شری ستیا سائیں بابا کون ہیں-آپ نے عامر خان کی فلم PK تو ضرور دیکھی ہوگی- اس فلم کامحرک یہی سائیں بابا کی شخصیت تھی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی شری ۔ستیا سائی بابا کے مرید تھے-بھارت کے تمام سیاستدان اور سیلیبریٹیز ان کے چرن چھوتے تھے۔
بھارت کے معروف روحانی پیشوا شری ستیا سائی بابا کا چوراسی برس کی عمر میں اپریل 2011 انتقال ہوگیا تھا۔شری ستیا سائی بابا جن کے مریدوں میں ملک کے صدور، وزرائے اعظم، ججوں، جنرل سمیت دنیا میں لاکھوں مرید شامل ہیں، پیدائش سےموت تک ایک متنازعہ شخصیت رہے۔
شری ستیا سائی بابا کے بھارت اور دنیا میں لاکھوں مرید انہیں دنیا میں بھگوان کا اوتار مانتے ہیں جبکہ ان کے مخالفین انہیں ایک دھوکہ باز اور خطرناک جنسی مجرم تصور کرتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ﻣﻐﻠﯿﮧ ﺩﻭﺭ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺫﯾﺮ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻭﺫﯾﺮ ﮐﺎ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺮﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺚ ﭼﮭﮍ ﮔﯽ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻭﺫﯾﺮ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﯾﮏ ﻧﮱ ﻭﺫﯾﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﮰ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﺍﺱ ﻭﺫﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﻨﮕﮯ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﻭﺫﯾﺮ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ . ﻭﺫﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺑﭽﮧ ﺫﮨﯿﻦ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺍ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺮﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﺳﮯ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ . ﺍﻭﺭﻧﮕﺮﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮ ﻧﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﭩﮑﺎ ﺩﯾﺎ . ﺑﭽﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﺎ . ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮ ﻧﮯ ﺑﭽﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﮈﺭﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻣﺮ ﺟﺎﮰ؟ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺑﮍﺍ ﻋﺠﯿﺐ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ . ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺟﻦ ﺑﺎﺫﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺧﻄﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻭﺭ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ . ﺍﺱ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﺫﯾﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ . ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﺼﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻻﺏ ﭘﺮ ﻟﭩﮑﺎ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﺴﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺫﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮬﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺫﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﺧﻄﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﻭﺏ ﮐﺮﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰﻭ ! ﺩﮐﮫ . ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ . ﺗﮑﻠﯿﻒ . ﻏﻢ . ﺗﻨﮕﺪﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺐ ﮨﻤﯿﮟ ﻟﭩﮑﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺳﺘﺮﮦ ﻣﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺮﯾﻢ ﺭﺏ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﻥ ﮨﻮﮐﺮ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﺸﮑﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻣﺮﻧﮯ ﺩﯾﮕﺎ؟ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺩﺳﺖ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺳﮯ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﯼ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻮﻗﻌﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﺳﺖ ﻗﺪﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﮐﺮﯾﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮﮔﺰ ﺍﻥ ﻣﺸﮑﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﻠﯿﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻣﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮕﺎ
صادق ملک جو کہ پاکستان کے ایک بہت معروف پامسٹ ہیں اور لاہور میں رہائش رکھتے ہیں.
ان کے ساتھ پچھلے دنوں یہ واقعہ پیش آیا. وہی اس کے راوی بھی ہیں اور واقعہ بالکل سچا ہے.
آپ بھی محظوظ ہوں....
بتائو کُل کتنی شادیاں؟
شبیر ٹائون میں میری ایک خاتون سے ماقات ہوئ..
محترمہ کو میری بیوی بننے کا بڑا شوق تھا!جس کا اظہار انہوں نے پہلی ملاقات میں ہی کرڈالا.
بیوە تھیں٬ تین بچے٬ خود مختار اور خود کفیل بھی تھیں.
میری ہاتھ پر نظر پڑی تو میں نے پوچھا آپ کی آج تک کُل کتنی شادیاں ہو چکی ہیں؟
فرمانے لگیں٬ " شادی تو ایک ہی ہوئ تھی٬ اور وہ بھی شای کے بعد مر گیا ."
میں نے سوچا..... "وہ بھی"......!!؟
خیر بات سے بات نکلتی گئ٬
فرمانے لگیں شادی سے پہلے ایک نکاح ہوا تھا..پھر اس کے بعد ایک شادی ہوئ
اس نے پہلے دن ہی طلاق دے دی.....اور جب میں اگلی شادی کے بعد بیوہ ہوئ تو
ایک شادی صرف ایک ماہ چلی اور ایک بہت ہی بےوفا نکلا٬ شادی کر کے بھاگ گیا٬.....اور ایک ظالم نے میرے ساتھ صرف تین ماە گزارے اور طلاق دے کر اپنی ماں کے
پاس چلا گیا......ابھی ایک طلاق ہو رہی ہے اور میں نےآپ کو فیس بک پر دیکھا اور
فیصلہ کر لیا اب میں آپ سے شادی کروں گی.. مجھے آپ کی بیوی بننے کا بڑا شوق ہے...
خدا خیر کرے..! !!
کوئی نہیں جانتا کہ سکاڈا 3301 کیا بلا ہے اور اس کے پس پردہ کون ہے؟ سِکاڈا 3301 جہان انٹرنیٹ کا ایسا معمّا ہے جسے بڑے بڑے کمپیوٹر انجنیئر اور ہیکرز حل نہیں کرسکے۔ بہ ظاہر یہ کسی کمپنی کی طرف سے دیا گیا ملازمت کا اشتہار لگتا ہے۔
اشتہار کی عبارت میں واضح طور پر درج ہے،’’ ہمیں بے حد ذہین افراد کی ضرورت ہے۔ ان کی تلاش کے لیے ہم نے ایک ذہنی آزمائش کا سلسلہ تشکیل دیا ہے۔‘‘ اس عبارت کے نیچے Cicada 3301 کے الفاظ تحریر ہیں اور ان کے نیچے ایک جھینگر یا ٹڈے کا خاکہ بنا ہوا ہے۔ اشتہار کا پس منظر سیاہ ہے جس میں مختلف ہندسے بھی درج ہیں۔ یہ اشتہار ہر سال انٹرنیٹ پر نمودار ہوتا ہے مگر کوئی نہیں جانتا کہ یہ اشتہار کس کی طرف سے دیا جاتا ہے اور اس میں دیے گئے معمے کو حل کرنے والے کے لیے کیا انعام رکھا گیا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
صدیوں پرانا معمہ حل ہو گیا-دنیا حضرت داؤد ؑکے محل تک پہنچ گئی-
شعرایم پہلے بیت المقدس اور اب اسرائیل کا شہر ہے‘ یہ شہر بیت المقدس سے 30کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ 2007ء میں اس شہر میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک محل تلاش کیا‘ یہ بنیادی طورپر ایک بڑی بستی ہے اور اس بستی میں ایک ہزار مربع میٹر پر ایک محل بنا تھا‘ آثار بتاتے ہیں یہ بستی 1020 ق م میں آباد ہوئی اور 980ق م میں اجڑ گئی۔یہ بستی ایک پہاڑی پر واقع ہے ‘ کھدائی کے دوران اس کے ارد گرد دو دروازوں والی دیوار بھی پائی گئی ۔ماہرین آثار قدیمہ پچھلے سات برسوں سے اس بستی پر تحقیق کرتے رہے یہاں تک کہ اب جا کر دریافت ہوا یہ محل حقیقتاًحضرت داؤد ؑ کا تھا۔ حضرت داؤد ؑ کا زمانہ بھی1040 ق م تا 970 ق م بتایا جاتاہے۔ حضرت داؤد ؑ کا یہ محل تاریخی کتب میں بہت مشہور تھا‘ اس کے واقعات اور اس کی شان و شوکت کے بارے میں تاریخ کے صفحات بھرے ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا اسے ماننے پر تیار نہیں تھی تاہم ماہرین کی اس دریافت نے آسمانی کتب اور تاریخ کو سچا ثابت کر دکھایا۔ حضرت داؤدؑ کو یہ محل کیسے ملا یہ بہت ہی خوبصورت واقعہ ہے- تفصیل سے پڑھئے
اہل حديث ہوٹل (فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث) صبح کی نہاری نہ دکھ نہ بيماری آئيے تشريف رکھئے يہ اہل حديث ہوٹل ہے
گاہک :جناب بڑا گوشت ہے ۔
بيرا: جی ہاں ہاتھی، خچر، گھوڑے کا ہر ہر عضو حلال اور پکا ہواتیار ہے۔ کنز الحقائق ص186
گاہک : جناب يہ جانور۔ مزرائی ۔ سکھ اور ہندو سے ذبح کرائے ہيں۔
بيرا: کافر کا ذبيحہ حلال ہے۔( عرف الجاوی ص 10)
گاہک : جناب ذبح کرتے وقت بسم اﷲ بھی نہيں پڑھی گئی۔
بيرا: آپ کھاتے وقت پڑھ لينا ۔( عرف الجاوی ص 239)
گاہک : جناب چھوٹا گوشت بھی ہے۔
بيرا: جی ہاں۔ بچھو۔ جنگلی بلا۔ بحری کتا ۔ بحری خنزير انکا گوشت ہے۔ کنز الحقائق ص 184
گاہک :۔ جنا ب يہ بھی کافر کے ذبح کئے ہوئے اور بغير بسم اﷲ کے ذبح کئے ہوئے ہيں۔
بيرا:۔ جی ہاں جناب پرندوں کا گوشت بھی ہے ۔ جناب گدھ۔ کوا۔ چمگادڑ کا گوشت حاضر ہے ۔(کنز الحقائق ص 184) اور جناب يہ پرندے ذبح کئے ہوئے نہيں ہيں بلکہ بندوق کی گولی سے مرے ہوئے ہيں ۔(فتاوی ثنائيہ ص132 ج2)
گاہک :۔ اور اچار؟
بيرا:۔ جناب مينڈک۔بحری سانپ کا اچار ہے کيونکہ ہر بحری جانور حلال ہے۔(عرف الجاوی ص 238
گاہک :۔ جناب کوئی نمکين چيز بھی ہے؟
بيرا:۔جی ہاں ہمارے مذہب ميں خشکی کا ہر وہ جانور حلال ہے جس ميں خون نہ ہو۔ (بدورالاہلہ ص 238) اس لئے ہم کيڑے مکوڑے۔ مچھر۔ بھڑيں وغيرہ نمک لگا کر دانوں کی طرح بھون ليتے ہيں۔
گاہک :۔يہ روٹی کيسی ہے ؟
بيرا:۔ جناب ہم شراب (خمر) ميں آٹا گوندھ کرروٹی تیار کرتے ہيں۔( نزل الابرار ص 89 ج3)
گاہک :۔جناب کوئی آئس کريم یا کسٹرڈ بھی بناتے ہو ؟
بيرا:۔کيوں نہيں۔ جی ہا ں ہمارے مذہب ميں منی پاک ہے ايک قول ميں کھانا بھی جائز ہے ۔ (فقہ محمديہ ص46 ج1) اسلئے ہم منی کی آئس کريم اور کسٹرڈ تیار کرتے ہيں ۔
گاہک :۔اور چائے ؟
بيرا:۔ جناب چائے پينا کسی حديث سے ثابت نہيں البتہ اونٹوں کا پيشاب پينے کا حکم حديث ميں ہے وہ ہاف سيٹ حاضر ہے۔
گاہک :۔يہ رہنے دو۔ يہ بتاؤکہ بھينس کا دودھ مل جائے گا ؟
بيرا:۔ جی نہيں۔ بھينس کا لفظ قرآن ميں ہے نہ حديث ميں اور کسی حديث سے ثابت نہيں کہ رسول پاک صلی اﷲ عليہ وسلم نے ساری عمر ميں ايک دفعہ بھی بھينس کا دودھ،دہی، مکھن،گھی کھایاہو یا لسی پی ہو تو دودھ کا کیا بنے گا ؟ ہمارے مذہب ميں داڑھی والا بابا بھی عورت کی پستان نوشی کرسکتا ہے۔(نزل الابرار ص77 ج2) اسلئے دودھ کےلئے عورتيں موجود ہيں پستان نوشی فرمائيے۔ گاہک:۔ تو آپ گھی کی جگہ ڈالڈا استعمال کرتے ہيں؟
بيرا:۔جی نہيں۔ڈالڈا کا استعمال بھی حديث سے ثابت نہيں اسلئے ہم منی ہی سے يہ کام ليتے ہيں۔ گاہک :۔ اگر يہ نعمتيں کھا کر درد ہو جائے تو گولی مل جائے گی؟
بيرا:۔ جناب آج کل جتنی ادویات استعمال ہو رہی ہيں ان ميں سے کسی کانام حديث ميں موجود نہيں البتہ ہمارے ہاں حلال جانورں کا پيشاب۔ پاخانہ بطور ادویات استعمال کرنا جائز ہے۔ (ستاريہ ص56 ج 1۔ ثنائيہ ص68 ج2) اس لئے شربت بزوری کی جگہ خچر کا پيشاب اور شربت صندل کی جگہ گھوڑے کا پيشاب A.P.Cکی جگہ بکری کی مينگنی مل سکتی ہے۔
تحریر - زویا‬ علی خان-
https://www.facebook.com/groups/994143173998052/998095773602792/?notif_t=group_activity
شہزاد نے کپڑے کی آخری لاٹ کا پیٹرن کاٹا اور اس کو اسٹچنگ ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر کے گھر جانے کے لئے تیار ہوگیا۔ رات کے آتھ بج چکے تھے اور بلدیہ ٹائون کی اس گارمنٹ فیکٹری سے اپنے نیو کراچی میں واقع گھر تک جانے کے لئے ابھی ایک گھنٹہ مزید دو بسوں میں خوار ہونا تھا۔ اس نے پینٹ کی جیب سے ماوے کی پڑیا نکال کر اس کی پنی کو دانتوں کے بیچ دبا کر کھینچا تو پنی کے اندر موجود ماوے کی کچھ مقدار اس کی زبان پر منتقل ہوگئی، باقی پڑیا کو ربڑ بینڈ سے لپیٹ کر اس نے واپس جیب میں رکھ لیا۔ انگلیوں کو بالوں سے پونچھا۔ منہ میں اس کتھے، چونے، تمباکو، کمیلے سے جمع کئے گئے خون اور گلی سڑی چھالیہ کے ملغوبے سے پیک بناتے ہوئے اس نے فیکٹری کے مین گیٹ کی جانب رخ کیا۔ شہزاد کو اس ماوے تمباکو کی لت چھ ماہ سے لگی تھی- اس فیکٹری میں کام کرتے ہوئے اس کو چھ ماہ ہو چکے تھے۔ کام اچھا چل رہا تھا اور اب وہ سوچ رہا تھا کہ جلد نواب شاہ سے بیوی بچوں کو واپس بلالے۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پلوٹونیم ری ایکٹر ایک ایسا کارخانہ ہوتا ہے جس میں ایٹم بم میں استعمال ہونے والا خطرناک ترین مواد "پلوٹونیم" تیار کی جاتا ہے۔
--
پلوٹونیم کی تیاری کیسے ہوتی ہے؟
پلوٹونیم کی تیاری یورینیم U-235 کی Pu-235 میں transmutation (ایک کیمیکل ایلیمنٹ کے آئسوٹوپ کا دوسرے کیمیکل ایلیمنٹ آئسوٹوپ میں تبدیل ہونے کا عمل) کے عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے یورینیم کے ایٹمزU-235 پر انفرادی طور پر neutron برسایا/داخل کیا جاتا ہے۔
--
کیا پلوٹونیم سے بنا ایٹم بم یورینیم سے بنے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے؟
جی ہاں! پلوٹونیم سے بنا ایٹم بم یورینیم سے بنے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہوتا ہے۔
-------------------
الحمداللہ۔۔۔ پاکستان میں اس وقت 4 پلوٹونیم ری ایکٹر مکمل طور پر آپریشنل ہیں جبکہ بھارت کے پاس صرف ایک پلوٹونیم ری ایکٹر ہے۔ پاکستان اس وقت ایک سال میں اندازاً 20 پلوٹونیم سے بنے ایٹمی وارہیڈ تیار کر رہا ہے جبکہ بھارت اس معاملے میں ہم سے بہت پیچھے ہیں۔ بھارت اپنے واحد پلوٹونیم ری ایکٹر میں سال میں صرف 5 عدد پلوٹونیم سے بنے ایٹمی وارہیڈ بنانے کے قابل ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی کثیر تعداد اُن ہتھیاروں کی سیکیورٹی اور ملکی سرحدوں کی سیکیورٹی کو یقینی بناتی ہے۔
--
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور رسول اللہ ﷺ کی نظرِ خاص ہے کہ آج پاکستان جیسا دنیا کا واحد ترقی پزیر ملک دنیا کی سب سے حیرت انگیز اور پیچیدہ ترین ایٹمی ٹیکنالوجی رکھتا ہے جس کے معیار اور قابلیت نے ترقی یافتہ اور خود کو سپر پاورز کہنے والے ممالک کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
خدا کی قسم اگر ماضی میں خدا تعالیٰ نے ابابیلوں کے لشکر کے ذریعے اپنے گھر کی حفاظت کی تھی تو اب اس مقصد کے لئے خدا وندِ کریم نے پاک فوج اور پاکستان کو چنا ہے، یہی اس کی ایٹمی صلاحیت کا راز ہے۔
-------------------
پاک فوج زندہ باد۔۔۔ پاکستان پائیندہ باد
اگر آم گرمیوں کا تحفہ ہے تو سوہن حلوہ سردیوں کی سوغات ہے۔ کوئی بھی رت ہو اہل ملتان اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو نہیں بھولتے۔ اخلاص، محبت، دوستی اور تعلق کے اظہار کا جو سلیقہ اور طریقہ ملتانیوں کے ہاں مروج ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی ملتانی اپنے ان عزیز و اقارب اور دوستوں کی فہرستیں بنانا شروع کر دیتے ہیں جن میں انہوں نے یہ میٹھی سوغات بانٹنی ہوتی ہے۔ زیادہ اہمیت کے حامل وہ دوست احباب اور رشتہ دار ہوتے ہیں جو ملتان سے باہر کسی شہر یا ملک میں قیام پذیر ہوں۔جب آموں کا موسم شروع ہوتا ہے تب بھی اہل ملتان ایسی ہی محبت اور خلوص سے سرشار ہوتے ہیں۔ادیب، شاعر اور تاریخ دان شاکر حسین شاکر کا کہنا ہے کہ آم یا سوہن حلوہ تحفتاً بھیجنے کا سلسلہ شاید اس وقت شروع ہوا ہوگا جب ملتان کی بیٹیاں کسی دوسرے گاؤں یا شہر بیاہی گئی ہوں گی اور ان کے والدین، بہن بھائی آم اور سوہن حلوہ ان کے گھر لے جایا کرتے ہوں گے یا پھر کسی آنے جانے والے کے ہاتھ بھیج دیا کرتے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں سوہن حلوہ گھروں میں تیار ہوتا تھا، اور تجارتی بنیادوں پر سوہن حلوہ کی تیاری بہت بعد میں شروع ہوئی۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
مرزا قادیانی کی زندگی کا سب سے دلچسپ واقعہ محمدی بیگم سے نکاح کی خواہش کے متعلق ہے جس پر وہ دل ہار بیٹھا اور اسے حاصل کرنے کے لیے عجیب و غریب ہتھکنڈے استعمال کیے جن میں سب سے زیادہ دلچسپ یہ اعلان تھا کہ ’’خدا نے آسمان پر محمدی بیگم سے میرا نکاح کر دیا ہے اور وہ ضرور میری ہوگی۔
۔ مرزا قادیانی کی پہلی شادی اس کے ماموں مرزا جمعیت بیگ کی لڑکی حرمت بی بی سے ہوئی جس سے دو لڑکے فضل احمد اور سلطان احمد پیدا ہوئے۔ بعدازاں انگریز کی حمایت اور جہاد کی مخالفت کے عوض انگریز سرکار اس پر بہت مہربان ہو گئی۔ اس کے دن پھر گئے اور وہ لاکھوں میں کھیلنے لگا۔ دولت کی فراوانی نے اسے شراب و کباب کا رسیا بنا دیا جس سے اس کی صحت خراب رہنے لگی۔ لیکن اس کے باوجود اس نے دہلی کے ایک آزاد خیال گھرانے کی ایک 16 سالہ الھڑ خاتون نصرت جہاں سے شادی رچائی۔ حالانکہ بقول مرزا قادیانی اُن دنوں اس کی حالت مردمی کالعدم تھی۔ حکیم نور الدین کے کشتوں نے اسے ازسرنو عارضی طور پر جوان کر دیا۔ نصرت جہاں سے اس کے کئی بچے پیدا ہوئے۔ دوسری شادی کے تقریباً 2، 4 سال بعد اس کی نظر خاندان کی ایک نوخیز اور نہایت خوبصورت لڑکی ’’محمدی بیگم‘‘ پر پڑی تو وہ دل پر قابو نہ رکھ سکا۔ ان کی جنسی ہوس کی رال ٹپکنے لگی۔ وہ اپنے خوابوں اور خیالات میں محمدی بیگم کا تصور لا کر تنہائی میں نجانے کیا کیا احمقانہ حرکات کرتا۔ انہی دنوں مرزا قادیانی کو الہام ہوا:   تفصیل سے پڑھئے
بھائ صاحب ----- بات سنیں گے ؟؟
بس ایک منٹ کےلئے --- چھوٹی سی بات ہے --- پلیز سن لیجئے ----
میں جانتا ہوں آپ کا وقت بہت قیمتی ہے --- لمبی تحریر پڑھنا آپ کےلئے مشکل ہے ----
بس دو منٹ کی بات ہے ---- سن کر چلے جائیے گا --- آئیں --- بیٹھیں !!!
بہت اہم بات ہے --- پلیز ------
یہ پیچھے جو لوگ کھڑے ہیں پلیزز --- بیٹھ جاؤ یار ----
اچھا ---- بھائیو ---- سُنو ----
واقعہ کچھ یوں ہے کہ -----
بہت سال پہلے کی بات ہے --- یہ فقیر ان دنوں گاؤں میں ہی ٹھہرا ہوا تھا --- ایک دن اپنے کھیتوں کی سیر کو نکلا--- کھیت کے ایک سرے پر جھاڑیوں کا ایک جھُنڈ تھا ----- اس طرف چونکہ گھنا سایہ تھا ---- اس لئے کاشت وغیرہ کم ہی ہوتی تھی ---    تفصیل سے پڑھئے
سن اُنیّس سو ستر میں، پاکستانی تاریخ کے پہلے عام انتخابات کے لیے زور و شور سے انتخابی مہم جاری تھی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی نوزائیدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک گیر سطح پر یہ پہلی آزمائش تھی۔پارٹی کے پاس بھٹو کے سوا کوئی عوامی چہرہ نہ تھا اور وہ خود بھی کہہ چکے تھے کہ میری پارٹی کو بڑے ناموں کی ضرورت نہیں، یہ خود بڑے نام پیدا کرے گی۔  تفصیل سے پڑھئے
ہر عہد پر غالب،میرزا اسد اللہ خاں غالب کا یہ شعر اب کثرتِ استعمال سے گھس پٹ چکا ہے،
کلیثے بن چکا ہے مگر کیا کیا جائے
اس کے پھر سے استعمال کے بغیر چارہ بھی نہیں۔ شعر ہے:
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
جب تک لوگ یہ عمل جاری رکھیں گے، ہم توجہ دلاتے رہیں گے، آج ’’توجہ دلاؤ‘‘ کالم میں بہت کچھ ایسا ہے۔ پڑھئے اور ہماری عرق ریزی کی داد نہ دیجئے لطف اندوز تو ہویئے کہ سیاسی گھٹن اور افراتفری کے ماحول میں یہ ادبی چسکا بہت ضروری ہے۔۔۔!!کراچی کے نامور محقق اور عالم وقار حسین صاحب نے اپنے ایک طویل تحقیقی مقالے بعنوان:’’فہم القرآن کے مقاصد‘‘میں دو بہت مشہور شعر استعمال کئے ہیں۔ یہ مقالہ ابھی تک کراچی یونیورسٹی کے مجلے تک محدود ہے اس سے پہلے کہ کتابی شکل میں بھی سامنے آئے دونوں شعروں کی تصحیح اور حق بہ حقدار رسید کا فریضہ ادا کر دوں۔ ایک شعر جو شاعر کے نام کے بغیر اس طرح درج ہے:-   تفصیل سے پڑھئے
ہالی وڈ کی فلموں میں اکثر ایریا 51 کا ذکر آتا ہے۔ خاص طور پر ایسی سائنس فکشن فلموں میں، جن میں خلائی مخلوق کا زمین پر حملہ دکھایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں امریکی خلائی تحقیق دان اڑن طشتریوں کے بارے میں حقائق جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔
بلکہ بہت سی فلموں میں تو یہ بھی دکھا گیا ہے کہ ماضی میں خلا سے آنے والی اڑن طشتریوں ایریا 51 میں موجود ہے جہاں اس پر تحقیق کی جارہی ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ فلم انڈیپنڈس ڈے میں بھی دکھایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بات میں کوئی حقیقت ہے؟ کیا ایریا 51 کا واقعی وجود ہے؟ حال ہی میں امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ 51 نامی علاقہ نواڈا کے صحرا کے دوردراز حصّے میں گروم نامی جھیل کے گرد واقع ہے،جسے 1950 کی دہائی میں امریکی فوج کے خفیہ تجرباتی مقام کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بات یو ٹو جاسوس طیاروں کے پروگرام کی تاریخ کے عام کی جانے والی دستاویز میں کہی گئی ہے۔ایک امریکی یونیورسٹی کی جانب سے حاصل کی گئی دستاویز کے مطابق، 1955 میں ریاست نواڈا کے صحرا میں خفیہ جاسوس طیارے کے تجربے کے لیے جگہ حاصل کی گئی تھی۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
بحراوقیانوس کے ایک مثلث کی طرح سمندری علاقے کو برموداٹرائی اینگل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس علاقے کا ایک کونہ برمودا میں، دوسرا پروٹوریکو میں اور تیسرا کونا فلوریڈا کے قریب ایک مقام میں واقع ہے۔ برمودا ٹرائی اینگل انہی تین کونوں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے۔ برمودا مثلث کی شہرت کا باعث وہ حیرت انگیز واقعات ہیں جو اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان واقعات کے مطابق کئی بحری اورہوائی جہاز اس بحری اور ہوائی جہاز اس بحری علاقے سے گزرتے ہوئے لاپتہ ہوگئے اور ان کاکوئی نشان بھی نہیں ملا۔ اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں کہ جن کے باعث اسکو شیطانی یا آسیبی مثلث Devil's Triangle بھی کہا گیا ہے۔ ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی اور مافوق الفطرت واقعات شامل ہیں۔ ان ماوراء طبیعی داستانوں (یا واقعات) کی تفسیر کیلیۓ جو کوششیں کی گئی ہیں ان میں بھی اکثر غیر معمولی اور مسلمہ سائنسی اصولوں سے ہٹ کر ایسی ہیں کہ جن کیلیۓ کم از کم موجودہ سائنس میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔  تفصیل سے پڑھئے
شیریں فرھاد درست کہانی ہے. یہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے ﮈھائی سو کلو میٹر دور ایک علاقے کی ہے. مقامی زبان میں شیر sheer دودھ کو کہا جاتا ہے اور ٹھنڑا پانی بھی شیر کہا جاتا ہے. جہاں یہ بستی تھی وہاں پہاڑ کے اوپر چشمہ تھا جسکا پانی دوسری طرف گرتا تھا اور اس کو لانے کے لئیے پہاڑ کو چوٹی سے اتنا کاٹنا پڑتا کہ چشمہ بستی کی طرف بہنا شروع ہوجاۓ.
شیریں کے سردار باپ نے فرھاد کے سامنے یہ شرط رکھ دی. فرھادنے بہت بڑا حصہ کاٹ دیا. دوسرے دن وہ کام مکمل کرلیتا. شیریں کے باپ نے اپنے وزیر کو کہا اور اس نے کالا پتھر اس مقام پر دبادیا جہاں صبح فرھاد نے آخری کدال چلانی تھی. شیریں کو صبح صادق کو پتہ چلا تو وہ پہاڑ کیطرف بھاگی. فرھاد اس وقت تک اوپر چڑھ چکا تھا.   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ریمیکس اینڈرائیڈ ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں نیا انقلاب- اینڈرائیڈ کے بار ے میں کافی احباب جانتے ہیں۔ کہ یہ سمارٹس موبائلز کے لئے ایک آپریٹنگ سسٹم ہے۔ جو گوگل نے اپنے صارفین کے لئے بنایا ہے۔ اور بہت سی خوبیوں کے ساتھ بہت سی موبائل بنانے والی کمپنیوں نے اسے موبائلز میں انسٹال کیا ہوا ہے۔ایپل کے آئی فون کے اپریٹنگ سسٹم ائی او ایس(آئی فون اپریٹنگ سسٹم) کے مقابلے میں اینڈروئید عام صارفین میں کافی مقبولیت کا حامل ہے۔ اور اسکی کافی وجوہات ہیں۔ اینڈرائید اپریٹنگ سسٹم ایک تو بالکل فری ہے۔ اور دوسرا اینڈرائیڈ موبائلز بھی سستے میں مل جاتے ہیں۔اور تیسری اسکی اہم خصوصیت اسکے موبائل ایپس (سوفٹ وئیر ) ہیں۔ جو کافی حد تک فری ہیں۔ اور انہیں بنانا بھی آسان ہے۔جو ایک چھوٹا موٹا ڈیویلپر بھی آسانی سے بنا سکتا ہے۔ جبکہ آئی او ایس (آئی فون اپریٹنگ سسٹم) کے لئے آپکو میک کمپیوٹر بھی خرید نا پڑتا ہے۔
اینڈرائیڈ ڈیوائیسز کے مقبولیت سے آپ اس سے بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کے 2014 کے ایک پرانے سٹیٹس میں اینڈرائیڈ ڈیوائیسز کی پوری دنیا میں 44٪ شیپمنٹ ہوئی ہے۔ اور ونڈو کمپیوٹر ز کی صرف 14٪ ترسیل ہوئی ہے اور 2016 میں تقریباً 60٪ تک پہنچ گئی ہوگی۔  تفصیل سے پڑھئے
یہ چشم کشا دستاویز لاہور کے ثقافتی ورثے، آبادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروںکی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے تباہ کن اثرات سے لاہور کو محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان رضاکاروں کی جانب سے جاری کیے گئے اس وائٹ پیپر کو مفاد عامہ کی غرض سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ ان حقائق کو پڑھیے، سمجھیے اور پھر اورنج لائن میٹرو ٹرین کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیجیے۔ لاہور کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
بوہری اور آغاخانی میں فرق جانے سے پہلے ان کی مختصر تاریخ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے درحقیقت دونوں کی اصل ایک ہے اور دونوں عقیدے کے لحاظ سے شش امامی ہیں پھر فرق کیا ہے اس بارے میں جانے کے لیے تاریخ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
امام جعفر صادق(ع) کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔ امام صادق(ع) کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام صادق(ع) کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادق(ع) کی زندگی میں ہی ہو گئی، امام صادق(ع) بعض لوگوں کے اس عقیدے کو جانتے تھے کہ اسماعیل کو ہی وہ امام سمجھتے ہیں، چنانچہ امام(ع) نے اسماعیل کی وفات کے بعد ان کا جنازہ لوگوں کو دکھایا اور لوگوں کی معیت میں ہی ان کی تجہیز و تکفین کی تاکہ کوئی اسماعیل کی وفات سے انکار نہ کر سکے۔ جب امام صادق(ع) کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثر شیعوں نے امام کاظم(ع) کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے،  تفصیل سے پڑھئے
حضرت یونس ؑ کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ (موجودہ عراق کا شہرموصل )کی بستی کی ہدایت کے لیے بھیجا۔نینویٰ میں آپؑ کئی سال تک ان کو تبلیغ کی دعوت دیتے رہے ۔مگر قوم ایمان نہ لائی تو آپ ؑ نے ان کو عذاب کے آنے کی خبر دی اور ترشیش (موجودہ تیونس )کی طرف جانے کے لئے نکلے۔حضرت یونس ؑ جب قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تو قوم نے آپ ؑ کے پیچھے توبہ کرلی ۔ دوسری طرف آپ ؑ اپنے سفر کے دوران دریا کو عبورکرنے کے لیے اسرائیل کے علاقہ یافا میں کشتی میں سوار ہوئے ۔کچھ دور جاکر کشتی بھنور میں پھنس گئی ۔ اس وقت کے دستور اور رواج کے مطابق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جب کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگ کر جارہا ہو اور کشتی میں سوار ہوتو وہ کشتی اس وقت تک کنارے پر نہیں پہنچتی جب تک اس غلام کو کشتی سے اتار نہ لیں ۔ تفصیل سے پڑھئے
فرینکنسٹائن میری شیلے کے ایک مشہور برطانوی ناول کا ایک کردار ہے۔ اس ناول کو دور جدید کا پہلا سائنس فکشن ناول بھی کہا جاتا ہے۔ ناول کی کہانی کے مطابق ایک نوجوان سائنس دان وکٹر فینکنسٹائن تجربہ گاہ میں تجربات کے ذریعے ایک عام آدمی کو مافوق الفطرت اور بے پناہ طاقت کا مالک بنانا چاہتا ہے، یہ تجربہ خیر غلطی سے ایک ایسے بھیانک وجود کو جنم دے دیتا ہے جو خود اپنے بنانے والے سائنس دان کو ہی مار دیتا ہے۔ یہی بات وطن عزیز میں کالعدم شدت پسند اور جہادی تنظیموں پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ تنظیمیں بھی فرینکسٹائن کی مانند اب خود اپنے خالق کو کھانے کے درپے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ’انٹرٹینمنٹ، انٹرٹینمنٹ اور صرف انٹرٹینمنٹ‘ چاہیئے۔ چینلز کہتے ہیں کہ انہیں ’ریٹنگ‘ چاہیئے۔ چینلز اور عوام کی ترجیحات اور ضروریات کا یہ رشتہ اسی نوعیت کے بے ہنگم، معقولیت سے عاری اور اخلاقی دیوالیہ پن پر مبنی پروگراموں کو ہی جنم دے سکتا ہے۔
اللہ بخشے میری دادی جان ٹیلی ویژن کو ’مُوا شیطانی ڈبہ‘ کہا کرتی تھیں۔ کہتی تھیں کہ اس کے سامنے بیٹھ کر انسان کو اللہ اور دنیا کی خبر نہیں رہتی۔ حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں ٹیلی ویژن چینلز کے نام پر صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اور ٹی وی ڈرامے انتہائی شریفانہ ہوتے تھے جنہیں خاندان بھر کے لوگ اکٹھے بیٹھ کر دیکھتے تھے۔ اس زمانے کے رواج کے مطابق کئی گھروں کی طرح ہمارے گھر میں بھی ٹھیک نو بجے خبرنامے اور گھڑی کی سوئیاں ملا کر کھانا چن دیا جاتا تھا۔ اور رات کو دس یا گیارہ بجے ٹی وی پر ’پاک سر زمین شاد باد‘ کا ترانہ دن کے اختتام کی خبر دیتا تھا ۔۔۔ تفصیل سے پڑھئے
ہسپانیہ پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک حکمرانی کی تھی۔ وہی اسپین کہ جس کو فتح کرنے کے لئے طارق بن زیاد نے اپنی کشتیاں جلا دی تھیں۔

قریباً پانچ سو برس گزرے کہ جزیرے نما آئیبیریا پر دوبارہ قابض ہونے والے ہسپانویوں نے مسلم حکمرانوں کے آٹھ سو برس طویل اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے، مسلمان ہونے کا اقرار کرنے والے ہر شخص کو یا تو قتل کرڈالا تھا یا پھر نکال باہر کیا تھا۔
مگر آج جمعرات کو ایک مؤذن بائیس برس سے مختلف تنازعات کا شکار رہنے والے ایک منصوبے کے اختتام پر، ایک بار پھر اذان دے کر ہسپانوی مسلمانوں کو دعوت نماز دے رہا ہے۔
کبھی مسلم حکمرانی کی علامت رہنے والے محل ’الحمرا‘ میں بننے والی اس مسجد کا ازسر نو افتتاح یورپ میں عقیدت و ایمان کی ایک نئی صبح کا آغاز ہے جس کی تقریب میں مسلم و غیر مسلم معززین شہر اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
مسجد کے نو مسلم ترجمان عبدالحق سلابیری کا کہنا ہے کہ ’یہ مسجد ہسپانوی عوام اور دیگر یورپی اقوام کے لئے اسلام کی نشاط ثانیہ کا نکتۂ آغاز ثابت ہوگی جو اسلام کے بارے میں قائم غلط تصورات کو توڑ کر اسے یورپی اقوام کے لئے ایک بیرونی مذہب کی حیثیت سے متعارف کرائے گی۔‘
ایسے میں جب یورپ میں اسلام کے مذہبی شعار و عقائد کو شکوک و شبہات کے نظر سے دیکھا جارہا ہے، ہسپانوی مسلمانوں کو امید ہے کہ وہ اس براعظم کے باسیوں کو ثقافت و تمدن کے اس عظیم ورثہ کی یاد دلانے میں کامیاب ہوجائیں گےجو مسلم دور حکمران کی ایسی نشانی ہے جس میں فنون لطیفہ و تعمیر، علوم طب اور حکمت، علوم فلکیات و موسیقی اور فہم و دانش پروان چڑھے۔
بعض مؤرخین کے خیال میں قرون وسطیٰ کے یورپ میں مذہبی رواداری کے لحاظ سے یہ مسلم دور حکمرانی اپنی مثال آپ رہا ہے۔
ہسپانیہ کے جنوب میں مسلمان حکمرانوں کے اس دور نے مسلمانوں اور یہودیوں کو ساتھ ساتھ رہتے بھی دیکھا ہے۔ قرطبہ کا شہر دونوں مذاہب کے لئے ثقافتی مرکز رہا ہے جبکہ اندلس بھر کے شہروں می جامعات کا جال پھیلا رہا ہے۔ تجارت و صنعت بھی اسی دور میں پنپ سکے۔
اب مسجد کی انتظامیہ، تعلیم، قانون، طب و حکمت، اور عربی زبان کے مضامین میں بعض نصابی منصوبے متعارف کرانا چاہتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یورپی مسلمانوں کے لئے مختلف علوم کے میدانوں میں خود اپنی اسناد جاری کرنا چاہتی ہے۔ یہ مسجد اور اس سے ملحقہ باغ بھی عام لوگوں کے لئے کھول دیا جائے گا۔ یہ ان پانچ سو ہسپانوی مسلمانوں کے روحانی گھر کے طور پر کام کرے گا جو گزشتہ تیس برس کے دوران مذہب اسلام پر ایمان لائے ہیں۔
مگر یہاں تک کا سفر طے کرنے میں برسوں لگے ہیں۔ جس زمین پر یہ مسجد بنائی گئی ہے وہ بائیس برس قبل خریدی گئی تھی مگر شہری حکام تجاویز و منصوبوں پر مسلسل اعتراض کرتے رہے۔ پھر جب حتمی طور پر یہ طے کرلیا گیا کہ یہ زمین مذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہوسکتی ہے تو پھر اعتراضات کا رخ عمارت کے خد و خال کی جانب مڑ گیا اور منصوبہ سازوں کو عمارت میں میناروں کی طرز اور اونچائی پر ازسرنو غور و خوض کرنا پڑا۔ تاہم اس منصوبے سے اختلاف کی یہ روش آہستہ آہستہ خود ہی ٹھنڈی پڑگئی جسے لیبیا، محتدہ عرب عمارات اور مراکش کا مالی تعاون حاصل تھا۔
اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں شہر کے میئر اور دائیں بازو کی حکمراں جماعت کے رکن بھی شریک ہوں گے جس کا دعوت نامہ شاہ ہسپانیہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے طے پاجانے والی بعض ’مصروفیات‘ انہیں اس تقریب میں شرکت نہیں کرنے دیں گی۔
جب میں نے ان 10 کہانیوں پر اپنی رپورٹ مکمل کی تو مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اتنے مختلف علاقوں میں، اتنے مختلف ادوار میں لکھی ہوئی کہانیوں میں اگر کوئی چیز مشترک تھی، تو وہ تھا لفنگا!!  لوگ اکژ یہ پوچھتے ہیں کہ پاکستان کے حالات کیسے ٹھیک کیا جائیں۔ کیا جمہوریت لائی جائے یا آمریت؟ کیا عمران خان کو ووٹ ڈالا جائے یا نواز شریف کو؟ میرے پاس ایک سادہ سی تجویز ہے مگر اہل ثقافت برا مان جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں یہ تجویز پیش کروں ایک کہانی سنانا چاہتا ہوں-  تفصیل سے پڑھئے
شاہراہ پر جگہ جگہ گٹر کے خوب صورت جالی دار اور چوکور ڈھکن لگے ہیں۔ سائیڈ میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دیدہ زیب بینچ بنی ہیں، ایک جانب بہت سلیقے سے مختلف دکانیں سجی ہیں تو دوسری جانب صدیوں پرانا ایک مندر۔۔۔ ذرا پہچانئے یہ کون سا علاقہ اور کون سی شاہراہ ہے؟
کراچی میں لندن کی جیسی شاہراہ کا ایک منظر ملاحظہ کیجئے جو دونوں کناروں سے ٹریفک کے لئے بند ہے اور جو تار کول کے بجائے چھوٹی چھوٹی سرخ اینٹوں سے مل کر بنی ہے۔
شاہراہ کے عین درمیان میں شروع سے آخری کونے تک چار یا پانچ پانچ فٹ کے فاصلے سے مخصوص برطانوی طرز کے پول لگے ہیں۔ہر پول پر ایک جانب پاکستان کسٹم اور دوسری جانب سبز قومی پرچم لگا ہوا ہے۔ ان میں سے ایک پول پر سنہ 1950 کا سنہ اور اسی دور کی کمپنی کا نام درج ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
1960ءکی دہائی میں قوال بھائیوں کی جوڑی نے ایک قوالی گا کر جسے فلم عشق حبیب میں استعمال کیا گیا دھوم مچا دی۔ ان بھائیوں نے پنجاب میں رائج طرز قوالی سے یکسر انحراف کرتے ہوئے اپنا انداز متعارف کروایا۔ یہ بھائی تھے غلام فرید صابری اور مقبول صابری جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ بڑے بھائی حاجی غلام فرید صابری اپنی گرجدار آواز اور لمبی زُلفوں سے اور چھوٹے بھائی مقبول صابری اپنی ٹانٹی آواز سے سامعین کو متاثر کرنے لگے۔ ان کی پہلی قوالی کے بول تھے
میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا ۔ مجھے نظر کرم کی بھیک ملے
ان کی قوالی تاجدار حرم نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دئے۔
قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے
ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے----------- تفصیل سے پڑھئے
اشتیاق احمد---پاکستان میں بچوں کا جاسوسی ادب متعارف کروانے والے--پاکستانی اردو پلپ فکشن کا بادشاہ
اشتیاق احمد 1944 میں پانی پت کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان جھنگ میں آ کر آباد ہو گیا۔ لکھنے کے شوق کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ان کی سب سے پہلی تحریر سن 1960 میں ہفت روزہ قندیل میں شائع ہوئ تھی جس کا عنوان تھا، بڑا قد،۔ پہلا باقاعدہ ناول غالبا'' 1972 میں چھپا تھا جس کا نام '' پیکٹ کا راز'' تھا۔اشتیاق صاحب بتاتے ہیں کہ پہلے ناول کا معاوضہ انہیں پچاس روپے ملا تھا۔اس کے بعد اشتیاق صاحب نے مستقل ناول لکھنے شروع کئے جس میں انہوں نے پاکستان میں بچوں کے جاسوسی ادب کو متعارف کروایا۔ جو کہ تا حیات جاری رہے۔ ان کے ناولوں کو سن اسی اور نوے کی دہائی میں بہت زیادہ مقبولیت و پذیرائ ملی۔ ان کا آخری ناول '' عمران کی واپسی'' تھا جو حال ہی میں شائع ہوا تھا۔اس ناول میں انہوں نے ابن صفی کے ناولوں کے مشہور کردارعمران کو دوبارہ جاسوسی ادب میں زندہ کرنا چاہا لیکن افسوس کہ مزید لکھنے کی مہلت نہ ملی۔ ویسے اشتیاق صاحب کے کام میں ابن صفی سے لی گئ انسپائریشن صاف نظر آتی ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
مرزا, قادیانی کا ایک صحبت یافتہ قاضی یار محمد لکھتا ہے کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی (مردانہ) طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے کے لیے اشارہ کافی ہے۔‘‘ (اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر۱۳۴،ازقاضی یار محمد)
جب سے یہ کائنات تخلیق ہوئی ہے۔ گھٹیا سے گھٹیا ذہنیت کے کسی شخص نے بھی خالق کائنات اللہ وحدہ لا شریک کی پاک ہستی پر ایسا گندا ،گھناؤنا، کفریہ اور شرمناک الزام نہیں لگایا۔ ہو سکتا ہے یہ شیطان ہو جس نے مرزا کے ساتھ یہ جنسی ڈرامہ کھیلا ہو ۔ مرزا کے گندے خیالوں اور گندی حرکتوں کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے خوفناک عذاب سے دیا اور دنیا ہی میں اپنی نجاست کے ڈھیر پر اس نے آخری سانس لیا۔ (سیرۃ المہدی،جلد۱صفحہ ۱۱،ازمرزا بشیر احمد ولد مرزا غلام احمد ،روایت نمبر۱۲)
کاش مرزائی مرزا کے خاتمہ کے حالات پڑھ کر ہی کانوں کو ہاتھ لگا لیں اور قادیانیت کو خیر باد کہہ دیں! مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی ہونے کے بعد ان کے پہلے گدی نشین حکیم نور الدین تھے جن کو قادیانی جماعت’’خلیفہ اول‘‘ کے نام سے پکارتی ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
ایک نوجوان لڑکی کا پہلا لو لیٹر-"ابن ربانی"" ایک مشہور زمانہ مصنف کی کتاب
”انس یا نسیان پھر انسان“ سے لیا گیا ایک خط جسے پڑھ کر ہر پڑھنے والے کی آنکھ سے آنسو بہہ نکلا----ایک لڑکی کا پہلا لو لیٹر-------
اس دن جب گلی میں میں کھڑا تھا تو ایک لڑکا ایک گھر کے باہر بار بار چکر لگا رہا تھا۔میں نے اس سے جا کے پوچھا بھائی کس کی تلاش ہے تو اس نے کہا کسی کی نہیں بس ایک دوست نے ادھر آنے کا وقت دیا وہ ابھی تلک آیا نہین خیر میں اس کی بات سن کے گھر چلا گیا اور کچھ لمحوں بعد اچانک سے نکلا تو میں نے دیکھا اسی گھر سے ایک لڑ کی سر جھکائے تیزی سے باہر آئی اور جلدی سے اس لڑکے کو ایک لفافہ دے کیرگھر بھاگ گئی۔۔لڑکا وہ لفافہ لے کر بہت ہی مسکریا اور اسے دل سے لگاتا ہوا وہاں سے چل دیا میں اپنی بری عادت کے مطابق تحقیق کرنے کے لیے اس کے پیچھے چل دیا وہ لڑکا ایک درخت کے نیچے جا کر رکا اور اس نے اس لفافہ کو کھولا جس کے اندر سے ایک صفحہ نکلا اس نے اس صفحہ کو کوئی تین سے چار بار چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور پڑھنے لگا میں دور سے اس کے چہرے کو اور حرکات کو دیکھ رہا تھا اور اپنی قیاس آرائیوں میں مصروف تھا اچانک سے دیکھا لڑکے نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور بے ہوش ہو کے گر پڑا۔میں بھاگتے ہوئے اس کے قریب گیا اور اس کے ہاتھ سے وہ ورق لے کر تجسس سے پڑھنے لگا۔۔یہ ایک خط تھا جو اس لڑکی نے اپنے اس عاشق کو لکھا۔۔  تفصیل سے پڑھئے
صاحبان !! احوال اس قصے کا یوں ہے کہ یہ فقیر بلاد عرب میں قاضی ابوالہول کے اونٹ چرا کر کسب روزگار کا کیا کرتا تھا - حیات کیف و نشاط میں بسر ہوتی تھی - معمولات زندگی کے کچھ یوں تھے کہ ہر روز صبح سویرے نہار منہ , اونٹ اس فقیر کو جنگل میں لے جاتے اور شام تک خوب چراتے............. سر شام یہ فقیر اونٹوں کی مشقیں کس کے بیس کلو ساگودانہ ان کے آگے ڈالتا اور خود عربی قہوہ پی کر سوجاتا........ چناچہ اونٹ رات بھر خوشی سے بلبلاتے اور فقیر بھوک سے ہنہناتا -
ایک روز کہ نصف شب کا عمل تھا .....اونٹوں کے طبیلے میں کہرام مچ گیا- بارے جا کر محافظوں سے احوال چاہا تو معلوم پڑا کہ سارے اونٹ کچاوے چھوڑ ," تبدیلی تبدیلی" کے نعرے لگاتے نامعلوم سمت بھاگ کھڑے ہوئے ہیں............!!!    تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
جہاز پر پہنچے تو اپنا کیبن آراستہ و مرتب پایا- ہمارا سامان کیبن کے ایک گوشے میں ترتیب سے لگادیا گیا تھا- وزنی اور بڑا سامان جہاز کے تہہ خانے میں بھیجا جا چکا تھا- 
جہاز پر خوب گہما گہمی تھی ..... زیادہ تر مسافر انگریز تھے اور ظاہر ہے ہماری طرح انگلینڈ ہی جا رہے تھے- ہم گیلری میں کھڑے ہوئے تو سامان کی دھکم پیل اور گوریوں کی "ایکسکیوز می" نے ہمیں دوبارہ کیبن میں دھکیل دیا- جتنے زیادہ مسافر تھے اس سے دوگنے انہیں رخصت کرنے آئے ہوئے تھے- اتنے گوروں کے بیچ ہم چند کالے مسافر....اس پر متزاد کیبن کی گرمی .....میرا تو دم گھٹنے لگا-
"سر....میں اگر یہیں سے واپس لوٹ جاؤں تو.....کیسا رہیگا" میں نے سیّد صاحب سے التجا کی-
" مجھے تمہاری مشکلات کا اندیشہ ہے برخوردار ..... لیکن یاد رکھو .... اٹھارہویں صدی کا ھندوستان دیکھ لیا ہے تو.... یورپ بھی دیکھتے جاو .... ورنہ تمہاری داستان ہمیشہ ادھوری رہے گی " سرسیّد نے کہا- اور میں اپنے بیڈ پر تقریباً گر پڑا- تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
دنیا میں سب سے زیادہ ممالک میں جو چیز پیدا کی جاتی ہے اور کھائی جاتی ہے وہ ہے پیاز لیکن جسے دیکھو وہ دوسری سبزیوں کے صدقے واری جاتا ہے مگر پیاز کی کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ بی بی سی کے میرک پرزوِک کہتے ہیں کہ وقت آگیا ہے ہم یہ کہنا بند کریں کہ پیاز کڑوا ہوتا ہے، اسے کاٹتے ہوئے ہماری آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ، بلکہ ہمیں کہنا چاہیے ’پیاز زندہ باد‘۔
’امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں محفوظ قدیم بابُل تہذیب کے نوادرات میں سرخ مٹی کی تین تختیاں بھی شامل ہیں جن کی وجہ شہرت یہ ہے کہ ان پر دنیا کی قدیم ترین کھانے کی ترکیبیں لکھی ہوئی ہیں۔      تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
یہ عمارت ’اگیاری‘ ہے۔ یعنی پارسی برادری کا ’آتش کدہ‘ ۔۔۔جس کا پورا نام ’ایچ جے بہرانہ پارسی دار مہر‘ ہے۔ اس کے دروازے پر ہی آپ کو یہ عبارت لکھی نظر آجائے گی کہ ’اندر آنا منع ہے‘۔۔اور ۔۔۔ ’صرف ممبران کے لئے‘
کراچی —’صدر‘۔۔ شہرقائد کا وہ علاقہ ہے جہاں ہفتے کے ساتوں دن اور دن کے چوبیس گھنٹے لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے لیکن اسی بازار میں ایک عمارت ایسی بھی ہے جہاں یہ بورڈ لگا ہے کہ ’اندر آنا منع ہے‘۔۔اور ۔۔۔’صرف ممبران کے لئے۔‘
یہ عمارت ’اگیاری‘ ہے۔ یعنی پارسی برادری کا ’آتش کدہ‘۔۔۔جس کا پورا نام ’ایچ جے بہرانہ پارسی دار مہر‘ ہے۔ ڈاکٹر داوٴد پوتہ روڈ پر بوہری بازار کے قریب واقع یہ ایک قدیم عمارت ہے جو عشروں پہلے تعمیر ہوئی تھی۔ لیکن، اس کی صاف صفائی اور چمکتا ہوا رنگ و روغن دیکھ کر کہیں سے اس کی درازی عمر کا اندازہ نہیں ہوتا۔ آتش پرست یا پارسی برادری کا یہ عبادت خانہ کئی لحاظ سے سب سے منفرد اور اپنی اایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
یحییٰ عبدالطیف عیاش مغربی کنارے کے شہر رفاح میں 1966ء میں پیدا ہوئے جو فلسطین میں مزاحمت و انقلاب کی جائے پیدائش بھی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس دن ارض فلسطین اپنی ہاں ایک مجاہد کی تشریف آوری پر خوشی سے پھولے نہیں سمارہی ہوگی۔ یحییٰ کی شخصیت میں سب سے عجیب شے ان کا نام ہے۔ یحییٰ جس کا مطلب “زندہ رہنا” اور عیاش سے مراد “ایسا شخص جو ایک طویل زندگی جیئے”۔ اور حقیقت یہی ہے کہ یحییٰ اپنے نام کی طرح زندہ و جاوید ہیں۔ اور فلسطینی عوام ہی نہیں دنیا بھر کے حُریت پسند مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دنیا کو ایسے سسٹم دیے جو آج تک پوری دنیا میں رائج ہیں،
آپ نے نماز فجر میں الصلوٰۃ خیرمن النوم کا اضافہ کرایا۔ 
آپ کے عہد میں نماز تراویح کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا۔
آپ نے شراب نوشی کی سزا مقرر کی۔ سن ہجری کا اجرا کیا۔
جیل کا تصور دیا۔ مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں،
مسجدوں میں روشنی کا بند و بست کرایا۔
پولس کا محکمہ بنایا۔
ایک مکمل عدالتی نظام کی بنیاد رکھی۔
آب پاشی کا نظام قائم کرایا۔
فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا۔
آپ نے دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواؤں اور بے آسراؤں کے وظائف مقرر کیے۔
آپ نے دنیا میں پہلی بار حکمرانوں، سرکاری عہدیداروں اور والیوں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کاتصور دیا۔
آپ نے بے انصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور
آپ نے دنیا میں پہلی بار حکمران کلاس کی اکاؤنٹبلٹی شروع کی۔
آپ راتوں کو تجارتی قافلوں کی چوکیداری کرتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے جو حکمران عدل کرتے ہیں، وہ راتوں کو بے خوف سوتے ہیں۔ آپ کا فرمان تھا ’’قوم کا سردار قوم کا سچا خادم ہوتا ہے۔‘‘ آپ کی مہر پر لکھا تھا ’’عمر! نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے‘‘۔
آپ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں رکھے گئے۔
آپ زمین پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سو جاتے تھے۔
آپ سفر کے دوران جہاں نیند آجاتی تھی، آپ کسی درخت پر چادر تان کر سایہ کرتے تھے اور سو جاتے تھے اور رات کو ننگی زمین پر دراز ہوجاتے تھے۔
آپ کے کرتے پر 14پیوند تھے اور ان پیوندوں میں ایک سرخ چمڑے کا پیوند بھی تھا۔ آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنتے تھے۔ آپ کو نرم اور باریک کپڑے سے نفرت تھی۔
آپ کسی کو جب سرکاری عہدے پر فائز کرتے تھے تو اس کے اثاثوں کا تخمینہ لگوا کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور اگر سرکاری عہدے کے دوران اس کے اثاثوں میں اضافہ ہوجاتا تو آپ اس کی اکاؤنٹبلٹی کرتے تھے۔
آپ جب کسی کو گورنر بناتے تو اسے نصیحت فرماتے تھے۔ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑے نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا۔
آپ فرماتے تھے ظالم کو معاف کردینا مظلوموں پر ظلم ہے اور آپ کا یہ فقرہ آج انسانی حقوق کے چارٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ’’مائیں بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے انہیں کب سے غلام بنالیا۔‘‘ فرمایا میں اکثر سوچتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں۔ ’’عمر بدل کیسے گیا۔‘‘ آپ اسلامی دنیا کے پہلے خلیفہ تھے، جنہیں ’’امیر المومنین‘‘ کا خطاب دیا گیا۔
جزاک اللہ خیرا ۔ زبردست کام کیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ،
ولایہ " تکریت" کا گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ھونے تک شادی سے انکار کرتا رھا،
ایک دن اس کے بھائی اسدالدین شیر کوہ نے اس سے کہا : بھائی تم شادی کیوں نھیں کرتے ..؟
نجم الدین نے جواب دیا : میں کسی کو اپنے قابل نھیں سمجھتا .
اسدالدین نے کہا : میں آپ کیلئے رشتہ مانگوں ؟
نجم الدین نے کہا : کس کا ؟
اسدالدین : ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیر المک کی بیٹی کا ..
نجم الدین ؛ وہ میرے لائق نھیں ،
اسدالدین حیرانگی سے : پھر کون تیرے لائق ھوگی ؟
نجم الدین نے جواب دیا : مجھے ایسی نیک بیوی چاھئیے جو میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے میرا اک ایسا بیٹا پیدا ھو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ھو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ..
اسدالدین کو نجم الدین کی بات پسند نہ آئی اور انہوں نے کہا : ایسی تجھے کہاں ملے گی ؟
نجم الدین نے کہا : نیت میں خلوص ھو تو اللہ نصیب کرے گا ..
ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے اک شیخ کے پاس بیٹھے ھوئے تھے ، ایک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ھی شیخ کو آواز دی ،
شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کیلئے نجم الدین سے معذرت کی ..
نجم الدین سنتا رھا شیخ لڑکی سے کیا کہ رھا ھے ..
شیخ نے لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کردیا جس کو میں نے بھیجا تھا..؟
لڑکی : اے ھمارے شیخ اور مفتی وہ لڑکا واقعی خوبصورت اور رتبے والا تھا مگر میرے لائق نھیں تھا
شیخ : تم کیا چاھتی ھو ؟
لڑکی : شیخ مجھے اک ایسا لڑکا چاھئیے جو میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے مجھے اللہ ایک ایسا بیٹا دے جو شہسوار ھو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ،،
نجم الدین حیران رہ گیا کیونکہ جو وہ سوچتا تھا وھی یہ لڑکی بھی سوچتی تھی ..
نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکرائے تھے شیخ سے کہا اس لڑکی سے میری شادی کروا دیں ،،
شیخ : یہ محلے کے سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ھے ..
نجم الدین : میں یہی چاھتا ھوں .
نجم الدین نے اس فقیر متقی لڑکی سے شادی کر لی اور اسی سے وہ شہسوار پیدا ھوا جسے دنیا سؒلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے نام سے جانتی ھے ..
جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کروایا ..
پھر دکھا دے اے تصور منظر وہ صبح شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو ..
؁؁؁
زمانہ آج بهی کسی صلاح الدین کا منتظر هے .....مگر افسوس نجم الدین اور اسکی بیوی کی طرح تمنا رکهنے والے لڑکے لڑکیوں کا قحط هے ......
اس گروپ میں هیں کوئ ایسے جذبات والے لڑکے لڑکیاں ؟؟؟
-------------- ابو اسامہ مقبول احمد رشیدی-------------------
پاکستان میں گند صاف کرنے والوں کو "چوڑا" کہا جاتا ہے تعجب کی بات ہے جو گند ڈالتے ہیں وہ تو مہذب کہلاتے ہیں اور جو ہمارا ہی گند صاف کرتے ہیں وہ "چوڑے" کہلاتے ہیں 
ان کو دیکھ کر ہم کو حقارت سی محسوس ہوتی ہے اور بندہ ان سے تھوڑا دور ہی رہتا ہے یہ اگر پانی مانگیں یا کچھ کھانے کو مانگیں تو ہم اپنے صاف برتنوں میں کبھی نہیں دیتے اور اگر دے دیں تو ہمیشہ کیلئے ان کو الگ رکھ دیتے ہیں 
اب چلتے ہیں دوسری جانب 
جو عورت آپ کو اپنا ضمیر اپنی غیرت مار کر جسم سے کھیلنے کی اجازت دے اور آپ کے جسم کی گندگی سے اپنے جسم کو گندہ ہونے کے پیسے وصول کرے اس کو ہم طوائف کہتے ہیں، معاشرے میں چوڑے کی طرح طوائف کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ایسی عورت کے پاس وہ لوگ جاتے ہیں جن کا زہن گندہ ہوتا ہے
اب پھر آتے ہیں واپس
اگر چوڑے نہ ہوں تو پاکستان میں ہر طرف گندگی ہی گندگی نظر آئے گی اس لئے ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہیئے لیکن چونکہ ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں اس لئے ہم شکریہ ادا کرنے کی بجائے ان سے ہاتھ ملانا بھی گنوارہ نہیں کرتے حالانکہ ہم خود اپنی گندگی صاف کرکے ہاتھ دھو کر ایک دوسرے کا ہاتھ چومتے رہتے ہیں، شاید ہی مجھ سمیت کوئی ایسا ہو جس نے ان کو کبھی گلے ہی لگایا ہو
واپس چلتے ہیں
طوائف کا وجود شاید صدیوں سے ہے ملک کے مختلف شہروں میں ریڈ لائٹ ایریئے بنائے گئے تاکہ گندے لوگ بجائے معاشرے کی اچھی اچھی لڑکیوں کی عزت سے کھیلیں وہ یہاں آکر اپنا جی بہلا سکتے ہیں لیکن پھر وقت گزرا اور یہ لوگ پورے پاکستان میں پھیل گئے ، وقت کے ساتھ تبدیلی ایسی آئی کہ پڑھی لکھی ماڈلز، طالبات اور دیگر شعبہ جات کی خواتین بھی اس کام کا حصہ بن گئیں اور اب یہ حال ہے کہ مرد ہو یا عورت شادی سے پہلے شادی شدہ ہو چکے ہوتے ہیں
اصل بات یہ ہے کہ
آج کے معاشرے کا کافی برا حال ہو چکا ہے ، لڑکیوں کو لڑکے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کھانے کی ڈش ہو اور لڑکیاں بھی بے تاب نظر آتی ہیں ، پہلے جوڑے کو ملنا مشکل ہوتا تھا اب موبائل نے سب کام آسان کردیا ہے ویڈیو چیٹنگ کریں اور مزے بھی کریں گھر والے بے فکر ہو کر سو رہے ہوتے ہیں گویا معاشرے کی اکثریت زہنی طور پر گندی ہو چکی ہے اس کو صاف کرنے کیلئے ہمارے پاس کوئی چوڑا نہیں اگر سوچ کی بھی بو ہوتی تو شاید ہر انسان سے ہی بدبو آتی لیکن اللہ نے پردہ کر رکھا ہے
اور اس سے بھی گہری بات یہ کہ
اب طوائف بھی ہر گلی محلے میں مل جائے گی جو کام پہلے پیسے لے کر کیا جاتا تھا اب محبت کے نام پر مفت ہی ہو جاتا ہے ، لڑکے لڑکیوں کی دوستیاں ہوتی ہیں اور دوستی دوستی میں دو جسم ایک جان ہو جاتے ہیں جو طوائف معاشرے کے صرف گندے لوگوں کی پسند تھی وقت بدلنے کے ساتھ اب اچھے اچھے لوگ بھی اس کی نظر ہو چکے ہیں یہ طوائفیں پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں
تو جناب حل یہ ہے کہ
ہمیں اپنے بچوں پر نظر رکھنا ہوگی ان کے ذہن کو گندہ ہونے سے بچانا ہوگا اچھا رشتہ دیکھ کر بچیوں کی جلدی شادی کرنا ہوگی اگر اب بھی ہم نے نہ سوچا تو معاشرہ تباہ ہو جائے گا اور ہم ہاتھ پر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔
زریابیاں
بچپن میں ہمدرد نونہال پڑھنے والے اپنی بچپن کی یاد تازہ کرلیں۔
چالاک خرگوش کے کارنامے----ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دینے والا بچوں کا ناول
معراج-----نونہال ادب-----
مکھّن چور
بہت دن گزرے جنگل کے سب جانور اکھٹّے رہا کرتے تھے۔ وہ سب ایک ہی تھالی میں کھانا کھاتے، ایک ہی چشمے میں پانی پیتے، گرمیوں میں مل جل کر کام کرتے اور سردیوں میں ایک ہی غار میں آرام کرتے۔ اُن دنوں سب جانوروں کو مکھّن کھانے کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ اُن کے مکھن کا ذخیرہ بھی ایک ہی تھا۔ جب کسی کو ضرورت ہوتی تو وہ تھوڑا سا مکھّن نکال کر کھا لیتا۔
ایک دن انہوں نے دیکھا کہ کسی نے بہت سا مکھن چرا لیا ہے۔ سب جانوروں کو بڑی تشویش ہوئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہر روز ایک جانور ساری رات جاگ کر پہرا دے۔ پہلی باری ریچھ کی آئی۔ وہ مرتبان سامنے رک کر بیٹھ گیا۔ بیٹھے بیٹھے ریچھ کی ٹانگیں درد کرنے لگیں۔ رات کے پچھلے پہر باہر کھُسر پھُسر کی آواز سنائی دی۔ ریچھ کے کان کھڑے ہوگئے۔ کوئی آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا، "بیری کے درخت والے چھتّے میں سوراخ ہو گیا ہے۔ سارا شہد بہا جا رہا ہے، بھیّا ریچھ ہوتے تو انہیں بتا دیتا۔"
ریچھ شہد کھانے کا بڑا شوقین تھا۔ وہ سب کچھ بھول بھال کر باہر کی طرف لپکا۔ اُدھر خرگوش اندر آیا اور مکھّن کا مرتبان نکال کر جی بھر کے مکھّن کھایا اور ریچھ کے آنے سے پہلے باہر چلا گیا۔ بےچارا ریچھ ناکام واپس لوٹا۔
اگلی صبح جانوروں نے مکھّن کم پایا تو انہوں نے ریچھ کو بہت برا بھلا کہا اور سزا کے طور پر سال بھر کے لیے اس کا مکھّن بند کر دیا۔
اگلے دن کتّے کی باری تھی۔ وہ دن بھر پہرا دیتے دیتے تھک گیا۔ رات کو پھر خرگوش آیا۔ اس نے کتّے کو زور سے سلام کیا، "ہیلو بھیّا بھوں بھوں! کیسے مزاج ہیں؟"
کتّا بولا، "صبح سے بیٹھے بیٹھے تنگ آ گیا ہوں۔"
خرگوش بولا، "تو آؤ ذرا دوڑ لگائیں۔"
کتا دوڑنے کا بہت شوقین تھا۔ جھٹ تیار ہو گیا۔ خرگوش نے کہا، "میں گھاس میں دوڑتا ہوا لمبا چکّر کاٹ کر پل تک جاتا ہوں، تم سڑک سڑک جاؤ، دیکھیں پہلے کون ہاتھ لگا کر واپس لوٹتا ہے۔"
کتّا مان گیا۔ دوڑ شروع ہوئی۔ خرگوش گھاس میں کچھ دور دوڑا، پھر دُبک کر بیٹھ گیا۔ جب کتّا کافی دور نکل گیا، تب وہ اطمینان سے باہر نکلا اور اس نے گودام میں جا کر جی بھر کے مکھّن کھایا اور پھر گھاس میں چھپ گیا۔
اتنے میں کتّا دوڑ لگا کر واپس آ گیا۔ اس نے ہانپتے ہوئے آواز دی، "اے خرگوش بھیّا! کہاں ہو تم؟"
خرگوش نے گھاس سے سر نکالا اور جھوٹ موٹ ہانپتا ہوا باہر آیا اور کتّے سے ہاتھ ملا کر گھر کو چل دیا۔
اگلے دن بےچارا کتّا بھی سال بھر کے لیے مکھّن سے محروم کر دیا گیا۔
اب بھیڑیے کی باری تھی۔ وہ بھی دن بھر مرتبان سامنے رکھ کر بیٹھا رہا۔ رات کو خرگوش پھر آیا۔ اس نے بھیڑیے کو گدگداتے ہوئے کہا، "کتنے چور پکڑ لیے ہیں بھیڑیے خان؟"
بھیڑیا گدگدی کے مارے ہنسنے لگا۔ خرگوش نے اور زیادہ گدگداتے ہوئے کہا، "اتنا نہیں ہنسا کرتے بھیڑیے بھیّا!"
بھیڑیا اور زور زور سے ہنسنے لگا۔ اسے گدگدی بہت ہوتی تھی۔ خرگوش نے دونوں ہاتھوں سے گدگداتے ہوئے کہا، "جو زیادہ ہنستا ہے، وہی زیادہ روتا بھی ہے۔"
بھیڑیا ہنستے ہنستے اپنی کرسی سے لڑھک گیا اور زمین پر لوٹنے پوٹنے لگا۔ خرگوش نے اسے کرسی پر بٹھایا اور گرد جھاڑنے کے بہانے اس کی آہستہ آہستہ مالش کرنے لگا۔
بھیڑیا سو گیا۔ تب خرگوش اندر گیا۔ اس نے جی بھر کے مکھّن کھایا اور اپنے گھر کی راہ لی۔ اگلے دن بھیڑیے کا بھی وہی حشر ہوا۔ سال بھر کے لیے مکھّن بند!
اب لومڑ کی باری تھی۔ رات کو پھر خرگوش آیا۔
"اوہو! آج لومڑ بھیّا کی باری ہے۔" خرگوش نے کہا، "کتنے چور پکڑ لیے ہیں بھیّا جی؟"
لومڑ نے بیزاری سے کہا، "صبح سے بیٹھے بیٹھے تنگ آ گیا ہوں۔"
خرگوش بولا، "تو آؤ آنکھ مچولی کھیلیں۔"
"اور اگر چور آ گیا تب؟"
خرگوش بولا، "ہم دونوں اس کا بھُرتا بنا دیں گے۔"
لومڑ مان گیا۔ دونوں درختوں کے پیچھے آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔ کچھ ہی دیر میں لومڑ اتنا تھک گیا کہ وہ آرام کرنے زمین پر لیٹا اور لیٹتے ہی سو گیا۔
اگلے دن اس کو بھی سزا ملی۔ سال بھر تک مکھّن بند۔
لومڑ ذرا ہوشیار جانور تھا۔ اس نے اپنا شبہ خرگوش پر ظاہر کیا۔ اب تو سب جانور باری باری اپنی آپ بیتی بیان کرنے لگے۔ سب کو یقین ہو گیا کہ خرگوش چالاکی سے مکھّن چُرا لیتا ہے۔ سب جانوروں نے اس دفعہ جنگل کے جاسوس بندر کو چور پکڑنے کے لیے مقرّر کیا۔
بندر مکھّن کا مرتبان نیچے رکھ کر اس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔
رات کو خرگوش آیا، "ہیلو بھیّا بندر! کیسے مزاج ہیں؟"
"بہت برے۔" بندر نے رکھائی سے جواب دیا، "صبح سے سر درد اور زکام ہے۔"
"تو آئیے سیر کو چلیں۔" خرگوش بولا۔
"نہیں بھیّا! بالکل موڈ نہیں ہے۔" بندر رکھائی سے بولا۔
آنکھ مچولی بھی نہیں کھیلو گے؟" خرگوش نے اشتیاق سے پوچھا۔
بندر بولا، "نہیں، مجھے بچوں کے کھیل پسند نہیں آتے۔"
خرگوش نے حیرانی سے پوچھا، "تو پھر کونسا کھیل پسند ہے تمہیں؟"
بندر بولا، "رسّا کشی۔"
خرگوش مان گیا۔ بندر نے جھٹ پٹ خرگوش کی دُم سے رسّا باندھا۔ اس دوسرا سِرا درخت سے باندھ کر بولا، "کھینچیے رسّا۔"
اب خرگوش رسّا کھینچنے میں مصروف رہا۔ اُدھر بندر سب جانوروں کو بلا لایا۔ خرگوش انہیں آتے دیکھ کر چونکنا ہوا اور ساری بات بھانپ گیا۔ اس نے دُم چھڑانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔
بےچارا خرگوش پکڑا ہی گیا، جانوروں نے سزا کے طور پر اس کی دُم کاٹ ڈالی اور اس کے کانوں کو زور زور سے کھینچا۔ کہتے ہیں میاں خرگوش تب سے لنڈورے ہیں اور اس کے کان بھی لمبے ہیں۔ اس دن سے خرگوش جنگل کے جانوروں سے علیحدہ رہتا ہے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
یہ جاپان کے شمال میں واقع ایک جزیرہ ہوکائیدو پر قائم کامی شراتاکی نامی ریلوے اسٹیشن ہے-گزشتہ تین برس سے اس سٹیشن پر روزانہ صرف ایک مسافر کے لیے دو ٹرینیں رکتی ہیں۔
جاپان ریلویز نے آج سے تین برس قبل اس اسٹیشن کو دور دراز ہونے اور اس روٹ پر مسافر نہ ہونے کی وجہ سے بند کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انتظامیہ نے اپنا فیصلہ اس وقت تبدیل کر دیا جب انہیں معلوم ہوا کہ ایک مسافر ہے جو روزانہ اس ریل گاڑی پر سفر کرتا ہے - اس ویران اسٹیشن پر رکنے والی یہ ریل گاڑی ایک لڑکی کے کالج جانے کا واحد ذریعہ تھی
اس وقت جاپان کا یہ ریلوے اسٹیشن صرف ایک مسافر کے لیے پوری طرح سے کام کر رہا ہے اور یہاں روزانہ دو ٹرینیں رکتی ہیں جن کا شیڈول بھی لڑکی کے کالج جانے اور واپس آنے کے وقت کو دیکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔ اگر بعض اوقات اس لڑکی کا سکول دیر سے بند ہو تو گاڑی کا شیڈول بھی اس حساب سے چینج کیا جاتا ہے
یہ فیصلہ اگرچہ جاپان ریلویز کے لیے کافی مہنگا ضرور تھا مگر اس سے جاپان نے دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے ایک مثال قائم کی کہ ایک فلاحی حکومت کیسے اپنے شہریوں کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے اور ریاست ایک بچے کی تعلیم کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے
مذکورہ طالبہ رواں سال 26 مارچ کو اپنے کالج کی تعلیم مکمل کرلے گی اور جاپان ریلویز کے مطابق یہ اسٹیشن اس وقت ایسے ہی کام کرتا رہے گا ۔
جب چین کے ٹی وی چینل سی سی ٹی وی نے یہ واقعہ اپنے فیس بک پیج پر شیئر کیا تو لوگوں کے کمنٹس پڑھنے لائق تھے ایک شخص نے لکھا :
" مجہے یقین ہے ہے کہ میں نے اپنی گزری اور انے والی زندگی میں یہ بہترین چیز ہے جو میں نے سنی ہے''
ایک اور شخص نے کہا :
" میں ایسی ریاست کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے کیوں گریز کرونگا ، جو میری قوم کے بچوں کے مستقبل کے لیے اس حد تک جا سکتی ہے ''
ایک خاتون نے لکھا :
میں بلا تاخیر اپنا ملک ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جاپان میں رہنا چاہوں گی ، کیونکہ میرے حکومت کسی جونک کی طرح ہمارا خون چوس رہی ہے ، میری جیب میں پڑا اخری سکہ بھی سرکار کے خزانے میں جاتا ہے ، مگر مجہھے نہیں معلوم عوام کے ان ٹیکس کو کہاں خرچ کیا جاتا ہے
ایک بھارتی شہری کا کمنٹ بہت دلچسپ تھا ، اس نے لکھا :
'' یہ کونسی بڑی بات ہے ، ہمارے ملک میں ٹرین تو کیا ، جہاز بھی روکے جاتے ہیں ، بٹ فار بلڈی پولیٹیشینز ''
یہ صرف ایک واقعہ نہیں ، ایک سوال ہے جو ہم سب کو خود سے پوچھنا چاہئیے ، ایک تھپڑ ہے جو ہم سب کو اپنے منہ پر مارنا چاہئیے، کیونکہ قصور سیاستدانوں کا نہیں ، قصور ان لوگوں کا ہے جو ان ہائی وے روبرز کو اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھاتے ہیں
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers