے حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رضا مند کر لیااور پھر ہم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو واپس اپنے گھر لائے اور پھر ہمارا مکان رحمتوں اور برکتوں کی کان بن گیا اور آپ ہمارے پاس نہایت خوش و خرم ہو کر رہنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کچھ بڑے ہوئے تو گھر سے باہر نکلتے اور دوسرے لڑکوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے مگر خود ہمیشہ ہر قسم کے کھیل کود سے علیٰحدہ رہتے۔ ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ اماں جان! میرے دوسرے بھائی بہن دن بھر نظر نہیں آتے یہ لوگ ہمیشہ صبح کو اٹھ کر روزانہ کہاں چلے جاتے ہیں؟ میں نے کہا کہ یہ لوگ بکریاں چرانے چلے جاتے ہیں، یہ سن کر آپ نے فرمایا: مادر مہربان! آپ مجھے بھی میرے بھائی بہنوں کے ساتھ بھیجا کیجیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصرار سے مجبور ہو کر آپ کو حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے بچوں کے ساتھ چراگاہ جانے کی اجازت دے دی ۔اور آپ روزانہ جہاں حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بکریاں چرتی تھیں تشریف لے جاتے رہے اور بکریاں چراگاہوں میں لے جا کر ان کی دیکھ بھال کرنا جو تمام انبیاء اور رسولوں علیہم الصلوۃو السلام کی سنت ہے آپ نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں اپنی ایک خصلت نبوت کا اظہار فرما دیا۔
سائبر کرائم اور ان کی سزائیں- CyberCrime‬ Bill 2016 ‪‎Pakistan‬
قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل منظور کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ابھی یہ بل سینٹ سے ہونا باقی ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کے لیے سائبر جرائم اور ان کی سزاؤں کا جاننا بے حد ضروری ہے۔
• کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
• کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
• کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
• اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• جرم اور نفرت انگیز تقاریر(نسلی یا مذہبی) کی تائید و تشہیر پر 5سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
• الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
• کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
• کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
• کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• سپامنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
• سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں.
مولانا فضل رحمان کی ذات پہ چسپاں کرکے، مذکورہ فقرہ اچھالاگیاہے- چونکہ سب لوگ متعصب یا چھچھورے نہیں ہوتے پس منصف مزاج مگر بےخبر لوگوں کے سامنے تصویر کا اصل رخ لانا بھی ایک شرعی فریضہ ہے-
اپنے موضوع پر آنے سے قبل، ایک چھوٹا سا واقعہ آپکے گوش گذار کرتا ہوں-
خاکسار، سعودی سول ایوی ایشن میں بطور سینئر انجنئر خدمات سرانجام دیتا ہے اور اسی ضمن میں گاہے گاہے، سعودی عرب کی 26 ایئر پورٹس پہ آنا جانا لگا رہتا ہے-2008ء کے الکشن ہوئے کچھ روز ہوچکے تھےاور پیپلز پارٹی کی حکومت بن رہی تھی-جدہ کےالفرسان لاونج میں جناب اسحق ڈار صاحب سے ملاقات ہوگئ-موصوف مدینہ جارہے تھے اور میرا بھی وہیں کا دورہ تھا-اتفاق سے جہاز کی بزنس کلاس میں بھی خاکسار کوانکے پہلو میں سیٹ ملی تو بات چیت چلتی رہی- ظاہرہے کہ سیاست ہی موضوعِ گفتگو تھا-
باتوں باتوں میں، میں نے ان سے مولانا فضل رحمان کے بارے میں رائے لی-
پٹ سے جواب دیا" وہ تو بکاؤ مال ہے"-
عرض کیا" پھر آپ لوگ اسے خرید کیوں نہیں لیتے؟"
" ایسےکام ہم نہیں کیا کرتے -نون لیگ نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے -"
میں نے کہا" ڈار صاحب،بے نظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دنوں میں ہارس ٹریڈنگ مشہور ہوئ تھی-ان دنوں پیلپز پارٹی کے ارکان کو سوات میں اور آئ جے آئ والوں کو چھانگا مانگا بند رکھا گیا تھا۔یہ خبر بھی عام تھی کہ ہر رکن اسمبلی کو 20 لاکھ روپے دئے گئے ہیں، وہ کیا چکر تھا؟"
کہنے لگے" وہ پیسہ پیپلز پارٹی والوں نے چلایا تھا-جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انسان کمزور ہے اور لالچ میں آجاتا ہے-پس ہم نے صرف حفظ ماتقدم کے طورپر اپنے ارکان کو مہمان بنایا ہوا تھا"-
عرض کیا" ان دنوں صرف دوپارٹیوں کے ارکان ہی کھلے بندوں پھر رہے تھے-مولانا کے ارکان بھی آزاد پھر رہے تھے"
"ہاں، ہم نے انکو لفٹ نہیں کرائ تھی"
"آپ نے پیسہ نہیں دیا لیکن وہ تحریک عدم اعتماد میں آپکے ساتھ کھڑے تھے-توپھر پیپلزپارٹی نے کیوں نہیں خرید لیا؟"
"یہ گہری سیاسی باتیں ہیں ، آپکی سمجھ میں نہیں آئیں گی"
اسحق ڈار صاحب سے بہت لمبی گفتگو نہ ہوسکی-ایک تو جدہ سے مدینہ ویسے ہی 35 منٹ کی فلائٹ ہے دوسرے، وہ اپنے سینہ میں کسی پرانے عارضے کی وجہ سے ریشہ گرنے سے تنگ بیٹھے تھے-لیکن اس مختصر نشست سے یہ ہوا کہ نون لیگ کےلئے، میری ناپسندیدگی پہلے سے بڑھ گئ-
عرض یہ ہے کہ اکثر لوگوں نےمولانا فضل رحمان کو سمجھا ہی نہیں ہے-ورنہ میرے خیال میں، یہ شاید واحد سیاستدان ہے جسے خریدا یا جھکایا نہیں جاسکتا-
ابھی کل ہی کی بات ہے-پشاور آرمی اسکول کے حادثے کے بعد، آرمی کے تیور سخت بگڑ چکے تھے-ملٹری کورٹس کےقیام کے لئے، آئین میں 21 ترمیم یوں منظور کرائ گئ کہ رضا ربانی صاحب،رو بھی رہے ہیں اور قرارداد بھی پیش کر رہے ہیں-صاف نظر آتا ہے کہ یہ ڈنڈے کی طاقت تھی کہ پاکستان بھر کی سیاسی پارٹیوں نے، صرف ایک ماہ میں اس پہ دستخط کردئے، سوائے مولانا کے، جس نے آج تک اس سے اتفاق نہیں کیا اور ببانگ دہل اس کی مخالفت کررہا ہے-مولانا ، مرعوب ہونے والا آدمی نہیں ہے-
یہ تو ملٹری کی بات ہوئ-سول حکومت کی بھی سن لیں-پنجاب اسمبلی نے عورتوں پہ بل پیش کیا-اگرچہ وہاں مولانا کی نمائندگی نہیں اور اگرچہ ہم مولانا کے موقف سے کچھ اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن،آپ مولانا کا رویہ ملاحظہ فرمائیں جس نے واشگاف الفاظ میں نون لیگ کو دھمکی دی کہ حکومت گرانا انکے لئے مشکل نہیں ہے-اگرمولانا بِک جایا کرتا ہے تو خریدنے والے، ابتک منت سماجت کیوں کر رہے ہیں؟
لوگ کہتے ہیں کہ مولانا ہر حکومت میں شامل ہوتا ہے-اگرچہ یہ الزام سرے سے ہی غلط ہے لیکن آپ سے میرا سوال یہ بھی ہےآخر کیوں ہرحکومت میں شامل نہ ہوا جائے؟ کیا عوام اپنا نمایندہ اس لئے منتخب کرتے ہیں کہ وہ اسمبلی میں جاتے ہی اکھاڑہ لگادے یا وہ اپنے مسائل کے حل کےلئے اسے منتخب کرتے ہیں؟ اور اسکے لئے منطقی صورت یہی ہے کہ وہ ہر حکومت بنانے والی پارٹی کو اپنی شرائط پیش کرے اور حکومت میں ضرور شامل ہو اورپھر حکومت کو ایفائے عہد کے لئے مناسب وقت بھی فراہم کرے-ہاں اگر حکومت وعدہ ایفا نہیں کرتی توراستہ الگ کرلے-مگر اسمبلی میں جاتے ہی بلاوجہ اپوزیشن میں بیٹھ جانا تو اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ صریح زیادتی ہے-
بہرحال، مولانا کے متعلق درست جملہ یوں ہوسکتا ہے کہ مولانا ہراس جمہوری حکومت کے ساتھ اتحادی رہا ہے جو اپنے موقف میں آزاد ہو اور اسٹبلشمنٹ کی ڈکٹیشن پر نہ چلے- پاکستان میں گذشتہ 40 سال کی، 2 ملٹری اور5 سول حکومتوں کے ساتھ مولانا کا رویہ تاریخی دستاویز ہے-چور دراوزے سے اقتدار میں آنا تو کجا، مولانا تو نگران حکومت میں بھی شامل نہیں ہوتا حالانکہ پیسہ بنانے کو تین ماہ بھی کم نہیں ہوتے-خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے-
فی الحال، اسی الزام کو درست مان لیتے ہیں کہ مولانا ہر حکومت کے ساتھ شامل ہوتا ہے اور پیسے کے لئے شامل ہوتا ہے تو پھر نواز شریف کا ساتھ دینے کےلئے مولانا کو بھلا کیوں بے چینی ہو؟ جب نواز شریف جائے گا تو جو بھی آئے گا،بقول آپکے، مولانا کی حکومت تو پھر بھی ہوگی-تو اسکو اتنے تردد کی ضرورت کیا ہے؟ عقل کی بات تو یہ ہے کہ اسے اگرحکومت سے رقم درکار ہوا کرتی ہے تو مولانا، یہ کوشش کرتا کہ نواز شریف جلدی چلا جائے تاکہ نئ حکومت آئے اور نئے ریٹ طے ہوں-خیر، بغض ،عقل کو مار دیتی ہے
پھر بقول آپکے،اگر وہ رقم لیکر کندھا فراہم کرتا ہے تو وہ لوگ اسکو رقم دے کر کیوں نہیں خرید لیتے جنہوں نے دھرنے تماشوں پہ اربوں روپے لٹا دئے؟ حالانکہ دھرنے والے بیچارے توشیخ رشید جیسوں کو ساتھ رکھنے کےلئے بھی مرے جاتے ہیں- مولانا کو خریدنے میں انکا بھی فائدہ تھا اورمولانا کا بھی کہ وہاں تو رقم بھی ملتی اور "چند روزہ" عزت بھی ملتی-
اگر کوئ یہ سمجھتا ہے کہ مولانا نے نواز شریف کا ساتھ اسلئے دے رکھا ہے کہ عمران خان کی حکومت آگئ تو مولانا کو کوئ ذاتی نقصان کا اندیشہ ہے، تو یہ اسکی خام خیالی ہے-عمران خان کی حکومت ، مولانا کا بال تک بیکا نہیں کرسکتی-خیبر پختونخواہ کی مثال سامنے ہے-
میں اپنے علاقے سے تحریک انصاف کے دو ارکان کے اخباری بیانات کا حوالہ دوں گا جس میں جہان معنی پوشیدہ ہے-ایک، ٹانک سے ایم این اے، دواڑ کنڈی ہے جس نے پریس کانفرنس کی کہ پرویز خٹک، مولانا لطف الرحمان سے پوچھ کرپی ٹی آئ کے ٹکٹ بانٹا ہے-ہم سے تو وہ ملتا ہی نہیں-دوسرا رکن، علی امین خان گنڈہ پور ہے جو کہتا ہے کہ معلوم نہیں صوبہ میں ہماری حکومت ہے یا مولانا کی؟-
مولانا کے بغض میں کوئلہ ہونے والوں کو معلوم ہو کہ ملٹری حکومت ہو یا سول حکومت، مولانا انکا محتاج نہیں بلکہ وہ مولانا کے محتاج ہیں-اور یہ طاقت، مولانا نے اپنی اخلاقی قوت سے بنا رکھی ہے-
دیکھئے، ایم کیوایم ایک سیاسی جماعت جس کے قبضے میں صرف کراچی شہر ہے تو 30 سال سے سول و ملٹری حکومتیں اسکے نخرے اٹھاتی رہی ہیں-جبکہ جمیعت علماء اسلام، جسکے پاس 40 سال سے پاکستان کا سب سے بڑا،سودمند اورحساس ترین صوبہ ہے یعنی بلوچستان، تو کیا وہ جماعت کوئ وقعت نہیں رکھتی؟ بلکہ میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ آج بلوچستان میں اگر وفاق کا پرچم لہرا رہا ہے تو اس میں جمیعت کا سب سے زیادہ حصہ ہے-
رہا سوال حکومت میں شامل ہونےیا نہ ہونے کا-تو مولانا خیبر پختونخواہ کے علاوہ بلوچستان میں بھی اپوزیشن میں ہے-یہاں توچلو عمران خان ہے،لیکن وہاں اسے کیا تکلیف ہے؟ اگر اسکو حکومتوں میں شامل ہونے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہاں وہ کیوں حکومت میں شامل نہیں ہوا؟
تو بھائ، حکومت یا اپوزیشن کا ساتھ دینے کےلئے، مولانا کے کچھ اصول ہیں جو اہل نظر سے مخفی نہیں ہیں-
باقی،عمران خان کے ساتھ بھی مولانا کا اختلاف کوئ ،ابدی یاخونی اختلاف نہیں ہے- بات اتنی ہے کہ جب بھی مولانا کو یہ اطمینان ہوگیا کہ تحریک انصاف کو غیر جمہوری طاقتیں ہینڈل نہیں کر رہیں بلکہ یہ اپنے فیصلے خود کرنے کی پوزیشن میں ہے تو اسکے ساتھ ورکنگ ریلشن بنانے میں اسے کوئ مسئلہ نہیں-کسی زمانے میں یہی صورت حال اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ تھی-اس زمانے میں بھی ،دیندار لوگ حیران ہوتے تھے کہ مولانا بے نظیر جیسی لبرل کا ساتھ دیتا ہے مگر نواز شریف جیسے دیندارآدمی کے سخت خلاف ہے-لیکن سمجھنے والے سمجھتے تھے کہ مولانا کا نواز شریف پہ گرجنا برسنا، اسکے لئے نہیں بلکہ اسکو چلانے والوں کے لئے پیغام ہوتا تھا-
اب ورکنگ ریلیشن شپ کی بات بھی سن لیجئے-علماء کی اس جماعت کو عمران خان اور اسکی پارٹی سے سخت اختلاف ہے اور صوبہ میں اسکو ٹف ٹائم دینا کوئ مسئلہ نہیں لیکن لوگوں کے حقوق کے نقصان پہ، جمیعت اپنی سیاست نہیں چمکایا کرتی-پختونخواہ کے ایک ذمہ دار صوبائ وزیر نے اس خاکسار کوبتایا کہ مولانا کی جماعت نے جس قدر ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے اور مختلف موضوعات پر ہماری رہبری کی ہے، اس سے میرے دل میں علماء کےلئے عزت بڑھی ہے-آپ میرے کہے کو چھوڑیں، پختونخواہ کی حکومت کے کسی وزیر سے تنہائ میں عندیہ لے لیں-میری بات کی خود بخود تصدیق ہوجائے گی-
واقعہ یہ ہے کہ مولانا نے پارلیمانی سیاست میں الائنس اوراپوزیشن کا، ایک نیا تصور دیا ہے- یہ نیا ورژن، اپنے موقف کی شدت، جمہوری مخالفین کے احترام ،عوام کی خیر خواہی اور ہر قیمت پر جمہوریت کے تحفظ پر مبنی ہے-(لفظ" جمہوری مخالفین " پیش نظر رہے)-
اسی تناظر میں عرض کرتا ہوں کہ نواز شریف یا زرداری کا ساتھ دینے میں مولانا کو ذاتی منفعت نہیں بلکہ اجتماعی مفاد پیش نظر ہوتا ہے کہ یہی اسکے اسلاف کی بھی روایت رہی ہے اور اسکی اپنی 40 سالہ سیاسی زندگی کا خلاصہ بھی-
مولانا کا موجودہ موقف، صرف اسی خاطر ہے کہ یہ سسٹم ڈی ریل نہ ہونے پائے- اس لئے کہ مستمر جمہوری نظام، ملک میں امن کی ضمانت ہے اوریہ بھی کہ اسلامی سیاست کی بنیاد دو چیزوں پر ہے-
پہلی چیزامن ہے اور دوسری، امن کے دامن سے پھوٹتی باوقار معیشت-
ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍٓﺋﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﺮ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﺗﯿﻞ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯﻭﺍﻟﯽ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍٓﭖﮐﺎ ﺩﺭﺱ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﮩﺖ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺗﺤﻔﮯﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ‘ ﺍٓﺧﺮ ﺍٓﭖ ﻧﮩﯿﮟﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﭙﺎﻭٔﮞ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﻔﻆ ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏ ﺳﮯﭼﮍ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮﯼﺩﻭﺍﺋﯽ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﭘﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﺎﺋﯽ ﭘﻮﭨﯿﻨﺴﯽﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏﮐﮭﺎﺋﯽ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍٓﺋﻨﺪﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺘﺎﻧﺎﮨﻢ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺋﯽ‘ ﮐﺒﮭﯽ ﻗﺒﺾ ‘ ﻗﺒﻀﯽ ﻣﻮﺷﻦ‘ﮐﮭﭩﮯ ﮈﮐﺎﺭ‘ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻮﺳﮯ‘ ﺧﯿﺎﻻﺕ‘ﮔﯿﺲ ﺗﺒﺨﯿﺮ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ‘ ﻭﺳﻮﺳﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ‘ ﺑﮩﺖﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﺭﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓﮈﯾﭙﺎﺭﭨﻤﻨﭧ ﮐﺎ ﮨﯿﮉ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﭩﯿﻨﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻭ ﺑﻮﺗﻠﯿﮟﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﯾﮏﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺳﭙﻐﻮﻝ ﮐﺎ ﭼﮭﻠﮑﺎ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﯿﮟﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﺎﺗﯿﻞ
ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﻟﯽ‘ ﺍﯾﮏ ﭼﻤﭻ ﺑﮍﺍﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﺎ ﺗﯿﻞ ﮈﺍﻻ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﻤﭻ ﺍﺳﭙﻐﻮﻝ ﮐﮯﭼﮭﻠﮑﮯ ﮐﮯ ﮈﺍﻟﮯ ‘ ﻣﮑﺲ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺳﮯﺍٓﺩﮬﺎﺍٓﺩﮬﺎ ﭼﻤﭻ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻟﯿﺎ ‘ ﺫﺍﺋﻘﮧ بہت ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﯿﻦﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﺮﻟﻮ ﭼﺎﮨﻮ ﭼﺎﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﺮﻟﻮ‘ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﺮﻟﻮ ﺑﺲ ﯾﮩﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻭ۔ ﻭﺍﻗﻌﯽ !
ﺗﯿﻦ ﺧﻮﺭﺍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯﺍﺗﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺻﺤﺖ ‘ ﺷﻔﺎﺀ‘ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺴﻠﯽ ﺑﺨﺶ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍًﯾﮩﯽ ﭼﮭﻠﮑﺎ ﺍﺳﭙﻐﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺍٓﺯﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﯽﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩتھا ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯾﺾ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻼﺟﺲﮐﺎ ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﻟﯿﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﯾﺴﮯﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯾﺎﮞ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﮯﭨﯿﺴﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﮨﺎﺋﯽ ﺗﮭﺎ ‘ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﺑﮩﺖﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ ‘ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﮔﻮﻟﯽ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽﺷﻮﮔﺮﮐﯽ ﺍﻭﺭﮐﺒﮭﯽﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﯽ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎﺍٓﭖ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﮐﻮﺋﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮﯼ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ۔
ﺍٓﭖ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﭼﻤﭻ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﭼﻤﭻﺍﺳﭙﻐﻮﻝ ﭼﮭﻠﮑﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫﻋﺮﺻﮧ ﭼﻨﺪﺩﻥ، ﭼﻨﺪ ﮨﻔﺘﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻭﮦﺭﺯﻟﭧ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧﮨﻮﮔﺎ۔ ﭼﻨﺪ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯﺳﻮﻟﮧ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﮐﻢ ﺳﮯﮐﻢ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﻠﺴﭩﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ۔ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﮯ ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﭼﻨﺪ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ ﺳﻮﻓﯿﺼﺪﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ‘ﻣﻌﺪﮦ ‘ ﺟﮕﺮ‘ ﭘﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺑﻮﺍﺳﯿﺮ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺍﻟﺪﮦﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﻮﺑﮭﯽ ﺍ ﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮩﺖ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯽ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻣﻮﭨﺎﭘﺎﺗﮭﺎ ‘ ﭘﯿﭧ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﻭﻗﺖ ﺟﻮﮌﻭﮞ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﮐﺎﺩﺭﺩ‘سانس ﺑﮩﺖ ﭘﮭﻮﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻦﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺑﮩﺖ ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ ‘ ﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺻﺒﺮ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺧﺘﻢ‘ ﻏﺼﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺮﻭﺝ ﭘﺮﺗﮭﺎﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻧﺴﺨﮧ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯﺑﮩﺖ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻼ۔ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺑﻮﺍﺳﯿﺮ ﺧﺘﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺗﮑﺎﻟﯿﻒ ﺧﺘﻢ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺗﺴﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﺟﻮﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﺮﺑﮭﯽ اللہﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺻﺤﺖ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ!!! ﯾﮧ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺳﺎ ﭨﻮﭨﮑﮧ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺷﮩﺮ ﮨﺮ ﻣﻠﮏ ﺍﻭﺭﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺍٓﺳﺎﻧﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮐﮩﯿﮟ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﺎ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻟﯿﮑﻮﺭﯾﺎ‘ ﻣﻮﭨﺎﭘﺎ ‘ﭘﯿﭧ ﮐﺎ ﺑﮍﮬﻨﺎ ‘ ﮔﯿﺲ ‘ ﺗﺒﺨﯿﺮ‘ ﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮩﺖﻻﺟﻮﺍﺏ ﭼﯿﺰﮨﮯ‘ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﯾﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺷﻮﮔﺮ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺴﻢ ﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎﻓﻀﻞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﮧ ﺟﺲﮐﻮ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ۔ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﻗﺒﺾ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺍﻧﯽﺑﻮﺍﺳﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺠﺮﺑﮧﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽﺍٓﺯﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﻣﻨﺪ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺍٓﭖﮐﻮ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﮔﺎ
کئی نوجوان ڈگری مکمل کرنے کے بعد دو دو تین تین سال فارغ رہتے ہیں اور جاب ملنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، لیکن انٹرن شپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ڈگری کے بعد نوکری ملتی ہے تو ہی ان کی زندگی کامیاب ہوگی۔ لہٰذا وہ نوکری کے انتظار میں فارغ وقت ضائع کرتے رہتے ہیں، اور اس کا درست استعمال نہیں کرتے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اچھی نوکری ملنے کے امکانات محدود و معدوم ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ڈگری مکمل کیے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہوتا ہے مگر سی وی پر عملی کام کا کوئی تجربہ موجود نہیں ہوتا۔
ٹیسٹ کے ذریعے ہونے والی سرکاری بھرتیوں میں تو تجربے کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں صرف قابلیت کا امتحان لیا جاتا ہے، مگر نجی شعبے میں قابلیت کے ساتھ ساتھ تجربے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، بلکہ نجی شعبے میں تو تجربہ اور مہارت کو اعلیٰ تعلیمی گریڈ سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ میں نے اس مضمون میں کوشش کی ہے کہ آپ کو انٹرن شپ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات فراہم کر سکوں، کہ اس کی ضرورت کیوں ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں۔

انٹرن شپ کی ضرورت

عملی زندگی میں کسی بھی شعبے میں کام کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے تجربہ ضروری ہوتا ہے اور تجربے کے بارے میں یہ کہاوت سو فیصد درست ہے کہ ’’تجربہ حاصل کرنے کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔‘‘
جب طلبہ و طالبات اپنی تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کو انڈسٹری کے مطابق کام کرنا نہیں آتا۔ اس کی بہت سے وجوہات ہیں جس میں تعلیمی نصاب کا انڈسٹری سے ہمیشہ پیچھے رہنا اور بروقت اپ ڈیٹ نہ ہونا (یہ ایک عالمی مسئلہ ہے)، تعلیمی اداروں میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے عملی کام نہ کروانا (یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے)، جبکہ تعلیمی نصاب میں بعض دفعہ کریڈٹ آور پورے کرنے کے لیے بہت سی غیر ضروری چیزیں پڑھی جاتی ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی خاص استعمال نہیں ہوتا۔
کسی بھی مارکیٹ کو سمجھنے کے لیے کم از کم تین ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے تعلیمی شعبہ جات ایسے ہیں جن میں انٹرن شپ تعلیمی کورس کا لازمی جزو ہے، جیسے میڈیکل، وکالت، چارٹرڈ اکاؤنٹینسی وغیرہ۔ اکثر ان شعبہ جات کے طلبہ و طالبات کو اپنی ڈگری کے بعد مزید ایک سال انٹرن شپ کرنا لازمی ہوتی ہے اور انٹرن شپ کی تکمیل کے بعد ہی ان کو جاب یا پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ جو طلبہ و طالبات انٹرن شپ کے بعد جاب کرتے ہیں، عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہ جلدی ترقی کرتے ہیں۔

انٹرن شپ کے فوائد

انٹرن شپ کے بے شمار فوائد ہیں لیکن ایک مختصر مضمون میں تمام ایک کا ذکر ممکن نہیں، اس لیے صرف چند ایک پر مختصر نوٹ حاضر خدمت ہے۔
حقیقت سے آگاہی
ہمارے ہاں جب نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ تو انہوں نے 14 سے 18 سال تک کی تعلیم مکمل کی ہوتی ہے اور زیادہ تر کی عمر اس وقت 20 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے۔
عملی زندگی کے آغاز سے پہلے وہ ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دنیا کے جو خاکے ہوتے ہیں، وہ عموماً حقیقت سے کافی دور ہوتے ہیں۔ مثلاً ان کے ذہن میں خیال ہوتا ہے کہ میں نے بہت نامی گرامی تعلیمی ادارے سے یہ بہت بڑی ڈگری/کورس مکمل کیا ہے، میرا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت شاندار ہے، لہٰذا اب کمپنیز نے میرا نہیں بلکہ میں نے کمپنی کا انتخاب کرنا ہے۔
لیکن جب انٹرن شپ شروع کرتے ہیں تو ان کو حقیقت کا انداز ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے داخلے کے وقت جو خواب ان کو دکھائے تھے، وہ سب کے سب سچ نہیں ہوسکتے۔ مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے، اچھی نوکری کا حصول ہرایک لیے ممکن نہیں، اچھی نوکری کے لیے صرف اچھی تعلیم اور اچھے گریڈ ہی کافی نہیں، مارکیٹ میں جن مہارتوں کا زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے اس کی تعلیم و تربیت تو نصاب میں شامل ہی نہیں تھی۔
مارکیٹ سے آگاہی
ہر فیلڈ سے متعلق کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جو نہ تو میڈیا میں آتی ہیں، نہ ہی یہ تعلیمی نصاب میں شامل ہوتی ہے، بلکہ یہ معلومات آپ کو صرف اور صرف اس فیلڈ میں جا کر ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔ کون سی کمپنی اپنے ملازمین کا زیادہ خیال رکھتی ہے، کون سی کمپنی تنخواہ اور دیگر مراعات وقت پر ادا نہیں کرتی، وغیرہ وغیرہ۔ انٹرن شپ کی بدولت آپ کو ان سب باتوں کا علم پہلے سے ہو جاتا ہے جس سے آپ کا مستقبل میں کافی قیمتی ٹائم بچ جاتا ہے اور آپ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
بہتر مستقبل کی پلاننگ
انٹرن شپ کے دوران آپ کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس فیلڈ میں نوکریوں کی گنجائش زیادہ ہے، یا مارکیٹ میں کس قسم کی صلاحیتوں کے لوگوں کو زیادہ معاوضہ اور مراعات دی جاتی ہے۔ نیز یہ بھی کہ اس وقت آپ کی ذات کے اندر کن صلاحیتوں کی کمی ہے، کون سا کورس یا مہارت حاصل کرنا اس فیلڈ میں کامیابی کے لیے لازمی ہے، یا آپ کے پاس جو ڈگری یا مہارت موجود ہے اس کا مستقبل کتنا روشن ہے۔ یہ سب باتیں آپ کو مارکیٹ میں انٹرن شپ کرکے ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔ تعلیمی ادارے میں یا گھر میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کو کبھی بھی ان باتوں کا درست علم حاصل نہیں ہوسکتا۔
جاب کا حصول آسان ہو جاتا ہے
نجی شعبے میں عموماً ملازمین کی آمد و رفت سارا سال جاری رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سینیئر افراد بہتر تنخواہ، سہولیات، اور اونچی پوزیشن کی خاطر ایک کمپنی چھوڑ کر دوسری کمپنی جوائن کر لیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مینجمنٹ عموماً نئے سینیئر کے بجائے کمپنی کے اندر کسی جونیئر کو سینیئر کی جگہ ترقی دے دیتی ہے، اور جونیئر کی سیٹ پر انٹرن شپ والے کو نوکری دے دی جاتی ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نئے شخص کو کمپنی کے ماحول اور طریقہ کار سمجھنے اور اس کے مطابق کام کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے جبکہ انٹرن شپ کرنے والا کمپنی کے کام کرنے کے لیے طریقہ کار سے آگاہ ہوچکا ہوتا ہے۔
اس لیے انٹرن شپ کی صورت میں آپ کو اچھی کمپنی میں زیادہ آسانی سے مستقل جاب مل سکتی ہے، ورنہ دوسری صورت میں ایک جاب پر کئی امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔
کیا انٹرن شپ کے دوران تنخواہ ملتی ہے؟
انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے بجائے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں بہت سی جگہوں پر بہت ہی کم وظیفہ ملتا ہے۔ اتنا کم کہ اس سے صرف دوپہر کا کھانا اور آفس آنے جانے کا کرایہ ہی بمشکل پورا ہوتا ہے، جبکہ زیادہ تر کمپنیز میں تو صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے
’’یہاں انٹرن شپ کے دوران تنخواہ/وظیفے کا کوئی چکر نہیں‘‘
اس سلسلے میں مالکان کا مؤقف ہوتا ہے کہ یہ ناتجربہ کار افراد ہیں، انٹرن شپ کے دوران یہ کوئی ایسی خدمات یا مفید کام سر انجام نہیں دیتے جو فروخت کے قابل ہو، لہٰذا انہیں معاوضہ نہیں دیا جا سکتا۔ ایک حد تک یہ موقف درست ہے کیونکہ مارکیٹ میں صرف ان مہارتوں کا معاوضہ دیا جاتا ہے جن کو کمپنی آگے فروخت کرکے منافع کما سکے۔
بہرحال انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے مسئلے پر زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کا وظیفہ کم یا ناپید ہے، لیکن آپ کو کام سیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ اچھی کمپنیز اور ترقی پسند مالکان کبھی بھی کسی انسان کی حق تلافی نہیں کرتے۔ جیسے ہی کمپنی یا مالکان آپ کی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے تو لازماً آپ کو آپ کے کام کے مطابق تنخواہ دینی شروع کر دیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ کو کسی وجہ سے معقول معاوضہ نہیں ملتا، تو بھی آپ کو جو تجربہ حاصل ہو رہا ہے، وہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اس تجربے اور روابط کی بدولت آپ آئندہ زندگی میں بہت سا منافع کما سکتے ہیں۔
انٹرن شپ کا حصول آسان ہے؟
پاکستان کی جاب مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے۔ ہر سال یونیورسٹیاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات کو ڈگری دے رہی ہے، لیکن ان میں سے صرف کچھ ہی کو ان کی تعلیم کے مطابق جاب ملتی ہے۔ نوکری اور انٹرن شپ حاصل کرنا آسان نہیں، خاص کر اچھی کمپنیز کے اندر تو یہ کافی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
ہر کمپنی انتظامیہ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو تجربہ کار آدمی مل جائے تاکہ اس کی تربیت پر زیادہ وقت اور توانائی نہ لگے۔ تجربہ کار شخص کے لیے اگر کچھ زیادہ تنخواہ اور مراعات بھی ادا کرنی پڑیں، تو انتظامیہ اس کے لیے بھی تیار ہوتی ہے۔ نجی شعبے میں عموماً نوجوانوں کو بڑی پوسٹ پر براہ راست بھرتی نہیں کیا جاتا، جبکہ ہمارے ہاں چھوٹی اور درمیانے درجے کی اکثر پاکستانی کمپنیز انٹرن شپ پروگرام جاری ہی نہیں کرتیں جس کی وجہ سے نئے شخص کو کام سیکھنے کا موقع نہیں مل پاتا۔
انٹرن شپ کے دوران مشکلات
انٹرن شپ کے دوران کافی ساری مشکلات ہوتی ہیں۔ کارپوریٹ ماحول تعلیمی اداروں اور گھروں کے ماحول سے کافی مختلف ہوتے ہے۔ یہاں پر اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے لوگ بھی۔ پروفیشنل حسد، ٹانگ کھینچنا، شکایت لگانا، دوسرے کی کردار کشی، غلط مشورے دینا، یہ سب بیماریاں ہمارے دفتروں اور کام کی جگہوں پر عام پائی جاتی ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی کوئی نیا شخص دفتر آتا ہے تو سینیئر کو اپنی سیٹ کا خطرہ محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ سینیئر کا رویہ عموماً شفیق نہیں ہوتا اور کئی جگہ سینیئر کام سیکھنے کے بجائے جونیئر کو کام سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
’’تم کہاں کام پر آ گئے، ہماری تو ساری زندگی تباہ ہوگئی اس کمپنی میں‘‘
’’آپ کوئی اور کام کر لیں، یا سرکاری جاب تلاش کریں، یہ کمپنی اچھی نہیں‘‘
"جتنا جلدی ہو سکتا ہے یہاں سے نکل جاؤ، یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے۔"
کئی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے والے افراد سے آفس بوائے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ میں نےخود کئی دفاتر میں گریجوئیٹس کو چائے تیار کرتے، پانی کی بڑی بوتل لاتے، دفتر کی صفائی کرتے دیکھا ہے۔
بعض کمپنیز میں سینیئر افراد بطور سپر وائزر انٹرن شپ کرنے والے افراد کو ذاتی ملازم تصور کرتے ہیں۔ ان سے گھر کے ذاتی کام کروائے جاتے ہیں، جیسے بچوں کو اسکول سے واپس لانا، گاڑی مرمت کے لیے ورکشاپ لے جانا، بچوں کو بغیر فیس کے ٹیوشن دلوانا، اپنے گھر کے کمپیوٹر کو ان سے مفت ٹھیک کروانا، تنخواہ کے موقع پر ادھار رقم لے لینا جس کی عموماً واپسی نہیں ہوتی، شامل ہیں، جبکہ خواتین کو جلدی ترقی کے لیے غلط راستوں کا مشورہ دینے والے اور والیاں بھی بطور سینیئر موجود ہوسکتی ہیں۔
یہ سب مشکلات جو اوپر تحریر کی گئی ہیں، ضروری نہیں کہ ہر انٹرن شپ کرنے والے کو پیش آئیں۔ یہاں ان سب کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آپ پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوں اور جب آپ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے تو آپ بروقت بہتر فیصلہ کرسکیں۔ ایسی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں لہٰذا ایسا کوئی بھی رویہ برتے جانے پر فوراً وہاں سے کنارہ کشی کر لیں، جس کا فائدہ آپ کی عزتِ نفس کا تحفظ ہے، اور نقصان کچھ بھی نہیں۔
آخری بات
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر آپ کو کسی وجہ سے جاب نہیں مل رہی تو آپ کو فارغ گھر میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ انٹرن شپ یا کسی بھی شکل میں اپنی فیلڈ کے ساتھ لازماً منسلک رہنا چاہیے تاکہ آپ کی کام کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا رہے، اور جب بھی کبھی کسی اچھی ملازمت کا اشتہار دیا جائے، تو آپ کے پاس اس کے لیے مطلوب مہارت اور تجربہ پہلے سے موجود ہو۔
لاہور: 'چھوٹو گینگ' کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر رکھا ہے. پولیس حکام کے مطابق وہ روجھان میں 3 سے 5 سال تک رکن صوبائی اسمبلی عاطف مزاری کے گارڈ کے طور پر فرائض انجام دے چکا ہے۔
غلام رسول نے پنجاب پولیس کے لیے 2007 تک مخبر کی حیثیت سے کام کیا اور راجن پور اور مظفرگڑھ کے اضلاع میں ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں مختلف گروہوں کی شمولیت کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کرتا رہا.
مقامی افراد اور پولیس کا کہنا ہے کہ چھوٹو، روجھان کے علاقے میں موجود مزاری قبیلے کی بکرانی برادری سے تعلق رکھتا ہے ۔ بعدازاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس کے پولیس کے ساتھ اختلافات ہوگئے جس کے بعد اس نے اپنا ایک الگ گروہ بنا کر مجرمانہ سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔
جس کے بعد روجھان، ڈیرہ غازی خان اور سندھ اور بلوچستان سے منسلک اضلاع میں کام کرنے والے کچھ چھوٹے اور نمایاں گروپوں نے بھی چھوٹو گینگ میں شمولیت اختیار کرلی۔
'بلالی جاکھا گینگ' 2 بھائیوں بلال جاکھا اورجگنو جاکھا نے مل کر قائم کیا تھا۔ یہ دونوں راجن پور کے قبیلے گوپانگ میں دو بہنوں کو ہلاک کرنے کے جعلی کیس میں ملوث تھے. کہا یہ جاتا ہے کہ ان خواتین کو ان کے قبیلے نے ہلاک کیا تھا، لیکن اس میں جاکھا برادران کو اس قبیلے سے پرانی دشمنی کی وجہ سے ملوث کر دیا گیا۔
بعدازاں دونوں بھائیوں کو عدالت کی جانب سے قتل کے مقدمے سے بری کردیا گیا، تاہم جیل میں گزارے گئے اپنے وقت کے دوران انہوں نے وہاں موجود مجرموں سے تعلقات بڑھائے اور رہائی کے بعد اپنے 'دشمنوں' کو مار کر چھوٹو گینگ میں شامل ہوگئے۔
جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقہ جات میں اشتہاری قرار دیئے گئے مجرم، چھوٹو کے قبضہ کیے ہوئے علاقوں میں پناہ لیتے تھے۔
چھوٹو گینگ کا ایک سابق کارندہ، جس نے گینگ کے ساتھ 1 سال سے زائد کام کیا، کا کہنا تھا کہ دیگر چھوٹے گینگ کراچی، بلوچستان اور رحیم یار خان کے دور دراز علاقوں سے مختلف تاجر اور پیشہ ور ماہرین کو اغوا کرکے چھوٹو کو 4 سے 5 لاکھ روپے میں فروخت کر دیتے اور چھوٹو گینگ ان کی رہائی کے لیے بہت زیادہ تاوان مانگتا۔
پنجاب پولیس اب تک چھوٹو گینگ کے خلاف 6 سے 7 آپریشن کرچکی ہے اور اس کے 30 سے زائد اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ گینگ کے صرف چند ہی بدمعاش مارے گئے.
راجن پور کے علاقے کچی جمال کا ساحلی علاقہ، جس کی آبادی 10،000 افراد پر مشتمل ہے، چھوٹو گینگ کا گڑھ کہلاتا ہے۔ وہاں کے رہائشیوں کا گزر بسر مویشی پال کر اور کھیتی باڑی کے ذریعے ہوتا ہے۔ چھوٹو وہاں کے مقامی افراد کی مدد کرتا ہے اور اس علاقے میں کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیاں نہیں کرتا، لیکن اس نے وہ علاقہ پولیس کے لیے ایک نو-گو ایریا بنا دیا ہے اور وہاں کے مقامی افراد سے چھوٹو کے بارے میں معلومات نکلوانا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے 2003-2004 تک اس علاقے کے سربراہ 'بوسان گینگ' کے سرغنہ ظفر بوسان اور طارق بوسان تھے، جن کا بعد میں پولیس نے خاتمہ کر دیا تھا۔
چھوٹو گینگ کے خلاف راجن پور اور رحیم یارخان پولیس کا سب سے بڑا آپریشن 2010 میں کیا گیا تھا، جس کا دورانیہ 3 مہینے تھا، لیکن اس سے کچھ حاصل نہ ہوا جبکہ گینگ کے خلاف آخری آپریشن 2013 میں کیا گیا تھا۔
کچھ سال قبل راجن پور کے علاقے کوٹلہ مغلاں میں ایک آپریشن کیا گیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے مغوی ڈاکٹر کو بازیاب کرواکے ایک گینگسٹر کو ہلاک کیا۔

آپریشن ضرب آہن جاری

اس بار مقامی پولیس چھوٹو گینگ کے خلاف بہت احتیاط سے آپریشن کرنا چاہتی تھی اور پورے علاقے میں ناکہ بندی کرکے مختلف چیک پوسٹ اور رکاوٹیں لگا کر آہستہ آہستہ مجرموں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا چاہتی تھی۔
لیکن پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) مشتاق سکھیرا بہت جلدی میں تھے۔
پولیس کے ایک اہلکار جو 13 اپریل کو چھوٹو گینگ کی جانب سے حملہ کی گئی کشتی پر موجود تھے، کا کہنا تھا کہ مقامی پولیس نے آئی جی کے طریقہ کار کی مخالفت کی۔
انہوں نے آئی جی کو بتایا کی چھوٹو گینگ کے پاس پولیس سے زیادہ جدید اسلحہ موجود ہے اور صرف فوج ہی ان کا مقابلہ کرسکتی ہے، لیکن آئی جی نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ پنجاب حکومت فوج کو اس معاملے میں شامل نہ کرے کیونکہ یہ پالیسی کے خلاف ہے۔
مذکورہ اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب پولیس نے بغیر کسی منصوبہ بندی اور سوچ بچار کے، گینگ کے خلاف حملہ کرنے سے معذرت کرلی تو آئی جی صاحب نے کہا کہ اگر آپ لوگ نہیں گئے تو وہ خود جا کر ان سے لڑیں گے۔
اس موقع پر علاقائی اور ضلعی پولیس نے اپنے افسران سے عزت بچانے کی التجاء کی ۔
مذکورہ ہلکار نے مزید اضافہ کیا کہ 'دو کشتیوں میں سوار پولیس اہلکار دریا کے دونوں کناروں سے آگے بڑھے۔ پھر ان کشتیوں پر حملہ ہوگیا. ایک کشتی پر گینگسٹرز نے قبضہ کرلیا تھا، جبکہ دوسری کشتی جس پر میں موجود تھا، اس پر فائرنگ کی گئی. جوابی فائرنگ میں پولیس نے 2 گینگسٹرز کو ہلاک کردیا تھا'.
فائرنگ کے تبادلے کے دوران 4 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، بعدازاں اور اہلکار زخموں کی تاب نہ لا کر پسپتال میں چل بسا۔
زمینی آپریشن کی سربراہی اسٹیشن ہاوس آفیسر(ایس ایچ او) کررہے تھے، تاہم ڈی ایس پی، ایس پی، ڈی پی او، آر پی او اور آئی جی سمیت سینییئر حکام بھی وہاں موجود تھے۔
جب چھوٹو کو یہ معلوم ہوا کہ پکڑے گئے پولیس اہلکاروں میں ایک ایس ایچ او بھی موجود ہے، تو اس نے انہیں باقی اہلکاروں سے الگ کیا اور اسی جگہ ہلاک کردیا۔
آئی جی صاحب کی جلد بازی اورناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اب تک پولیس کے7 اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 27 اہلکار اب بھی ان گینگسٹرز کی قید میں موجود ہیں۔
اگر آپ نوجوان ہیں اور آپ کے پاس کچھ فارغ وقت ہے تو اپنے فارغ وقت کو سوشل میڈیا پر مفت میں خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ یوٹیوب پر کچھ مفید کام کریں جس سے نہ صرف آپ کو کچھ آمدنی ہو بلکہ ہماری انٹرنیٹ سوسائٹی کو بھی فائدہ ہو۔
اس طرح معاشرے کی خدمت کے ساتھ ساتھ اضافی آمدنی بھی ہوسکتی ہے اور اگر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ یہ کام کریں تو نوکری سے زیادہ آمدنی بھی ہوسکتی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ یوٹیوب کو استعمال کر کے لاکھوں ڈالر سالانہ کما رہے ہیں۔ یہ لوگ کرتے صرف یہ ہیں کہ منفرد تصورات پر مبنی ویڈیوز بناتے ہیں، اور اپنے چینلز پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ سننے میں سادہ اور آسان لگتا ہے نا؟ تفصیل سے پڑھئے
شاید یہ خبر اس قدر عام نہ ہوتی اگر کامیابی کے نشے میں چور، بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اپنے ٹوئٹر پر اس کا اعلان نہ کرتا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایک ہندو مندر بنانے کے لیے دبئی میں زمین فراہم کر دی ہے۔ یہ خبر دنیا والوں کے لیے حیران کن ہو گی کہ وہ جزیرہ نمائے عرب جہاں آج سے چودہ سو سال قبل سید الانبیاءﷺ نے شرک اور بت پرستی کا خاتمہ کر دیا تھا، اس کے ایک حصے میں انھیں کے ماننے والے مورتیوں کے گھر کی تعمیر کے لیے زمین عطا کریں گے۔
لیکن وہ جو سرکار دو عالمؐ کی پیش گوئیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کے یقین و ایمان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ اس ہادی برحقؐ نے کس طرح کھول کھول کر وہ سب کچھ بتایا اور ان سب علامات قیامت کی خبر دی جو انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی۔ صحیح بخاری میں درج سرور عالمؐ کی یہ پیش گوئی ’’قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ دوس قبیلہ کی عورتیں ذوالخصلہ کے بت خانہ میں چکر نہ لگائیں‘‘۔(بخاری)۔ عرب میں جاہلیت کے زمانے میں جگہ جگہ بہت سے بت خانے قائم تھے اور لوگ پوجا پاٹ کیا کرتے تھے۔   تفصیل سے پڑھئے
شیخ شعیب حریفیش (وفات 810 ہجری) علیہ رحمہ اپنی کتاب الروض الفائق فی الموعظ والرقائق میں نقل کرتے ہیں۔کہ حضرت سیِّدَتُناآمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں:'' جب تک آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے شکم میں تشریف فرما رہے میں نے کبھی درد والم،بوجھ یا پیٹ میں مروڑ محسوس نہ کیا۔ حمل ٹھہرنے کے کامل نو (9) ماہ بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت باسعادت ہو گئی۔ جب وقتِ ولادت قریب آیا تو عام عورتوں کی طرح مجھ پر بھی گھبراہٹ طاری ہوگئی۔میرے خاندان والے میری اس کیفیّت سے واقف نہ تھے، میں گھر میں تنہا تھی۔ حضرت عبدالمطلب طوافِ خانۂ کعبہ زَادَھَا اللہ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً میں مشغول تھے۔ لہٰذا میں نے دستِ طلب اس ذات کے سامنے دراز کر دیا جس پر کوئی پوشیدہ چیز بھی مخفی نہیں۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میری غم گُسار بہن فرعون کی بیوی حضرت سیِّدَتُناآسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لے آئیں۔ پھر میں نے ایک نور دیکھا جس سے سارا مکان روشن ہو گیا۔ یہ حضرت سیِّدَتُنامریم بنت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ پھر میں نے چودہویں کے چاند جیسے چمکتے دمکتے چہرے دیکھے، یہ حوروں کا قافلہ تھا۔ جب دردِ زِہ کی تکلیف زیادہ ہوئی تو میں نے ان خواتین سے ٹیک لگا لی۔پھر عالم ُ الغیب و الشہادہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پرولادت آسان فرما دی اورمیرے بطن سے حبیب ِ خدا (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )تشریف لے آئے اور عالَم یہ تھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے ہاتھوں پرسہارادئیے ہوئے ٹکٹکی باندھے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ حضرت سیِّدَتُناآسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر شفقت کرنے لگیں، حضرت سیِّدَتُنا مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی جلدی جلدی حاضر ہو گئیں۔ حوروں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قدمینِ شریفین کے بوسے لئے۔
حضرت سیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام بھی کاشانۂ اقدس میں حاضر ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنامیکائیل علیہ السلام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیا، حضرت سیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام بھی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو گئے۔ پھر فرشتے آقائے نامدار، مدینے کے تاجدار، حبیبِ پروردْگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو نگاہوں سے اوجھل لے گئے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری کائنات کی سیر کرانے لگے، تمام جنّتی نہروں کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غسل فرمانے سے فیض یاب کیا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا اسمِ گرامی جنّتی درختوں کے پتّوں پر رقم کر دیا۔ پھر لمحہ بھرمیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو واپس بھی لے آئے۔ اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری کائنات پر فضیلت دی گئی۔ حضرت سیِّدَتُنا آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو سرمہ لگانا چاہاتو دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی چَشمانِ کرم میں اچھی طرح سرمہ لگا ہوا تھا ۔حضرت سیِّدَتُنا مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ناف مبارک کاٹنا چاہی تو دیکھا کہ وہ پہلے سے کٹی ہوئی تھی اور اس سے اضافی حصہ زائل ہو چکا تھا۔ پھر حورِ عِین (یعنی بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں) نے حبیب ِ خداعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مختلف خوشبوئیں لگائیں۔ اس کے بعد تین فرشتے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چہرۂ اقدس کی جانب جلدی جلدی بڑھے۔ ایک کے پاس سرخ سونے کا تھال ، دوسرے کے پاس موتیوں سے بنا ہوا جگ اور تیسرے کے پاس سبز ریشمی رومال تھا۔ انہوں نے حبیب ِخدا عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نورانی مکھڑے کو جگ کے پانی سے دھویا۔ پھر چوغے سے ختمِ نبوت و تصدیق کی مہر نکالی جو انتہائی روشن و چمک دار تھی اور اس مہربان نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پشت مبارک پر لگادی ۔ پس یوں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر سعادت و توفیق کی تکمیل ہوئی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی والدۂ ماجدہ حضرت سیِّدَتُناآمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم ہوا : ''مقرَّب فرشتوں سے پہلے دُنیا میں سے کسی کو محبوبِ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت کے لئے نہ بلائیں۔''
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت پر عرش خوشی سے جھوم اٹھااور کرسی بھی خوشی سے اِترانے لگی اور جِنّوں کو آسمان پر جانے سے روک دیا گیا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے:'' بے شک ہمیں اپنے راستے میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا ہے۔'' اور فرشتے انتہائی خوشی ورعب سے تسبیح خوانی کرنے لگے، ہوائیں جھوم جھوم کرچلنے لگیں اور انہوں نے بادلوں کو ظاہر کردیا، باغات میں ٹہنیاں جُھکنے لگیں اور کائنات کے گوشے گوشے سے ''اَھْلًا وَّسَھْلًا مَّرْحَبًا'' کی صدائیں آنے لگیں۔''
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی فیروز بختیوں کے ستارے کائنات میں ظاہر فرمائے تو کائنات روشن ہو گئی اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جود و عطا کی بجلیوں کو چمکایا تووہ چَمکنے دَمَکنے لگیں۔اور رسالتِ مصطفوی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چاندنما دلائل کے انوار کو پھیلایا تو وہ خوب جگمگانے لگے۔ اور کفار کی امیدوں کو ختم کر دیا پس وہ خا ک میں مل گئیں۔ اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو غلبہ عطا فرماکر کفار بادشاہوں کو ذلت ورسوائی سے دوچار کیا پس آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رعب ودبدبے سے ان کے سر پست ہو گئے اور انہیں گردنیں جھکانی پڑیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری سے انسانیت مانوس ہو گئی اور اس نے رفعت وبلندی پالی ۔جنّ چوری چھپے سننے سے روک دئیے گئے۔ آسمانی فرشتے رکوع و سجود کرنے لگے۔ حضرت سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حسین وجمیل حبیب ِ خداعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوجنم دے کر کامیابی و کامرانی کے مقام پر فائز ہو گئیں اور حضرت سیِّدَتُنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیسی دانش مند خاتون آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو دُودھ پلانے سے مشرَّف ہوئی اورکائنات بھر میں مدّاحین (یعنی تعریف کرنے والوں) کی زبانیں شکر ادا کرتے ہوئے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تعریف وتوصیف میں مگن ہوگئیں۔
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق فِی الْمَوَاعِظِ وَالرَّقَائِق مترجم صفحہ 473 از مُصنِّف مُبَلِّغِ اِسْلَام اَلشَّیْخ شُعَیْب حَرِیْفِیْش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وفات ۸۱0ھـ)
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ سَلَّم
پیارے دوستوں بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ،
اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رَحمت سارے جہان کیلئے ۔ (پ۱۷، الانبیاء:۱۰۷)
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوا۔
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ (آل عمران ،164)
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ یہ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت سے ہے اور اس پر چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ۔ ( یونس ، 58 )
اور ارشاد فرما یا۔اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ (الضحی 11)
جیسے جب ہم پر اللہ کی نعمت بیٹے کی شکل میں نازل ہوتی ہے تو ہم میٹھائیاں بانٹتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ کے پیدائش والے دن بھی ہمیں خوشی کا اظہار کرنا چاہیئے۔ اور درودو سلام اور میلاد و سیرت کی محافل کا بھی خصوصی اہتمام کرنا چاہیئے۔
میلاد النبی کہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے تذکرے کو۔عرب میں اس دن کو مولد النبی ﷺ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سیرت کی کانفرنس کرکے اس دن کو مناتے ہیں تو کچھ لوگ سید البشر کانفرنس رکھ کر اس دن کو مناتے ہیں اور کچھ میلاد مصطفی ﷺ کے نام سے اس دن کو مناتے ہیں۔بہرحا ل اصل مقصد نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور محبت رسول کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔
محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں،۔"مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں"۔ (المیلاد النبوی ص 58)
امام ابن حجر مکی الشافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ۔" محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے"۔ (فتاوی حدیثیہ ص 129)
امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں۔" میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے" ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189)
حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ (المتوفی 204ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میلاد شریف منانے والا صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا‘‘ (النعمتہ الکبریٰ بحوالہ ’’برکات میلاد شریف‘‘ ص 6)
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (المتوفی 606ھ) فرماتے ہیں کہ ’’جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا۔ اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا تو ایسا شخص برکت نبوی سے محتاج نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا ہاتھ خالی رہے گا‘‘ (النعمتہ الکبری، بحوالہ برکات میلاد شریف ص 5)
حافظ ابن کثیر (المتوفی 774ھ) فرماتے ہیں ’’رسول اﷲﷺ کی ولادت کی شب اہل ایمان کے لئے بڑی شرافت، عظمت، برکت اور سعادت کی شب ہے۔ یہ رات پاکی ونظافت رکھنے والی، انوار کو ظاہر کرنے والی، جلیل القدر رات ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس رات میں وہ محفوظ پوشیدہ جوہر ظاہر فرمایا جس کے انوار کبھی ختم ہونے والے نہیں‘‘ (مولد رسولﷺ، صفحہ 262)
اسلم جناح جو خود کو قائد اعظم کی بھتیجی کا فرزندبتاتے ہیں۔* نواسہءقائداعظم محمد اسلم جناح سے ایک ملاقات*
* قائداعظم کی رحلت کے بعد ان کے خاندان پر بیتنے والی رودار
* کراچی : 1948 میں ممبئی میں پیدا ہونے والے محمد اسلم جناح نے زمانے کے کئی ادوار دیکھے وزیراعظم گیلانی اور بیت المال کے زمرد خان نے ان کا بہت خیال رکھا کئی کمپنیوں میں مزدور اور کلرک کی حیثیت سے بھی کام کیا
* بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں تو پوری دنیا جانتی ہے اور ان کی زندگی کا ہر ورق روز روشن کی طرح سب کے سامنے ہے مگر ان کے خاندانی حالات سے بہت کم لوگوں کو واقفیت ہے ۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم کی اکلوتی اولاد دینا جناح ممبئی میں مقیم ہیں جبکہ ان کے خاندان کے دوسرے افراد زیادہ تر گوشہ گمنامی میں رہے۔ قائداعظم کی بھتیجی محترمہ شیریں بائی بھی ان میں ایک تھیں جو قیام پاکستان کے وقت ممبئی میں مقیم تھیں جہاںاگست 1948 میں محمد اسلم جناح نے جنم لیا۔  تفصیل سے پڑھئے

المواہب اللدنیہ و مدارج النبوۃ۔تاریخ ابن عساکر۔حجتہ اللہ علے العالمین اور دیگر سیرت کی کتب میں بادشاہ تُبّع خمیری کا ایمان افروز واقعہ نقل ہے ۔ دوستوں کو یہ واقعہ دوبارہ سناتے ہیں۔ اگر پہلے پڑھا ہے تو دوبارہ پڑھئیے ان شاء اللہ آپ کا قلب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت سے منور ہوگا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری سےتقریبا ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع خمیری تھا، ایک مرتبہ وہ اپنی سلطنت کے دورہ کو نکلا، بارہ ہزار کتب سماوی کے عالم اور حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوق خدا چاروں طرف نظارہ کو جمع ہو جاتی تھی ، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہل مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں- تفصیل سے پڑھئے
آج اپنےدوستوں کو دنیا کے طویل ترین تجربے کے بارے میں دلچسپ معلومات دیتے ہیں۔ یہ تجربہ 221 سال میں مکمل ہوگا۔ جو کہ 1879ء سے شروع ہے اور 2100ء میں مکمل ہوگا۔ یہ پودوں پر ایک بہت ہی زبردست تجربہ ہے۔ اس سے انسانیت کوکیا کیا فائدہ ہوگا۔ اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیے کہ اس تجربے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ ہمارے کھانے کی اجناس اور پھل وغیرہ کی پیداوار میں تیس فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ اور پیداوار میں اضافہ قیمتوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers