آج ایک نئی چیز آپ کو دکھاتا ھوں۔ اس چیز پر پہلے کسی نے نہیں لکھا اور نہ آپ کی اس جانب کسی نے توجہ دلائی ھے۔ اس تصویر میں ایک جگہ ایک تخت پر ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی جا رھی ہے ۔ دوسری تصویر میں اس خالی تخت کی تصویر ھے اس تصویر میں میں نے تیر کے نشان سے ایک پتھر کی نشاندھی کی ہے جو اس کرسی یا تخت کے بالکل عین نیچے ہے۔ یہ مقدس پتھر وہ ہے جس پر بٹھا کر حضرت داؤد علیہ السلام کی تاج پوشی کی گئی تھی۔ اسے تخت داؤد کہا جاتا ھے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھیکل سلیمانی تعمیر کیا تو یہ پتھر دوسری مقدس اشیاء کے ساتھ ھیکل سلیمانی میں رکھا گیا۔ جب سنہ ء 70 میں رومیوں نے فلسطین پر حملہ کیا تو لاکھوں یہودیوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ ھیکل سلیمانی کو بھی گرا کر تباہ کر دیا ، ٹائٹس نے یہی پتھر بھی ساتھ لیا اور اسے روم میں لا کر رکھ دیا۔ روم کے بعد یہ پتھر آئرلینڈ لایا گیا، آئرلینڈ سے سکاٹ لینڈ لایا گیا ، آئرش اور سکاٹش بادشاہ اسی مقدس پتھر پر بیٹھ کر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ سے یہ پتھر انگلینڈ لایا گیا ، انگلینڈ میں بھی برطانوی بادشاہ اسی تخت داؤد پر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے ھیں۔ یہ پتھر اس وقت ویسٹ منسٹر ایبے، برطانوی پارلیمنٹ کے ساتھ چرچ میں موجود ہے۔
اس پتھر کی اگلی منزل کہاں ہے؟۔
یہودی اس تخت داؤد کو اس کی اپنی پرانی جگہ یعنی تیسری بار تعمیر کئے جانے والے ھیکل سلیمانی میں دوبارہ رکھنا چاھتے ھیں۔ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق اسی تخت داؤد پر ان کا مسیحا آ کر بیٹھے گا اور ساری دنیا پر حکومت کرے گا۔ وہ مسیحا جسے ھم مسلمان دجال کے نام سے جانتے ھیں۔ عیسائیوں کا عقیدہ ھے کہ اس تخت پر ان کے مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ کر بیٹھیں گے ۔
یہ تو آپ کو بھی علم ھوگا کہ اس ھیکل کے تمام حصے یہودیوں نے تیار کر رکھے ھیں صرف ان کو نصب کرنا باقی ھے۔ یہ ھیکل عین اسی جگہ تعمیر کیا جائے گا جہاں اس وقت مسجد اقصیٰ موجود ھے ، اس مقصد کے لئے گنبد صخریٰ اور مسجد اقصیٰ کو شہید کیا جائے گا۔ اور یہ بھی آپ نے سنا ھوگا کہ یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو خفیہ طریقے سے مشینری استعمال کرکے کمزور کر دیا ھے۔
کیا یہ سب آسان ھوگا؟۔ ھرگز نہیں۔ جب مسجد اقصیٰ جو کہ مسلمانوں کا قبلہ اول ھے گرائی جائے گی تو کمزور اور بکھرے ھونے کے باوجود مسلمان اٹھ کھڑے ھونگے۔ چاھے کوئی سنی ھو ، شیعہ ھو ، وھابی ھو دیوبندی ھو اپنے قبلہ اول کی شہادت کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اس معاملے میں آج بھی تمام مسلمان متحد ھیں۔ نتیجے میں آخری عالمی جنگ شروع ھوگی جس کے بارے نبی کریم ﷺ کی پشین گوئیاں موجود ھیں۔ وہ اتنی خوفناک جنگ ھوگی کہ حدیث پاک میں ھے کہ اس جنگ میں اتنی خونریزی ھوگی کہ زمین لاشوں سے اٹ جائے گی۔ ایک پرندہ زمین پر خالی جگہ کی تلاش میں اڑے گا لیکن اسے زمین پر اسے کوئی جگہ ایسی نہیں ملے گی جہاں انسانی لاشیں نہیں ھونگی۔ حتی کہ وہ تھک کر گرے گا تو جہاں گرے گا وھاں بھی لاشوں کا ڈھیر ھوگا۔
یہ جنگ ھر صورت ھو کر رھے گی اس آخری جنگ کا ذکر تمام مذاھب کی کتابوں میں ، ھرمجدون، آرماگیڈن حتی کہ ھندوؤں کی کتابوں میں مہا یدھ کے نام سے موجود ھے۔۔ یہودی اور عسائی اس جنگ کے لئے مکمل تیار ھیں ان کی ایک نیٹو فوج پوری تیاری کی حالت میں ھے جبکہ مسلمان ابھی تک اپنے مسلوں میں الجھے ھوئے ھیں۔ یا ان کو عیاشیوں بدمعاشیوں فرقہ پرستیوں میں الجھا دیا گیا ھے۔ میں جب سب کے اتحاد کی بات کرتا ھوں تو اس لئے کہ اس آخری جنگ کے موقعے پر سب مسلمانوں کو ایک ھونا پڑے گا۔
https://en.wikipedia.org/wiki/Stone_of_Scone 
پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصرتاریخ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ چار ارکان پر مشتمل پیپلز پارٹی کی سپریم کونسل بنائی گئی جس میں خود ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، محمد حنیف رامے اور ڈاکٹر مبشر حسن شامل تھے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نےغریبوں کی بات کی، غریبوں کےلیے سیاست کے دروازے کھولے۔ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے یعنی حقیقی جمہوریت کے لیے جہدو جہد کی ۔ غریبوں کےلیے روٹی، کپڑا اورمکان کا نعرہ لگایا، لیکن وہ غریبوں کے حق میں انقلاب نہیں لا سکے یا اُنہیں لانے نہیں دیا گیا یا پھراُن کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ لیکن ہاں وہ غریبوں کو جگانے میں کامیاب ہوئے، تفصیل سے پڑھئے
مولانا اعزاز علی امروہوی دارلعلوم دیوبند کے مشہور اساتذہ میں سے تھے۔وہ درس و تدریس میں وقت کے انتہائ پابند تھے۔ انہیں درسگاہ کے دروازے پر دیکھ کر گھڑی ملائ جا سکتی تھی۔ پاکستان کت ممتاز عالم دین مفتی محمد شفیع کو بھی انہی سے تلمّذ حاصل تھا۔ ایک مرتبہ مولانا اعزاز علی اور ان کے کچھ شاگردوں کو سفر پر جانا تھا۔ سب لوگ اسٹیشن پر جمع ہو کر ریل کا انتظار کر رہے تھے۔ مولانا نے ساتھیوں سے کہا۔'' کئ افراد سفر پر جا رہے ہوں تو انہیں شریعت کے مطابق اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لینا چاہئے۔'لہٰذہ بہتر ہے کہ ہم امیر کا انتخاب کر لیں۔'' مفتی محمد شفیع نے عرض کیا۔ '' حضرت ، انتخاب کا کیا سوال ہے! امیر تو پہلے ہی موجود ہیں۔''مولانا ان کا اشارہ سمجھ گئے۔ انہوں نے پوچھا۔ '' کیا آپ مجھے امیر بنانا چاہتے ہیں؟''سب نے ایک آواز ہو کر جواب دیا کہ '' جی ہاں، آپ کی موجودگی میں بھلا کسی اور کے امیر بننے کا کیا سوال؟''
مولانا نے کہا، ، '' ٹھیک ہے، مجھے کوئ تکلف یا اعتراض نہیں لیکن یہ تو آپ لوگوں کو معلوم ہی ہوگا کہ امیر کا حکم ماننا ضروری ہوتا ہے۔ آپ کو بھی میرے احکام ماننے ہونگے۔'' سب نے کہا ۔ '' آپ کا حکم ویسے بھی ہم پر واجب التعمیل ہے، امیر بننے کے بعد تو اطاعت اور زیادہ لازمی ہو گئی ہے۔''مولانا نے امارت قبول کرلی۔ تھوڑی دیر میں ریل آگئ۔ مولانا بجلی کی سی پھرتی سے اٹھے اور جلدی جلدی اپنے ساتھیوں کا سامان اٹھانے لگے۔ ایک چیز ہاتھ میں، دوسری بغل میں اور کوئ چیز دوسرے ہاتھ میں۔ غرض جتنا سامان اٹھا سکتے تھے اٹھا لیا۔ یہ صورت دیکھ کر ان کے شاگرد بے چین ہو گئے ۔ ہر شخص نے آگے بڑھ کر مولانا سے سامان چھیننا چاہالیکن مولانا نے سختی سےسامان سنبھالے رکھا اور کہا، ''میں آپ سب کا امیر ہوں اور آپ لوگوں نے میرا حکم ماننے کا وعدہ کیا ہے۔لہٰذہ امیر کی حیثیت سے میں حکم دیتا ہوں کہ سامان مجھی کو اٹھانے دیا جائے۔'' شاگرد مجبورا'' خاموش ہو گئے۔ پورے سفر کے دوران مولانا کا یہی معمول رہا۔ جب بھی محنت اور مشقت کا کوئ کام آتا ، خود آگے بڑھ کر اسے انجام دیتے۔کسی دوسرے کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہ ملتی۔ آخر ایک بے تکلف شاگرد نے کہہ دیا، ''حضرت ! ہم تو آپ کو امیر بنا کر بہت پچھتائے۔''مولانا مسکرا دئے۔ ان کی مسکراہٹ کا غالبا'' مقصد یہی تھا کہ امیر کا صحیع مطلب سمجھانا بھی تو میری ذمے داری تھی۔
مولانامحمد تقی عثمانی کے ایک مضمون سے،
جگنو کی دم سے نکلتی روشنی یہ دیکهنے میں کچھ جادوئی سے لگتی ہے، کیا آپ بهی جگنو کے بارے میں ایسا تو نہیں سوچتے؟ بچپن میں اکثر رات کے وقت نہر کے کنارے اگی ہوئ جھاڑیوں میں بے شمار ننھے ننھے قمقمے چمکتے اور ادھر سے ادھر اڑتے دیکھ کر میں بڑا حیران ہوتا تھا کہ یہ کیا مخلوق ہے۔ جگنو ہمارے لئے ایک عجائب سے کم نہیں تھا۔۔، کئ مرتبہ جگنو کو قید بھی کیا لیکن دن کے اوقات میں تو یہ ایک معمولی سا عام کیڑا نظر آتا تھا۔۔رات میں البتہ اس کو ہلکے ہاتھ سے مٹھی میں دبا کر انگلیوں کی جھری سے اندر ایک آنکھ لگا کر جھانکتے تو یہ وقفے وقفے سے چمکتا نظر آتا تھا۔آئیے آج جانتے ہیں کہ یہ کیسے چمکتا ہے، کیوں چمکتا ہے۔
سچ پوچهیں تو جگنو کے بارے میں اس طرح نہیں سوچا تها کہ اس کا جواب اتنا دلچسپ ہو گا،
تو سوال ہے جگنو کہ
طرح چمکتے ہیں؟
جگنو کے چمکنے کا عمل اس کے جسم میں پیدا ہونے والے ایک پیچیدہ کیمیائی ردعمل کا نتیجہ ہیں.
جگنو کو فائر فلائی اور بیالوجی میں لوسیفیرین کہا جاتا ہے. جگنو کا پیٹ لوسیفیرین نامی کیمکل پر مشتمل جس سے یہ ہمیں چمکتا ہوا دکهائی دیتا ہے.
جب یہ کیمیائی اجزاء آکسیجن اور لیوسیفیریز نامی انزائم سے یکجا ہوتا ہے تو جگنو کے پیٹ کو روشن کرنے کا سبب بنتا ہے
حیاتیات میں روشنی بائیولیومینیسینس نامی ایک کیمیائی تعامل کی وجہ سے جاندار یہ کیمیائی روشنی خارج کرتے ہیں.
چمکتے جگنو زیادہ تر زمین کے خشکی والے حصہ پر پائے جاتے ہیں. سمندر کے اندر بائیولیومینیسینس کیمیائی تعامل سے چمکنے والے جاندار کی بہت سی اقسام موجود ہیں جن میں چمکنے والی فنجی، روشنی والی مچهلیاں اور دوسرے بہت سے سمندری جاندار پائے جاتے ہیں.
جگنو گرم مرطوب ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں. یہ ایشیا اور امریکہ کے معتدل موسم اور نمی والے علاقوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں.
بائیولیومینیسینس ایک ٹهنڈی روشنی ہے اور یہ بلب کی روشنی کی طرح حرارت خارج نہیں کرتی ہے.
یہ حیاتیات کے لئے نہایت موزوں بهی ہے کیوں کہ اگر یہ حرارت خارج کرے تو جگنو زندہ رہنے کے قابل بهی نہ رہتا.
مادہ جگنو درختوں اور زمین کے اندر انڈے دیتی ہیں جہاں پیدا ہونے والا بچہ، انڈے سے لاروا اور لاروے سے جوان ہونے تک کا وقت گزارتا ہے. زمین اور درختوں کی چهال میں موجود لاروا کو خوراک ایک سیال مادے کی صورت میں انجیکٹ کی جاتی ہے.
ایک جگنو کی اوسط عمر دو مہینے ہوتی ہے.
اب ایک سوال یہ بهی کہ جگنو نے پہلی بار کیوں چمکنا شروع کیا ہو گا؟
اس کا جواب ایسا ہی ہے کہ جیسے یہ سوال کہ مرد بهڑکیلے لباس کیوں پہنتے ہیں اور اس کا جواب ہے کہ عورتوں کو اپنی طرف لبهانے یا متوجہ کرنے کے لئے وہ ایسے لباس پہنتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ وہ انہیں لبهانے میں کامیاب ہوتے بهی ہیں یا نہیں.
بہت مرتبہ، شام کے وقت جب آپ اپنے اردگرد بہت سارے جگنوؤں کو چمکتے ہوئے دیکھ رہے ہوتے ہیں اصل میں زیادہ چمکنے والے نر جگنو ہوتے ہیں.
وہ ایسا اس لئے کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی نسل کی مادہ جگنو کو لبهانے کے لئے ایسا لگاتار کر رہے ہوتے ہیں.
جگنوؤں کی اب تک 2,000 سے زائد اقسام دریافت کی جا چکی ہیں.
ایک نر جگنو اپنے پیٹ کو ایک مخصوص شرح رفتار یا طول موج سے روشن کرتا ہے اور جب ایک مادہ جگنو کسی نر جگنو کو دیکهتی ہے تو مادہ جگنو اسی مخصوص شرح رفتار یا طول موج سے اپنی نسل کی پہچان کرتی ہے.
اس کے بعد مادہ جگنو اپنے پیٹ کو روشن کر کے اس طول موج کا جواب دیتی ہے.
جگنو کے پیٹ چمکانے کی دوسری وجہ جو کہ پہلی وجہ جتنی محبت اور پیار بهری نہیں ہے وہ شکار کو اپنی طرف متوجہ کرنا.
کچھ مادہ جگنو خود کو چمکاتی ہیں جس سے نر جگنو اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پهر حملہ.. مادہ جگنو نے نر جگنو کا شکار کیا اور رات کے کهانے کا بندوبست ہو گیا.
مشاہدے سے معلوم ہوا کہ جگنو کے چمکنے کی ایک حتمی وجہ حشرات کهانے والی شکاری چھپکلیوں کو خود سے دور رکهنا ہے.
جگنو ایک کیمیکل جسے لیوسیبیوفگنس کہا جاتا ہے سے بهرے ہوتے ہیں جسے صرف زبان سے ادا کرنا ہی مشکل نہیں ہضم کرنا بهی بہت مشکل ہے اس کا ذائقہ شدید کڑوا ہوتا ہے. جب شکاری چهپکلیاں جگنوؤں کو کهاتی ہیں تو یہ چمکتا ہوا کڑوا کیمیکل انہیں بہت برا ذائقہ دیتا ہے.
اس طرح جگنوؤں کا چمکنا اصل میں شکاریوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے کہ اس روشنی سے دور رہو.
یہ جادوئی چمکتے جگنو جو اب اس تحقیق کے بعد سادہ سے چمکتے ہوئے حشرات ہیں اور اب آپ کو زیادہ جادوئی نہیں لگیں گے ..!!
تو بتائیے پهر کیا آپ کے پاس بهی ہیں یہ جادوئی چمکتے ہوئے جگنو.؟

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان- سال کے ۳۶۵ دن ۱۲؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی ۳۰، کوئی ۳۱ اور کوئی ۲۸یا ۲۹ دن کا ہوتا ہے۔
ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔
جنوری
عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔
جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی،
امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔
اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا
جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری ۳۱؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔
فروری
ایک زمانے میں فروری سال کا آخری اور دسمبر دوسرا مہینا سمجھا جاتا تھا۔
حضرت عیسیٰ ؑ کے دور میں فروری سال کا دوسرا مہینا قرار پایا۔
یہ مہینا اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ سب سے کم یعنی ۲۸؍ دن رکھتا ہے جبکہ لیپ (Leap) کے سال میں فروری کے ۲۹؍ دن ہوتے ہیں۔
چنانچہ لیپ کا سال 366 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ ہر چوتھا سال لیپ کا سال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کرۂ ارض کے گرد اپنے مدار کا سفر ۴/۱ ۳۶۵ دنوں میں طے کرتا ہے۔ لیکن ۳ ؍ سال کے دوران اس کا ہر سال ۳۶۵ ؍دنوں کا ہی شمار ہوتا ہے
جبکہ چوتھے سال میں ۴/۱ حصے جمع کریں تو یہ ایک دن کے برابر بن جاتا ہے۔ یوں ایک دن زیادہ جمع کرکے یہ ۳۶۶ ؍دن کا یعنی لیپ کا سال کہلاتاہے۔
لفظ فروری بھی لاطینی زبان فیبرام (Febru m) سے اخذ کیا گیا جس کا مطلب ہے ’’پاکیزگی کا ذریعہ‘‘۔
مارچ
اس مہینے کا نام رومی دیوتا مارس (Mars) کے نام پر رکھا گیا۔ مارس کو اُردُو میں مریخ کہتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ یہ دیوتا بڑا خطرناک تھا۔ رومی دیومالا کے مطابق اس کے رتھ میں انتہائی منہ زور گھوڑے جتے ہوئے ، رتھ میں دیوتا نیزہ تھامے کھڑا ہوتا۔
نیزے کی انی کا رُخ آسمان کی طرف تھا۔ دوسرے ہاتھ میں ڈھال ہوتی۔
دیوتا کا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوتا۔ اہلِ روم اسے سب سے طاقتور دیوتا سمجھتے تھے۔ ان کے عقیدے کے مطابق بارش، بجلی، بادل اور گرج چمک سب مارس دیوتا کے ہاتھ میں تھا۔
یہ مہینا بھی 31 دنوں پر مشتمل ہے۔ لفظ مارچ لاطینی زبان کے لفظ مارٹئیس (Martius) سے اخذ کیاگیا۔
اسی لفظ سے سیارہ مریخ کا نام (Mars) بھی بنایا گیا ۔مارچ کے مہینے میں عموماً موسمِ بہار کا آغاز ہوتا ہے۔
اپریل
یہ مہینا ۳۰؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔
اپریل لاطینی لفظ، اپریلس (Aprilis) سے بنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کھولنے والا، آغاز کرنے والا۔ اس مہینے میں چونکہ نئے پودوں اور درختوں کی نشوونما کا آغاز ہوتا ہے،
چنانچہ اسے کسی دیوی یا دیوتا نہیں بلکہ بہار کے فرشتے سے منسوب کیا گیا۔
مئی
یہ سال کا پانچواں مہینا ہے 30 دن رکھتا ہے۔
اس مہینے میں بھی بہار کے کچھ اثرات باقی ہوتے ہیں۔ لفظ مئی انگریزی زبان میں فرانسیسی لفظ مائی (MAI) سے اخذ کیا گیا ہے۔
یہ لاطینی زبان کے لفظ مائیس (Maius) سے اخذ شدہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مہینے کا نام ایک رومی دیوی میا (Maia) کے نام پررکھا گیا۔
رومیوں کے نزدیک اس وسیع و عریض زمین کو دیوتا نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔
اس دیوتا کی سات بیٹیاں تھیں جن میں میادیوی کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔
جون
اخذ کیا گیا ہے۔
اس مہینے کا نام بھی ایک دیوی جونو (Juno) کے نام پررکھا گیا۔ البتہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ نام روم کے مشہور شخص جونی لیس کے نام پر رکھا گیا۔
جونو دیوتائوں کے سردار جیوپیٹر کی بیٹی تھی جبکہ جونی لیس ایک بے رحم اور سفاک انسان تھا۔
جولائی
بنا دیتی ہے۔
اس مہینے کا نام دیوی دیوتا نہیں بلکہ روم کے ایک مشہور حکمران جولیس سیزر کے نام پر رکھا گیا ۔
ایک زمانے میں یہ پانچواں مہینا تھا۔ جولیس سیزر قدیم روم کا مشہور شہنشاہ تھا۔
مشہور شاعر و ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے ’’جولیئس سیزر‘‘ پر ایک ڈراما بھی لکھا ۔
اگست
سال کا آٹھواں مہینا ۔ اس میں31 ؍دن ہوتے ہیں۔
پہلے یہ چھٹا مہینا تھا کیونکہ تب سال کا آغاز مارچ سے کیا جاتا تھا اور کل دس مہینے ہوتے یعنی مارچ تا دسمبر۔
وہ اس طرح کہ قمری سال اور شمسی سال کے مہینوں میں فرق ہوتا تھا۔ قمری سال کے تو بارہ مہینے ہوتے تھے جبکہ شمسی سال کے ۱۰ ؍ ماہ بنتے تھے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دو مہینوں کا اضافہ کیا گیا…
جنوری اور فروری۔ یوں شمسی سال میں بھی ۱۲؍ مہینے ہوگئے۔
شمسی سال میں اضا فے کے بعد اگست کا نام ایک قدیم رومی شہنشاہ آگسٹس (Augustus) کے نام پر رکھا گیا ۔ (اس مہینے میں پہ لے ۲۹ ؍دن تھے، بعد میں جولیئس سیزر نے۲؍ دن کا اضافہ کرکے ۳۱؍ دنوں کا مہینا کردیا)۔ پہلے رومی شہنشاہ آگسٹس کا نام کچھ اور تھا ۔
جب اس نے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت زیادہ کام کیے تو رومی لوگ اس کے اتنے گرویدہ ہوگئے کہ اسے آگسٹس کے نام سے پکارا جانے لگا۔
اس نام کا مطلب ہے، دانا، دانشمند۔ چنانچہ اس مہینے کو آگسٹس کے نام پر اگست کہا گیا۔
ستمبر
۳۰؍ دن رکھتا ہے۔ لاطینی زبان کے لفظ سیپٹ (Se pt) سے بنا جس کا مطلب ہے ’’ساتواں۔‘‘ اس لیے ستمبر کا مطلب ہے ’’ساتواں مہینا‘‘۔
مگر پھر کیلنڈر کی نئی ترتیب سامنے آئی تو یہ نویں درجے پر چلا گیا۔
اکتوبر
لاطینی میں آٹھ کو اوکٹو (Octo) کہا جاتا ہے۔ اسی سے سال کے آٹھویں مہینے کا نام اکتوبر رکھا گیا۔
اکتوبر کا مطلب ہے ’’آٹھواں مہینا‘‘۔ اس میں ۳۱ دن ہوتے ہیں۔ اب یہ دسواں مہینا ہے۔
نومبر
اس میں ۳۰؍ دن ہوتے ہیں۔ لاطینی زبان میں ۹؍ کو نووم (Novum) کہتے ہیں۔ اسی نام سے مہینے کانام نکلا۔ نومبر کا مطلب ہے ’’نواں مہینا‘‘۔
ستمبر کو ساتواں، اکتوبر کو آٹھواں اور نومبر کو نواں مہینا اس وقت کہا گیا جب جنوری اور فروری کے مہینے سال میں شامل نہیں تھے۔
بعد میں ان مہینوں کے نام تو وہی رہے البتہ ستمبر نواں، اکتوبر دسواں اور نومبر گیارھواں مہینا بن گئے۔
دسمبر
یہ مہینا ۳۱؍ دن رکھتا ہے۔ لاطینی زبان کی گنتی میں دس کا مطلب ہے دسم (De cem)۔اس لفظ کی مناسبت سے دسویں مہینے کو دسمبر کہا گیا۔
اب یہ سال کا بارھواں مہینا ہے۔
رومی کب کے اپنی اس دیوی دیوتائوں کی مائتھالوجی کو ترک کر کے عیسائیت اختیار کر چکے۔ اب ان کے نزدیک یہ صرف قصے کہانیوں کی حد تک رہ گیا ہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ ہندو مائتھالوجی جو رومن سے بھی زیادہ مضحکہ خیز اور انتہائ لغویات پر مشتمل ے کہ جن کو پڑھ کر ہی انسان کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔۔ ہندو اس پر نہ صرف اندھا عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ ان کے نظریات میں مزید شدت پسندی آتی جا رہی ہے
سوندھا سنگھ اپنے علاقے کا حکمران تھا، اسے ایک لڑائی پر جانا پڑ گیا۔ اس نے اپنی بیویوں، لونڈیوں او رمال و دولت کو ایک حویلی میں بند کیا اور باہر سے تالا لگا دیا، پھر اس نے اپنے سب سے قریبی دوست کو بلایا، چابی اس کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگا”یار میں جنگ تے جا رہیا وہاں… پتہ نئیں بچ کے آؤناں ہندا اے کے نئیں… میں اپنی حویلی دی چابی تیرے حوالے کر کے جارھیا واں… اگر میں جنگ وچ مر گیا تے فیرتوں میری حویلی داتا لاکھولیں… میری بیویاں نال ویاں کر لئیں … سار امال وی توں ای رکھ لئیں“ دوست بہت جذباتی ہو گیا، مگر سوندھا سنگھ کے اصرار پر اس نے چابی رکھ لی۔ اگلے روز سوندھا سنگھ میدان جنگ کو روانہ ہوا، ابھی وہ اپنی راجدھانی سے چند میل دور ہی گیا تھا کہ اس کا دوست گھوڑا دوڑاتا ہوا اس سے آملا، گھوڑے سے اتر کر ہانپتے ہوئے بولا، ”یارتوں مینوں غلط چابی دے کے آگیا ویں… ایہہ تالے وچ لگ ای نئی رہی!“
بیر بہوٹی Red Velvet Mite مختلف نام : (عربی) کاغنہ (فارسی) کرم عروسک (سندھی) مینھن وساوڑو (انگریزی
پہچان :۔ ایک مشہور کیڑا ہے۔ برسات میں خاص کر ساون بھادوں میں پیدا ہوتا ہے۔
رنگ:۔ نہایت سرخ
بیر بہوٹی شاید کیڑوں میں سب سے زیادہ خوبصورت کیڑا ہے۔ یہ مکڑی کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔ اسے انگریزی red velvet mite میں کہتے ہیں۔ بیر بہوٹی کا مطلب ہوا بھائ کی دلہن۔ شاید اس کو یہ نام اس کے دلہن کے سرخ لباس جیسے رنگ کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ویسے اگر بھائ کی دلہن ہونا اتنا آسان ہوتا تو آپ کا یہ بھائ بھی نہ جانے کتنی دلہنیں جمع کر چکا ہوتا اور اب تک سنگل یا بیچلر کا ٹائٹل لئے
فیس بک پر پوسٹیں نہ لگا رہا ہوتا کہ اتنی ساری دلہنوں کی موجودگی میں بھلا کون بدذوق فیس بک پر سر کھپائے۔
اپنے چمکدار سرخ رنگ اور مخملی جلد کی وجہ سے ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا سائز پانچ سے چھ ملی میٹر تک ہوتا ہے۔ آٹھ ٹانگیں اور مکڑی جیسا منہ۔ اصل میں ان کا گہرا سرخ رنگ ان کے شکاریوں کے لئے وارننگ ہوتا ہے کہ یہ زہریلے ہیں لہٰذہ ان سے دور رہا جائے۔
بیر بہوٹیاں مٹی میں رہتی ہیں اور سال کا اکثر حصہ زیر زمین ہی گزارتی ہیں۔ موسم گرما کی بارش کے بعد یہ سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل آتی ہیں۔ ان کی خوراک میں دیمک، چھوٹی مکڑیاں اور پھپوندی وغیرہ شامل ہیں۔
بیر بہوٹی کے جنسی ملاپ کا طریقہ بھی انتہائ دلچسپ ہے۔ سب سے پہلے نر بیر بہوٹی اپنے اسپرمز کو کسی گھاس کے تنکے یا پتے وغیرہ پر خارج کرتا ہے اور ان اسپرمز کے گرد ایک ریشمی دھاگے جیسا تار لپیٹتا جاتا ہے۔ مادہ بیر بہوٹی ان دھاگے جیسے ےاروں کی مدد سے نر کا سراغ لگاتی ہے۔ اگر دونوں میں باہمی کشش ہو اور مادہ بھی آمادہ ہو تو یہ دونوں نر کے اسپرم اٹھا لیتے ہیں اور پھر مادہ مٹی میں اپنے انڈے دیتی ہے۔ اگر کوئ اور نر بیر بہوٹی کو کسی دوسرے نر بیر بہوٹی کے دھاگے اور اسپرمز نظر آتے ہیں تو وہ ان کو تباہ کر کے ان کی جگہ اپنے اسپرمز خارج کر دیتا ہے۔ مکمل بیر بہوٹی بننے تک اس کیڑے کے مختلف مراحل ہیں۔ جیسے کہ انڈا، لاروا وغیرہ۔
بیر بہوٹیاں ماحول دوست اور انسان کے لئے مفید ہیں۔ یہ مٹی میں موجود نقصان دہ کیڑوں کو کھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کی بیکٹیریا وغیرہ بھی کھا جاتی ہیں جو کہ پودوں اور فصلوں کے لئے مضر ہوتی ہیں۔
ان کا طبی استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ھندوستانی و یونانی ادویات میں اس کو مختلف جڑی بوٹیوں کے ساتھ استعمال کر کے تیل بنایا جاتا ہے جو فالج کے مریضوں کے لئے مفید ہوتا ہے۔ اس کا تیل نامردی اور مردانہ جنسی صلاحیت بڑھانے کے لئے بطور طلا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لئے جب یہ برسات کے بعد باہر نکلتی ہیں تو اکثر لوگ ان کر جمع کرنے نکل پڑتے ہیں کیونکہ حکیم اور وید حضرات ان کو اچھی قیمت پر خرید لیتے ہیں۔جدید ریسرچ نے بھی اس کے تیل کو کافی مفید قرار دیا ہے۔
آجکل بھی چین اور بھارت اس کو بڑی مقدار میں فروخت کرتے ہیں۔
اب یہ خال خال ہی نظر آتی ہے۔ میں نے اپنے بچپن میں انہیں کورنگی ایک نمبر جہاں میرے چچا رہتے تھےکے مکان کے سامنے ایک میدان میں دیکھا تھا جہاں یہ اگست کے مہینے میں بارش کے بعد نکل آئ تھیں۔ اس کو پکڑا جائے تو یہ اپنی ٹانگیں سکیڑ کر سمٹ جاتی ہے۔ بے تحاشہ جراثیم کش ادویات اور زہریلی دوائوں کے چھڑکائو اور آلودہ بارش کی وجہ سے شاید یہ نازک طبع دلہن اب ناراض ہو گئ ہےاور شہری علاقوں میں تو قطعی نظر نہیں آتی البتہ گائوں دیہات میں اب بھی نظر
آجاتی ہے۔
امریکہ میں اب بھی یہ بارش کے بعد نظر آتی ہیں خاص طور پر ٹیکساس میں بہت ہیں۔ہر وہ جگہ جہاں ماحول کی آلودگی نہیں بڑھی ہے اور حضرت انسان كی ریشہ دوانیاں حد سے زیادہ نہیں بڑھی ہیں وہاں اب بھی یہ مخلوق عنقا نہیں ہوئ هے۔
بیر بہوٹی کا تیل
بہوٹی oil
Zaitoon Olive Oil 80 gram زیتون کا تیل
Aqaraqarah Pellitory 5 gram عقر قرحا
Jonk Speckled Leech 5 gram جونک خشک
Kechuah Earthworm 5 gram کیچوا خشک
Red Velvet Mite بیر بہوٹی gram5 بیر بہوٹی
سب سےپہلے روغن زیتون کو چولہے پر رکھیں اس میں باقی تمام اشیاء کو ڈال کر آگ جلا دیں اور جب تمام اشیاء جل جائیں تو چولہے سے اتار لیں اور ٹھنڈا ہونے پر چھان کر شیشی میں سنبھال لیں۔ استعمال کا طریقہ کسی حکیم سے پوچھ لیں۔
یوم عاشورہ نہایت ہی اہم اور مبارک دن ہے اس دن میں بہت سارے اہم واقعات رونما ہوئے۔ آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو ان کے بارے دوبارہ کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔
(۱) 10 محرم الحرام عاشوراء کے روز حضرت سیِّدُنا آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی توبہ قبول کی گئی۔
(۲) اسی دن انہیں پیدا کیا گیا۔
(۳) اسی دن انہیں جنَّت میں داخِل کیا گیا۔
(۴)اسی دن عرش
(۵) کُرسی
(۶)آسمان
(۷)زمین
(۸)سورج
(۹) چاند
(۱۰) ستارے اور
(۱۱) جنَّت پیدا کئے گئے
(۱۲) اسی دن حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پیدا ہوئے.
(۱۳)اسی دن انہیں آگ سے نَجات ملی۔
(۱۴)اسی دن حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کی اُمّت کو نَجات ملی اور فرعون اپنی قوم سَمیت غَرَق ہوا
(۱۵) حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پیدا کئے گئے
(۱۶) اسی دن انہیں آسمانوں کی طرف اٹھا یا گیا
(۱۷) اسی د ن حضرتِ سیِّدُنانوح علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی کشتی کوہِ جُودی پر ٹھہری
(۱۸) اسی دن حضرتِ سیِّدُنا سُلیمان علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کومُلکِ عظیم عطا کیا گیا
(۱۹) اسی دن حضرتِ سیِّدُنا یونُس علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے
(۲۰) اسی دن حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بِینائی کا ضُعف دور ہوا
(۲۱) اسی دن حضرتِ سیِّدُنا یوسف علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام گہرے کُنویں سے نکالے گئے
(۲۲) اسی د ن حضرتِ سیِّدُنا ایوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکلیف رَفع کی گئی
(۲۳)آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارِش اسی دن نازل ہوئی اور
(۲۴) اسی دن کا روزہ اُمّتوں میں مشہور تھا یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ اس دن کا روزہ ماہِ رَمَضانُ المُبارَک سے پہلے فرض تھا پھرمَنسوخ کر دیا گیا
(مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب ص ۳۱۱ از امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ)
(۲۵)امامِ عالی مقام ، امامِ عرش مقام، امامِ تِشنہ کام سیِّدُنا امامِ حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بمع شہزادگان و رُفقاء تین دن بھوکا اور پیاسا رکھنے کے بعد اسی عاشوراء کے روز دشتِ کربلا میں انتہائی سفّاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
اور حدیث کے مطابق عاشورہ اور جمعہ ہی کےدن قیامت قائم ہوگی۔

ایک بارحضرتِ امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضرِخدمتِ اقدس ہوکر حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے شانہہ مبارک پرسوارہوگئے،ایک صاحب نے عرض کیا :صاحبزادے آپ کی سواری کیسی اچھی ہے۔حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:''اور سوارکیسا اچھا سوار ہے۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمدالحسن...الخ،الحدیث ۳۸۰۹، ج۵،ص۴۳۲)

حضورپرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سجدے میں تھے کہ امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پشت مبارک سے لپٹ گئے ،حضورعلیہ الصلوۃ و السلام نے سجدے کوطول دیاکہ سراٹھانے سے کہیں گرنہ جائیں ۔
(مسند ابی یعلی،مسند انس بن مالک،الحدیث۳۴۱۵،ج۳،ص۲۱)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامِ حسن اورامامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی نسبت ارشاد ہوتاہے: ''ہمارے یہ دونوں بیٹے جوانانِ جنت کے سردارہیں ۔''    تفصیل سے پڑھئے
سانحۂ کربلا 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر 680ء) کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ جہاں اموی خلیفہ یزید اول کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ 72 ساتھی تھے جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
یزید کی نامزدگی
ہجرت کاساٹھواں سال اوررجب کامہینہ کچھ ایسا دل دکھانے والاسامان اپنے ساتھ لایا،جس کانظارہ اسلامی دنیاکی آنکھوں کو ناچاراس طرف کھینچتا ہے،جہاں بے چین کردینے والی تکلیفوں نے دینداردِلوں کے بے قرارکرنے اورخداپرست طبیعتوں کوبے تاب بنانے کے لئے حسرت وبے کسی کاسامان جمع کیا ۔ یزیدپلیدکاتختِ سلطنت کواپنے ناپاک قدم سے گندہ کرنا ان ناقابلِ برداشت مصیبتوں کی تمہیدہے جن کوبیان کرتے کلیجا منہ کوآتااوردل ایک غیرمعمولی بے قراری کے ساتھ پہلومیں پھڑک جاتاہے ۔اس مردودنے اپنی حکومت کی مضبوطی اس امرمیں منحصرسمجھی کہ اہلِ بیتِ کرام کے مقدس وبے گناہ خون سے اپنی ناپاک تلوار رنگے ۔    تفصیل سے پڑھئے
یہ بات درست ہے کہ نیشنل ایکشن پلان (نیپ) کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے یا اگر یوں کہا جائے کہ پہلی بار دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے حقیقی کام شروع کیا گیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اگر یہ کام بہت پہلے کر لیا جاتا تو آج ہمارے 50 ہزار سے زائد بے گناہ سکیورٹی اہلکار اور عام لوگ دہشت گردی کی بھینٹ نہ چڑھتے۔  تفصیل سے پڑھئے
جب ایشیا سرخ ہورہا تھا تو راولپنڈی کے اصلی حکمرانوں کو “سیاسی قبض” ہونے لگی۔ یو ایس ایس آرکے عوامی انقلاب کے اثرات جب چین کی سرحد تک پہنچنے لگے، تو ملک پر قابض استحصالی قوتوں نے پاکستان میں جعلی کمیونسٹ پیدا کرنا شروع کردیئے جنہوں نے اشتراکی انقلاب کے نام پر عوام کو خوب بے وقوف بنایا۔ ان میں اکثر ایسے ‘کمیونسٹ’ بھی شامل تھے جو پہلے جنرل ضیا الحق سے بریفنگ لے کر ماسکو جاتے تھے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے صرف مجاہدین اور سیاسی لیڈر ہی پیدا نہیں کئے بلکہ اشتراکیت پسند اور حقیقی انقلابی تحریکوں کو کمزور کرنے کیلئےنام نہاد قوم پرست بھی پیدا کئے جن کا مقصد ان تحریکوں کو کھوکھلا کرنا تھا۔ انہی قوتوں کے کہنے پر ملک کی جمہوری اور حقیقی قیادت بشمول فاطمہ جناح پر غدار اور کافر کے ٹھپے لگانے کا کام شروع کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے قومی ہیرو نیلسن منڈیلا سے زیادہ عرصہ قومی و جمہوری حقوق کیلئے جیلوں میں گزارنے والے خان عبداالصمد خان اچکزئی اور خان عبد الغفار خان (جنہوں نے تیس اور تینتیس سال انگریز اور پاکستانی حکومتوں کی جیلوں میں گزارے) غدار ٹھہرے جبکہ وہ لوگ جنہیں قائد اعظم محمد علی جناح ” کھوٹے سکے” کہا کرتے تھے وہ قومی ہیرو کے طور پر پیش کیے گئے۔  تفصیل سے پڑھئے
 اگر کسی نے حال ہی میں وکی پیڈیا وزٹ کی ہے تو انہوں نے ہر صفحے کے اوپر ایک بینر دیکھا ہوگا کہ دنیا کا سب سے بڑا فوٹوگرافی کا مقابلہ 2015 میں ایک بار پھر ہو رہا ہے۔
"وکی لووز مونیومینٹس" (Wiki Loves Monuments) نامی یہ مقابلہ حال ہی میں اختتام کو پہنچا ہے اور اس کا مقصد دنیا کے ثقافتی ورثے کی مفت دستیاب (فری لائسنس) فوٹوگرافی تھا۔
یہ مقابلہ سال 2010 سے منعقد کیا جا رہا ہے اور اسے باقاعدہ طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب  سے دنیا کا سب سے بڑا فوٹوگرافی مقابلہ قرار دیا گیا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
ایک حسن وہ ہوتا ہے جس کو دیکھ کر آنکھوں کو یقین نہ آئے، ہم اسے دیکھ رہے ہیں، جس کی موجودگی بھی عدم محسوس ہو، جس کو چھو کر بھی یہ احساس جنم لے کہ شاید یہ کوئی خوبصورت دھوکہ ہے، مگر ان تمام تر شبہات کے باوجود وہ ایک اٹل حقیقت کی طرح ہمارے سامنے موجود رہے تو اس حسن کو طلسم کہا جا سکتا ہے۔ اس کی نگاہ میں تلوار اور خاموشی میں طوفان بپا ہوتے ہیں جن کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا، اس کو روکنے والے اس کے ساتھ ہی بہہ جاتے ہیں، ایسا ہی دوآتشہ اور کرشمہ ساز حسن سرزمین ترکی میں پیدا ہوا اور لطیف ہنر کے ذریعے دلوں میں گھر کرتا چلا گیا۔ اس کا نام مریم ساہرا اُزیرلی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
سب سے پہلے جمعہ کس نے قائم کیا ؟
جواب: - حضرت اسد بن جراره نےقائم کیا.
سوال: - قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان کس چیز کا فیصلہ ہوگا؟
جواب: - خون کا فیصلہ ہو گا.
سوال: - سب سے پہلے دنیا کی کون سی نعمت اٹھائی جائے گی ؟
جواب: - شہد.
سوال: - اسلام میں سب سے پہلے مفتی کون ہوئے ؟
جواب: - حضرت ابو بکر صدیق رضی االله عنہ.
سوال: - سب سے پہلے بیس ركات تراويح با جماعت کس نے رائج کی ؟
جواب: - حضرت عمر فاروق اعظم رضی االل عنہ.
سوال: - اسلام میں سب سے پہلے راہ خدا میں شامل اپنی تلوار کس نے نکالی ؟
جواب: - حضرت زبیر بن اووام نے.
سوال: - مکہ کی سرزمین پر بلند آواز سے قرآن پاک کس نے پڑھا ؟
جواب: - حضرت عبداللہ بن مسعود نے.
سوال: - اسلام میں سب سے پہلے شاعر کون ہوئے ؟
جواب: - حضرت حسان بن ثابت.
سوال: -. اسلام میں سب سے پہلے شہادت کس کی ہوئی ؟
جواب: - عمار بن یاسرکی ماں سمييہ کی.
سوال: - کیا آپ جانتے ہیں سب سے پہلے گیہوں کی کاشت کس نے کی؟
جواب: - حضرت آدم علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے سر کے بال کس نے منڈوائے؟
جواب: - حضرت آدم علیہ السلام نے منڈوايا، اور منڈنے والے حضرت جبرائیل امین تھے.
سوال: - سب سے پہلے قلم سے کس نے لکھا ؟
جواب: - حضرت ادریس علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے چمڑے کا جوتا کس نے بنایا ؟
جواب: - حضرت نوح علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے ختنہ کس نے کیا ؟
جواب: - حضرت ابراہیم علیہ السلام نے.
سوال: - سر زمانہ عرب میں سب سے پہلے کون سے نبی تشریف لائے ؟
جواب: - حضرت هود علیہ السلام.
سوال: - سب سے پہلے آشورہ کا روزہ کس نے رکھا.؟
جواب: - حضرت نوح علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے خدا کی راہ میں کس نے جہاد کیا ؟
جواب: - حضرت ابراہیم علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے صابن کس نے ایجاد کیا ؟
جواب: - حضرت سلیمان علیہ السلام نے.
سوال: - سب سے پہلے کاغذ کس نے تیار کیا ؟
جواب: - حضرت یوسف علیہ السلام نے.
سوال: - قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کون کریں گے ؟
جواب: - همارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم.
سوال: - سب سے پہلے کس نبی کی امت جنت میں داخل ہوگی ؟
جواب: - میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی امت.
دعا میں ضرور یاد رکھے گا.
=: نماز کے 7 انعام
1 روزی میں برکت
2 تندرست صحت
3 نیك اولاد
4 خوشحال گھر
5 دنيا میں عزت
6 میدان حشر میں جام كوثر
7 آخرت میں جنت
اسے صرف اپنے تک ہی مت رکھئے. شیئر کرکے
دوسروں کو بھی بتائے.
عورت خدا کا دیا ہوا ایک نایاب تحفہ ہے.
پریگننٹ عورت کی 2 ركات نماز عام عورت کی 70 ركات نماز سے بڑھ کر ہے.
شوهر پریشان گھر آئے اور بیوی اسے تسلی دے تو اسے جہاد کا ثواب ملتا ہے.
جو عورت اپنے بچے کے رونے کی وجہ سے سو نہ سکے، اس کو 70 غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے.
شوهر اور بیوی ایک دوسرے کو محبت کی نظر سے دےكھے، تو اللہ انہیں محبت کی نظر سے دیکھتا ہے.
جو عورت اپنے شوهر کو اللہ کی راہ مے بھیجے، وہ جنت مے اپنے شوهر سے 500 سال پہلے جائے گی.
جو عورت آٹا گوندتے وقت بسم اللہ پڑھے تو اس کے رزق میں برکت ڈال دی جاتی ہے.
جو عورت غیر مرد کو دیکھتی ہے اللہ اس پر لعنت بھیجتا ہے.
جب عورت اپنے شوهر کے بغیر کہے ان کے پیر دباتي ہے تو اسے 70 تولا سونا صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے.
جو پاک دامن عورت نماز روزے کی پابندی کرے اور جو شوهر کی خدمت کرے اس کے لئے جنت کے 8 دروازے کھول دیے جاتے ہے.
عورت کے ایک بچے کے پیدا کرنے پر 75 سال کی نماز کا ثواب اور ہر ایک درد پر 1 حج کا ثواب ہے.
جلدي كرو
(1) مہمان کو کھانا کھلانے میں
(2) ميت دفن کرنے میں
8(3) بالغ لڑكيوں کا نکاح کرانے میں
(4) قرض ادا کرنے میں
(5) گناهوں سے توبہ کرنے میں
"استغفر اللہ ربی من کلی ذنبن و اتوبو الیہ"
جہاز نے زمین کی طرف سفر شروع کیا، بے شک ہر شئے نے زمین میں ہی جانا ہے۔ جان ایف کینڈی ایئرپورٹ پر مسافروں کی ایک لمبی لائن میں لگا عبداللہ اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا، بھانت بھانت کے لہجے اور طرح طرح کے لوگ، ہر شخص لائن میں اپنی پوزیشن پر جم کر کھڑا تھا کہ جیسے عمر اِسی اِسپاٹ پر بِتا دینی ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے قطار میں کھڑا ہونا ہی کامیابی ہے اور ایک عبداللہ جو منزل پر پہنچ کر بھی بے چین رہتا۔ کچھ مسافر منزل پر پہنچ کر کھو جاتے ہیں اور منزل انہیں ڈھونڈتی رہتی ہے تو کچھ راستے میں کھو جاتے ہیں اور منزل ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں دونوں میں سے کامیاب کون ہوتا ہے۔     تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
مجھے نہیں معلوم کہ انہیں کس نے ڈھونڈا یا ان کا نام کیا تھا، مگر ہم انہیں "تانگے والا بابا" یا پھر صرف بابا کہتے تھے- ایک یخ بستہ صبح ہماری ملاقات ہوئی جب وہ ہمیں اسکول لے جانے کے لیے آئے تھے۔ گھر کا دروازہ اپنی چابک سے بجاتے ہوئے انہوں نے آواز لگائی: "چلو، چلو"۔ میری بہن شیبہ اور میں آہستہ آہستہ، ہچکچاتے اور شرماتے ہوئے باہر آئے اور تانگے میں بیٹھ گئے۔ ہم اپوا اسکول کے ساتھ رہتے تھے اور پہلے مسافر تھے۔ جہلم کینٹ میں واقع پریزینٹیشن کانوینٹ تک پہنچتے پہنچتے تانگے میں دیگر بھی سوار ہوجاتے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں قتل کردیا گیا۔ لیاقت علی خان قائدِ اعظم کے دیرینہ رفیق کار تھے۔ انہی کے دور میں مذہبی جماعتوں نے مملکتِ خداداد پاکستان میں اپنے قدم جمانے شروع کیے۔ ان مذہبی جماعتوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے انہوں نے قراردادِ مقاصد قومی اسمبلی میں متعارف کروائی تاکہ ان کے اثر و نفوذ کو محدود کیا جاسکے۔ لیاقت علی خان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ قرارداد مقاصد کی منظوری سے مذہبی جماعتوں کا اثر تو محدود نہ ہوا الٹا پاکستان میں ان کو اپنے نظریات نافذ کرنے کا ایک آئینی جواز مل گیا۔ اسی قراردادِ مقاصد کو بعدِ ازاں جنرل ضیاء نے اپنے خود ساختہ اسلامی نظریے کو لاگو کرنے کے لیے آئین کا حصہ بنا دیا۔  تفصیل سے پڑھئے
پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے سہیل وڑائچ کے کو ایک ٹی وی انٹرویو دیا جس میں اپنی سیکیورٹی کے سوال پر انہوں نے کہا،”مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مر سکدا”۔پنجابی فلم مولا جٹ کو ریلز ہوئے تین دہائیاں گزرنے کو ہیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طریقے سے فلم مولا جٹ پاکستانی ثقافت کا حصہ ہیں ۔اس کے یادگار مکالموں کی باز گشت آج بھی پاکستانی معاشرے کی روزمرہ گفتگو میں سنائی دیتی ہے ۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

جس بھی غیر جانبدار محقق کی این اے 122 کے انتخابات پر نظر تھی، اسے معلوم تھا کہ تحریکِ انصاف اور ن لیگ کے درمیان یہاں ایک سخت مقابلہ ہوگا، مگر ن لیگ نے یہ الیکشن اتنا نہیں جیتا جتنا تحریکِ انصاف نے ہارا۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے جی توڑ مقابلہ کیا مگر آج ن لیگ کے قریب ووٹ حاصل کرنے کا مطلب کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ رائے عامہ ہفتوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آپ میں سے جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس ہار کی وجہ دھاندلی کے علاوہ اور کچھ ہے، تو جان لیں کہ تمام کلیے انتخابی مہم کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
میں نے آپ کو دیوسائی کا قصہ سنانا تھا۔ بلتستان میں سطح سمندر سے اوسطاً 13500 فٹ بلند میدان جس کو بلامبالغہ جنت کا ایک ٹکڑا کہا جا سکتا ہے۔بلتستان میں بولی جانے والی شینا زبان میں دیوسائی کا مطلب دیو کی سرزمین ہے ، کیوں کہ ایک روایت کے مطابق دیوسایہ نامی ایک دیو کا یہ مسکن ہے اسی نسبت سے اسے دیوسائی کہتے ہیں۔ جبکہ بلتی زبان میں اسے یہاں کثیر تعداد میں موجود پھولوں کی وجہ سے بھئیر سر یعنی پھولوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔دیوسائی کا میدان ہزاروں پھولوں کا مسکن ہے۔ ان پھولوں کے ہزاروں رنگوں میں چاہتوں اور حسرتوں کی سرمستیاں بستی ہیں۔جذبات اوراحساسات کی طلب مستیاں بستی ہیں۔ رومانوی مصور جان کانسٹیبل نے جب اپنی شاہکار پینٹنگ دی کارن فلیڈ تخلیق کی تھی تو شاید اس نے دیوسائی کو دیکھا نہیں تھا۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
عمران خان صاحب نے شکایت کی ہے کہ ایک مرتبہ پھر ن لیگ نے دھاندلی کا ایک نیا طریقہ استعمال کر دیا ہے جس کے لیے تحریک انصاف بالکل بھی تیار نہیں تھی اور وہ ایک بار پھر ڈھیر ہو گئی ہے۔
واقعی یہ ایک نہایت ہی بری بات ہے۔ ن لیگ کو نصاب کے باہر سے تحریک انصاف کا پیپر نہیں لینا چاہیے۔ وہ ہر دفعہ ایک نیا چکر دے دیتے ہیں اور خان صاحب سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہو گیا۔
ہم بھی یہی سوچ سوچ کر نہایت غمزدہ تھے کہ ترکی کی ایک قدیم حکایت نظر آ گئی اور دل کو تسلی ہوئی کہ صرف خان صاحب کے ساتھ ہی ایسا نہیں ہوا کرتا ہے، اور یہ کہ عمران خان صاحب کی ن لیگ کے ساتھ دشمنی دائمی نہیں ہے بلکہ مستقبل میں پیار محبت سے معاملات طے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
بادشاہی مسجد مغلیہ دور کے نوادرات میں سے ایک شہکار کی حیثیت رکھتی ہے جہاں ہر روز سینکڑوں لوگ سیاحت کے لیے آتے ہیں اور اس فن پارے کے تخلیق کاروں کو دادِ تحسین پیش کرتے ہیں اس کے قرب وجوار میں جہاں مغلیہ دور کی بہت سی یادیں بکھری پڑی ہیں وہاں آپ کو دو درگاہیں بھی ملیں گی۔ اگر آپ بادشاہی مسجد کے مرکزی دروازے سے باہر نکلیں تو دائیںطرف شاعرِ مشرق، مریدِ رومی، سوزِملت رکھنے والے درویشِ لاہوری اور قلندرِ سیالکوٹی کا مزارِپُر انوار ملے گاجہاں ہر وقت زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے بڑی بڑی ہستیاں عقیدت کے پھول نچھ اور کرنے کے لیے یہاں قدم رنجا فرمانا اپنے لیے باعثِ صد افتخار سمجھتی ہیں۔
اب اگر مسجد کے مرکزی دروازے سے بائیں جانب دیکھیںتو ایک مزار وہاںبھی ملے گاچاہے رت اور زمانہ وہی ہو لیکن سماں کچھ اور ہوگایہاں پر لوگ خریدوفروخت ،کھانے پینے ،غل غپاڑہ اُڑانے اور عاشقی معشوقی میں مست نظر آئیں گے کوئی ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگتاہو انظر نہیں آئے گا۔اردگرد پڑا ہوا کوڑا کرکٹ تو دور کی بات سردار ا سکندرحیات خان کی مرقد پر پڑی ہوئی خاک بھی کوئی صاف کرتا ہوا نظر نہیں آئے گایہ وہ لوگ تھے جو لوگوں پر حکومت کرتے تھے جیسے ہی ان کا تختہِ اقتدار اُلٹا لوگوں نے انہیں فراموش کردیا۔اقبال کے مزار پر کیوں آج بھی گہماگہمی ہے؟کیوں لوگ لمبے لمبے سفر طے کرکے یہاں آتے ہیں؟اس لیے کے اقبالکی حکمرانی لوگوں پر نہیں دلوں پر تھی اس لیے اقبال کانام آج بھی زندہ ہے اور رہتی دنیا تک زندہ رہے گامتلاشیانِ علم چشمہِ فیض سے فیض پاتے رہیں گے اور لوگوں کے من روشن ہوتے رہیں گے۔
یہ تو ایک کہانی ہے ایسی کئی کہانیاں تاریخ کے سینے میں رقم ہیں ۔اگر ہم آخری آرام گاہوں کا رخ کریں تو پتہ ملے گا کہ کتنے کتنے ما جبیںجو اس دھرتی کا جُھومر ہوا کر تے تھے جن کے ایک اشارے پر تاریخ رقم ہوتی اور بدلتی تھی، جن کے چڑھتے شباب کے آگے کوئی ٹھہر ناپاتا تھاجو اپنے بد ن پر ذرہ برابر مٹی بھی نہیں پڑنے دیتے تھے ،جن کے لیے ریشم کے نرم وگداز بستر،مشک و امبر سے مہکتے ہوئے محلات، زیب تن کرنے کے لیے اعلیٰ ملبوسات اور خدمت گزار غلام نازونخرے اُٹھانے کے لیے سر جُھکائے کھڑے رہتے تھے۔جن کی محفلیں شراب و کباب اور اُبھرتے شباب سے مزین ہوتی تھیں آج ان کا حال دیکھو ان کی کہانی سنو جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے آج ان کے کفن بھی تارتارہو چکے ہیں کئی لوگوں کا نام تو دور کی بات نشان تک باقی نہیں رہا۔
اگر آپ کبھی مقبرہ جہانگیر پر جائیں تو آپ کو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملے گا۔ویسے تھوڑی دیر کے لیے سوچئیے کیسی نازونعم کی زندگی گزاری ہو گی شہنشاہ نے لیکن پھر وقت نے اُس کے ساتھ بھی وہی کیا جس سے کسی کو بھی معافی نہیںہے وقت پھر اُسے اصل کی طرف لے آیا تھا اُس کی خاک اُسی مٹی میں ملا دی گئی تھی جہا ں سے اُس کا خمیر اُٹھایا گیا تھا۔مقبرے میںآپ کو تاش کھیلنے والی ٹولیا ں ملیں گی ، جانوروں کی گندگی پڑی ہوئی نظر آئے گی ، لوگ گھومتے پھرتے نظر آئیں گے، ڈیٹس پر آئے ہوئے جوڑے دیکھنے کو ملیں گے ،پکنک پرآئے ہوئے لوگ تو ملیں گے پر شاید ہی کوئی ایسا ملے جو یہا ں برصغیر کے مطلق العنان حکمران کے لیے دست ِدعا دراز کئے ہوئے ہو۔ اس سے بھی اگر دل مطمن نا ہو یا دل میں کوئی خلش باقی ہو تو فیصل مسجد کی طرف آئیںیہا ں پر بھی ایک غمناک داستان آپ کی منتظر ہو گی یہاں پر بھی وہی منظر ہو گا کوئی نہیں گاجو صرف دعاکے لیے آیا ہو۔اس قوم سے تو شکو ہ کیا کرنا آپ کو صاحبِ مرقد کے اہل وعیا ل میں سے بھی شایدہی سال میں ایک مرتبہ کوئی دعا مانگنے والا ملے۔
بدلتا ہے رنگ آسما ں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
نا گورِ سکندر نا ہے قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
اگر کوئی جاننا چاہے تو مناظر اور داستانیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔اب ذہن میں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟دیکھو صاحبو!اگر آپ کے دورِاقتدارمیں غریب کو دو وقت کی روٹی تک میسر نا ہو اور تمہارے محلات میں پلنے والے کتے بھی نازونعم سے جی رہے ہوں اور اشرف المخلوقات بلک بلک کر جان دے دے اور غریب کے گھر میں موجود متاع گرانمایہ اس کی بیٹی کی آبرو تک محفوظ ناہواور جہاںلوگ پستی کی حالت میں زندگی کے دن کاٹ رہے ہوں ان سے آپ امید کرسکتے ہیں کہ یہ مرنے کے بعد آپ کی لحد پر پھول ڈالنے،دعامانگنے ،دیا جلانے یا آنسو بہانے آئیں گے۔۔۔۔۔؟؟صاحبو!کوئی نہیں آئے گا کوئی آنسو بہانے نہیں آئے گا۔
کوئی آنسو بہانے نہیں آئے گا
روایت ہے کہ سالوں پہلے محلے میں چند بچوں کے درمیان لڑائی ہوگئی۔ ہمیں لڑائی کے اسباب پر غوروخوص کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اور یہ کہ لفظ چنداں اور شام کے وقت اپنی چھت پر دیدارِ عام ہے یارانِ نکتہ داں کے اصول کے تحت اپنا دیدار کروانے والی چندا پر بھی زیادہ غور نہ کیا جائے نہ ہی ہمیں اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ عین اس وقت جب چندا کپڑے ڈالنے چھت پر پر جاتی ہے تو اسی وقت ہمارے محلے کے ٹھرکی عاصی میراثی اپنے کبوتر اڑانے اور بارہ سنگھے صاحب اپنی مرغیوں کو دانہ ڈالنے کیوں چلے جاتے ہیں؟ تو دوستو لڑائی کا ہونا یقیناً کوئی خاص واقعہ نہیں ہے لیکن یہ خاص اس وقت بن گیا جب اُن میں سے موٹے تگڑے چندا کے بھائی نے روتے ہوئے گھر جاکر اپنی امیّ سے شکایت لگائی۔ نتیجہً ان کی اماں یعنی ماسی مصیبتے گوشمالی کرنے والے الفاظ کے ذخیرے اور بہترین گلے کے ساتھ اپنے لخت جگر کی پٹائی کرنے والے بچوں کے پاس پہنچ گئیں اور اس کے بعد کیا ہوا یہ مت پوچھیں۔ تفصیل سے پڑھئے
فیضی رحمین اور عطیہ بیگم کی محبت ایک لازوال داستان ہے۔ فیضی رحمین ایک یہودی تھے اور عطیہ مسلمان۔ دونوں کی شادی کی بنیادی وجہ ان کے مابین فنونِ لطیفہ سے دلچسپی تھی۔ فیضی رحمین اور عطیہ بیگم کی محبت بعد میں شادی میں تبدیل ہوگئی۔ عطیہ سے شادی کرنے سے قبل فیضی رحمین نے اسلام قبول کیا۔ ڈاکٹر محمد یامین کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کے مطابق فیضی رحمین 19 دسمبر 1880 کو ہندوستانی شہر پونا میں پیدا ہوئے۔ وہ پیدائشی یہودی تھے۔ ان کا پیدائشی نام سیمیول رحمین تھا۔
عطیہ فیضی کا تعلق ایک امیر و کبیر گھرانے سے تھا۔ عطیہ ترکی میں پیدا ہوئیں۔ اس زمانے میں بچیوں کی تعلیم کا تصور نہ تھا اور پردے کی پابندی تھی۔ عطیہ نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ یورپ کی سیاحت بھی کی۔ سفرِ یورپ کے دوران ان کی مغربی دانشوروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ماہر القادری اپنی کتاب ”یادِ رفتگاں“ کے صفحہ نمبر 146 پر لکھتے ہیں:
”اس سفر نے ”نسوانی آزادی“ کے جذبے کو اور زیادہ افرنگ زدہ بنا دیا۔“ ان کے مطابق مہاتما گاندھی جب پہلی بار گول میز کانفرنس میں شرکت کے بعد بحری جہاز سے ہندوستان واپس آرہے تھے تو عطیہ بھی اسی جہاز میں تھیں۔ انہوں نے اصرار کر کے گاندھی جی کی انگلی میں آپسین چبھوئی اور گاندھی جی نے اپنی انگلی کے خون کا نشان عطیہ فیضی کی آٹو گراف بک پر ثبت کر کے دستخط کیے۔“ تفصیل سے پڑھئے
جہاں تک تدبیر کا تعلق ہے جنرل ایوب خان نے ’’آوٹ آف دی وے ‘‘ جاکر یحییٰ خان کو اپنا جا نشین مقرر کیا کیونکہ یحییٰ خان اسکا’’قابل اعتماد ترین‘‘ ساتھی تھا لیکن ہزاروں شواہد گواہی دیتے ہیں کہ ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک اور بھاشانی کی جلاو گھیراو مہم کو یحییٰ خان کی کھلی اشیرباد حاصل تھی ۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کے ارد گرد سازشوں کا جال بن دیا تھا اور ایوب خان کے اعصاب کو توڑنے کے لئے اسے تباہی و بربادی اور نذرآتش کی خبریں تواتر سے بھجوائی جا رہی تھیں تاکہ ایوب خان مجبور اور بے بس ہو کر اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کردے۔محترم غلام احمد پرویز راوی ہیں کہ وہ ایوبی عہد حکومت کے آخری ایام میں صدر ایوب کے پاس بیٹھے تھے جب یحییٰ خان کی جانب سے لاہور ریلوے اسٹیشن کو بلوائیوں کے ہاتھوں نذرآتش کی تحریری خبر ایوب خان کے کانپتے ہاتھوں میں تھمائی گئی۔ یحییٰ خان ملک توڑنے کے بعد بھی اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا تھا لیکن فوج کے اندر بغاوت اور ایئرفورس کے تیوروں نے اسے اقتدار کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔  تفصیل سے پڑھئے
ٹیکسلا کا اصل نام ’’ٹکا شسلا‘‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’تراشیدہ پتھروں کا شہر‘‘ ٹکا شسلا گندھارا دور کا ایک اہم علمی مرکز ،شہر اور تاریخ کے عہد عتیق کی یادگار ہے۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں اس کا ذکر ایران کے بادشاہ دارا کے عہد کی کتب میں ملتا ہے جب یہ ایرانی سلطنت کا حصہ تھا۔ لوہے کا استعمال بھی اس عہد میں شروع ہوا۔ ایرانیوں نے ٹیکسلا میں ایک ’’دارالضرب‘‘ کھولا جہاں مقامی ڈھنگ میں ایرانی معیار کے مطابق سکے ڈھالے گئے۔ اس حقیقت کا اشارہ بدھ مت کی کتابوں میں بھی ملتا ہے کہ ٹیکسلا کو صدیوں علوم و فنون کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی تاہم سکندرِ اعظم کے حملے سے قبل اس کی تاریخ کچھ زیادہ واضح نہیں۔ سونے چاندی کے یہ زیورات اس عہد عتیق کی خوشحالی ہی نہیں ذوق جمال و نظر کا پتہ بھی دیتے ہیں۔    تفصیل سے پڑھئے
جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988ء میں بینظیر بھٹو جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی تو تھوڑے ہی عرصہ بعد ضیاء دور کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے بینظیر بھٹو کے شوہرآصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسینٹ کا خطاب دیا۔ آصف زرداری کی اُس وقت کی مالی بدعنوانیاں جو لاکھوں اور کروڑوں میں تھیں کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہوئی۔ 1990ء میں اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر حکومت کو برطرف کردیا۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت نو ریفرنس عدالتوں میں دائر کیے گئے۔ لیکن پھر 1993ء میں اسی صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف حکومت کو برطرف کرنے کےلیے اُسی بدعنوان آصف زرداری سے بطور وزیر ایوان صدر میں حلف لیا، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے نو ریفرنس بھلادیے گئے کیونکہ مفاد پرست سیاست کی ضرورت تھی، احتساب کا معاملہ ٹھپ ہو گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
جرائم کی بیخ کنی، سیلاب کے موسم میں امدادی کارروائیوں اور ریلیف کے کاموں کو مزید بہتر بنانے کے لیے اور دریائے سندھ میں پائی جانے والی نایاب انڈس ڈولفن کے تحفظ کے لیے پاکستان ایک خصوصی پولیس فورس تیار کر رہا ہے۔
اس ریورائن ایمفیبئس پولیس فورس کے پہلے 700 جوان اگلے سال فروری میں پاس آؤٹ ہوں گے، جو ابھی پاک فوج کے زیر تربیت ہیں۔ یہ پولیس فورس صوبہ پنجاب کے ان اضلاع میں تعینات کی جائے گی جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے۔ ان اضلاع میں راجن پور، رحیم یار خان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، میانوالی اور اٹک شامل ہیں۔ دریائے سندھ کا شمار ایشیا کے چند لمبے ترین دریاؤں میں ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی تقریبا 3000 کلومیٹر ہے اور یہ تبت کے علاقے سے نکلتا ہوا، ہندوستان سے پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
شاید کوئی ایسا شخص ہو جس نے چائے کا ذائقہ نہ چکھا ہو یا اس کو پسند نہ ہو۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر کوئی چائے کا دلدادہ نظر آتا ہے. کون سا ایسا مشُروب ہے جو پورے پاکستان میں با آسانی مل جاتا ہے اور اس کے بغیر مہمانوں کی خاطر تواضع کو ادھورا سمجھا جاتا ہے، پاکستانیوں میں سے اکثریت اس کی دلدادہ ہے بلکہ اگر نشئی کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ ہم میں سے کئی ایسے لوگ ہیں جن کو صبح اٹھ کر سب سے پہلے اس چیز کی طلب ہوتی ہے، جی ہاں بالکل صحیح سمجھے آپ وہ مشروب ہے گرما گرم، سوندھی سوندھی خوشبو بکھیرتی ’’چائے‘‘۔ تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers