1۔زمین سے سب سے نزدیک ستارہ سورج ہے جو زمین سے 93 ملین میل دور واقع ہے۔
2۔ مکھی ایک سیکنڈ میں 32 مرتبہ اپنے پر ہلاتی ہے
3۔ دنیا کے 26 ملک ایسے بھی ہیں جن کو سمندر نہیں لگتا
4۔ مثانے میں پتھری کو توڑنے کا خیال سب سے پہلے عرب طبیبوں کو آیا تھا
5۔ گھوڑا، بلی اور خرگوش کی سننے کی طاقت انسان سے زیادہ ہوتی ہے، یہ کمزور سے کمزور آواز سننے کے لیے اپنے کان ہلا سکتے ہیں
6۔ تیل کا سب سے پہلا کنواں پینسلوینیا امریکا میں 1859ء میں کھودا گیا تھا
7۔ کچھوا، مکھی اور سانپ بہرے ہوتے ہیں
8۔ تاریخ میں القدس شہر پر چوبیس مرتبہ قبضہ کیا گیا
9۔ دنیا کا سب سے بڑا پارک کنیڈا میں ہے
10۔ ہٹلر برلن کا نام بدل کر جرمینیا رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا
11۔ نظامِ شمسی کے تمام سیارے اپنے گرد مغرب سے مشرق کی سمت چکر کھاتے ہیں سوائے زہرہ کے جو مشرق سے مغرب کی سمت چکر کھاتا ہے
12۔ دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑ سوئٹزر لینڈ میں پائے جاتے ہیں
13۔دنیا کے سب سے کم عمر والدین کی عمر 8 اور 9 سال تھی، جو کہ 1910ء میں اتنی کم عمر میں والدین بنے اور جن کا تعلق چین سے تھا
14۔تمام پھلوں اور سبزیوں کی نسبت تیز مرچ میں وٹامن سی کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے
15۔ فرعونوں کے زمانے کے مصر میں ہفتہ 10 دن کا ہوتا تھا
16۔تتلی کی چکھنے کی حس اس کے پچھلے پاؤں میں ہوتی ہے
17۔ دنیا کی سب سے طویل جنگ فرانس اور برطانیہ کے درمیان ہوئی تھی، یہ جنگ 1338ء کو شروع ہوئی تھی اور 1453 کو ختم ہوئی تھی، یعنی یہ 115 سال جاری رہی تھی
18۔ قطبِ شمالی کے آسمان سے سال کے 186 دن تک سورج مکمل طور پر غائب رہتا ہے
19۔ سائنس دانوں کے مطابق ٹھنڈا پانی گرم پانی سے کچھ زیادہ ہلکا ہوتا ہے
20۔ دنیا کے ہر شخص کی اوسط فون کالز کی تعداد 1140 ہے
21۔ وہیل اور کوے کی اوسط عمر 500 سال تک ہوتی ہے
22۔ فرانس کے اٹھارہ بادشاہوں کا نام لوئیس تھا
23۔دنیا میں سب سے پہلا گھر کعبہ کو کہا جاتا ہے جس کو اول طور پر فرشتوں نے تعمیر کیا۔
24۔ ربڑ کے زیادہ تر درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پائے جاتے ہیں
25۔ اگر موٹے گلاس میں گرم مشروب ڈال دیا جائے تو پتلے گلاس کی نسبت اس کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں
26۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں 300 ہڈیاں ہوتی ہیں جو بالغ ہونے تک صرف 206 رہ جاتی ہیں
27۔ اٹھارویں صدی میں کیچپ بطور دواء استعمال ہوتا تھا
28۔ دنیا کا سب سے غریب ملک روانڈا ہے
29۔کھانسنے اور چھینکنے پر جسم سے ہوا آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے نکلتی ہے
30۔ سمندر کی زیادہ سے زیادہ گہرائی تقریبا11 کلومیڑ (10923میڑ ) ریکارڈ کی گئی ہے۔
31۔ فرانس کے شہر پیرس میں کتوں کا سب سے بڑا قبرستان ایمنی ریس ہے جس میں چالیس ہزار سے زائد کتے دفن ہیں۔
32۔ بھارت کی ریاست پرتاب گڑھ کے ہندو مہاراجہ نے ایک جنگ میں ریاست گروارا کے ہندو راجہ کو شکست دینے کے بعد وہاں کی رعایا کو ذلیل کرنے کے لیے ایک گیدڑ کو تاج پہنا کر بارہ برس تک ریاست گروارا کا راجہ بنائے رکھا۔
33۔ شمالی امریکہ میں سانپ کی ایک ایسی قسم پائی جاتی ہے جسے شیشے کا سانپ کہتے ہیں اس کو پکڑنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ اس کو جیسے ہی چھوا جائے تو یہ اپنے آپ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ہلاک ہو جاتا ہے۔
34۔ آسٹریلیا کے بعض علاقوں میں ایسے بکرے پائے جاتے ہیں جو مچھلیاں کھاتے ہیں اور درختوں پر بھی چڑھ جاتے ہیں۔
35۔ دنیا کی سب سے بڑی چھپکلی کا نام مورڈریگون ہے اس کی لمبائی ساڑھے تین میٹر ہے یہ انڈونیشیا میں ہے اس کا وزن 135 کلو گرام ہے اور یہ زمین پر دوڑتی ہے۔
36۔ برازیل میں ایسے مینڈک پائے جاتے ہیں جن کی آنکھوں کے اوپر چھوٹے چھوٹے سینگ ہوتے ہیں اور وہ کتوں کی طرح بھونکتے ہیں اور اگر گھوڑے کو کاٹ لیں تو وہ مر جاتا ہے۔
37۔ جنوبی امریکہ میں ایک ایسی نسل کا بندر پایا ہےجس کے جسم کی لمبائی تقریباً ساڑھے پانچ انچ ہوتی ہے اس نسل کے بالغ بندروں کا وزن۔ عام طور پر تقریباً دو سو پچاس گرام ہوتا ہے یہ بندر درختوں پر رہتے ہیں کیڑے مکوڑے یا درختوں کے پھل کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔
38۔ لوبسٹر ایک کیڑے کا نام ہے اسے حیرت انگیز کیڑا بھی کہتے ہیں اس کی دو آنکھیں ہوتی ہیں اور ہر آنکھ میں تیرہ ہزار عدسے اور تیرہ ہزار اعصابی ریشے ہوتے ہیں اگر لو بسٹر کی آنکھ ضائع بھی ہوجائے تو یہ آنکھ نئے سرے سے پھر پیدا ہو جاتی ہے بالکل پہلے والی آنکھ کی خاصیت کے ساتھ۔
39۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ تمام پرندے اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں لیکن آپ یقین کیجئے کہ ایک ایسا پرندہ بھی ہے جو نہیں بولتا اسے آپ گونگا پرندہ کہہ سکتے ہیں اس پرندے کا نام سارس ہے۔
40۔دنیا میں سب سے پہلے ٹی وی کا کامیاب تجربہ 1925ء میں ہوا۔
41۔ الو واحد ایسا پرندہ ہے جو اپنی اوپری پلک چھپکاتا ہے۔ باقی سارے پرندے اپنی نچلی پلک جھپکاتے ہیں۔
42۔ چمگادڑ کی ایک ایسی خونخوار قسم بھی پائی جاتی ہے جو سوئے ہوئے جانور کے جسم میں سوراخ کرکے اس کا خون چوس لیتی ہے اور اس جانور کو خبر بھی نہیں ہوتی۔
43۔ انسانوں کے برعکس بھیڑ کے چار معدہ ہوتے ہیں اور ہر معدہ انہیں خوراک ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔
44۔ پینگوئن اپنی زندگی کا آدھا حصہ پانی میں گزارتے ہیں اور آدھا زمین (خشکی) پر۔
45۔ دنیا میں سب سے بڑا انڈہ شارک دیتی ہے۔
46۔ سائنس دانوں کے مطابق سورج کا زمین سے اوسط فاصلہ تقریباًً 14,95,98,000 کلومیٹر یا 9,29,55,807 میل ہے اور اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔
47۔ Rafflesia Arnoldi، دنیا میں سب سے بڑا پھول ہے جِس کا وزن7 کلو (15 پاؤنڈ) ہوتا ہے اور یہ صرف انڈونیشیا کے سماٹرا اور بورنیو جزیرے پایا جاتا ہے۔ اس کی پنکھڑیاں 1.6 فُٹ (1 میٹر) طویل اور 1 انچ (2.5 سینٹی میٹر) تک موٹی ہوتی ہیں۔
48۔ ایک ہیرا زمین پر سب سے زیادہ سخت معدنیات، کورنڈم جس سے یاقوت اور نیلم بنتے ہیں،سے 58 گُنا زیادہ سخت ہے۔یہ پندرہویں صدی کی بات ہے جب یہ پتہ چلا کہ ہیرے کو کاٹنے کا واحد طریقہ ،ہیرے کو دوسرے ہیرے کے ساتھ ہی کاٹا جا سکتا ہے
49۔ دنیا کا سب سے بڑا شہاب ثاقب 1920ء میں نمبیا افریکہ میں گرا تھا۔ جو آج تک موجود ہے جس کے وزن کا اندازہ ساٹھ ہزار کلوگرام لگایا گیا ہے۔
50۔ پہلے یہ سوچا جاتا تھا کہ قوسِ قزاح یادھنک کبھی رات کو نظرنہیں آتی. کیونکہ یہ سورج کی روشنی سے وجود میں آتی ہے۔ لیکن اب تحقیق سے معلوم ہو ا ہے ک یہ رات میں بھی نظر آتی ہیں ، اور انہیں چاند یا قمری قوسِ قزاح کے طور پر جانا جاتا ہے۔ایک
چاندیا قمری قوسِ قزاح دیکھنے کے لئے کئی حالات موافق ہونا ضروری ہے۔
حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''بےشک اللہ عزوجل اپنے بندوں میں سے ان کو زیادہ پسند فرماتا ہے جو مخلص ، پر ہیز گار اور گمنام ہوتے ہیں ، جن کے چہرے گرد آلود ، بھوک کی وجہ سے پیٹ کمر سے ملے ہوئے ، اور بال بکھرے ہوئے ہوں ، اگر وہ امراء کے پاس جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہ ملے ، اگر کسی محفل میں موجود نہ ہوں تو کوئی ان کے متعلق سوال نہ کرے ، اوراگر موجود ہوں تو کوئی انہیں اہمیت نہ دے ، اگر وہ کسی سے ملاقات کریں تو لوگ ان کی ملاقات سے خوش نہ ہوں ، اگر وہ بیمار ہوجائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے ، اور جب مرجائیں تو لوگ ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوں ۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ایسے لو گوں سے ہماری ملاقات کیسے ہوسکتی ہے ؟ تفصیل سے پڑھئے
خواتین پر تشدد کا بل پاس کیا ہوا ہر طرف ہی تھرتھلی مچ گئی ہے اگر اس کو وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو یہ ایک بہت اچھا بل ہے اس کے بہت فائدے ہیں مثال کے طور پر اس بل میں ہے کہ ۔۔۔
۔
خواتین ہراساں کرنے والوں یا پھر جسمانی تشدد کرنے والوں کے خلاف عدالت سے پروٹیکشن آرڈر لے سکیں گی
۔
یہاں پر صرف اپنے شوہر ہی نہیں بلکہ اپنے محلے والوں اپنے خاندان والوں یا کسی کی طرف سے ہراساں کرنے والوں کے خلاف پروٹیکشن لی جاسکے گی اسلام نے کبھی بھی عورت پر تشدد کا حکم نہیں دیا بعض اوقات غصہ میں ہاتھ اٹھ جاتا ہے لیکن جن مردوں کی عادت ہی ہاتھ اٹھانا ہو ان کیلئے ایسے قانون کی بہت ضرورت تھی، اس بل میں یہ بھی لکھا ہے کہ عدالت ان افراد کو جن سے خواتین کو تشدد کا خطرہ ہو، پابند کرے گی کہ وہ خاتون سے ایک خاص فاصلے پر رہیں یہاں یہ ضروری نہیں کہ صرف شوہر ہی ہوگا ، اور اگر شوہر بھی ظالم ہو تو اسے بھی بیوی سے دور رکھنے کی سزا دینا کوئی بری بات نہیں، اسلام نے تو صاف کہہ دیا کہ سب سے اچھا مرد وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اس بل میں لکھا ہے کہ -------------تفصیل سے پڑھئے
اندرا گاندھی کے شوہر فیروز خان مسلمان تھے یا پارسی؟
نہرو اور گاندھی کا پھیلایا ہوا گورکھ دھندا!
ہندوستان کا وزیر اعظم بنے کے لئے جواہر لال نہرو کی الجھائ گئی گتھی جو آج تک نہ سلجھ سکی!
نہرو خاندان کے ذاتی کردار بڑے رومانوی قسم کے ہیں۔ خود جواہر لالنہرو کا کدار کسی پلے بوائے سے کم نہیں اور بے شمار خواتین کے ساتھ ان کے تعلقات رہے۔ جن کی ایک طویل داستان ہے لیکن فیروز خان کا جواہر لال نہرو کی بیٹی سے معاشقہ اور شادی ایک ایسی داستان ہے کہ جس کو ہمیشہ دبیز پردوں میں چھپایا گیا۔ وہ فیروزگاندھی جن کا ایک بیٹا ملک کا وزیراعظم ہوا، بیوی وزیراعظم ہوئی اور سسر بھی ملک کے اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہے۔ ساتھ ہی ان کی اولاد کے ہاتھوں میں اب بھی ملک کے اقتدار کی چابی ہے۔ ان کا خاندان آزاد بھارت کا شاہی خاندان سمجھا جاتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
مونچھوں کے جہاں کافی فائدے ہیں وہاں نقصانات بھی ہیں. پہلے ہم فوائد کی بات کریں گے تاکہ بغیر مونچھوں کے لڑکوں کو مرد بننے کی تحریک مل سکے اور پھر نقصانات کا ذکر خیر کریں گے تاکہ مونچھوں والے مردوں کو مونچھیں مونڈھوانے میں آسانی رہیں.
1. مونچھیں رکھنے سے آپ مرد لگو گے مگر یہ مردانگی زیادہ تر چہرے تک محدود ہوتی ہے باقی کی گارنٹی نہیں ہے.
2. بہترین رعب جھاڑ سکتے ہو اگر صبح صبح بیگم سے مونچھیں نیچے نہ کروالی ہو.
3. پولیس والے آپکو کھبی ہاتھ نہیں دینگے کیونکہ آپکو اپنے ہی قبیلے کا سمجھیں گے
4. بروقت ضرورت آپ "مچھ نہیں تے کج نہیں"کہہ کر دوستوں کو چڑا سکتے ہیں
5. آپ انگلیاں صاف کرنے کو کچھ نہیں پاس تو مونچھوں سے صاف بھی کر سکتے ہیں
6. ناک میں مکھیاں نہیں گھس سکتی
نقصانات
1. بڑی مونچھیں بیگم کے سامنے ہمشہ جھک جاتی ہے بھلے آپ نے سانڈے کا تیل ہی کیوں نہ لگایا ہو
2. رشتہ داروں اور بچوں کی توقعات بڑھ جاتی ھیں
3. کتنی ہی حسین زوجہ کیوں نہ ہو منہ لگانے سے گریز کرتی ہے گر لگا بھی لے تو تبرکاً لگالیتی ہے
4. مکھیوں کا بڑا جھنجھٹ ہوجاتا ہے جب آپ کسی کے شادی کی تقریب میں نوکیں بنانے کے لئے جلیبی کے تیل کی لیپ کر لیں.
5. آپکی عزت جانے کا بھی احتمال ہوتا ہے جب آپ نوک بنانے کیلئے اپنی ھی تھوک کا استعمال کرلیں اور ساتھ میں بیٹھا کوئی بندہ دیکھ لیں
6. کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مونچھیں بہت پیاری پالی ہوئی ہیں کاش منہ پر رکھ لیتے.
اب فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے
مشورا۔۔۔
فائدے بهی متاثر کن ہیں اور نقصانات بهی متاثر کن ..... لہذا دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک طرف کی منڈوا لینی چاہیے اور ایک طرف کی بڑها لینی چاہئے .
اقبال اپنی ملت کو اقوامِ مغرب سے بالاتر سمجھتے تھے-علامہ اقبال اور رابندر ناتھ ٹیگور ہندوستان کے دو عظیم ہم عصر شاعر تھے جن کا کلام ایک ہی زمانے میں مشہور ہوا۔شاعری کی حدود سے نکل کر سیاسی اور سماجی میدان میں بھی دونوں شخصیات بیسویں صدی کے اوائل میں ایک ساتھ نمودار ہوئیں لیکن یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمر بھر دونوں کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔علامہ اقبال کے مداحوں کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا ہے کہ ہندوستان کے اوّلین نوبیل انعام کا اعزاز اقبال کی بجائے ٹیگور کو حاصل ہوا۔ شاید اس ’زیادتی‘ کی تلافی ہو جاتی اگر بعد کے برسوں میں اقبال کو بھی اس انعام کا مستحق قرار دے دیا جاتا لیکن 1913 سے 1938 تک کے 25 برسوں میں ایک بار بھی نوبیل کمیٹی کی توجہ اقبال پر مرکوز نہ ہو سکی۔   تفصیل سے پڑھئے
چرس کیا ہے؟ چرس کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟ چرس سے کیسے چھٹکارا پایا جائے؟
چرس اور ذہنی صحت
Cannabis and mental health
اس کتابچے کے متعلق
چرس استعمال کرنے والے بہت سے لوگ اسے ایک ایسی بے ضرر شے سمجھتے ہیں جو پرسکون رہنے میں مدد دیتی ہے، ایک ایسی نشہ آور شے جو شراب اور سگریٹ کے برعکس جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے اچھی ثابت ہوسکتی ہے۔اس کے برعکس حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایسے افراد جو جینیاتی طور پر خطرے سے دوچار ہوں ان میں یہ کسی نفسیاتی بیماری کا اہم سبب بن سکتی ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
اکثر بلکہ عام خیال یہی ہے کہ قران مجید میں کشش ثقل، نظریہ اضافیت ، بگ بینگ تھیوری اور بلیک ہولز کا ذکر نہیں۔ لیکن اگر ہم کو ان سب کا علم اور واقفیت ہوگی تب ہی ہم جانیں گے کہ بلیک ہولز اور نظریہ اضافت و کشش ثقل کی لہریں کیا ہوتی ہیں۔ اس پوسٹ میں صرف قران پاک کی آیات سے بلیک ہولز کا وجود ثابت کیا گیا ہے۔
سیاہ شگاف (Black hole)
ستارے کی زِندگی کے دوران اُسے جن مراحل سے سابقہ پڑتا ہے اُن میں سب سے پراَسرار سیاہ شگاف (black hole) ہے۔ سیاہ شگاف اِتنی بے پناہ کشش کے حامل ہوتے ہیں کہ روشنی سمیت کوئی شے اُن کی کشش سے بچ نہیں پاتی۔ عام ستاروں کو ہم اِس لئے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ روشنی کا اِخراج کرتے ہیں اور ’بلیک ہول‘ سے روشنی کے ہماری سمت نہ آ سکنے کی وجہ سے وہ ہماری نظروں سے مستقلاً اوجھل ہوتے ہیں۔ اِسی لئے اُنہیں ’سیاہ شگاف‘ (black hole) کا نام دیا گیا ہے۔ اِس وقت ہماری کائنات کا کافی زیادہ مادّہ پہلے سے اُن سیاہ شگافوں میں کھو چکا ہے۔
’بلیک ہول‘ بڑے ستاروں کی زِندگی کے خاتمے پر روشن سپرنووا کے پھٹنے کی صورت میں رُونما ہوتے ہیں۔ ایسے ستاروں کا کثیف مرکزہ (dense core) دھماکے کے بعد اپنی ہی کششِ ثقل کے باعث اندرونی اِنہدام کو جاری رکھتا ہے تآنکہ وہ سیاہ شگاف کی صورت میں فنا ہو جاتا ہے اور پھر روشنی بھی اُس سے بچ کر نہیں نکل سکتی۔ عظیم سائنسدان ’سٹیفن ہاکنگ‘ کے مطابق کچھ ماہرینِ تخلیقیات (cosmologists) کا خیال ہے کہ سیاہ شگاف عظیم منہ بند سوراخ کی طرح اپنا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے ذریعے مادّہ ہماری کائنات سے کسی اور کائنات کی طرف جا نکلتا ہے۔ سیاہ شگاف فزکس کے قوانین پر عمل کرتے دِکھائی نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ اُنہیں سمجھنا نہایت دُشوار ہے۔
اوپن ہائمر (Oppenheimer) کی برس ہا برس کی تحقیقات سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ’’بلیک ہول کا مقناطیسی میدان کسی بھی مکان-زمان میں پائی جانے والی شعاعوں کا راستہ بدل دیتا ہے اور روشنی کی کرنیں سیاہ شگاف کے قریب آہستگی سے اندر کو مڑ جاتی ہیں‘‘۔ سورج گرھن کے دوران دُور واقع ستاروں کی طرف سے آنے والی روشنی کے جھکاؤ میں اِس اَمر کا بخوبی مُشاہدہ کیا گیا ہے۔ جوں جوں مرتا ہوا ستارہ سُکڑتا چلا جاتا ہے اُس کا مِقناطیسی میدان طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے اور روشنی کی مخروطی شکلیں مزید اندر کو جھکنے لگ جاتی ہیں، جس کے باعث روشنی کے لئے اُس سے فرار اِختیار کرنا دُشوار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک مرتا ہوا ستارہ اپنی اصل جسامت سے لاکھوں گنا چھوٹا ہو جاتا ہے مگر اُس کی کمیّت میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اِنتہائی طاقتور ہو جاتا ہیں اور اُس کی قوتِ کشش بے پناہ بڑھ جاتی ہے۔ آخرکار جب ستارہ اپنے کم سے کم ممکنہ رداس کی حد تک سکڑ جاتا ہے تو اُس کی سطح کے مِقناطیسی میدان میں اِتنی طاقت آ جاتی ہے کہ وہ روشنی کے فرار کے تمام راستے مسدُود کر دیتا ہے۔ نظریۂ اِضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق کوئی مادّی چیز روشنی سے تیز رفتار کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی۔ اِس لئے روشنی کے سیاہ شگاف سے نہ بچ سکنے کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی شے اُس سے نہیں بچ سکے گی اور اُس کا مِقناطیسی میدان اپنی زد میں آنے والی ہر شے کو اپنی جانب گھسیٹ لیتا ہے۔
ہم زمین پر رہتے ہوئے یہ خیال کرنے سے قاصر ہیں کہ ہم میں سے کوئی اِنسان سیاہ شگاف کے مُشاہدے کے لئے خلائی گاڑی کی مدد سے اُڑ کر اُس کے قریب جائے اور صحیح سلامت بچ کر واپس بھی آ جائے۔ یہی وہ مقام ہے جسے بلیک ہول کہتے ہیں اور یہ وہ مقام ہے جہاں اِس سے قبل کوئی بڑا ستارہ موجود تھا۔
قرآنِ مجید میں اللہ ربّ العزت نے مرے ہوئے ستارے کے اُس مقام کی اہمیت کے پیش نظر اُس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا :
فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِO وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌO
(الواقعه، 56 : 75 - 76)
پس میں ستاروں کے مقامات کی قسم کھاتا ہوںo اور اگر تم جان لو تو یہ بہت بڑی (چیز کی) قسم ہےo
ستاروں کے مقامات جو اُن کی موت کے بعد سیاہ شگافوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، سماوِی کائنات کے باب میں قواسرز (quasars) کے بعد سب سے زیادہ پُراسرار ہیں، کیونکہ وہ ایسے مقام ہیں جہاں سے روشنی سمیت کوئی شے فرار نہیں ہو سکتی اور اُن کی کیفیت و ماہیت فزکس کے قوانین کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے مسلمان قارئین کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاہ شگاف کسی دُوسری کائنات کو جانے والی گزرگاہ کا کام دیتے ہیں اور اُن میں گرنے والا مادّہ مکان-زمان کے کسی اور منطقے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ دُوسری کائنات کون سی ہے؟ اور کہاں ہے؟ اُس کی ماہیت کیا ہے؟ کیا بلیک ہول سے گزرے بغیر اُس کائنات تک پہنچا جا سکتا ہے؟ یہ اور اِن جیسے بے شمار سوالوں کا جواب فزکس کے موجودہ قوانین کی رُو سے محال ہے۔ اِسی لئے اللہ ربّ العزت نے ستاروں کے اُن مقامات ’سیاہ شگافوں‘ کی قسم کھاتے ہوئے اِرشاد فرمایا کہ اگر بنی نوع اِنسان کا شعور اِس قدر پختہ ہو کہ اُن بلیک ہولز کی حقیقت کو جان لے تب اُسے پتہ چلے گا کہ یہاں کتنی عظیم شے کی قسم کھائی جا رہی ہے۔ (بلیک ہولز کے بارے میں مزید مطالعہ کے لئے ’سیاہ شگاف کا نظریہ اور قرآنی صداقت‘ نامی باب کا مطالعہ کریں)
پولیس Police کا لفظ چھ حروف سے بنا ہے۔ جو کے چھ الفاظ کا مخفف ہے۔
Polite Obedient Loyal Intelligent Courageous And Encouraging
تو یہ چھ خصوصیات یعنی شائستہ۔ تا بعدار۔مخلص۔ ذہین۔جرات مند اور ہمت بڑھانے والا۔ یہ سب پولیس کی خصوصیات ہونی چاہیئں۔ ترقی یافتہ ممالک کی پولیس میں یہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں کیونکہ ان کو ٹریننگ دی جاتی ہے کہ آپ لوگ عوام کے تحفظ کے لئے وجود میں آئے ہو اور قانون سب کے لئے برابر ہے۔ چاہے کتنا ہی بڑا عہدے والا ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی ترقی کے پیچھے پولیس کی کارکردگی کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ جاپانی پولیس کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے قانون کی کس قدر پاسداری کرتے ہیں چاہے مقابلے میں ملک کا وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو۔ یہ واقعہ جاوید چودھری کے کالم کے کچھ حصہ سے لے رہا ہوں۔
-----------------------------
جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ مجھے یہ واقعہ ڈاکٹرشعیب سڈل نے سنایا،1992 ءمیں راولپنڈی میں پولیس کا عالمی سطح کا ایک سیمینار ہوا تھا، اس سیمینار میں شرکت کےلئے بیرون ملک سے بے شمار پولیس افسر پاکستان آئے۔ ان افسروں میں جاپان کا پولیس چیف بھی شامل تھا۔ سیمینار کے بعد ڈنر تھا، ڈنر میں راولپنڈی کے ڈی آئی جی اورجاپان کے پولیس چیف ایک میز پر بیٹھ گئے اور دونوں نے گفتگو شروع کردی، گفتگو کے دوران ڈی آئی جی نے جاپانی چیف سے پوچھا ”آپ لوگوں پر کبھی سیاسی دباؤ نہیں آتا؟“جاپانی پولیس چیف نے تھوڑی دیر سوچا اور اس کے بعد جواب دیا”صرف 1963ءمیں ایک بار آیاتھا“ ڈی آئی جی صاحب ہمہ تن گوش ہوگئے‘ چیف نے بتایا”1963ءمیں برطانیہ کے وزیر خارجہ جاپان کے دورے پر آئے تھے، وہ ایک دن کیلئے اوساکا شہر چلے گئے، دوسرے دن ان کی جاپانی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات تھی، انہوں نے اوساکا سے سیدھا پرائم منسٹر ہاؤس آناتھا، راستے میں ٹریفک جام ہوگئی، ان کے ساتھ موجود پروٹوکول افسروں نے ہمارے پولیس چیف سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی ، پولیس کسی خصوصی بندوبست کے ذریعے انہیں ٹوکیوپہنچادے، پروٹوکول افسروں کا کہناتھا برطانوی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات انتہائی ضروری ہے اگروہ انہیں وقت پر نہیں ملتے تو یہ ملاقات ملتوی ہوجائے گی کیونکہ ایک گھنٹے بعد وزیراعظم چین کے دورے پر روانہ ہوجائیں گے، پولیس چیف نے ان کی بات سن کر معذرت کرلی، اس کے بعد وزیراعظم نے بذات خود پولیس چیف سے درخواست کی لیکن پولیس چیف کا کہنا تھا” ہمارے پاس وی آئی پیز کو ٹریفک سے نکالنے کا کوئی بندوبست نہیں“ یوں یہ ملاقات منسوخ ہوگئی اس ملاقات کی منسوخی کی وجہ سے جاپان اور برطانیہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی“ جاپان کے پولیس چیف خاموش ہوگئے‘ ہمارے ڈی آئی جی نے شدت جذبات میں پہلو بدلا اور ان سے پوچھا”اس کے بعد کیا ہوا“ پولیس چیف مسکرائے”اس کے بعد کیا ہونا تھا، یہ خبر اخبارات میں شائع ہوگئی، لوگوں نے وزیراعظم کے رویے پر شدید احتجاج کیا اور وزیراعظم کو قوم اورپولیس دونوں سے معافی مانگنا پڑی“ ہمارے ڈی آئی جی کیلئے یہ انوکھی بات تھی چنانچہ انہوں نے حیرت سے پوچھا ”اگر پولیس چیف کے انکار سے وزیراعظم برامنا جاتے اور دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہوجاتی تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا“ پولیس چیف نے تھوڑی دیر سوچا اور اس کے بعد مسکرا کربولا” پہلی بات تو یہ ہے ہمارا وزیراعظم کبھی پولیس چیف کے ساتھ لڑائی نہ کرتالیکن بالفرض محال اگر دونوں میں جنگ چھڑ بھی جاتی تو اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا“ پولیس چیف سانس لینے کیلئے رکا اورسنجیدگی سے بولا” وزیراعظم کو استعفیٰ دیناپڑتا“ ہمارے ڈی آئی جی صاحب کا رنگ پیلا ہوگیا اور انہوںنے حیرت سے پوچھا”کیا جاپان میں پولیس چیف اتنا مضبوط ہوتا ہے ؟ “ جاپانی پولیس چیف نے مسکرا کرجواب دیا ”نہیں ہمارے ملک کا قانون، انصاف اور سلامتی کا نظام بہت مضبوط ہے۔ ہم نے عوام کی حفاظت کیلئے پولیس بنارکھی ہے، وی آئی پیز کوپروٹوکول دینے کیلئے نہیں لہٰذا جاپان کا ہرشخص جانتا ہے اگر وزیراعظم اور پولیس چیف میں لڑائی ہوگی تو اس میں وزیراعظم ہی کا قصور ہوگالہٰذا استعفیٰ بھی اسے ہی دینا پڑے گا۔“
میں نے پچھلے دس برسوں میں بے شمار سیاستدانوں، وزراءاور پولیس کے اعلیٰ افسروں کو یہ واقعہ سنایا اور اس کے بعد ان سے عرض کیا جب تک آپ لوگ پاکستان میں جاپان جیسی پولیس نہیں بناتے اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، مجھے اچھی طرح یاد ہے میاں نوازشریف سے لے کرآصف علی زرداری تک سب حکمرانوں نے اس واقعے کو سن کر متاثر ہوئے تھے اوراس کے بعد پاکستان میں جاپانی پولیس سسٹم کے نفاذ کا عز م کیا تھا لیکن عملی طور پر نوازشریف نے کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی آصف علی زرداری نے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
 
کلونجی انتہائ مفید دوا ہے اور بے شمار نسخوں میں استعمال ہوتی ہے. لیکن کیا کیجئے کے ظالموں نے اس مفید دوا کی جگہ بھی دو نمبر اشیا فروخت کرنا شروع کر دی ہیں جس کی وجہ سے نسخے یا دوا سے فائدہ نہیں ہوتا۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اس کا دانہ نیچے سے موٹا اور اوپر سے پتلا ہوتا ہے۔ تین کونے ہوتے ہیں، رنگ سیاہ ہوتا ہے اور بازار میں پیاز کے بیج کلونجی کے بجائے لوگ فروخت کرتے ہیں، دیکھ کر کلونجی خریدئیے۔سب سے اہم شناخت یہ ہے کہ کلونجی کے بیج کے تین کونے ہوتے ہیں جبکہ تخم پیاز کا سرا قدرے گول ہوتا ہے۔
پیاز کے تخم شکل میں تکونے سے ہوتے ہیں۔رنگت سیاہ اور مزہ تلخ ہوتا ہے۔بعض لوگ اس کو کلونجی سمجھ لیتے ہیں۔ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ کلونجی کا بیج چھوٹا ہلکا اور پھیکا ہوتا ہے۔جبکہ تخم پیاز موٹا وزنی اور تلخ ہوتا ہے۔
کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
آئن اسٹائن جرمنی میں پیداہوا۔اس کا والد ہرمین آئن اسٹائن ایک انجینئرتھا۔آئن اسٹائن ان کاخاندانی نام تھا۔ البرٹ ایک انتہائی عجیب بچہ تھا۔وہ اسکول میں اپنی انتظامیہ کے پاس جاکرانھیں سمجھاتاتھاکہ انکاتدریس کاطریقہ ٹھیک نہیں ہے اوروہ بچوں میں سوچنے کی صلاحیت پیدانھیں کر رہے۔نتیجہ میں اسے اسکول سے نکال دیاگیا۔سولہ سال کی عمرمیں اس نے زیورخ کی پولی ٹیکنیک کاامتحان دیا۔وہ تمام مضامین میں فیل ہوگیا۔مگرپرنسپل نے نتیجہ پڑھاتووہ حیران رہ گیا۔فزکس اور حساب میں اس کے نمبرسب سے زیادہ تھے۔اس نے البرٹ کوداخلہ دیدیا۔ابتدائی تعلیم کے بعددوسال تک آئن اسٹائن بے کاررہا۔اسے کسی جگہ بھی نوکری نہیں ملتی تھی۔  تفصیل سے پڑھئے
آج اپکو آئزک نیوٹن کے متعلق کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جن کو ان کی خدمات کے بعد "سر" کا لقب دیا گیا۔
آئزک نیوٹن 25 دسمبر 1642ء میں لنکن شائر انگلستان میں پیدا ہوا ۔اور 20 مارچ 1726ء میں فوت ہوا۔ یہ ایک انگریز طبیعیات دان، ریاضی دان، ماہر فلکیات، فلسفی اور کیمیادان تھے جن کا شمار تاریخ کی انتہائی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ 1687ء میں چھپنے والی ان کی کتاب قدرتی فلسفہ کے حسابی اصول ( Principia Mathematica) سائنس کی تاریخ کی اہم ترین کتاب مانی جاتی ہے جس میں کلاسیکی میکینکس کے اصولوں کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی کتاب میں نیوٹن نے کشش ثقل کا قانون اور اپنے تین قوانین حرکت بتائے۔ یہ قوانین اگلے تین سو سال تک طبیعیات کی بنیاد بنے رہے۔ نیوٹن نے ثابت کیا کہ زمین پر موجود اجسام اور سیارے اور ستارے ایک ہی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ اس نے اپنے قوانین حرکت اور کیپلر کے قوانین کے درمیان مماثلت ثابت کر کے کائنات میں زمین کی مرکزیت کے اعتقاد کو مکمل طور پر ختم کردیا اور سائنسی انقلاب کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔
نیوٹن ایک ذہین بچہ تھا مگر اسے مدرسہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جب وہ نوجوان تھا تو اس کی ماں نے اسے مدرسے سے اٹھوالیا تاکہ یہ ایک کامیاب کسان بن جائے مگر صرف ستائسی برس کی عمر میں اس نے سائنسی نظریات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ کسے معلوم تھا کہ اسکول جانے سے کترانے والا یہ لڑکا کل بڑا ہوکر ایک عظیم سائنس دان کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آئے گا۔
اس نے (ٹیلی اسکوپ) دوربین ایجاد کرکے علم فلکیات میں تہلکہ مچادیا اور یہی وہ عظیم سائنس دان تھا جس نے یہ بتایا کہ سفید روشنی دراصل قوس قزح کے تمام رنگوں کے ملاپ سے بنتی ہے۔ نیوٹن نے روشنی کے قوانین کی مدد سے روشنی منعکس کرنے والی پہلی دوربین کا نقشہ اور ڈھانچہ تیار کیا۔ خاص طریقے سے بنائی گئی یہ دوربین آج بھی بڑی فلکیاتی مشاہدوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ریاضیات میں اس کی بڑی کامیابی، علم الاحصاء(Calcalus) کی ایجاد ہے جو اس نے غالباً پچیس برس کی عمر میں ممکن بنالی تھی۔ اس کے علاوہ نیوٹن نے اشیاءکی حرکت کے تین قوانین بھی پیش کیے، جوآج بھی صحیح مانے جاتے ہیں۔ نیوٹن کے ان تین نظریات نے آئندہ کے لیے ہونے والی تحقیق میں بہت مدد دی جس کی وجہ سے کئی اور اہم دریافت منظر عام پر آئیں ۔اس کا سب سے عظیم کارنامہ کشش ثقل کی دریافت تھا۔ اس کی دریافت بھی بڑی دلچسپ تھی۔ بعض کتب میں لکھا ہے کہ نیوٹن کو سکول سے کچھ خاص رغبت نہ تھی۔ بلکہ اس کا ذہن کچھ اور ہی تخلیقی دنیا میں کھویا رہتاتھا۔ ایک دن وہ سکول سے بھاگ کر ایک باغ میں سیب کے درخت کے نیچےجا بیٹھا۔ درخت سے سیب اس کے سر پر گرا۔ اس نے سوچا کہ یہ سیب آخرنیچے ہی کیوں گرا اوپر کیوں نہیں گیا۔ بلکہ ہرچیز نیچے ہی کیوں گرتی ہے۔ اس پر بعد میں اس نے مختلف تجربات کرنے کے بعد اپنا مشہور کششِ ثقل کا نظریہ پیش کیا جو آج تک قائم ہے۔ اس کے علاوہ نیوٹن نے سائنس و ریاضی کے اصولوں پر مشتمل کئی کتابیں بھی لکھیں جس سے آج بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
محبت کی داستان-جناح اور رتی کی محبت-رتی جناح کا آخری یادگار خط-محبوب بیوی کی قبر کو مٹی دینے والا جناح جیسا آہن مزاج بھی بلک بلک کر رو پڑا۔۔۔۔بھارتی اور مغربی مؤرخین اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قائداعظم نے رتی جناح کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔ وہ ان سے بے توجہی برتتے اور اپنی انا کے خول میں بند رہتے لیکن رتی جناح کا آخری خط سبھی غیرمسلم مؤرخین کے دلائل رد کرنے کو کافی ہے۔ اگرچہ قائد اور رتی کی داستان نشیب و فراز سے ضرور پُر ہے۔
رتی جناح قائد رحمت الله کی انتہائی محبوب ترین بیوی تھی.  تفصیل سے پڑھئے
اس کا بنایا گیا سونے کا سکہ امریکی فیڈرل ریزرو بینک ( FEDERAL RESERVE BANK ) کو چلانے والوں کی نیندیں حرام کرنے والا تھا ، اور دنیا کو جعلی کرنسی سے نجات دلا کر ایک پر امن اور انصاف پسند معاشرہ دینے والا تھا .
لیبیا اور کرنل قذافی کے بارے میں چند حقائق جو یہ مغربی میڈیا آپ کو کبھی نہیں بتائے گا .
1 : لیبیا میں بجلی مفت تھی ، پورے لیبیا میں کہی
ں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا تھا .
2 : سود پر قرض نہیں دیا جاتا ، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے .
3 : اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی .
4 : تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت میں فراہم کرتی تھی .
5 : پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل تھیں . قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں .
6 : کسانوں کو زرعی آلات ، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی .
7 : اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی .
8 : لیبیا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا ، تو حکومت اُس کو 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی .
9 : پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی .
10 : لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد ہے جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے .
11 : اگر کوئی باشندہ گریجوایشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہیں کر پا رہا ہوتا تو حکومت اسے اسکی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تاوقتیکہ اس باشندے کی ملازمت لگ جائے .
12 : ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع کروا دیا جاتا .
13 : ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے .
14 : قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیش نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے .
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکا نے سول آبادی پر اٹھائے جانے والے ’’ مظالم ‘‘ کی وجہ سے لیبیا پر حملہ کیا جبکہ کچھ لیبیا کے تیل کے ذخائر کو حملے کی وجہ گردانتے ہیں لیکن کچھ دور اندیش لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ صرف اور صرف قذافی کے سونے کے سکہ ( یا دوسرے لفظوں میں اصلی دولت کو متعارف کروانے ) کی وجہ سے کیا گیا تھا .
قذافی یہ بات جانتا تھا کہ اس کا یہ خیال اسکی تباہی کا باعث ہو گا ، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری . فوجی حملے کے چند مہینوں بعد بھی اس نے تمام افریقی اور مسلم ممالک کو دعوت دی کہ آئیں اور سونے یا چاندی کے سکوں پر مشتمل حقیقی دولت پر کاروبار کریں . اور خصوصا اپنا تیل ڈالرز کی بجائے سونے کے عوض فروخت کریں .
یہ وہ خیال تھا جو کہ دنیا کے معاشی توازن کو مغرب کی طرف سے ہٹا کر مسلم دنیا کے حق میں جھکا دیتا .
اور ایسا پہلے بھی ہو چکا تھا .
2000 کے آس پاس صدام حسین نے اعلان کیا کہ وہ اپنا تیل یورو ( EURO ) میں بیچے گا ، نہ کہ ڈالر میں . اور یہی وہ اصل وجہ تھی جس کی وجہ سے پاگل کتوں کی طرح عراق پر چڑھائی کر دی گئی اور صدام حسین کو پھانسی پر چڑھا کر ہی دم لیا گیا .
سونے کے سکوں یا دوسرے الفاظ میں حقیقی دولت کا تجارت میں استعمال ، یہ وہ چیز ہے جو کہ دنیا کے معاشی افق پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی طاقت رکھتا ہے ، اور نا صرف دنیا کے افق پر بلکہ اسکے علاوہ یہی وہ راستہ ہے جو کہ غریب افریقی ممالک سمیت غلام مسلم دنیا کو بھی معاشی طور پر مغرب سے آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہی وہ واحد وجہ ہے جو کہ ان مغربی خداوؤں کو کسی صورت منظور نہیں 
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پاکستان سپر لیگ کا اعلان ہوا تو ہم لاہوری ہونے کی حیثیت سے لاہور قلندر کی ٹیم کے حامی بن گئے۔ لیکن سو فیصد میچوں میں شکست کے بعد مسلسل بے عزتی کے ہاتھوں مجبور ہر کر ہم ٹیم کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ہم لاہور قلندر کی انتظامیہ کے ایک اہم رکن قلندر بٹ سے ملے جو ہمیں لے کر سیدھے ٹیم کے ڈریسنگ روم میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک طرف ڈھول کو گود میں رکھ کر عمر اکمل صاحب تشریف فرما تھا۔ ان کے پاس کرس گیل فرش پر ہی نیم دراز تھے۔ اظہر علی سبز لباس پہنے، عصا پکڑے، پگڑی باندھے، گم سم بیٹھے سوچ بچار میں مشغول تھے۔ اور ٹیم کے چند ارکان مالائیں پکڑے منکے گھما رہے تھے۔
ہم نے قلندر بٹ صاحب سے پوچھا: قلندر صاحب، آپ نے ٹیم کے لئے کرس گیل کا انتخاب کیوں کیا تھا؟
قلندر: دیکھیں جی، ہم نے سب سے پہلے تمام کرکٹروں کی تصویریں لیں، اور پیر پرچی شریف صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میچ کے نتائج پر پیر صاحب سے زیادہ کسی دوسرے کی نظر نہیں ہے۔ ان کی پیش گوئی مشکل سے ہی غلط ہوتی ہے۔ ان کی نظر کرم سے بے شمار لوگ لاکھوں میں تر گئے ہیں اور ان کو ناراض کرنے والے لاکھوں لٹا بیٹھے ہیں۔ تو انہوں نے تصویریں دیکھتے ہی کرس گیل پر انگلی رکھ دی اور کہا کہ یہ کالوں کے کسی قلندری سلسلے کا کوئی بڑا ملنگ لگتا ہے۔ اسے کوئی اور نہ لے جانے پائے۔
qalandarsہم: اچھا ان لاہوری قلندروں کو آپ نے دبئی میں ہی رکھا ہوا ہے یا لاہور بھی دکھایا ہے؟
قلندر: ان کو ٹیم میں بھرتی کرتے ہی ہم لاہور کے درباروں پر حاضری دلوانے لے گئے تھے۔ ایک دربار پر ٹیم کو عرس مبارک میں بھی شرکت کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ اب تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے کسی اور ٹیم کے لئے کھیلنا ہی نہیں۔ کرس گیل تو کہتا ہے کہ ملنگوں کی دھمال کے سامنے گنگنم سٹائل تو کچھ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہاں سے یہ یہ مالائیں بھی لے آئے ہیں اور ہرے چوغے بھی۔ بری مشکل سے انہیں راضی کیا ہے کہ ٹیم کا یونیفارم پہنیں، ورنہ یہ تو پورے ملنگ بن کر میچ کھیلنا چاہتے تھے۔ ان کا جذبہ دیکھ کر ٹیم کے پاکستانی لڑکے بھی مزید قلندر ہو گئے ہیں۔
ہم: اچھا یہ بتائیں کہ آپ کی ٹیم دونوں میچ کیوں ہاری ہے؟
قلندر: دیکھیں ایک تو شہباز شریف صاحب نے بھی کہا تھا کہ ہم پہلے ہی سارا بجٹ لاہور پر لگا رہے ہیں اور دوسرے لوگ اسے نظروں میں رکھے ہوئے ہیں۔ تو ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ ہمارے شہر کو نظر لگ جائے۔ اسی چکر میں انہوں نے کرس گیل کے ساتھ ڈوین براوو اور کیون کوپر کو بھی نظر بٹو کے طور پر رکھوایا ہے کہ شالا نظر نہ لگے۔
ہم: تو بس یہی وجہ ہے میچ ہارنے کی؟
قلندر: اصل میں عرس پر ہمارے قلندر، درباری ملنگوں کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ انہوں نے انہیں بھنگ، بھنگڑے اور دھمال پر لگا دیا ہے۔ اوپر سے گیل کی فرمائش پر میاں صاحب نے دو مٹکے بھنگ کی باداموں والی سردائی کے بھی بھجوا دیے ہیں۔ ایک پر تو اکیلے گیل نے ہی قبضہ کر لیا ہے، اور دوسرا باقی قلندروں کے ولولے میں اضافے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کا سائیڈ افیکٹ ہو گیا ہے۔ اب یہ میچ نہیں کھیلتے، بلکہ حال کھیلتے ہیں۔
dhols2ہم: گیل نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ دونوں میچوں میں ناکام رہا ہے۔
قلندر: تھک گیا ہے بچارہ۔ جب بھی دو گھڑی کو کمر سیدھی کرنے لیٹتا ہے تو یہ عمر اکمل ڈھول پر تھاپ لگا دیتا ہے۔ سارے قلندر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مست ہو کر ناچنے لگتے ہیں۔ یہ اکمل برادران کافی شریر ہیں۔ ہر وقت ہنگامہ چاہتے ہیں۔ پتہ نہیں کون کم بخت یہ ڈھول یہاں رکھ گیا ہے۔ مجھے تو یہ پشاور زلمی کے کپتان شاہد آفریدی کا ظلم لگتا ہے۔ اب ہم ڈھول کو چھوڑتے ہیں، لیکن ہمارے قلندر ڈھول کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہیں۔
ہم: یہ آپ کا کیمرون ڈیلپورٹ دونوں میچوں میں رن آؤٹ ہوا ہے۔ اس کی کیا کہانی ہے؟
قلندر: اس سے بڑی توقعات ہیں جی۔ یہ تو جی پاکستان کے سب سے بہترین بیٹسمین انضمام الحق سے بھی اچھا کھلاڑی نکل رہا ہے۔ انضی تو بس آدھے
میچوں میں رن آؤٹ ہوتا تھا، یہ ساروں میں ہوتا ہے۔
ہم: اسے کوچ نے کچھ سمجھایا بجھایا نہیں ہے؟
قلندر: کوچ کی سنتا کون ہے؟ یہ منحوس ڈھول ہمیں مروا رہا ہے۔ ڈیلپورٹ رن لینے کے لئے دوڑ لگاتا ہے تو سٹیڈیم میں کھڑے ڈھولچی اپنے ڈھول بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ وہیں پچ کے درمیان کھڑے ہو کر دھمال ڈالنے لگتا ہے اور دوسری ٹیم اسے رن آؤٹ کر دیتی ہے۔ یہ گورا پورا ملنگ ہے۔
ہم: ویسے ہم نے دیکھا ہے کہ یہ میچ والے ڈھولچی اپنے شاہد آفریدی کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ وہ بھی ان کا بڑا خیال کرتا ہے۔ آپ سے میچ جیت کر اس نے بڑے نوٹ وارے تھے ڈھولچیوں کے سر پر۔
قلندر: واقعی؟ اوئے یہ ڈھولچی کہیں آفریدی نے تو کھڑے نہیں کئے ہوئے ہیں ہمارے قلندر
خراب کرنے کو؟

یہ جان لیجئے کہ ویلنٹائن نے کبھی بھی بغیر شادی زنا کو جائز قرار نہیں دیا:
کیا سچ اور کیا جھوٹ؟
ویلنٹاین ڈے کے تہوار کے وجود میں آنے کے حوالے سے یہ روایت بھی مشہور ہے کہ جب رومن اپنے قدیم مذہب کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے لگے اور یہ مذہب تیزی سے پھیلنے لگا تو اس وقت کے رومن شہنشاہ کلاڈیوس دوئم نے تیسری صدی میں رومن نوجوانوں کی شادی پر پابندی عائد کردی کیونکہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد وہ جنگی مہمات میں شریک ہونے سے گریزاں ہونے لگے تھے۔سینٹ ویلنٹائن نے اس شاہی فرمان کی مخالفت کرتے ہوئے نوجوان جوڑوں کی خفیہ شادیوں کا اہتمام کرنا شروع کر دیا۔ جب شہنشاہ کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے سینٹ کو پھانسی کی غرض سے گرفتار کرکے جیل بھیج دیاجیل میں اسے جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی جو کہ خفیہ ہی رہی کیونکہ عیسائی قانون کے مطابق پادری ساری عمر شادی یا محبت نہیں کر سکتے۔۔
ہمارے یہاں عام لوگوں میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ویلنٹائن نے بغیر نکاح زنا کو جائز قرار دیا جو کہ سراسر ایک بہتان ہے۔ حقیقت اس کے قطعی برعکس ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
اب وہ دور کہاں رہا، سچے عاشق نظر ہی نہیں آتے۔ اب تو لڑکی لفٹ نہ کرائے تو عاشق اگلی کنڈی کھڑکا دیتاہے۔ مجھے یاد ہے جب ویلنٹائن ڈے نہیں ہوتا تھا تو عاشقوں کا ہر دن ویلنٹائن ہوتا تھا ، تب بھی پھول ہی محبت کی علامت تھا۔ تب بھی کتابوں میں ’سوکھے ہوئے پھول‘ ہی ملا کرتے تھے۔عشق کا اظہار عاشقوں کے لیے ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے۔ کئی عاشق تو اظہار میں اتنی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ لڑکی تنگ آکر خود ہی ان سے کہہ دیتی ہے’آپ کو مجھ سے محبت تو نہیں ہوگئی ‘ اور یہ درویش اتنے سادہ دل ہوتے ہیں کہ گھبرا کر کہہ دیتے ہیں’نن ۔۔۔نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں‘۔۔۔!!!  تفصیل سے پڑھئے
شائد ہی کوئی پھل یا جوس کی ایسی دکان ہو جہاں آپ کو گریپ فروٹ نہ دکھائی دیتا ہو۔اس کا حجم سنگترے سے بڑا اور رنگت سبز اور زرد مائل ہوتی ہے جبکہ ذائقہ کڑواہٹ ملی ترشی پر مبنی ہوتا ہے۔لوگ عموماً اس کی ترشی کی وجہ سے اسے کم سے کم استعمال کرتے ہیں بلکہ اکثر اسے دوسرے پھلوں کے رس میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کی ترشی یا کھٹاس کو کم کیا جاسکے۔تاہم بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے اسکو کھانے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے حالانکہ قدرت نے اس میں،لیموں،سنگترےاور دیگر سٹرس پھلوں جیسی خصوصیات بھی رکھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسے مختلف امراض کا بہترین علاج بھی تصوّر کیا جاتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
لاہور اچھرہ کے ذیلدار روڈ پر پرانے مکان میں کھڑی 1942 کی مرسیڈیز رینالٹ اور اس کے برابر دو قبریں کس کی ہیں؟
علامہ مشرقی-نوبل پرائز کے لئے نامزد ایک جینئیس جس کو ہماری قوم اور تاریخ دانوں نے فراموش کردیا۔
لاہور کےاچھرہ کی تنگ گلیوں سے گزر کر جب آپ ذیلدار روڈ پر پہنچیں گے تو ایک الگ تھلگ سیمنٹ کے پلاسٹ والا پرانا مکان نظر آئے گا۔ زنگ آلود گیٹ کھول کر اندر جائیں تو اب بھی ایک لکڑے کے بوسیدہ شوکیس میں آپ کو 1942 کی رینالٹ بینز کا ڈھانچہ نظر آئے گا۔ اس زنگ آلود گلتی سڑتی کار کے بالکل ساتھ ہی دو قبریں بھی ہیں- ایک علامہ عنایت اللہ مشرقی کی اور دوسری ان کی شریک حیات کی۔ تفصیل سے پڑھئے
دنیا میں لوگ اپنے مختلف شوق کے حوالے سے جانے جاتے ہیں لیکن امیر ترین افراد کے شوق بھی امیرانہ ہی ہوتے ہیں-جیسا کہ دنیا کے چند امیر ترین افراد کے مہنگے ترین پرتعیش کروز شپ رکھنا بھی ہے- ان کروز شپ کے بارے میں کئی ایسی باتیں ہیں جو عام افراد نہیں جانتے٬ آج دوستوں کو کروز شپ کے بارے چند ایسے ہی حقائق بتاتے ہیں جن سے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت ناواقف ہے-
1۔ مائیکرو سوفٹ کے شریک بانی پال ایلن ایسے حیرت انگیز کروز شپ کے مالک ہیں جس میں دو آبدوزیں بھی موجود ہیں- ان میں سے ایک آبدوز 10 افراد کے ساتھ مستقل 8 گھنٹے تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ دوسری کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے-

2۔مغربی ممالک میں تیار کیے جانے والے کروز شپ کلب وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ایشیائی ممالک کے تیار کردہ کروز شپ ایک کانفرنس روم ضرور تعمیر کیا جاتا ہے جہاں بزنس میٹنگ کا انعقاد کیا جاسکے-
3۔ اگر آپ اتنے امیر نہیں ہیں اپنا کروز شپ خرید سکیں تو آپ اسے کرائے پر بھی حاصل کر کے لطف اندوز ہوسکتے ہیں- جی ہاں اکثر کروز شپ کے مالک اپنے جہاز کے دیکھ بھال پر آنے والے بےشمار اخراجات کو اسی طرح پورا کرتے ہیں-
4۔ زیادہ تر کروز شپ پر مہمانوں کے لیے تفریح کے سامان بھی مہیا کیے جاتے ہیں جیسے کہ ڈائیونگ گئیر٬ چھوٹی کشتیاں جنہیں وہ سمندر میں اتار کر کروز شپ کے آس پاس ہی سفر کرتے ہیں٬ جیٹ اسکائیز٬ ہیلی کاپٹر اور ٹرامپولائنز وغیرہ-
5۔ زیادہ تر لگژری کروز شپ کے مالک مشرقِ وسطیٰ کے باشندے ہیں- ایک طویل مدت تک یہ اعزاز امریکی اور یورپی باشندوں کے پاس رہا ہے تاہم حال ہی مشرقِ وسطیٰ اس میں بازی لے گیا ہے- یہاں تک کہ دنیا کا سب سے بڑا کروز شپ بھی مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی ہی ایک امیر ترین شخصیت کی ملکیت ہے- اس وقت دنیا کے سب سے بڑے 200 کروز شپ میں سے ایک تہائی کے مالک مشرقِ وسطیٰ کے رہائشی ہیں-
6۔ زیادہ تر کروز شپ کا عملہ 24 گھنٹے کے لیے ملازم ہوتا ہے اور اپنی خدمات سرانجام دیتا رہتا ہے- اس عملے کی رہائش اور کام دونوں ہی کروز شپ پر ہوتے ہیں- یہ ایک فل ٹائم جاب ہوتی ہے- اس عملے کے لیے کروز شپ پر علیحدہ سے بیڈروم بھی موجود ہوتے ہیں-
7۔ دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ پرتعیش کروز شپ کے مالک دنیا بھر میں موجود ارب پتی افراد ہیں-
8۔ مائیکرو سوفٹ کے شریک بانی جس کروز شپ کے مالک ہیں اس کے سر ایک حیرت انگیز دریافت کا بھی سہرا ہے- اس کروز شپ نے رواں سال مارچ میں فلپائن کے ساحلوں سے ایک ایسے بحری جہاز کو دریافت کیا تھا جو کہ جنگِ عظیم دوئم کے دوران ڈوب گیا تھا-
9۔ جزیرہ نما تخلیق کیا جانے والا یہ کروز شپ برطانیہ کی ایک کمپنی کا کمال ہے- اس کروز شپ پر ایک چھوٹا سا مصنوعی نخلستان بھی تیار کیا گیا ہے- اس کروز شپ میں ایک سوئمنگ پول٬ مہمانوں کے لیے وی آئی پی کمرے٬ سنیما اور لائبریری بھی موجود ہے-
10۔ کروز شپ کے مالک اپنے جہاز کی مالیت کی 10 فیصد کے برابر کی رقم ہر سال جہاز کی بحالی اور مہنگی دیکھ بھال کے نام پر خرچ کر دیتے ہیں-
ایسی گلوکارہ کہ جس کہ کنسرٹ کہ وجہ سے قزافی کو انقلاب کی تاریخ آگے بڑھانا پڑی۔۔۔
اُمِ کلثوم کو 1975 میں اس کی عدم موجودگی میں اسرائیل کی عدالت نے سزاے موت سنائی ۔ یہ خبر پڑھنے والوں کے ذہین میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا اُمِ کلثوم کوئی مجاہدہ تھی جس نے کوئی جنگی یا چھاپہ مار کرروائی کر کے اسرائیل کو جانی یا مالی نقصان پہنچایا تھا لیکن یہ جان کر انہیں حیرت ہوئی ہو گئی کہ اُمِ کلثوم کا ایسی کسی سرگرمی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس نے شاید زندگی میں کوئی ہتھیار نہ چلایا اور نہ ہی کبھی کسی جنگی مہم میں حصہ لیا۔
اُمِ کلثوم مصر کی ایک گلوکارہ تھی جس کی آواز سن کر عرب مست ہو جایا کرتے تھے۔ وہ عرب دنیا کی ملکہ ترنم تھی۔ اس کے گائے ہوئے حریت پر مبنی نغموں نے عرب دنیا کے جذبات اس طرح بھڑکائے کہ اسرائیلی عدالت نے اُمِ کلثوم کی غیر حاضری میں اسے موت کی سزا سنا دی جو عربوں کی نظر میں اُمِ کلثوم کی تعریف کے برابر تھی۔
عربوں کو اُمِ کلثوم کی آواز سے کتنی محبت تھی اس کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ اُمِ کلثوم کی وجہ سے معمر قذافی نے اپنا فوجی انقلاب ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جس روز انقلاب کو عملی شکل دینے کے لئے مقرر کیاگیا تھا اس روزبیروت میں اُمِ کلثوم کا کنسرٹ تھا۔ عربوں کو اُمِ کلثوم کی آواز سے جو محبت وشیفتگی تھی اس کے پیش نظر خدشہ تھا کہ اُمِ کلثوم کے کنسرت کے روز لایا جانے والا انقلاب لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا چنانچہ انقلاب کی تاریخ ایک روز آگے کر دی گئی۔
اُمِ کلثوم 1904 کے لگ بھگ مصر کے ایک پسماندہ گاوٴں میں پیدا ہوئی جو دریائے نیل کے ڈیلٹا میں واقع تھا۔ اس کا گلا شروع سے نہایت ہی سریلا تھا۔ وہ ذرا بڑی ہوئی تو اس کے والدین نے اسے کپاس چننے کیلئے بھیجنا شروع کر دیا۔ وہ کپاس چنتے ہوئے گنگناتی تو لوگ مسحور ہو کر اس کی آواز سنتے۔ اس کے والد گاوٴں کی مسجد کے امام تھے اور جنگی نغمے گانے کے لئے مشہور تھے ۔ جب انہیں اُمِ کلثوم کی مدھر آواز سے آگاہی ہوئی تو انہوں نے خود اسے گانے کی تعلیم دینا شروع کر دی اور اسے اپنے ساتھ گانے کے لئے لے جانا شروع کردیا۔ اس طرح صرف دس سال کی عمر میں مقامی سطح پر اُمِ کلثوم خاصی مقبول ہو گئی۔
1923 میں اُمِ کلثوم اپنے خاندان والوں سمیت قاہرہ آگئی اور باقاعدہ طور پر گانا شروع کر دیا۔ محض پانچ سال کے مختصر عرصے میں اُمِ کلثوم مصر کی مشہور ترین گلوکارہ بن گئی۔ آئندہ آنے والے ادوار میں اس کی شہرت روز بروز بڑھتی رہی۔ پورے عالم عرب میں اسے دیومالائی شہرت حاصل ہو گئی۔ اس نے محض عام روایتی اور رومانی نغمے گانے پر اکتفا ہ کیا بلکہ ایسے گیت گائے جن میں عرب کی عظمت کے گن گائے گئے تھے، حریت پسندوں کو سلام پیش کیا گیا تھا اور عرب جوش کو ابھارا گیا تھا۔ ایسے ہی نغموں کی وجہ سے ایک اسرائیلی عدالت نے اسے سزائے موت سنانے کا احمقانہ فیصلہ کیا۔
1975 ء میں اُمِ کلثوم کا انتقال ہوا تو اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سرکاری سطح پر سوگ منایا گیا۔القدس کی ایک سڑک ان کے نام سے موسوم ہے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
شہزادہ سلیم کا جنم مہارانی جودھا بائی کے بطن سے 17 ربیع الاول 977ھ بمطابق 13اگست 1569ء ہے۔ تاریخ پیدائش کی شہادت تزک جہانگیری اور شاہ جہاں نامہ دونوں میں ملتی ہے۔
شہزادہ سلیم نے اکبر کی وفات کے بعد تخت سلطنت سنبھالا تو خلیفہ الٰہی کا خطاب ملا اور جہانگیر کا لقب اختیار کیا۔ یوں مکمل شاہی نام اس طرح ملتا ہے، جنت مکانی نور الدین محمد جہانگیر ولد عرش آشیانی جلال الدین محمد اکبر شاہ غازی۔ تزک جہانگیری میں جہانگیر نے اپنا نام بمعہ شجرہ اس طرح بیان کیا ہے، ابو المظفر نور الدین محمد جہانگیر بن جلال الدین محمد اکبر بن نصیر الدیں ہمایوں بن ظہیر الدین بابر عمر شیخ بن ابوسعید بن سلطان محمد بن میرا شاہ بن قطب الدین صاحب قرآن امیر تیمور گورکان، اس کے ساتھ ساتھ بطور مصنف تزک جہانگیری ’’نور الدین جہانگیر‘‘ کا نام دکھائی دیتا ہے۔    تفصیل سے پڑھئے
حضرت علی رضی اللہ عنہ واولاد علی رضی اللہ عنہ کی خلفاء ثلاثہ علیھم الرضوان سے محبت ورشتہ داریاں -نیز خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنھم کا نام اولاد علی رضی اللہ عنہ میں اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا نام اولاد ائمہ رحمھمااللہ میں۔ 
※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※
اک اور حقیقت جس پر شیعہ نے تو پردہ ڈال رکھا ہے لیکن ہمارے اکثر اہل علم بھی عوام کو اس پہلو سے آگاہ نہی کرتے۔ جو حقائق میں تحریر کرنے لگا ہوں وہ اہل سُنت کی کُتب میں بھی مذکور ہیں اُنکا اگر حوالہ دونگا تو شیعہ دوست یہ کہیں گے یہ تو آپکی کُتب ہیں اس لئے میں صرف وہ خاص باتیں عرض کروں گا جنکا ثبوت شیعہ مذہب کی مُستند کُتب میں موجود ہے۔ 
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شادی کروانے کے لئے اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیھم کی کوشش ومدد۔   تفصیل سے پڑھئے
پیزا کا نام سنتے ہی کچھ لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ اور منہ میں پانی آجاتا ہے- چاہے اسے تیار کرنے کا انداز کچھ بھی ہو لیکن پتلی کرسٹ سے لے کر موٹی کرسٹ تک٬ چیز٬ چکن٬ پیپرونی ہو یا سبزیاں٬ ہر قسم کی اجزا کی آمیزش پیزا کو دنیا کے پسندیدہ کھانوں میں شمار کر دیتی ہے- آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو پیزا سے متعلق کچھ دلچسپ حقائق بتائیں گے-
1۔ دنیا بھر میں یکساں مقبول پیزا کی تاریخ پر اگر ہم روشنی ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اس کے اصل مؤجد اٹلی اور نیپلز ہیں- پیزا مختلف قسم کے اوون میں تیار کیا جاتا ہے اور اس کی تیاری میں کئی منفرد اجزا استعمال ہوتے ہیں-“ پیزا “ کا لفظ اٹلی کے شہر Gaeta سے دریافت ہونے والی قدیم دستاویز میں بھی موجود ہے- ان کاغذات کا تعلق 997 عیسوی سے ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیزا کی تاریخ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم ہے-

2۔ پیزا دنیا بھر میں کھائی جانے والی غذا ہے- مگر آپ نے کبھی سوچاتا ہے کہ یہ غذا کتنی مقدار میں کھائی جاتی ہے؟ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک سال میں تقریباً 5 ملین پیزا فروخت کیے جاتے ہیں-
3۔ چونکہ خواتین وزن گھٹانے میں زیادہ دلچسپی رکھتیں ہیں شائد اسی وجہ سے تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین مردں کے مقابلے میں سب سے زیادہ سبزیوں کی ٹاپنگ سے آراستہ پیزا کھانے کو ترجیح دیتی ہیں-
4۔ Renato Viola پیزا دنیا کا سب سے مہنگا پیزا ہے- اس پیزا کی تیاری میں 72 گھنٹے کا وقت لگتا ہے جبکہ اس کی قیمت 12 ہزار ڈالر ہے٬ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی اس پیزا کو نہیں خرید سکتا- تیاری کے دوران اس پیزا میں buffalo mozzarella اور گلابی سمندری نمک کا استعمال کیا جاتا ہے-
5۔ دنیا کے سب سے بڑے پیزا کی چوڑائی 4 فٹ 6 انچ جبکہ لمبائی بھی اتنی ہی ہے- یہ پیزا امریکہ میں فروخت کیا جاتا ہے- یہ ایک چوکور پیزا ہے جسے 50 افراد آرام سے کھا سکتے ہیں- اس کی قیمت تقریباً 200 ڈالر ہے-
6۔ فرائڈ پیزا: اسکاٹ لینڈ میں تلا ہوا پیزا کھایا جاتا ہے- جیسے کہ نام سے بھی ظاہر ہے کہ یہ پیزا بیک کرنے کے بجائے تیل میں فرائی کیا جاتا ہے- یہ ایک مخصوص ذائقہ کے علاوہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے-
7۔ موجودہ دور میں پیزا صرف زمین والوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کی مقبولیت اب خلا میں بھی پہنچ چکی ہے- ناسا نے حال ہی میں تھری ڈی پرنٹر پر ایسے تجربات کیے ہیں جس کے ذریعے خلابازوں کو بھی پیزا اور دیگر کھانے فراہم کیے جاسکتے ہیں-
8۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کے تحقیق دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ پیزا کھانے سے کینسر جیسے موذی مرض سے بچا جاسکتا ہے- ہفتے میں ایک بار پیزا کھانے سے esophageal کینسر کے لاحق ہونے کے خطرات میں 59 فیصد کمی آجاتی ہے-
پاکستان میں خیبر پختونخواہ کی وادیوں اور پہاڑوں سے لے کر صوبہ بلوچستان کے ساحلوں اور صحراؤں تک ہمیں قدرت کے ایسے انمول اور خوبصورت نظارے دیکھنے کو ملیں گے جن کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں- مگر اس کے باوجود ایسے کئی مقامات ہیں جن کی خوبصورتی سے ہم ابھی تک واقف نہیں-
یہ پوسٹ میرے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو مکران کوسٹل ہائی وے کے اس پہاڑی سلسلے پر لے جائے گا جہاں پتھر سے تراشا ہوا مسجمہ “ پرنسس آف ہوپ “ یعنی امیدوں کی شہزادی موجود ہے-
“ پرنسس آف ہوپ “ آخر ہے کیا؟
کراچی سے 90 کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر ایک شہزادی کا مجسمہ شاہی چغہ اوڑھے کھڑا ہے- اس مجسمے کا نام “ پرنسس آف ہوپ “ ہالی ووڈ کی فنکارہ انجلینا جولی نے تب تجویز کیا تھا جو پاکستان کے دورے پر آئی تھیں- اس سے پہلے بحیرہ عرب کے ساحل پر خاموشی سے کھڑے اس مجسمے کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا-
تیز چلتی ہوائیں اور مٹی اس سے ٹکرا کر آر پار ہو جاتی مگر یہ ان کو روک نہیں پاتی- یہ ایک ویران جگہ پر واقع ہے جہاں اس کا واحد دوست Sphinx یعنی ابولہول موجود ہے جو کہ مصر کے Sphinx سے مشابہت رکھتا ہے- کچھ تاریخ دانوں کے مطابق یہ مجسمہ 750 سال قدیم ہے-
پرنسس آف ہوپ اور Sphinx - یہ ایسی شکل کے کیوں؟
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ “ پرنسس آف ہوپ “ کسی انسان نے تعمیر نہیں کیا- مکران کے ساحل پر مٹی کے چھوٹے پہاڑ موجود ہیں جن پر سے تیز ہوائیں سالہا سال گزرتی رہتی ہیں-
یہ تیز ہوائیں ان مٹی کے پہاڑوں کو کچھ ایسے انداز سے تراشتی ہوئی گزری ہیں کہ قدرتی طور پر ایک خاتون کی شکل وجود میں آگئی ہے جسے آج دنیا “ پرنسس آف ہوپ “ کے نام سے جانتی ہے اور یہ تمام باتیں ہمیں تاریخ کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتی ہیں اور تاریخ میں واضح ہے کہ اس مجسمے کی تعمیر انسانی ہاتھوں کا کمال نہیں- یہاں موجود Sphinx مصر کے Sphinx جیسا تو نہیں ہے مگر زندگی میں موقع لگے تو اسے دیکھنے ضرور جائیں کیونکہ یہ دیکھے جانے کے قابل ہے-
سیاحت کے فروغ کے لیے موزوں جگہ:
پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور اس کے بیشتر دلفریب مقامات سے خود پاکستانی شہری بھی مکمل طور پر واقف نہیں- ہمارے ملک میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں جن پر توجہ دی جائے تو یہ زبردست سیاحتی مقامات میں تبدیل ہوسکتے ہیں- “ پرنسس آف ہوپ “ اور Sphinx انہی جگہوں میں سے ایک ہیں-
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام اس کی تزئین و آرائش پر توجہ دیں اور تاریخی معلومات کو دنیا کے سامنے لے کر آئیں- یہ زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے-
برازیل کو دلکش ساحلوں اور خوبصورت مقامات والا ملک قرار دیا جاتا ہے- بنیادی طور پر برازیل کی پہچان یہاں کے چند خوبصورت اور حیرت انگیز مقامات اور مزیدار کھانے ہیں- برازیل کے ساتھ کچھ مزید ایسے حقائق بھی وابستہ ہیں جن سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد لاعلم ہے-  ہم برازیل سے متعلق چند دلچسپ حقائق بیان کرنے جارہے ہیں- ان حقائق کو جان کر آپ کے علم میں ضرور اضافہ ہوگا۔
1۔ برازیل کے نام کے معنی “ انگارے کی طرح سرخ “ کے ہیں- یہ عجیب و غریب نام ایک برازیلوی درخت pau brasil سے لیا گیا ہے- یہ درخت برازیل کے ساحل کے ساتھ اگتا ہے اور اس سے گہرا لال رنگ حاصل کیا جاتا ہے-

2۔ برازیل دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے- اس ملک کی آبادی 200 ملین افراد پر مشتمل ہے- اس کے علاوہ برازیل زمینی رقبے کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور یہ 5.35 ملین اسکوائر میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے-
3۔ ایمیزون کے آبی جنگلات دنیا کے سب سے بڑے جنگلات ہیں اور زمین پر موجود ایک تہائی آکسیجن انہی جنگلات سے حاصل ہوتی ہے- 60 فیصد ایمیزون کے آبی جنگلات برازیل میں پائے جاتے ہیں-
4۔ برازیل دنیا کے سب مقبول ترین تہوار کارنیوال کا گھر ہے جسے Rio de Janeiro carnival کہا جاتا ہے-
5۔ برازیل کی soccer کی قومی ٹیم سب سے زیادہ کامیاب ترین ٹیم ہے اور یہ اب تک 5 مرتبہ ورلڈ چمپئین شپ ٹورنامنٹ جیت چکی ہے- یہ ٹیم 1958, 1962, 1970, 1994 اور 2002 کے ٹورنامنٹ میں فاتح رہی-
6۔ برازیل میں چار ہزار سے زائد ائیرپورٹ موجود ہیں اور یہ دنیا کا دوسرا سب زیادہ ائیرپورٹ کا حامل ملک ہے- سب سے پہلا نمبر امریکہ کا ہے-
7۔ غلاموں کی تجارت کے دور میں تقریباً 4 ملین غلام افریقہ سے برازیل لائے گئے اور یہ تعداد پورے امریکہ سے فروخت کیے جانے والے غلاموں کی 45 فیصد بنتی ہے- دوسرے الفاظ میں برازیل سب سے زیادہ غلاموں والا ملک ہے-
8۔ برازیل دنیا کا وہ پہلا ملک تھا جس نے tanning salons اور ان کے آلات کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کی اور یہ پابندی عوام کی صحت کے پیشِ نظر عائد کی گئی-
9۔ برازیل کا مشہور نعرہ “Ordem e Progresso” ہے جس کے معنی “ حکم اور ترقی “ کے ہیں-
10۔ برازیل کا قومی مشروب caipirinha ہے٬ یہ مشروب گنے کا مخصوص شربت ہوتا ہے جس میں چینی٬ برف اور لیموں کا رس شامل کیا جاتا ہے-
11۔ 1980 میں برازیل وہ پہلا ملک بن چکا تھا جس نے فوج میں خواتین کی شمولیت کو قبول کیا-
12۔ برازیل کافی کی 150 سال کی تاریخ میں دنیا کا سب سے زیادہ کافی ایکسپورٹ کرنے والا ملک رہا ہے- تاہم اب یہ اعداد و شمار تیسرے نمبر پر آچکے ہیں-
13۔ برازیل وہ واحد جنوبی امریکی آزاد ملک ہے جس نے جنگِ عظیم دوئم کے دوران اپنے فوجی قافلے بھیجے- یہ قافلے 25000 فوجیوں پر مشتمل تھے-
14۔ برازیل میں اسلام سب سے پہلے افریقی غلاموں نے قبول کیا تھا۔. ابتدا میں برازیل میں غلام مسلمانوں نے سب سے بڑی بغاوت کی، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی غلاموں کی بغاوت تھی۔ اس کے بعد برازیل میں شام اور لبنان کے مسلمان مہاجرین پہنچےجو اب اقلیت کی صورت میں موجود ہیں۔2010 کی مردم شماری کے مطابق برازیل میں 35،207 مسلمان آباد ہیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers