پردیس میں جب جب ہم اپنے من چاہے سالن کھاتے ہیں تو کتنے ہی منظر چٹخارے لیتے ہوے ہمارے ذوقِ انتخاب سے سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ ذوقِ خوش خوری ٗپر خوری تا دیر خور ی میں ایک شعر کی صحت کی پرواہ کے بغیر اعلان کرنا چاہوں گا
خاموش نہ بیٹھے گا دستر پہ جنوں میرا………….یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ میزباں چاک
جب جب دکن کے سوندھے سوندھے سالنوں کی مہک یادوں کے وسیع دستر خوان سے اُٹھنے لگتی ہے تب کہیں یاد کی روشن سطع پر ہانڈی میں طویل انتظارکے بعد پکنے والا سوندھا سالن اچانک عقیدے کا حصّہ بن جاتاتھا۔ تب ہر چیز محترم بلکہ مقدس سمجھی جاتی تھی۔ دراصل ہر علاقے کاپکوان نہ صرف چٹخارے کا موضوع ہے بلکہ متعالقہ خطّہ کا تہذیبی نمائندہ بلکہ مقامی جمالیات کا حسین مرقّعہ ہوتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
پی ٹی وی گھرانوں کے جوڑ کا دور تھا، کیونکہ زیادہ تر لوگوں کے گھر ٹی وی نہیں ہوتا تھا لہذا لوگ اپنے رشتے داروں کے گھر پر جا کر فیچر فلمیں دیکھتے۔ 2014 کا سال پاکستان ٹیلی ویژن کی گولڈن جوبلی کا سال قرار دیا گیا تھا۔ لہذا پی ٹی وی کے 50 سالوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے اس بات کا اعتراف کرلینا چاہیئے کہ شاید کسی کے پاس بھی وہ الفاظ نہ ہونگے جو اس ادارے کی تعریف اُن خوبصورت الفاظ میں کرسکے جسکا وہ حق رکھتا ہے۔ دوسرا ان 50 سالوں میں اُسکا وہ کونسا شعبہ ہوگا جو تعریف کے قابل نہیں، لہذا فی الحال وہاں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں تک ماضی کے ناظرین کی یادیں تو ضرور وابستہ ہیں اور اسی لئے اُس دور کی میڈیا پالیسی کی تعریف بھی کرتے ہیں، جس میں اخلاقیات کی حدود قائم رکھی گئیں تھیں، یہی خوبی ’’پی ٹی وی‘‘ کا سنہرا دور بنا اور موجودہ ’’ایم ڈی جناب محمد مالک‘‘ نے اُس دور کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اب بھی بھرپور کوشش کی ہے کہ موجودہ الیکٹرونک میڈیا کے مقابلے کے دور میں پاکستان ٹیلی ویژن اخلاقی و شائستگی کی روایت قائم رکھے۔  تفصیل سے پڑھئے
پاکستان میں اب بھی بہت سے ارفع کریم کے نقش قدم پر چلنے والے موجود ہیں، جو حکومتی سرپرستی کے منتظر ہیں.
میری ایک عادت ہے کہ مجھے جب بھی فارغ وقت ملتا ہے، میں نیٹ سرفنگ ضرور کرتا ہوں۔ اِس کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ میں دنیا بھر میں ہونے والی نئی تبدیلیوں سے باخبر رہتا ہوں اور دوسرا میرے دماغ میں آنے والے کئی سوالات کے جواب مل جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک روز نیٹ سرفنگ کے دوران مجھے دنیا کے چند اہم اور نمایاں کاروباری حضرات کی لسٹ نظر آئی۔ اپنی دلچسپی کے لئے جب میں نے اس لسٹ کو پڑھا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ انیسویں صدی کے چند بڑے کاروباری شخصیات وہ تھیں جنہوں نے پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی تھی، اسی طرح بیسویں صدی کے بیشتر بڑے کاروباری حضرات وہ تھے جنہوں نے مختلف صنعتوں میں پیسہ لگایا، جن میں سرِ فہرست ٹیلی کمیونیکشن، کمپیوٹر ہارڈ ویئر اور ایویشن کے شعبے نمایاں تھے، لیکن میری حیرت میں تو اُس اضافہ ہوا جب میرے علم میں اضافہ ہوا کہ اکیسویں صدی کے سب سے نمایاں ملٹی ملین بزنس مین کا تعلق نہ تو پراپرٹی سے اور اور نہ تجارت سے بلکہ اُن میں سے 70 فیصد کا تعلق تو انٹرنیٹ اور سوفٹ وئیرز سے ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
کسی دم توڑتے انسان کو دیکھنا کس قدر اذیت ناک ہے اور اگر انسانوں کا ایسا گروہ جس کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں تک ہو آپ کے سامنے صفحہ ہستی سے مٹ جائے تو کیسا محسوس ہوگا؟ جی ہاں زلزلوں، سیلابوں اور قدرتی آفات میں تو لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں لیکن ان کے بغیر بھی رسم و رواج اور طرز زندگی چلتی رہتی ہے لیکن اگر کوئی قبیلہ اپنی ثقافت کے ساتھ ہی صفحہ ہستی سے مٹ جائے تو گویا تاریخ کا ایک باب ختم ہو نے کے مترادف ہے۔ اس مہذب دنیا میں کئی قبائل اپنی بقاء کی جنگ ہار کر آخری سانس لے رہے ہیں جنہیں بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔آئیے آپ کو دنیا سے ناپید ہونے کے قریب کچھ قبائل سے ملواتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
یوں تو ملکہ وکٹوریہ کی زندگی کئی واقعات اور پہلوئوں سے عبارت ہے لیکن جو پہلو قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہوسکتا ہے وہ ہے ملکہ کا انتہائی بااعتماد خادم حافظ محمد عبدالکریم۔ اس خادم کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ملکہ ان پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتی تھیں اور اس خادم سے انکی محبت کو دیکھ کر مورخین نے لکھا ہے کہ وہ اس کو اپنے بیٹے کی طرح چاہتی تھیں ، تاہم مغربی مورخوں نے حافظ کریم کے حق میں بہت کم لکھا ہے ،شاید اس لیے کہ گورے ایک الگ رنگ ونسل کے شخص کی ملکہ سے قربت کو قطعی پسند نہیں کرتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
برسات میری دیرینہ کمزوری ہے ۔،۔۔۔ لیکن یہ بھائی تابش کی ان متعدد کمزوریوں کی مانند نہیں کہ جو اکثرموقع بموقع ایک دوسرے کی جگہ لیتی رہتی ہیں یا جنہیں سوائے قبلہ بڑے حکیم صاحب کے، شرفاء کے سامنے کھلے بندوں بیان نہیں کیا جاسکتا،،،۔۔۔ بلکہ میری دانست میں یہ اک اور طرح کا مستقل نوعیت کا آبی روگ ہے،،، اک ایسا روگ جس سے میرا انگ انگ اور پور پور سرشار ہوجاتا ہے اور جس سے جان چھڑانے کا میرا ہرگز کوئی ارادہ نہیں،،، جبکہ ایک اپنے خواجہ صاحب ہیں۔۔۔ جنہیں میں کور ذوقوں کا کور کمانڈر کہا کرتا ہوں،،، جہاں دو چار بوندیں کیا گریں ناک اور شلوار کے پائنچےایک ساتھ چڑھائے نظر آتے ہیں ،،، برسات کی شدت جتنی ہو اسی اعتبار سے یہ چڑھی ناک اور پائینچے اوپر نیچے کرتے رہتے ہیں،،، ادھر میرا یہ حال ہے کہ بقول بیگم کے، کہ جہاں آسمان پہ بادل کے چند ٹکڑے ایکدوسرے کے قریب آتے نظر آئے اور ادھر مجھے گھر کاٹنے کو دوڑا ،، تفصیل سے پڑھئے
کسی جنگل میں ایک کوا رہتا تھا۔ کوا اپنی زندگی سے بڑا مطمئن اور خوش باش تھا۔ ایک دن کوے نے پانی میں تیرتے سفید ہنس کو دیکھا۔ کوا ہنس کے دودھ جیسے سفید رنگ اور خوبصورتی سے بڑا متاثرهوا اور سوچنے لگا کہ یہ ہنس تو یقینا'' دنیا کا خوبصورت ترین اور خوش ترین پرندہ ہوگا۔اس کے مقابلے میں میں کتنا کالا کلوٹا ہوں۔
کوے نے جب یہی بات ہنس سے کی تو ہنس بولا کہ میں بھی اپنے آپ کو دنیا کا خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندہ سمجھتا تھا لیکن جب میں نے طوطے کو دیکھا تو مجھے اس پر رشک آیا کہ اس کو دو خوبصورت رنگوں سے نوازا گیا ہے۔
میرے خیال میں تو طوطا دنیا کا سب سے خوبصورت پرندہ ہے۔
کوا یہ سب سن کر طوطے کے پاس پہنچا۔جب اس نے یہی بات طوطے سے کہی تو طوطا بولا۔'' میں بھی بڑا خوش باش اور اپنی زندگی اورخوبصورتی سے بْڑا مطمئن تھا لیکن جب سے میں نے مور کو دیکھا ہے میرا سارا سكون اور خوشی غارت ہو گئ ہے۔ مور کو تو قدرت نے بے شمار ْخوب صورت رنگوں سے نوازا ہے،
۔''
کوا مور کو ڈھونڈتے ہوئ چڑیا گھر پہنچ گیا جہاں مور ایک پنجرے میں قید تھا اور سینکڑوں لوگ اسے دیکھنے کے لئے جمع تھے۔ شام کو جب زرا لوگوں کی بھیڑ چھٹی تو کوا مور کے پاس پہنچا اور بولا، '' پیارے مور، تم کس قدر خوبصورت ہو۔ تمہارا ایک ایک رنگ کتنا خوبصورت ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ تمہیں دیکھنے آتے ہیں اور ایک میں ہوں کہ مجھے دیکھتے ہی شو شو کر کے مجھے بھگا دیتے ہیں۔ تم یقینا'' دنیا کے خوبصورت اور خوش قسمت ترین پرندے ہو۔ تم کتنے خوش ہوگے۔ ''
مور بولا۔ '' ہاں میں بھی خود کو دنیا کا سب سے حسین پرندہ سمجھتا تھا لیکن ایک دن اسی خوبصورتی کی وجہ سے مجھے پکڑ کر اس پنجرے میں قید کرلیا گیا۔ جب میں اس چڑیا گھر کا جائزہ لیتا ہوں تو ایک کوا ہی ایسا پرندہ ہے جسے پنجرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ اب پچھلے کچھ دنوں سے میں سوچتا ہوں کہ کاش میں ایک کوا ہوتا اور آزادی سے جنگلوں میں اڑتا گھومتا پھرتا۔''
بالکل یہی مسئلہ ہمارا بھی ہے۔ ہم ہر وقت غیر ضروری طور پر دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔۔ اللہ پاک نے ہمیں جن نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے ان کی قدر نہیں کرتے اور ہر وقت شکائتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہی نا شکری ہم سے ہماری خوشی و شادمانی چھین لیتی ہے۔ ایک کے بعد ایک غم اور اداسی ہم کو گھیر لیتی ہے۔
اللہ کی دی ہوئ نعمتوں کی قدر کیجئے۔ فضول میں اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کیجئے۔یہی خوشی اور سکون کا راز ہے۔
کیسی خوبصورت بات ہے ناں۔۔۔
اللہ کی ہر نعمت کے لئے کہئے۔ ۔۔۔۔ الحمدُ للہ
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ہم شام کو شادی والے گهر پہنچ گے، ابهی کهانا کها کر فری ہوے ہی تهے کہ، جس دوست کی شادی تهی اس کے والد صاحب نے بلا لیا.گاوں کے افراد کی لسٹ بنانے کو کہا .کیونکہ گاوں کی شادی میں اکثر یہ ہوتا هے آپ نے جس کو گاوں میں دعوت دینی ہو اور بلانا ہو برات پر یا والیمہ میں تو اس کو شادی کارڈ نہیں بھیجتے. بلکہ مہندی والی رات کو دولہا کے ابا جی کسی پڑهے لکهے بندهے یعنی جو نام لکهنا جانتا ہو اس کے پاس بیٹھ کر ایک کاغذ پر سارے نام لکهوا لیتا ہے.پهر ناموں کی لسٹ والا کاغذ شادی والے گهر کے کسی کمی کو دے دیا جاتا ہے .جن میں نائی ، موچی، یا میراثی، کسی ایک کو اور وہ گاوں میں ہر اس گهر جاتا ہے جس کا لسٹ پر نام ہوتا ہے اور زبانی دعوت دیتا ہے کہ جی فلاں چوہدری ، ملک کی طرف سے کل اس کے بیٹے کی بارات پر آپ کو صدا دیا جاتا هے .صدا پنجابی میں دعوت کو ہی کہتے ہیں.
یہ تو گاوں میں ایک روایتی طریقہ ہے بارات یا ولیمہ پر گاوں والوں کو بلانے کا. تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلش زبان میں کافی کا لفظ سن 1526 میں متعارف ہوا۔ انگلش میں یہ لفظ ڈچ یا ولندیزی زبان کے لفظ کوفی سے آیا۔ ڈچ لوگوں نے یہ لفظ ترکی زبان کے لفظ کاہوی سے لیا اور ترکی میں یہ لفظ عربی کے لفظ قہوہ سے آیا۔قہوہ کا لفظ عربی لفظ قوّہ سے لیا گیا جس کا مطلب قوت یا طاقت کے ہیں۔ ایک اور تعریف کے مطابق قہوہ کا لفظ ایتھوپین لفظ قھ سے لیا گیا جس کا مطلب ہے گہرا رنگ۔ کافی جو آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک ہے، درحقیقت مسلمانوں کی ایجاد ہے اور یہ کسی سائنسدان کا نہیں بلکہ عام چرواہے عرب کا کارنامہ ہے، جو اپنے جانوروں کو چرا رہا تھا کہ اسے ایک نئے طرز کا بیری یا پھل کا پودا ملا اور انہیں ابالنے کے بعد دنیا میں پہلی بار کافی تیار ہوئی۔
دوسری روایت یہ ہے کہ یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی درویش غوث الاکبر نورالدین ابوالحسن الشدیلی ایتھوپیا کے جنگلات میں گھوم پھر رہے تھے کہ ان کو کچھ ایسے پرندے نظر آئے جو ایک پودے میں لگے بیری نما پھل کھا رہے تھے۔ یہ پرندے اپنی حرکات و سکنات میں انتہائ پھرتیلے اور قوی معلوم ہوتے تھے۔ صوفی صاحب نے جب ان پھلوں اور بیجوں کو استعمال کیا تو ان کو بھی اپنے جسم میں ایسی ہی طاقت اور پھرتی محسوس ہوئ۔ تفصیل سے پڑھئے
رخسانہ حبیب ایک قلمی نسخے کا مطالعہ کرنے میں محو ہیں۔ وہ ایک پرجوش محققہ ہیں اور ہر روز اسلامیہ کالج لائبریری میں گھنٹوں قدیم مخطوطوں اورتاریخی موضوعات پر مبنی مواد کا مطالعہ کرنے میں گزار دیتی ہیں۔ اسلامیہ کالج میں سیاسیات کے مضمون کی تدریس سے منسلک رخسانہ نے کہا:’’ پرانی کتابوں کا مطالعہ میرا پسندیدہ مشغلہ ہے اور یہ لائبریری شہر میں وہ واحد جگہ ہے جہاں میں تاریخی موضوعات پر ایک بہترین ماحول میں کتابیں پڑھ سکتی ہوں۔‘‘ رخسانہ کلاس سے فرصت کے لمحات کے دوران شہر کی قدیم ترین اس نیم تاریک لائبریری میں پہنچ جاتی ہیں، وہ کتاب اُدھار پر لینے کے لیے لائبریری کی آن لائن آرکائیوز میں سے اپنے پسندیدہ موضوعات پر مبنی کتب تلاش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا:’’ میں شہراور یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی لائبریریوں کا رُخ کرچکی ہوں لیکن یہ وہ واحد لائبریری ہے جہاں آپ کسی دوسرے پرانحصار کیے بغیر ڈیجیٹل آرکائیوز میں سے کتابوں کو تلاش کرسکتے ہیں۔‘‘ اسلامیہ کالج کی اس ایک صدی قدیم لائبریری کو 2015ء میں ڈیجیٹل کیا گیا اور اب 90ہزار کتابیں اور 1261تاریخی مخطوطے طالب علموںا ور اساتذہ کے کی پیڈ کے ایک کلک پردستیاب ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
جھانسی کی رانی لکشمی بائی رانی لکشمی ہندوستان کی اولین جنگ آزادی کی سب سے لائق رہنما تھی: مورخ ونسٹ اے اسمتھ- جھانسی کی رانی لکشمی بائی کی لازوال قربانی مشرقی عورت کی غیرت ،سوجھ بوجھ،فراست اور بہادری کی وجہ سے اس خطے کی آنے والی نسلوں کو اپنے وطن سے محبت اور دھرتی کی حرمت و ناموس پر مر مٹنے کا راستہ دکھاتی رہے گی۔ جھانسی وسط ہند کی ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ پیشوا کے عہد اقتدار میں اس کا صوبیدار وہاں کا حاکم اعلیٰ ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ صوبہ داری کا عہدہ موروثی ہوتا چلا گیا اور پیشوا محض علامت بن کر رہ گیا۔ 1817ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جھانسی کے راجہ سے دوستانہ معاہدہ کیا جس کے مطابق راجہ کی آئندہ نسلیں بھی حکمرانی کرتی رہیں گی، لیکن یہ معاہدہ کمپنی کی عیاری اور فریب کار سیاسی مصلحت کا نمونہ تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
محمد بن قاسم سیکولر طبقہ کے نزدیک اسلامی تاریخ کے قابل نفرت کرداروں میں سے ایک ہے ، یہ طبقہ اس پر طرح طرح کے الزامات لگاتا ہے اور اسکے مقابلے میں راجہ دہر کو اپنا ہیرو گردانتا ہے۔ اسکے جواب میں تاریخ کی مستندکتابوں سے محمد بن قاسم اور سندھ کے حالات پر تبصرہ پیش خدمت ہے۔
پہلا سوال یہی ہے کہ مسلمانوں کے سندھ پر حملے کی وجہ کیا تھی ؟
اس کے لیے ہم سندھ کی تاریخ پر تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھنے والی قاضی اسماعیل کی کتاب چیچہ نامہ سے استفادہ کریں گے جسے حال ہی میں سندھ کے بلند پائے کے محقق و مؤرخ ڈاکٹر بنی بخش جان بلوچ کی تحقیق سے سندھی زبان کے ترجمان ادارے سندھی ادبی بورڈ نے شائع کیا ہے۔ قاضی صاحب چیچہ نامہ المعروف فتحہ نامہ سندھ میں محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ کرنے کی وجوہ بیان کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ
"سراندیپ کے حاکم نے جزیرہ یا قوت سے حجاج بن یوسف کے لیے کچھ قیمتی تحائف روانہ کیے جس قافلے میں کچھ مسلمان عورتیں بیت اﷲ کی زیارت اور تخت گاہ کو دیکھنے کی شوق میں کشتیوں پر سوار ہوگئیں پھر جب یہ قافلہ قازرون کے علاقے میں پہنچا تو مخالف سمت ہوائیں کشتیوں کو دیبل کے کناروں کی طرف لے آئیں۔جہاں نکا مرہ کے ٹولے نے آٹھوں جہازوں پر دھاوا بول دیا املاک کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو گرفتار کیا اہل سراندیپ نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ تحائف بادشاہ کے لیے جا رہے ہیں لہٰذا آپ یہ مال فوراً واپس کریں لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور فاخرانہ انداز میں کہا کہ آج اگر کوئی تمہارا داد رس ہے تو اسے پکارو اسی اثناء میں ایک عورت کی زبان سے مظلومانہ آہ نکلی ۔ان مغویوں میں سے ایک آدمی فرار ہو کر حجاج کے پاس پہنچااور حجاج کو کہا کہ مسلمان عورتیں راجا داھر کے پاس قید ہیں جو تجھے مدد کے لیے پکار رہی ہیں۔۔۔ اس پر حجاج نے لبیک کہا "۔ (چیچہ نامہ ص ۱۲۱)
انہیں دنوں مسلمان اندلس، سپین اور ترکستان کے محاذ علی الترتیب موسیٰ بن نصیر اور قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں کھول چکے تھے اور ایک تیسرا بڑا محاذ کھولنے کی گنجائش نہیں تھی اسی لیے حجاج نے اتمامِ حجت اور صورتِ حال کو پر اَمن ماحول میں نپٹانے کے لیے راجہ داہر حاکمِ سندھ کو لکھ بھیجا اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ لیکن راجہ داہر نے جواب دیا کہ
" عورتوں اور بچوں کو قید کرنا اور مال و اسباب کو لوٹنا بحری قزاقوں کا فعل ہے جو میرے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ لہٰذا میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ (چیچہ نامہ ص ۱۳۱)
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حجاج بن یوسف اور ان کے کمانڈر مال و اسباب چاہتے تھے تو انہوں نے یہ سفارتی خط کیوں ارسال کیا؟ انہوں نے سیدھا حملہ کیوں نہیں کیا؟
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کو لوٹنے والے راجہ داہر کے ہی لوگ تھے لوٹا گیا مال و دولت اور عورتیں بعد میں راجہ دہر کے ہی کمانڈروں سے برآمد ہوئیں تھیں۔
راجہ دہر کے اس جواب کے بعد جو جوابی خط ارسال کیا گیا ۔ اس کا متن بھی چچہ نامہ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں جس سے سارا معاملہ نصف النہار کی طرح واضح ہو جا تا ہے کہ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے محمد بن قاسم کو حملے پر مجبور کیا ؟
" ہمیں لشکر کشی کا معاملہ اس لیے پیش آیا کہ تم لوگوں نے سرا ندیپ سے آئے ہوئے مال و اسباب کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو قید کیا۔ جب تم لوگوں نے ایسی معیوب چیزوں کو جائز سمجھا تب مجھے دارا لخلافہ سے تم پر چرھائی کا حکم دیا گیا۔میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کی مدد سے تجھے مغلوب کر کے رسوا کروں گا اور تیرا سر عراق کی طرف روانہ کروں گا یا خود جام شہادت نوش کرو ں گا۔ میں نے یہ جہاد اﷲ تبارک و تعالیٰ کے فرمان و جاہد و ا الکفار وا لمنافقین کے تحت اپنے اوپر واجب سمجھ کر قبول کیا ہے‘‘ ۔(چچہ نامہ)
اس خط سے بھی یہ واضح ہے کہ حملے کی وجہ مظلوموں کی داد رسی تھی نہ کہ املاک کے حصول اور اپنی خلافت کی توسیع پسندی


یادیں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں یا یوں کہہ لیں ماضی مرتا ہی نہیں مطلب وقت کبھی بوڑھا نہیں ہوتا وہ کبھی گزرتا نہیں،کئی باتیں، کئی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ آپ کو حال سے ماضی تک لیجاتے ہیں، اب دیکھیں ناں عزیز شہر قائد میں رہتے ہیں اور یہاںکچھ وقت سے بنتے سنورتے بگڑتے حالات فقیر کو بھی ماضی تک لے گئے، اور شہر کی جگہ محلہ نے لے لی، خوب یادیں تازہ ہو گئیں،
کیا بتائیں لگتا یوں ہے تمام کردار زندہ ہو گئے ہیں، واقعات ہی کچھ ایسے ہیں،کسی زمانے سے ہمارے محلے میںعادل نامی ایک صاحب رہتے ہیں، معلوم نہیں اکیلے رہتے ہیں یا اپنے کنبے کے ساتھ مگر یہ حتمی بات ہے کہ رہتےہیں، اور محلے والے ان کا خوب ادب کرتے تھے اور کرتے ہیں، مطلب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ان کو، شخصیت ہی کچھ ایسی ہے،محلے والوں کا تو یہ عالم ہے مگر ایک روز ہوا کچھ یوں کہ احمدصاحب کی گاڑی کے سائیڈ میرر اتارتے ہوئے ایک شخص پکڑا گیا، محلہ چو ر چور کی پکار سے گو نج اٹھا- تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
بری عادتوں کی طرح میں پھسل رہا تھا، چپل ٹوٹی ہوئی تھی، مگر اسے اتارنے میں ایک بڑی پریشانی یہ تھی کہ لوگ دیکھیں گے، اس تیز رنگ کی ٹیوب لائٹ کی روشنی بھی میری جانب آتے آتے ہلکی ہوگئی تھی، خاکی رنگ کا ایک نیکر، اور سفید رنگ کی ایک شرٹ پہنے ہوئے میں بس کسی گاڑی بان کے انتظار میں تھا۔ سردی بہت زیادہ نہیں تھی، ہلکا ہلکا کہرا تھا، جیسے موسم کے چھٹانک بھر پھیپھڑوں میں سے دھواں گھبرا کر ابل پڑا ہو، اور اس نے گلی کو کہر آلود کردیا ہو۔ میرے جبڑے دکھ رہے تھے، رائی کا ایک دانہ دانتوں میں کہیں پھنسا ہوا تھا، جس کی وجہ سے زبان کی نوک ادھر ادھر حیران و پریشان پھر رہی تھی۔ میرا نیکر جھول رہا تھا، پتلی پتلی ٹانگوں کو چھوتی ہوئی ہوا، پنڈلیوں کے رونگٹوں میں ایک جنسی ترنگ پیدا کررہی تھی۔ میں شعیب کے یہاں سے کھیر کھاکر آرہا تھا، میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ ٹھنڈا کھانے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے بعد ڈھائی گھنٹے تک بھوک نہیں لگتی، مگر نقصان یہ ہے کہ آدمی رستہ بھول جاتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ سوال کئی لوگوں سے کیا، مگر ان میں سے کوئی بھی یاد کرکے نہ بتاسکا کہ میٹھا کھانے کے بعد وہ کبھی رستہ بھولا ہوگا۔ شعیب میرا مذاق اڑاتا تھا،  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
مجھے بچپن سے ہی انگریزی میں فیل ہونے کا شوق تھا لہذا میں نے ہر کلاس میں اپنے شوق کا خاص خیال رکھا۔ ویسے تو مجھے انگریزی کوئی خاص مشکل زبان نہیں لگتی تھی ، بس ذرا سپیلنگ ، گرائمراور Tenses نہیں آتے تھے۔ مجھے یاد ہے جو ٹیچر ہمیں کلاس میں انگریزی پڑھایا کرتے تھے وہ بھی کاٹھے انگریز ہی تھے، دو سال تک ’’سی۔۔۔یو ۔۔۔پی۔۔۔’’سپ‘‘ پڑھاتے رہے، مشین کو ’’مچین‘‘اور نالج کو ’’کنالج‘‘ کہتے رہے۔ایسی تعلیم کے بعد میری انگریزی میں اور بھی نکھا ر آگیا، مجھے یاد ہے میٹرک کے داخلہ فارم میں جب ایک کالم میں ’’Sex ‘‘ لکھا ہوا تھا تو میں کافی دیر تک شرماتے ہوئے سوچتا رہا کہ ایک لائن میں اتنی لمبی تفصیل کیسے لکھوں؟؟؟  تفصیل سے پڑھئے
ہندوستان کے 2اہم دریا ئوں" گنگا جمنا" کو ہندئو مذہب میں صدیوں سے ایک خصوسی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس خطے میں کوئی بچہ پیدا ہو اور ان دریائوں کے نام سے واقف نہ ہو۔لیکن عام طور پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد "گنگا جمنا" کو ایک ہی دریا کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ حالانکہ انکے ابتدائی محل ِوقوع مختلف ہیں۔ گنگا دریا گنگا دریا ہندوستان کے شمال سے جنوب کو آکر مشرق کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اور پھر جنوب کی طرف مڑ کر خلیج بنگال میں جا گرتا ہے۔اس کا منبع کو ہ ِہمالیہ میں" گنگو تری" نام کا ایک گلیشئر ہے۔قدیم ہندو ویدوں میں بھی اس کا ذکر آتا ہے اور بعد کی روایات میں اسکا نکاس شوجی کی جٹا سے بیان کیا جاتا ہے۔ ـشوجی" دراصل شمس یعنی سورج دیوتا ہے۔ جو صرف برف کو پگھلا کر دریا کی شکل میں بہاتے ہیں۔آگے چل کر یہ دریا "برہم پترا" (تبت سے آنے والا دریا۔جسکو تبت میں" تسانگ پو"،بھارت میں آسام سے گزرتے وقت" دیہانگ" اور خلیج بنگال کی طرف مڑتے ہوئے "برہم پتر" کہتے ہیں) میں مل کر خلیج بنگال میں جا گرتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
کہا جاتا ہے کہ یورپ نے فلکیات کی مشعل مسلمانوں سے حاصل کی اور مغربی دنیا کو منور کر دیا لیکن یہ اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیا کہ علم کی یہ روشنی کہا ں سے آئی؟ اس حقیقت کا اعتراف دنیا کے مشہور دانشوروں نے اپنے اپنے طور پر کیا ہے کہ مسلمان سائنسدانوں نے ہی مشاہداتی تجربات اور تحقیقات کی بنیاد ڈالی۔ ہٹی (Hitti)نے اپنی کتاب ’’A Short Story of Arab‘‘ میں لکھا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں کسی قوم نے انسانی ترقی میں اتنا حصہ نہیں لیا جتنا کہ مسلمانوں نے۔ پرمن ہنری(Primne Henri)نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے کرۂ ارض کی شکل ہی بدل دی۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر تمام فلکیاتی ترقیاں یورپ سے منسوب کیوں کر ہیں؟ یورپ میں اسلامی فلکیاتی ذخیرہ در اصل بغداد کی بیت الحکمہ نام کی انجمن کی وساطت سے پہنچا۔اس انجمن کوعباسی خلافت کے دور میں قائم کیاگیا تھا اور اس میں عربوں کی تصنیف شدہ کتابیں مختلف زبانوں لاطینی (Latin)، یونانی (Greek )وغیرہ میں منتقل کی جاتی تھیں شاید اس کام کا مقصد یورپ میں بھی اپنا نام روشن کرنا تھا لیکن ہوا یہ کہ سب گمنامی کے اندھیروں میں کھو گئے اور اہل یورپ نے ان سے استفادہ کر کے تمام دنیا کو منور کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔  تفصیل سے پڑھئے
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں اور قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے "کل نفس ذائقة الموت " کیونکہ واقعی دنیا میں موجود ہر انسان کو اس کا مزہ چکھنا ہے۔اکثر افراد زندگی بھر موت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آخر میں وہ بھی اس کے شکنجے سے بچ نہیں پاتے- آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو موت سے کے بارے دنیا بھر سے کچھ عجیب و غریب باتیں بتاتے ہیں۔
1۔ ماہرین کے مطابق مکمل انسانی تاریخ میں اب تک موت کا شکار بننے والے افراد کی تعداد تقریباً 100 کھرب بنتی ہے۔
2۔نیویارک ایسا شہر ہے جس میں قتل کے مقابلے میں خودکشی کے ذریعے موت کو گلے لگانے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔
3۔جب انسان کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کے سننے کی صلاحیت سب سے آخر میں کام کرنا چھوڑتی ہے-
4۔سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ آپ کا جسم زندہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر ایک منٹ میں آپ کے جسم میں موجود 35 ملین خلیے موت کا شکار بنتے ہیں-
5۔انسان پیدا 270 ہڈیوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اکثر انسان مرتے صرف 206 ہڈیوں کے ساتھ ہی ہیں-
6۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ برطانیہ میں "rent a mourner" نامی سروس بھی موجود ہے جس کے تحت انسان اپنی آخری رسومات میں شرکت کے لیے کرائے پر جعلی رونےوالے دوست حاصل کرسکتا ہے-
7۔ہر سال 13 افراد کی موت کی وجہ وینڈنگ مشین بنتی ہیں- وینڈنگ مشین جن سے کھانے پینے کی اشیاء خریدی جاتی ہیں ۔
8۔بھارت میں ایک قبیلہ ایسا بھی آباد ہے جو انسان کی پیدائش پر غم اور موت پر خوشی مناتا ہے-
9۔امریکہ میں ہر ایک گھنٹے میں ایک فرد صرف شرابی ڈرائیور کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے-
10۔دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں کسی بھی جگہ کوئی ایک فرد خودکشی ضرور کرتا ہے-
11۔ہر سال 600 امریکی باشندے صرف بیڈ سے گرنے کی وجہ سے موت کا شکار بن جاتے ہیں-
12۔ہر سال تقریباً 5 لاکھ افراد صرف طبی غلطیوں کی وجہ سے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں- یعنی غلط ادویات کے استعمال کی وجہ سے
13۔ہر 8 میں سے 1 فرد کی موت کی وجہ فضائی آلودگی ہوتی ہے-
14۔غربت کے باعث روزانہ تقریبا 2 ہزار بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں-
Labels: 1 comments | Links to this post
Reactions: 



 یوں تو دہلی کے مغلئ کھانوں کا شمار دنیا کے بہترین کھانوں میں ہوتا ہے لیکن جو شہرت اور مقبولیت نہاری اور بریانی کے حصے میں آئی وہ کسی اور ڈش کا نصیب نہ بن سکی۔  نہاری آج بھی برصغیر میں بڑے ذوق و شوق سے بنائ اور کھائ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دہلی کی جامع مسجد کے اطراف آج بھی کچھ ایسے ریسٹورنٹ یا بھْٹیار خانے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مغل دور سے پشت در پشت اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔ بلکہ کچھ کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی نہاری مغل دور کی نہاری ہے کیونکہ وہ مغلیہ دور سے ہی دیگ میں ایک پیالہ نہاری بچا لیتے تھے اور اسکو  دوسرے دن کے لئےتیار کی جانے والی  تازہ نہاری کے بونگ والے گوشت و دیگر لوازمات  میں شامل کر دیتے تھے اس طرح وہی مغلیہ دور کی نہاری بہرحال اب تک کی نہاری میں شامل چلی آرہی ہے۔ یہ مبالغہ آرائ ہی ہو سکتی ہے لیکن نہاری کے شوقینوں کے لئے ایک فینٹیسی کا درجہ ضرور رکھتی ہے۔ آج بھی کراچی اور لاہور جیسے شہروں میں بے شمار نہاری ریسٹورنٹ ہیں جن میں سے کچھ تو اتنے مقبول ہیں کہ وہاں نہاری کھانے یا خریدنے کے لئے باقاعدہ لمبی قطار میں کھْڑا ہو کر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔
الّو بھی اﷲ کی بے شمار مخلوق میں سے ایک ہے جو اپنی وضع قطع ، اپنی سج دھج، اپنی دیومالائی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنی نحوست کے لیے بہت ہی مشہور ہے۔ اسی لیے کسی شخص کو غلطی کرنے پر اسے ’الّو‘ کے لقب سے نواز دیا جاتا ہے۔حالانکہ مغرب میں الو کا مطلب ذہین کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ایک دن میں ایک یورپی سے انٹرنیت پر چیٹ کررہا تھا۔ میں نے ان کے ہاں الو کا مطلب جاننے کے لئے اس کو Your are Owl لکھ دیا۔ تو اس نے فورا ہی مجھے تھینک یو کا مسیج بھیج دیا۔ مطلب یورپ میں الو کوسمجھدار اور ذہین کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں اکثر بے وقوفیاں کرنے والے کو الو کہہ دیا جاتا ہے۔ آئیے آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس سے جُڑی کچھ توہمات کے بارے بتاتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
’’ایک دفعہ کوئی جاٹ سر پر چار پائی لئے کہیں جار ہاتھا۔ ایک تیلی نے دیکھ لیا اور پھبتی کسی ’’جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ‘‘ جاٹ اس وقت تو چپ ہوگیا مگر دل میں بدلے کی بھاؤ نا لئے بیٹھا رہا۔ ایک دن دیکھا کہ تیلی اپنا کولہو لئے جاتاہے ۔ جاٹ نے جواباً کہا ۔’’ تیلی رے تیلی تیرے سر پہ کولہو‘‘ تیلی ہنسا اور کہنے لگا ’’کچھ جچی نہیں‘‘ جاٹ نے جواب دیا ۔ جچے نہ جچے تو بوجھوں تو مرے گا۔‘‘ محاورہ ، کسی بھی زبان کی تہذیب کا ترجمان ہوتا ہے ۔ زبان کی سب سے بڑی شان محاورے ، کہاوتیں اور ضرب ا لا مثال ہیں۔ محاورے ایک دو دن میں تیار نہیں ہوتے بلکہ برسوں کے تجربوں کے بعد اپنی جگہ بناتے ہیں ۔ سچ کہا جائے تو زبان کا حسن ان کے محاوروں اور کہاوتوں میں پوشیدہ ہوتا ہے بلکہ کسی بھی زبان کی ترویج و اشاعت میں محاوروں کا اہم رول ہوتا ہے یہ دو یا دو سے زائد لفظوں پر مبنی ہوتے ہیں مگر اپنے اندر تاثیر کی بے پنا ہ طاقت رکھتے ہیں ۔ اس میں تغیر و تبدیل کی گنجائش نہیں ۔ لفظوں کی ترتیب جو طئے ہے وہی قطعی ہے ۔ لفظوں کے آگے پیچھے کر نے سے محاورہ ، محاورہ نہیں رہتا۔ اہلِ زبان کبھی غلط محاوروں کا استعمال نہیں کرسکتے۔ تفصیل سے پڑھئے
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ وعدہ بھی کرتے تھے کہ اگر انہیں حکومت ملی تو نوے دن کے اندر بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں گے اور ترقیاتی فنڈز منتخب مقامی نمائندوں کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔ 2013ء کے انتخابات میں خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بلندبانگ دعوؤں کی وجہ سے انہیں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف کے پی کے میں صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اپنے وعدوں کو بھول کرمفادات اور اقتدار کے حصول کی سیاست میں مصروف ہوگئی۔ نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا دعویٰ دو سال گزرنے کے بعد بالآخر سپریم کورٹ کی مداخلت پر پورا ہوا اور یوں کے پی حکومت نے تیس مئی 2015ء کو صوبہ بھر میں مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز میں خرد برد روکنے کے بہانے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز دو سال تک استعمال ہی نہیں کیے۔ مالی سال 2013-14میں 93ارب جبکہ مالی سال 2014-15میں 97 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے حکومتی نااہلی کے باعث التوا کا شکار رہے اور یوں دو برسوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے صوبائی بجٹ میں مختص 190ارب روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے۔ تفصیل سے پڑھئے
شیلین ووڈلے (Shailene Woodley) کہیں تو جمالیاتی فلسفے کی سلجھتی ہوئی گتھی کی مانند ہے، تو کہیں اس کا حسین چہرہ تماش بینوں کو سحر زدگی میں الجھا سکتا ہے۔ اس کے چہرے پر جمے ہوئے تاثرات کی عمر زیادہ نہیں، مگر وہ کشش صدیوں پر محیط ہے۔ اس کی آنکھوں میں دور کی مسافت میں سرائے جیسا سکون محسوس ہوتا ہے، جس طرح دور کی منزل پر جانے کا واحد راستہ یہیں سے ہو کر گزرتا ہو۔ تفصیل سے پڑھئے
کوئی چیز انسانوں کو پیسے سے زیادہ تقسیم نہیں کرتی؛ کوئی مذہب، کوئی ذات اور نسل ہمارے سماجی طبقے سے زیادہ تقسیم کا سبب نہیں بنتی۔ ہمیں ہمارے گھر کے صحن کے سائز، ہماری گاڑی کے ماڈل، ہمارے ہینڈ بیگ کی قیمت اور ہماری تنخواہ کے آخر میں لگنے والے 'صفر' کی تعداد سے ہی پرکھا جاتا ہے۔ مگر کراچی میں آپ کو آپ کی رہائش کے علاقے سے بھی پرکھا جاتا ہے؛ علاقہ بتانا سرسری طور پر اپنی زندگی کا بائیو ڈیٹا بتانے جیسا ہی ہوتا ہے۔
'آپ کہاں رہتے ہیں؟' کا جواب سنتے ہی یہ فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ آپ 'کول' ہیں یا نہیں، اور یہ کہ آپ سے ملنا جلنا چاہیے یا نہیں۔ ایک بار یہ فیصلہ ہوجائے، تو پھر آپ اپنے بارے میں اس تاثر سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ تفصیل سے پڑھئے

اگر آپ جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ کے شاندار ہائیڈل برگ کیسل سے تھوڑا آگے جائیں تو نیوئن ہیم میں آپ کو ایک پرانی عمارت پر ایک تختی نظر آئے گی جس پر لکھا ہے: "پاکستان کے قومی فلسفی، شاعر، اور روحانی والد ڈاکٹر محمد اقبال 1907 میں یہاں قیام پذیر رہے۔" اقبال نے پی ایچ ڈی مقالہ تحریر کرنے کے لیے جرمن زبان سیکھنے کے لیے ہائیڈل برگ میں چھ ماہ قیام کیا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
 

پہلے نصاب سے اقبال کی شاعری اور نصاب میں موجود مضامین کو حذف کیا اور اب یوم اقبال پر چھٹی ختم کرکے اِس دن کی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نومبر آتے ہی کسان اپنے کھیتوں کی جانب رخ کرتے ہیں، گندم کی بوائی کے لئے زمین کی تیاری اور گندم کی کاشت شروع ہوجاتی ہے، درختوں کے پتے خزاں میں گرنا شروع ہوجاتے ہیں، شعرائے کرام ادبی بیٹھکیں سجا لیتے ہیں، رومانوی شاعری تخلیق ہوتی ہے اور ہوا میں خنکی آجاتی ہے، یہی نومبر کا مہینہ شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؒ  کی پیدائش کا مہینہ بھی ہے، اس ماہ میں ادبی ذوق کے حامل افراد اقبال کی شاعری کے پرچار کے لئے کوششیں کرتے ہیں، درس خودی سے لے کر اُمتِ مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے تذکرے ہوتے ہیں مگر اس سال نومبر کا آغاز کچھ اچھا نہیں ہوا، تفصیل سے پڑھئے
ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن دانی سے میری متواتر ملاقاتوں میں سے ایک کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ پوٹھوہار کا خطہ آسمان تلے ایک تاریخی عجائب گھر ہے۔ روات سے ٹیکسلا اور کٹاس تک پورا علاقہ تاریخی تعمیرات سے اٹا پڑا ہے۔
ڈاکٹر دانی کے انہی تاثرات نے مجھے پوٹھوہار کا خطہ از سرِ نو دریافت کرنے پر آمادہ کیا۔ ایسے ہی ایک سفر کے دوران میں پنجاب کے ضلع اٹک کی ایک تحصیل حضرو پہنچا تو یہاں کی عمارات دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
ماضی میں فصیل اور چار دروازوں والا یہ شہر کئی مندروں، گردواروں اور حویلیوں کا شہر ہے، جو اندازاً سکھ اور برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھیں-  تفصیل سے پڑھئے
اپ نے ونٹرز بون نامی فلم دیکھی ہے؟ بہت خوبصورت فلم ہے، ایک قصباتی علاقے میں رہنے والی ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکی کی یہ کہانی ہے۔ اس لڑکی کا کردار جینیفرلارنس نے ادا کیا ہے، جینیفر کو اسی فلم میں دیکھ کر مجھے اس کے آنکھوں سے سہم کر جھانکتی ہوئی اداسی بہت اچھی لگی تھی۔ جینفر لارنز نے یوں تو بہت سے اہم کردار ادا کیے ہیں، وہ خاص طور پر مارولز کی ایکس مین سیریز میں مسٹیک اور ہنگر گیمز میں کیٹنس ایورڈین کے کردار نبھانے کی وجہ سے مشہور ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سلور لائننگز پلے بک میں جو کہ ایک جذباتی مزاحیہ فلم ہے، ایک ایسی عورت کا کردار ادا کیا ہے، جس کا شوہر بھری جوانی میں جنگ میں مارا گیا ہے اور وہ ایک ایسے شخص کے پریم میں الجھ گئی ہے جو پہلے سے ہی اپنی بیوی کی بے وفائی کی وجہ سے پاگل خانے میں کچھ وقت گزار چکا ہے اور اب دوبارہ اپنی بیوی کا پیار حاصل کرنے کی جستجو میں سرگرداں ہے۔ اسی طرح پوکر ہاوس نامی فلم میں جینیفر نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے، جس کی ماں ایک طوائف ہے اور وہ ریڈ ایریا میں بھی محبت کی متلاشی ہونے کے باعث ایک افریقی کسٹمر سے زبردست دھوکا کھاتی ہے اور اپنا کنوار پن گنوا بیٹھتی ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حیدرآباد کے گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے ہمیں کوئی نہ کوئی ایسی عمارت ضرور دکھائی دیتی ہے جس کا وجود کسی نہ کسی کہانی کو بیان کرتا ہے۔ گو کہ اب ان عمارات کی حالت بگڑتی جا رہی ہے مگر ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے اور ہماری عدم توجہی کے باوجود موجودہ دور کی تعمیرات میں بھی یہ نمایاں نظر آتی ہیں اور آنکھیں انہیں دیکھ کر کچھ وقت کے لیے ماضی کو ٹٹولنے لگتی ہیں۔ گاڑی کھاتہ سے ہو کر بھائی خان چاڑھی کی جانب بڑھتے ہوئے ایک ایسی عمارت بھی ہے جس سے وابستہ ایک کہانی نے مجھے چونکا دیا ہے۔ ماضی میں اس عمارت کو ہوم اسٹیڈ ہال کہا جاتا تھا مگر 1967 کے بعد یہ حسرت موہانی لائبریری بن گئی اور اب تک یہ ایک لائبریری ہی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
وہ کنویں کے کنارے پر جھکا کافی دیر سے لمبے سانس لے رہا تھا۔ پیاس اور خستگی نے رسی کو اس کے ہاتھوں پر کچھ اور بھاری کردیا تھا۔ "شاید مشکیزہ بھر گیا ہے"، اس نے رسی کو کھینچنا شروع کیا۔ مشکیزہ اوپر لوٹتے ہوئے اپنے اصل وزن سے کچھ زیادہ بھاری تھا۔ وہ مشکیزے کو نکال کر اپنے چہرے کے آگے معلّق رکھتے ہوئے اسے گھورنے لگا۔ پیچھے راہ میں پڑنے والےسبھی کنوؤں کی طرح یہ کنواں بھی کب کا خشک ہو چکا تھا، مشکیزے پر نمی کا شائبہ نہیں تھا۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
چینی لڑکی واپس اپنے ملک تو لوٹ جائے گی لیکن جس طرح اس کے جذبات سے کھیلا گیا وہ -کبھی بھول نہیں پائے گیہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی اب ’’محبت‘‘ میں بدلتی جا رہی ہے۔ دونوں دوست ممالک کی سفارتی دوستی کی تو دنیا مثال دیتی ہے لیکن سفارتی ’’محبت‘‘ ناکام ہوگئی ہے۔ پی کے سرفراز نے تو دشمن ملک کی ’’جگو‘‘ کو دھوکہ نہیں دیا تھا، لیکن مظفر گڑھ کے ’’امین‘‘ نے چین کی ’’ڈولی‘‘ سے بے وفائی کر کے 20 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی ناک کٹوا دی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے چار روز قبل (منگل)بیت المقدس ( یروشلم ) میں عالمی صیہونی کانفرنس سے خطاب میں مفتی ِ اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی مرحوم کے یہود دشمن ’’گھناؤنے‘‘ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ تاریخی دھماکا کیا کہ
’’ ہٹلر یہودیوں کو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا صرف بے دخل کرنا چاہتا تھا۔ انیس سو اکتالیس میں حاجی امین الحسینی نے برلن میں ہٹلر سے ملاقات کی تو حاجی نے ہٹلر کی بے دخلی کی تجویز سن کر کہا کہ ایسا مت کرنا کیونکہ بے دخلی کے بعد سب یہودی یہاں ( فلسطین ) آئیں گے۔ ہٹلر نے پوچھا تو حاجی پھر میں کیا کروں؟ امین الحسینی نے کہا ان سب کو جلا ڈالو‘‘۔۔۔۔
نیتن یاہو کو ان کے جس بھی دوست نے یہ تاریخی ٹوپی پہنائی ہے اس نے کوئی بہت ہی پرانا بدلہ چکایا ہے۔ کیونکہ نیتن یاہو کے اس انکشاف کے بعد کہ ہٹلر کو یہودیوں کی نسل کشی کی پٹی حاجی امین الحسینی نے پڑھائی، خود اسرائیلی وزیرِ دفاع موشے یالون (جو نیتن یاہو سے بھی بڑے دائیں بازو کے انتہا پسند ہیں) نے دانتوں میں انگلیاں داب کے اسرائیلی آرمی ریڈیو پر کہا کہ وزیرِ اعظم کا تجزیہ درست نہیں۔ تل ابیب میں جیوش ہالو کاسٹ میوزیم کے نگراں اور عرب تاریخ کے پروفیسر ڈینا پورات نے کہا کہ نیتن یاہو خود بھی ایک معروف مورخ (پروفیسر بین زیون نیتن یاہو) کے صاحبزادے ہیں۔
کم از کم ان کے منہ سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی۔ پروفیسر پورات نے وضاحت کی کہ مفتی امین الحسینی سے ملاقات سے دو برس پہلے جنوری انیس سو انتالیس میں ہٹلر نے جرمن پارلیمنٹ (ریشاغ) سے خطاب کرتے ہوئے برملا کہا کہ میں یہودی نسل کو صفحہِ ہستی سے مٹا دوں گا۔  تفصیل سے پڑھئے
1381ء یعنی 634 سال قبل، جب برطانیہ میں کسانوں کی وہ زبردست بغاوت رُونما ہوئی جس نے برطانوی تاریخ کا رُخ موڑ دیا۔ اُس سال بادشاہ نے ایک نیا ٹیکس نافذ کر دیا جس کی ادائیگی کسانوں کے لیے اس قدر وبال جان بن گئی کہ اُنہوں نے علم بغاوت بلندکر دیا۔کسانوںکی باغی فوج نے اپنے آپ کو اُس دور کے ہتھیاروںسے مسلح کیا اور جنوب مشرقی برطانیہ کو اپنے زیر نگیں کرتے ہوئے لندن کا محاصرہ کر لیا۔ جو چھوٹا بڑا پادری اُن کے ہتھے چڑھا قتل کر دیا گیا، یہاں تک کہ سب سے بڑا پادری،آرچ بشپ آف کنٹربری بھی۔ تمام عالی شان عمارتیں اور محلات جلا کر راکھ کر دیے گئے۔ کم عمر بادشاہ، رچرڈ دوئم اور اُس کے درباریوں نے لندن کے سب سے بڑے اور تاریخی قلعہ ٹاور آف لندن میں چھپ کر جان بچائی۔ باغی فوج نے بادشاہ کے سامنے اپنے مطالبات خود سنائے۔ بادشاہ نے اُن کے سامنے جو پہلی تقریرکی اُس میں ایک بھی مطالبہ منظور نہ کیا گیا۔ شاہی تقریر سن کر ایک باغی راہنما نے دُوسرے کو سمجھایا، تم بادشاہ کی انصاف پسندی پر اتنا بھروسہ کرتے ہو مگر وہ ہم سب کا بادشاہ نہیں، وہ صرف لوٹنے والے امیروں کا بادشاہ ہے۔ اُس نے جوکہا وہ آپ انگریزی میں پڑھ لیں گے تو لطف دوبالا ہو جا ئے گا:    تفصیل سے پڑھئے
نظریاتی سیاست ہمارے ملک میں ناپید ہوچکی ہے، کسی زمانے میں جب کسی سیاسی جماعت کے بارے میں بات کی جاتی تھی تو ساتھ ہی یہ بھی ذکر ہوجاتا تھا کہ فلاں جماعت دائیں بازو کی ہے اور فلاں جماعت بائیں بازو کی ہے(عام طور دائیں بازو سے مراد قدامت پرست اور بائیں بازو سے مراد ترقی پسند لیا جاتا ہے)، مثلاً جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ اور جمعیت علمائے اسلام دائیں بازو کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی بائیں بازو کی جماعتیں کہلاتی ہیں، ان جماعتوں کے کارکنوں یا اُن کے حامیوں کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ اُن کے خیالات یا اُن کی سوچ دائیں بازو یا بائیں بازوکی ہے (ان لوگوں کو رائٹسٹ اور لیفٹسٹ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے)۔  تفصیل سے پڑھئے
خواجہ ناظم الدین کا شمار پاکستان کے ان ممتاز سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں ان کے ناقدین بھی بیک زبان یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ ایک شریف النفس اور ایماندار سیاست دان تھے۔ ان کا دورِ حکومت کئی حوالوں سے اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے دور میں ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا، گو کہ یہ مارشل لاء صرف لاہور تک محدود تھا۔
اس دور میں ایک فوجی عدالت نے جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی کو سزائے موت سنائی جو بعد میں منسوخ کر دی گئی۔ ان کے دور میں کراچی میں طلباء نے فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا تو پولیس کی جانب سے احتجاجی طلباء پر گولی چلائی گئی۔ وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنہیں گورنر جنرل نے برطرف کردیا تھا۔
ان کے دورمیں مارشل لاء کے نفاذ سے لے کر طلبا کی ہلاکتوں اور وزیرِ اعظم کی برطرفی کی ایسی روایتیں شروع ہوئیں جو آج 67 برس گذرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ آج بھی ملک کی سٹرکوں پر طلبا اور والدین فیسوں میں من مانے اضافے کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers