کسی دم توڑتے انسان کو دیکھنا کس قدر اذیت ناک ہے اور اگر انسانوں کا ایسا گروہ جس کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں تک ہو آپ کے سامنے صفحہ ہستی سے مٹ جائے تو کیسا محسوس ہوگا؟ جی ہاں زلزلوں، سیلابوں اور قدرتی آفات میں تو لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں لیکن ان کے بغیر بھی رسم و رواج اور طرز زندگی چلتی رہتی ہے لیکن اگر کوئی قبیلہ اپنی ثقافت کے ساتھ ہی صفحہ ہستی سے مٹ جائے تو گویا تاریخ کا ایک باب ختم ہو نے کے مترادف ہے۔ اس مہذب دنیا میں کئی قبائل اپنی بقاء کی جنگ ہار کر آخری سانس لے رہے ہیں جنہیں بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔آئیے آپ کو دنیا سے ناپید ہونے کے قریب کچھ قبائل سے ملواتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے

بھاتک (فلپائن):قبیلہ بھاتک کے باشندے پلاوان جزیرے کے رہائشی ہیں۔ ان کی نسل آسٹرلائیڈ یا نیگرٹ سے منسلک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 70 ہزار برس قبل افریقی سرزمین کو چھوڑا تھا اور فلپائن کے آس پاس آکر آبا دہوئے۔ وہ گھنے جنگلوں میں رہتے ہیں اور ان کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور شکار ہے۔ آج ان کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ یہ لوگ مختصر لباس زیب تن کرتے ہیں۔ جدید تہذیب میں یہ لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر تیزی سے موت کے منہ میں گرتے گئے۔ اس کے علاوہ جنگلوں کے کٹاو کی وجہ سے بھی ان کا رہنا دوبھر ہو گیا۔ ابھی ان کی مجموعی تعداد محض تین سے پانچ سو لوگوں تک ہے۔ فلپائن کی حکومت اس قبیلے کو بچانے کے لئے عملی اقدامات کی طرف راغب ہوئی ہے لیکن اس قبیلے کو اپنی اطوار میں حکومتی مداخلت پسند نہیں۔
فیرا (برازیل):فیرا وہ واحد قبیلہ ہے جس نے مہذب دنیا کی ہر پیش کش اور سہولیات کو مسترد کر دیا ہے۔ شکار پر زندگی بسر کرنے والا یہ قبیلہ میسی دریا کے کنارے آباد ہے۔ اس قبیلے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی زبان کسی لفظ ہندسے یا رنگ پر مشتمل نہیں ۔ ان کی سادہ زبان ہی ان کی ثقافت کی پہچان ہے۔ ان کی کل تعداد چار سو افراد ہیں اور یہ لوگ جدید دنیا سے دوربھاگتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کب تک اس زمین کا حصہ رہیں گے۔
کایا پو (برازیل):زنگو دریا کے کنارے چھوٹے چھوٹے 24 دیہاتوں میں کایاپو قبیلہ بسا ہوا ہے۔ یہ لوگ کاشت کرتے ہیں اور اپنے جسم کو مختلف رنگوں سے رنگین بنانے کی مشقت بھی کرتے ہیں۔انہیں میبنگو کرے کہتے ہیں جس کا مطلب ہے پانی کے لوگ۔ یہ لوگ خود کو دریائے زُنگو کی اولاد کہتے ہیں۔ 1989 ء میں انہوں نے زبردست مزاحمت کر کے اس دریا پر بننے والے ڈیم کو روک دیا لیکن بعدازاں حکومت نے طاقت کے بل بوتے پر اس ڈیم کی تعمیر شروع کی اور اب یہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔ اسی ڈیم کی وجہ سے 668 مربع کلو میٹر زمین کام آئی ہے اور کویاپو کی طرز زندگی بری طرح متاثر ہو ہوئی ۔
چائو لیا (امریکہ):جنوبی کیلفورنیا کے قریب کو چیلاوادی میں چائولیا قبیلہ گذشتہ تین ہزار برسوں سے مقیم ہیں ۔کہتے ہیں کہ جتنی پرانی چارلیا جھیل ہے اتنے ہی پرانے اس کے کنارے بسنے والے یہ مکین ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اپنی مادری زبان بھول گئے۔ازٹیک دور کی یہ زبان اس قبیلے کی وجہ سے متروک ہو گئی۔ آج مٹھی بھر افراد یہ زبان ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولتے ہیں۔ ان کا ’’برڈسونگ‘‘ صدیوں کا سفر طے کر کے بھی زندہ ہے۔
ایل مولو (کینیا):ایلو مولو کا مطلب ، ’’وہ لوگ جو صرف اپنے جانوروں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں‘‘ یہ قبیلہ کینیا کے جنگلوں میں رہتا ہے اور اس کی نسل متروک ہونے کے قریب تر ہے۔ یہ لوگ ترکانا جھیل کے کنارے رہتے ہیں۔ انہیں اپنی اپنی جانوں پر کھیل کر مگرمچھوں سے بھری اس جھیل سے مچھلیاں پکڑ کر جینا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ مردوں کی بڑی تعداد مگر مچھوں کی غذا بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ باہمی لڑائیوں کے نتیجے میں بھی ان کے ارکان کی تعداد بہت تیزی سے گھٹی ہے۔ اس وقت ان کی کل آبادی میں30 سے45 برس کے مردوں کی تعداد صرف 200 ہے۔
دوکا (منگولیا):قدیم دنیا کی خالص تصویر دوکا قبیلہ ہے جو کہ منگولیا کے سرد علاقوں میں اپنی زندگی جیسے تیسے گزار رہے ہیں۔ وہ برف سے اٹے جنگلوں اور غاروں میں رہتے ہیں۔ یہ لوگ سیاحوں اور غیر ملکیوں کے ساتھ بہت ہی دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کی تعداد صرف تین سو نفوس پر مشتمل ہے۔ ان کی نئی نسل نے جدید ٹیکنالوجی کو جی جان سے قبول کیا ہے۔
دی سینی فیکس(آسٹریلیا):آسٹریلیا کے معروف وکٹوریہ صحرا کے رہنے والے یہ لوگ بالآخر اپنی ثقافت کی جنگ ہار گئے اور اس وقت ان کی بہت ہی معمولی تعداد روئے زمین پر زندہ ہے۔ یہ لوگ اس صحرامیں 15 ہزار برسوں سے رہ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب یورپی لوگوں نے یہاں جدید دنیا کی بنیاد رکھی تو بھی ان لوگوں نے صحرائی میدانوں کو خیر آباد نہیں کہا۔ 1950 ء میں جب آسٹریلوی حکومت نے ان صحرائوں میں نیو کلئیر ہتھیاروں پر ٹیسٹ کئے تو لوگوں کو اپنی آبادی ، رہائش اور زمین چھوڑ کر جانا پڑا۔ 1980ء کی دہائی میں انہو ں نے دوبارہ ان صحرائوں کا رخ کیا لیکن ایڈجسمنٹ نہ ہو سکے۔ 1997ء میں حکومت آسٹریلیا کی جانب سے انہیں ان کی قومیت کا ٹائیٹل تو مل گیا لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ لوگ دوبارہ متحد ہو ہی نہ سکے۔ اب ان کی تعداد150 سے250 لوگوں تک رہ گئی ہے۔
تاکواتل (یویلنسیا):تاکواتل قبیلہ اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس کے لوگ ہمیشہ گاتے ناچتے ہنسی خوشی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ چار سو سے زائد لوگوں پر مشتمل یہ قبیلہ ہفتے میں40 گھنٹے گا کر جیتے ہیں جبکہ اپنے ایک ہزار سے زائد گانوں سے لوگوں کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ ساحل سمندر پر صدیوں سے مکین ہیں لیکن افسوس کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات یہاں بھی دیکھے گئے ہیں۔ آئے دن سمندری طوفانوں نے یہاں بتاہی مچائی ہوتی ہے۔ انہوں نے سمندر کنارے بڑی بڑی دیواریں کھڑی کر کے پانی کا راستہ روکنے کی کوششیں تو کیں لیکن اب یہ کوششیں بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔
کالاش (پاکستان):سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والے یہ خوبصورت لوگ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں چترال کے پہاڑوں سے پرے اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ یہ لوگ خود کو سکندر اعظم کی فوج کی باقیات قرار دیتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ ثابت کرتے ہیں کہ ان کی آبائو اجداد یورپی ہیں۔ یہ اپنے کلچر کی حفاظت تو کر ہی رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے کئی تبدیلیوں کو تسلیم کر لیا ہے ۔ جس سے ان کے یہاں عورت کو خاصی آزادی مل گئی ہے۔ مے نوشی عام ہے۔ عورتیں شوخ اور رنگ برنگے ملبوسات پہنتی ہیں۔ اس وقت چھ سے سات ہزار لوگ کالاشی قبیلے کی کل تعداد ہے۔ ان کے بچے جدید تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں لیکن اپنی ثقافت کی اہمیت پر کوئی سود ا نہیں کرتے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers