حیدرآباد کے گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے ہمیں کوئی نہ کوئی ایسی عمارت ضرور دکھائی دیتی ہے جس کا وجود کسی نہ کسی کہانی کو بیان کرتا ہے۔ گو کہ اب ان عمارات کی حالت بگڑتی جا رہی ہے مگر ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے اور ہماری عدم توجہی کے باوجود موجودہ دور کی تعمیرات میں بھی یہ نمایاں نظر آتی ہیں اور آنکھیں انہیں دیکھ کر کچھ وقت کے لیے ماضی کو ٹٹولنے لگتی ہیں۔ گاڑی کھاتہ سے ہو کر بھائی خان چاڑھی کی جانب بڑھتے ہوئے ایک ایسی عمارت بھی ہے جس سے وابستہ ایک کہانی نے مجھے چونکا دیا ہے۔ ماضی میں اس عمارت کو ہوم اسٹیڈ ہال کہا جاتا تھا مگر 1967 کے بعد یہ حسرت موہانی لائبریری بن گئی اور اب تک یہ ایک لائبریری ہی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

حیدرآباد کی تاریخی عمارات پر لکھنے کے بعد مجھے ہندوستان سے ایک ای میل موصول ہوئی کہ کسی زمانے میں حیدرآباد میں ہوم اسٹید نامی ایک عمارت ہوا کرتی تھی کیا وہ اب بھی قائم ہے؟ میرا جواب تھا جی ہاں۔ پھر انہوں نے مجھے ایک عمر رسیدہ عورت کی کہانی سنائی، جس سے انہوں نے اکثر ہوم اسٹید ہال کے بارے میں سنا تھا۔
"دلی میں ایک عمر رسیدہ عورت ہمیشہ ہوم اسٹیڈ ہال کو یاد کیا کرتی تھی۔ ان کا تعلق سندھ کے بھائی بند خاندان سے تھا، جو کہ تاجر تھے۔ انہوں نے اپنی تجارت اس زمانے میں مختلف ملکوں میں پھیلا رکھی تھی۔ اپنی شادی کے بعد یہ خاتون حیدرآباد میں ہی رہی۔ ان کی برادری کے لوگ اکثر تجارت کے سلسلے میں گھروں سے باہر رہا کرتے تھے اور دو تین برس بعد اپنے گھروں کو کچھ ماہ کے لیے لوٹتے تھے۔




عمارت کی تیاری میں سرخ اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے.
"مگر جیسے ہی بٹوارہ ہوا، یہاں کے ہندو خاندانوں نے سندھ کو الوداع کہہ کر ہندوستان میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان میں سے کئی ایسے بھی خاندان تھے جو ہندوستان کے بجائے دیگر ممالک چلے گئے، مگر ہندوستان میں زیادہ تر ان میں سے ممبئی اور پونے میں آباد ہوئے۔ اس خاتون کے شوہر وفات پا گئے، گزرتے ہوئے وقت نے آخرکار جوانی چھین لی اور خاتون کو بڑھاپے نے گھیر لیا۔ اس وقت اس کی دیکھ بھال پر اس کے اپنے ہی بچے معمور تھے مگر ایک دن انہوں نے اسے اپنے جان پہچان والوں کے پاس بھیج دیا۔ انہوں نے بھی اس کا خیال رکھا مگر ایک بوڑھا جسم کب تک گزرتے وقت کی مار سہہ سکتا ہے۔
اسی دوران وہ اکثر حیدرآباد کا ذکر کیا کرتی تھیں، اور خاص طور پر ہوم اسٹیڈ ہال کا۔ جب بھی شام کے سائے ڈھلتے تھے تو وہ کہا کرتی تھیں کہ انہیں تھیٹر دیکھنے ہوم اسٹیڈ ہال جانا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ بستر کے سپرد ہو گئیں مگر انہیں پھر بھی یہی گمان تھا کہ وہ اب تک حیدرآباد میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے بستر سے اٹھنے کی کوشش کرتیں مگر نہ تو اس کے گھر کی دہلیز کے پار حیدرآباد تھا اور نہ ہی ہوم اسٹیڈ ہال انہیں کمرے کی کھڑکی سے نظر آتا تھا۔ وہ بس ان کے ذہن میں تھا۔"
ڈاکٹر ہوم اسٹیڈ کا تعلق انگلینڈ سے تھا، وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے، جب حیدرآباد میں کالرا کی وبا پھیلی تو انہوں نے دن رات ایک کر کے مریضوں کا علاج کیا اور اس مرض سے انہیں نجات دلائی۔ پھر انہی کی یاد میں 1901 میں اس عمارت کو قائم کیا گیا۔ مگر ہندوستان کی تقسیم کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ اسی زمانے میں سادھو ہیرانند نے بھی کالرا نے مریضوں کے علاج میں دلچسپی دکھائی اور کچھ وقت کے لیے ہوم اسٹیڈ کے ساتھ کام کیا۔ سادھو ہیرانند ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے۔





کے زمانے میں جب پیر علی محمد راشدی اطلاعت و نشریات کے وفاقی وزیر تھے، تو حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔ اس سلسلے میں اسٹیشن کا پہلا ٹرانسمیٹر ہوم اسٹیڈ ہال میں نصب کیا گیا تھا۔ یہاں سے ہی حیدرآباد ریڈیو کی پہلی آواز فضا میں گونجی۔ یہ عمارت 1962 تک ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے لیے وقف تھی مگر جیسے ہی ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی نئی عمارت پریس کلب کے قریب تعمیر ہوئی تو اس ہال کو خالی کر دیا گیا۔
تقسیمِ ہند سے پہلے بھی اس عمارت میں ناٹک منڈلیاں اور تھیٹر وغیرہ ہوا کرتے تھے۔ اس وقت کئی خاندان اکثر ہوم اسٹیڈ ہال لطف اندوز ہونے کے لیے جاتے تھے۔ سندھ میں پہلی ڈرامیٹک سوسائٹی 1894 میں ڈی جے کالج میں قائم ہوئی، جبکہ حیدرآباد میں قائم ہونے والی پہلی ڈرامیٹک سوسائٹی ینگ سٹیزنز ڈرامیٹک سوسائٹی 1920 میں قائم ہوئی۔
ہوم اسٹیڈ ہال کے اندرونی منظر کو دیکھا جائے تو کافی کشادہ نظر آتا ہے۔ عمارت کے مرکز میں ایک بہت بڑا ہال ہے، جہاں ڈرامے ہوا کرتے تھے اور اس کے عقب میں ایک گیلری ہے جہاں سے ناظرین ان ڈراموں سے لطف اندوز ہوتے ہوں گے۔ مرکزی ہال کی دائیں اور بائیں جانب بھی چھوٹے ہال ہیں، جن میں سے ایک کو ریڈنگ ہال میں تبدیل کیا گیا ہے جب کہ دوسرے میں کتابوں کے شیلف رکھے گئے ہیں۔ مرکزی ہال میں عام لوگوں کے لیے مطالعے کا بندوبست کیا گیا ہے اور وہاں پر بھی کتابوں کے شیلف رکھے گئے ہیں۔ موجودہ لائبریری کے تین سیکشن ہیں۔ ایک بچوں کے لیے، دوسرا مردوں کے لیے جبکہ تیسرا خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

چھت کو بہت اونچا بنایا گیا ہے اور اسے اس وقت کے رائج فن پاروں سے سجایا گیا ہے۔ دیواروں پہ بھی عمدہ کاریگری سے کام کیا گیا ہے۔ عمارت کی کھڑکیوں اور دروازوں میں رنگین شیشے لگائے گئے ہیں، وہ اب بھی قائم ہیں۔ چھت میں لگے ہوئے ایک صدی پرانے فانوس بھی اب تک صحیح سلامت اور روشن ہیں۔ جنہیں نہایت ہی خوبصورت انداز سے بنایا گیا ہے۔ ہوم اسٹیڈ ہال کی خاص بات یہ ہے کہ اسے اسی حالت میں برقرار رکھا گیا ہے۔ دیواروں اور چھت پر بنائے گئے نقش و نگار اور عمارت کے اندرونی منظر آنکھوں کو موہ لیتے ہیں۔ عمارت کے سامنے ایک چھوٹا سا پارک ہے اور پشت پر ایک خالی میدان ہے جہاں چند درخت خاموش کھڑے ہیں۔
آج اس عمارت میں لوگ خاموشی سے کتابوں پر نظریں جمائے مطالعے میں مشغول رہتے ہیں۔ مگر اسی عمارت کے اسٹیج پر کئی ڈرامے ہوئے، جن کا مقصد سماج کی اصلاح تھا۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی کئی آوازیں یہاں سے فضا میں بلند ہوئیں، مگر اپنے شہر سے بچھڑنے کا غم اس عورت کو سرحد پار بھی ستاتا رہا اور اسے مرتے دم تک یہ محسوس ہوتا رہا کہ کسی شام وہ ہوم اسٹیڈ ہال ضرور جائی گی. 
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers