حکایت ہے کہ ایک گلا س میں پانی اور تیل تھے۔ ایسی صورت میں تیل اوپر رہتا ہے کیونکہ پانی زیا دہ وزنی ہو تا ہے۔ پانی نے تیل سے شکایت کی اور پو چھا کہ یہ کیا با ت ہے میںنیچے رہتا ہو ں اور تو اوپر حالانکہ میں پانی ہو ں اور پانی کی یہ صفت ہے کہ وہ صاف ، شفاف، خو د طا ہر و مطہر، روشن ، خوبصورت ، خوب سیر ت غرض ساری صفتیں موجو د ہیں اور تو ” تیل “ جو خود بھی میلا اور جس پر گرے اس کو بھی میلا کرے۔ کوئی چیز تجھ سے دھوئی نہیں جا سکتی، چاہئیے یہ تھا کہ تو نیچے ہوتا اور میں اوپر مگر معاملہ برعکس ہے کہ میں نیچے ہو ں اور تو اوپر۔ تیل نے جو اب دیا کہ ہا ں یہ سب کچھ ہے لیکن تم نے کوئی مجا ہد ہ نہیں کیا۔ ہمیشہ نا زو نعم ہی میں رہے بچپن سے اب تک۔۔۔ بچپن میں فر شتے آسمان سے اتا ر کر بڑے اکرا م سے تم کو لائے ، پھر جس نے دیکھا عزت کے ساتھ بر تنوں میں بھر لیا، بڑی رغبت سے نو ش کیا۔ غر ض ہمیشہ عزت ہی عزت اور نا ز ہی نا ز دیکھا۔ تمہاری دھو پ سے حفا ظت کی جا تی ہے۔ میل کچیل اورگردو غبا رسے حفا ظت کی جا تی ہے۔ گو اپنے مطلب کو سہی ، لیکن ایک میں ہو ں کہ جب سے میری ابتدا ہوئی ہے ہمیشہ مصیبتیں ہی مصیبتیں جھیلی ہیں سب سے پہلے تخم ( بیج) تھا سرسو ں یا تل کا۔ اس کے بعد مصیبت کا یہ سامنا ہو اکہ سینکڑو ں من مٹی ہمارے اوپر ڈالی گئی۔ سینہ پر پتھر رکھا گیا۔ پھر میرا جگر شق ہو ایہ دوسری مصیبت پڑی۔ تیسری مصیبت یہ پڑی کہ زمین کو توڑ کر با ہرنکلے۔ چو تھی یہ کہ جب با ہر نکلے تو آفتا ب کی تما زت(گرمی) نے جگر بھون دیا۔ پانچویں مصیبت یہ جھیلنی پڑی کہ جب کچھ بڑے ہو گئے تو درا نتی سے کا ٹا گیا ، چھٹی مصیبت یہ کہ زیر و زبر کیا گیا اور بیلو ں کے کھر وں میں روندا گیا۔ اخیر میں ساتویں مصیبت تو غضب کی تھی کہ کولہو میں ڈال کر جو کچلا ہے تو جگر جگر پا ش پا ش کر دیا اس طر ح میں و جو د میں آیا۔ میر ی تمام عمر تو مجا ہد وںہی میں گزری اور یہ بات طے ہے کہ مجا ہدہ کا ثمرہ اونچا رہنا ہے اور نا ز و نعم کا ثمرہ نیچا رہنا ہے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
مکہ معظمہ میں ایک کافر ولید نامی رہتا تھا ، اس کا ایک سونے کا بت تھا جسے وہ پوجا کرتا تھا ، ایک دن اس بت میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ کہنے لگا لوگو محمد اللہ کا رسول نہیں ہے اس کی تصدیق نہ کرنا۔ (معاذ اللہ ) ولید بڑا خوش ہوا اور باہر نکل کر اپنے دوستوں سے کہا مبارکباد! آج میرا معبود بولا ہے اور صاف صاف اس نے کہا ہے کہ محمد اللہ کا رسول نہیں ہے، یہ سن کر لوگ اس کے گھر آئے تو دیکھا کہ واقعی اس کا بت یہ جملے دہرا رہا ہے، وہ لوگ بھی بہت خوش ہوئے اور دوسرے دن ایک عام اعلان کے ذریعے ولید کے گھر میں ایک بہت بڑا اجتماع ہو گیا تا کہ اس دن بھی وہ لوگ بت کے منہ سے وہی جملہ سنیں۔ جب بڑا اجتماع ہو گیا تو ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دی تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود تشریف لا کر بت کے منہ سے وہی بکواس سن جائیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو بت بول اٹھا: 'اے مکہ والو! خوب جان لو کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں ان کا ہر ارشاد سچا ہے اور ان کا دین برحق ہے تم اور تمھارے بت جھوٹے ہیں، گمراہ اور گمراہ کرنے والے ہیں اگر تم اس سچے رسول پر ایمان نہ لاؤ گے تو جہنم میں جاؤ گے، پس عقلمندی سے کام لو اور اس سچے رسول کی غلامی اختیار کر لو۔' بت کا یہ وعظ سن کر ولید بڑا گھبرایا اور اپنے معبود کو پکڑ کر زمین پر دے مارا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فاتحانہ طور پر واپس ہوئے تو راستے میں ایک گھوڑے کا سوار جو سبز پوش تھا حضور سے ملا اس کے ہاتھ میں تلوار تھی جس سے خون بہہ رہا تھا ، حضور نے فرمایا تم کون ہو؟ وہ بولا حضور! میں جن ہوں اور آپ کا غلام اور مسلمان ہوں، جبل طور میں رہتا ہوں، میرا نام مہین بن العبر ہے، میں کچھ دنوں کے لئے کہیں باہر گیا ہوا تھا آج گھر واپس آیا تو میرے گھر والے رو رہے تھے ، میں نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا ایک کافر جن جس کا نام مسفر تھا وہ مکہ میں آ کر ولید کے بت میں گھس کر حضور کے خلاف بکواس کر گیا ہے اور آج پھر گیا ہے تا کہ بت میں گھس کر آپ کے متعلق بکواس کرے ۔ یا رسول اللہ! مجھے سخت غصہ آیا میں تلوار لے کر اس کے پیچھے دوڑا اور اسے راستے میں قتل کر دیا اور پھر میں خود ولید کے بت میں گھس گیا اور جو کچھ کہا میں نے ہی بولا ہے یا رسول اللہ۔ حضور نے یہ قصہ سنا تو بڑی مسرت کا اظہار کیا اور اس اپنے غلام جن کے لئے دعا فرمائی ۔ (جامع المعجزات ص
فوج کے بارے میں چند شدید قسم کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں . سوچ رہا ہوں آج اس بارے میں بات کر ہی لوں .
سب سے بڑی غلط فہمی یا اعتراض سمجھ لیں وہ یہ ہے کہ نشان حیدر تقریباً تمام ہی افسران کو ملے ہیں ، عام سپاہی کو کیوں نہیں ملتا ؟ پہلے تو آپ یہ جان لیں کہ اب تک پاکستان کی تاریخ میں دس لوگ اس بہادری کے اعلیٰ اعزاز کو حاصل کر چکے ہیں ، جن میں سات آفیسرز اور تین مختلف کیڈرز کے سپاہی شامل ہیں . اور سب سے مزے کی بات یہ کہ جو سات آفیسرز شامل ہیں ان میں سے کوئی بھی میجر سے اوپر رینک کا نہیں ،
اور اگر آپ فوجی امور سے تھوڑی بہت بھی واقفیت رکھتے ہیں تو یہ جانتے ہوں گے کہ میجر رینک تک کے افسران فیلڈ میں لڑنے والے ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ ٹروپس کو لڑواتے ہیں ، یہ کوئی آفس میں بیٹھ کر آرڈر دینے والے نہیں ہوتے .
دوسری بات آپکو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں .  تفصیل سے پڑھئے
ایک شخص اولیاء کرام کا منکر تھا۔ ایک روز حضرت ذوالنون مصری سے اس کی اتفاقیہ ملاقات ہو گئی۔ حضرت ذوالنون نے اسے ایک انگوٹھی دے کر فرمایا۔ کہ جاؤ کسی تانبائی کے پاس اسے گروی رکھ آؤ۔ وہ شخص انگوٹھی لے کر ایک تانبائی کے پاس گیا اور اسے انگوٹھی گروی رکھنے کو کہا۔ اس تانبائی نے انگوٹھی دیکھی۔ اور کیا میں اسے ایک درہم سے زیادہ نہ رکھوں گا۔ وہ شخص انگوٹھی واپس لے آیا۔ اور حضرت ذولنون سے کہنے لگا کہ وہ اسے ایک درہم سے زیادہ پر گروی رکھنے کو تیار نہیں۔ اپ نے فرمایا۔ اچھا اب اسے کسی صراف کے پاس لے جاؤ اور اس سے دریافت کرو کہ وہ اسے کہاں تک گروی رکھ لے گا۔ چنانچہ وہ پھر اس انگوٹھی کو لے ایک صراف کے پاس آیا۔ صراف نے انگوٹھی کو دیکھ کر بتایا کہ وہ اسے ایک ہزار دینار پر گروی رکھ لے گا۔ وہ شخص حضرت ذولنون کے پاس آیا اور بتانے لگا کہ صراف اس کے ایک ہزار دینار دیتا تھا۔ حضرت نے فرمایا بس مجھے یہی سمجھانا تھا کہ تمھارا علم اولیاء کرام کے متعلق صرف اتنا ہی ہے جتنا علم اس تانبائی کا اس انگوٹھی کے متعلق تھا۔ تم اگر عارف پہچاننے والے ہوتے تو اولیاء کرام کا کبھی انکار نہ کرتے۔ وہ شخص اپنی غلطی پر نادم ہوا اور تائب ہو گیا۔
(تذکرۃ الاولیاء ص ۱۴۵)
خواتین یہ نوٹ فرما لیں کہ آئیڈیل نام کی مخلوق کہیں نہیں پائی جاتی- ھر شخص کسی نہ کسی کمزوری کا شکار ھوتا ھے۔بس دور کے ڈھول سہانے ھوتے ھیں-
لڑکیاں اپنی امی سے سبق حاصل کریں انہوں نے کبھی اپنی امی کے منہ سے اپنے ابو کے لئے کوئی کلمہ خیر سنا ھے ؟ بس جو کچھ آپ کے ابو ھیں وھی کچھ سارے مرد ھیں،، اور ناشکری کی جو تسبح آپکی امی پڑھتی ھیں وھی آپ نے بھی پڑھنی ھے !
اس لئے آئیڈیل صرف ناولوں میں ھوتے ھیں یا ڈراموں اور فلموں میں
" بس گزارہ کرنا ھے " کو اپنا موٹو بناؤ گی تو ان شاء اللہ اچھی گزرے گی
نئے گھر میں جاؤ گی تو پہلے دو چار مہینے بغور جائزہ لینا ھے
ھر انسان کی ایک کمزوری ھوتی ھے ، اسی کمزوری کو تم نے اپنی طاقت بنانا ھے
جو گڑ سے مرتا ھے اسے کبھی زھر سے مارنے کی کوشش مت کرنا
اگر ساس تعریف کو پسند کرتی ھے تو " اس کی خوب تعریف کرنے کی عادت ڈالو
ساس کا علاج سسر ھے ،، اس کو خوب " چُوری شُوری " کُٹ کے دینی ھے کیونکہ کل اسی نے پنچائت میں بولنا ھے
شوھر اپنی ماں کی برائی کرے بھی تو تم نے تعریف ھی کرنی ھے اور اسے والدین کے حقوق یاد کرانے ھیں
ساس برا بھی کرے تو تم نے شوھر کے سامنے اس کی تعریف ھی کرنی ھے ، شکایت نہیں کرنی
اس کے نتیجے میں وہ ماں کی کسی بات کا اعتبار نہیں کرے گا
یاد رکھنا خون کے رشتے کبھی نہیں چھوٹتے اگرچہ ان میں کتنی کشیدگی پیدا ھو جائے ! وہ کل پھر ایک جیسے ھو جائیں گے ،، اس موقعے کو غنیمت جان کر ان کی جڑ کاٹنے کی کوشش مت کرنا ،، شوھر اگر آج کسی بہن یا بھائی سے ناراض ھے اور غصے میں پاگل ہو رھا ھے تو تم ساتھ لقمے مت دو ،تمہارا اندر کھل کر سامنے آجائے گا ،،، شوھر غصہ اترنے کے بعد پھر ان کے ساتھ ویسا ھی ھو جائے گا اور تم بری بن جاؤ گی ،، وہ تمہارے شوھر کو منا لیں گے کیونکہ وہ ان کا خون ھے تمہیں کسی نے نہیں منانا ۔لہذا تم کسی کے ساتھ ناراض مت ھونا ،شوھر بے شک ناراض ھوتا رھے
میاں بیوی کا رشتہ پیار اور اعتماد کا رشتہ ھے ،،مگر حقیقت یہ ھے کہ یہ سراب کا رشتہ ھے ،صرف تین کلموں کی مار ھے ! ایک پل میں محرم نامحرم ھو جاتا ھے
اس رشتے کی مضبوطی کو کبھی بھی آزمانے کی کوشش مت کرنا ! ہمیشہہ مضبوط کرنے کی کوشش کرنا
شوہر عموماً بے وفا اور سفید آنکھوں والے ھوتے ھیں ،، ان کے ساتھ ڈر ڈر کر گزارہ کرنا ھے !
صرف ایک پل چاھئے ان کی آنکھیں بدلنے میں
بے وفا بے مروت ہے ان کی نظر ،یہ بدل جائیں گے زندگی لوُٹ کر
ساری لڑکیاں اور لڑکے اب میرے لیے زوردار تالیاں بجاے،،
4 ﺍﭘﺮﯾﻞ ﺳﻨﮧﺀ 2057 )
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﻓﯿﺴﺮﻧﮯ ﮐُﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩُﻋﺎ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻣُﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ۔ “ ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﺼﺮﺍً ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ” ؟
ﺁﺩﮬﮯ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺻﺪﯾﻘﯽ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺧُﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺗﻤﺘﻤﺎ ﺭﮨﺎﺗﮭﺎ۔ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﻮﻝ ﺍُﭨﮭﮯ۔ “ ﺟﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﭨﯿﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﭖ ﭘﺎﺭﮐﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮑﻨﮏ ﺳﭙﺎﭨﺲ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻼﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺖ ﮐﻮﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﯿﻄﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺧُﻮﺷﺒﻮﺩﺍﺭﮐﻤﭙﺎﻭﻧﮉﺯ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﻣﮩﮏ ﺍُﭨﮭﯿﮟ ﮔﮯ ” ۔
ﻟﻤﺒﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﻓﯿﺴﺮﻧﮯ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳُﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺗﻮﻗﻒ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻻ۔ “ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺗﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺎﺕ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﻣﺮﺍﻟﻠﮧ ﺑﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﻣﺤﺾ ﻭﺳﯿﻠﮧ ﺑﻨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﮕﮧ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﻣﮩﮑﺘﯽ ﮨﮯ، ﮐﺴﯽ ﮐﯿﻤﯿﺎﺋﯽ ﻣﻮﺍﺩ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ” ۔  تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
بریلی سے متھرا کے درمیان ریلوے لائن پر واقع بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے خطہ روہیل کھنڈکا ایک ضلع اور شہر ۔ بدایوں شہر بریلی سے تقریبا 44 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب دریاے سوت کے مشرقی کنارے پر آباد ہے۔ بدایوں کو روہیل کھنڈ کا دل بھی کہا جاتا ہے۔
شہنشاہ اکبر کے عہد میں بدایوں کو صوبہ دہلی کی ایک سرکار بنا دیا گیا اور یہاں سکے ڈھالنے کے لئے ایک دارالضرب بھی بنایا گیا۔1571 ء میں یہاں زبردست آتشزدگی ہوئی جس سے تقریبا سارا شہر ہی جل گیا اور کثیر تعداد میں لوگ جل کر ہلاک ہوئے۔ شاہجہان نے بدایوں اور سنبھل کو ملا کر ایک سرکار بنا دیا اور اس کا نام کٹھیر رکھا اور بریلی کو اس کا صدر مقام بنایا ۔مغلوں کے زوال کے بعد اس پر روہیلوں کا قبضہ ہوا۔ 1778 ء میں بدایوں اودھ کے نوابوں نے فتح کر لیا۔1801 ء میں تاج برطانیہ کی عملداری میں آگیا۔ 1838 ء میں انگریزوں نے اسے ضلع کا درجہ دیا۔)۔
بدایوں کے پیڑے بہت مشہور ہیں۔بدایوں کے قصبہ علاپور میں دودھ اور کھوئے کی کثرت تھی وہیں سے پیڑے بنانے کا آغاز ہوا۔ اور رفتہ رفتہ یہ پیڑے بدایوں کی پہچان بن گئے۔جو نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں بہت پسند کئے جاتے ہیں-)۔
علاپور سے ہی بدایوں کے پیڑے کی شروعات ہوئ۔ ممن نامی ایک پیڑے والا اس کہ پہلی مرتبہ بدایوں کے شہر میں لایا اور ان کی فروخت شروع کی اس لئے ممن کے پیڑے مشہور ہوگئے۔ اس کے علاوہ انڈیا کے مختلف شہروں میں ہبو کے بدایونی پیڑے بھی مشہور ہیں لیکن یہ سب محض نقل ہیں۔ اصلہ ہبو کے بدایونی پیڑے صرف علاپور میں ہی ملتے ہیں۔
اپنے مردان میں بھی بدایونی پیڑہ بہت مشہور ہے۔
عام پیڑے اور بدایوں کے پیڑے میں یہ فرق ہے کہ عام پیڑہ دودھ کے کچے کھوئے سے بنایا جاتا ہے جبکہ بدایوں کے پیڑے میں کھوئے کو ہلکی آنچ پر بھونا جاتا ہے جس سے اس کا رنگ ہلکا بادامی ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کیوڑے اور الائچی کی خوشبو بھی اس کو منفرد بناتی ہے۔ کراچی میں شیخ عبدالخالق اینڈ سنز کی دکان کا بدایونی پیڑہ بہت لذیز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لیاقت آباد دس نمبر پر الکرم اسکوائر میں ممن کے پیڑے کے نام سے ایک دکان ہے جو صرف بدایوں کے پیڑے ہی فروخت کرتے ہیں۔ کوئ تیس پینتیس سال پہلے یہ ٹھیلے پر شوکیس لگا کر بدایوں کے پیڑے فروخت کرتے تھے لیکن اب ماشااللہ انكی دكان ممن کے پیڑے کے نام سے بہت مشہور ہے۔
"THE QUETTA SPHINX" LOCALLY MORE WELL KNOWN AS THE "MUM" (QUETTA BALOCHISTAN)
یہ مقامی لوگوں میں ''مم'' کے نام سے مشہور تھا۔۔ یہ دراصل ایک جنگی یادگار تھی جو کہ برطانوی حکومت نے انیسویں صدی کے آخر میں اینگلو افغان وار کے دوران ہلاک ہونے والے سپاہیوں کی یاد میں تعمیر کروائ تھی۔ زرغون روڈ پر کوئٹہ فورٹ کے سامنے کرسچن قبرستان کے بالکل سامے گیٹ پر یہ یادگار تعمیر کی گئ تھی۔ مقامی لوگوں میں یہ تاثر عام تھا کہ یہ کوئ بلا ہے جو رات کو اکیلے گزرنے والے راہگیروں کو کھا جاتی ہے ، وہ اس کر مم کہتے تھے۔ اکثر رات میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے اور قبرستان سامنے ہونے کی وجہ سے یہ مجسمہ ایک خوفناک تاثر پیدا کرتا تھا اور لوگ یہاں سے گزرنے میں کتراتے تھے۔ یہ یادگار سن ۱۹۹۰ تک موجود تھی لیکن سن ۱۹۹۲ میں انڈیا میں جب ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو منہدم کیا تو مقامی انتہا پسندوں نے جوابی کاروائ کے طور پر مشتعل ہو کر اس کو تباہ کر دیا۔،،
سوال گندم جواب چنا
یوں یہ قیمتی یادگار غائب ہو گئ۔ اللہ جاہلوں کو ہدایت دے۔
اس کے علاوہ بھی ۵۰ کی دھائ میں کوئٹہ میں ایک ''مم'' کا چرچا تھا جو کہ سردیوں کی راتوں میں بچوں کو اٹھا کر لے جاتی تھی ۔ سر شام ہی کوئٹہ کی سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔ وہ ''مم'' کیا تھی؟ اس پر دوسری پوسٹ ہو گی انشا اللہ۔
عورتیں ،،،! جن کو دیکھ کر آپ ٹھٹک جاتے ہے،،!!
عورتیں ،،! جن کو دیکھ کر آپکے چلنے کی رفتار سست ہوجاتی ہے،،!!
عورتیں،،! جن کے پیچھے آپ مڑ مڑ کر دیکھتے ہیں،،!!
عورتیں،،!! جن کے چہروں پر کوی نقاب نہیں،،!!
عورتیں جو ننگی سر جینز میں ملبوس بازاروں کا رونق بنتی ہے،،،!!
عورتیں،،!! جو عریاں بازو لباس پہنتی ہیں،،!!
عورتیں جو سینہ آدھا عریاں کرکہ چلتی ہیں،،!!
اپنی کشــــش کھو دیتی ہیںیہ سب ایک کوڑے دان کے کوڑے سے زیادہ اہمیت کی قابل نہیں ہوتی،!
کشـــش راز میں ہوتی ہے،،،!!
عورتیں ،،،!بھید بن جاے،،،!!پراسرار بن جاے،،،!!!سیاہ برقعے کا راز بن جاے،،،،!!!!تو مرد احمق بن جاتے ہیں،،!! اور اس راز کے ایک جھلک دیکھنے کے سو سو جتن کرتے ہیں،،!!ہر قیمت پر،،،،!!
لیکن،،،،!! ھمشہ برقعے میں ایسا راز نہیں ہوتا،،،!!
اگر آپ کو کسی بس سٹاف پر ، مری راولپنڈی اسلام آباد لاہوریا جدہ دمام ریاض کے کسی پررونق مقام پر کوی ایسی عورت نظر آجاے ،،،!!
کہ اس نے ناک اور منہ برقعے کے سیاہ اور باریک نقاب میں ڈھانپ رکھا ھے اور اسکی گوری گوری پیشانی نظر آے جسکی پیشانی پر بھورے بھوے چند بال بکھرے ھوے دکھای دیں رہے ہوں اور اسکی شربتی نشیلی آنکھیں دیکھ کر آپکو مسکرا رہی ہوں اور وہ آپکو آنکھوں سے لطیف سا اشارہ کردیں،،،،!!! تو،،،،!! تو کوشیش کریں کہ اسکے قریب نہ جاے کیونکہ وہ ایک چڑیل ھوتی ہے۔ ایک طوائف ھوتی ہے،،!! ایک فاحشہ ہوتی ہے،
ایسی عورتوں کا کوی نام نہیں ہوتا ،،!! ابکے چاہنے والوں نے انکے کیئ نام رکھے ہوتے ہیں،،!! کوی انکو بلو کہتا ہے،،!! کوی انکو منی کہتا ہے،،،!!کوی انکو سویٹی کہتا ھے ،، تو کوی انکو بے بی کہتا ہے،،،اور کوی انکو جان ، جانِ من ، جانِ تمنا کے ناموں سے محطاب کرتا ہے،،،!! اور کھبی کھبی کوی ان کو براہ راست "رنڈی " کے نام سے پکار دیتا ہے،
لیکن ٹہریئے،،،!! ابھی مکمل نہیں ہوی،،!!
یہ طوائفیں پیدا کیوں ہوتی ہیں،،،!!کون انکو بناتا ہے،،،!! یہ آبرو باحتہ کیا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے؟ ھم فتویٰ تو دے دیتے ھے کہ ایک بیسوا ھوی طوائف کا کوی مذھب اور کردار نہیں ہوتا،،،!! تو میں پوچھنا چاھتا ھوں کہ آپکی ٹی وی پر موجود طوائفئں جو آج رمضان کے دنوں میں پکی علماء بنی ھے کیا انکا بھی کوی کردار نہیں ھوتا؟طوائف ایک فریب ھے،،،،!! جس نے ہماری فریب کارئیوں سے اس معاشرے میں جنم لیا ہے،
جن معاشروں سے زکوۃ کا سسٹم ھوجاے،،،،!! جن معاشروں سے عدل و انصاف حتم ھوجاے،،،،!! جن مواشروں سے قانون کی بالادستی حتم ھوجاے،،،!! جن معاشروں سے احساس حتم ھوجاے،،، جن معاشروں میں دن رات کیبل ٹی وی ناچ گانا چلتا رھے،،، جن معاشروں میں سنی لیون کے پانی والے ڈانس کی آوازیں پورے محلے میں گھونجتی رگیں،،، جن معاشروں کے اعلیٰ افسران کی نظریں اپنے ہی ملک کی لڑکیوں پر لگی ہو،،،جب امنگیں ڈوب کر مر جاتی ہے،،،!! جب تمنائیں ڈوب کر مر جاتی ہیں،!!جب ارادے ڈوب کر مرجاتی ہیں،،،!! تب،،،!! ایک طوائف پیدا ہوجاتی ہیں،،!!
جس کا بھای بھی اسکا گاھک ہوتا ہے اور باپ بھی،،،!!
پھر نہ وہ کسی کی بیٹی رہ پاتی ھے نہ کسی کی بہن،،!
رہ پاتی ہے تو صرف
" ایک طوائف "
الیگزینڈر ہیڈرلی۔۔۔ 1829 کو پیدا ہوا۔ اردو ادب میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ فرانس کے باشندے ہونے کے باوجود اردو میں ایسے باکمال تھے کہ ان کی شاعری سے ذرہ بھر غیرملکی ہونے کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے 1857 کے بعد اسلام قبول کرکے جان محمد نام اختیار کیا۔ انھوں نے باقاعدہ شاگردی نواب زین العابدین کی اختیار کی۔ مرزا غالب سے خطو کتابت میں اصلاح لیا کرتے تھے۔ غالب کے بہت بڑے مداح تھے ۔ اردو شاعری میں "آزاد" تخلص کیا کرتے تھے۔ ناقدین نے انھیں آزاد فرانسیسی کا نام سے بھی پکارا ہے۔ آزاد اردو کے قدیم ناقدین کے ہاں خاصے نامور تھے، پرانے جراید میں ان کا بہت تذکرہ پڑھنے کو ملتا ہے جو کہ نہ صرف ان کے فن و شاعری پر ہے بلکہ ان کی شخصیت پر بھی ہے۔ غالب کے رنگ میں ان کی ایک غزل کا مطلع کچھ یوں ہے
میں نہ وحشت میں کبھی سوئے بیاباں نکلا
واں سے دلچسپ مرا خانہ ء ویراں نکلا

آزاد فرانسیسی کا دیوان ان کی وفات کے دو سال بعد مطبع احمد نگر سے طبع ہوا۔ یہ دیوان 175 صفحات پر مشتمل ہے۔ جس کے دو دیباچے تحریر کیے گئے ۔ ایک فارسی زبان میں جو کہ منشی شوکت علی نے تحریر کیا۔ دوسرا اردو زبان میں تھامس ہیڈرلی نے تحریر کیا جو کہ اس دیوان کے مرتب تھے۔ ان کے دیباچے میں سے ایک اقتباس کچھ یوں ہے
"۔۔۔۔۔۔ ۔ اشعار اس مرحوم کے جو پریشاں جابجا پڑے پائے گویا سونے میں زمرد اور یاقوت جڑے پائے۔ خیال آیا کہ ان جواہر کو بکھرا پڑا نہ رہنے دیجیے اور ان سب اشعار کو ردیف وار جمع کرکے دیوان مرتب کیجیے تاکہ و کوئی دیکھے وہ یہ کہے کہ اگرچہ اس شخص کی تھوڑی زندگی تھی مگر واہ اس قلیل مدت میں کیا گہر افشانی تھی۔"
آزاد فرانسیسی کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
نوید اے دل کے رفتہ رفتہ ہوگیا ہے اس کا حجاب آدھا
ہزار مشکل سے بارے رخ پر سے اس نے الٹا نقاب آدھا

خدا کی قدرت ہے ورنہ آزاد میرا اور ان بتوں کا جھگڑا
نہ ہوگا فیصل تمام دن میں مگر بروز حساب آدھا

غالب کے اس فرنگی شاگرد نے 7 جولائی 1861 کو وفات پائی
تصویر : کپٹین الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد ، الور کے نواب عبد الرحمان کے دربار
خلیفہ سلمان بن عبدالملک کا بھائی خلیفہ ہشام بن عبدالملک بن مروان بیت اللہ کے حج کے لیے آیا ۔طواف کے دوران اس کی نگاہ زاہدہ و متقی اور عالم ربانی سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پر پڑی جو اپنا جوتا ہاتھ میں اُٹھائے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ اُن کے اوپر ایک کپڑا اور ایک عمامہ تھا جس کی قیمت تیرہ درم سے زیادہ نہ تھی۔
خلیفہ ہشام نے کہا:۔
کوئی حاجت ہو تو فرمایے"۔
سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
مجھے اللہ سے شرم آ رہی ہے کہ میں اس کے گھر میں ہوتے ہوئے کسی اور کے سامنے دستِ سوال ذراز کروں"۔
یہ سننا تھا کہ خلیفہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا۔اس نے سالم بن عبداللہ کے جواب میں اپنی سبکی محسوس کی۔جب سالم بن عبداللہ حرم شریف سے نکلے تو وہ بھی اُن کے پیچھے حرم سے نکل پڑا اور راستے میں اُن کے سامبے آ کر کہنے لگا:۔
" اب تو آپ بیت اللہ شریف سے نکل چکے ہیں،کوئی حاجت ہو تو بتائیں( بندہ حاضر ہے')۔
سالم بن عبداللہ گویا ہوئے:
" آپ کی مراد دنیاوی حاجت سے ہے یا اُخروی حاجت سے؟"
خلیفہ ہشام: اُخروی حاجت کو پورا کرنا میرے بس میں نہیں:البتہ دنیاوی ضرورت پوری کر سکتا ہوں، فرماہیں۔
سالم بن عبداللہ کہنے لگے:۔
میں نے دنیا تو اس سے بھی نہیں مانگی،جس کی یہ ملکیت ہے،پھر بھلا اس شخص سے دنیا کیو ں کر طلب کر سکتا ہوں جس کا وہ خود مالک نہیں؟:۔
یہ کہہ کر اپنے گھر کی طرف چل دیے اور ہشام بن عبدالملک اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔۔
         ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہشام خلیفہ عبدالملک بن مروان کے بیٹوں میں سے چوتھا بیٹا تھا جو یزید بن عبدالملک کے بعد منصبِ خلافت پر فائز ہوا۔اس کے عہد میں ترکوں کے بار بار بغاوتیں کیں۔ہشام نے نصر بن سیّار کوخراسان کا گورنر مقرر کیا تو اس نے نو مسلموں سےجزیہ لینا موقوف کیا ،جس کے نتیجے میں ترکوں میں اسلام بڑی سرعت سے پھیلنے لگا۔ہشام کے جرنیل سعید حریشی نےخرر اور آزربائیجان کے ترکوں کو با ر بار شکستیں دیں۔ رومیوں کے خلاف بھی کئی فتوحات حاصل ہوئیں۔ ہشام کے عہد میں زید بن علی نے انہیں"رافضی" کاخطاب دیا۔ آخری معرکے میں زید پیشانی میں تیر لگنے سے انتقال کر گئے۔ ہشام نے ساڑھے انیس برس خلافت کرنے کو بعد 125 ہجری742 عیسوی میں وفات پائی۔
(تاریخ اسلام، از اکبر شاہ خان تجیب آبادی۔ج1، ص802-788)
البدایۃ والنھایۃ(235/9)
رسم برادر کشی کے بارے میں....
ترکوں میں چھوٹے بھائیوں سے نمٹنے کے لئے برادر کشی کی رسم عام تھی ,اسی رسم کے مطابق سلطان بایزید یلدرم نے تخت نشین ھوتے ھی چھوٹے بھای یعقوب کو پھانسی چڑھا دیا اور شاھی مراتب کا خیال رکھتے ھوے گلے میں رسی کی بجائے کمان کی زہ (تندی) ڈالی گئی اس کے بعد یہ طریقہ شہزادوں کے لئے مخصوص کردیا گیا چنانچہ سلطان محمد اول نےاپنے بھای موسی کو اور سلطان مراد نے مصطفی کو اسی شاھانہ اعزازکے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا,
اورنگ زیب عالمگیر نے اپنے بھائیوں کے ساتھ جو کیا وہ اسلام کے مطابق نہیں بلکہ ترکوں کی اسی رسم کے مطابق تھا ایک بھای شجاع کے ساتھ جنگ کرکے غائب کر دیا دوسرے بھای مراد کو قاضی کے ذریعےجلاد کے حوالے کیا تیسرے بھای داراشکوہ کو قید میں ذبح کروادیا اور اورنگزیب نے اپنے دونوں بیٹوں گوالیار کے قلعہ میں قید کردیا
محمد شاہ والیے جونپور نے اپنے بھای حسن خاں کو قید میں قتل کروایا- تفصیل سے پڑھئے
مسلمان سائنس دانوں کی انقلاب آفریں دریافتیں اورایجادات- اس مضمون میں ان پچاس سے زائد انقلاب آفریں دریافتوں، سا ئنسی آئیڈیاز ، ایجادات اور انکشافات کا ذکر کیا گیا ہے جن کا خیال سب سے پہلے مسلمانوں کوآیا تھا ۔
ہر آئیڈیا کسی بھی ایجاد میں بیج کی طرح ہوتا ہے ۔ ہر دریافت ،ہر ایجاد، ہر انقلاب، ہر تحریک کے پیچھے کوئی نہ کوئی آئیڈیا کارفرما ہو تا ہے ۔ آئیڈیا کسی ایٹم میں پنہاں ایٹمی قوت کی طرح ہوتا ہے، آئیڈیا جتنا طاقت ور ہوگا اس سے جنم لینے والی چیز اتنی ہی کوہ شکن ہوگی ۔ آئیڈیاز دوسرے آئیڈیاز سے ہی جنم لیتے ہیں ۔ نئے آئیڈیاز کے لئے دانشوروں سے ملنا، گفتگو کر نا، بحث کرنا، کتابیں پڑہنا، مطالعہ کرنا، تنہائی میں غوروفکر کرنا، دوسروں کے آئیڈیاز پر تنقید کر نا اور تنقید کو حوصلے کے ساتھ قبول کرنا ، آئیڈیاز کو بیان کر نے کے لئے ہمت ہونا، ہر آئیڈیا کو ضروری سمجھنا اور نوٹ کر لینا، آئیڈیاز کو پرکھنا، یہ سب ضروری عوامل ہیں ۔   تفصیل سے پڑھئے
حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہا آدھی قلندر تھیں۔ وہ اپنے والدین کے ہاں پیدا ہونے والی چوتھی بیٹی تھیں اس لئے ان کا نام رابعہ رکھا گیا اور بصرہ شہر میں متولد ہوئیں اس لئے بصری کہلائیں۔ آپ بہت زیادہ عابدہ، زاہدہ، صابرہ شاکرہ اور کشف و کرامت والی تھیں۔ بڑے بڑے اولیاء اللہ آپ کی مجلس میں اکتساب فیض کے لئے حاضر ہوتے تھے۔ حضرت رابعہ رضی اللہ عنہا کی زندگی خواتین کے لئے مشعل راہ ہے جس پر چل کر وہ نہ صرف دنیا بلکہ اپنی عاقبت بھی سنوار سکتی ہیں۔ آپ ایک متقی اور متوکل بزرگ حضرت شیخ اسماعیل رضی اللہ عنہ کے ہاں پیدا ہوئیں۔ آپ کی ولادت کے وقت گھر میں فاقوں کی نوبت تھی۔ لہذا آپ کی والدہ نے شیخ اسماعیل سے کہا کہ کچھ پڑوس سے قرض لے لیں تاکہ یہ مشکل وقت گزر جائے۔ آپ کے والد محترم نے مجبوری کے عالم میں آدھی رات کو پڑوسی کے دروازے پر دستک دی کیونکہ غیراللہ سے سوال کرنا ان کی غیرت ایمانی کو گوارہ نہ تھا۔    تفصیل سے پڑھئے
ایک شیعہ عالم کی حق بات نے زلزلہ برپا کر دیا ہے:
الجزیرہ عربی کے پروگرام" اتجاہ معاکس" کے اینکر پرسن "ڈاکٹر فیصل قاسم" نے کہا ہے کہ :" عراق کے مشہور شیعہ عالم دین اور راہنما مقتدی الصدر کے معاون نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا نام ہے " ہم بے حیا قوم ہیں" مضمون میں مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ہے:
شام،عراق اور فارس کو فتح کرنے والا عمر بن الخطاب (سنی ) تھے۔
سند ،ہند اور ماوراء النہر کو فتح کرنے والا محمد بن قاسم (سنی) تھے۔
شمالی افریقہ کو فتح کرنے والا قتیبہ بن مسلم(سنی) تھے۔
اندلس کو فتح کرنے والا طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر دونوں(سنی ) تھے۔
قسطنطینیہ کو فتح کرنے والا محمد الفاتح( سنی) تھے۔
صقلیہ کو فتح کرنے والا اسد بن الفرات(سنی) تھے۔
اندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز بنانے والی خلافت بنو امیہ کے حکمران (سنی)تھے۔
تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دینے والا سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس دونوں(سنی) تھے۔
صلیبیوں کو حطین میں شکست دینے والے صلاح الدین ایوبی(سنی) تھے۔
مراکش میں ہسپانویوں کا غرور خاک میں ملانے والا عبد الکریم الخطابی (سنی) تھے۔
اٹلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے عمر المختار (سنی) تھے۔
چیچنیا میں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اور گرزنی شہر کو فتح والے خطاب (سنی) تھے۔
افغانستان میں نیٹو کا ناگ زمین سے رگڑنے والے (سنی )تھے۔
عراق سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کرنے والے ( سنی تھے)۔
فلسطین میں یہودکی نیندیں حرام کرنے والے (سنی) ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں گے؟؟!!
حسین کو عراق بھلا کر کربلاء میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی (شیعہ) تھے۔
عباسی خلیفہ کے خلاف سازش کر کے تاتاریوں سے ملنے والے ابن علقمی (شیعہ )تھے ۔
ہلاکوخان کا میک اپ کرنے والے نصیر الدین طوسی (شیعہ) تھے۔
تاتاریوں کو بغداد میں خوش آمدید کہنے والے(شیعہ) تھے۔
شام پر تاتاریوں کے حملوں میں مدد کرنے والے(شیعہ) تھے۔
مسلمانوں کے خلاف فرنگیوں کے اتحادی بننے والے فاطمیین( شیعہ) تھے۔
سلجوقی سلطان طغرل بیگ بساسیری سے عہد شکنی کرکے دشمنوں سے ملنے والے(شیعہ) تھے۔
فلسطین پر صلیبیوں کے حملے میں ان کی مدد کرنے والا احمد بن عطاء(شیعہ) تھے۔
صلاح الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کنز الدولۃ (شیعہ)تھے۔
شام میں ہلاکوں خان کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی (شیعہ) تھے۔
حاجیوں کو قتل کر کے حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی (شیعہ) تھے۔
شام پر محمد علی کے حملے میں مدد کرنے والے ( شیعہ) تھے۔
یمن میں اسلامی مراکز پر حملے کرنے والے حوثی (شیعہ ) ہیں۔
عراق پر امریکی حملے کو خوش آمدید کر کے ان کی مدد کرنے والے سیستانی اور حکیم (شیعہ) ہیں۔
افغانستان پر نیٹو کے حملے کو خوش آئند کہہ کر ان کی مدد کرنے والے ایرانی حکمران (شیعہ) ہیں۔
شام میں امریکہ کی مدد اور بشار سے مل کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر نے والے اور خلافت کی تحریک کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرنے والے عراقی حکمران،ایرانی حکمران اور لبنان کی حزب اللہ (شیعہ) ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا اسماعیل صفوی (شیعہ) تھے۔
برما کے مسلمانوں کے قتل پر بت پرستوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا احمد نجاد( شیعہ ) ہے۔
شام کے لوگوں پر بشاری کی بمباری کی حمایت کرنے والا اور اس کو سرخ لکیر قرار دینے والا خامنئی (شیعہ) ہے۔
صحابہ کو گالیا دینے والے اور خلفائے راشدین اور اور امہات المومنین کے بارے میں شرمناک باتیں لکھنے والے قلم (شیعہ) ہیں۔
سلطان ٹیپو کے خلاف انگریز سے ملنے والے میر جعفر اور میر صادق (شیعہ) تھے۔
اگر سارے واقعات لکھے جائیں تو کئی جلدوں کی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں، ہم اپنی نسلوں کو کیا جواب دیں گے ؟؟!!
یہ سب خو دایک شیعہ عالم دین اور حق گو آدمی کہہ رہا ہے !!! ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں -

• پہلی بال ٹرائی بال ہوگی .
• جو بال بائونڈری سے باہر پھینکیں گا خود واپس لائے گا .
• بیٹنگ ٹیم امپائرنگ کرے گی .
• بائونڈری کو ڈائریکٹ لگا تو چکی ، ایک ٹھپا لگ کر گیا تو چوکا ، سامنے والی دیوار کو لگا تو دو رن .
• آخری بیٹسمین اکیلا کھیل سکتا ہے .
 
گھر میں گئی تو آؤٹ• جو بال گم کرے گا وہی نیا بال لے کر آئے گا .
• چھوٹے بچے صرف فیلڈنگ کریں گے .
• جو ٹیم جیتے گی وہی اگلی بار پہلی باری کرے گی .
• جب اندھیرا ہو گا تو صرف اسپن باؤلنگ کارروائی جائے گی .

بدھو بچے کی آخری باری....

پرانی کرسی کی وکٹیں. ..
چوکا.....چھکا. ...دسا. ..اور اگر اتنی زور کی شاٹ ماری کی بال چھت پر چلی گئ تو پچاس رن اور ساتھ میں آوٹ.


Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حکیم محمد سعید کے آباؤ اجداد کا تعلق چین کے شہر سنکیانگ سے تھاجہاں سے یہ خاندان سترھویں صدی کے آغاز میں ہجرت کر کے پشاور منتقل ہوا، تقریباً 80 سال بعد اس خاندان نے پشاور سے ملتان ہجرت کی اور 135 برس پنجاب کی سرزمین کو اپنا مسکن بنائے رکھا۔ اٹھارویں صدی کے دوسرے عشر ہ میں آپ کے خاندان کے افراد نے پنجاب کی سرزمین کو الوداع کہتے ہوئے دہلی ہجرت کی اور حوض قاضی کو اپنا مسکن بنایا۔ 1856 میں حکیم محمد سعید کے پردادا دہلی چھوڑ کر پانی پت چلے گئے آپ کے دادا حافظ شیخ رحیم1864 اور نانا کریم بخش 1861 میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا مزاجاً مہم جو واقع ہوئے تھے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد پیلی بھیت منتقل ہو گئے، وہیں پر حافظ شیخ رحیم بخش کی شادی ہوئی، 1883 میں حکیم محمد سعید کے والد حافظ حکیم عبدالمجید کی پیدائش ہوئی، 1886 میں آپ کے چچا حافظ عبدالرشید
پیدا ہوئے۔  تفصیل سے پڑھئے

اینڈروئڈ ایک آپریٹنگ سسٹم ہے جیسے کہ ونڈوز ایک آپریٹنگ سسٹم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جیسے ونڈوز کمپیوٹر آپریٹ کرنے میں مدد کرتی ہے ویسے اینڈروئڈ موبائل- یہ کافی پرانا آپریٹنگ سسٹم ہے جسے 2003 میں اینڈی رابن اور اس کے کچھ ساتھیوں نے مل کر بنایا- اینڈروئڈ کا لفظ اینڈی رابن سے بنا ہے۔
اینڈروئڈ کمپنی کے ابتدائی ارادے تھے کہ ایک اعلی درجے کا آپریٹنگ سسٹم تیار کریں ڈیجیٹل کیمرے کے لئے لیکن جب یہ محسوس کیا گیا ڈیجیٹل کیمرے جیسے آلات کی مارکیٹ اتنی بڑی نہیں ہے تو انہوں نے اپنی کوششوں کا رخ موڑ کر سمارٹ فون آپریٹنگ سسٹم بنانے کا ذہن بنایا تاکہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود Symbian Mobile اور ونڈوز موبايلکے مقابلے کی نئی چیز بنائی جائے۔   تفصیل سے پڑھئے

جیسے جیسے انٹرنیٹ کی دنیا میں مواد زیادہ ہوتا گیا، ویسے ویسے مواد کی آسان اور بہتر تلاش کا رحجان بڑھتا گیا۔ آج وہ وقت ہے کہ جب انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے اور اگر انٹرنیٹ سے تلاش کی سہولت ختم کر دی جائے تو یہ لاچار ہو کر رہ جائے گا۔ تلاش کے حوالے سے گوگل (Google)سب سے آگے اور مشہور ہے۔ جب گوگل اس میدان میں اترا، تب سرچ انجن اور انٹرنیٹ سے متعلقہ دیگر سہولیات فراہم کرنے کے معاملے میں یاہو اور ایم ایس این (مائیکروسافٹ نیٹ ورک) انٹرنیٹ کی دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔ گوگل بعد میں آیا اور دوسروں سے آگے نکل گیا۔ سرچ انجن کے ساتھ ساتھ صارفین کو دیگر کئی ایک بہتر، منفرد اور مفت سہولیات فراہم کرکے گوگل دن بدن چھاتا ہی چلا گیا۔    تفصیل سے پڑھئے
اسلامی فوج کے سپہ سالا ر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے 7 سپاہیوں کو دشمن کی فوج کی خبر لانے کے مہم پر روانہ کیا اور ان سے کہا کہ ہو سکے تو دشمن کا ایک فوجی قیدی بنا کر ساتھ لائیں!
یہ 7 لوگ جب مہم پر نکلے تو جلد ہی فارس کی فوج کو اپنے سامنے پایا ۔۔۔ پہلےیہ سوچ رہے تھے کہ وہ بڑی دور ہو گی ، اس لیے یہ فیصلہ کیا کہ سوائے ایک آدمی کے باقی واپس جا کر اپنی فوج سے ملیں اور ایک اسی مہم کو جاری رکھے گا جس حکم سعد نے دیا تھا!
چھ واپس ہوئے ایک فارس کی فوج پر نظر رکھنے کے لیے آگے بڑھا اور فارس کی فوج کے قریب پہنچ گیا اور اس کا جائزہ لینے لگا، فارس کی 40000 فوج ایک دلدلی علاقے سے گزری جہاں پانی بھی تھا، پھر فوج نے خیمے لگائی اور کمانڈر رستم کے لیے سفید خیمہ نصب کیا گیا اور اس کے بہترین گھوڑے خیمے کے آس پاس باندھے گئے!
اسلامی فوج کا جاسوس رات کی تاریکی کا انتظار کر تا رہا جب رات تاریک ہوگئی تو رستم کے خیمے کی طرف بڑھا اپنی تلوار سے خیمے کی رسیاں کاٹ دی تو وہ رستم اور اس میں موجود تمام لوگوں پر گر گیا اس کے بعد اس کے گھوڑے کی رسی کاٹ دی اور اس پر سوار ہو کر بھاگ نکلا ، اس کا مقصد دشمن کی فوج کی توہین اور ان کو خوفزدہ کرنا تھا!
جیسے ہی بھاگ نکلے تین گھوڑ سواروں نے آپ کا پیچھا کیا ، جب وہ قریب پہنچتے تو اپنے گھوڑے کو تیز کرتے مگرجب وہ پیچھے رہ جاتے تو گھوڑے کو آہستہ کرتے تاکہ وہ پھر تیز ی سے قریب آئیں اور کسی ایک کو پکڑنے کا موقع ملے کیونکہ سعد کا یہی حکم تھا، جب تینوں نے حملہ کر دیا تو دو کو قتل کر کے ایک کو گرفتار کر کے اسلامی فوج کے کیمپ پہنچ گیا اور اس کو سعد بن ابی وقاص کے پاس لایا۔
فارس کے فوجی نے کہا: مجھے جان کی امان دیجئے میں سب کچھ سچ سچ بتاوں گا، سعد نے کہا: تمہیں امان حاصل ہے اور ہم وعدے کے پکے لوگ ہیں مگر شرط یہ ہے کہ سچ سچ بولو، پھر سعد نے کہا : اپنی فوج کے بارے میں معلومات دو، فارسی فوجی نے کانپتے ہوئے کہا: اپنی فوج کے بارے میں بتانے سے پہلے میں تمہارے اس سپاہی کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں!!
فارس کے فوجی نے کہا: اس جیسا جواں مرد ہم نے کبھی نہیں دیکھا؛ میں بچپن سے جنگجو سپاہی ہوں ، اس شخص نے ہمارے دو فوجی کیمپوں کو عبور کرکے ہمارے قائد کے خیمے تک پہنچا پھر اس کے خیمے کو اس پر گرادیا اس کے گھوڑے کو لیا ، ہم تین گھوڑ سواروں نے ان کا پیچھا کیا، ہم میں سے پہلے کو قتل کیا جو فارس کی فوج کے لیے ایک ہزار شہسواروں سے زیادہ اہم تھا، دوسرے کو بھی قتل کیا جس کو فارس ایک ہزار سپاہیوں کے برابر سمجھتا تھا اور یہ دو نوں میرے چاچا زاد بھائی تھے، اس لیے میں انتقام کے جذبے سے ان کا پیچھا کیا مگر جب ان کے سامنے اپنے آپ کو بے بس پایا تو جنگی قیدی بننے کو ترجیح دی اور مجھے معلوم ہے کہ فارس کی فوج کا سب سے طاقتور جنگجو میں ہی ہوں! اگر تمہارے سپاہی ان جیسے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں شکست نہیں دے سکتی! اس کے بعد اس فوجی نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلامی فوج کا یہ جاسوس اور اکیلے ہی دشمن کی فوج کے سپہ سالار کا مذاق اڑانے والا اور ان کی فوج کو شکست دینے والا کون تھا؟!
یہ طلیحہ بن خویلد الاسدی تھے جن کو اسلام نے یہ حوصلہ مندی دی تھی۔
قائداعظم کی اکلوتی بیٹی!- دینا جناح آج کل بھارت میں رہائش پذیر هیں اور انکی عمر اس وقت تقریبا 95 یاد رہے شادی کے بعد سے دینا جناح کا نام ''دینا واڈیا'' هے
ﮨﺮ ﺑﺎﭖ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ۔ ﮐﺌﯽ ﺑﮍﮮ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭ ﺗﺮﺑﯿﺖﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ ﭘﺎﺗﮯ۔ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﺎﺑﯿﭩﺎ ﯾﺎ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺗﻮﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻏﻠﻄﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔
ﺑﺎﻧﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎﮨﯽ ﮨﻮﺍ۔ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺭﺳﯽﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺭﺗﻦ ﺑﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﺭﺗﻦ ﺑﺎﺋﯽ ﻧﮯ شادی سے پہلے ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﯿﺎﻧﺎﻡ ﻣﺮﯾﻢ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﻨﺎﺡ ﺭﮐﮭﺎﮔﯿﺎ۔ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﮯﺑﺎﻋﺚ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺗﮯﺗﮭﮯ۔ ﻣﺮﯾﻢ ﺟﻨﺎﺡ 1929ﺀ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ 29 ﺳﺎﻝ ﮐﯽﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺻﺮﻑ ﺩﺱﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ۔ ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﮐﻠﻮﺗﯽﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺟﻨﺎﺡ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺫﻣﮧﺩﺍﺭﯼ ﺳﻮﻧﭙﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭ ﺗﺮﺑﯿﺖﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ تفصیل سے پڑھئے
 ہمارے ہاں ”جگاڑ ٹیکنالوجی“ اتنے عروج پر ہے کہ ہم نے فیس بک سے بھی کئی جگاڑ لگا لئے ہیں۔ فیس بک انٹرنیٹ پر حلقہ احباب بنانے اور ایک دوسرے کو اپنے بارے میں آگاہ رکھنے کے لئے بنی تھی، مگر ہم اس سے وہ وہ کام لے رہے ہیں کہ مجھے لگتا ہے مستقبل میں شادیوں کی تقریبات بھی فیس بک پر ہی ہوا کریں گی۔
خیر چلیں آپ کو فیس بک اور اس کے بکیوں کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں۔
سب سے پہلے ملئے فیس بکی مفتی اعظم سے۔
فیس بکی مفتی اعظم کے سائے میں کئی ایک چھوٹے چھوٹے ”بکی مولبی“ کام کرتے ہیں۔ یہ سب ”من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو“ کے مصداق چلتے ہیں۔ ہر کسی نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے اور کفر کے فتوے ان کے ہاں تھوک پر دستیاب ہیں۔ بس کبھی غلطی سے بھی ان کے خلاف کچھ نہ کہیے گا، نہیں تو آپ کا ایمان ایسا بُک کریں گے کہ خود ایمان کو خبر نہ ہو گی اور آپ فیس بک تو کیا اپنا فیس دیکھ کر بھی ڈریں گے۔ ان کا سب سے مؤثر ہتھیار بغیر حوالے کے کوئی بھی بات اس انداز میں تیار کرنا ہوتی ہے جس سے یہ لوگوں کے جذبات آسانی سے قابو کر سکیں اور پھر جذباتی لوگ اپنا ایمان تازہ کرتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے دے شیئر پر شیئر اور لائیک پر لائیک۔  تفصیل سے پڑھئے

قبیلہ قریش کے سردار عبدالمطلب اپنی بے مثال میزبانی اور فہم و فراست کی وجہ سے اپنی قوم کی آنکھوں کے تارے تھے ‘آپ عظیم باپ کے بیٹے تھے ‘اللہ تعالی نے آپ کو دس خوبصورت صحت مند کڑیل جوان بیٹے عطا کئے تھے ۔ ایک دن آپ کعبہ میں حطیم میں تشریف فرما تھے آپ کے دس بیٹے شیروں کی طرح آپ کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے کہ ایک اعرابی وہاں سے گزرا اور یہ خوش گوار منظر دیکھ کر بے ساختہ بولا ۔اللہ تعالی جب کوئی مملکت بنانا پسند کر تا ہو تو اس کے قیام کے لیے اِس قسم کے جوانمرد پیدا فرما دیاکرتا ہے ۔ اور پھر عبدالمطب کی زندگی میں عظیم واقعہ پیش آیا جب ابراہہ نے خانہ کعبہ پر لشکر کشی کی ۔ ابراہہ نے پہلے خوبصورت عظیم الشان گرجا تعمیر کیا ‘گرجے کو ہیرے جواہرات سے مرصع کیا کہ دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہو جاتیں لیکن بیت اللہ کے شیدائیوں نے گرجے کو ایک نظر بھی اٹھا کر نہ دیکھا ۔ ابراہہ کی خواہش تھی کہ اب لوگ خانہ کعبہ کی بجائے اُس کے بنائے ہو ئے گرجے کی پو جا کریں اب اُس نے کعبہ کی زیارت کو آنے والے قافلوں کو روکنا شروع کر دیا ۔ لیکن اُس کی کو ئی بھی کو شش کا میاب نہ ہو ئی تو نفرت کی آگ میں جل کہا کہ اب میں خانہ کعبہ کو پیوند ِ خاک کر دوں گا (نعوذ باللہ ) خانہ کعبہ کو گرا دوں گا۔  تفصیل سے پڑھئے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع خمیری تھا، ایک مرتبہ وہ اپنی سلطنت کے دورہ کو نکلا، بارہ ہزار عالم اور حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوق خدا چاروں طرف نظارہ کو جمع ہو جاتی تھی ، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہل مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں، اس کی اور اس کے خادموں کی جو یہاں کے باشندے ہیں تمام لوگ بے حد تعظیم کرتے ہیں اور جتنا آپ کا لشکر ہے اس سے کہیں زیادہ دور اور نزدیک کے لوگ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کی خدمت کر کے چلے جاتے ہیں، پھر آپ کا لشکر ان کے خیال میں کیوں آئے۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں اس گھر کو کھدوا دوں گا اور یہاں کے باشندوں کو قتل کروا دوں گا، یہ کہنا تھا کہ بادشاہ کے ناک منہ اور آنکھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ایسا بدبودار مادہ بہنے لگا کہ اس کے پاس بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی-  تفصیل سے پڑھئے
  اٹلی میں فاشزم متعارف کرانے والا مسولینی ,سوشلسٹ نظریات رکھنے والے ایک لوھار کے ھاں 29 جولائی 1883 ,کواٹلی کے گاوں ڈوجہ میں پیدا ھوا- ابتدا میں تدریس اور صحافت سے وابستہ - اٹلی کے علاوہ حبشہ ,البانیہ ,یوگوسلاویہ ,یونان اور لیبیا کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والے مطلق العنان حکمران نے چھبیس برس کی عمر میں میکاولی پر پی ایچ ڈی کی- 27 جون 1922 کو اس نے دولاکھ فسطائی رضا کاروں کے ساتھ تاریخ کا پہلا لانگ مارچ کیا اور شاھی محل پر قبضہ کرلیا - اٹلی کے بادشاہ وکٹر عمانوایل نے مجبور ھوکر مسولینی کو وزیراعظم تسلیم کرلیا -13 جون 1924 کو وہ اٹلی کا مختارکل بن گیا اور بادشاہ پس منظر میں چلاگیا اس برس انتخابات میں دھونس دھاندلی اور طاقت کے زور پر فاشسٹوں (فسطائیوں) نے دوتہای اکثریت حاصل کرلی - فاشزم اٹلی کا سرکاری نظریہ بن گیا اقتدار ملنے کے باوجود فاشسٹوں نے تشدد جاری رکھا اور ریاستی پولیس محض خاموش تماشائ بن گئی-  تفصیل سے پڑھئے
ہندوستان کی پہلی کتاب جس کا عربی میں ترجمہ ہوا’’سدھانت‘‘ تھی‘ 77ء میں سندھ کے ایک وفد کے ساتھ ہیئت کے حکم سے ایک عرب ریاضی دان نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا‘ یہ کتاب علم ہیئت میں تھی‘ اورعربی میں ’’السند ہند‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی ‘ اس کتاب نے عربوں کے علم ہیئت پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کے تھوڑے عرصہ بعد اس علم کی مشہور یونانی کتاب ’’محبطی‘‘ کا عربی میں ترجمہ ہو گیا۔ خلیفہ مامون کے زمانے میں ایک ’’رصد گاہ‘‘ تیار ہو جانے سے کئی نئی تحقیقات ہوئیں‘ علم ہیئت کے علاوہ علم حساب میں بھی عرب ہندوستانیوں سے اور تمام اہل مغرب عربوں سے مستفید ہوئے۔علم ہیئت اور حساب کے علاوہ ہندوستانی طب پر عربوں کی خاص نظر تھی‘ ہندوستان کے وید عرب میں بڑے مقبول تھے‘ ایک دفعہ خلیفہ ہاروں ر شید سخت بیمار پڑا‘ تو اس کے علاج کے لئے ہندوستان سے ’’منکہ‘ ‘(مانک) نامی وید کو بلایا گیا۔ اس کے علاج سے خلیفہ کو صحت ہو گئی ‘ خلیفہ نے خوش ہو کر اسے بہت انعام و اکرام دیا‘ اور پھر اسے دار الترجمہ میں سنسکرت کی کتابیں ترجمہ کرنے پر مامور کیا۔ علم طب کی جو کتابیں سنسکرت سے عربی میں منتقل ہوئیں‘ ان میں ’’سشرت‘‘ اور ’’چرک‘‘ کی کتابیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ دو کتابیں جڑی بوٹیوں کے متعلق تھیں۔ ایک ہندو پنڈتانی کی کتاب کا ترجمہ بھی ہوا جس میں عورتوں کی بیماریوں کے علاج درج تھے‘ زہروں کے اثرات اور ان کی پہچان کے متعلق کتابیں اور جانوروں کے علاج میں ’’چانکیہ پنڈٹ‘‘ کی کتاب بھی عربی میں منتقل ہوئی۔حکمت و دانش کی بھی کئی کتابیں سنسکرت سے عربی میں ترجمہ ہوئیں ’’پنجم تنتر‘‘ کا ترجمہ کلیہ و دمنہ کے نام سے عربی میں ہوا۔ یہ دونوں دنیا کی اہم ترین کتابوں میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کئی کتابیں ہندوستان سے عرب پہنچیں‘ بعض قصہ کہانیوں کی اور بعض جادو منتروکیمیا اور علم جوتش کے متعلق تھیں‘ مہابھارت کا خلاصہ بھی عربی میں مرتب ہوا‘ دو کتابیں ’’شنہاق‘‘ (چانکیہ) اور ’’ویاگھر‘ ‘ کی علم حکمت اور فنون جنگ سے متعلق تھیں‘ تیسری کتاب کا ترجمہ ’’ادب الملک‘‘ کے نام سے مرتب ہوا۔ بعض مستشر کین کا خیال ہے کہ ہندوستانی اثرات جن کا سراغ قرآن مجید یا احادیث یا سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں ملتا‘ تصوف میں داخل ہو گئے ‘ عرب مصنفین مثلاً ’’الندیم‘‘، ’’الاشعری‘‘ اور’’ شہرستانی‘‘ کی تصانیف میں ہندوستانی مذاہب اور فلسفہ کے متعلق مستقل ابواب ہیں‘ ان کے علاوہ اس زمانے کے اسلامی ادب میں بودھ سادھوئوں اور یوگیوں کا ذکر با وضاحت ملتا ہے۔ (آب کوثر از شیخ محمد اکرام)
راجہ داہر سے اس حوالے سے ہم سب واقف ہیں کہ اسے شکست دے کر محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا۔ لیکن راجہ داہر کون تھا؟ وہ کیسے سندھ کا حکمران بنا؟
کم و بیش وہ علاقے جن پر آج پاکستان مشتمل ہے، یہ ’’سندھ‘‘ کہلاتا تھا۔ اس پر ایک بدھ راجہ ساہسی کی حکومت تھی۔ راجہ ساہسی کا ایک ہندو برہمن وزیر تھا، جس کا نام دیوان رام تھا۔ اس نے ایک اجنبی ہندو نوجوان سے متاثر ہو کر اسے اپنا نائب مراسلات (جدید معنوں میں سیکریٹری) رکھ لیا۔ ایک دفعہ راجہ ساہسی نے دیوان رام کو خط لکھنے کے لیے بلوایا۔ دیوان رام موجود نہیں تھا، اس لیے اس ہندو نوجوان، جس کا نام ’’چچ‘‘ تھا، کو جانا پڑا۔ راجہ ساہسی، نوجوان چچ کی قابلیت سے بہت متاثر ہوا اور اسے نائب وزیر بنا لیا۔ کچھ دنوں کے بعد دیوان رام فوت ہو گیا اور چچ نے اس کی جگہ لے لی۔ ایک دن چچ کو راجہ نے ایسی جگہ بلایا جہاں اس کی رانی بھی موجود تھی۔ چچ کی خوبصورتی اور خوش گفتاری سے رانی بہت متاثر ہوئی اور اس نے اپنے ذاتی اور رازدار خادم کے ذریعے سے چچ کو محبت کا پیغام بھجوایا۔ چچ نے کہا کہ وہ راجہ سے غداری نہیں کر سکتا، رانی نے کہلا بھیجا کہ ہم تمھارے جذبات کی قدر کرتے ہیں لیکن تم کم ازکم روزانہ محل میں آکر اپنی صورت ہی دکھا جایا کرو۔  تفصیل سے پڑھئے
اورنگ زیب عالمگیر (1707ء ۔ 1658ء) مغلیہ دور کا ایسا صاحبِ ایمان اور سیف و قلم بادشاہ تھا کہ اس کو برصغیر میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور اسلامی تشخص کے قیام کی خاطر اپنی عمر کا بیشتر حصہ ان قوتوں کے خلاف جدوجہد میں صرف کرنا پڑا جو جنوبی ایشیا میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو حسب سابق اپنے اندر ضم کر کے مہا بھارت کے قیام کا خواب دیکھ رہے تھے۔برصغیر کی تاریخ میں جین، بدھ اور دوسری مذہبی تحریکوں کو ختم کرنے کے لیے متعصب ذہنوں نے یہی حربہ استعمال کیا تھا۔ اورنگ زیب عالمگیر اپنے وقت کا جید عالم تھا۔ وہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم سے بخوبی آگاہ تھا۔ وہ نہایت ذہین، منصف مزاج اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کا مالک اور سب سے بڑھ کر بہادر اورنیک مسلمان فرمانروا تھا۔ بعض ہندو مؤرخین نے عالمگیر کو پکا مذہبی اور متعصب حکمران کے نام سے بھی پکارا ہے مگر وہ ایسا صاحبِ عدل و انصاف، باحیا اور رعایا کا غم خوار بادشاہ تھا کہ وہ اکبر کی طرح اپنے آپ کو بے دین اور خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر نہیں سمجھتا تھا۔ اکبر کی طرح ہر مذہب و ملت کی جابجا ہمدردیاں سمیٹتا نہیں پھرتا تھا۔ اس نے اپنے سے پیشتر فرمانروائوں کی روش اور سیاسی جوڑ توڑ کی پالیسیوں سے ہٹ کر ایک صاف ستھری اور عام لوگوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے والی حکومت کے قیام کے لیے جدو جہد کی اور تقریباً 50 سالہ دور حکومت میں زیادہ تر وقت باغی شرپسندوں اور متعصب مرہٹوں کی سرکوبی میں صرف کیا۔ کاش اورنگ زیب سے قبل بھی مغل حکمران ایسے ہی دین دار، خدا ترس اور بہادر سپاہی ہوتے تو برصغیر پاک و ہند کا نقشہ آج بہت مختلف ہوتا۔ان حالات کے باوجود عالمگیر نے جہاں دینی علوم کے لیے بہت سے مدرسے اور کالج قائم کیے اور ان کے ساتھ معیاری ادب سے بھرے ہوئے کتب خانوں کا قیام بھی لازمی سمجھا۔ وہ کتابوں سے والہانہ شغف رکھتا تھا۔ خود بہت بڑا عالم تھا۔ شورشوں اور بغاوتوں کی سرکوبی کے دوران جب بھی وقت ملتا تو دینی علوم پر عربی اور فارسی کتب کا مطالعہ کرتا۔ فارسی زبانوں پر بھی عبور تھا۔ خود حافظ قرآن تھا اور یہی تعلیم اپنی اولاد کو بھی دلوائی۔ دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی کفالت بھی شاہی خزانے سے کی جاتی تھی۔اورنگ زیب شاہی کتب خانہ میں اچھی کتابوں کا اضافہ کرتا رہتا تھا۔ بادشاہ اچھی کتابیں پیش کرنے والوں کو معقول معاوضہ ادا کرتا تھا۔ چنانچہ جب بیجاپور کو فتح کیا تو ابراہیم عادل شاہ کے کتب خانے کی نادر کتب شاہی کتب خانہ میں محفوظ کرا دیں۔ اسی طرح محمود گاواں کے مجموعۂ کتب کو بیدر سے حاصل کر کے شاہی لائبریری میں داخل کیا۔ فتاویٰ عالمگیر اسلامی قوانین پر مستند کتاب سمجھی جاتی ہے۔ محمد صالح شاہی کتب خانے کا لائبریرین تھا۔ عالمگیر جیسا متقی اور پرہیز گار بادشاہ مخالفین سلطنت کی سرکو بی کرتے ہوئے تین مارچ 1707ء کو حیدر آباد دکن میں انتقال کر گیا۔
=*= ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺳﮯ =*=
ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ- ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ! ﺭﻭﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻟﻮﺋﯿﺲ ﭼﮩﺎﺭﺩﮨﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮔﺌﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :
" ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻧﺪﮮ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺘﻌﻔﻦ ﮨﮯ"،
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﻣﻮﻧﭩﯿﺎﺳﺒﺎﻡ" ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔
ﺩﻭﺳﺮی ﻃﺮﻑ ﺧﻮﺩ ﺭﻭﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ،
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺳﯿﺎﺡ ﺍﺑﻦ ﻓﻀﻼﻥ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :
" ﺭﻭﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮ ﺗﺎ ﮨﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﯾﺴﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ "۔
ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻠﮑﮧ" ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻼ" ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﻧﮩﺎﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻤﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺎ ۔
ﺍﺳﭙﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ "ﻓﻠﯿﭗ ﺩﻭﻡ" ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻞ ﺩﻭﺋﻢ ﻧﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﻟﮕﮯ، ﺍﺳﯽ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﺌﯽ ۔
ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﯿﮟ،
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﯿﺎﺡ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺷﻤﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ،
ﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ !!
ﺟﺐ ﻟﻨﺪن ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ 30 ﺍﻭﺭ 40 ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﯿﻦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ،
ﻓﺮﻧﭻ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ۔
ﺭﯾﮉ ﺍﯾﮉﯾﻦ ﯾﻮﺭﭘﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﺲ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ کے ﯾﻮﺭﭘﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺗﯿﺰ ﮨﻮ ﺗﯽ ﺗﮭﯽ!!
ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﻣﻮﺭﺥ" ﺩﺭﯾﺒﺎﺭ" ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :
"ﮨﻢ ﯾﻮﺭﭖ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﮑﮭﺎ ﯾﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﺟﺐ ﮨﻢ ﻧﻨﮕﮯ ﺩﮬﮍﻧﮕﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻣﺮﺩ، ﯾﺎﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﮐﻠﯿﺴﺎ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺻﺮﻑ ﻗﺮﻃﺒﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ 300 ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺣﻤﺎﻡ ﺗﮭﮯ "۔
اس سال جس شخصیت کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا ہے، وہ ایک روسی ادیب ہے۔ الیکسی وچ 1948 میں یوکرین میں پیدا ہوئی۔ وہ کہتی ہے، میں اس دنیا کو سننا اور دیکھنا چاہتی تھی۔۔بہت قریب سے۔۔چنانچہ میں نے سوچا۔۔۔اس دنیا کو سننے اور دیکھنے کے لئے براہ راست انسانوں کو سننا اور دیکھنا سب سے بہترین وسیلہ ہے۔ یہ دنیا اور انسان بہت ہی مختلف شکل اور متنوع ہوتا جارہا ہے۔ چنانچہ انسان کی اسراریت کو جانچنے کے لئے بجائے کسی ڈاکومنٹری پر انحصار کیا جائے، کیونکہ براہ راست انسانوں سے باتیں کی جائیں۔ اور وہ کچھ سنا جائے، جو ان پر گزرتی ہے اور جو وہ محسوس کرتے ہیں۔ تبی ہمیں زندگی کی حقیقی کہانی مل سکتی ہے۔ جب آپ براہ راست لوگوں کی کہی باتیں لکھتے ہیں، تو آپ بیک وقت ادیب، رپورٹر، ماہر نفسیات، ماہر سماجیات بن جاتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
یہ کہانی قدیم یہودی اور عیسائی مقدس لٹریچر میں ملتی ہے۔ سوسانہ ایک یہودی حسین عورت تھی، وہ ایک دن اپنے باغ میں تنہا نہا رہی تھی، اس نے اپنے ملازموں کو بھی چلے جانے کو کہہ دیا تھا۔ لیکن دو شہوت پرست عمررسیدہ آدمی اسے چوری چوری دیکھ رہے تھے۔ جب وہ گھر واپس جانے لگی، تو ان دونوں آدمیوں نے اسے پکڑ لیا۔۔۔اور کہا، کہ وہ ان کے ساتھ سیکس کرے ورنہ وہ اسے یہ کہہ کر بدنام کردیں گے۔ کہ وہ باغ میں کسی اپنے معشوق کے پاس برہنہ حالت میں پکڑی گئی ہے۔۔لیکن سوسانہ نے بلیک میل ہونے سے انکار کردیا۔ وہ سوسانہ کو ناجائز تعلقات کے الزام میں گرفتار کروا دیتے ہیں، اسے سزائے موت ہونے ہی والی تھی، کہ ایک ڈینئل نامی آدمی چلایا۔۔کہ کسی معصوم کو سزا دینے سے پہلے ان دونوں آدمیوں پر جرح تو کی جائے۔۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پطرس بخاری کی مانند میں بھی ایک شوہرہوں اور ایک بیوی رکھتا ہوں… بے پناہ محبت کا دعویدارنہیں اور تھوڑی سی محبت کا روادار نہیں… وہ کہیں گھر پہ نہ ہو تو بے حساب امن کے باوجود بے تحاشا سناٹے میرے اندر بولنے لگتے ہیں …لہو گرم رکھنے کے بہانےڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، اور مجھے وہی میدان جنگ بےطرح بھانے لگ تا ہے کہ جس کو کبھی غصے سے نہ جانے کیا کیا نام دے چکا ہوتا ہوں… لیکن کیا کروں پھر وہ واپس آجاتی ہے اور ماحول پھر ویسےکا ویسا ہی ہوجاتا ہے …مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ میں زیادہ تر شوہروں کی طرح اک عام سا شوہر ہوں…تاہم یہ بتانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ میری بیوی اکثر بیویوں کی مانند ایک خاص بیوی ہے … ایسا نہیں کہ وہ یہ بات کہتی ہے لیکن دوسروں کی بیویوں کی طرح وہ یہی ثابت کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہے،،، یہ جو میرے اندر کیلشیئم کے علاوہ اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے اسکی وجہ بھی میری بیوی کا میرے بارے میں عجیب برتاؤ ہے… غصے کی نوک پہ آکر وہ کہتی ہے “آپ بڑے وہ ہیں” …لیکن وہ سے اسکی کیا مراد ہے ،کبھی واضح نہیں کرتی.. محض اندازے سے ہی قیاس کرتا ہوں اور یہ قیاس بھی بتانے کے قابل نہیں ہوتا،،، تفصیل سے پڑھئے
لیجنڈی اداکار دلیپ کمار جنھیں "ٹریجڈی کنگ" کا خطاب بھی دیا گیا ہے جمعہ کو 92 سال کے ہوگئے اور انہیں بولی وڈ کا سب سے بہترین اداکار بھی مانا جاتا ہے۔ اپنے ساٹھ سالہ اداکاری کے کریئر کے دوران انہوں نے ساٹھ سے زائد فلموں میں کام کیا جن میں مغل اعظم، انداز، کرانتی اور دیگر لاتعداد فلموں نے بے مثال کامیابی حاصل کی۔
یوسف خان عرف دلیپ کمار پشاور کے علاقے قصہ خوانی میں 11 دسمبر 1922 کو پیدا ہوئے، ان کے والد لالہ غلام سرور پھلوں کے ایک تاجر تھے جن کے پشاور اور ناسک کے قریب پھلوں کے باغات تھے۔
دلیپ کمار نے ناسک کے قریب برنس اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور ان کا خاندان 1930 کی دہائی میں بمبئی منتقل ہوگیا تاہم 1940 کو گھر چھوڑ کر پونا چلے گئے اور وہاں ایک کینٹین کھول لی اور خشک میوہ جات سپلائی کرنے لگے۔
سال 1943 میں دلیپ کمار کی ملاقات بمبئی ٹاکیز کے مالکان دیویکا رانی اور ان کے شوہر ہمانشو رانی سے ہوئی جنھوں نے انہیں اپنی فلم کے مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کرلیا یہ فلم 1944 میں جوار بھاٹا کے نام سے شروع ہوئی جو ان کا بولی وڈ میں ڈیبیو ثابت ہوا اسی زمانے میں ہندی زبان کے مصنف بھگوتی چرن ورما نے یوسف خان کو دلیپ کمار کا اسکرین نام دیا۔  تفصیل سے پڑھئے
جاسوسی ادب کی قدآور شخصیت اور عمران جیسے ’’مشہور‘‘ مگر ’’افسانویــ‘‘ اور ’’احمق جاسوس‘‘ کا کردار تخلیق کرنے والے ابن صفی کے نزدیک عمران ایک ٹیڑھی ، درشت ، سخت گیر اور ضدی شخصیت کا مالک ہے …..’’گھر کا بھیدی‘‘ میں اُنہوں نے عمران کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ عمران کی شخصیت اتنی غیرمتوازن کیوں ہے ؟ وہ ہر معاملے کو ہنسی میں کیوں اُڑا دیتا ہے ؟ والدین کا احترام اُس طرح کیوں نہیں کرتا جیسے کرنا چاہئے؟….ان کے نزدیک اِس کے پیچھے بھی ایک طویل کہانی ہے….بچپن میں ماں اُسے نماز ، روزے سے لگانا چاہتی تھی لیکن باپ نے ایک ’’مشنری اسکول ‘‘میں داخل کرا دیا….والد سخت گیر آدمی تھے اوراپنے سامنے کسی کی چلنے نہ دیتے تھے….لہذا عمران بچپن ہی سے دُہری زندگی گزارنے کا عادی ہوتا گیا…. باہر کچھ ہوتا تھا اور گھر میں کچھ … اور اِس میں عمران کو مزا بھی بہت آتا تھامشن اسکول اور گھریلو تربیت کے تضاد نے اُسے بچپن ہی سے ذہنی کش مکش میں مبتلا کر دیا تھا اور ہر چیز کا مضحکہ اُڑا دینے کی عادت پڑتی جا رہی تھی‘‘…. تفصیل سے پڑھئے
Labels: 1 comments | Links to this post
Reactions: 
ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮاللہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺅ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ"
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﻮﺭﯼ ﺣﮑﻢِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ- ﺳﺎﺣﻞ ﭘُﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮ ! ﺍللہ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﮑﻢ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ
ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺝ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ
ﺳﻮﺍﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻮﺝ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
" ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻻﺗﮯ ﺭﮨﮯ
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﮯ ﺁﺗﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ
ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﺳﺎﺑﻖ ﺍِﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽؑ ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺳﭽﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﻞ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮞ
ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺻﺪﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ
* ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﺎﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮؑ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺩﻭ ﺗﻮ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ، ﮐﯿﺴﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ؟
" ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺗﻮﮐﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔ !
==========================
ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ، ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻀﺐ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ.(ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ)
نقریباً دو ہزار سال ق م سے سمیری قوم کے خانہ بدوشوں کی زندگی اپنے عروج پر پہنچ کرز وال پذیر نظر آتی ہے، اس عرصہ میں انہوں نے اپنی تہذیب کی ترقی اور معاشی زندگی میں نمایا ں حیثیت اختیار کرلی تھی، جس کے بعد وہ اس ترقی کو قائم نہ رکھ سکے اور انحصاط کی طرف تیزی سے بڑھنے لگے۔ ٹھیک اسی دور میں جلہ و فرات کے شمالی حصے سے ایک اور نئی قوم عکاد اپنی ثقافت اور تہذیب کو پروان چڑھانے میں مصروف تھی اور ترقی کی منزلوں کو تیزی سے عبور کر رہی تھی۔عکاد سامی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی قوم نے ہزاروں سال تہذیب و تمدن کی پیشوائی کی۔ یہ قوم بہت محنتی اور ہوشیار ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھ بوجھ کی بڑی اہلیت رکھتی تھی۔ چنانچہ سمیری قوم کے زوال کے بعد اس نے عنان اقتدار اس خوبصورتی سے سنبھالا کہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام میسو پوٹا میا کی شاداب وادی پر اپنا تسلط جما لیا۔ تاریخ میں آگے چل کر اسی قوم کے مختلف قبائل سے مل کر جن بڑی تہذیبوں نے جنم لیا‘ ان کو با بلی اور آشوری تہذیبوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
چیکو کا نباتاتی نام manilkara zapota ہے۔ اسے انگریزی میں sapodilla کہتے ہیں۔ اس کا چھلکا آلو کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں دو سے لے کر دس تک کالے بیج ہوتے ہیں۔ یہ گول یا بیضوی، یعنی ایک طرف سے نوکدار شکل میں ہوتے ہیں۔ چیکو کا درخت سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ہے۔ اس کا ذائقہ میٹھا اور دار چینی جیسا جب کہ شکل سیب اور ناشپاتی جیسی ہوتی ہے۔چیکو کا ایک درخت سال میں دو ہزار پھل دیتا ہے۔ اگر یہ کچا ہوتا ہے تو اس کا ذائقہ کسیلا ہوتا ہے جب کہ مکمل پکے ہوئے چیکو میٹھے ہوتے ہیں۔ چیکو غذائی ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام چیکو میں 5.6 گرام ریشے ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامنز مثلاً فولیٹ (folate) اور نیاسین معدنیات مثلاً پوٹاشیم (potassium)، جست، فولاد اور صحت بخش غیر تکسیدی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ چیکو میں وٹامن سی (vitamin C) کی بڑی مقدار ہوتی ہے جب کہ وٹامن اے (vitamin A) بھی اس میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
بھارت کے ہندؤں کی شکایت ہے کہ جب سے مسلمانوں نے برصغیر کا رخ کیا ان کی وجہ سے خطے کی ترقی رک گئی ہے،
مسلمانوں سے پہلے ان لوگو نے بہت ایجادات اور ترقی کی تھی جو کہ اس دنیا میں اور کہیں ملنا ناممکن ہے.آئیے جانتے ہیں ان کی ایسی ہی کچھ ایجادات اور ان ااوشكاروں کے بارے میں جنہوں نے دنیا میں بھارت اور ہندؤں کا نام روشن کیا ہوا ہے -

★انکی سب سے زیادہ نمایاں تلاش قوموں کی تلاش تھی. انہوں نے انسانوں کو 6743 سے زیادہ قوموں میں بانٹ دیا اتنی زیادہ قوموں کی تلاش کرنا کیا کوئی آسان کام ہے؟
سوچیں !! بے چاروں کو اتنی زیادہ قوموں کو تلاش کرنے میں کتنی زیادہ محنت کرنا پڑی ہو گی؟  تفصیل سے پڑھئے

جوزف : ہیلو مارک ۔ کل تم آفس نہیں آئے تھے ؟ خیریت؟
مارک: ہاں یار۔ میں پاکستانی ایمبیسی گیا تھا۔ ویزہ لینے۔
جوزف : اچھا واقعی ؟ پھر کیا ہوا ؟ میں نے سنا ہے آجکل انہوں نے بہت سختیاں کردی ہیں ۔
مارک : ہاں ۔ لیکن میں نے پھر بھی کسی نہ کسی طرح لے ہی لیا۔
جوزف: بہت اچھے یار۔ مبارک ہو۔ یہ بتاؤ کہ ویزہ پراسیس میں کتنا وقت لگا ؟
مارک : بس کچھ مت پوچھو یار۔ تقریباً مہینہ بھر لگ گیا۔ پہلی بار جب میں پاکستان ایمبیسی گیا تھا تو صبح 4:30 پر وہاں پہنچا۔ پھر بھی مجھ سےپہلے 10 لوگ کھڑے تھے۔ لمبی قطار۔ اور ہاں مجھ سے کچھ آگے بل گیٹ بھی اپنا پاسپورٹ اور بنک سٹیٹمنٹ ہاتھ میں لیا لائن میں کھڑا تھا۔
جوزف : اچھا۔ بل گیٹ کو ویزہ مل گیا ۔
مارک : نہیں۔ انہوں نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ بل گیٹ پاکستان جانے کے بعد وہاں سلپ ہوجائے گا اور امریکہ واپس نہیں آئے گا۔  تفصیل سے پڑھئے
فلک بوس پہاڑوں اور برف پوش چوٹیوں میں گھر ی وادی سوات میں آج کل رس بھرے پھل املوک عرف جاپانی پھل کا موسم اپنے عروج پر ہے۔ضلع سوات میں املوک کے باغات 5ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جبکہ اس کی سالانہ پیدوار 19ہزارٹن سے بھی زیادہ ہے۔ املوک کو مقامی طور پر جاپانی پھل بھی کہا جاتاہے۔ سوات میں سیب اور آڑووٴں کے بعد املوک کی پیدوار سب سے زیادہ ہے۔ املوک خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہونے کے وجہ سے ملک بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ باغ مالکان کا کہنا ہے کہ سوات میں املو ک کے کولڈ اسٹوریج کا نظام نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ انتہائی میٹھا پھل ہے پورے پاکستان میں اس کو پسند کرتا ہے۔ جاپانی پھل تو یہاں بہت مشہور ہے، تقریباً سارے پاکستان میں یہ جاتے ہیں اور سب لوگ اس کو شوق سے کھاتے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ املو ک کے ایک کاٹن پر اوسطاً 135روپے تک اخراجات آتے ہیں۔ اگر حکومت ترسیل کے نظام کو آسان بنائے اور کولڈ اسٹوریج کا انتظام کرے تو کسانوں کو مناسب منافع مل سکتا ہے۔ املوک کی پیدوار سالانہ 19000ٹن ہے اور ملک کے اندر اسلام آباد، روالپنڈی، لاہور، کراچی سپلائی کیا جاتا ہے۔ آج کل اس پر بہت خرچہ آتا ہے،  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پستہ; کاجو کے خاندان کا وسطی ایشیاء اور مشرق وسطی کا مقامی ایک چھوٹا سا درخت ہے ۔ پستہ کے درخت ایران، شام، لبنان، ترکی، یونان، سنکیانگ چین، تیونس، کرغستان، تاجکستان، ترکمانستان، بھارت، مصر، اطالیہ (سسلی)، ازبکستان، افغانستان (خاص طور پر صوبہ سمنگان اور صوبہ بادغیس، اور امریکہ خاص طور پر کیلیفورنیا کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔
پستے کا شمار بھی مغزیات میں کیا جاتا ہے۔ یہ جسم میں حرارت بھی پیدا کرتا ہے جب کہ قوتِ حافظہ، دل، معدے اور دماغ کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے متواتر استعمال سے جسم ٹھوس اور بھاری ہو جاتا ہے۔ مغز پستہ سردیوں کی کھانسی میں بھی مفید ہے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کر کے انہیں صاف رکھتا ہے۔ پستے میں کیلشیم، پوٹاشیئم اور حیاتین بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام پستے کی گری میں 594 حرارے ہوتے ہیں۔ پستہ کا استعمال مختلف سویٹس کے ہم را ہ صدیوں سے مستعمل ہے۔حلوہ‘زردہ اور کھیر کا لازمی جز ہے۔ نمکین بھنا ہوا پستہ انتہائی لذت دار ہوتا ہے اور دیگر مغزیات کی طرح بھی استعمال کیا جا تا ہے۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق دن میں معمولی مقدار میں پستہ کھانے کی عادت انسان کو دل کی بیماری سے دور رکھ سکتی ہے۔ پستہ خون میں شامل ہو کر خون کے اندر کولیسٹرول کی مقدار کو کم کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شامل مضر عنصر لیوٹین کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پھل اور پتے دار ہری سبزیاں کھانے سے شریانوں میں جمے کولیسٹرول کو پگھلایا جاسکتاہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ پستہ عام خوراک کی طرح کھانا آسان بھی ہے اور ذائقے دار غذا بھی اگر ایک آدمی مکھن‘ تیل اور پنیر سے بھرپور غذائوں کے بعد ہلکی غذائوں کی طرف آنا چاہتا ہے تو اسے پستہ کھانے سے آغاز کرنا چاہیے۔ پستہ کا روزانہ استعمال کینسر کے امراض سے بچائو میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ منا سب مقدار میں پستہ کھانے سے پھیپھڑوں اور دیگر کینسرز کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ کینسر پر کام کر نے والی ایک امریکی ایسوسی ایشن کے تحت کی جانے والی ریسرچ کے مطا بق پستہ میں وٹامن ای کی ایک خاص قسم موجود ہو تی ہے جو کینسر کے خلاف انتہائی مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پستہ میں موجود اس خاص جزو سے نہ صرف پھیپھڑوں بل کہ دیگر کئی اقسام کے کینسر سے لڑنے کے لیے مضبوط مدا فعتی نظام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورےکے امیر محلے کی
جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کے  میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظھار افسوس کرتا تھا
محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا.قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا      تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
1958 میں ایک یہودی Anton Laveyنامی شخص نے Atheism کو اختیار کر لیا۔ یہ شخص Black magic کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ اور یہ شخص یہ خواب رکھتا تھا کہ دنیا میں جادو کے۔ذریعے ایک ایسا مذہب قائم۔کر۔دیاجائے جس کا مقصد دنیا میں تباہی کے۔ذریعے Sex اور wealth یعنی دولت اور وسائل کو قابو میں کر لیا جائے۔۔۔اسی کو بنیاد بناتے ہوئے اس نے 1969میں ایک۔کتاب ترتیب دی جس کا نام Satanic bible تھا۔ جس کے بعد یہ ایک مسلسل مذہب کی شکل اختیار کرگیا۔۔جس کو اب Satanism کہا جاتا ہے۔۔۔ اور یہ جان کر آپ حیران ہوں گے کہ دھریت Atheism کی آڑ میں یہ ایک مستقل مذہب کی شکل اختیار کرتے ہوئے چلنے لگا۔۔۔۔ Satanism کے ماننے والے یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ ان کے مذہب کی پوجا پاٹ کے لیے Satanic Church بنائے گئے ہیں۔۔ لیکن ان عبادت گاہوں کی نہ کوئی بلڈنگ ہے، نہ ہی کوئی منعظم نظام۔۔ free masons کی طرح ان کے Satanic church پوری دنیا میں underground کام کرتے ہیں ۔ اور یہ لوگ Black magic سیکھانے کی آڑ میں سب سے پہلے babylonian Astro theology کے ذریعے اپنے ممبران کو اس کی سحر انگیزیت میں مبتلا کرتے ہیں۔۔۔ یاد رہے اردو لغوی اصطلاحات کے مطابقStar worship ستارا پرستی سیکھاتے ہوئے’’ صابی‘‘ بناتے ہیں اس کے بعد شیطانی علوم سیکھانا شروع کر دیتے ہیں۔۔ان کے ممبران اکثر خواتین اور کھسروں یعنی Shemale جنس پر مشتمل ہوتے ہیں۔۔۔ان لوگوں نے Social Networking کے ذریعے پوری دنیا میں اپنے ممبران کو کام کرنے کے لیے چھوڑ رکھا ہے جس کا سب سے بڑا مقصد اسلام کے خلاف کام کرنا ہے۔۔۔ اسلام سے لوگوں کو بد ظن کرنا ہے ، اسلام کے متعلق لوگوں کو غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔۔۔۔
آج پوری دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان ، اداکار ، عیسائی پوپ ، اور خاص طور پر ایرانی شیعہ رہنما اس مذہب کا Satanic Gesture بناتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔
اس Satanic symbol کو 6 کونوں والےستارے کے اندر ایک لمبے سینگھ والا بکرا بنایا گیا ہے۔۔ امریکہ ، یورپ اور افریقہ کے اکثر لوگ ، بڑے نامور سیاستدان ، اداکار ، ماڈل، اور عیسائی پادری وغیرہ اس کا نشان اپنے ہاتھوں پر بناتے نظر آتے ہیں۔۔۔
۱:انگوٹھا اور پہلی انگلی کو ملا کر باقی ہاتھ کو کھلا چھوڑنا۔۔۔
۲: پہلی دو انگلیوں کو V کی شکل بنا کر پوری مٹھی کو بند کرنا ۔۔۔
۳: سب سے مشہور پہلی اور آخری انگلی کو کھولنااور درمیان والی انگلیوں کو فولڈ کرتے ہوئے انگوٹھے سے بند کرنا ہے۔۔۔۔
نوٹ: یہاں پر ایک بات قابل ذکر ہے کہ بہت مشہور قسم کےدھریئے یا Atheist یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس طرح تو رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلی اور دوسری انگلی کو لہرایا ہے جبکہ انکے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یا تو قیامت کی قربت کی مثال دینے کے لیے 2 انگلیوں کو اٹھایا یا پھر انہوں نے اپنے اور متبع رسول ﷺ کے جنت میں ساتھ ہونے کی بشارت یا اس جیسے۔معاملات میں دو انگلیوں کو دیکھایا۔۔۔ کسی صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا جیت کے نشان کے لیے Victory کا نشان بناناثابت نہیں۔۔۔ بلکہ انگلیوں کوجوڑ کر دیکھانا ثابت ہے‘‘‘
ان لوگوں کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے underground satanic church کی ممبر شپ کے لیے 200$ سے لے کر 1000$ تک فیس رکھی ہے جو life time fee مانی جاتی ہے۔۔۔ جس کے بعد ممبران sex Societies میں مفت آ جا سکتے ہیں۔۔ پوری دنیا میں یہ Destruction پھیلانے کے کام آتی ہے اور مقبوضہ علاقوں کی دولت لوٹ کر ان کے ممبران میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔۔۔۔ ان کے ممبران زیادہ تر government body کی اعلی Authoritiesہی ہیں۔۔۔ جارج بش ، پیوٹن ، کلنٹن ، پوپ فرانسس، اسرائیلی وزیر اعظم ، احمدی نژاد ، بڑے بڑے گلوکار جیسے ’’ مائیکل جیکسن‘‘ لیڈی ڈیانا، پرنس ویلیم ، ملکہ الزبتھ سب کے سب وکٹری کا نشان بلند کرنے کے لیے مذکورہ بالا ہاتھ کا سائن بنا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔۔۔ آج اوباما ، مودی اور دیگر لوگوں نے بھی فتح کے نشان کے لیے اس نشان کو بنانا پسند کیا ہے۔۔۔۔
آج کا نوجوان Pop Musicians کے اشاروں کو فالو کرتا ہے ۔۔ لیکن اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ انجانے میں وہ کن شیطانی طاقتوں کی حمایتی سائن بنا رہا ہے۔۔۔۔ پوری دنیا کے بڑے بڑے ایتھیسٹ بظاہر ’’ دینی رسومات ‘‘ میں حصہ لیتے نظر آتے ہیں لیکن ان کا کسی بھی دین یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔۔۔۔ کچھ لوگوں نے ان کو ’’ الومیناٹی ‘‘ کہا ، کچھ نے Zoinists، کچھ نے free masons اور کچھ نے Sanatist لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام دشمن ہیں۔۔۔ اسلامی ممالک میں sex پھیلا رہے ہیں ۔۔ اور اسلامی ممالک کی دولت اور Natural Resources پر قبضہ کر رہے ہیں۔۔۔۔پوپ فرانسس نے جب یہ اعلان کیا کہ فرانس پر حملہ World war 3 کا حصہ ہے تو اس تقریر کے اختتام پر Sanatic signبنایا۔۔۔۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس دنیا کو لا دین بنانے کے لیے Secular اور libral طاقتیں متحرک ہو چکی ہیں۔۔۔۔یہ قیامت کے قریب ہونےکا پیش خیمہ ہے۔۔۔۔لیکن اللہ کا وعدہ بھی سچا ہے کہ ’’ دین غالب ہو کر رہے گا ‘‘ ان شا ء اللہ۔۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers