محبت وہ لفظ کہ جسے سن کر دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہو جاتا ہے، وہ جذبہ کہ جو دل کی سر زمین پر ایک طوفان برپا کر دیتا ہے، وہ مرض کہ جس کو لگ جائے تو لاعلاج قرار دے دیا جا تا ہے، محبت وہ حقیقت ہے کہ جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی، بہت سے دلو ں کو خوشیاں سے ہمکنا ر ، بہت سے دلوں کو اجاڑ کر بنجر کر دینے ، اور بہت سے دلوں کو زندگی کی قید سے آزاد کر دینے والا یہ جذبہ جس سے شاید ہی دنیا کا کوئی انسان بچ پا یا ہو،
محبت ایک ایسا لفظ کہ جس پر دنیا کے تما م الفا ظ ختم ہیں، بڑے بڑے شاعروں کے اپنی شاعری کو محبت کے نام کر ڈالا ، بڑے بڑے ادبیوں نے محبت کے نام پر کاغذ سیاہ کر ڈالے، کتا بوں پر کتابیں لکھی گئیں،
محبت دن کی طرح ہوتی ہے، جس کے تین پہر ہی محبت کا سرمایہ ہوتے ہیں ،
صبح جو دیکھنے میں بہت بھلی اور خوبصور ت سی لگتی ہے، اسی صبح کی طرح محبوب کا ساتھ بھی بہت بھلا اور خوبصورت محسوس ہوتا ہے ، زندگی میں ایک عجیب سے ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے ، وہ احساس جو ہمیں ساری دنیا میں منفرد کر دے، وہ احساس کے جو ہمیں ہماری ہی نظر میں برتری کا احساس دلا دے،
پر محبت کرنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر صبح ہوئی ہے تو دوپہر بھی قریب ہی ہے ، ایسی دوپہر کہ جون کہ جو جون کے تپتے دنوں میں اندر کو جھلسا کر راکھ کر ڈالے گی،
ایسی گرمی کہ جو ہماری تمام تر توانائیوں کو سلب کر لے گی ہم سے ہمارا غرور چھین لے گی،
بالکل ایسے ہی محبوب دھوکہ دے یا چھوڑ کر چلا جائے ( دھوکہ دینے والے اور جھوٹ بولنے والے کبھی محبت نہیں کرتے صرف ٹائم پاس کرتے ہیں)
یا زمانے کی رسموں کے سامنے مجبور ہو جائیں تو یو ں ہی لگتا ہے کہ جیسے 21ہم جون کی تپتی دوپہر میں بنا سائبان کے کسی سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے بھکاری ہیں، اور یہ دوپہر کبھی ختم نہیں ہوگی ، ہماری فریاد ، ہمارا رونا بلکنا کبھی کام نہیں آئے گا ،
پر ایسا نہیں ہوتا دوپہر بیت جاتی ہے ، شام آ جاتی ہے ، جھولی میں یادیں رہ جاتیں ہیں،دل کسی مسافر کی طرح ان یادوں کو لئے بھٹکتا ہے پر منزل کا کہیں پتا نہیں ہوتا ،
اور پھر ہر روز کی طرح وہ دن گزر جاتا ہے ، رات اپنے پر پھیلاتی ہے ، پتا نہیں کیوں یہ رات اتنی مہربان کیوں ہوتی ہے، میٹھی میٹھی یادوں کی کسک میں رات کا اندھیرا دل کی زمین کو ہولے ہولے سے کھرچتا رہتا ہے، تنہائی دل کے دروازے پر چپ چاپ بیٹھی رہتی ہے ، یوں لگتا ہے زندگی ٹھہر گئی ہو، پر ایسا نہیں ہوتا ،وقت کب کسی کا غلا م ہوتا ہے؟؟ یہ تو آتا ہے اور گزر جاتا ہے ، وقت کب یہ کسی کی پروا کرتا ہے!!!!
زندگی کی دن یوں ہی پورے ہوتے رہتے ہیں او ر آخرکارمحبت اپنے تمام تر، خوشگواریت، ویرانی، تنہائی اور یادوں کے ساتھ دل کے نہاں خانوں میں دفن ہو جاتی ہے۔۔
ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے مغرب کی جانب 6.6 کلومیٹر کی مسافت پر اوڈیگرام کے علاقے میں واقع سلطان محمود غزنوی کی ایک ہزار سال پرانی مسجد اس وقت کے فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کی چھت زمین سے 30 فٹ اونچی ہوا کرتی تھی۔ ماہانہ دو ہزار سے زائد سیاح آج بھی ملک کے کونے کونے سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق سے گرد ہٹائیں تو پتہ چلتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے دو نومبر بروز منگل سنہ 971ء کو سبکتگین کے ہاں غزنی میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنتِ غزنویہ کے حکمران تھے۔ انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کیا تھا اور ان کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
جو کوئی بھی ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ، چاہے وہ میں ہی کیوں نہ ہوں اسے عبرت کا نشان بنا دیں۔ 
میرے ایک بہت اچھے دوست ہیں، پیشے کے اعتبار سے تو میری طرح صحافی ہی ہیں، لیکن قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مقابلے میں مجھ سے کہیں آگے ہیں۔ ہم تو خبر کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں، لیکن خبریں، اصل میں ان کے پیچھے بھاگتی ہیں۔ موصوف کے تعلقات بھی اس مُلک کی اشرافیہ سے لے کر حکمرانوں تک ہیں۔ میرے اس بہترین رفیق نے مجھے ایک خوبصورت واقعہ سنایا جو سُن کر میں تو اب تک حیران ہوں، آپ بھی جانئے۔ تفصیل سے پڑھئے
آج سے پندرہ بیس سال پہلے اگر کوئی غلط اردو بولتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ وہ ’گلابی اردو‘ بولتا ہے۔ گلابی اردو بولنے والے عموماً اردو میں انگریزی کی آمیزش زیادہ کرتے تھے، یعنی ان کا ہر جملہ مکمل اردو یا انگریزی میں ہونے کے بجائے مکس شدہ ہوتا تھا جس کا واحد مقصد دوسرے پر اپنی انگریزی دانی کا رعب ڈالنا ہوتا تھا۔
وہ زمانہ گزر گیا۔ اب جبکہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر شخص اپنی پسند کے موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار زیادہ آسانی سے کر رہا ہے تو یہاں ہمیں گلابی اردو کی جگہ ’رومن اردو‘ نے آگھیرا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
جو بھی دہلی جاتا ہے وہ لال قلعہ، جامع مسجد، جنتر منتر، قطب مینار وغیرہ کی سیر ضرور کرتا ہے۔ اگر بیگم صاحبہ ساتھ ہوں تو پھر شاپنگ کے لیے پالیکا بازار اور قرول باغ جیسی جگہ خوشی خوشی یا با حالات مجبوری جاتا ہے۔
میں چونکہ اپنی کتاب، جو مشہور ہندوستانی صحافی کلدیپ نیئر کے اشتراک سے لکھی تھی، کی رونمائی کے لیے اکیلا گیا تھا اور ساری تاریخی جگہ کی ایک دفعہ نہیں دس دفعہ سیر کرچکا تھا تو سوچا کیوں نہ ایسی جگہ جایا جائے جہاں عام طور پر سیاح نہیں جاتے ہیں۔ کسی نے کہا تمہیں تو چٹورپن کا شوق ہے سو پراٹھے والی گلی ضرور جانا۔ انکی بات بھلی لگی سو انتہائی مصروف پروگرام میں سے ایک صبح وقت نکال ہی لیا۔ ڈان اخبار کے دہلی میں نامہ نگار جاوید نقوی اور پاکستانی آرٹسٹ بنی عابدی اور انکے ہندوستانی شوہر نے باری باری اپنی گاڑی اور ڈرائیور میرے حوالے کردی تھی
جس سے مجھے بہت آسانی ہوگئی۔ لیکن پرانی دہلی اور بالخصوص پراٹھے والی گلی کار سے جانا مصیبت مول لینا ہے۔
'کار کو وہاں پہنچنے میں کم سے کم پینتالیس منٹ لگیں گے اور پھر بیچارہ ڈرائیور گاڑی پارک کرنے کی جگہ تلاش کرتے کرتے اپنے حواس بھی کھوسکتا ہے۔ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ آپ ہمارے شہر کی نئی زمین دوز ٹرین میٹرو پر سفر کریں۔ جہاں آپ ٹہرے ہیں وہاں سے میٹرو کا اسٹیشن منڈی ہاؤس بذریعہ رکشا صرف پانچ منٹ کا فاصلہ ہے' مجھے ایک دوست نے مشورہ دیا۔    تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رح کے پاس ایک خط آیا جس کا تذکرہ آپ کے مسائل اور ان کا حل میں کچھ اس طرح ہے-
س… ”لندن میں ایک عیسائی دوست نے مشورہ دیا کہ میں ایک مسلم علاقے میں شراب کی دُکان کھول لوں اور اس کا نام ”مسلم وائن شاپ“ رکھوں۔ میں کچھ وقفے کے لئے حیرت زدہ رہ گیا، مگر جلد ہی اس سے مخاطب ہوا کہ بھائی! میرے لئے شراب کا کاروبار کرنا حرام ہے، مزید برآں آپ اس دُکان کا نام بھی ”مسلم وائن شاپ“ (شراب کی اسلامی دُکان) رکھوا رہے ہیں! عیسائی دوست ایک طنز آمیز مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوا کہ: ”اگر سود کا کاروبار کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ”مسلم کمرشل بینک“ کے نام سے، تو یہ بھی کیا جاسکتا ہے“ اس دوست نے مجھے لاجواب کردیا۔“
یہ ایک مسلمان کے خط کا اقتباس ہے جو ”اخبارِ جہاں“ کے ایک شمارے میں شائع ہوا تھا، اس عیسائی دوست نے طنز کا جو نشتر ایک مسلمان کے جگر میں پیوست کیا ہے، اس کی چبھن ہر ذی حس مسلمان اپنے دِل میں محسوس کرے گا، لیکن کیا کیجئے ہماری بدعملی نے عقل و فہم ہی کو نہیں، ملّی غیرت و حمیت اور احساس کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے۔ ڈُوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک عیسائی، مسلمانوں پر یہ فقرہ چست کرتا ہے کہ ”اسلامی بینک“ کے نام سے سود کی دُکان کھل سکتی ہے تو ”اسلامی شراب خانہ“ کے نام سے شراب خانہ خراب کی دُکان کیوں نہیں کھل سکتی؟ لیکن ہمارے دور کے ”پڑھے لکھے مجتہدین“ اس پر شرمانے کے بجائے بڑی جسارت سے سود کے حلال ہونے کا فتویٰ صادر فرمادیتے ہیں۔ پاکستان میں وقتاً فوقتاً سود کے جواز پر موشگافیاں ہوتی رہتی ہیں، کبھی یونیورسٹیوں کے دانشور سود کے لئے راستہ نکالتے ہیں، تو کبھی کوئی جسٹس صاحب رِبا کی اقسام پر بحث فرماتے ہوئے ایک خاص نوعیت کے سود کو جائز گردانتے ہیں۔ جناب کا ان موشگافیوں کے متعلق ایک مفتی اور محدث کی حیثیت سے کیا رَدِّعمل ہے؟
جواب میں حضرت شہید رح فرماتے ہیں
ج… قریباً ایک صدی سے جب سے غلام ہندوستان پر مغرب کی سرمایہ داری کا عفریت مسلط ہوا، ہمارے مجتہدین سود کو ”اسلامی سود“ میں تبدیل کرنے کے لئے بے چین نظر آتے ہیں، اور بعض اوقات وہ ایسے مضحکہ خیز دلائل پیش کرتے ہیں جنھیں پڑھ کر اقبال مرحوم کا مصرعہ:
”تم تو وہ ہو جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود!“
یاد آجاتا ہے۔ ہمارے قریبی دور میں ایوب خان کے زیر سایہ جناب ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب نے سود کو ”اسلامیانے“ کی مہم شروع فرمائی تھی، جس کی نحوست یہ ہوئی کہ ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب اپنے فلسفہٴ تجدّد کے ساتھ ایوب خان کے اقتدار کو بھی لے ڈُوبے۔ اب نئی حکومت نے اسلام کے نظامِ معاشیات کی طرف پیش رفت کا ارادہ کیا، ابھی اس سمت قدم اُٹھنے نہیں پائے تھے کہ ہمارے لکھے پڑھے مجتہدوں کی جانب سے ”الامان و الحفیظ“ کی پکار شروع ہوگئی۔ ان حضرات کے نزدیک اگر انگریز کا نظامِ کفر مسلط رہے تو مضائقہ نہیں، مغرب کا سرمایہ داری نظام قوم کا خون چوس چوس کر ان کی زندگی کو سراپا عذاب بنا دے تو کوئی پروا نہیں، کمیونسٹوں کا ملحدانہ نظام انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی صف میں شامل کردے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن اسلام کے عادلانہ نظام کا اگر کوئی نام بھی بھولے سے لے ڈالے تو خطرات کا مہیب جنگل ان کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے، گویا ان کے ذہن کا معدہ دورِ فساد کی ہر گلی سڑی غذا کو قبول کرسکتا ہے، نہیں قبول کرسکتا تو بس اسلام کو، اِنَّا ِللهِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
ایسا ہی کچھ معاملہ اسلامی جمہوریت کا بھی ہے غور فرمائیں
انتہائی ادب آداب کے ساتھ تمام فقہی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوے قبلہ رخ لٹا کر تیز دھار چھری سے مسنون مناجات پڑھتے ہوے انتہائی پاکیزہ مال سے خریدے ہوے خنزیر کو ذبح کر دینے سے کیا وہ حلال ہو جاوے گا .............. ؟
’’History is a vast early warning system‘‘ یہ الفاظ ’’Norman Cousins‘‘ کے ہیں جس نے 1933؁ء میں بطور ِ صحافی نیو یارک ایوننگ پوسٹ سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا اور امَن کے حوالے سے جس کی گرانقدر خدمات کو دنیا بھر میں قابلِ ستائش نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ ایک فقرہ اپنے اندر کئی سبق سمیٹے ہوئے ہے۔ دراصل تاریخ کی افادیت ہی یہی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے کام آتی ہے۔ یہ آنے والی نسلوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ تاریخ کے مطالعہ سے ماضی میں سرزد ہوئی غلطیوں کے تدارک کیلئے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ پھر سے وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں یا پھر تاریخ کو بھول کر پھر سے وہی غلطیاں دہرائی جاتی ہیں جن سے بسا اوقات بڑے بڑے المیے جنم لیتے ہیں۔
یہ زیادہ دور کی بات نہیں نصف صدی سے زائد دو تین دہائیوں کی بات ہے کہ 1939ء میں مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز پر مبنی سوچ کے حامل ایک شخص نے پوری دنیا کے امن کو ایک ایسی ہولناک تباہی میں دھکیلا جس نے پوری دنیا کو نہ صرف مالی طور پر اربوں کھربوں کے معاشی نقصان سے دوچار کیا بلکہ لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ بربریت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ انھیں ضبطِ تحریر میں لاتے وقت مؤرخین کے قلم ہی نہیں لرزتے بلکہ لکھنے اور پڑھنے والوں کی روحیں بھی کانپ اٹھتی ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کے کرداراور اُسکی سوچ پر اُسکے اردگرد کا ماحول اور افراد بڑا گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ اسکے ساتھ اس بات کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے کہ اُسکی پیدائش اور پرورش کے وقت اُسے کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئیے دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی تباہی کے موجد اُس شخص کے حالاتِ زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں جس کا نام الڈف ہٹلر تھا۔
عرفِ عام میں لوگ اُسے ہٹلر کے نام سے جانتے اور پکارتے ہیں موصوف 20-04-1889کو جرمن کے سرحد کے قریب آسٹریا کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے ۔ کُل چھ بہن بھائی تھے۔ ابتدائی عمر سے ہی پڑھائی کی طرف کم، ترنم گوئی کی طرف طبعیت زیادہ مائل تھی ۔ آٹھ سال کی عمر میں ترنم گوئی کے باقاعدہ اسباق لینے کا آغاز کیا اور اسکے ساتھ ساتھ چرچ کی دعائیہ تقریبات سے اپنے فنی کیرئیر کا سفر شروع کیا۔
موصوف کے والد اُسے کسی اور پیشہ سے منسلک دیکھنا چاہتے تھے جبکہ طبعتاً فنکاری کی طرف اس کا رجحان زیادہ تھا۔ باپ بیٹے کی سوچ میں اس واضح فرق نے عملی زندگی میں دونوں کے درمیان ایک ایسی وسیع خلیج کو جنم دیا جس سے دونوں کے درمیکان فاصلے اتنے بڑھ گئے کہ آخر انجام ہٹلر نے بے گھر لوگوں کیلئے دستیاب ہاسٹل میں رہنا شروع کر دیا جہاں کی صحبت اُس کے اندر ابھرتی مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز پر مبنی سوچ کی تناوری کیلئے ایک نرسری ثابت ہوئی ۔
جوانی کے آغاز سے ہی ہٹلر دوسرے اسٹرین جرمنوں کی طرح جرمن نیشنلزم کا علمبردار تھا اور اُس نے پہلی جنگِ عظیم میں BRAVIAN ARMY میں بطور رضاکار حصہ لیا۔ اسی دوران اُسے بہادری کے عوض IRON CROSS سے بھی نوازا گیا ۔ 1919ء میں ہٹلر NSDAPکا باقاعدہ رکن بنا اور 1920ء میں ارمی سے فراغت کے بعد ہٹلر نے اپنے جوشِ خطابت کو نسلی امتیاز ، مذہبی منافرت ، اینٹی سوشلزم اور کمیونزم کے جذبات سے اسطرح آراستہ کیا کہ نازی سوچ ایک تحریک کا روپ دھار نے لگی۔
ہٹلر کے اسی فن کی بدولت 1921ء میں NSDAPکی لیڈرشپ ہٹلر کے ہاتھوں میں آ گئی۔ 1923ء میں ہٹلر اپنے دیگر ساتھیوں سمیت بغاوت کے الزام میں گرفتار ہو گیااور اُسے اس الزام میں پانچ سال کی قید ہوئی ۔ جس دوران اس نے MY STRUGGLE کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ۔ 1924ء میں رہائی پانے کے بعد نازی ازم کے پرچار کو بڑی شدت اور کامیابی کے ساتھ آگے لے کر چلا جس کے نتیجے میں NSDAP بڑی پارٹی کے طور پر منتخب ہو کر سامنے آئی اور ہٹلر نے1933ء میں بطور چانسلر جرمنی کی قیادت سنبھالی ۔
ہٹلر کی قیادت میں جرمنی نے پہلے چھ سالوں میں ترقی کی منزلیں بڑی تیزی کے ساتھ عبور کر لیں ۔جس سے ہٹلر کی گرفت ہر محاذ پر مضبوط سے مضبوط ہوتی چلی گئی اور ہٹلر کے اندر شروع سے پروان چڑھتی محرومیوں نے اس کے اندر انتقامی جذبے کو اسقدر جِلا بخشی کہ اُس نے 1938ء میں اپنے اندر نسلی امتیاز اورمنافرت کی لگی آگ کے تحت اسٹریا پر حملے سے اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کا آغاز کر دیا۔
گہرائی سے اگر ہٹلر کی زندگی کا جائزہ لیں تو کچھ حقیقتیں بڑی واضح دکھائی دیتی ہیں ۔ سب سے پہلی حقیقت ہٹلر کا احساسِ محرومی ہے ۔ جس نے اُسکے اندر نسلی امتیاز اور مذہبی منافرت کے جذبات کو ہواد ی۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو جرمن نیشنلزم قومی پرستی کا نعرہ تو ایک انجیرڈ ڈیزائنڈ سوچ تھی ۔ دراصل اس نعرے کے پیچھے یہودیوں کیخلاف ہٹلر کے نسلی امتیاز، مذہبی منافرت پر محیط وہ جذبات تھے جن کی وہ بچپن سے آبیاری کر رہا تھا ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ نفرت ، لالچ ، غصے اور جذبات میں کیے گئے فیصلے کبھی دیرپا اور کامیاب نہیں ہوتے ۔سو ہٹلر کا جنگِ عظیم دوئم کا فیصلہ بھی جیسا کہ اوپر بیان کی گئی کیفیات میں ہی کیا گیا تھا اس لئے وہ بھی اس دنیا کو صرف اور صرف تباہی ہی دیکر گیا۔ اس ہولناک تباہی کو دیکھ کر دنیا اس بات کی امید کر چلی تھی کہ آب مذہبی منافرت کی وجہ سے GENECIDE کا عمل دوبارہ دہرایا نہیں جائے گا۔ لیکن تاریخ نے ایک بار پھر تقسیم برصغیر پاک و ہند اور دوسری بار بوسنیا اور سربیا میں اس بربریت کے مظاہرے دیکھے ہیں لیکن یہ بھی ماننا پڑیگا کہ چاہے دکھاوے کیلئے ہی سہی بوسنیا اور سربیا کے GENECIDE کے ذمہ داروں کو عدالتی کٹہرے میں ضرور لایا گیاہے۔
لفظ ويکسين لاطيني زبان کا لفظ ہے جو vacca سے نکلا ہے اور لاطيني زبان ميں vacca گاۓ کو کہا جاتا ہے - ويکسين کے لفظ کو دنيا ميں سب سے پہلے ايک برطانوي سائنسدان بنام ايڈورڈ جنر نے استعمال کيا -سن 1794 میں ڈاکٹر ایڈ ورڈ جنر( Edward Jenner) نے چیچک کی ویکسین ایجاد کی اور ایک ایسا کلیہ طب کو دے گیا کہ س کی بدولت آج ہم بے شمار خطرناک بیماریوں سے عمر بھر کے لئے محفوظ رہتے ہیں۔اس دور ميں چيچک کي طرح کي ايک بيماري cow pox ہوا کرتي تھي اور اکثر اوقات گوالے اس بيماري کا شکار ہوا کرتے تھے - جب small pox يعني چيچک کي بيماري سامنے آئي تو اس سائنسدان نے يہ مشاہدہ کيا کہ جو لوگ cow pox کا پہلے شکار ہو چکے ہيں ان کو چيچک کا مرض لاحق نہيں ہو رہا ہے - يہي نقطہ اس کي تحقيق کي بنياد بنا اور اس نظريے کي بنياد پر اس نے اپني تحقيق کا آغاز کيا - اس نے تجرباتي بنيادوں پر ايک بچے کو cow pox کے ہلکے جراثيموں سے متاثر کيا جس سے وہ بچہ ہلکا سا بيمار ہوا ليکن جب بچہ تندرست ہوا تو اس نے اسي بچے کو چيچک کے جراثيموں سے متاثر کيا اور اس وقت يہ بات سامنے آئي کہ چيچک کے جراثيم بچے کو بيمار نہيں کر سکے ہيں -
ويکسين ميں يہ کيا جاتا ہے کہ جس بیماری سے بچائو کا ٹیکہ لگانا ہو اسی بیماری کے کمزور يا ہلکے اور جراثيم انساني جسم ميں داخل کيۓ جاتے ہيں - جسم ميں ہر بيماري کا مقابلہ کرنے کے ليۓ مدافعاتي نظام ہوتا ہے - جيسے ہي يہ جراثيم جسم ميں داخل ہوتے ہيں تو اس کے جواب ميں اينٹي باڈيز بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور يہ اينٹي باڈيز باہر سے جسم ميں داخل ہونے والے جراثيم کو ختم کر ديتے ہيں - يوں جسم کا دفاعي نظام اس خاص جراثيم سے آشنا ہو جاتا ہے اور جب کبھي دوبارہ اس طرح کے طاقت ور جراثيم حملہ آور ہوتے ہيں تو ويکسين کي وجہ سے پہلے سے موجود اينٹي باڈيز اس طاقتور جراثيم کو آساني کے ساتھ ختم کر ديتے ہيں اور يوں انساني جسم بہت سارے خطرناک امراض سے محفوظ رہتا ہے -
ایک مرتبہ یہ اینٹی باڈیز ہمارے جسم میں بن جائیں تو ہمارے سیل کے ڈی این اے میں اس کی یاداشت محفوظ ہوجاتی ہے اور اگر دوبارہ وہی جراثیم جسم پر حملہ کریں تو فورا'' اینٹی باڈیز بن کر ان کو نیست و نابود کر دیتی ہیں اور انسان اس بیماری کا شکار نہیں ہوتا۔اسی لئے چیچک کی ویکسین چیچک کے مریض کے دانوں کی پیپ سے، خسرہ کی ویکسین خسرہ کے کھرنڈ سے وغیرہ وغیرہ بنائ جاتی ہی۔۔
ويکسين کو ليباريٹري ميں اسي بيماري کے کمزور يا مردہ جراثيموں سے تيار کيا جاتا ہے جس بيماري کے خلاف ويکسين کو تيار کرنا ہوتا ہے -
عام بک شاپس سے بالکل ہٹ کر ہے۔ کسی نے 1950ء کے دور کی یادیں تازہ کرنا ہوں تو یہاں کا وزٹ ضرور کرے۔ یہ آج بھی دو خاندانوں کی چھوٹی سی دنیا ہے جس سے وابستہ بہت سی باتیں آپ کے لئے دلچسپ اور حیران کن ہوں گی۔۔۔۔
کتاب کے قدردانوں کو تازہ گلابوں کے مقابلے میں۔۔کتابوں میں دبے پھولوں کی خوشبو ۔۔اور ان پر’اٹی ہوئی دھول‘ سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ ادھ کھلی کتاب پر رکھے نظر کے چشمے کی پینٹنگ انہیں یوں لگتی ہے جیسے ابھی کوئی ہولے ہولے سے چلتا ہوا آئے گا۔۔ لان کے کنارے پر جاڑے کے موسم کی نرم دھوم میں رکھی آرام کرسی پر بیٹھے گا اور کتاب کے پنوں میں کھو جائے گا۔۔۔ان کے لئے یہ خیال ہی بہت جاں افزا ہوتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
بیسنت ہال اور پرتاب !! اب دونوں وقت کے تھپیڑوں کو زیادہ دیر نہیں سہہ سکتے- حیدرآباد کی ہر تاریخی عمارت آج کل اپنے وجود کو بچانے کی جی توڑ کوشش کر رہی ہے، مگر رفتہ رفتہ گزرتا وقت ان عمارات کو کمزور کر رہا ہے۔ ایسی ہی ایک عمارت، جو قریباً 115 برس کی ہو چکی اور وقت کے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کا وجود بکھرتا جا رہا ہے۔ اس عمارت کا نام بیسنت ہال ہے، مگر اکثر لوگ اسے بسنت ہال کہتے ہیں۔ اس کی دیکھ بھال پر معمور شخص پرتاب (فرضی نام) عرصۂ دراز سے اس عمارت کا حصہ بن گیا ہے، جس کی اینٹیں اب وقت کے تھپیڑوں کا زیادہ اثر نہیں سہہ سکتیں۔ پرتاب کا جنم حیدرآباد میں ہوا، اسے حیدرآباد شہر سے اتنی انسیت رہی ہے کہ وہ تقسیم کے وقت بھی یہاں سے نہیں گیا اور نہ ہی اسے کسی اور شہر میں سکون ملتا ہے، اس لیے اس نے حیدرآباد کو ہی اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سندھ اس کا وطن ہے اور وہ اسے چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کہنے کو تو وہ اس عمارت کا رکھوالا ہے، مگر جس طرح وہ بیسنت ہال کے لیے پریشان ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے جیسے اس کی روح کا اس عمارت کا ساتھ ازلی رشتہ ہے، اور یہ اپنائیت اسے بے چین کیے رکھتی ہے۔ بیسنت ہال کی عمارت 24 فروری 1901ء میں تعمیر ہوئی، مگر اس کا افتتاح 1917ء میں اینی بیسنت نے خود کیا۔ اینی بیسنت کا تعلق انگلستان سے تھا۔ ان کا جنم 1847 ء میں ہوا۔ وہ مظلوموں کی حامی اور انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی تھیں۔ بیسنت ہال کے لیے پلاٹ اس وقت کے جنرل کمانڈنگ آفیسر کرنل آلکاٹ نے فراہم کیا۔ وہ ایک تھیوسوفسٹ تھے۔ اسی وقت سے تھیوسوفیکل سوسائٹی حیدرآباد میں سرگرم ہونے لگی اور یہ سوسائٹی آج تک قائم ہے۔ اس سوسائٹی کا مقصد عالمی بھائی چارہ قائم کرنا تھا، اور اس کا رکن بننے کے لیے مذہب، رنگ، نسل کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ خواہ انسان کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اس کی خدمت اس سوسائٹی کا بنیادی مقصد تھا۔ اینی بیسنت کو اس تھیوسوفیکل سوسائٹی کی صدر منتخب کیا گیا اور اس کے بعد اس عمارت کو اینی بیسنت کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اینی بیسنت نے تھیوسوفیکل سوسائٹی کی صدر ہونے کے دوران سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے قومی تعلیمی تحریک کا آغاز کیا، جس کا مقصد ہندوستان کی سماجی اور تعلیمی ترقی تھا۔ انہوں نے انڈین بوائے اسکاؤٹ ایسوسی ایشن کے لیے بھی کام کیا۔ اب تھیوسوفیکل سوسائٹی کے صدر سندھ کے مشہور ماہر تعلیم اور دانشور محمد ابراہیم جویو ہیں، مگر اب یہ سوسائٹی اتنی سرگرم نہیں رہی۔ وہاں لائبریری اور ریڈنگ روم ابھی بھی قائم ہیں، مگر اب وہاں کوئی مطالعے کے لیے نہیں آتا۔ ہال کے برابر ایک اسٹیج بھی ہے ،جہاں پر تقسیمِ ہند سے پہلے اسٹیج ڈرامے ہوا کرتے تھے جس میں محمد ابراہیم جویو بھی کردار ادا کر چکے ہیں۔ اس کے بعد بھی ڈرامے کا سلسلہ جاری رہا، مگر اب وہ اسٹیج اداس دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس پر اب کوئی بھی اداکاری کے جوہر نہیں دکھاتا۔ ویران اسٹیج کا فرش اینٹوں سے تیار کیا گیا ہے، جو کسی زمانے میں کچا فرش ہوتا تھا۔ ہال کے اندر جو اسٹیج بنا ہوا ہے وہ اس وقت سیمنٹ کا ہے، مگر اس سے پہلے وہ ساگوان کی لکڑی کا تھا۔ آہستہ آہستہ دیمک اس لکڑی کو چاٹ گئی اور ساگوان کی لکڑی سے بنے ہوئے اسٹیج کی جگہ سیمنٹ کے بنے ہوئے اسٹیج نے لے لی۔ ٹائلوں سے بنا ہوا ہال کا فرش اس وقت کے ایک مخیر بولچند نے 35 روپے کا چندہ دے کر تیار کروایا تھا۔ کچھ وقت قبل تک بھی یہاں پر سماجی اور ادبی سرگرمیاں ہوا کرتی تھیں، مگر اب وہ سلسلہ بھی ختم ہو رہا ہے۔ اس وقت بھی بلڈر مافیا کی نظر اس عمارت پر ہے تاکہ اسے مسمار کر کے کوئی پلازہ بنایا جائے۔ چاروں اطراف سے قبضوں میں گھرا ہوا بیسنت ہال اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کو اب قومی اثاثہ قرار دیا جا چکا ہے، جس کے بعد ان تمام عناصر کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے جو اسے اجاڑنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ماضی میں اسی ہال میں شادی کی تقاریب بھی ہوا کرتی تھیں۔ اس کے لیے دو عروسی کمرے بھی تیار کیے گئے تھے،جن میں دلہن کو تیار کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں مختلف برادریوں کی شادی کی تقاریب یہاں ہوا کرتی تھیں۔ یہ ہال بجلی سے تب روشن ہوا جب حیدرآباد میں 1939 ء میں بجلی آئی۔ اس سے قبل روشنی کے ذرائع فانوس تھے۔ ان ہی کمروں میں ساگوان سے بنی ہوئی الماریاں بھی ہیں۔ ایک جھولا ہے، جس میں مہاتما گاندھی کی تصویر آویزاں ہے۔ اسی عمارت کے زیر سایہ سندھ کی سیاسی اور ادہی تحریکوں کے پروگرام بھی منعقد ہوتے رہے ہیں۔ ہال کے سامنے لگا ہوا بڑا فوارہ اب بند ہو چکا ہے۔ اس کی برابر میں ایک چھوٹا سا فوارہ بھی ہے، وہ بھی اب کام نہیں کرتا۔جیسے ہی ہال میں داخل ہوتے ہیں تو ہال کی کھڑکیوں اور چھت کی ٹیئر گارڈر پہ بیٹھے ہوئے کبوتر دکھائے دیتے ہیں،جو ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی تک پھڑپھڑاتے رہتے ہیں۔ ہال کے اندر شمال کی جانب سے جانے والی سیڑھیاں بھی اکھڑ گئی ہیں۔ پرتاب کا کہنا ہے کہ وہ اس عمارت کو سنبھالنا چاہتا ہے، مگر اس کے بس میں صرف اتنا ہے کہ وہ غیر متعلقہ لوگوں کو یہاں آنے اور اسے مزید نقصان پہنچانے سے روکے۔ بیسنت ہال ایک یادگار عمارت ہے۔ قومی اثاثہ قرار دئیے جانے کے بعد اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ادارے اس عمارت کو جلد از جلد بہتر کریں تاکہ وہ ساری سرگرمیاں ایک بار پھر سے شروع ہو سکیں، جو کبھی اس کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔

آج تقریباً ہر موبائل میں میں ”بلیو ٹوتھ“ نام کی ایک ڈیوائس موجود ہے۔ کمپیوٹرز کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے مارکیٹ میں الگ سے یہ ڈیوائس مل جاتی ہے۔آپ بھی یقینا بلیو ٹوتھ کے ذریعے دوسروں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرتے ہوں گے لیکن کبھی آپ نے سوچا کہ بلیو ٹوتھ کے نام کے معنی کیا ہیں، اس کا نام بلیو ٹوتھ کیوں رکھا گیا اور اس کا ماخذ کیا ہے؟ بلیوٹوتھ ڈیوائس 1994ءمیں معروف ٹیلی کام کمپنی ”ایرکسن“ (Ericsson) کے سافٹ ویئرانجینئرز کی ٹیم نے ایجاد کی تھی لیکن اس کا نام 1997ءمیں بلیو ٹوتھ رکھا گیا۔ اس ٹیم کے ایک رکن جم کارڈیک 1997ءمیں فرانس جی بینگٹسن کا تاریخی ناول The long Shipsپڑھ رہے تھے۔ اس ناول میں قدیم ڈنمارک کے بادشاہ ہرالڈ بلیوٹوتھ کے کارنامے بیان کیے گئے تھے کہ کس طرح اس نے ڈنمارک کو متحد کرکے سلطنت قائم کی۔ ہرالڈ بلیوٹوتھ ڈنمارک کا دوسرا بادشاہ تھاجو 935ءمیں پیدا ہوا تھا۔ اس نے 958ءسے لے کر 986ءتک شاندار حکومت کی تھی۔ یہ بادشاہ گارم دی اولڈ کا بیٹا تھا،جس کا سکہ ڈنمارک اور ناروے دونوں پر چلتا تھا لیکن اس وقت ڈنمارک مختلف قبائل میں بٹا ہوا تھا۔ ہرالڈ بلیو ٹوتھ ایک زیرک انسان تھا۔ اس نے اپنے دور اقتدار میں ڈنمارک کے منقسم اور بکھرے ہوئے قبائل کو ایک سلطنت کے تحت متحد کیا تھا۔ اسی وجہ سے بلیوٹوتھ ڈیوائس پروٹوکول کا نام اس بادشاہ کے نام پر ہی رکھا گیا تھا۔بلیوٹوتھ ڈیوائس بھی چونکہ ایک سے زائد ڈیوائسز کو باہم منسلک کرتا ہے، اس لئے اس کا نام ہرالڈ بلیوٹوتھ کے نام پر رکھا گیا۔یہی نہیں بلکہ بلیوٹوتھ کا لوگو بھی ہرالڈ بلیوٹوتھ کے نام کے ابتدائی حروف کو باہم ملا کر بنایا گیا ہے۔
یہ 1948 کی بات ہے، انڈیا کی ریاست گجرات کے ضلع راجکوٹ کے علاقے (موجودہ میونسپلٹی) دھوراجی سے عبدالشکور نامی شخص نے اپنے خاندان کے ہم راہ ہجرت کر کے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا اور کراچی کے علاقے کھارا درمیں رہایش اختیار کی۔ عبدالشکور انڈیا میں گلی گلی پھیری لگا کر گولا گنڈا بیچنے کا کام کرتے تھے، چناں چہ نئی سرزمین پر نئی زندگی کی شروعات بھی انھوں نے پرانے پیشے سے کی اورگولا گنڈا بیچنا شروع کر دیا۔ قیام پاکستان کے وقت کراچی میں برف کے کارخانے صرف کھارادار اور رنچھوڑلائن میں ہُوا کرتے تھے، عبدالشکور کھارا در میں واقع برف کے کارخانے (یہ کارخانہ اب بھی موجود ہے) سے برف خریدتے تھے۔  تفصیل سے پڑھئے
بھارت کے شہر پیلی بھیت کے رہائشی شیخ رحیم بخش کے یہاں سن 1883 میں بیٹے کی پیدائش ہوئ جس کا نام عبدالمجید رکھا گیا۔۔ یہی عبدالمجید آگے چل کر حکیم محمد سعید کے والد بنے۔ آٹھ برس پیلی بھیت میں رہائش کے بعد شیخ رحیم بخش دہلی کے علاقے حوض قاضی منتقل ہو گئے۔ تعليم سے فراغت پر حکیم حافظ حاجی عبدالمجید بانی دواخانہ ہمدرد کا نکاح رابعہ بیگم سے ہوا ۔ آپ انتہائی نیک، اطاعت اور خدمت گزار، نماز و روزہ کی پابند، پردہ کی پابند، محنتی، وفاشعاراور معاملہ فہم خاتون تھیں۔۔
حکیم۔محمد سعید کے والد حکیم عبدالمجید ایک مستقل مزاج شخص تھے۔ آپ کو ادویات کے خواص میں خاص دلچسپی تھی۔ شوق اور مہارت کے باعث انھوں نے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے قائم کردہ ہندوستانی دواخانے میں ملازمت کرلی۔ اس عرصے میں طب کامطالعہ بڑی گہرائی اور طب کی متعدد کتابوں کا مطالعہ بڑی باریک بینی سے کیا۔ آپ کو جڑی بوٹیوں سے گہرا شغف تھا اور ان کی پہچان کا ملکہ حاصل تھا آخر کار انہوں نے نباتات کے میدان میں اترنے کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ بیماریوں کی شفاء کے لیے ہندوستان بھر سے جڑی بوٹیاں حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ بقول حکیم محمد سعید ’’آپ ایک بلند پایہ نبض شناس تھے۔ یعنی جڑی بوٹیوں کے ماہر۔ حکیم عبدالمجید بڑی محنت سے حکیم اجمل خان کے ساتھ کام کر رہے تھے کہ انھیں احساس ہوا کہ حکیم اجمل صاحب ان کی دیانت پر شک کرنے لگے ہیں۔ غیرت فطرت نے یہ شبہ برداشت نہ کیا اور اس عظیم انسان نے ایک تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ 1904 میں اپنے سسر رحیم بخش صاحب سے کچھ پیسے لے کر ہمدرد کی بنیاد ڈالی اور اس کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں کی تجارت بھی شروع کی۔ ہمدرد دکان کو چلانے کے لیے حکیم عبدالمجید نے نباتات سے دوائیں بنانا شروع کیں اور ان کی اہلیہ رابعہ بیگم نے ہر مرحلے پر اپنے شوہر کا ہاتھ بٹایا۔
ہمدرد دواخانے کی پہلی دوائی ’’حب مقوی معدہ‘‘ تھی۔ رابعہ بیگم اور ان کی بہن فاطمہ بیگم دونوں عبدالمجید صاحب کا ہاتھ بٹاتی تھیں اور سل بٹے سے نباتات پیس کر ہاتھ سے گولیاں بناتی تھیں۔ حوض قاضی سے ہمدرد کی منتقلی لال کنویں کی ایک دکان میں ہوئی اور جب اس کاروبار میں وسعت پیدا ہوئی تو اس کو لال کنویں سے اس کی ابتدائی جگہ منتقل کرنا پڑا۔
حکیم محمد سعید کی زندگی اور کارناموں پر ہم کسی دوسری پوسٹ میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ یہاں ہمارا موضوع طب مشرق کا شہرہ آفاق شربت روح افزا ہے جو بلا شبہ نہ صرف ہند و پاک کی ثقافت کی پہچان بن چکا ہے بلکہ اس کی سينکڑوں نقلیں بھی تیار کی گئیں اور اس کے بعد ہی مختلف دواخانوں نے اس جيسے کئ لال شربت ملتے جلتے ناموں سے تیار کرنا شروع کئے۔۔آج بھی روح افزا انڈیا اور پاکستان کی ہمدرد لیبارٹریز میں انتہائ بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے اور تمام دنیا میں ايکسپورٹ کیا جاتا ہے۔
حکیم عبدالمجید کے همدرد دوا خانے میں حکیم استاد حسن خان بھی طبیب اور ادویہ سازی کے شعبے سے وابستہ تھے۔ان کا تعلق بھارتی صوبے اتر پردیش کے شہر سہارنپور سے تھا لیکن تلاش معاش میں وہ دہلی آبسے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ ہجرت کر کے کراچی آگئے۔ سن 2003 تک وہ کراچی میں مقیم تھے اور ان کی عمر غالبا'' 120 سال ہوگی۔۔ انہوں نے ہی ایک انٹر ویو میں اپنی یادوں کے اوراق پلٹتے ہوئے روح افزا کی تیاری کی داستان سنائ۔۔ یہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے روح افزا کا پہلا نسخہ ترتیب دیا تھا۔۔یہ سن 1907 کی بات ہے۔اس زمانے میں مختلف پھلوں، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کے شربت انفرادی طور پر دستیاب تھے۔ مثلا'' شربت گلاب، شربت، صندل، شربت انار، شربت سنگترہ، شربت کیوڑہ، وغیرہ وغیرہ جو اپنی تاثیر اور ذائقے کے لہٰز سے بھی مختلف تھے۔۔ ہمدرد دوا خانہ کے بانی چاہتے تھے کہ پھلوں، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کو ملا کر ایک ایسا بے نظیر و بے مثال نسخہ ترتیب دیا جائے جو ذائقے اور تاثیر میں اپنی مثال آپ ہو اور ایسا معتدل ہو کہ بچے سے بوڑھا تک ہر مزاج کا شخص اس کو استعمال کر سکے۔۔۔ یہیں سے روح افزا کی تیاری پر کام شروع ہوا۔۔ حکیم استاد حسن خان نے اپنی تمام حکمت اور خواص جڑی بوٹیاں کا تجربہ روح افزا کے نسخہ و ترکیب میں سمو دیا۔۔اگر صرف روح افزا کی تیاری پر ہی ان کو استاد کے لقب سے نوازا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔،لیکن کیسی افسوس اور حیرت کی بات ہے کہ یہ شخص گمنامی کی زندگی بسر کرگیا ورنہ بجا طور پر تمغہ حسن کار کردگی کا مستحق تھا۔ انڈیا کے ہمدرد وقف دوا خانہ و لیبارٹریز کی ویب سائٹ پر ان کا تعارف بحیثیت روح افزا کے اولین نسخہ ساز کی حیثیت سے درج ہے۔
روح افزا میں شامل چیدہ چیدہ اجزا اپنی تاثیر میں بے مثل تھے۔۔ جڑی بوٹیوں میں حکیم صاحب نے تخم خرفہ،منقہ،کاسنی،نیلوفر، گائوزبان،ہرا دھنیا وغیرہ، پھلوں میں سنگترہ، انناس، گاجر، تربوز، وغیرہ۔ سبزیوں میں سے پالک، پودینہ، ہرا کدو، وغیرہ۔۔ پھولوں میں، گلاب، کیوڑہ،لیموں اور نارنگی کے پھولوں کا رس،، خوشبو اور ٹھنڈک میں بے مثال خس اور صندل کی لکڑی وغیرہ۔۔ان تمام اجزا اور عرقیات کو ایک خاص ترتیب سے ملا کر جو شربت تیار ہوا وہ بلاشبہ روح افزا کہلانے کا ہی مستحق تھا۔۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے طب مشرق پر چھا گیا اور آج تقریبا'' 110 سال گزرنے کے باوجود اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئ۔۔

مجھےاپنے بچپن کا زمانہ یاد ہے کہ جب جون جولائ کی تپتی گرمیوں میں دوپہر کے قیلولے کے بعد شام چار پانچ بجے کے قریب گھر میں روح افزا تیار کیا جاتا تھا اور ایک گلاس برف سے یخ بستہ خوشبودار اور شیریں روح افزا، جسم میں ایک عجیب سکون اور ٹھنڈک کا احساس جگا دیتا تھا۔ کسی گھر میں روح افزا بنتا تو پڑوس تک اس کی مہک جاتی تھی۔ افطار اور روح افزا توگویا لازم و ملزوم ہیں۔ رات کو سوتے وقت ایک گلاس دودھ میں تین بڑے چمچ روح افزا مستقل استعمال کرنے سے رنگ گورا ہو جاتا ہے اور دماغی سکون ملتا ہے۔آج بھی قلفی اور فلودہ پر روح افزا کی ڈاٹ لگا کر کھایا جاتا ہے۔ فروٹ کریم چاٹ، فیرنی، کسٹرڈ، کھیر وغیرہ پر بھی روح افزا کی سرخی اور مہک لطف دوبالا کردیتی ہے۔ تپتی گرمی میں لو سے بچائو کے لئے روح افزا کا ثانی نہیں۔۔تربوز کے شربت میں روح افزا اور تخم بالنگا شامل کر کے ایک انتہائ نفیس شربت تیار کیا جاتا ہے جو شدید گرمی کا توڑ ہے۔کچھ لوگ لسی میں بھی روح افزا شامل کر دیتے ہیں۔ گرمیوں میں خربوزے یا چھوٹے گرمے کو درمیان سے چاک کر کر بیج نکالنے کے بعد اس میں ملک پیک بالائ ڈالیں اور اس پر روح افزا ڈال کر چمچے سے کھائیں تو مزہ آجاتا ہے۔۔ اسی طرح اسٹرا بیریز کو کریم اور روح افزا میں ڈبو کر کھائیں تو اصل لطف آتا ہے۔۔گو یہ مشروب تاثیر میں ٹھنڈا ہے لیکن رمضان خواہ گرمیوں کے ہوں یا جاْڑوں کے ، افطار میں روح افزا ایک لازمی جز کی حیثیت رکھتا ہے۔پھل فروشوں کی دکان پر آپ کو لازمی روح افزا بھی ملے گا۔۔مختلف مواقع پر تحفے تحائف کے ساتھ جو پھلوں کا ٹوکرا جس کو ڈالی بھی بولا جاتا ہے اس میں آپ کو ست رنگے پھلوں کے ساتھ روح افزا کی بوتل لازمی ملے گی۔ مہندی مایوں کی تقریب میں بھیجی جانے والی ڈالی میں بھی روح افزا کی بوتلوں کی جوڑی لازمی سجائ جاتی ہے۔۔۔اب سے کوئ بیس پچیس برس قبل ہمدرد اپنے روح افزا کے اشتہار میں دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اب تک اس مشروب کی اتنی بوتلیں تیار کر چکے ہیں کہ اگر ان بوتلوں کو قطار سے زمیں پر رکھا جائے تو پورے کرہ ارض کے گرد ایک حلقہ مکمل ہو جائے گا۔
افسوس کہ اب روح افزا کی نہ وہ خوشبو ہے اور نہ وہ معیار۔۔حکیم سعید مرحوم جب تک حیات تھے تب تک روح افزا بہرحال اپنا معیار ایک حد تک برقرار رکھے ہوئے تھا لیکن ان کے بعد روح افزا بھی گویا اپنی روح سے محروم ہوگیا۔ اس کی ایک توجیہہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ روح افزا کی تیاری میں شامل کچھ اجزا اب انتہائ مہنگے داموں ملتے ہیں اور کچھ اجزا کو غالبا'' بھارت سے بھی امپورٹ کیا جاتا ہے۔۔سنا ہے کہ انڈیا کے ہمدرد کا روح افزا اب بھی کافی بہتر ہے۔--
ہمدرد دوا خانے میں جو روح افزا بیرون ممالک ایکسپورٹ کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے وہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں لیکن جاننے والے کہتے ہیں کہ ذائقے اور تاثیر و مہک میں وہ اب بھی پچاس سال پرانے روح افزا جیسا ہی ہے۔ لیکن اس کی قیمت مقامی طور پر ملنے والے روح افزا سے کافی زیادہ ہے....
بہرحال ایک ایماندار اور نیک نیت شخص عوام سے اپنے خلوص اور محبت کی وہ نشانی چھوڑگیا جو قلب و روح کی تسکین کا باعث بنتا رہے گا۔ایک ایسا مشروب جو صرف تواضع کے لئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہماری تہزیب و ثقافت اور روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ آج بھی اس کی خوشبو، ماضی کی یادوں کے نہ جانے کتنے دریچے کھول دیتی ہے۔
ایک شہر تھا جس میں تھوڑی سی دہلی، تھوڑی ممبئی، تھوڑا بنارس، تھوڑا کلکتہ، تھوڑا پٹنہ، وغیرہ ٹھیک ویسے ہی تھے جیسے دہلی میں تھوڑا پٹنہ، تھوڑا کلکتہ، تھوڑا بنارس وغیرہ ہیں۔ اس شہر میں شایدبہار کا یا اتر پردیش کا یا شاید مدھیہ پردیش کا ایک لڑکا تھا، جو شاید آئی اے ایس، یا آئی آئی ٹی، یا شاید ایم بی بی ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ تیاری کرتا جا رہا تھا، پریکشا(امتحان) دیتا جا رہا تھا، لیکن قسمت ہمیشہ اس سے کترا کے نکل جا رہی تھی۔ عمر ایک ایسی ریت گھڑی ہے جسے اوپر کی ساری ریت نیچے گر جانے کے بعد الٹا نہیں کیا جا سکتا اور یہی بات اسے کھائے جا رہی تھی۔ اس نے ہر طریقہ آزما لیا تھا۔ مندروں میں منت مانگ کر، پیپل پہ دھاگے باندھ کر، درگاہ میں چادر چڑھ کر، بانہوں پرتعویذ بندھوا کر، چرچ میں موم بتیاں جلا کر وہ تھک چکا تھا۔ لیکن کسی بھی طرح کے خدا سے اسے مدد نہیں ملی تھی۔ کچھ اور ٹوٹکے بھی کیے تھے اس نے۔ ہوٹل کھانا کھانے جاتا تو ایک روٹی بچا کے لے آتا اور گئوماتا کو کھلاتا تھا۔ منگلوار کو ورت(روزہ) رکھتا تھا۔ کمرے سے پریکشا دینے کے لیے نکلتا تھا تو خود ہی دو گلاسوں میں پانی بھر کے دروازے کے دونوں طرف رکھتا اور دہی چاٹ لیتا تاکہ پریکشا اچھی جائے۔ لیکن کوئی بھی ٹوٹکا کارگر نہیں ہوا تھا۔ سمے بیتتا جا رہا تھا، کتابیں بڑھتی جا رہی تھیں اور بال جھڑتے جا رہے تھے اور ان سب کے بیچ ہر سال ایک بار پیلیا بھی مہمان کی طرح آ جاتا تھا کچھ ہفتے رہتا تھا اور اس کی ساری محنت برباد کرکے چلا جاتا تھا۔
وہ سب سے پہلے اس شہر کے مشہور مچھلی بازار پہنچا۔ وہاں ہر طرف مچھلیاں ہی مچھلیاں تھی، زیادہ تر مری ہوئی۔ اور جو زندہ تھیں انہیں دیکھ کر کہیں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ انہیں پالا جانا چاہئیے۔ وہ بازار اسے مچھلیوں کا ٹارچر روم لگا۔
اس بار جب وہ گاؤں گیا تو پڑوس میں رہنے والی چاچی نے اسے صلاح دی کہ اسے مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلانی چاہیئں، اس سے قسمت ساتھ دیتی ہے۔ وہ کسی بھی طرح اپنی محنت کا ہاتھ قسمت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا، اس لیے وہ شہر مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلانے کے ارادے کے ساتھ لوٹا۔ آتے ہی اس نے آٹا خریدا گھر میں لے جا کر گوندھا اور اس کی گولیاں بنا کر نکل پڑا اس ندی کی جانب جو اس شہر کے ٹھیک باہر سے بہتی تھی۔ وہ اس ندی پر بنے پل پر کھڑے ہو کر آٹے کی گولیاں پانی میں پھینکنے لگا۔ اس کی آنکھیں پل کے نیچے بہتی ندی کی اور تھیں لیکن نظر بھوشیہ(مستقبل) میں کہیں دور۔ جیسے ہی اسکی نظر بھوشیہ سے لوٹی تو اسے محسوس ہوا کہ پل ندی سے اتنا اوپر ہے کہ اسے یہ دکھائی ہی نہیں دے رہا ہے کہ گولیاں مچھلیاں کھا بھی رہی ہیں یا نہیں۔ پہلے سے ہی اداس تھا وہ، اس بات سے اس کی اداسی اور بڑھ گئی اور وہ بچی ہوئی گولیوں کو لے کر اپنے کمرے کی سمت لوٹنے لگا۔ لوٹتے ہوئے اسے اپنے کمرے پر ہی مچھلیاں پالنے اور انہیں آٹے کی گولیاں کھلانے کا خیال آیا۔ وہ اس بات سے بھی خوش تھا که اسے کسی ندی یا تالاب تک جانے میں سمے برباد نہیں کرنا پڑےگا۔ وہ تیزی سے بڑھ چلا کیونکہ وہ مچھلیوں کو خریدنے میں بھی کچھ سمے بچا لینا چاہتا تھا۔
وہ سب سے پہلے اس شہر کے مشہور مچھلی بازار پہنچا۔ وہاں ہر طرف مچھلیاں ہی مچھلیاں تھی، زیادہ تر مری ہوئی۔ اور جو زندہ تھیں انہیں دیکھ کر کہیں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ انہیں پالا جانا چاہئیے۔ وہ بازار اسے مچھلیوں کا ٹارچر روم لگا۔ وہ ترنت(فوراً)بازار سے نکل گیا اور ڈھونڈے ڈھونڈتے ایک دوکان ‘متسیہ’ پر پہنچا جہاں پالنے لائق مچھلیاں اور ایکویریم بیچے جا رہےتھے۔ وہ اندر گھسا اور مچھلیوں کو دیکھنے لگا۔ جیسے ہی اس کی نظر گولڈفش پر پڑی وہ حیران ہو گیا اور اسے بنا پلکیں جھپکائے دیکھنے لگا۔ اور گولڈفش بھی چونکہ دوسری مچھلیوں کی طرح پلکوں کے بغیر پیدا ہوئی تھی اس لیے وہ لڑکے کو پہلے سے ہی بنا پلکیں جھپکائے دیکھ رہی تھی۔ لڑکے نے فیصلہ کیا کہ وہ گولڈفش ہی لےگا۔ دوکاندار نے اسے گولڈفش کے رکھ رکھاؤ کے بارے میں پوری جانکاری(معلومات) دی۔ لڑکے کو یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ گھر میں پالی جانے والی مچھلی کو آٹے کی گولیاں کھلانا ٹھیک نہیں ہے، بلکہ اسے خاص قسم کا چارہ کھلانا بہتر ہوتا ہے جو بازار میں ملتا ہے۔ اس نے بڑی مایوسی سے مچھلی کو دیکھا اور سوچا کہ پھر کیا فائدہ مچھلی لینے کا، ٹھیک تبھی دوکاندار نے کہا ‘اینڈ سر۔۔ برنگس یو گڈ لک’۔ گڈ لک۔۔۔ اور چاہئیے بھی کیا تھا گڈ لک کے سوا، اب وہ آٹے کی گولیاں کھلا کر آئے یا بازار سے خریدا گیا چارہ کھلا کر۔
جب وہ مچھلی کو چارہ کھلاتے ہوئے باؤل کے کھلے ہوئے منھ سے باؤل میں جھانکتا تو اسے لگتا ہے باؤل کے اندر کوئی چھوٹی ندی ہے اور اس کی آنکھیں ایک پل ہیں جس پر کھڑا ہو کر وہ ندی میں جھانک رہا ہے۔
گھر آ کر اس نے پڑھنے کی میز پر فش باؤل کو رکھ دیا۔ جب وہ مچھلی کو چارہ کھلاتے ہوئے باؤل کے کھلے ہوئے منھ سے باؤل میں جھانکتا تو اسے لگتا ہے باؤل کے اندر کوئی چھوٹی ندی ہے اور اس کی آنکھیں ایک پل ہیں جس پر کھڑا ہو کر وہ ندی میں جھانک رہا ہے۔ وہ جیسے ہی یہ سوچتا اسے شہر سے باہر بہتی ہوئی ندی پر بنا ہوا پل یادآتا اور وہ سوچتا کہ اس بار نہیں ہوا تو وہ اپنی ناکامی اپنی آستھاؤں، اپنے اندھ وشواسوں، اپنے ٹوٹکوں اور اس مچھلی سمیت اسی ندی میں کود جائےگا۔
وہی ندی جو اس شہر کے باہر بہتی تھی، ایک گاؤں کے پاس سے ہو کر گزرتی تھی۔ ایک گاؤں جس میں تھوڑا میرا گاؤں تھا، تھوڑا آپ کا گاؤں، اور تھوڑا تھوڑا سب کا گاؤں تھا۔ اسی گاؤں میں ایک مچھوارا رہتا تھا۔ مچھوارا اب صرف مچھوارا رہ گیا تھا۔ وہ نہ پتی بچا تھا، نہ بیٹا۔ اس کا ایک بیٹا تھا جو ندی میں ہی ڈوب کے مر گیا تھا، اس لیے اب اس میں باپ ہونے کا احساس بھی نہیں بچا تھا۔ وہ صرف اور صرف مچھوارا تھا اور کچھ نہیں۔ وہ دن بھر مچھلی مارتا اور شام کو پاس کے قصبے میں جا کر بیچ آتا تھا۔ جو پیسے ملتے تھے اس سے تھوڑی سی شراب پیتا اور تھوڑا کھانا کھاتا، پھر اپنی جھونپڑی میں آ کر سو جاتا تھا۔ کئی سالوں سے اس کا یہی معمول تھا۔ جس میں کبھی بھی کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔ اس کی جھونپڑی کے بغل میں ایک لوہار کی جھونپڑی تھی۔ صبح کے آٹھ بجتے ہی وہ کام پر لگ جاتا تھا۔ کھٹ کھٹ۔۔ جھن جھن۔۔۔ پھٹ پھٹ۔۔ کی آوازوں سے ہی مچھوارے کی نیند کھلتی تھی۔ وہ اٹھتا اور لوٹا لیکر ندی کی اور جانے کے لیے جب گھر سے نکلتا تو اسے لوہار کے گھر کے باہر ایک کھٹارا کار کا ڈھانچہ دکھائی دیتا، پتہ نہیں لوہار نے اسے توڑ کر اب تک دوسرے اوزاروں میں کیوں نہیں ڈھالا تھا، شاید اس کار کے ڈھانچے کو وہ سٹیٹس سمبل کی طرح رکھتا تھا۔ مچھوارا کار پر نظر ڈالتا تو اس کا من بجھ جاتا وہ اپنے آپ کو اس کار کے جیسا ہی پاتا جس پر سمے دھول کی طرح جمتا جا رہا ہے۔ وہ اداس ہوتا اور ندی کی طرف چل دیتا۔ وہ لوٹ کر لوٹا گھر رکھتا اور اپنا جال لےکر پھر سے ندی کنارے پہنچ جاتا۔ بھوک لگتی تو مچھلی بھونتا اور کھا لیتا۔ بھوک نہیں لگتی تو سیدھا رات کو کھانا کھاتا۔
جب بھی کوئی جنم لیتا یا مرتا تو وہ سوچنے لگتا کہ وہ کتنی بار جنما ہوگا اور کس کس روپ میں ؟ کبھی کبھی خود ہی اندازہ لگاتا کہ کم سےکم ایک آدھ کروڑ بار تو اس کا پنرجنم ہوا ہی ہوگا۔ پھر وہ سوچتا کہ پھر تو وہ ایک آدھ کروڑ بار مرا بھی ہوگا۔
اس نے دوسرے مچھواروں سے سن رکھا تھا کہ سمندر میں بہت بڑی بڑی مچھلیاں ہوتی ہیں اور وہ مگرمچھوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ اسے خیال آتا کہ ندی بھی تو سمندر میں جا کے ملتی ہے کسی دن کوئی ویسی ہی خطرناک مچھلی اس کے جال میں پھنس گئی اور پھر اس کا جال کاٹ کے اس کو کھا گئی تو کیا ہوگا؟ وہ یہ سوچتے ہی ڈر جاتا اور پھر سوچتا کہ اچھا ہی ہوگا مر جائے گا تو، زندہ رہنے میں بھی کون سا بہت مزا آ رہا ہے، کتنی بے مزہ ہے یہ زندگی، اور پھر زندگی بھر اس نے مچھلیاں ماری ہیں اگر اسے کوئی مچھلی مار دےگی تو اس کا پاپ بھی کٹ جائیگا۔ پھر پچھلے خیال کی دم پکڑکر دوسرا خیال آتا کہ جب آج تک کوئی ایسی مچھلی اس ندی میں نہیں آئی تو اب کیا آئے گی۔ ایک رنگین مچھلی تو دکھتی نہیں ہے اس میں۔ وہی مانگر وہی جھینگا۔ یہ سوچتے ہی اس کے من پر چھائی ہوئی بدمزگی بڑھ جاتی۔ اور پھر وہ سوچتا ہی چلا جاتا۔ وہی سونا، وہی جاگنا، وہی لوہار، وہی کھٹ پٹ، وہی ندی، وہی راستہ، وہی گاؤں، وہی تیوہار، تیوہاروں میں شہروں سے گاؤں لوٹنے والے وہی لوگ، وہی زندگی۔ ایک دن بھی ایسا نہیں جس میں اچانک کچھ بدلاؤ آیا ہو، اور اس کی بدمزگی ختم ہوئی ہو۔ بس بدمزگی۔۔بدمزگی ہی بدمزگی اسے چارو جانب نظر آتی۔ وہ یہ سوچ کر حیران ہوتا تھا کہ گاؤں کے باقی لوگوں میں یہ بدمزگی کیوں نہیں تھی۔ اگر اس کا پریوار ہوتا تو کیا وہ بھی باقی لوگوں جیسا خوش ہوتا؟ لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ پریوار ہونے پر وہ خوش ہوتا تو وہ اداس ہو جاتا۔
یہ بدمزگی برسوں سے اس کے من پر چھائی تھی۔ اس کے آس پاس برسوں سے کچھ بھی نیا نہیں ہو رہا تھا۔ اگر کچھ نیا ہوتا بھی تھا تو ٹھاکر صاحب کے گھر کی سفیدی جیسا کچھ جو اس کی بدمزگی کو اور بڑھاتا ہی تھا۔ ہاں گاؤں میں بچے پیدا ہوتے تھے لیکن اس نے پہلے بھی دیکھا تھا بچوں کو پیدا ہوتے ہوئے بڑھتے ہوئے۔ گاؤں میں لوگ مرتے بھی تھے لیکن کسی کے مرنے سے کیا بدمزگی میں کمی آ سکتی ہے۔ ویسے بھی اس نے تو اپنی بیوی بچے تک کو مرتے دیکھا تھا۔ جنم اور مرن کی یہ گھٹنائیں تک اس کی بدمزگی کو دور نہیں کر پاتی تھیں۔ البتہ بڑھا ضرور دیتی تھیں۔ جب بھی کوئی جنم لیتا یا مرتا تو وہ سوچنے لگتا کہ وہ کتنی بار جنما ہوگا اور کس کس روپ میں ؟ کبھی کبھی خود ہی اندازہ لگاتا کہ کم سےکم ایک آدھ کروڑ بار تو اس کا پنرجنم ہوا ہی ہوگا۔ پھر وہ سوچتا کہ پھر تو وہ ایک آدھ کروڑ بار مرا بھی ہوگا۔ اف۔۔ کیا چکر ہے۔۔ وہی پیدا ہونا وہی مر جانا۔۔ وہ اتنی بار جنم لینے اور موت کے بارے میں سوچ کر ہی اوب جاتا اور اپنی آتما پر ترس کھاتا کہ اسے کتنی بوریت کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی سوچتا کہ آتما کو اگر باتیں اور بوریت یاد رہتیں تو خود اسے بھی پچھلے جنم کی اور پچھلے کے پچھلے جنم کی باتیں یاد ہوتیں۔ اور جب اسے کوئی پچھلا جنم نہیں یاد آتا تو وہ یہ سوچ کر نچنت ہو جاتا کہ آتما کی یادداشت کمزور ہوتی ہے، اس کارن بار بار جنم لینے اور مرنے کے باوجود وہ اوبتی نہیں ہوگی۔ اسے ہر بار مرنا اور جنم لینا نیا ہی لگتا ہوگا۔
ہم جب ندی میں اترتے ہیں تو ندی سے نکلتے ہوئے تھوڑی سی ندی ہمارے ساتھ ہو لیتی ہے۔
ایک بار مچھوارا جب بہت اوب گیا تو اس نے مرنے کی ٹھان لی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس نے پہلی بار مرنے کی ٹھانی تھی۔ اس سے پہلے بھی ایک بار بہت اوب کر وہ مرنے کی کوشش کر چکا تھا۔ مرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے موکش(نجات) کا بھی راستہ نکال لیا تھا۔ اس نے سوچا تھا کی اگر وہ ندی میں کود کے جان دے دے تو اس کی لاش کو مچھلیاں کھا جائیں گی اور اس طرح مچھلیوں کو مارنے کا اس کا پاپ کٹ جائےگا۔ وہ ایک بڑے سے پل سے ندی کے ٹھیک بیچ میں کودا تھا اس کا اندازہ تھا کہ ندی کے ٹھیک بیچ میں کودنے سے وہ چاہ کر بھی ندی پار نہیں کر پائے گا۔ لیکن ندی میں ڈوبتے ہی جب اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تو وہ ندی پار کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ آدھے رستے میں جب وہ تھک کے چور ہوکر پھر سے ڈوبنے لگا تو اس نے مدد کے لیے آواز لگائی۔ آواز نے جلد ہی ایک مددگار ڈھونڈ لیا جس نے جلد ہی مچھوارے کو بچا لیا۔ ہم جب ندی میں اترتے ہیں تو ندی سے نکلتے ہوئے تھوڑی سی ندی ہمارے ساتھ ہو لیتی ہے۔ مچھوارا پانی میں بھیگا ہوا گھر لوٹا۔ لوہار اسے روز دیکھتا تھا لیکن دن بھر مچھلی مارنے کے باوجود مچھوارا کبھی بھیگا ہوا گھر نہیں لوٹا تھا بس کچھ چھینٹے اسکے کپڑوں پر پڑے ہوتے تھے۔ لوہار نے جب بھیگے ہونے کے وجہ جاننی چاہی تو مچھوارے نے سچ سچ بتا دیا که وہ زندگی سے اوب کر آتما ہتیا کرنے گیا تھا۔ لوہار نے اسے صلاح دی کی اسے مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلانی چاہیئں اس سے اس کی قسمت بدل سکتی ہے۔ لوہار نے اپنے دروازے کے باہر پڑے کار کے ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مچھوارے کو بتایا کہ وہ بھی ہر چیز سے اوب گیا تھا لیکن ایک پنڈت کی صلاح پر اس نے مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلائیں اور اسکی قسمت ہی بدل گئی۔ ساتھ ہی اس نے مچھوارے سے پوچھا کہ ہے کیا گاؤں میں کوئی دوسرا گھربھی ہے جس کے دروازے پر کار ہو؟ ڈھانچہ ہی صحیح۔ مچھوارے کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ لیکن اپنی خاموشی کے پس پشت وہ سوچ رہا تھا کہ مچھوارا اگر مچھلی سے دوستی کر لے گا تو مرے گا کیا، بیچےگا کیا، کمائے گا کیا اور کھائے گا کیا؟
آتم ہتیا کی پچھلی ناکام کوشش کو مچھوارا بھولا نہیں تھا اور اس بار اس نے مرنے کا مضبوط ارادہ کیا ہوا تھا۔ اس کا ارادہ ایک پتھر میں بدل چکا تھا۔ اس نے طے کیا تھا کہ اس بار پانی میں کودنے سے پہلے وہ اپنے آپ سے ایک پتھر باندھ لے گا۔ اس سے اگر پانی میں گھٹن بھی ہونے لگےگی تو وہ اوپر نہیں آ پائے گا۔ وہ پل پر پہنچا اس نے آس پاس گزرتے ہوئے لوگوں کو گزر جانے دیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا آتا اس نے رسی کا ایک سرا پتھر میں باندھ دیا اور دوسرا سرا خود سے باندھ لیا۔ اس سمے اس کے من میں ایک بات آئی کہ رسی اگر کسی کیبل جیسی نکلی اور جیون کابہاو اس کی طرف سے پتھر میں ہو گیا تو؟ زندہ ہو جانے کے بعد اسے ڈوبتا ہوا دیکھ کر کیا پتھر اسے بچائے گا؟ یہ سوچ کر کہ یہ مرتے وقت آنے والے بیہودہ خیالوں میں سے ایک خیال ہے اس نے جھٹ سے اس خیال کو جھٹک دیا،پتھر کو ندی کی طرف لٹکا یا اور پھر کودنے سے پہلے ایک لمبی سی سانس لی، جیون کے آخری گھونٹ کو پیا اور اسکے بعد ندی میں کود گیا۔ پہلے ندی میں پتھر گرا اور تیزی سے نیچے چلا گیا۔ پھر مچھوارا گرا اور تل کی طرف جانے لگا۔ مچھوارا جیسے جیسے نیچے کی اور جا رہا تھا اسے ندی کا بہاؤ کم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ بہاؤ کے ساتھ ہی اسکی آخری لی ہوئی سانس بھی کم ہوتی جا رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کی ابھی یہ بہاؤ ایک دم رک جائیگا اور چارو ںطرف صرف گھٹن ہوگی کہ ٹھیک تبھی اس کے سامنے ایک سون مچھلی آ گئی۔ سون مچھلی یعنی گولڈ فش۔ اچانک مچھوارے کے اندر رومانچ بھر گیا اس کے اندر کی بوریت برسوں کی بدمزگی جیسے پانی میں گھلنے لگی۔ ندی کے اننت پانی میں۔ اور وہ اپنے آپ کو پتھر سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
گیارہ ستمبر کو ہوائی جھکڑوں اورطوفانی موسم کے باعث دنیا کی سب سے بڑی کرینوں میں سے ایک سرخ اور سفید رنگ کی لی بیئر تعمیراتی کرین ٹوٹ کر مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مکہ میں قائم بیت اللہ شریف کی عظیم الشان مسجد میں جاگری۔ اس حادثے کے باعث 107 سات افراد ہلاک ہوئے جب کہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ متاثرہ افراد کی اکثریت ان زائرین پر مشتمل تھی جو نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں تباہی کے الم ناک مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جن میں کرین کے اچانک گرنے کے بعد خوف زدہ عبادت گزار پناہ کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگتے نظر آرہے ہیں۔ حادثے کے بعد سنگ مرمر کے فرش پر خون پھیلا ہوا تھا اور قالینوں پر خون کے دھبے نظر آرہے تھے۔    تفصیل سے پڑھئے
جس طرح انسان اپنی کسی خصوصیت کے سبب الگ شناخت بنا لیتے ہیں اسی طرح دنیا بھر میں ایسی کئی بستیاں، قصبے اور دیہات ہیں جو کسی انوکھی وجہ کے سبب اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ تاریخ میں کئی ایسے شہر ہیں جو اپنے کسی خاص وصف کی بنا پر آج بھی یاد رکھے جاتے ہیں، یونان اور روم میں فلسفے ، فن اور شاعری کی بنیاد پر کئی شہروں کے نام اسی فہرست میں آتے ہیں تو اگر مشرق کا رُخ کیا جائے تو کوفہ و بغداد، نیشا پور، بخارہ سمیت کئی ایک شہروں کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ لیکن ان تاریخی حوالوں میں زیادہ تر نام ایسے ہیں جو علم یا سیاست کے مراکز رہنے کی وجہ سے یادگار قرار پائے۔ جب کہ ہم جن بستیوں کی بات کررہے ہیں، ان کے منفرد ہونے کے اسباب حیرت اور عجائب سے عبارت ہیں، ان میں سے کئی بستیاں خود انسانوں نے کسی خاص مقصد کے تحت اپنے ہم پیشہ یا ہم ذوق افراد کے لیے بسائی ہیں تو کئی ایسی بھی ہیں جنھیں عجیب بنایا نہیں گیا بلکہ وہ خود ہی انوکھی ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
فیصل آبادی کبھی آپ کو پْرانی یا عام جگت نہیں لگائیں گے بلکہ آپ کو ایسی ’’جدید‘‘ اور شاندار جگت لگائیں گے کہ آپ حیران و پریشان کھڑے اس ’’فنکار‘‘ کا منہ تکتے رہ جائیں گے۔فیصل آباد کے رہنے والے لوگ اپنے خاص لہجے اور ہنسی مذاق کی بنا پر پاکستان ہی نہیں بلکہ دْنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں اور جگت بازی کا فن ان کے حصے میں ’’تھوک کے حساب‘‘ سے آیا ہے۔لیکن اس شہر میں جگت بازی کا رواج کب، کیوں اور کیسے پروان چڑھا؟ اس بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سٹیج ڈراموں کے معروف فنکار غفور کوڈو بتاتے ہیں کہ فیصل آباد میں جگت بازی کی اصل ابتداء مائی دی جھگی (موجودہ ہجویری ٹاؤن) سے تعلق رکھنے والے چند گھرانوں نے کی تھی جس کے بعد آہستہ آہستہ یہ فن ’’وباء ‘‘کی طرح شہر میں پھیل کر فیصل آبادیوں کے مزاج کا حصہ بن گیاجس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی بجلی جانے پر آٹھ بازاروں کے دکاندار اور ملازم اکھٹے ہو کر جگت بازی کے مقابلے کرتے ہیں۔
1948ء کو گھنٹہ گھر کے آٹھ بازاروں میں سے ایک جھنگ بازار میں پیدا ہونے والے سلیم شاہد راحت فتح علی خان کی پہلی البم پردیسیا کے شاعر ہیں اور شہر کی تاریخ و ثقافت کے بارے میں وسیع علم رکھتے ہیں۔ اْن کے مطابق اگر یہ کہا جائے کہ فیصل آباد وہ زمین ہے جس پر جگتیں اْگتی ہیں تو شاید کچھ غلط نہ ہو گا۔مجھے یاد ہے جب ہم کم عمر تھے تو جھنگ اور چنیوٹ بازار سمیت گھنٹہ گھر چوک میں شام کے وقت محفلوں کا انعقاد ہوا کرتا تھا جن میں جگت بازی کے مقابلے ہوتے اور جیتنے والوں کو خوب داد دی جاتی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی جوانی کے دور میں منشی محلہ، مائی دی جھگی، جھنگ بازار اور چنیوٹ بازار کے جگت بازوں کی ٹیمیں بنی ہوئی تھیں اور اْس وقت کے معروف جگت باز سیف خان، طارق ٹْنڈا اور خالا نائی منشی محلہ کی ٹیم میں شامل تھے جن کی حاضر دماغی کا کوئی جواب نہیں تھا۔
سلیم کے بقول نصرت فتح علی خان کے بہنوئی صغیر بھولا جھنگ بازار کی ٹیم کا حصہ تھے جو اپنے دھیان جاتے ہوئے لوگوں کو راستے میں روک کر جگتیں لگایا کرتے تھے۔بعد میں کمرشل تھیٹر کا دور شروع ہوا تو چنیوٹ بازار کی مشہور دْکان جہانگیر پلاؤ والوں کا بیٹا طارق جاوید جو خود بھی اسٹیج اداکار اور ڈائریکٹر تھا طارق ٹیڈی، نسیم وکی، سخاوت ناز اور سردار کمال کو لاہور لے گیا جس کے بعد وہ سٹار بن گئے اور فیصل آباد میں جگت بازی کو مزید تقویت ملی۔ ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی کے معروف اناؤنسر رانا اعجاز جگت بازی کو اچھی بات کہنے کا فن قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ نہ صرف اچھی بات کہنا بلکہ اس سے لطف اندوز ہونا بھی فیصل آبادیوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
جگت بازی کی ابتدا کے حوالے سے اْن کا بھی یہی ماننا ہے کہ فیصل آباد کے لیجنڈ نصرت فتح علی خان کی جوانی کے دور میں جھنگ بازار میں قوالی کے علاوہ جگت بازی کی محفلیں بھی جمتی تھیں اور اچھی جگتیں کرنے والے لگانے والوں کو خوب داد و تحسین حاصل ہوتی۔بعد میں جب کمرشل اسٹیج کا دور آیا تو فیصل آباد ہی کے فنکار اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان بھر میں پہچانے گئے۔ محبوب سبحانی فیصل آباد کے علاقے نشاط آباد سے تعلق رکھنے والے ایک بس ڈرائیور ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے بیشتر شہر گھوم چکے ہیں لیکن فیصل آباد کے رہائشی اپنے مزاج کی لطافت اور حاضر جوابی کے لحاظ سے سب سے آگے ہیں۔ہمارے باپ دادا ہمیں بتایا کرتے تھے کہ فن اور حاضر دماغی فیصل آباد کے پانی میں شامل ہے اور اس شہر میں جگت بازی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود یہ شہر۔ یہی وجہ ہے کہ بینک کے باہر قطار میں کھڑے یا بس سٹینڈ پر گاڑی کا انتظار کرنے والے لوگ اگر فیصل آباد کے رہنے والے ہیں تو یہ کبھی آپ کو بور نہیں ہونے دیتے بلکہ بات بات پر اپنی جگتوں اور چٹکلوں سے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھتے ہیں۔
ڈی ٹائپ کالونی کے رہائشی رمیز اختر کا کہنا ہے کہ بالکل عام سی بات کو جگت میں بدل دینا فیصل آبادیوں کی گفتگو کا حسن ہے اور آج بھی فیصل آباد کے بہت سے علاقوں مثلاً ڈی ٹائپ کالونی، خالد آباد، غلام محمد آباد، رضا آباد اور منصور آباد وغیرہ میں طنز و مزاح اور جگت بازی کی محفلیں جمتی ہیں۔اْن کا ماننا ہے کہ ان محفلوں میں ہر عمر کے لوگ بیٹھتے ہیں اور بوڑھے افراد بچوں اور نوجوانوں کی جگتوں کا بْرا ماننے کی بجائے ان کو خوب داد دیتے ہیں۔

اندرون لاہور تنگ وتاریک گلی کو چوں کے نیچے انسانوں کو کچھ نہیں کہتے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے ہیں۔ یہ جن بھوت عام طور پر پرانے مکان کی کسی پچھلی اندھیری کوٹھڑی میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ مکان کی یہ کوٹھڑی اکثر بند رکھی جاتی ہے۔ سال چھ مہینے میں اگر ایک بار اس کی صفائی وغیرہ کروائی جاتی ہے تو سب سے پہلے گھر کا کوئی بوڑھا بزرگ باوضو ہو کر کلمہ شریف کا ورد کرتا ہوا کوٹھڑی میں داخل ہوتا ہے۔ اندرون شہر لاہور کے پرانے مکانوں کی پچھلی کوٹھڑیوں میں ایسے آلے اور طاق بھی پائے جاتے ہیں جہاں عورتیں رات کو چراغ روشن کرتی ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کوئی نیک دل بزرگ کی روح رہتی ہے۔ پھر اس بزرگ کے بارے میں یہ بھی سنا جاتا ہے کہ کل فلاں شخص یا فلاں عورت نے سفید لباس والے ایک بزرگ کو کوٹھڑی میں سے نکلتے دیکھا ہے۔ جو دو قدم چل کر غائب ہو گئے تھے۔ جن بھوتوں کے بارے میں تو عجیب وغریب محیر العقول باتیں مشہور ہو جاتی ہیں یا کردی جاتی ہیں۔ ہماری رشتے کی ایک پھوپھی جان اندرون لاہور لوہاری میں رہتی ہیں۔ ان کا تین منزلہ حویلی نما مکان دو ڈھائی سو سال پرانا ہے۔ ان کے مکان کا زینہ نیچے سے شروع ہو کر مکان کی چھت کے دروازے تک جاتا ہے۔ زینے میں ہر وقت اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ مکان کی دوسری منزل کے دروازے کے پہلو میں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں جنات کی ایک فیملی رہتی ہے اس کوٹھڑی میں ان کے ہاں بیاہ شادیاں ہوتی ہیں۔ ان کے رشتے دار آتے جاتے ہیں۔ میری پھوپھی کی بڑی بیٹی کا کہنا ہے کہ ایک دن وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ اس کوٹھڑی کا دروازہ کھلا تھا۔ اس نے دیکھا کہ کوٹھڑی کے اندر بڑے پلنگ پر ایک جن دولہا اور اس کی دلہن بیٹھے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہے ہیں۔ گھر والے کہتے ہیں کہ انہوں نے اکثر راتوں کو ایسی آوازیں سنی ہیں کہ جیسے کوئی تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔ کبھی کبھی اس کوٹھڑی میں سے گھنگھروﺅں کی آواز بھی آجاتی ہے۔ گھر والوں نے اس کوٹھڑی کا نام شیش محل رکھا ہوا ہے۔ کوٹھڑی میں ایک بلب ساری رات اور سارا دن جلتا رہتا ہے۔ جمعرات کو کوٹھڑی میں چراغ روشن کئے جاتے ہیں اور اگر بتیاں سلگائی جاتی ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ یہ جنات مسلمان ہیں میری سب سے بڑی ہمشیرہ کا مکان مستی گیٹ میں تھا۔ ان کے مکان کے پاس ہی ایک کٹڑی تھی جہاں بی بی دائی رہا کرتی تھی۔ بی بی دائی بڑی عبادت گزار پرہیز گار خاتون تھی۔ بچے کی پیدائش کے وقت لوگ بی بی دائی ہی کو بلواتے تھے۔ کہتے ہیں ایک بار بی بی دائی کے ساتھ ایک عجیب وغریب واقعہ پیش آیا۔ سردیوں کی رات تھی۔ سخت سردی پڑ رہی تھی۔ شہر کی گلیاں سنسان پڑی تھیں کہ کسی نے بی بی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ بی بی دائی کا بڑا بیٹا نیچے آیا۔ دیکھا کہ دو بزرگ کھڑے ہیں ایک بزرگ نے کہا ”ہماری بہو کے بچہ ہونے والا ہے ہم بہن بی بی دائی کو لینے آئے ہیں“ بی بی دائی کو پتہ چلا تو اس نے پوچھا۔ ”کہاں جانا ہو گا؟“ بزرگ نے کہا۔ ”قریب ہی جانا ہے بہن جی! ہم تانگہ ساتھ لائے ہیں۔ ہم آپ کو واپس بھی چھوڑ جائیں گے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی ہم آپ کو منہ مانگی فیس دینگے۔ بی بی دائی راضی ہو گئی کٹڑی کے باہر تانگہ کھڑا تھا۔ بی بی دائی کا بیان ہے کہ تانگے کا کوچوان اگلی سیٹ پر خاموش بیٹھا تھا۔ دونوں بزرگ بھی تانگے کی اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے اور تانگہ مستی دروازے سے نکل کر دریائے راوی کی طرف ہو گیا۔ بی بی دائی نے سردی سے بچنے کے لئے گرم اونی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ دونوں بزرگ خاموش تھے۔ بی بی دائی کوئی بات کرتی تو وہ بھی جواب دے دیتے۔ تانگہ جب سڑک سے اتر کر دریا کے پرانے ذخیرے کی طرف مڑا تو بی بی دائی نے پوچھا۔ بھائی جان آپ کا مکان ابھی کتنی دور ہے؟ ایک بزرگ نے جواب دیا۔ ”بس قریب ہی ہے بہن جی“ بی بی دائی کا کہنا ہے کہ جب تانگہ ذخیرے کے درختوں سے نکل کر دریا کے کنارے کنارے چل پڑا تو میں گھبرا گئی آدھی رات کا وقت، اجاڑ سنسان جگہ، اجنبی لوگ، بی بی دائی کو خوف محسوس ہونے لگا مگر ہمت کر کے اس نے ایک بار پھر پوچھ لیا کہ آپ کا مکان کس جگہ پر ہے، بزرگ نے کہا۔ ”گھبرائیں نہیںبہن جی ! مکان قریب ہی ہے“۔ آخر دریا کے کنارے درختوں کے نیچے ایک جھونپڑی کے پاس آکر تانگہ رک گیا۔ جھونپڑی کے اندر لالٹین روشن تھی۔ ایک بزرگ خاتون جھونپڑی کے باہر کھڑی انتظار کر رہی تھی۔ بی بی دائی نے خاتون کو دیکھا تو اسے کچھ حوصلہ ہوا۔ دونوں بزرگ جھونپڑی کے باہر ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے۔ بزرگ خاتون بی بی دائی کو جھونپڑی میں لے گئی بی بی دائی کا کہنا ہے کہ اندر ایک خوبصورت جوان لڑکی پلنگ پر لیٹی تھی۔ بچے کی پیدائش قریب تھی ،بچہ پیدا ہو گیا۔ بی بی دائی کہتی ہے کہ وہ لوگ مجھے عجیب وغریب لگ رہے تھے۔ زچہ اور اس کی والدہ بزرگ خاتون کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی کہ جس کو دیکھ کر میرے بدن میں خوف کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔ زچہ کے ہاں بیٹا ہوا تھا۔ پیدا ہونے والے بچے کی آنکھوں میں بھی جب میں نے وہی مافوق الفطرت چمک دیکھی تو میں جلدی سے جھونپڑی سے باہر آگئی۔ باہر مجھے واپس چھوڑ نے کے لئے تانگہ کھڑا تھا۔ میں جلدی سے تانگے میں بیٹھ گئی، بزرگ آدمی نے کہا۔ ”بہن جی! آپ کی فیس دینے کے لئے ہمارے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے۔ اس پوٹلی میں جو کچھ ہے اسے قبول کر لیں۔“ بزرگ نے پوٹلی میرے پاس سیٹ پر رکھ دی۔ تانگہ چل پڑا۔ اپنے مکان پر پہنچی تو خدا کا شکر ادا کیا۔ کوچوان مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ میرے بیٹے نے ناراض ہو کر کہا۔ ”اماں اتنی سردی اور رات کے وقت تمہیں نہیں جانا چاہئے تھا، یہ کون لوگ تھے“؟ بی بی دائی نے کہا۔ ”کوئی غریب غرباخانہ بدوش تھے میری فیس دینے کے لئے بھی ان کے پاس پیسے نہیں تھے، یہ پوٹلی دے دی ہے کہ اسے قبول کرو“ اوپر کمرے میں آکر بیٹے نے پوٹلی کھول کر لالٹین کی روشنی میں دیکھا کہ پوٹلی میں بجھے ہوئے کوئلے ہی کوئلے تھے۔ بیٹے نے غصے میں کوئلے فرش پر پھینک دیئے اور ماں کو سختی سے منع کیا کہ آئندہ کبھی رات کے وقت کسی کے ساتھ نہ جایا کرو۔ بی بی دائی کو بھی بجھے ہوئے کوئلے دیکھ کر بڑا غصہ آیا مگر اب وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ دن چڑھا تو ماں بیٹے نے کمرے کے فرش کی طرف دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ فرش پر جہاں بیٹے نے رات کو بجھے ہوئے کوئلے پھینکے تھے وہاں اب سونے کی ڈلیاں بکھری ہوئی تھیں۔ دونوں دنگ ہو گئے اب معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو رات کو بی بی دائی کو لے گئے تھے جنات تھے۔ بیٹے نے سونے کی ساری ڈلیاں جلدی جلدی سمیٹ کر صندوق میں کپڑوں کے نیچے رکھ دیں۔ دونوں ماں بیٹا تانگہ کرا کر دریا کنارے اس جگہ گئے جہاں رات کو جھونپڑی کے اندر ایک عورت کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تھی مگر اب وہاں کسی جھونپڑی کا نام ونشان تک نہ تھا۔
نوٹ:-اس پوسٹ سے منسلک تصویر سن 1920 کے لاہور کا نظارہ ہے۔

1911ءمیں حکیم اجمل خان یورپ گئے۔ اس سفر کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یورپی ممالک میں طبی ترقیوں کا مطالعہ کر کے اس کی روشنی میں ہندوستان میں طب یونانی کے فروغ کے لئے کام کیا جائے۔ لندن پہنچ کر وہ چیئرنگ کراس ہسپتال گئے۔ ڈاکٹر سٹینلے بائڈ، لندن کے چیئرنگ کراس ہسپتال کے سینئر سرجن تھے۔ تشخیص مرض اور فن سرجری دونوں میں ان کا اپنا مقام تھا۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری وہاں ہاﺅس سرجن تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے حکیم اجمل خاں کا ڈاکٹر بائڈ سے تعارف کرایا۔ ڈاکٹر بائڈ کی دعوت پر حکیم صاحب ان کی کلینیکل سرجری کی کلاس میں بھی گئے۔ یہ کلاس طلباءکی عملی تعلیم کے لئے تھی اور ہفتہ میں دو بار ہسپتال کے کسی نہ کسی وارڈ میں ہوا کرتی تھی۔ جب حکیم صاحب کلاس میں پہنچے تو ڈاکٹر بائڈ ایک مریض کے مرض کے بارے میں طلباءکو سمجھا رہے تھے۔ ان کی رائے میں مرض کی وجہ پتہ پرورم تھا۔ انہوں نے حکیم صاحب سے کہا کہ وہ بھی مریض کا معائنہ کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ معائنے کے بعد حکیم صاحب نے کہا کہ مریض کی آنتوں کے ابتدائی حصے پر پرانا زخم ہے، جس کے باعث داد کی تکلیف، یرقان اور حرارت ہے۔ ڈاکٹر بائڈ نے ان سے کہا کہ کل اس مریض کا آپریشن ہو گا، آپ ضرور آیئے۔ پھر ہنس کر بولے: یہ طب یونانی اور انگریزی طب کا امتحان ہے۔ دوسرے روز مریض کا پیٹ چاک کرنے پر حکیم صاحب کی تشخیص صحیح نکلی۔ ڈاکٹر بائڈ نے نہایت خوش دلی سے حکیم صاحب کو ان کی صحیح تشخیص پر نہ صرف مبارک باد دی، بلکہ انہیں اور ڈاکٹر مختار انصاری کو اپنے گھر ڈنر پر مدعو کیا۔ وہاں ڈاکٹر بائڈ نے اپنی بیوی سے، جو خود بھی سینئر سرجن تھیں، حکیم اجمل خاں کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں ڈاکٹر انصاری کے ہم وطن، جنہوں نے تشخیص کے مقابلے میں مجھے شکست دی ہے!
پیرس میں وہ ایک ڈاکٹر سے ملے۔ تعارف ہونے پر اس نے بڑی حقارت سے کہا کہ جس طب میں تشخیص کا سب سے بڑا ذریعہ صرف نبض ہو وہ کیا طب ہو سکتی ہے۔ پھر زور دے کر کہا کہ اگر آپ کو اپنی تشخیص پر اتنا ہی اعتماد ہے، تو ذرا میرے ایک مریض کو دیکھئے، چنانچہ دوسرے روز ایک مریضہ حکیم صاحب کے ہوٹل میں لائی گئی۔ اسے ایک سال سے یہ شکایت تھی کہ اس کی ٹانگیں سکڑ گئی تھیں اور پیٹ میں درد ہوا کرتا تھا۔ ایکسرے اور دوسرے ذرائع تشخیص مرض کا پتہ لگانے میں ناکام ہو چکے تھے۔کسی ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ مرض کیا ہے۔ تشخیص مرض کے لئے حکیم صاحب نے اس خاتون سے بہت سے سوال کئے، تو معلوم ہوا کہ و ہ ٹینس بہت کھیلا کرتی تھی اور اسے گھڑ سواری کا بھی بہت شوق تھا۔ حکیم صاحب نے سوچ بچار کے بعد اسے ایک پڑیا میں دوائی دی اور کہا کہ وہ اسے 1/4 رتی روزانہ مکھن میں ملا کر کھائے۔ فرانسیسی خاتون اس ذرا سی پڑیا اور دوائی کی مقدار پر بے حد حیران ہوئی، لیکن پندرہ روز بعد وہ اپنے پاﺅں پر چل کر اُن کے پاس آئی، حالانکہ آٹھ مہینے سے وہ اس قابل نہیں تھی۔
حکیم صاحب نے بتایا کہ یہ کوئی معجزہ نہیں تھا۔ میرے ذہن میں یہ آیا کہ کیونکہ مریضہ ٹینس کھیلتی اور گھڑ سواری کرتی تھی، اس لئے ممکن ہے کہ اس کی کسی آنت میں کسی جھٹکے کی وجہ سے گرہ پڑ گئی ہو۔ ایسے مریض میں پہلے بھی دیکھ چکا تھا، اس لئے مَیں نے اسے ایسی دوائی دی جو آنتوں میں کھجلی پیدا کرے۔ وہ دوا بہترین ثابت ہوئی۔ آنت کی گرہ کھل گئی اور متعلقہ اعضا اپنا کام کرنے لگے۔ اس علاج سے وہ فرانسیسی ڈاکٹر اتنا متاثر ہوا کہ حکیم صاحب سے گھنٹوں طب یونانی کے بارے میں گفتگو کرتا رہا۔ اس نے ان کے اعزاز میں ایک ڈنر بھی دیا، جس میں پیرس کے بڑے بڑے ڈاکٹر شریک ہوئے۔ یہ تھے حکیم اجمل خاں۔ طب یونانی میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے۔ آج بھی پاکستان میں ہر جگہ ”دوا خانہ حکیم اجمل خاں“ احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
حکیم صاحب کی شہرت ایسی تھی کہ سمر قند و بخارا تک کے لوگ علاج کے لئے آتے اور شفا یاب ہو کر جاتے تھے۔ غریب امیر سب کو یکساں توجہ سے دیکھتے اور بغیر کسی فیس کے۔حکیم صاحب کے مزاج میں کچھ شوخی بھی تھی۔ ایک بار ایک شخص دمہ سے ہانپتا کانپتا آیا۔ جیب سے پڑیا نکالی اور بولا:حکیم صاحب، میرے ساتھ بہت ہو گئی۔ آج میں سنکھیا کھاﺅں گا اور اس در پہ جان دے دوں گا۔ شوخی سے بولے: سنکھیا کھا کے کیوں مرتا ہے۔ مرنا ہی ہے تو دوا کھا کے مر.... پھر اس کا علاج کیا اور اس کا دمہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔
اڑسٹھ کینال اور ستر کمروں پر مشتمل اس ہوٹل کی دو بار پہلے بھی بولی لگائی جا چکی ہے-
پاکستان کے شہر لاہور میں واقع سوا سو سال پرانے فلیٹیز ہوٹل کو سوا ارب روپے کے عوض نیلام کر دیا گیا ہے۔
اس ہوٹل کی نیلامی اسلام آباد میں ہوئی تھی جس میں فور بی مارکیٹنگ نامی کمپنی نے سب سے زیادہ ایک ارب اکیس کروڑ دس لاکھ روپے کی بولی دیکر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس پیشکش کو پہلے نجکاری بورڈ اور بعدازاں کابینہ کی نجکاری کمیٹی میں حتمی منظوری کے لیے بھجوایا جائےگا۔
لاہور کی تاریخ اور اس کے تہذیبی ورثے سے پیار کرنے والے نیلامی کی اس خبر سے کافی رنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نجکاری کے نام پر ہوٹل کی درو دیوار اور اراضی ہی نہیں بلکہ وہ روایات اور تاریخی ورثہ بھی نیلامی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔
کئی یادیں اور روایات فلیٹیز ہوٹل سے وابستہ ہیں۔اس ہوٹل کاایک کمرہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے تاریخی قیام سے منسوب بتایا جاتا ہے جبکہ دوسرا کمرہ ہالی ووڈ کی اداکارہ ایوا گارڈنر کی لاہور آمد کی اور اس ہوٹل میں قیام کی یادوں کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
کمرہ نمبر اٹھارہ کے باہر لگی ایک تختی کے مطابق انیس سو انتیس میں محمد علی جناح علم دین نامی ایک شخص کا مقدمہ لڑنے کے لیے لاہور آئے تو اسی کمرہ میں آٹھ روز تک قیام پذیر رہے۔
علم دین نے ایک ہندو مصنف راج پال کو قتل کیا تھا اور اس کا موقف تھا کہ راج پال کی تصنیف گستاخی رسالت پر مبنی تھی جس کی بناء پر اس نے راج پال کو قتل کر دیا۔
تاہم عدالت نے علم دین کو پھانسی کی سزا دی۔ تاہم اس وقت سے اب پاکستان بننے والے علاقوں کے اکثر مسلمان علم الدین کو غازی علم دین شہید کے نام اور عرفیتوں سے یاد کرتے ہیں۔

ایواگارڈنر
ایواگارڈنر ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ تھیں اور انیس سو پچپن میں فلم ’بھوانی جنکشن‘ کی تیاری کے سلسلہ میں دو تین ماہ تک اس ہوٹل کے کمرہ نمبر پچپن میں مقیم رہیں۔
ایک سابق بیورو کریٹ عابد علی نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ ایواگارڈنر کے زیر استعمال چار تکیہ ہوٹل ملازمین نےبھاری قیمت میں فروخت کر دیے تھے اور ایک تکیہ ان کے دوست نے اس زمانے کے لحاظ سے خطیر رقم پانچ ہزار روپے میں خریدا تھا۔
ان کے علاوہ جواہر لعل نہرو، ان کے والد موتی لعل نہرو، ذوالفقار علی بھٹوسمیت مختلف اہم شخصیات اس ہوٹل میں قیام کرتی رہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس اے آر کارنیلیس نے لاہور میں اپنا مکان نہیں بنایا اور اپنی اہلیہ کے ہمراہ اس ہوٹل کے کمرہ نمبر ایک اور دو میں اڑتیس سال تک قیام پذیر رہے اور یہیں انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔
اس ہوٹل سے ایوب خان کے خلاف تحریک نے جنم لیا اور ذوالفقار علی بھٹو نے اسی ہوٹل میں قیام کے دوران پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔
پاکستان کے قیام کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال میں جہاں اور بہت سی یادوں کو محفوظ رکھنے بلکہ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی وہاں اس ہوٹل کی تاریخ کو مستند بنانے والے حوالے محفوظ نہیں رہ سکے۔ تاہم ہوٹل میں ایک ایسا دروازہ موجود ہے جو انگلینڈ سے بن کر آیا تھا اور اس پر اٹھارہ سو اسی کنندہ ہے۔ہوٹل انتظامیہ کاخیال ہے کہ اسی سال تعمیر کیا گیا تھا۔
اس کی

قائد اعظم کے نام سے منسوب
اراضی سندر داس اور مادام کیلی کے ورثا نے رائے بہادر نرسنگھ داس کو فروخت کی۔انہوں نے آسو سندھو کے نام سے ہوٹل قائم کیا پھر ایک اطالوی شہری جے ایچ فلیٹی نے اسے خرید کر اسں کی مرمت یا تعمیر نو کرائی اور اس کا نام فلیٹیز رکھا گیا۔
شروع میں یہ صرف ’گورا صاحب‘ یعنی صرف سفید فاموں کے لیے مختص رہا لیکن انیس سو چھبیس میں عام ہندوستانیوں کے لیے بھی کھول دیا گیا لیکن مخصوص ملبوس کی شرط عائد کر دی گئی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ ہوٹل اوبرائے خاندان نے خرید لیا۔ قیام پاکستان کے وقت اوبرائے خاندان کی ملکیت تھا اس وقت پورے ہندوستان میں اوبرائے ہوٹلز کے سلسلہ کے بائیس ہوٹل تھے اور اس سمیت چار ہوٹل پاکستان میں آئے۔
رائے بہادر موہن سنگھ اوبرائے اس کے مالک تھے انیس سو پیسنٹھ کی جنگ میں وہ اسے چھوڑ کر بھارت چلے گئے۔ حکومت پاکستان نے اسے دشمن کی جائیداد قرار دے کر دشمن پراپرٹی بورڈ کے حوالے کر دیا۔
انیس سو ستر کے اوائل میں اسے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے ادارے پاکستان ٹوورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن یعنی محکمہ سیاحت کے حوالے کر دیاگیا۔اب یہاں پر مختلف دفاتر بھی قائم ہیں اور دہلی جانے والی دوستی بس بھی یہیں سے روانہ ہوتی ہے۔
اس ہوٹل میں ساگوان کی لکڑی کے خوبصورت فرنیچر سے مزین بنکوئٹ ہال بھی ہیں جن میں مختلف الونع تقریبات ہوتی ہیں اس کے علاوہ ایک ریستوران ہے جہاں مختلف اوقات میں مختلف النوع لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔
موجودہ نیلامی سے قبل بھی اڑسٹھ کینال اور ستر کمروں پر مشتمل اس ہوٹل کی دو بار نیلامی کی کوشش کی جا چکی ہے۔ ایک بار تیس کروڑ روپے کی بولی لگی تو نجکاری کمیشن نے اسے کم قرار دیکر مسترد کر دیا جبکہ دوسری بار انچاس کروڑ کی بولی لگی تو کامیاب بولی دینے والا نادہندہ ہوگیا۔ اب کی بار لگنے والی بولی کو نجکاری کمیشن کے حکام اطمینان بخش قرار دے رہے ہیں۔
ہوٹل کے ملازمین اس بار مایوس نظر آرہے ہیں۔ایک ملازم رفیق نے کہا کہ اس کے باپ داد بھی اس ہوٹل کے ملازم تھے اور ان کی یادیں اس کے درو دیوار سے وابستہ ہیں۔
نواب آف بہاولپور کی بہو وہاں موجود ڈیڑھ سو درختوں کو بچانے کے لیے اس ہوٹل میں آٹھہری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درخت کاٹا جانا خلاف قانون ہےاور وہ اس کی مزاحمت کریں گی۔

کہا جاتا ہے کہ امریکا کا عظیم سیاسی لیڈر اور صدر ابراہام لنکن اوہام پرست تھا اور بھوتوں وغیرہ پر بہت زیادہ یقین رکھتا تھا۔ اس کی سوانح عمری کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اس کے مختلف مری ہوئی شخصیات کے بھوتوں سے رابطے بھی تھے جن سے وہ مختلف امور میں صلاح و مشورہ بھی کرتا تھا۔ یہ بھوت ہی اسے آنے والے زمانے کے متعلق مختلف معلومات فراہم کرتے تھے۔ مثلاً ابراہام لنکن سے متعلق اس کے باڈی گارڈ کا بیان ہے کہ اپنی موت سے کچھ روز پہلے لنکن نے اسے بتایا کہ اس نے رات کو ایک خواب دیکھا تھا جس میں اس نے دیکھا کہ ایک میت جا رہی تھی اور جب اس نے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کس کا تابوت ہے تو اسے بتایا گیا کہ امریکا کے صدر کا۔ یوں اسے اپنی موت سے پہلے ہی اپنے قتل کے بارے میں اطلاع ہوچکی تھی تاہم خود لنکن کے بھوت نے بھی بہت شہرت حاصل کی۔ امریکی صدر روزویلٹ نے ایک موقع پر اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ایک سے زائد موقعوں پر ابراہام لنکن کابھوت وہائٹ ہاؤس میں دیکھا تھا۔ کچھ ایسا ہی بیان وہائٹ ہاؤس کے سٹاف نے بھی دیا کہ انھوں نے ایک سے زائد مرتبہ ابراہام لنکن کابھوت وہائٹ ہاؤس کی کھڑکی میں دیکھا تھا اور ہمیشہ وہ اسی کھڑکی میں دیکھا گیا جس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اپنی زندگی میں بھی لنکن اسی کھڑکی میں کھڑے ہو کر شہر کو دیکھا کرتا اور غور و فکر کرتا تھا۔ کچھ ایسا ہی بیان روحانیت میں گہری دلچسپی لینے والی ماہر عامل اور نیدر لینڈز کی ملکہ ولہ لمینا نے بھی دیا۔ اس کے بیان کے مطابق وہ ایک روز لنکن کے کمرے میں سونے کے لیے گئی تو رات کے کسی پہر اسے دروازے پر دستک سنائی دی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے لنکن کھڑا تھا لیکن فوراً ہی وہ منظر سے غائب ہوگیا اور ملکہ کو ایسا لگا کہ جیسے وہ نیند میں ہونے کی وجہ سے یہ ہیولہ دیکھ پائی تھی لیکن یہ واقعہ ملکہ ولہ لمینا ہی کے ساتھ پیش نہیں آیا بلکہ ایک بار ونسٹن چرچل بھی لنکن کے کمرے میں سونے کے لیے گیا تو اسے بھی وہاں کمرے میں لنکن کا بھوت ایک طرف کرسی میں بیٹھا دکھائی دیا۔ اس کے بعد سے لنکن کے کمرے کو آسیب زدہ قرار دے دیا گیا۔
یہی نہیں امریکی صدر ٹرومین کو بھی ایک سے زائد موقعوں پر لنکن کے بھوت کو دیکھنے کا اتفاق ہوا لیکن اس بات کو اس نے ایک نیک شگون ہی سمجھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ لنکن کا بھوت ملکی سیاست کے معاملات میں دلچسپی لیتا تھا اور اسی لیے ہر مشکل مرحلے پر وہ راہنمائی کرنے کے لیے وہاں آتا تھا اور اس کی موجودگی سے فائدہ اٹھا کر اس مشکل مرحلے سے نکلنے کے لیے کوئی مشورہ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ جان ایف کینیڈی اور اس کی سٹینوگرافر کو بھی ایک سے زائد موقعوں پر لنکن کا بھوت دکھائی دیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ امریکا کے ایک سے زائد صدور کو لنکن کا بھوت دکھائی دیا جس میں ظاہر ہے کچھ نہ کچھ صداقت تھی۔ کیوں کہ یہ سوچنا محال تھا کہ سبھی صدور توہم پرست تھے اور وہ جھوٹ بول رہے تھے یا ان سب کو نظری التباس سے واسطہ پڑا تھا اور نہ ہی آپ سب عظیم ہستیوں کی ذہنی صحت پر شک کرنے کے بارے میں سوچ سکتے تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک شخص کا بھوت کیوں دکھائی دیتا ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بے چین موت مرتا ہے اور اس کی کوئی خواہش پوری ہونے سے رہ جاتی ہے یا پھر بھوتوں کے دکھائی دینے میں بھی کوئی حکمت ہوسکتی ہے اور بھوت سوچنے سمجھنے والی مخلوق ہے اور وہ ان جگہوں اور افراد سے اپنا رابطہ نہیں توڑتے اور ان کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ بھوت
اصل میں کسی ہونے والے واقعہ کی پیشین گوئی کی صورت میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یوں بھوت اپنا وجود کھو دیتے ہیں اور وہ کسی اعلیٰ طاقت کے کارندے کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں ۔ تاہم بہت سے واقعات بھوتوں کے بارے میں ایسے ہیں جن میں کسی فرد کا بھوت اس کی موت کے فوراً بعد اس کے جاننے والوں کو دکھائی دیا جس کا مطلب انہیں یہ اطلاع دینا تھا کہ وہ مرچکے ہیں۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ٹیرا کوٹا کا لفظ گارے اور مٹی کے لئےاستعمال ہوتا ہے جس سے مجسمے اور ٹائل وغیرہ بنا کر آگ میں پکا لیا جاتا ہے۔
1974ء میں زاؤ کنگمین نامی ایک چینی کسان طویل خشک سالی سے پریشان ہو کر ایک کنواں کھودنا چاہتا تھا۔ اس دوران اس نے دنیا کا آٹھواں عجوبہ ’ٹیراکوٹا‘ آرمی دریافت کر لیا۔ یہ فوج اب خاموش جنگجوؤں کے نام سے جانی جاتی ہے۔
شان و شوکت اور وقار
ٹیراکوٹا آرمی مغربی چینی شہر شیان کے قریب سے دریافت ہوئی تھی۔ یہ چین کے پہلے شہنشاہ کن شیہوانڈی کی قبر کے احاطے کا حصہ تھا۔ اندازہ ہے کہ ٹیراکوٹا آرمی شہنشاہ کے مرنے کے بعد اس کی اور اس کی قبر کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی۔
عالمی ثقافتی ورثہ
ٹیراکوٹا آرمی کے مجسمے ایک عام انسان کے قد کے برابر ہیں اور مٹی سے بنے ہوئے ہیں۔ آج کل انہیں تین مختلف مقامات پر رکھا گیا ہے۔ ان میں صرف جنگجو ہی نہیں ہیں بلکہ گھوڑے اور جنگ میں استعمال ہونے والی گھوڑا گاڑیاں بھی ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ان مجسموں کی تیاری میں کم از کم سات لاکھ کاریگروں نے حصہ لیا ہو گا۔1987ء میں ٹیراکوٹا آرمی کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا۔
مسلح بری فوج
ٹیراکوٹا آرمی کا مرکزی یونٹ فوجیوں کے ایک ہزار مجسموں پر مشتمل ہے اور یہ دو فٹ بال اسٹیڈیم کے رقبے کی برابر کی جگہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں پیدل اور گھڑ سوار فوجی بھی شامل ہیں۔ ان کی وردیوں سے ان کے عہدے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
رنگ برنگی فوجی
ان میں سے بہت سے مجسمے مختلف قسم کے رنگوں سے آراستہ ہیں۔ طویل عرصے تک زمین کے نیچے دبے رہنے کے بعد جب ہوا سے ان کا رابط ہوا تو بہت کم ہی عرصے میں ان کے اصل رنگ غائب سے ہو گئے۔ 1990ء کی دہائی میں کھدائی کا کام روک دیا گیا تھا، جسے اب جون 2015ء میں دوبارہ سے شروع کیا گیا ہے۔
چار گھوڑوں والی رتھ
1980ء میں کھدائی کے دوران چار گھوڑوں والی دو گاڑیاں بھی ملیں، جن پر سونے اور چاندنی کی نقش و نگاری موجود تھی۔ ان دونوں رتھوں میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً 1.2ٹن ہے۔ دوسری رتھ مکمل طور پر ڈھکی ہوئی ہے اور اسے شہنشاہ کے نجی گھوڑا گاڑی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا
دنیا کا آٹھواں عجوبہ
فرانس کے سابق صدر ژاک شیراک نے 1978ء میں چین کے اپنے دورے کے دوران ٹیراکوٹا آرمی کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا تھا۔ اسی طرح جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو 2010ء میں جنگجوؤں کے ان مجسموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ’’ ان مجسموں سے مجھے خوف محسوس ہوا تھا‘‘۔
کسان عجائب گھر کا سربراہ
چین میں آثار قدیمہ کی اس سب سے بڑی دریافت کا سہرا کسان زاؤ کنگمین کے سر جاتا ہے۔ اسے بعد ازاں ٹراکوٹا آرمی میوزیم کا نگران بھی بنا دیا گیا تھا۔ اس دریافت کے بدلے میں اسے کلائی پر پہننے والی ایک گھڑی اور ایک سائیکل دی گئی تھی۔
نحوست کی داستان
سال 1974 میں سات چینی کاشت کاروں کے ایک گروپ نے ٹریکوٹا فوجیوں کا حیرت انگیز تاریخی خزانہ دریافت کیا تھا تاہم اس دریافت نے چین کو مالی لحاظ سے تو فائدہ پہنچایا مگر اسے دریافت کرنے والے کاشتکار بدترین حالات اور بھاری قرضوں کے بوجھ کا شکار ہوگئے۔ سات میں سے تین کاشتکار بہت جلد کم عمری میں ہی مرگئے بلکہ ایک نے تو خودکشی کرلی جبکہ باقی ماندہ کاشتکاروں کے لیے زندگی ایک مشکل جدوجہد ثابت ہوئی جس کے بعد سے اس آرمی کے ساتھ بدقسمتی کا لاحقہ جڑ گیا۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
طب کے لغوی معنی جادو کرنے یا علاج کرنے کے ہیں۔ اس کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود انسان کی۔ ایک عرصے تک اس علم کے بارے میں خیال رہا کہ یہ الہامی ہے اور آسمان سے نازل ہوا ہے جس کی وجہ سے یونان کے مندر اور دیوی دیوتا ہی علاج کا مرکز بنے رہے۔ یونان میں سب سے پہلے اسفلی بیوس نے باقاعدہ علاج شروع کیا مگر جلد ہی اس کی شہرت اس قدر بڑھی کہ اسے دیوتا تسلیم کرلیا گیا اور اس کی مورتی کی پوجا شروع کر دی گئی۔ اس زمانے میں یہ طریقہ رائج تھا کہ جب کسی دوا سے مریض کو آرام آجاتا تھا- تو اسے وہ سونے یا چاندی کی تختی پر کندہ کروا کے مندر میں لٹکا دیتا تھا، اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہاں بہت سی تختیاں اکٹھی ہوجاتی تھیں اور بعد میںبیمار ہونے والے لوگ ان تختیوں کو پڑھ کر اپنا علاج کرتے تھے یا مندروں کے پجاری ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ بقراط نے سب سے پہلے ان تختیوں کو یک جا کرکے کتابی شکل دی اور طلبہ کو جمع کرکے انھیں باقاعدہ طب کی تعلیم دینا شروع کی تاکہ وہ دور دور پھیل کر مریضوں کا علاج کرائیں۔ اس طرح معالج و طبیب وجود میں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ بقراط کو ’’بابائے طب‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ بقراط کے بعد ارسطو نے جو کہ سکندرِ اعظم کا استاد بھی تھا، طب کے لیے بڑے نمایاں کام سر انجام دیے ہیں۔ اس نے کھلے ذہن کے ساتھ طبی معاملات کو علمی کسوٹی پر پرکھا۔ اس کے بعد جالینوس نے علم طب کو آگے بڑھایا اس کی پیدائش 95ء میں ہوئی تھی۔ خاص طور پر تشریح البدن یا ایناٹومی پر اس نے بڑا کام کیا۔ یونان میں اور کئی اطبا گزرے ہیں جنھوں نے دیگر طبی موضوعات خصوصاًجڑی بوٹیوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔  تفصیل سے پڑھئے
انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں انسان نے اپنی عقل اور شعور کے استعمال کی بدولت آگے کی طرف سفر جاری رکھا ہے۔ غاروں میں رہنے والوں نے بھی اپنی کھوج اور پہچان کی خاطر خوابوں کے ساحلوں پر کھڑے ہوکر اپنی تعبیر کے دریاؤں کو عبور کیا اور یہ جذبہ آج بھی انسانی جدوجہد کی صورت میں کارفرما ہے۔ انسان ہمہ وقت اس کائنات کے انگنت رازوں پر سے پردہ اٹھانے میں مگن ہے اور اس جہد مسلسل کی شمع تھامے ہوئے آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں انسان سوچنے، سمجھنے، جاننے، تلاش کرنےاور لکھنے جیسے مراحل سے گزرا ہے ۔ آج بھی ہم کئی ہزار سال پہلےتحریر کیے جانے والے علوم سے استفادہ  کرتے ہیں۔ آج کی نسلوں کو ان تمام ادوار کے لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے اس کائنات کو اپنے اپنے انداز سے دیکھا اور اس کی تشریح کی۔ ہمیں ان لکھاریوں، دانش وروں اور کاتبوں کا شکر گزار ہونا چاہیئے جن کی کاوشیں آج تحریری صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
زیب وزینت کی اساس سمجھے جانے والے قدیم لوازمات کا قصہ۔ ہر عورت ہی اپنے سجنے سنورنے پر خصوصی توجہ مرکوز رکھتی ہے، جس کا مقصد پرکشش اور حسین نظر آنا ہوتا ہے،یہ کام مختلف آرایشی لوازمات کے بغیر ناممکن ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ فیشن کی دنیا میں ہونے والے انوکھے تجربات میک اپ اور اس کی تیکنیک پربڑی سرعت سے اثر انداز ہوئے ہیں۔ نت نئی اقسام کی مصنوعات کی آمد اور تشہیر نے صنف نازک کو میک اپ کا شعور بخشا ہے۔
بیوٹی پارلروں سے نام وَر میک اپ آرٹسٹ تک ہر ٹی وی چینل سے آرائش حسن کے سادہ اور سہل نسخوں پر مبنی پروگرام، بازاروں میں ہر قسم کی جلد اور رنگ و روپ رکھنے والی خواتین کے لیے مصنوعات کی فروخت نے اس شعبے کی مشکلات کو قدرے کم کر دیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آرائش حسن اور خواتین کا ساتھ جب اتنا قدیم ہے، تواس وقت جب کہ ایسی سہولیات میسر نہیں تھیں، لڑکیاں یا عورتیں کیا کرتی تھیں؟ تفصیل سے پڑھئے
پاکستان میں یہ افریقی نسل کے لوگ کب اور کیسے آئے؟ یہ لوگ افریقی عرب نسل سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں۔کچھ لوگ ان کا تعلق صحابی رسول ﷺ حضرت بلال حبشیؓ سے بھی جوڑتے ہیں۔۔یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ لسانی بنیاد پر ان کو مختلف نام جیسے کہ شیدی، سدی، یاحبشی اور مکرانی بھی کہا جاتا ہے۔حبشی کا لفظ تو ظاہر ہے لفظ حبشہ سے نکلا ہے جو کہ آجکل ایتھوپیا کہلاتا ہے۔۔ اسلام میں سب سے پہلی ہجرت حبش کی جانب ہی کی گئ تھی اور وہاں کے بادشاہ نجاشی نے حضرت جعفر طیارؓ کی تقریر سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا۔۔   تفصیل سے پڑھئے
Chicken Dak Bungalow-ڈاک بنگلے ہمیشہ سے میری بہت پسندیدہ جگہیں رہے ہیں۔۔ انگریز دور کے زرد پتھروں سے بنے یہ بنگلے۔ بوگن ویلیا کی بیلوں سے گھرے ہوئے،، اکثر نہروں کے کنارے تعمیر شدہ۔۔ان کے بیڈ رومز، برامدے، کچن، بالکونیاں۔ لکڑی کی بنی جالیاں، ۔۔۔۔۔ یہ سب مجھے انگریز کا دور یاد دلا دیتی ہیں۔۔۔ کاش کہ میں بھی اسی دور میں پیدا ہوا ہوتا جب کوئلے سے چلنے والے انجن دھواں اڑاتے کھیت کھلیانوں سے چھک چھک کرتے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوتے تھے۔۔۔ راستے میں جگہ جگہ وہی زرد پتھر سے تعمیر شدہ ریلوے اسٹیشنز، جھنڈی ہلاتا گارڈ، ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک افولادی اسٹینڈ پر لٹکی سرخ بالٹیاں جن میں ریت بھری ہوتی تھی۔۔۔۔ یہ اس زمانے میں آگ بجھانے کے لئے استعمال ہوتی تھیں۔۔زرا آگے پانی کی ٹنکی جس سے آگے کو نکلا ہوا لمبا سا فولادی پائپ جس سے انجن میں پانی بھرا جاتا تھا۔۔۔ ہائے ہائے۔۔۔۔ کیا زمانہ تھا۔۔۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اکبر بادشاہ کی پیدائش موجودہ پاکستان کے علاقے عمر کوٹ میں ہوئ۔۔ شیر شاہ سوری کے حملے کے بعد ہمایوں فرار ہو کر سندھ پہنچا جہاں عمر کوٹ میں ایک ہندو راجہ رانا پرساد نے اس کو پناہ دی تھی۔ یہیں سن 1542 میں ہمایوں کی بیوی حمیدہ بانو بیگم کے بطن سے اکبر کی پیدائش ہوئ۔۔ہمایوں کی جلا وطنی کے دوران اکبر نے اپنا بچپن افغانستان میں اپنے چچا کامران مرزا کے ساتھ گزارا۔ اکبر کا بچپن شکار، ، فن حرب، اور کھیل کود میں گزرا مگر وہ تعلیم حاصل نہ کر سکا۔۔تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود اکبر میں کھوج اور جستجو کا مادہ بہت زیادہ تھا۔۔دنیا بھر کے مزاہب، اور انجان چیزوں کو جاننے کے شوق میں اس نے ایک بہت بْڑا کتب خانہ بھی بنوایا جس میں ہزاروں کتابیں موجود تھیں۔ اکبر کتب خانے کے منتظم سے کتابوں کے بارے میں پوچھتا اور اگر اس کو کوئ کتاب یا قصہ دلچسپ لگتا تو اس کو پڑھوا کر سنتا۔۔ اکبر بلا کا مردم شناس اور علما کا قدر دنان تھا۔ اس نے اپنے دربار میں چن چن کر انتہائ قابل اور جہاندیدہ لوگ جمع کر رکھے تھے جو اپنے اپنے علم اور تجربے میں یکتا تھے۔  تفصیل سے پڑھیے
 لندن کی مشہورڈیزائنرکی جانب سے تیارکردہ یہ کیک ایک عرب خاندان کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ایک عرب خاندان نے اپنے لیے دنیا کے مہنگے ترین کیک کا آرڈر دیا ہے جس کی تیاری میں 11 سو گھنٹے صرف ہوئے ہیں اس میں 4 ہزار قیمتی ہیرے بھی جڑے گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اس کیک کا آرڈر متحدہ عرب امارات کے ایک خاندان نے اپنی بیٹی کی منگنی اور سالگرہ کے لیے دیا۔ انہوں نے لندن کی سب سے مہنگی ڈیزائنر سے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کا انوکھا ترین کیک ڈیزائن کریں۔
کیک کی لمبائی چھ فٹ ہے جسے کیٹ واک کے ریمپ کی طرح بنایا گیا ہے جہاں لوگ ماڈلز کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہر ماڈل کو کھایا جاسکتا ہے جو میٹھی اشیا اور چاکلیٹ سے تیار کی گئی ہے جبکہ بعض کرداروں کو اصلی ہیرے بھی پہنائے گئے ہیں۔ عرب خاندان نے اپنا نام سختی سے صیغہ راز میں رکھنے کی سفارش کی ہے۔
بعض کرداروں کے ساتھ خوبصورت ہینڈ بیگ اور اسمارٹ فون بھی بنائے گئے ہیں اور ان کے لباس اور اشیا بھی برانڈڈ طرز پر بنائی گئی ہیں۔ کیک کا مجمموعی وزن 450 کلوگرام ہے جس پر 120 کلوگرام کھائی جانے والی میٹھی اشیا اور 60 کلوگرام چاکلیٹ استعمال کی گئی ہے۔
اس میں 5.2 قیراط کا گلابی ہیرا، 6.4 قیراط کا زرد ہیرا اور 5 قیراط کے 15 سفید ہیرے جڑے گئے ہیں جن کی مالیت 3 کروڑ پونڈ ہے جب کہ ایک قیراط یا اس سے ذیادہ کے 4000 قیمتی پتھر لگائے گئے ہیں جن میں زمرد اور لعل بھی شامل ہیں۔ اس کیک کی مجموعی مالیت 8 ارب پاکستانی روپے بتائی جارہی ہے۔
لندن کی مشہور ڈیزائنر ڈیبی ونگم نے یہ کیک تیار کیا ہے جو اس سے قبل دنیا کا سب سے قیمتی لباس بھی ڈیزائن کرچکی ہیں جس کی قیمت 1 کروڑ 15 لاکھ برطانوی پاؤنڈ یا پاکستانی دو ارب روپے تھی۔ وہ قیمتی ہیرے لگی جینز اور دوسرے قیمتی لباس بھی تیار کرتی رہی ہیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers