گاربیج گرل کوئی عام سویپر ہوتی تو اس کے بارے میں ایک لفظی کہانی نہ لکھی جاتی لیکن وہ انگلینڈ کے خوبصورت ساحلی علاقے یرموتھ سے تعلق رکھتی ہے۔اس کا خاندان خاصا متمول ہے۔ یہ لڑکی بھی خاصے نازونعم میں پلی بڑھی، زندگی کی وہ تمام آسائشیں اسے میسرتھیں جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ ہرکوئی حیران ہے کہ اس کے باوجود وہ دنیاکے سب سے زیادہ گندے ملکوں میں سے ایک بھارت کی گندگی صاف کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئی۔ اتراکھنڈ کے دارالحکومت ڈیرہ دون میں کھڑی یہ لڑکی پچھلے کئی برسوں سے بھارت میں ہمالیہ کے علاقوں میں کام کر رہی ہے۔وہ اپنے ساتھیوں سمیت ڈیرہ دون اور دھرم شالہ میں کوڑا ہٹانے اور لوگوں کو اس حوالے سے بیدار کرنے کا کام کرتی ہے۔جوڈی کے بقول وہ جب سب سے پہلے بھارت آئیں تو پہاڑی علاقوں میں ہر طرف بڑے پیمانے پر بکھری گندگی دیکھ کر کافی مایوس ہوئیں بالخصوص پلاسٹک بیگوں کے حوالے سے۔ اس کے بعد جوڈی نے یہیں رہ جانے کی ٹھان لی، انھوں نے اس قدر گندگی میں لتھڑے علاقوں میں صفائی کے ساتھ ساتھ جتنا ممکن ہوا، لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا کام بھی کیا۔ اب وہ ’ویسٹ واریئرز‘ نام کی تنظیم چلارہی ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
گیدڑ سنگھی کیا ہوتی ہے؟کیا حقیقت کیا داستان!
اصلی اور نقلی گیدڑ سنگھی! گیدڑ سنگھی کی اقسام!
گیدڑ سنگھی یا جیکال ہارن طلسمان Jackal horn Talisman وہ مشہور زمانہ پراسرار طلسم ہے جس کے متعلق ہندوستان و پاکستان سے تعلق رکھنے والا ہر دوسرا شخص جانتا ہے۔ ایسا کیا راز چھپا ہے بالوں کے اس گچھے میں کہ ہر شخص اس کو حاصل کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے کہ بس ایک بار کہیں سے گیدڑ سنگھی ہاتھ لگ جائے تو وارے کے نیارے ہو جائیں۔ دولت کی برسات ہو اور تمام دلدر دور ہو جائیں۔ اسی جستجو اور لالچ میں اکثر لوگ ایسے شیطان بہروپیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو چکنی چپڑی باتوں میں پھنسا کر بھاری قیمت پر نقلی گیدڑ سنگھی فروخت کر دیتے ہیں۔ ان شاطروں نے نقلی گیدڑ سنگھیاں بنانے کے نت نئے طریقے ایجاد کئے ہوئے ہیں۔ کہیں گیدڑ کا سر کاٹ کر انتہائ ہوشیاری سے اس کے سر کی کچھ کھال اتار کر اس کے ماتھے کی ہڈی کو اوزاروں اور ریتی کی مدد سے کاٹ کر ایک نقلی چھوٹے سینگ جیسا ابھار بنا کر کھال کو دوبارہ مہارت کے ساتھ دوبارہ سر کے ساتھ چپکا دیا جاتا ہے اور اب اس کھال سے ابھرا ہوا نقلی سینگ بالکل اصلی معلوم ہوتا ہے۔ کہیں بالوں کے گچھے کی گیند سی بنا کر گیدڑ سنگھی کے نام پر فروخت کردی جاتی ہے۔ کیونکہ عام لوگ اس کی اصل شکل صورت سے واقف نہیں اور نہ اصل اور نقل کی پہچان رکھتے ہیں اس لئے لالچ میں آ کر با آسانی دھوکا کھا جاتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
کیا آپ بھی مانتے ہیں کی زمین سورج کے گرد گھومتی ہے؟
ہماری تمام نصابی سائنس کی کتب میں لکھا ہے کہ تمام سیارے سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اور یقینا آپ لوگوں میں سے بھی اکثر دوست مانتے ہوں گے۔ کہ ہماری زمین سورج کے گرد بڑی تیزی سے گھوم رہی ہے۔ اگر آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں تو آپ کو صرف ایک دفعہ میری یہ تحقیقی پوسٹ ضرور پڑنی چاہیئے ۔ آپ کو اس سے اختلاف کا حق ہے ۔کیونکہ ابھی تک سائنس دانوں کی اکثریت اسی بات پر قائم ہے۔لیکن اس نظریے کے مخالفین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہوچکی ہے ۔ جن میں سائنس دان ڈاکٹرز اور سائنس کے طلبہ بھی شامل ہیں جن کا ماننا ہے کہ یہ گلیلیو کی ایک غلط تھیوری تھی۔ جس کو بغیر کسی تجربے کے قبول کیا گیا۔ اور بائبلا پرپختہ یقین رکھنے والے تو اس نظریے کے بہت شدت سے مخالف ہیں۔ کیونکہ بائیبل میں کئی جگہوں پر زمین کے ساکن ہونے کا ذکر خدا نے کیا ہے۔ جیسا کہ میں قرآن پاک کی چند آیات آپ کے سامنے پیش کروں گا۔  تفصیل سے پڑھئے
مادام تسائو کا اصل نام میری گروشالٹ ہے ،جو فرانس میں پیدا ہوئی۔ پیدائش سے پہلے ہی اس کا باپ فوت ہوگیا ،جو فرینکفرٹ کا رہنے والا ایک جرمن سپاہی تھا۔ میری کو اس کی ماں نے 6 سال کی عمر میں ایک ماہر مومی مجسمہ ساز ڈاکٹر کریٹس کی شاگردی میں دے دیا تھا۔ وہ ایسی شاگردہ ثابت ہوئی کہ ڈاکٹر کریٹس نے مومی مجسموں کے اس فن کا مشن بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی اس ہونہار شاگرد میری گروشالٹ کو سونپ دیا اور دریائے سین کے کنارے اپنے مضافاتی گھر میں ابدی نیند سو گیا۔ میری گرو شالٹ نے اپنے استاد ڈاکٹر کریٹس کے دوست مشہور فرانسیسی ادیب، دانشور اور انقلابی والٹیئر کو اتنی عمدگی سے ماڈل کیا کہ پورے فرانس میں دھوم مچ گئی، جس کی بنا پر میری فرانس کے بادشاہ لوئیس کی بہن کی آرٹ ٹیوٹر مقرر ہوگئی اور پورے 9 برس ورسیلز پیلس میں مقیم رہی۔  تفصیل سے پڑھئے
آج ہم آپکو رقبے کے لحاظ سے دنیا کے دس چھوٹے ترین ممالک کے بارے بتاتے ہیں۔ جن کا رقبہ آپ کے شہر سے بھی کم ہوسکتا ہے۔
1۔ ویٹیکن سٹی (رقبہ - 0.44 مربع کلومیٹر): اٹلی کے بالکل درمیان میں واقع ویٹیکن سٹی دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ ایک گاؤں سے بھی چھوٹا۔ جس کی پوری سرحد آدھے کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ آپ 20 منٹ میں اس کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پیدل ہی پہنچ جاتے ہیں۔

2۔ موناکو (2.02 مربع کلومیٹر): موناکو فرانس کے ساتھ سمندر کے کنارے واقع ایک ملک ہے۔ یہاں امیر لوگ موج مستی کرنے آتے ہیں۔ موناکو سب سے چھوٹے ممالک میں سے ہونے کے باوجود بھی انتہائی اعلی معیشت والا ملک ہے۔
3۔ نورو (21 مربع کلومیٹر): نورو دنیا کا سب سے چھوٹا جزیرہ نما ملک ہے۔ یعنی محض ایک جزیرے پر سمٹا ہوا سب سے چھوٹا ملک۔ یہ بحر اوقیانوس کے بالکل درمیان میں واقع ہے۔
4۔ تولو (26 مربع کلومیٹر): ہوائی اور آسٹریلیا کے درمیان آباد تولو ملک محض 3 جزائر تک سمٹا ہوا ہے۔
5۔ سان مارینو (61 مربع کلومیٹر): اٹلی کے درمیان بسا سان مارینو دنیا کا سب سے قدیم ملک بھی تصور کیا جاتا ہے۔
6۔ لچٹین سٹین (160 مربع کلومیٹر): اس ملک کے بارے میں شاید ہی کسی نے سنا ہو، لیکن یہ ملک جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں نمبر 1 ہے۔ یہ جرمن زبان بولنے والوں کا واحد ملک ہے جہاں پہاڑی سلسلے ہی سلسلے ہیں۔ اور جہاں کوئی ائر پورٹ نہیں۔
7۔سینٹ کٹس اینڈ نیوس (261 مربع کلومیٹر): سینٹ کٹس اینڈ نیوس امریکی براعظم کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ یہ ویسٹ انڈیز کی کالونیوں میں سے ایک کالونی ہے ۔ یہ دو جزائر پر مشتمل ہے جس پر کہا جاتا ہے کہ یورپین نے امریکہ کی دریافت کے وقت سب سے پہلے ان جزائر پر قبضہ کیا تھا۔
8۔ مالدیپ (300 مربع کلومیٹر): مالدیپ ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ چاہے وہ رقبہ کی بات ہو، یا آبادی کی۔ سمندر کے درمیان بسا چھوٹا سا ملک۔
9۔ مالٹا (316 مربع کلومیٹر): مالٹا ہے تو چھوٹا سا، یوروپ میں سب سے گنجان آبادی والا ملک ہے۔ محض 316 مربع کلومیٹر کا یہ ملک ہمارے ملک کے کسی بڑے ضلع سے بھی چھوٹا ہے۔
10۔ گرنادا۔ 344 مربع کلومیٹر : یہ ایک جزیرہ ہے جوکہ کریبین سمندر کے درمیان میں آتا ہے۔ یہ جزیرہ اپنے مصالحہ جات کی وجہ سے بھی بہت مشہور ہے۔ جائفل اور دار چینی کی سب سے زیادہ پیداوار بھی اسی ملک میں ہوتی ہے۔

آلودگی آج دنیا کے لیے ایک بہت بڑا اور خطرناک مسئلہ بن چکی ہے- اور یہ صورتحال مسلسل بدتر ہوتی جارہی ہے- نئی ٹیکنالوجیز کی آمد اور ہمارے ری سائیکل کے پراسس کو نہ اپنانے کی وجہ سے اس آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے- جو براہ راست انسان کو بری طرح سے متاثر کر رہے ہیں-

1۔ تقریباً 700 ملین چینی باشندے روزانہ آلودہ پانی پیتے ہیں-


2۔ ہر ایک ملین ٹن تیل جو بجری جہازوں کے ذریعے دوسرے ممالک ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اس میں سے 1 ٹن سمندر میں ہی گر جاتا ہے-

3۔ اگر آپ بیجنگ کی آب و ہوا میں صرف ایک دن گزاریں تو آپ کی صحت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات 21 سگریٹ پینے کے برابر ہوں گے-

4۔ امریکی آبادی دنیا کی آبادی کی 5 فیصد ہے لیکن ان کا دنیا بھر کی آلودگی میں 30 فیصد حصہ ہے جبکہ دنیا کے 25 فیصد وسائل امریکہ استعمال کرتا ہے-

5۔ دنیا میں ہونے والی ہر 8 اموات میں سے ایک موت کی وجہ ضرور آلودگی ہوتی ہے-

6۔ چین میں موجود آلودگی کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ اسے خلا سے بھی دیکھا جاسکتا ہے-

7۔ سمندری مخلوق پلاسٹک کے شاپنگ بیگ کو جیلی فش سمجھ کر نگل جاتی ہیں- سمندری مخلوق ان بیگ کو ایسی جیلی فش سمجھتی ہیں جنہیں وہ اپنی خوراک بنا سکتی ہیں-

8۔ ہر سال دنیا بھر کے سمندروں میں پھینکے جانے والے کچرے کا وزن 14 بلین پونڈ ہوتا ہے جس میں زیادہ پر پلاسٹک سے تیار کردہ اشیا ہوتی ہیں-

9۔ ایک دن ممبئی کی آب و ہوا میں گزارنا ایسا ہی ہے جیسے آپ نے 100 سگریٹ پھونک دیے ہوں-

10۔ ہر سال 3.4 ملین افراد صرف آلودہ پانی سے پیدا ہونے والے مسائل کے باعث موت کا شکار بن جاتے ہیں-

11۔ روس کی Karachay نامی جھیل دنیا کی سب سے آلودہ اور غلاظت سے بھرپور جھیل ہے-

12۔ سال 2012 میں 49 ملین وزنی کچرا صرف الیکٹرونک آئٹم پر مشتمل تھا-

13۔ اگر دنیا بھر میں پھینکی جانے میں والی پلاسٹک کی بوتلوں کو جلایا جائے تو انہیں ختم ہونے میں تقریباً 500 سال لگ جائیں گے-

14۔ دنیا میں ہر 8 سیکنڈ میں ایک بچہ آلودہ پانی کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتا ہے-

15۔ سان فرانسسکو میں موجود آلودگی کا ایک تہائی حصہ چین سے آتا ہے-
منی لانڈرنگ اپنی ابتدا سے انتہا تک مغربی فساد ہے۔ صرف امریکا میں ہر برس 10 کھرب ڈالر جائز زر میں تبدیل کرکے ساری دنیا میں پھیلا دیے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے منظم سینڈیکیٹ، مافیا اسلحہ اور منشیات دنیا بھر میں پھیلائے جارہے ہیں۔ ان کے بجٹ، ان کے منافع کئی چھوٹے ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ اتنے طاقتور ہیں کہ دنیا کی اور انسانی تاریخ کی طاقت ور ترین حکومتیں اور ادارے بھی ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ناجائز ذرایع سے کمائی گئی ناجائز دولت کے کھربوں ڈالرز کو جائز بنانے کے لیے انھوں نے نت نئے طریقے اپنا رکھے ہیں۔ ابھی دنیا کرنسی کے مصائب ہی جھیل رہی تھی کہ ’’ورچوئل کرنسی‘‘ بھی آگئی ہے، نہ صرف یہ کہ آگئی ہے بلکہ اس کرنسی کے ذریعے لاکھوں ڈالرز کے کالے دھن کو سفید بھی کیا جاچکا ہے۔ 28 مئی کو ہفنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور دیگر کئی عالمی خبر رساں اداروں نے رپورٹ دی کہ امریکی حکام نے ’’کوسٹاریکا‘‘ کی رقم منتقل کرنے والی ایک کمپنی کو بند کردیا ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند ہے۔ اس پر لکھا آرہا ہے کہ اس ’’ڈومین‘‘ کو امریکا کی ’’گلوبل ایلیٹ فنانشل ٹیم‘‘ نے بند کردیا ہے۔ کمپنی کا نام ’’لبرٹی ریزرو‘‘ ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے مطابق ’’لبرٹی ریزرو ڈیجیٹل منی سروس‘‘ 6 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھی۔ اب تک 5 گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں۔ گرفتاریوں میں کمپنی کے بانی آرتھر بڈاسکی بھی شامل ہیں جنھیں اسپین میں حراست میں لیا گیا۔ اب تک ڈھائی کروڑ ملین ڈالر کی رقم کے 45 بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر چلنے والے 5 ڈومین بھی بند کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں 45 کے قریب افراد کی یا تو تلاش جاری ہے یا انھیں حراست میں لیا جاچکا ہے۔ 15 ممالک میں مدد کی 36 درخواستیں روانہ کی جاچکی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ایک اہل کار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ لبرٹی ریزرو بڑی بڑی رقمیں منتقل کرتا تھا اور بغیر کسی شناخت کے، کوئی بھی فرد اپنی شناخت بتائے بغیر کتنی ہی بڑی رقم کیوں نہ ہو دنیا میں کہیں بھی منتقل کرسکتا تھا۔ یہ مجرموں کے لیے ایک پے پال (رقم کی منتقلی کا برقی ذریعہ) تھا۔ یہ تمام تر سلسلہ کچھ یوں تھا کہ ’’ایل آر‘‘ کے نام کی ایک ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائی گئی تھی جس فرد کو ملک یا بیرون ملک کہیں بھی رقم منتقل کرنی ہوتی وہ ’’ایل آر‘‘ کے دفتر جاکر مقامی کرنسی کے عوض ’’ایل آر‘‘ کے یونٹ خریدتا تھا۔ یہ یونٹ کسی بھی مقدار میں خریدے جاسکتے تھے۔
عموماً بڑی خریداریاں دیکھنے میں آتی رہیں۔ ’’ایل آر‘‘ کی خریداری کے لیے قطعی طور پر یہ ضروری نہ تھا کہ خریدار اپنی درست اور حتمی شناخت و ذرایع آمدنی بیان کرے۔ خریدار دنیا کے قریباً 17 ممالک میں موجود ’’ایل آر ‘‘ کی شاخوں سے یہ رقم وہاں کی مقامی کرنسی میں وصول یا کسی کو بھی ادا کرسکتا تھا۔ چونکہ یہ تمام تر لین دین ’’تھرڈ پارٹی‘‘ نظام کے تحت ہوتا تھا لہٰذا رقم بھیجنے یا وصول کرنے والے کو اپنی شناخت چھپانے کی مکمل آزادی تھی۔ استغاثہ کے مطابق کریڈٹ کارڈ کے فراڈ، شناخت کی چوری، سرمایہ کاری کے فراڈ، کمپیوٹر ہیکنگ، پورنو گرافی خاص کر چائلڈ پورنو گرافی اور منشیات کی ترسیل وغیرہ کی رقوم کی وصولی اور ادائیگی کا یہ ایک بڑا ذریعہ تھا۔
جب کرنسی کا چلن شروع ہوا تھا تو اس وقت سے آج تک ماہرین کبھی بھی لین دین کے اس طریقے پر مکمل اعتماد کا اظہار نہیں کرپائے۔ ہر دور میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ یہ فطین افراد کی کارستانی ہے۔ ان فطین افراد نے دہرا وار کیا ہے۔ ایک جانب لوگوں سے ان کا اصل زر سونے اور چاندی کی شکل میں حاصل کیا تو دوسری جانب عالمی سطح پر حکومتوں کے زر کے مالک بھی بن بیٹھے۔ خاص کر امریکی ریزرو کے بارے میں بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ عالمی اصل زر یعنی سونے کے ذخائر آج غیر حکومتی قوتوں کے قبضے میں ہیں۔ بینکوں کا نظام ان کا ہراول دستہ ہے۔ یہ دستہ مصنوعی زر یعنی کرنسی نوٹ تخلیق کیے جارہا ہے لوگوں کو کاغذ کے چند چیتھڑے دے کر خوش کردیا جاتا ہے۔ اب دور مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ اب ورچوئل کرنسی کا دور آگیا ہے۔
اب ادارے آپ کو کاغذ بھی نہیں دیتے۔ صرف آپ کو چند ہندسے بتا دیے جاتے ہیں۔ آپ کی زندگی اب ان ہندسوں کو بڑھانے سے مشروط کردی گئی ہے۔ ہندسوں کے گھٹنے بڑھنے کا ایسا جال بن دیا گیا ہے کہ افراد اس میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ذہنی طور پر ہمیں یہ سمجھا دیا جاتا ہے کہ ہندسوں کا نہ ہونا یا کم ہونا اچھی بات نہیں۔ آپ کی اور آپ کی آیندہ آنے والی نسل کی بقاء اسی سے مشروط ہے کہ آپ کے پاس بہت سارے ہندسے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آپ سسک سسک کر مرجائیں گے۔ انسان خوف اور لالچ کے خمیر سے بنا ہے۔ وہ ڈر جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ روایتی تہذیبوں میں بھی امید اور ڈر ہوا کرتی تھی، لیکن اس دور کے لوگ زیادہ پرسکون اور خوش باش تھے۔ ان پر مصروفیت مشغولیت اور شدید ذہنی دباؤ اور تناؤ کا عذاب بھی مسلط نہیں تھا۔
ایک ان دیکھی قوت پر تکیہ کرکے زندگی گزرا کرتی تھی۔ آج کا ایمان اور یقین چند ہندسوں پر آن ٹکا ہے۔ اگر بینک میں یا کسی بھی جگہ آپ کے پاس چند ہندسے ہیں تو آپ جی سکتے ہیں۔ آپ کسی بھی ریسٹورنٹ میں جاکر کچھ بھی کھا سکتے ہیں۔ کھانا کھانے سے توانائی ملی لیکن ہندسے کم ہوگئے۔ اب پھر جت جایئے ان ہندسوں کو بڑھائیے جو توانائی حاصل ہوئی ہے اسے صرف کیجیے۔ اسی طرح اگر آپ بیمار ہوجاتے ہیں تو آپ کو علاج کی اشد ضرورت ہے۔ اگر آپ نے علاج نہ کروایا تو مرجائیں گے۔ اور مرجانا تو بہت ہی بری بات ہے۔
یہ دنیا اور اس کی تمام لذات ختم ہوجائیں گی۔ دنیا کی لذتوں سے زیادہ سے زیادہ مزے اٹھانے کے لیے جینا بہت ضروری ہے۔ جیے جانے کے لیے علاج بہت ضروری ہے۔ جن ملٹی نیشنل یا نیشنلز میں دن رات صرف کرکے مرکھپ کے آپ نے چند ہندسے جمع کیے ہیں۔ اسی ملٹی نیشنل کے ایک اور ملٹی نیشنل بھائی نے آپ کو ادویات کے سہارے تادیر جیتے رکھنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اگر آپ نے اس کے کارخانے کی ادویات نہ کھائیں، اس کے اسپتالوں میں جاکر جان نہ دی تو ان کا دھندا کیسے چلے گا۔ آپ وہاں جائیں۔ علاج کروائیں۔
آپ کے اکاؤنٹ سے چند ہندسے پھر کسی بڑے اکاؤنٹ میں منتقل ہوچکے ہوں گے۔ اب پھر فوراً جت جائیے اپنے کم ہونے والے ہندسوں کو بڑھانے کے لیے۔ آپ کو بتایا جارہا ہے کہ آپ کی زندگی کے لیے ایک عمدہ گھر یا فلیٹ بھی بہت ضروری ہے۔ آپ کے لیے گاڑی اور ایک بڑی اسکرین کا ٹی وی بھی ضروری ہے۔ کمپیوٹر کا دور ہے اب لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ کے بغیر گزارا نہیں۔ آپ کو کتابیں پڑھنے کا چسکا ہے۔ کینڈل لے لیجے۔ اب اس کے بغیر کیا کتاب پڑھنا۔ غرض شدید قسم کی محنت مزدوری کرکے آپ نے جو چند ہندسے جمع کیے وہ بھی اکثر آنے سے پہلے ہی غائب ہوگئے۔
آپ کے پاس نہ اپنے لیے وقت ہے نہ اپنی بیوی کے لیے نہ اولاد کے لیے نہ والدین کے لیے۔ بچے اول تو پیدا ہی کم کیے جائیں جو اس دنیا میں آ بھی جائیں تو وہ ماں باپ کے سینے پر کھیلنے اور پلنے کے بجائے ڈے کیئر سینٹر میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ والدین کے جسم کا لمس اور والدین کے جسم کی خوشبو انھیں زندگی بھر نہیں ملتی۔ نتیجے کے طور پر ان میں کبھی والدین کی خدمت کا جذبہ بھی نہیں ابھرتا۔ ان کے والدین کی اخیر عمر اولڈ ایج ہاؤسز میں ہی سسکتے بلکتے ختم ہوتی ہے۔ یہ مادیت کی وہ ورچوئل دنیا ہے کہ جہاں جذبات اور احساسات ایک قدر زائد سے زیادہ نہیں۔ ورچوئل دنیا کی ورچوئل کرنسی نہ جس کے مالکوں کا پتا ہوتا ہے اور نہ جس کے اصل فائدہ اٹھانے والوں کا علم۔
ہر دور میں دیکھا ہے میری فکر رسا نے
کچھ لوگ زمانے کے خداوند رہے ہیں
اس سنجیدہ معاملے کا تاریک ترین پہلو یہ ہے کہ اسلحہ، منشیات اور پورنو گرافی پر قدغن عائد کرنے میں کوئی سنجیدہ نہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ جمہوریت اور سرمایہ داریت کے فروغ کے لیے کرپشن بہرحال ضروری ہے۔
بِٹ کوائن کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ سسٹم میں صرف 21 ملین بٹ کوائن ہی تخلیق کیے جا سکیں گے۔
کسی بھی ملک کی معیشت میں کرنسی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم سے ہی کبھی اناج، نمک، زعفران اور کئی مصالحہ جات کو لین دین کے لیے بطور کرنسی استعمال کیا گیا۔

ایک ہزار سال قبل مسیح چین میں کانسی کو سکوں کی شکل میں ڈھال کر دنیا کی پہلی باقاعدہ کرنسی کے طور پر استعمال شروع کیا گیا۔ کرنسی کو قانونی شکل اور اس کی قیمت کو یکساں رکھنے کے لیے سونے، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں سے بنے سکوں کو کئی صدیوں تک پیسوں کے لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ تفصیل سے پڑھئے
حوالہ تو کوئی نہیں پر لطیفے ہیں مزیدار .پاکستانی راہنماؤں کے حقیقی لطیفے
معراج خالد مرحوم نگران وزیراعظم بنے تو انہوں نے قوم کو سادگی سکھانے کے لیے اپنے لیے ہر قسم کا سرکاری پروٹوکول منع کردیا ۔ ایک دن وہ مال سے گذررہے تھے کہ دیکھا کہ پولیس نے ہرطرف ٹریفک جام کررکھی ہے۔ آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد انہوں نے گاڑی کے قریب گذرتے ایک پولیس کانسٹیبل سے پوچھا
” بھإئی ۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے ٹریفک کیوں بند ہے ؟ ۔
کانسٹیبل نے انہیں پہچانے بغیر کہا ” جناب گورنر پنجاب خواجہ رحیم گذر رہے ہیں”
ملک معراج خالد نے موبإئیل پر خواجہ رحیم سے رابطہ کیا اور کہا کہ ” آپ کے پروٹوکول میں میں بھی پھنسا ہوا ہوں۔ ”
خواجہ رحیم نے قہقہہ لگایا اور کہا ” ملک صاحب ۔ معذرت۔ لیکن اب تو میرے گذرنے کے بعد ہی ٹریفک کھلے گی اور میرے گذرنے میں ابھی 1 گھنٹہ باقی ہے”
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خواجہ رحیم کا قافلہ کافی دیر بعد گذرا ۔ اور سادگی پسند وزیراعظم صاحب کی گاڑی کو 2 گھنٹے کے بعد آگے بڑھنا نصیب ہوا۔
-----------------------------------------------------😄
بےنظیر بھٹو جب 1993 میں‌دوسری بار وزیراعظم بنی تو انہوں نے پی پی پی کے سردار فاروق لغاری کو صدر پاکستان منتخب کروایا۔ جب چاہتی لغاری صاحب کو اپنے پاس طلب کر لیتی تھیں۔ پہلے انہیں مسٹر لغاری اور بعد مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر پکارتی تھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق جب آخری دور میں دونوں میں اختلافات عروج پر پہنچ گئے تو بےنظیر خود چل کر ایوانِ صدر گئیں اور لغاری صاحب سے ملاقات میں انہیں ” بھائی لغاری ” کہہ کر مخاطب کیا۔
فاروق لغاری نے کہا ” میڈم ۔ یہ ملاقات وزیراعظم اور صدر مملکت کے درمیاں ہے۔ بہن بھائی کے درمیان نہیں۔ اس لیے بھائی بھائی کی بجائے سیاسی حالات پر بات کیجئے۔ ”
تاکید کے باوجود بھی جب بےنظیر بھٹو ” بھائی لغاری ” کہنے سے باز نہ آئیں تو فاروق لغاری اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اپنی اہلیہ کو بلا کر کہنے لگے ” تمھاری نند آئی ہیں۔ ان سے گپ شپ لگاؤ۔ میں ضروری کام سے آفس جارہا ہوں ” اور گاڑی میں بیٹھ کر باہر چلے گئے۔
اسکے تھوڑے دن بعد ہی صدر لغاری نے بےنظیر کی حکومت توڑ کر نگران حکومت بنا ڈالی ۔😄
———————————————–
جنرل فیض علی چشتی بیان کرتے ہیں جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ ہم فرانس کے دورے پر گئے، وفد کے ارکان کو ایک اعلی ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ۔ اسی شام جنرل ضیاء الحق کے دروازے پر دستک ہوئی ، صدر مملکت نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ دروازے پر سفید وردی میں ملبوس ایک گورا کھڑا ہے جس کے کندھے اور سینے پر کافی تمغے اور پٹیاں لگی ہوئی تھیں۔
صدر مملکت اسے دیکھ کر فوراً تپاک سے ہاتھ ملایا ، بغلگیر ہوئے اور اسے اندر آنے کی دعوت دی ۔ علیک سلیک اور خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد صوفے پر بٹھایا اور فرانس کے قومی حالات اور فرانس پاکستان فوجی تعاون پر بات چیت شروع کی۔
چند منٹوں‌کے بعد گورے شخص نے کہا ” جناب مجھے آپکی باتیں‌سمجھ نہیں‌آرہیں۔ لیکن پھر بھی میرے لائق جو خدمت ہے وہ بتائیں میں حاضر ہوں ”
جنرل ضیاء الحق حیران ہوگئے۔ اور اب اس شخص کا تعارف پوچھا ۔ جس پر گورا بولا
“جناب میں اس ہوٹل کا بیرا ہوں ۔ اور آپکی سروس کے لیے آیا تھا۔ کوئی خدمت ہوتو بتائیے”
جنرل چشتی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر صدر ضیاالحق بڑے شرمندہ ہوئے۔ اس گورے کو رخصت کیا ۔ اور بعد میں، میں نے صدر مملکت سے پوچھا ۔ آپ نے اس بیرے کو کیا سمجھا تھا ۔
جنرل صاحب کہنے لگے۔۔۔۔
” میں سمجھا تھا فرانسیسی بحریہ کے ایڈمرل ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ ”
اسکے بعد ہم دونوں‌جنرل ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔😄
——————————————
1998ء کے شروع میں وزیر اعلٰی پنجاب جناب شہباز شریف بھل صفائی کے سلسلہ میں قصورگئے تو انھوں نے ایک گورنمنٹ پرائمری سکول کا دورہ کیا۔ اسکی پانچویں جماعت کے سترہ بچوں میں سے کسی کو معلوم نہ تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت کہاں واقع ہے۔ حتٰی کہ کوئی بچہ بانیِ پاکستان کا نام بھی نہ بتا سکا۔ وزیر اعلیٰ نے پوچھا ‘‘نوازشریف کون ہے۔‘‘ تو ایک بچہ نے معصومیت سے جواب دیا ‘‘بابرہ شریف کا بھائی؛
وسطی امریکہ کے ملک پاناما میں واقع ایک بحری نہر ہے جس کے ذریعے بحری جہاز بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان سفر کرسکتے ہیں۔ اس نہر کی تیاری انجینئرنگ کے منصوبہ جات کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اس کی تعمیر سے علاقے میں جہاز رانی پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے کیونکہ اس سے قبل جہاز براعظم جنوبی امریکہ کے گرد چکر لگاکر راس ہارن (Cape Horn) سے بحر الکاہل میں داخل ہوتے تھے۔ اس طرح نیویارک سے سان فرانسسکو کے درمیان بحری فاصلہ 9 ہزار 500 کلومیٹر (6 ہزار میل) ہوگیا۔ جواس سے پہلے راس ہارن کے گرد چکر لگانے پر 22 ہزار 500 کلومیٹر (14 ہزار میل) تھا۔

اس جگہ نہر کی تعمیر کا منصوبہ 16 ویں صدی میں سامنے آیا تاہم اس پر تعمیر کا آغاز فرانس کی زیر قیادت 1880ء میں شروع ہوا۔ اس کوشش کی ناکامی کے بعد اس پر امریکہ نے کام مکمل کیا اور 1914ء میں اس نہر کو کھول دیا گیا۔ 77 کلومیٹر (48 میل) طویل اس نہر کی تعمیر میں کئی مسائل آڑے آئے جن میں ملیریا اور یرقان کی وباء اور زمینی تودے گرنا شامل ہیں۔ اس نہر کی تعمیر کے دوران اندازا 27 ہزار 500 مزدور ہلاک ہوئے۔ جس میں 1881ء سے 1889ء تک جاری رہنے والا ناکام فرانسیسی منصوبہ بھی شامل تھا جس میں 22 ہزار مزدور کام آئے۔ تمام تر احتیاطی اقدامات کے باوجود 1904ء سے 1914ء تک جاری رہنے والے امریکی منصوبے کے دوران بھی 5 ہزار 609 کارکن ہلاک ہوئے اس طرح نہر کی تعمیر کے دوران ہلاک ہونے والے کارکنوں کی تعداد تقریبا 27 ہزار 500 تھی۔

آج نہر پانامہ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے ہر سال 14 ہزار سے زائد بحری جہاز گذرتے ہیں جن پر 203 ملین ٹن سے زیادہ سامان لدا ہوتا ہے۔ 2002ء تک اس نہر سے 8 لاکھ سے زائد جہاز گذر چکے تھے۔
انجینئر نگ کا خاص کمال نہر کھودنے میں نہیں، بلکہ اس کے اندر بند بنانے سے ثابت ہوتا ہے۔پانامہ نہر کی سب سے حیران کن چیز اس کے بند اور کھلنے والے دروازے ہیں۔ جو جہاز کو بلندی پر اور بلندی سے نیچے آسانی سے اتار تےہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے جہاز کوئی پہاڑ چڑھ رہا ہو۔ اور پھر نیچے اتر رہا ہو۔ یہ نہر جھیل گیٹون اور سمند ر کا ملاپ ہے اور یہ جھیل سطح سمندر سے کافی بلند ہے اس لئے اس جھیل کے دونوں جانب دروازے نصب کئے گئے ہیں جن میں پانی کو کم یا زیادہ کرکے بحری جہاز کو جھیل کی سطح پر لایا جاتا ہے اس طرح جہاز جھیل عبور کرکے دوبارہ نہر اور بعد ازاں سمندر میں پہنچ جاتا ہے۔ مثلاً جو جہاز اوقیانوس کی طرف سے نہر میں داخل ہوا، اسے بندوں کے پہلے سلسلے میں سطح بحر سے پچاسی فٹ کی بلندی پر اٹھایا جاتا ہے، پھر جہاز ایک اور بند سے گزرتا ہوا بحرالکاہل کی جانب آخری سلسلے کے بند میں عام سطح پر آجاتا ہے اور بے تکلف دوسرے سمندر میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس طرح یہ انجنئیرنگ کا ایک شاہکار عجوبہ ہے۔
دیکھنے میں پانامہ کنال بہت بڑی ہے۔ مگر اب اسے تقریبا ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے مزید چوڑا کیا جا رہا ہے۔اس نہر میں فی الحال حال دو گزر گاہیں ہے۔جبکہ ان دنوں اس میں ایک تیسری گزرگاہ کی کھدائی پر کام ہورہا ہے جس کے بعد یہاں سے مزید بڑے بحری جہاز گزر سکیں گے۔
پاکستانی ٹیم کی تاریخ میں کپتان کے خلاف گروپ بندی ہمیشہ رہی ہے. پاکستانی اخبارات کے آرکائیوز سے پتہ چلتا ہے کہ.
82 میں پہلی بار عمران خان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے تو جاوید میانداد اور سرفراز نے چھٹی کروا دی. عمران خان نے بیک فائر مارا تو جاوید کو کپتانی سے اور سرفراز کو ٹیم سے فارغ کر دیا.
93 میں جاوید میانداد کپتان بنے تو سلیم ملک، وسیم اکرم اور رمیز راجہ نے میانداد لی لٹیا ڈبو دی. وسیم کا گروپ مضبوط تھا اس لئے سلیم ملک صرف 34 اور رمیز راجہ 22 میچوں سے زیادہ کپتان نہ رہ سکے جبکہ وسیم اکرم 109 میچوں میں کپتان رہے.

95 سے 2002 تک کھیل وسیم اکرم ، معین خان(34) گروپ اور وقار یونس(62) راشد لطیف (25) گروپ میں جاری رہا. کبھی ایک برسر اقتدار آتا اور کبھی دوسرا. اسی عرصے میں دونوں مشہور زمانہ ڈبلیوز نے ہر ممکن طریقے سے شعیب اختر کو نہ کھلانے کی بھرپور کوششیں کیں.
2002 سے 2007 تک انضمام اور یونس خان کے خلاف بھرپور کوشیش کی گئیں جس میں محمد یوسف، شعیب ملک، کامران اکمل اور سلمان بٹ نے کافی کردار ادا کیا لیکن ایک تو انضمام ایک مضبوط کپتان کے طور پر ابھرے اور دوسرے ان کے مقابلے میں ٹیم میں محمد یوسف کے علاوہ کوئی سینئیر کھلاڑی نہیں تھا جو سازش کو مضبوط کرتا اس لئے انضمام 87 میچ نکال گئے. لیکن بالآخر ایک ایسے وقت میں ریٹائر ہوئے جب آخری میچ کھیلنے کے لئے ان کو بورڈ کی منت سماجت کرنی پڑی تھی. یونس خان بھی ان سازشوں سے بچ نہ سکے اور صرف 21 میچ کھلا سکے. یونس ایک ایسے وقت میں کپتان بنائے گئے جب چئیرمین بورڈ بھی سازش میں مصروف تھا.
2009 سے 2014 تک شعیب ملک (36) شاہد آفریدی (38) اور مصباح الحق نے (87) میچ بطور کپتان کھیلے. اس دور میں شعیب ملک نام کا دونوں کپتانوں کے خلاف سازش اور گروپ بندی کے طور پر بار بار آیا. اکمل برادران نے ہمیشہ گروپ بندی کی. شاہد آفریدی اور حفیظ نے گروپ بندی کی. سلمان بٹ کو گرپ بندی کا شہنشاہ سمجھا جاتا تھا.
82 سے 2015 تک 21 کپتانوں میں سوائے یونس خان کے ایک بھی ایسا کپتان نہیں رہا جس نے اگلے کپتان کی خلاف سازش نہ کی ہو یا پھر اپنی پسند کے کھلاڑی نہ کھلائے ہوں. ہو سکتا ہے یونس خان نے بھی ایسا کیا یو لیکن ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا.
سب سے اہم بات یہ ہے کہ سلیم ملک، وسیم اکرم، وقار یونس شعیب ملک، سلمان بٹ کے نام تو باقاعدہ فکسنگ میں سامنے آئے ہیں. اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ شعیب ملک، سلمان بٹ اور اکمل برادران کپتان کے خلاف باقاعدہ میچ ہراو پرفارمنس کئی بار دے چکے ہیں.
ادھر دیکھئیے کہ 80 سے لے کر 2016 چھتیس سالوں میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے ون ڈے انٹر نیشنل میں صرف 11 کپتان بدلے جن میں سے 8 نے رضاکارانہ طور پر کپتانی چھوڑی.
اس لئے میرے پیارے پیارے پاکستانیو چل کرو...اپنی تاریخ سے شرماؤ مت. ہاکی دیکھا کرو کیونکہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے. آہو
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
قلعہ رنی کوٹ کے بارے میں بعض لوگ دعوی کرتے ہیں کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے جو اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ ۔ یہ قلعہ ” رنی کوٹ ” سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے کھیرتھر میں واقع ہے ۔ اس سے ملحقہ دیوار جو کہ کسی حد تک دیوار چین کی مانند ہے ۔ اس دیوار کی لمبائی 32 کلومیٹر ( 20 میل ) ہے ۔ اور اُنچائی 30 فُٹ ہے ۔ بعض لوگوں کے مطابق اس دیوار کو سکندراعظم – چندر گُفتاغوریا چچ سومروا کروڑا اور ٹالپور حکمرانوں نے تعمیر کیا ہے ۔

قلعہ رانی کوٹ حیدرآباد سے جانب ِشمال 90کلومیٹر دور کیرتھر پہاڑیوں کے قریب واقع ہے۔جی ایم سید کا آبائی قصبہ،سن جانب ِ جنوب مغرب30کلومیٹر دور ہے۔یہ دنیا کے گنے چنے عظیم الشان قلعوں میں ایک ہے۔سندھی محقق،بدر ابڑو کی تحقیق کے مطابق اس قلعے کا اندرونی رقبہ تقریباً چھ ہزار ایکڑ(8.9 مربع میل) علاقے پہ پھیلا ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت اس نامی گرامی قلعے کی تاریخ و بنیادی معلومات سے ناواقف ہے۔وجہ یہی کہ یہ بے آباد اور ویران علاقے میں واقع ہے

جب اس کی باریکی سے تحقیق کی گئی تو دلچسپ انکشافات سامنے آئے۔ دنیا کی اولین انسانی بستیاں دریائوں کے کنارے آباد ہوئیں تاکہ انھیں چوبیس گھنٹے زندگی کا منبع یعنی پانی ملتا رہے۔سو علاقہ کیرتھر میں ایک بڑی ندی(اب رانی کوٹ ندی)کے کنارے بھی پانچ ہزارسال قبل ’’امری‘‘نامی بستی کی بنیاد پڑی جس کے آثار قدیمہ قلعہ رانی کوٹ کے قریب ہی واقع ہیں۔اس ندی کا پانی دریائے سندھ سے جا ملتا ہے جو تب 40 میل دور بہتا تھا۔راستہ بدلنے کی وجہ سے اب دوری 20 میل رہ گئی ہے۔ اس بستی کے آثار بتاتے ہیں کہ تب یہ علاقہ انسانوں کی گذرگاہ بن چکا تھا۔خیال ہے کہ یہ بستی ’’وادی ِسندھ کی تہذیب‘‘کا حصّہ اور سندھ و راجھستان وپنجاب کی دیگر بستیوں سے بہ راہ منسلک تھی۔ 80 قبل مسیح میں یونانی باختری سندھ پہ حکومت کر رہے تھے۔تب تک سندھ میں مشہور بندرگاہ’’بھنبھور‘‘ کی داغ بیل پڑ چکی تھی۔(اس بندرگاہ کے آثار کراچی کے مضافاتی علاقے، دھابیجی کے نزدیک واقع ہیں)۔انہی دنوں ایرانی نژاد قبائل،سیتھی(ساکا)افغانستان میں اپنی سلطنت قائم کر چکے تھے۔70 قبل مسیح میں سیتھی قندھار کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہوئے۔بلوچستان پہ قبضہ کرتے وہ سندھ پہنچے ،تو کیرتھر کی پہاڑیوں میں سیتھی اور یونانی باختری لشکروں کے درمیان جنگ ہوئی۔

یہ امر بھی واضح کرتا ہے کہ علاقہ کیرتھر تب تک تجارتی قافلوں اور افواج کا راستہ بن چکا تھا…کیونکہ بلوچستان،سندھ،پنجاب اور راجھستان کی کئی گزرگاہوں کا وہاں سنگم ہوتا تھا۔ سیتھی کامیاب رہے اور انھوں نے سندھ پر بھی قبضہ کر لیا۔تاہم مشرقی ہندوستان پہ حکمران ایک اور ایرانی نژاد قبائل،پارتھیائی ان پہ حملے کرتے رہے۔اسی دوران ایک اہم عالمی تبدیلی رونما ہوئی اور عظیم سلطنت ِروما وجود میں آئی۔جلد ہی وہ اس زمانے کی اکلوتی’’سپرپاور‘‘بن گئی۔ تمام سپر پاورز کے مانند رومی بھی دنیا جہاں کی لگژری اشیا اپنے ہاں منگوانا چاہتے تھے۔سو چین، تبت، ہندوستان اور افغانستان سے مختلف سامان (کھالیں، موتی،قیمتی پتھر،لوہا،اونی کپڑے،جا نور، مسالے، ریشم، سوت، شیشم، پھل، چاول،اناج، وغیرہ) رومی سلطنت پہنچنے لگا۔بدلے میں چینی،ہندوستانی اور افغانی سونے چاندی کے برتن،گلاس،سّکے،شراب اور مختلف رنگ درآمد کرتے۔

1ء تک جنوبی ایشیا و چین اور سلطنت ِروما کے مابین ہونے والی اس تجارت کا سب سے ایک بڑا مرکز بھنبھور کی بندرگاہ بن گئی۔وجہ یہ ہے کہ وہی اپولوجس(Apologus)، عدن،سکندریہ اور رومیوں کی دیگر اہم بندرگاہوں کے نزدیک ترین واقع تھی۔چنا چہ چین،افغانستان،تبت اور ہندوستان سے کثیر سامان پہلے بھنبھور پہنچتا اور پھر بحری جہازوں کے ذریعے باہر چلا جاتا۔رومیوں نے اس بندرگاہ کو’’بربریکون‘‘ (Barbarikon)کا نام دیا۔ اسی تجارت کے باعث کیرتھر کی گذرگاہ نے بہت اہمیت اختیار کر لی،کیونکہ بیرون سندھ سے آنے والے بیشتر تجارتی قافلے وہیں سے گذر کر بھنبھور جاتے تھے۔سو اس اہم تجارتی راستے کو دشمنوں کی دسترس سے محفوظ کرنے کی خاطر سیتھیوں نے بستی امری کے نزدیک ایک بہت بڑا قلعہ بنایا جہاں مستقل طور پہ بڑی فوج قیام کر سکے۔

یوں قلعہ رانی کوٹ وجود میں آیا۔ رفتہ رفتہ سیتھی اور بستی امری قصہ ِپارنیہ بن گئے مگر قلعہ قائم رہا۔تب اس میں برج موجود نہ تھے۔یہ 45 برج1812ء میں سندھ کے دو تالپور حکمرانوں(میر کرم خان اور میر مراد علی خان)نے تعمیر کرائے تاکہ وہاں توپیں رکھی جا سکیں۔یہ قلعہ آج عظمت ِرفتہ کی یاد دلاتا ہے۔اس کا نظارہ اور سیاحت کرنے ضرور جائیے۔ سیتھی 400ء تک موجودہ پاکستان اور بھارت کے علاقوں پہ حکومت کرتے رہے۔تاہم آہستہ آہستہ ان کی سلطنت سکڑتی رہی۔آخر چندر گپت موریہ نے ان کی حکومت ختم کر ڈالی مگر سیتھیوں کے آثار ختم نہ ہوئے ۔ ماہرینِ بشریات کی رو سے جٹ، گوجر، آہیر، راجپوت،لوہاراورترخان نسلیں انہی سیتھیوں کی اولاد ہیں۔
سپین جس کو ہسپانیہ بھی کہتے ہیں سرکاری طور پر مملکت ہسپانیہ بہت سی قدیم قوموں کا ملک ہے۔ مغرب کی جانب يہ پرتگال، جنوب ميں جبل الطارق اور مراکش، اور شمال مشرق ميں انڈورا اور فرانس کے ساتھ ملتا ہے۔

سپین اصل میں پرانے زمانے کی ایک ریاست اندلس کا حصہ تھی جس پر طارق بن زیاد کے حملے کے بعد مسلمانوں کا سکہ چلتا تھا۔ اندلس یورپ میں موجود ایک سابقہ مسلم ریاست تھی جو ہسپانیہ، پرتگال اور جدید فرانس پر مشتمل تھی، جسے مسلم ہسپانیہ یا اسلامی آئبیریا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ریاست جزیرہ نما آئبیریا کے علاقے میں تھی۔

اندلس پر 19 جولائی 711ء کو مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے بادشاہ راڈرک (رودریگو)کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا۔ فتح اندلس کے بعد اندلس کو پانچ انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جو کہ تقریبا جدید دور کے اندلوسیا، گالیسیا اور پرتگال، قشتالہ اور لیون، اراغون اور پانچویں سبتمانیا پر مشتمل تھی۔ سلطنتِ رومہ والے اس ملک کو ہسپانیہ کہتے تھے۔ یہ جرمن قوم "واندلس" (Vandalus) سے موسوم ہے۔

جب سات سو گیارہ عیسوی کو مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد کے بادشاہ روڈرک کو شکست دے کر سپین پر اسلامی حکو مت کا جھنڈا گاڑا،تو اس وقت طارق بن زیاد نے جو خطاب اپنی فوج سے اپنی ساری کشتیاں جلا کیا تھا، یہ خطاب رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، اس نے کہا تھا، ’’اے لوگو جائے فرار کہاں ہے؟ تمہارے پیچھے سمندر ہے اور سامنے دشمن، اور بخدا تمہارے لئے ثابت قدمی اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں’’۔

مسلمانوں کی اس فتح سے سپین کا وہ سات سو سالہ دور شروع ہوا جس سے یورپ کی تاریکی اور ظلمت دور ہوئی، سپین کی سرزمین اسلامی تاریخ میں بڑی زر خیز ثابت ہوئی اس کا مقام مردم خیز ی میں کسی طرح بغداد اور دمشق کی یونیورسٹیوں سے کم نہیں۔

معروف تاریخ دان منٹگمری واٹ اس بارے میں لکھتے ہیں۔’’جب مسلمانوں کی قسمت اپنے عروج پر تھی تو ان کی تعلیمات نے تمام مذاہب کے ماننے والے طلباء کو اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا، سپین کے یہودی بطور خاص عرب فکر سے متاثر ہوئے، ان میں سے بیشتر نے عربی بولنے والے اساتذہ سے زانوئے تلمذ طے کیا اور عربی زبان میں کتابیں لکھیں،’’۔

یہ تاریخ اسلام کا ایک المناک باب ہے کہ مسلمان آٹھ سو سال کی حکمرانی کے بعد سپین سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے، اس کی وجہ مسلمانوں کی باہمی نا اتفاقیاں اور عرب و بربر کے اختلافات تھے، ریاستی خانہ جنگیوں نے مسلمانوں کو زوال کی راہ پر ڈال دیا، حتیٰ کہ 1236 عیسوی میں اندلس کا ہیرا شہر قرطبہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھن گیا، اور عیسائیوں نے مسجد قرطبہ کو گرجہ بنا لیا، سکوت قرطبہ اور اشبیلیہ کے بعد سپین میں مسلمانوں کی آخری ریاست بھی بالآخر 1492 میں عیسائیوں کے قبضہ میں چلی گئی۔

اس وقت کے اسپین میں زیادہ تر لوگ عیسائی مذہب کو مانتے ہیں۔ 76 فی صد ہسپانیہ کے باشندے عیسائی ہیں۔ 2 فی صد باشندے دوسرے مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور 19 فی صد ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے وجود کو ہی نہیں مانتے۔ ہسپانیہ کے ایک عمرانی تحقیقاتی ادارے نے ایک مطالعے کی روشنی میں یہ بات واضح کی ہیں ہے کہ جو 76 فی صد عیسائی ہسپانیہ میں موجود ہیں ان میں سے 54 فی صد لوگ بہت ہی کم یا نہ ہونے کے برابر گرجا گھر جاتے ہیں۔ 15 فی صد لوگ سال میں ایک یا دو مرتبہ گرجا گھر جاتے ہیں۔ 10 فی صد لوگ مہینے میں ایک یا دو مرتبہ گرجا گھر جاتے ہیں اور19 فی صد لوگ ایسے ہیں جو ہر اتوار اور ہفتے میں کئی مرتبہ عبادت کی غرض سے گرجا گھر جاتے ہیں۔ 22 فی صد اسپین کے رہنے والے لوگ ہر مہینے مذہبی تہواروں میں حصہ لیتے ہیں۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ریاست کی طرف سے لاگو ہونے والے قوانین کا احترام کرنا ہرملک کے شہریوں کا فرض ہوتا ہے۔ لیکن دنیا کے بیشتر ملکوں میں ایسے حیرت انگیز قوانین بھی موجود ہیں جن کا علم اسی وقت ہوتا ہے جب آپ اس قانون کو انجانے میں توڑ چکے ہوتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں - امریکہ، یورپ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک - میں ایسے عجیب و غریب قوانین آج بھی موجود ہیں جن کی پابندی کرنے کے لیے پہلے سے ان کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ 
1۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ساموا کی ریاست میں بیوی کی سالگرہ کا دن بھولنا غیر قانونی ہے۔
2۔ اسی طرح میلان میں لوگوں کو قانونی طور پر چہرے پر مسکراہٹ رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ یہاں صرف تدفین یا حادثے کے واقعات میں ہی مسکرانا منع ہے۔
3۔ برطانوی قانون کے تحت 'ہاوس آف پارلیمنٹ' کے اندر مرنا جرم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لندن میں ہاوس آف پارلیمنٹ کا دورہ کرتے ہوئے اگر یہاں کسی کی موت واقع ہو جائے تو وہ شاہی روایت کے اعتبار سے اسٹیٹ تدفین کا حقدار تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح ہاوس آف پارلیمنٹ کے اندر فوجی وردی کے ساتھ داخل ہونا غیر قانونی ہے۔
4۔ خط پر ملکہ برطانیہ کی تصویر والا ٹکٹ الٹا چپکانا غیر قانونی ہے جس پر جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
5۔ یہاں کرسمس کے دن 25 دسمبر کو گھر پر قیمے کی پیٹیس تیار کرنا یا کھانا غیر قانونی ہے۔
6۔ ہر شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹی وی خریدنے کے ساتھ لائسنس خریدنا نہ بھولے کیونکہ برطانیہ میں لائسنس کے بغیر ٹی وی رکھنا غیر قانونی ہے۔
7۔ برطانیہ میں پارک یا باغیچے کی گھاس کو نقصان پہنچانا غیر قانونی ہے۔
8۔ قطار میں کھڑے لوگوں کے لیے قطار توڑ کر آگے بڑھنا غیر قانونی ہے۔
9۔ یہاں گھر کے اندر سے جواب نہ ملنے کے باوجود دروازے پر بار بار دستک دینا آپ کو مہنگا پڑ سکتا ہے جس کے لیے جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔
10۔ برطانیہ کے کسی بھی شہر میں کارپیٹ یا ڈور میٹ کو جھاڑنا غیر قانونی ہے۔ صرف ڈور میٹ کو صبح آٹھ بجے سے پہلے جھاڑا جا سکتا ہے۔
11۔ برطانیہ میں سڑکوں پر بے ہودہ گانا گانا یا پرفارمنس دکھانا بھی خلافِ قانون ہے۔
12۔ اٹلی کے شہر وینس میں سینٹ مارک اسکوائر پر کبوتروں کو دانا ڈالنا جرم ہے۔ اس کا مقصد کبوتروں کی تعداد کم کرنا ہے اور تاریخی عمارات کو نقصان سے بچانا ہے۔
13۔ جرمنی کی پر ہجوم شاہراہ 'آٹو بان' پر گاڑی کا ایندھن ختم ہوجانے پر آپ کو جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے یہاں سفر کے لئے پٹرول کی ایکسٹرا بوتل رکھنا ضروری ہے
14۔ اس شاہراہ پر سینڈل یا چپل پہن کر ڈرائیونگ کرنا بھی جرم ہے ۔
15۔ بارسلونا: میں شہر کی سڑکوں اور گزرگاہوں پر تھوکنا غیر قانونی ہے۔
16۔ یونان: میں اونچی ہیل کی سینڈل پہن کر تاریخی مقامات کا دورہ کرنا غیر قانونی ہے۔
17۔ ڈنمارک: میں دن کے وقت سردیوں میں گاڑی کی ہیڈ لائٹس کو کم ازکم ڈِم رکھنا ضروری ہے ورنہ جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
18۔ اسی طرح ڈنمارک میں ہوٹل میں اس وقت تک بل کی ادائیگی کرنا ضروری نہیں ہے جب تک آپ خود سے اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ آپ کا پیٹ بھر چکا ہے۔
19۔ امریکہ: ریاست ٹینیسی میں اگر آپ ڈرائیونگ کرتے ہوئے سو جائیں تو یہ جرم تصور کیا جائے گا۔
20۔ واشنگٹن میں خود کو دولت مند والدین کی اولاد ظاہر کرنا جرم ہے۔
21۔ ہونولولو ہوائی میں غروبِ آفتاب کے وقت گانا گانا غیر قانونی ہے۔
22۔ ورجینیا میں ساحل سمندر پر پکنک منانے والوں کو شائستہ گفتگو کرنا ضروری ہے کیونکہ یہاں گالی گلوچ کرنا غیر قانونی ہے۔
23۔ آسٹریلیا: میں اس جانور کا نام لینا غیر قانونی ہے جس کو آپ لنچ یا ڈنر میں کھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
24۔ وکٹوریہ میں الیکٹریشن کا لائسنس نہ ہونے پر گھر کا بلب تبدیل کرنا جرم ہے۔
25۔ کینیڈا: میں کرنسی ایکٹ کے تحت دکاندار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ ریز گاری لینے سے انکار کر سکتا ہے۔
26۔ سنگا پور: میں چیونگم چبانا اخلاقی بد تہذیبی ہی نہیں بلکہ قانونی طور پر جرم ہے۔
27۔ تھائی لینڈ: میں تھائی کرنسی 'بھات' پر موجود بادشاہ کی تصویر پر کھڑا ہونا غیر قانونی ہے۔
28۔ الاسکا میں اپنے کتے کو گاڑی کی چھت پر بیٹھا کر سفر کرنا جرم ہے۔
29۔ سپین میں یہ قانون ہے کہ اگر آپ کو نظر کی عینک لگی ہے تو ایک عینک آپ کی گاڑی میں بھی ہونی چاہیئے۔
30۔ سائپرس میں گاڑی چلاتے ہوئے آپ کچھ بھی پی نہیں سکتے۔ یہاں تک کہ آپ پانی پیتے ہوئے بھی پکڑے گئے تو جرمانہ دینا پڑ سکتا ہے۔
31۔ روس میں گندگی سے اٹی کار چلانا جرم ہے۔
32۔ برازیل میں اگر کوئی کار ایکسیڈنٹ میں مارا جاتا ہے تو اس کا شراب پینے کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہوتا ہے۔
33۔ جنوبی افریکہ میں جانوروں کا سڑک پر سے گزرنے کے لئے اپنی گاڑی روکنا لازمی ہے۔
34۔ اس کے علاوہ برونائی، ملائشیا اور انڈونیشیا میں بدبودار پھل بس، ہوٹل یا ہوائی اڈے پرکھانا جرم ہے۔ اسی طرح برما میں انٹر نیٹ حاصل کرنے والے کو جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک انگریز کو پنجابی سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ 136 چک کے قدیم بزرگ پنجابی کی تعلیم دیتے ہیں۔
ایک دن انگریز نے بس پر سوار ہو کر 136 چک کی راہ لی۔ بس نے اسے جس جگہ اتارا چک وہاں سے ایک گھنٹے کی پیدل مسافت پر تھا۔ انگریز بس سے اتر کر چک کی طرف چل پڑا۔تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اس نے ایک کسان کو فصل کاٹ کر اس کے گٹھے بناتے دیکھا۔انگریز نے پوچھا: oh man تم یہ کیا کرتا؟کسان نے جواب دیا: گورا صاب! ہم فصل وٹتا۔انگریز بولا: oh man تم crop کرنا کو what بولتا۔انگریز آگے چل دیا۔ آگے ایک شخص چارپائی کا وان وٹ رہا تھا۔انگریز نے پوچھا: oh man تم یہ کیا کرتا؟اس آدمی نے جواب دیا: گورا صاب! ہم وان وٹتا۔انگریز بولا: oh man تم twist کرنا کو what بولتا۔انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگے چلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہے۔انگریز نے پوچھا: oh man تم اداس کیوں بیٹھا؟دکاندار بولا: گورا صاب! سویر دا کج وی نئیں وٹیا۔انگریز بولا: oh man تم earning کو what بولتا۔انگریز اسے چھوڑ کر کچھ اور آگے چلا تو ایک شخص کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔انگریز نے پوچھا: oh man کیا ہوا؟وہ شخص بولا: گورا صاب اج موسم بڑا وٹ ہے۔انگریز بولا: oh man تم humidity کو what بولتا۔انگریز اسے چھوڑ کر آگے چلا۔ سامنے چودھری کا بیٹا کلف لگے کپڑے پہنے چلا آ رہا تھا۔ انگریز اس سے گلے ملنے کے لئے آگے بڑھا۔وہ لڑکا بولا: گورا صاب! ذرا آرام نال، کپڑیاں نوں وٹ ناں پا دینا۔انگریز بولا: oh man تم wrinkles کو what بولتا۔کچھ آگے جا کر انگریز کو ایک شخص پریشانی کے عالم میں لوٹا پکڑے کھیتوں کی طرف بھاگتا ہوا نظر آیا۔انگریز نے کہا: oh man ذرا بات تو سنو۔وہ شخص بولا: گورا صاب واپس آ کر سنتا ہوں، بڑے زور دا وٹ پیا اے۔انگریز بولا: oh man تم loose motion کو what بولتا۔تھوڑا آگے جانے پر انگریز کو ایک بزرگ حقہ پکڑے سامنے سے آتا دکھائی دیا۔قریب آنے پر انگریز نے پوچھا: oh man یہ 136 چک کتنی دور ہے؟وہ بولا: وٹو وٹ ٹری جاؤ، زیادہ دور نئیں اے۔انگریز بولا: oh man تم path کو what بولتا۔آگے چلا تو کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں بری طرح لڑ رہے ہیں۔گورا لڑائی چھڑانے کے لئے آگے بڑھا تو ان میں سے ایک بولا: گورا صاب تسی وچ نہ آؤ میں اج ایدھے سارے وٹ کڈ دیاں گا۔انگریز بولا oh man تم immorality کو what بولتا۔انگریز نے لڑائی بند کرانے کی غرض سے دوسرے آدمی کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ بولا: او جان دیو بادشاؤ، مینوں تے آپ ایدھے تے بڑا وٹ اے۔انگریز بولا: oh man تم anger کو what بولتا۔قریب ایک آدمی کھڑا لڑائی دیکھ رہا تھا۔وہ بولا: گورا صاب! تسی اینوں لڑن دیو ,ایدھے نال پنگا لتا تے تہانوں وی وٹ کے چپیڑ کڈ مارے گا۔انگریز بولا: oh man تم fighting کو what بولتا۔لاچار انگریز آگے چل دیا۔ تھوڑی دور گیا تو کیا دیکھا کہ ایک شخص گم سم بیٹھا ہے۔انگریز نے پوچھا: یہ آدمی کس سوچ میں ڈوبا ہے؟جواب ملا: گورا صاب! یہ بڑا میسنا ہے، یہ دڑ وٹ کے بیٹھا ہے۔انگریز بولا: oh man تم silent کو what بولتا۔بالآخر انگریز نے یہ کہتے ہوئے واپسی کی راہ لی:
What a comprehensive language, I can never learn it in my short life
اکثر و بیشتر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالی کی ذات ہر چیز پرقادر ہے۔۔ ۔کوئی بھی کام اسکے حکم کے بغیر نہیں ہوتا۔۔۔حتی کہ ایک پتا بھیاسکی مرضی کے بغیر ہل نہیں سکتا۔پوری کائینات اسکے حکم کی محتاج ہے۔۔۔۔تو کیا انسان جب گناہ کرتا ہے اس میں بھی اسکی مرضی اور اسکا حکم شامل ہوتا ہے۔۔۔؟تو پھر کیا (نعوذ باللہ)انسان جب زنا کرتا ہے یا شراب پیتا ہے۔۔۔۔قتل کرتا ہے یا چوری۔۔
کیا یہ سب افعال بھی اللہ تعالی کی مرضی او ر اسکے حکم سے انجام پاتے ہیں۔۔۔۔؟
آئے اس بظاہر پیچیدہ مگر آسان سے سوال کا جواب اپنی روز مرہ زندگی میں ہونے والے
معاملات سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔کیا آپ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔۔۔؟
کیا آپ کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں ۔۔۔؟دونوں نہ سہی ان میں ایک تو ضرور آپ کے استعمال میں ہوگا۔۔۔
یا ہوسکتا ہے کہ دونوں استعمال میں ہو۔۔۔۔جب آپ موبائل فون یا کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں تو کبھی آپ
نے اس بات پر غور کیا ہے کہ انکے اندر موجود مختلف اقسام کے فنکشنز جو کہ ہم عام طور پراستعمال کرتے ہیں۔۔
کیسے کام کرتے ہیں۔۔۔؟انکے پیچھے کیا ایسا عمل ہو رہا ہوتا ہے کہ بلکل ٹھیک اور مقررہ حد تک کام کرتے ہیں۔۔۔؟
جب آپ ایک فولڈر کو اوپن کرتے ہیں تو اسکے اندر مزید آپشن ظاہر ہوجاتے ہیں۔۔۔پھر ان میں سے آپ
ایک آپشن کا انتخاب کرتے ہیں تو اسکے اندر مزید کچھ آپشن نظر آجاتے ہیں۔۔۔اسی طرح آپ مختلف فولڈرز،
مختلف اپلیکیشنز،اور سافٹوئرز کو استعمال کرتے ہیں جن کے اندر مختلف اقسام کے فنکشنز اور آپشن دئے گئے ہوتے ہیں۔۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مختلف اقسام کے آپشن اور فنکشن کہاں سے آئے۔۔۔؟ظاہر سی بات ہے کہ
یہ آپشن یا فنکشنز ایک شخص ترتیب دیتا ہے۔۔۔جو کہ پروگرامر یا سوفٹ وئر انجینئر کہلاتا ہے۔۔۔وہ شخص
ان آپشنز اور فنکشنز کو ایک خاص حد تک محدود کرکے ترتیب دیتا ہے یا بناتا ہے۔۔۔مثال کے طور پر اس نے ایک
فولڈر کیلئے تین آپشن بنا رکھے ہیں جن میں
1۔اوپن
2۔کاپی
3۔ڈیلیٹ
اب کوئی اگر اس فولڈر کو استعمال کرنا چاہے گا تو اسکے پاس صرف تین آپشن ہونگے۔۔۔وہ فولڈر
کو اوپن کریں ۔۔۔کاپی کریں۔۔۔یا ڈیلٹ کردیں۔۔۔۔اس بات کا انحصار استعمال کنندہ پر ہوتا ہے۔۔۔
وہ ان تین آپشن کے علاوہ مزید کسی قسم کا کوئی اور کام اس فولڈر میں نہیں کرسکتا۔۔اسلئے کہ فولڈر بنانے والے
سوٖفٹ وئر انجینئر یا پروگرامر نے مزید کوئی آپشن رکھا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔انجئنر نے فولڈر بناکر دے دیا اب
استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسکا استعمال کس طرح سے کرتا ہے۔۔۔۔آیا وہ اس فولڈر میں
رکھے ڈیٹا کو اوپن کرکے دیکھتا ہے۔۔۔ کاپی کرتا ہے اور یا پھر اسے ڈیلیٹ کرتا ہے۔۔۔۔
سوٖفٹ وئر انجینئر نے آپشن بناکے اسکے سامنے کردئے ہیں اب اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ
وہ کونسا آپشن منتخب کرتاہے۔۔۔۔۔اوپن کرکے فولڈر دیکھ سکتا ہے۔۔۔فولڈر کو کاپی کرسکتا ہے۔۔۔۔
فولڈر کو ڈیلیٹ کرسکتا ہے۔۔۔۔۔اس آگے نہ وہ کچھ کرسکتا ہے اور نہ انجینئر نے کوئی آپشن رکھا ہے۔۔۔
بلکل اسی طرح اللہ تعالی نے اس کائنات کو تخلیق کرنے کے بعد انسان کیلئے کچھ آپشن بناکر دے دئے ہیں۔۔۔
جن میں اچھے آپشن بھی شامل ہیں اور برے بھی۔۔۔۔۔۔انسان کے سامنے دونوں طرح کے آپشن بناکر رکھ دئے ۔۔
اب اس بات کا انحصار انسان پر ہے کہ وہ کس آپشن کا انتخاب کرتا ہے۔۔۔۔جنت میں لیجانے والے آپشنزکا انتخاب
یا جہنم میں لیجانے والے آپشنز کا انتخاب۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی نے دونوں طرح کے آپشنز اور انکا انجام کھل کر رکھ دیا ہے
اور انسان کو فیصلے کا اختیار دے دیا ہے کہ وہ کیا منتخب کرتا ہے اور ساتھ ساتھ انجام سے بھی خبردار کردیا ہے۔۔
سب کچھ اللہ کی مرضی و منشا سے ہوتا ہے۔۔۔۔اسکے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔حتی کہ ایک پرندہ پر بھی نہیں
مارسکتا ۔۔۔۔سب کیلئے اللہ تعالی نے مختلف آپشنز اور فنکشنز بناکر رکھے ہیں۔۔۔سب اسی کے حکم اور مرضی کے محتاج ہیں۔
انسان کو فیصلے کا آختیار تو دے دیا لیکن ایک حد کے اندر جس طرح ایک سوفٹ انجینئر کوئی سوفٹ وئر یا اپلیکیشنبناتا ہے اور اسکے فنکشنز کا ایک حد مقرر کردیتا ہے۔
ایک امریکی رئیلیٹی شو " شارک ٹینک" پر پوسٹ کی تھی۔ اس پروگرام میں شریک پانچ میں سے ایک سیلف میڈ ارب پتی خاتون باربرا کے بزنس سفر کی کہانی شئیر کررہا ہوں۔

70 کی دہائی کے اوائل میں باربرا نے ایجوکیشن کے سبجیکٹ میں گریجویشن کی اور بطور ٹیچر ایک سکول میں پڑھانا شروع کردیا۔ ایک سال بعد ہی باربرا ٹیچنگ سے بور ہوگئی اور ایک آفس میں نوکری کرلی۔ چند ماہ بعد وہ نوکری چھوڑ کر باربرا نے ایک اور نوکری شروع کی۔ الغرض، چند سال کے اندر اندر باربرا نے تقریباً 22 باسز کے ساتھ کام کیا۔ آخری جاب کسی رئیل اسٹیٹ فرم میں بطور کمیشن ایجنٹ کی تھی جس میں باربرا اپنے کلائینٹس کو نیویارک میں اپارٹمنٹس کرائے پر لے کر دیتی تھی۔
پھر باربرا اپنی جاب سے اکتا گئی۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے باس کیلئے جاب کررہی ھے۔ اس نے نوکری سے استعفی دے دیا کیونکہ وہ اپنی باس خود بننا چاہتی تھی۔ استعفی دینے کے بعد باربرا کے پاس کوئی آپشن نہیں تھی۔ نہ تو کوئی سیونگ تھی جس سے وہ کوئی کام شروع کرتی اور نہ ہی فیملی اتنی سٹرونگ کہ وہ فیملی بزنس سنبھال لیتی۔
باربرا کے بوائے فرینڈ نے اسے مشورہ دیا کہ چونکہ وہ رئیل اسٹیٹ میں بطور ایجنٹ کام کرتی رہی ھے، اس لئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنی رئیل اسٹیٹ فرم کھول لے۔ باربرا کو یہ آئیڈیا بہت اچھا لگا لیکن کمپنی رجسٹرڈ کروانے اور اپنے بزنس کارڈز چھپوانے کیلئے باربرا کے پاس رقم نہیں تھی۔ باربرا کے بوائے فرینڈ نے اسے ایک ہزار ڈالر قرض دیا جس سے باربرا نے اپنی فرم رجسٹرڈ کروالی۔ یہیں سے باربرا کے نئے سفر کا آغاز ہوا۔
باربرا ہر روز اپنے بزنس کارڈز پرس میں ڈال کر اپنے پرانے کلائنٹس سے ملنے چلی جاتی۔ اخبارات میں جن پراپرٹیز کے اشتہارات چھپتے، انہیں کال کرکے ملنے کا ٹائم لیتی اور انہیں اپنی خدمات بطور ایجنٹ کے پیش کرتی۔ یوں باربرا نے کچھ دنوں بعد اپنی پہلی ڈیل کلوز کی جس میں اس نے نیویارک مین ہیٹن کا ایک فلیٹ کسی کارپوریٹ ایمپلائی کو رینٹ پر لے کر دیا جس کا اسے کمیشن ملا۔
کمیشن کی رقم سے باربرا نے سب سے پہلے تو اپنے ضروری اخراجات کیلئے رقم علیحدہ کی جس میں ٹیلیفون کے بل اور بسوں کی ٹکٹس وغیرہ تھیں۔ جو رقم باقی بچی، اس سے باربرا نے اخبار میں "ضرورت ھے" کا اشتہار دیا جس میں باربرا نے ایک ینگ اور انرجیٹک رئیل اسٹیٹ سیلز مین کی خدمات مانگی تھیں۔ باربرا کو ایک اچھا امیدوار مل گیا اور یوں اس نے اپنی فرم کا پہلا ایمپلائی ہائیر کرلیا۔ اس ایمپلائی کا ٹاسک یہ تھا کہ وہ بھی باربرا کی طرح اخبارات سے لیڈز ڈھونڈے گا اور انہیں کلوز کرکے کمپنی کیلئے کمیشن کی شکل میں ریوینیو جنریٹ کرے گا۔
اس ایمپلائی نے اپنے پہلے مہینے 3 ڈیلز کلوز کیں۔ باربرا نے بھی چند ڈیلز کلوز کیں۔ ایمپلائی کی تنخواہ اور اپنے ضروری اخراجات کیلئے رقم نکالنے کے بعد باربرا نے ایک اور "ضرورت ھے" کا اشتہار دے دیا اور اپنا دوسرا ایمپلائی ہائیر کرلیا۔
اب باربرا کے پاس 2 سیلز مین تھے۔ اگلے مہینے باربرا کی کمپنی نے پچھلے مہینے سے دگنی تعداد میں ڈیلز کلوز کیں۔ باربرا نے ایک دفعہ پھر اخبار میں اشتہار دے دیا اور ایک اور ایمپلائی ہائیر کرلیا۔ یوں اگلے کئی مہینوں تک باربرا صرف تنخواہیں ادا کرتی رہی اور جتنا بھی ریونیو آتا، اس سے وہ اپنی کمپنی کیلئے سیلز ایجنٹس ہائیر کرتی گئی۔
ایک سال کے اندر اندر باربرا کے پاس 10 کے قریب بہترین سیلز ایجنٹ ہوچکے تھے اور اس کا ریوینو کئی گنا بڑھ چکا تھا۔ آپ سوچ رھے ہونگے کہ اس طرح تو کوئی بھی سیلز ایجنٹ باربرا کی نوکری چھوڑ کر اپنی کمپنی بنا کر خود کمائی کرسکتا تھا۔ لیکن یہ اتنا آسان نہ تھا۔ باربرا بطور مینیجر اپنے ایمپلائیز کا بہت خیال رکتھی تھی۔ ان کی فیملی کی برتھ ڈیز تک کا حساب رکھتی اور انہیں وش کرنے گھر تک جاتی۔ جتنا بھی پرافٹ آتا، باربرا اسے فئیر طریقے سے اپنے ایمپلائیز میں تقسیم کردیتی۔ اس طرح باربرا کے پاس انتہائی وفادار اور قابل لوگوں کی ٹیم بن چکی تھی۔
اگلے چند سال تک باربرا کی کمپنی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی گئی اور پھر وہ وقت بھی آیا جب باربرا کی فرم مین ہیٹن کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ فرم بن گئی۔
اگلے چند سالوں کے بعد باربرا نے اپنی رئیل اسٹیٹ فرم کے شئیرز 66 ملین ڈالر میں بیچ دیئے۔ یہ فرم آگے جا کر 5 بلین ڈالر کی فرم بن گئی۔
باربرا نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز 1 ہزار ڈالر کے قرض سے کیا جس سے وہ آگے جاکر بلین ائیر خاتون بن گئی۔ اگر آپ اس کے سفر کا جائزہ لیں تو چند چیزیں نظر آتی ہیں جنہوں نے باربرا کو اتنی کامیابی دلوائی:
1۔ باربرا نے نوکری چھوڑ کر ایک مشکل فیصلہ کیا جس میں رسک بھی تھا۔ لیکن اسے اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ کرلے گی۔ اس کا وژن کلئیر تھا کہ اسے اپنا بزنس کرنا ھے۔
2۔ باربرا کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی ٹیم مینجمنٹ ھے۔ اپنے سٹاف کا ایک ماں کی طرح خیال رکھنا، انہیں عزت سے پیش آنا، ان کی تنخواہیں اور بونسز ان کی قابلیت کے حساب سے وقت پر ادا کرنا، یہ سب اس کے بزنس کیلئے فائدہ مند ثابت ہوا۔
3۔ باربرا اپنی سٹرینتھ پر کھیلی۔ حالانکہ تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے وہ ایک ٹیچر ہی بن سکتی تھی لیکن اسے اپنی خوبیوں اور خامیوں کا ادراک تھا۔ اسے لگا کہ اس کی اصل سٹرینتھ سیلز اور مینجمنٹ ھے، چنانچہ اس نے اسی پر داؤ لگایا اور کامیاب رہی۔
اب چوائس آپ کے پاس ھے۔ اگر تو آپ صبح اٹھ کر وہی کام کرتے رہیں جس میں نہ تو آپ کو ایکسائٹمنٹ ملتی ھے اور نہ ہی خوشی، تو پھر آپ ساری عمر وہیں گزار دیں گے اور ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
اس کی بجائے اگر آپ اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنی لائن اختیار کریں، چاھے وہ جوتے مرمت کرنے کی ہی کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ ساتھ آپ اپنا کام ایمانداری اور محنت سے کرتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ بھی باربرا کی طرح اپنی فیلڈ میں کامیاب نہ ہوسکیں!!!
ایک بادشاہ تھا۔ جس کی چار بیویاں تھیں۔۔۔
وہ چوتھی بیوی سے سب سے زیادہ محبت کرتا تھا۔۔۔ اور سب کچھ اس کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار تھا۔
وہ تیسری بیوی سے بھی محبت کرتا تھا۔۔۔ ۔
لیکن اس قدر نہیں جتنی چوتھی سے۔۔۔ اور کسی اور کی خاطر اس تیسری بیوی کو چھوڑ بھی سکتا تھا۔
وہ ہر مشکل وقت میں دوسری بیوی کے پاس آتا تھا ۔۔۔ ۔ اور اس سے مشورہ لیتا تھا۔۔۔
اور اس کے پاس آکر سکون محسوس کرتا تھا۔۔۔
لیکن پہلی بیوی کو وہ کوئی اہمیت نہ دیتا تھا۔۔۔
حالانکہ اسے اس بیوی سے بھی محبت تھی۔۔۔ اور ہر مشکل وقت میں اس کے کام آتی تھی۔۔۔
ایک دن بادشاہ بیمار ہوا۔۔۔
اس نے سب بیویوں سے پوچھا: میری چار بیویاں ہیں۔۔۔ میں قبر میں اکیلے ہرگز نہ جاوں گا۔۔۔ تم میں سے کون میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہے؟؟
چوتھی نے کہا: ہرگز ایسا ممکن نہیں۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔
تیسری نے کہا: ہرگز ٰ نہیں۔۔۔ زندگی بہت پیاری ہے۔۔۔ میں تمہارے بعد کسی اور سے شادی کروں گی۔
دوسری نے کہا:میں تمہارے ساتھ قبر میں تو نہیں جا سکتی۔۔۔ ہاں تمہیں قبر تک پہنچا دوں گی۔
اب پہلی بیوی کی باری آئی تو اس نے کہا: میں قبر میں تمہارے ساتھ ہوں گی۔۔۔ ۔ تم جہاں جاو گے میں ساتھ ہوں گی۔
اب بادشاہ کو اپنے کئے پر شرمندگی ہوئی۔۔۔ کہ زندگی بھر اس باوفا بیوی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے۔۔۔
کہ ہم میں سے ہر کسی کی چار بیویاں ہیں:
چوتھی : ہمارا جسم۔ جتنا اس کا خیال رکھیں موت کے وقت ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
تیسری : مال ودولت۔ موت کے وقت اوروں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔
دوسری : دوست اور رشتہ دار۔ جتنے بھی اچھے ہوں ہمیں صرف قبر تک پہنچا دیں گے۔
پہلی : ہمارے نیک اعمال۔ اس بارے ہم عام طور پر بے پروائی کرتے ہیں۔۔۔ لیکن صرف اسی نے ہمارے ساتھ قبر میں جانا.
تو بھائیوں اور انکی پیاری پیاری بہنو! السلام علیکم
ایک مرتبہ پھر بسلسلہ ناکام آن لائین بندہ شناسی مہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ آج ہم آپ کو ٹویٹریوں اور فیس بکیوں کی مختلف اقسام سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی میں آپ نے دوسروں پر دھیان دینے کی بجائے صرف اپنے آپ کو شناسنا ہے۔ تو آئیے شروع کرتے ہیں، اب
ایسے کو تیسا: فیوریٹ کے بدلے فیوریٹ، لائیک کے بدلے لائیک، کمنٹ کے بدلے کمنٹ، فالو کے بدلے فالو
واری وٹہ: مثال تو حاجی بگو کی دی جانی چاہئے تھی لیکن معزز لوگوں کو گندی باتوں میں کیا گھسیٹنا۔ جھاگ اور تاریں بنانے کے ماہر اور ”یو ول سکریچ مائی بالز اینڈ آئی ول سکریچ یورز“ ) you will scratch my balls and i will yours)کی عملی تصویر
ڈاکٹر رانی: پڑھنی ڈاکٹری، پریکٹسنی حکیمی، بتانے ٹوٹکے اور کرنی صرف ٹویٹریاں اور فیس بکیاں
آر ٹی ڈارلنگ: پچاس ہزار ٹویٹس، انچاس ہزار نو سو آر ٹیز (آپ کو آر ٹی اور ریٹویٹ کا فرق تو پتہ ہو گا نا؟)
بورڈ آف پیار محبت ایجوکیشن: ان سے آپ کو (سچے) پیار اور (ناکام) محبت والے اشعار اور اقوال رٹا مارنے کے لئے ملیں گے
ایچ ای سی (ہائیر عشق محبت اپناپن کمیشن): یہ آپ کی محبت کا سچا اور کھرا ہونا ویریفائی کر کے سرٹیفکیٹیں گے۔ ناکامی کی صورت میں اپنی لکھی گئی درسی گائیڈ ٹو پیار محبت، یونیورسل ٹیسٹ پیپر آف جوانی دیوانی اور عشقیہ سپر ون خلاصوں کے ساتھ ہوم ٹیوشن کی خدمات بھی فراہم کریں گے
فنون لطیفہ کے تھانیدار: نامور شعرا کے کلام اور گوَئیوں کی سُر تال کی اصلاح اور سند دینے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے
تھڑکلاس کاپی پیسٹئے : نااہل لوگ جو نونہال اور تعلیم و تربیت سے لے کر خواتین ڈائجسٹ اور ماچس کی ڈبیوں پر لکھے تھڑکلاس و تھرڈ کلاس لطیفے تک کاپی پیسٹ کرتے رہتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کی سیف گارڈی دنیا کے ڈِرٹوز ہیں
جانُو سو سینٹی: ( janoo 100c( فالو کئے بغیر اسکو رپلائی کردیا تو بس ماں بھین تو نہیں پر باپ بھائی ضرور ایک کر دے گی۔ پبلک پروفائلیں رکھ کے پرائیویسی کے خواہشمند بے ضرر اور بیچارے لوگ
اصغری خالہ: یہ آپ کو بچی بچی نہ کرنے کا درس دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گی اور اپنے آپ کو شرافت کی مثال کے طور پر پیش کریں گی۔ نوٹ: خالہ ساری باتیں ہمیشہ پرائیویٹ چیٹ میں بے وقت تنگ اور بور (ان دو متضاد الفاظ کے اکٹھے استعمال پر کنفیوز مت ہوں ) کر کے کہیں گی
پاکستانی قوم: جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اللہ کے نام پہ کچھ کھلا دے بابا کی عملی ”تصویر“، میرے سے تھوڑے سے کم بھوکے
پپو جِن: نسلی بٹ نہیں لیکن انکی دیسی سانڈ جیسی صحت اور کھانوں کی تصویریں بتاتی ہیں کہ بٹ نہ ہونا باعث اعزاز سمجھتے ہیں، بصورت دیگر بھوکے بھی مر سکتے تھے
چکم چکائیے: سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے عقل کے اندھے جاہلین۔ یہ رکشے میں پیدا ہونے والے بچے کو نعمت خداوندی قرار دینے کے ساتھ ساتھ سہانے موسم کو بھی اپنے لیڈران کی دختران (مریم، شرمیلا ، بلاول، ۔۔۔) کی برکتوں سے محمول کرتے ہیں
خدائی خدمتگار: انکی باجی نصیرے قصائی کے ساتھ دوڑ کر بھی پاکیزہ رہتی ہے لیکن بدکردار وینا ملک کا حج بھی انکو پبلسٹی سٹنٹ لگتا ہے
مسلکی پوسٹر: رنڈی رونے ۔ انکی پوسٹیں جینوسائیڈ اور آنلائین فتووں کے درمیان گھومتی رہتی ہیں
کھوچل باجیاں: کوالٹی کی بجائے کوانٹٹی پر دھیان دینے والی زنانیاں، ان کی زندگی کا واحد مقصد اپنے ٹویٹوں کی گنتی کرنا ہے
نونہال: آپ انکو فالو، فیوریٹ، لائیک یا کمنٹ نہ کریں تو یہ منہ بسور لیتے ہیں، کبھی کبھی رونا بھی شروع کر دیتے ہیں
سپیم نہ کیا تو پھر کیا جیا: سب ٹویٹیوں کی یہ بگڑی ہوئی ذیلی قسم اپنی پرائیویٹ باتیں سرِعام کرنے کی عادی ہوتی ہے۔ مزید میں نی بتا سکتا یو شڈ نو وٹ آئی مین
زبیدہ آپا: آپکا کھانا جل جائے یا انڈروئیر ڈھیلا ہو جائے، پیٹ خراب ہو یا گٹر بند ہو جائے، جوتی ٹوٹ جائے یا جلدی میں کپڑے کہیں بھول آئیں، نو ٹینشن ایٹ آل۔ انکے تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔ ہر مسئلے کا حل دو گولی پرانی ڈسپرین کی عملی تصویر۔ ٹوٹکے کم چوہدرانہ مشورے زیادہ
مست ملنگ: اپنے کام سے کام۔ نہ کسی کی تین میں نہ کسی کے تیرہ میں۔ ویری فیو اینڈ ڈیسنٹ
ہم چلے دل جلے: آپ اپنا تعارف پتے خزاں کے ہیں
وکی سو سیڈ: آپ ان کی گرل فرینڈ کو فالو کر لیں یا انکے چھوکرے نما یار کو ان فالو، یہ فٹ آپ کو ان فالو کر دیں گے۔ ٹچی بائی نیچر اینڈ بِچی بائی ہیبٹس
سکینڈلویے: محلے کی اپنے گھر کے تھڑوں پہ بیٹھی اور ہر آتے جاتے کی سن گن لیتی بڈی مائیوں کی طرح انکا کام صرف دوسروں کے افئیرز بنانا اور مشہور کرنا ہوتا ہے۔ قرین قیاس یہی ہے کہ کوئی نہ ملے تو اپنی باجی کا افئیر ہی مشہور کر دیں گے۔
تجھے قسم ہے تیرے موبائل کی اگر تو نے نہ کمنٹا تو
لیکن پنگنا منع ھے
واقعہ پشاور نے بڑے بڑوں کے ایمان کو زلزلے کے جھٹکے کی طرح ھلا کر رکھ دیا ھے !
1- کیا اللہ نے ان بچوں کا نصیب یہ لکھا تھا ؟
2- کیا اللہ پاک ان قاتلوں کو روک نہین سکتا تھا ؟
3- کیا 99 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے کو احساس نہیں تھا کہ ماؤں پہ کیا قیامت گزر جائے گی ، اگر وہ سب کچھ کر سکتا ھے تو کچھ کیا کیوں نہیں ؟ اور یہ سب کچھ کیوں ھونے دیا ؟
4- اگر اللہ نہیں چاھتا تھا کہ ایسا ھو ،، تو پھر اس نے ھونے کیوں دیا ؟ اگر قاتلوں کا ارادہ رب کے ارادے پہ حاوی کیسے ھو گیا ؟
5- اگر رب ھی یہ چاھتا تھا کہ ایسا ھو تو پھر قاتلوں کا کیا قصور ھے انہوں نے تو خدا کے ارادے کو پورا کیا ھے ؟
یہ اور اس قسم کے مزید سوالات سے میرا ان باکس بھرا پڑا ھے ،،
جب بھی کوئی سانحہ ھوتا ھے یا کوئی وبا پھیلتی ھے یا کوئی قدرتی آفت آتی ھے تو یہی سارے سوال اٹھائے جاتے ھیں ،ملحدین اور دھریوں کی طرف سے بھی اور مخلص ایمان والون کی طرف سے بھی ،، مخلص مومن جنہیں ایمان باپ دادا سے وراثت میں ملا تھا ، انہوں نے جیسے کیسے اسے سوشل ویلیوز کے زور پر قائم رکھا ،،مگر یہ دھکا اسٹارٹ ایمان ھے ذرا سا حادثہ اس پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ھے ،کیونکہ اس کی بنیاد ھوا میں کھڑی ھے ،، ایمان کی دعوت دینے والوں کو خود ایمان کی حقیقت سے شناسا ھونے کی ضرورت ھے ،، تا کہ روز روز اس پہ سوال ھی نہ اٹھیں اور انسان مجسم نفس مطمئنۃ بن کر رھے ،، سید ابوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ کبھی آپ پر تشکیک کا دور بھی گزرا ھے ؟ آپ نے فرمایا کہ چند دن ایسے ضرور گزرے ھیں جب میں نے دروازہ بند کر کے ایمان کی مبادیات کا جائزہ ھر پہلو کو سامنے رکھ کر کیا ھے ،، کہ خدا کو نہ مانو تو انسان کس جگہ پہ جا کھڑا ھوتا ھے اور اگر خدا کو مانو تو انسان کی کس جگہ پہ کھڑا ھوتا ،، بس اس کے بعد الحمد للہ شک کبھی میرے پاس سے نہیں گزرا ،، انسان جب ایمان کی حقیقت کو پا لیتا ھے تو پھر وہ اس مقام پہ جا کھڑا ھوتا کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رھا ھے اور دیکھی ھوئی چیز کو کسی کی کوئی دلیل کوئی حادثہ شک میں تبدیل نہین کر سکتا ،، یہی احسان کی منزل ھے ،، ان تعبداللہ کأنک تراہ ،، پھر انسان کا ایمان کوہ ھمالیہ بن جاتا ھے ،، صبح پھانسی دی جانی ھے اور سید مودودیؒ خراٹوں کے ساتھ نیند پوری کر رھے ھیں ،،گویا کل رب سے اھم ملاقات سے پہلے نیند پوری ھو ،، کال کوٹھڑی کے پہریدار بھی اس عجیب قیدی کو دیکھ کر حیران تھے جو رونے دھونے کی بجائے چین کی نیند سو رھا تھا !
اللہ پاک نے ان سارے سوالوں کے جواب قرآن میں دیئے ھیں ،، اور ایک فلسفہ ایک حکمت بیان کی ھے جس پر اس ساری موت و حیات کا مدار رکھا ھے اور وہ حکمت یا اسکیم ھے امتحان کی !
یہ عرصہ کرنے کے لئے دیا گیا ھے ، بننے کے لئے دیا گیا ھے ،جس نے جہنمی بننا ھے اپنے عمل سے بن لے - جس نے جنتی بننا ھے اپنے عمل سے بن لے ، وہ نہ جبر سے جہنمی بناتا ھے اور نہ جبر سے جنتی بناتا ھے ،جہاں جبر داخل ھو امتحان ختم ھو جاتا ھے ، غلط لکھنے والے کو غلط لکھنے دینا امتحان ھے ، اور صحیح لکھنے والے کو صحیح لکھنے کا موقع دینا امتحان ھے ،، غلط لکھنے والے کو روک دیا تو امتحان کرپشن میں تبدیل ھو جاتا ھے،،
الذی خلق الموت والحیوٰۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً،، جس نے موت اور حیات کا سلسلہ ھی اس لئے شروع کیا کہ وہ تمہیں بلوئے ،، دھی بنے دودھ کی طرح بلوئے،،
ظاھر ھے اگر کسی نے ظلم کرنا ھے تو اسے ظلم کرنے دینا ھے تو پھر کوئی تو اس کے طلم کا نشانہ بنے گا ، اب جو اس کے ظلم کا نشانہ بن گیا وہ مظلوم ھو گیا ، اور ظالم کے لئے امتحان بن گیا، جس امتحان میں ظالم فیل ھو گیا ،،مگر کچومر تو مظلوم کا نکل گیا ، اس کا صلہ مظلوم کو ضرور دیا جائے گا ،، قرآن نے صحابہ کی اور سابقہ انبیاء کی امتوں کی دعائیں بیان کی ھیں،، ربنا لا تجعلنا فتنۃً للقوم الظالمین ،، ربنا لا تجعلنا فتنۃً للقوم الکافرین ،، اے ھمارے پروردگار ھمیں ظالموں کو ظالم ثابت کرنے کے لئے بطور کسوٹی یا بطور آلہ امتحان استعمال نہ فرما ،، اے پروردگار کافروں کے کفر کو عملاً ثابت کرنے کے لئے ھمیں کسی امتحان میں نہ ڈال ،،
ا
ایک مرد کے مادہ منویہ میں ملینز کے حساب سے انسانی جرثومے ھوتے ھیں اور ان میں سے اکثر انسان بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ھیں ،، رب ان میں سے ایک کو انسان بنانے کے لئے چن لیتا ھے اور باقی کو مر جانے دیتا ھے ، اگر ان Millions میں سے ایک جرثومے کا انتخاب انسان پر چھوڑ دیا جائے تو وہ انسان کس عذاب میں مبتلا ھو جائے جو دو جڑواں بچوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے وقت عذاب میں مبتلا ھو جاتا ھے کہ کس کو جینے کے لئے منتخب کرے اور کسے مر جانے دے کیونکہ ڈاکٹرز کے بقول دو جڑے ھوئے بچوں یا بچی میں سے کسی ایک کو ھی بچایا جا سکتا ھے کیونکہ دماغ ایک ھے ،، آخر تنگ آ کر والدین معاملہ ڈاکٹر پہ چھوڑ دیتے ھیں تا کہ کل ان کا ضمیر ان کو تنگ نہ کرے !
اللہ پاک جذباتی فیصلے نہیں کرتا ، اس کی اپنی ایک سنت ھے اور اس سنت میں وہ کبھی تبدیلی نہیں کرتا نہ اسے زگ زیگ صورت اختیار کرنے دیتا ھے - وہ چاھتا تو شمر کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی گردن نہ کاٹنے دیتا ، حضرت یحی علیہ السلام کا سر کاٹ کر ایک ناچنے والی کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا ،،حضرت زکریا علیہ السلام کو آرے سے چیرا گیا اور ایک دن میں کئ سو انبیاء کو شہید کیا گیا ،، یہ دنیا دارالبلاء اور مقامِ ابتلاء ھے ،، جس نے جھنم کمانی ھے یہیں سے کمانی ھے اور جس نے جنت جانا ھے اس کا سامان بھی یہیں سے کرنا ھے ،، جو ایمان لانا چاھتا ھے اس کے ایمان میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی جو کفر کی راہ اختیار کرنا چاھتا ھے اس کو بھی موقع دیا جاتا ھے !
ایک بات پلے باندھ لیں زندگی میں بڑی کام آئے گی ! لا یکلف اللہ نفساً الۜا وسعھا ،، اللہ کسی پر بھی امتحان اس کی استطاعت یا وسعت سے زیادہ نہیں ڈالتا ،، موسی علیہ السلام کی ماں سے بیٹا اگر دریا میں ڈلوایا ھے تو پہلے دل پہ ہاتھ رکھا ھے ،، امتحان والدین کا ھے تو یقین جانیں میرے رب نے ان کے دل پہ ھاتھ رکھا ھوا ھے ،، انہیں سنبھالے ھوئے ھے ،ھم اپنے حال سے ان کا حال ملٹی پلائی کر کے دیکھتے ھیں تو کلیجہ پانی ھوتا ھے مگر ھم رب کے ھاتھ کو بھول جاتے ھیں ، وہ ھمارے دلوں پہ نہیں رکھا گیا ،، وہ والدین کے دلوں پہ یقیناً رکھا ھوا ھے ،،
میرے دو بھائی 18- سال 22 سال کی عمر کے صرف پندرہ منٹ سے بھی کم وقفے میں قتل کر دیئے گئے ،، بارہ بور رائفل کے دو قسم کے کارتوس ھوتے ھیں سفید کارتوس جس سے شیر کا شکار کیا جاتا ھے وہ استعمال کیئے گئے تھے ، جمعے والے دن ایک کو مسجد کی محراب کے پاس اور دوسرے کو گھر پہنچ کر جمعے کے لئے نکلتے وقت مین گیٹ پہ والدہ کے سامنے مار کر انتڑیاں نکال دی تھیں، میں جمعے کا خطبہ دے رھا تھا اور پہلا خطبہ دے کر وقفے کے لئے بیٹھا تھا کہ گھر والوں نے محراب کا دروازہ بجا کر اطلاع دی ،بیساختہ میرے منہ سے الحمد للہ نکلا ،، گلِے شکوے کے وقت اللہ کی تعریف منہ سے نکلے تو شیطان کے منہ پر تھپڑ لگتا ھے ،، الحمد للہ ،،، اس الحمد للہ کا مقام میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ھے کہ بیان نہیں کر سکتا ،،
جن بچوں کے والدین اور ان بچوں پہ قیامت گزری ھے اسے سورہ الکہف میں نفس زکیہ کے واقعے سے سمجھ لیجئے ،، ان والدین کا خاص مقام ھے اللہ پاک کے یہاں ،، بعض مقام عبادت سے حاصل نہیں ھوتے اگرچہ وہ نبی کیوں نہ ھو ، وہ مصیبت سے حاصل ھوتے ھیں اور یہ بات انبیاء کے واقعات سے بخوبی عیاں ھے ، اگر یہ زندگی ھی آخری زندگی ھوتی تو کہا جس سکتا تھا کہ والدین نقصان میں رھے ،مگر یہ زندگی تو اس حقیقی زندگی کے ٹرائلز کا مرحلہ ھے کہ وہ کسے دی جائے اور کسے اس خلود کی زندگی سے محروم کر کے کچرہ جلانے کی جگہ پہ ڈال دیا جائے ،، ان بچوں کے والدین یقیناً اس ابدی اور حقیقی زندگی کے لئے منتخب کر لئے گئے ھیں ،، اور یہ بچے ان کا استقبال جنت کے دروازے پہ کریں گے ،، جبکہ قاتل اس زندگی سے محروم کر دیئے گئے ،ایسے شقی القلب لوگ رب کے پڑوس میں رھنے کے قابل نہیں ،،
پھر وہ لوگ جنہیں جھنم پہ اعتراض ھے اور سوال اٹھاتے ھیں کہ 99 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا جھنم میں کیسے ڈال سکتا ھے ؟ آج جہاں جہاں یہ مناظر پہنچے ھیں ان سے سروے کرا لو ،، ھر انسان کا دل و دماغ چیخ چیخ کر کہہ رھا ھے کہ ھاں کچھ لوگ ایسے ھیں کہ جن کے لئے جھنم کا ھونا بہت ضروری ھے ،جہاں جان کے بدلے جاں نہیں بلکہ کئ کئ قتل کرنے والا بار بار جیئے اور بار بار مرے تا کہ پورا بدلہ پائے ،، ان بچوں کی ماؤں سے پوچھو وہ تمہیں بتائیں گی کہ جھنم اللہ کی رحمت ھے مگر مظلوموں کے لئے ،، اللہ پاک نے سورہ زمر کے آخر میں فرمایا ھے کہ ،، فیصلے جب انصاف کے ساتھ ھو جائیں گے اور فرشتے اللہ کے عرش کا طواف کر رھے ھونگے تو ان فیصلوں پہ اعتراض کرنے کی بجائے ،الحمد للہ ، الحمد للہ کے ترانے پڑھے جا رھے ھونگے !

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers