اکثر ایام ہال مارک ڈیز کہلاتے ہیں، یعنی کہ پھول، کیک اور کارڈ بیچنے کے لئے بنائے گئے دن، مثلاً دوستی کا دن، امی کا دن، ابا کا دن اور جانو کا دن۔ پاکستان میں تقریباً 8 قومی دن منائے جاتے ہیں اور تمام قوم کی دعا ہوتی کہ یہ ایام جمعہ یا پیر کو آیا کریں، وہ چھٹیاں لمبی ہوجائیں گی ناں۔ علاوہ ازیں، عیدیں الگ سے منائی جاتی ہیں، محرم اور عید میلادالنبیﷺ کی بھی چھٹیاں ملتی ہیں۔ کچھ صوبے صوبائی چھٹیاں بھی دے ڈالتے ہیں۔ علاوہ ازیں کچھ قومی رہنمائوں اور بانیانِ پاکستان کے یومِ پیدائش خاموشی سے گزرجاتے ہیں کیونکہ اس دن چھٹی نہیں ملتی ہے ناں! البتہ کچھ ایام ایسے بھی ہیں کہ جن کو چاہے جتنا بھی تنقید کا نشانہ بنا لیا جائے یہ پھر بھی منا لیے جاتے ہیں۔
ان میں سے اکثر ایام ہال مارک ڈیز کہلاتے ہیں، یعنی کہ پھول، کیک اور کارڈ بیچنے کے لئے بنائے گئے دن، مثلاً دوستی کا دن، امی کا دن، ابا کا دن اور جانو کا دن۔ ان ایام کو حکومت جلا نہیں بخشتی بلکہ ٹی وی چینلز دوام بخشتے ہیں۔ کرنا کچھ زیادہ نہیں پڑتا ہے، اس دن چینل اپنے ڈیجیٹل آن اسکرین گرافک یعنی کہ لوگو اور بریکنگ نیوز کی پٹیوں کو لال، گلابی کردیتے ہیں۔ مارننگ شو میں بھی اس دن کا خاص ذکر ہوتا ہے، نیوز بلیٹن میں باقاعدہ پیکج چلتا ہے، پرائم ٹائم والے شو میں بھی اس موضوع پر بات ہوتی ہے اور انٹرٹینمنٹ چینل پر بھی ایک آدھ ٹیلی فلم کھڑکا ڈالتے ہیں اور بس لگا دیا قوم کو دھندے سے۔
عموماً یہ اہتمام 14 اگست، 6 ستمبر، 23 مارچ، 5 فروری یومِ یکجہتیِ کشمیر، 9 نومبر یومِ اقبال اور 25 دسمبر یومِ پیدائشِ قائدِ اعظم کو ہی کئے جاتے تھے۔ پھر خصوصی ڈراموں کا موسم چلایا گیا اور اب سارا سال ’’ری- ان- ایکٹمنٹ‘‘ شوز اور بریکنگ نیوز سے ہی کام چل جاتا ہے۔ کس کو پڑی ہے میڈیا کا استعمال قوم کی تعمیر، ترقی اور تنوع کے لئے کیا جائے۔
وہ تو بھلا ہو وفاقی حکومت کا، جس نے پچھلے کچھ سالوں سے یومِ پاکستان، یومِ آزادی اور یومِ دفاع کو خوبصورت اور خصوصی انداز میں منانا شروع کیا گیا ہے۔ فوجی اور ثقافتی پریڈیں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی کاوشیں، قوم کا مورال بلند کرتی ہیں۔ قوم جو کہ غربت سے بھی نبرد آزما ہے، ظلم و زیادتی بھی جھیل رہی ہے، دہشت گردی کی بھی شکار ہے لیکن پاکستان سے زندہ بھاگنے کی بجائے، پاکستان زندہ باد پر یقین رکھتی ہے۔
365 دنوں میں سے، قوم کو صرف 15 تا 20 دن ہی ملتے ہیں، جب یہ خوشیاں مناتی ہے۔ حالات سازگار ہوتے تو کیا ہی بات تھی، لیکن میرے خیال میں قوم  کو ہر ماہ ایک یومِ تجدیدِ عہدِ وفا کی ضرورت ہے۔ ایک دن جو جمعیت و جامعیت کو جلا بخشے، ایک دن جو قوم کا اعتماد بحال کرے۔ کیونکہ اگر حکومت ایسا نہیں کرے گی تو ٹی وی چینلز اور ایف ایم سی جی کمپنیاں ضرور مواقع ڈھونڈ لائیں گیں۔ چینلز اور کمپنیاں مقابلے کے اصول پر چلتے ہیں، لیکن اگر ان کی سمت متعین نہ کی جائے تو یہ روزانہ بسنت منائیں گے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس سے کتنی گردنیں کٹ سکتی ہیں اور ویلنٹائن ڈے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کتنی دخترانِ ملت بھیڑیوں کی شہوت کا شکار بن سکتی ہیں۔
یہی کمپنیاں ماہِ رمضان میں ہمدردی اور یکدلی سے لبریز ہوجاتی ہیں اور 14 اگست پر دل پگھلانے والے ملّی نغمے نشر کرتی ہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ حکومتِ وقت کو کم از کم 5 نئے دن تو متعارف کروانے ہی چاہئیں۔ ہم یومِ پاکستان مناتے ہیں، یومِ جمہوریہ (یومِ پاکستان دراصل یوم ِ جمہوریہ ہی تھا لیکن اب نہیں ہے) اور یومِ وفاق نہیں مناتے ہیں۔ حالانکہ منانے چاہئیں! جب تلک قوم کو جمہوریہ اور وفاق کا مطلب اور مقصد ہی سمجھ نہیں آئے گا، تب تلک قوم میں جمہوریت فروغ نہیں پائے گی۔ ایک عدد یومِ عوام بھی ہونا چاہیئے، اس دن عوام میں سے کسی کو منتخب کریں (نادرا ڈیٹا بیس سے قرعہ نکالیں)، پورا پروٹوکول دیں، ایک عام پاکستانی کو مزارِ  قائد لائیں، ایک کو علامہ اقبال کے مزار لے جائیں، پھول چڑھوائیں۔ عوام کو مالک ہونے کا احساس اور وطن کو ملکیت کا تصور پروان چڑھائیں۔ ذاتی جاگیر اور خاندانی چوہدراہٹ کی بیخ کنی کریں۔ یومِ مئی تو عالمی دن ہے، یومِ ہاری و کسان بھی منائیں۔ جو اکثریت میں ہیں انہیں ان کی اہمیت کا یقین دلائیں۔
سندھ میں ٹوپی اجرک دن منایا جانے لگا ہے اور بلوچستان میں بلوچ یومِ ثقافت کا، پنجاب میں بسنت پہلے سے موجود ہے، یومِ خٹک کا بھی رواج پڑنا چاہیئے اور گلگت بلتستان کی نسبت سے نوروز بھی منانا چاہیئے۔ یہ ایام اگر سرکاری سطح پر منائے جائیں گے تو اخبارات،  جرائد اور چینلز کو بھی ان کو اپنانا اور منانا پڑے گا اور اس قوم کو خود شناسی کا بھی موقع ملے گا۔ مزید یہ کہ ان ایام کو اتوار کو ہی منایا جائے۔ قوم کو چھٹیوں کی نہیں، خوشیوں کی اور حوصلے بلند کرنے کی ضرورت ہے اور یہ مواقع دفاتر اور اسکولوں میں بھی میّسر آسکتے ہیں۔ قومی ایام کے بعد، صوبائی ایام اور پھر شہری ایام پر کام کرنا چاہیئے۔ ہر شہر کی اپنی ایک منفرد اور مخصوص ثقافت ہوتی ہے اس کا چرچا ہونا چاہیئے!
آخری بات ہمیں 24 مئی کو یومِ انسانی ترقی ضرور منانا چاہیئے۔ آج سے 25 سال قبل اقوامِ متحدہ نے پہلی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ اسی دن شائع کی تھی اور انسانی ترقی کا اشاریہ ڈاکٹر محبوب الحق نے تخلیق کیا تھا۔ ہمیں اس دن کو بطور جشن منانا چاہیئے اور دنیا کو بتانا چاہیئے کہ ہم اس دنیا کا بھلا چاہتے ہیں۔
ہوٹلز میں ’’بریانی ‘‘ کے نام پر مختلف طریقوں سے جوفراڈ پاکستانیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، قابل ِ مذمت ہے۔
پاکستان میں کون ہے جو بریانی کا دیوانہ نہیں۔ گرم، خوشبودار، تہہ در تہہ گوشت میں لپٹے چاولوں کی پلیٹ رائتے کے ساتھ سامنے موجود ہو اور ساتھ میں ٹھنڈی کولڈ ڈرنک ہو تو اس پکوان پر بادشاہی تک قربان کی جاسکتی ہے۔ بریانی کا لفظ  ’’بریان‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے پکانے سے پہلے تلنا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بریانی ایران سے برصغیر میں آئی جبکہ بعض روایات کے مطابق بریانی کی ایجاد کا سہرا مغل بادشاہ شاہ جہاں کی بیوی ملکہ ہندوستان ارجمند بانو بیگم عرف ممتاز محل کے سر جاتا ہے، جس کے مطابق بریانی ایک مکمل غذا تھی۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
جب کاغذ، قلم پر نظر پڑجائے تو آپ کو خط لکھنے کا جی کرتا ہے
پیارے بابا جی! 
اب کی بار آپ کا خط ملا تو یوں لگا، جیسے مجھے دو جہاں مل گئے ہوں لیکن بابا جی مجھے آپ سے شکایت ہے، آپ خط کا جواب بہت دیر سے دیتے ہیں پھر کتنی ہی باتیں ہیں جو ادھوری رہ جاتی ہیں۔ میں اس وقت گھر کے صحن میں بیٹھی ہوں، ایک ہاتھ میں آپ کا خط ہے۔ جسے میں روز پڑھتی ہوں، چوم کر رکھتی ہوں اور یادوں میں کھو جاتی ہوں۔ 
بابا آپ کو بھی یاد ہے ناں، جب اماں شام کو صحن میں ہم سب کیلئے چائے لے کر آتی تھی تواس وقت چڑیاں کتنا شور مچا رہی ہوتی تھیں، کیا اب بھی چڑیاں اُسی طرح چہچہاتی ہیں؟ مجھے اماں سے بھی گلِہ ہے کہ اب اماں میری چائے کیوں نہیں لاتیں؟ یہاں جب میں چڑیوں کو دیکھتی ہوں تو گہری سوچ میں گم ہوجاتی ہوں کہ کاش میرے بھی پَر ہوتے، تو انہیں چڑیوں کی مانند میں اُڑ کر آپ لوگوں کے پاس پہنچ جاتی۔۔۔۔ لیکن باباجی! یہ چڑیوں کے چہچہاہٹ میں اداسی کیوں ہے؟ انہیں تو اپنا بابل گھر نہیں چھوڑنا ہوتا۔
دن میں کئی بار ارادہ کرتی ہوں کہ آپ کو خط لکھوں، مگر جب ایک بار خط لکھ کر آپ کو بھیج دیتی ہوں تو پھر بیقراری سے جواب کا انتظار کرنے لگتی ہوں۔ ہر ہر آہٹ پر مجھے گمان گذرتا ہے کہ بابا کا سندیسہ آیا ہے۔ میں دروازے پر جا کر دیکھتی ہوں کہ شاید، شاید ڈاکیا آپ کا خط لایا ہو مگر نہیں بابا جی، میں بے آس لوٹ آتی ہوں۔ شکستہ امیدوں کے سہارے واپسی کے قدم کیسے اٹھائے جاتے ہیں، بابا آپ جانتے ہیں ناں۔۔۔۔۔ میں جب بھی کاغذ اور قلم دیکھتی ہوں، تومجھے وہ اسکول کا پہلا دن یاد آجاتا ہے کہ جب آپ نے مجھے کاغذ اور قلم خرید کر دیا تھا، کیسے سب کی مخالفت کے باوجود آپ نے مجھے اسکول بھیجا، آپ کو برادری سے خوف بھی نہیں آیا بابا جی، مجھے تو اس دنیا سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اب جب کاغذ، قلم پر نظر پڑ جائے تو آپ کو خط لکھنے کا جی کرتا ہے۔
میرے اچھے بابا مجھے یہ بھی خیال آتا ہے کہ  میری سکھیاں، وہ ہمجولیاں جن کے ساتھ بچپن میں انہیں چڑیوں کی طرح ڈال ڈال آزاد اڑتی تھیں، قہقہے انہیں چہچہاٹوں کی طرح  گونجا کرتی تھیں، وہ اب کیا کرتی ہیں؟ وہ بارشوں میں شرارتیں، اماں کی ڈانٹ، آپ کا لاڈ، وہ ناز نخرے، مجھے دور کیوں بھیجا بابا؟ کیا میں یاد نہیں آتی؟ اماں کسے ڈانٹتی ہیں اب؟ بابا میں یہاں اکیلی ہوں، سب کو یاد کرہی ہوں، بابا میری سہلیاں جو میری طرح اسکول نہیں جاسکیں ان کے شب و روز کیسے گذرتے ہیں؟ وہ اپنے بابل کو کیسے یاد کرتی ہیں؟ ایک طریقے سے تو وہ اچھی رہیں ناں کہ وہ خط لکھ  ہی نہیں سکتیں، اور پھر انہیں اس کے جواب کا بھی انتظار نہیں رہتا ہوگا، اور ایک میں ہوں کہ سارا سارا دن خط کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہوں۔ مجھے پڑھا لکھا کر آپ نے اچھا نہیں کیا، بالکل اچھا نہیں کیا بابا جی۔
آپ کے جواب کی منتظر آپ کی لاڈ لی
(انور مقصود کو خراجِ  تحسین)
ہندوستان کے بادشاہ ہمایوں ، شیر شاہ سوری سے شکست کھاکر دھلی کی طرف واپس آرہا تھا۔تو راستہ میں دریا پار کرنا پڑا ۔چونکہ وہ تیرنا نہیں جانتا تھا۔لہٰذا دریا کے کنارے ایک بہشتی جو مشکیزے میں پانی بھر رہا تھا۔اُس سے مدد مانگی ۔ بہشتی کا نام نظام تھا۔اُس نے بادشاہ کو دریا پار کرایا۔ہمایون بادشاہ نے خوش ہو کر اُس کو انعام میں ایک دن کی بادشاہی سونپی ۔جس دن نظام سقّہ بادشاہ بن گیا ۔ تو اُس سے ایک رات پہلے اُس نے سوچا کہ مدت بہت قلیل ہے ۔ اس تھوڑے سے عرصے میں زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اُٹھایا جا سکتا ہے ۔انہوں نے پیسے بٹورنے کی ایک ترکیب نکال لی کہ اگر چمڑے کا سکہ رائج کیا جائے تو وہ خطیر رقم بٹور سکتا ہے ۔اُس نے رات بھر اپنے اکلوتے سرمایے یعنی چمڑے کے مشکیزے سے اشرفی کے برابر سکے بنائے ۔ جو سینکڑوں اشرفیاں بنی ۔ صبح سویرے بادشاہی شروع ہوتے ہی انہوں نے شاہی فرمان جاری کیا ۔کہ آج سے چمڑے کا یہ سکہ سونے کے اشرفی کی برابر قیمت کا حامل ہوگا۔اور جولینے سے انکار کردے یا سونے کی اشرفی میں تبدیل کرنے سے انکار کردے تووہ سزائے موت کا سزا وار ہوگا ۔اُس نے سارے چمڑے کے سکے درباری ملازمین سے سرکاری خزانے سے اشرفی سکے میں تبدیل کردیے۔شام سے پہلے وہ بے شمار اشرفیاں اکٹھے کر کے نکلا ۔ اور ایک دن میں امیر ترین شخص بن گیا ۔شا م کے بعد بادشاہی ہمایوں کو واپس دے دی گئی ۔اُس کے بعد نظام سقّہ کا ذکر تاریخ کی کتابوں سے غائب ہے ۔پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال کو دیکھ کر نظام سقّہ کی یاد دلاتی ہے ۔کیونکہ ایک تسلسل کے ساتھ کئی نظام سقّہ آئے اورملکی خزانے کو لوٹ کر چلے گئے۔

سلطان محمود غزنوی نے دنیا میں تینتیس 33 سال حکومت کی اور اس وقت کا دنیا کا شجاعت اور دنیا پر اثر و رسوخ رکھنے والا دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا۔ پہلے نمبر پر چنگیز خان تھا دوسرے نمبر پر محمود غزنوی تھا تیسرے نمبر پر سکندر یونانی تھا چھوتھے پر تیمور لنگ تھا اور یہ دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا سلطان محمود غزنوی۔ 410 ہجری میں سلطان محمود غزنوی کی وفات ہوئی اور دنیا پر تینتیس سال حکومت کی ہے یہ واقعہ سچا اور انفرادی حثیت رکھتا ہے کہ 1974 میں شہر غزنوی میں زلزلہ آیا جس سے سلطان محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی اور مزار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تو اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم نے دوبارہ مزار کی تعمیر نو کی اور قبر کو مرمت کروایا۔ تعمیر کے مقصد کے لئے قبر کو پورا کھول دیا گیا کیونکہ قبر نیچے تک پھٹ گئی تھی جب قبر کو کھولا گیا تو قبر کے معمار اور قبر کی زیارت کرنے والے حیران رہ گئے کہ قبر کے اندر سے ہزار سال سے مرے ہوئے اور تابوت کی لکڑی صحیح سلامت ہے سب لوگ حیران اور ورطہ حیرت کا شکار ہوگئے تابوت صحیح سلامت ، ہزار سال گزرنے کے باوجود ، حکام نے تابوت کو کھولنے کا حکم دیا تو جس آدمی نے کھولا تو پلٹ کا پیچے گرا اور بےہوش ہوگیا تو جب پیچھے لوگوں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ سلطان جو تینتیس سال حکومت کرکے مرا اور مرے ہوئے ہزار سال گزر چکے ہیں وہ اپنے تابوت میں ایسے پڑا تھا جیسے کوئی ابھی اس کی میت کو رکھ کے گیا ہے اور اس کا سیدھا ہاتھ سینے پر تھا الٹا ہاتھ اور بازو جسم کے متوازی سیدھا تھا اور ہاتھ ایسے نرم جیسے زندہ انسان کے ہوتے ہیں اور ہزار سال مرے بیت چکے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے ایک جھلک دیکھائی کہ جو میرے محبوب کی غلامی اختیار کرتے ہیں وہ بادشاہ بھی ہو گئے تو وہ اللہ کے محبوب بن کے اللہ کے پیارے بن کے اللہ کے دربار میں کامیاب ہو کر پیش ہوگے۔
زندگی مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے وقت کے آگے طاقت ور سے طاقت ور بادشاہ کمزور اور بے بس ہے وقت کو کوئی نہیں روک سکتا لیکن وقت پر جس شخص نے اللہ کی مخلوق کی بہتری، بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کو مقدم رکھا وہی شخص مرنے کے بعد بھی لافانی ہے۔
سائنسدان اور ملحد حضرات اس کی کیا توجیہہ پیش کریں گے؟
یہ وہی جگہ ہے جہاں سے طارق بن زیاد نے یورپ پر حملہ کرکےیورپ کے ایک نئے سنہری دور کا آغازکیا۔ اس کا اصل نام جبل الطارق تھا۔ جو بعد میں یورپی' افریقی اور عربی زبان کے مکسچر کی وجہ سے جبرالٹر بن گیا۔آئیے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس کی موجودہ حالت کے بارے کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔
جبرالٹر براعظم افریقہ اور براعظم یورپ کے عین درمیان واقع ہے، مراکش افریقہ کا ملک ہے اور جبرالٹر یورپ کا پہلا ملک ہے، مراکش کا شہر طنجہ جبرالٹر سے صرف 14 کلو میٹر دور ہے، یہ سفر فیری پر آدھ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے، جبرالٹر کے پہاڑ سے طنجہ کی روشنیاں نظر آتی ہیں، دنیا کے ستر فیصد بحری جہاز بحیرہ اوقیانوس سے آتے ہیں اور آبنائے جبرالٹر سے گزرکر بحیرہ روم جاتے ہیں اور وہاں سے اسی راستے واپس آتے ہیں، یہ تین اطراف سے پانی میں گھرا ہوا ہے۔
شہر کے دو حصے ہیں، پہاڑ اور زمین۔ پہاڑبھی دو ہیں، ایک زیادہ بلند ہے اور دوسرا نسبتاً کم بلند، دونوں پہاڑوں کے درمیان اونچے درخت اور جھاڑیاں ہیں، یہ جھاڑیاں اور درخت پہاڑوں کو آپس میں ملاتی ہیں، آپ اگر دور سے جبرالٹر کے پہاڑ دیکھیں تو یہ آپ کو بحری جہاز محسوس ہوں گے، زمینی علاقے گرم ساحلوں پر مشتمل ہیں، زمین کا نصف سے زائد حصہ سمندر میں مٹی او رپتھر ڈال کر مصنوعی طور پر بنایا گیا ہے، شہر کی زیادہ تر رہائشی عمارات، دفاتر اور شاپنگ سینٹر اسی مصنوعی زمین پر قائم ہیں، شہر یا ملک کا کل رقبہ چھ کلو میٹر ہے، آپ 45 منٹ میں پورا ملک پیدل گھوم سکتے ہیں۔
ملک پر برطانیہ کا قبضہ ہے، زبان انگریزی اور کرنسی پاؤنڈ اسٹرلنگ ہے، سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں پر یونین جیک لہراتا ہے، جبرالٹر میں داخلے کے لیے برطانیہ کا ویزہ ضروری ہے تاہم آپ اگر یورپی شہریت رکھتے ہیں یا آپ کے پاس اسپین سمیت یورپ کے کسی ملک کا پاسپورٹ موجود ہے تو آپ کو بارڈر پر’’انٹری‘‘ مل سکتی ہے، اسپین کے آخری شہر لالینا میں جبرالٹر میں داخلے کے لیے قطار لگ جاتی ہے، آپ اپنی گاڑی پر بھی ملک میں داخل ہو سکتے ہیں اورگاڑی اسپین میں کھڑی کر کے پیدل بھی اندر جا سکتے ہیں، کل آبادی صرف 32 ہزار ہے جب کہ روزانہ 18 ہزار سیاح ملک میں آتے ہیں، مسلمان سات فیصد اور یہودی تین فیصد ہیں،

جبرالٹر ’’کرائم فری‘‘ ہے، لوگ دروازے اور گاڑیاں کھلی چھوڑ جاتے ہیں، ملک میں کسی کا پرس گر جائے تو وہ گھوم گھام کر اس تک پہنچ جاتا ہے، جبرالٹر کی تاریخ میں آج تک برطانیہ کی حکومت میں صرف دو قتل ہوئے، چوری کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں، گورنر ملک کا سربراہ ہے، اس کی تعیناتی ملکہ برطانیہ کرتی ہے، گورنر ہاؤس مین اسٹریٹ میں واقع ہے اور گورنر عام لوگوں کی طرح باہر نکل کر چلتا پھرتا رہتا ہے، جبرالٹر کا ائیر پورٹ دنیا کا حیران کن ہوائی اڈہ ہے۔ جس کے متعلق دلچسپ معلومات پیج پر پوسٹ ہوچکی ہے۔ائیرپورٹ کی آدھی لینڈنگ اسٹرپ پانی کے اندر ہے، یہ حصہ سمندر میں پتھر اور مٹی ڈال کر تعمیر کیا گیا، باقی حصہ خشکی پر قائم ہے لیکن ان دونوں کے درمیان ملک کی مرکزی سڑک ہے، یہ سڑک ائیر اسٹرپ کو کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے، سڑک پر ہر وقت ٹریفک رواں دواں رہتی ہے، جہاز کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران یہ سڑک بند کر دی جاتی ہے، جہاز اترتا یا ٹیک آف کرتا ہے اور پھر سڑک دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی جاتی ہے، جہاز کی لینڈنگ کے لیے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے کیونکہ ایک سیکنڈ کی غلطی سے جہاز سیدھا پانی میں جا سکتا ہے۔
جبرالٹر کے لوگ صلح جو اور مہذب ہیں، یہ رک کر ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے ہیں، کوئی بیمار ہو جائے یا کسی کی شادی ہو تو پورے ملک کو معلوم ہوتا ہے، ملک کے دو بڑے سورس آف انکم ہیں، سیاحت اور آن لائن جواء۔ ملک کی نصف آبادی سے زیادہ سیاح روزانہ یہاں آتے ہیں، یہ سیاح ملک کی معیشت چلا رہے ہیں، تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ فری ہے، بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف دیے جاتے ہیں، بچے ان وظائف کے ذریعے برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں، حکومت ان طالب علموں کو رہائش اور ہوائی ٹکٹ تک دیتی ہے،عوام کے لیے علاج مفت ہے۔
ملک کے اندر ٹرانسپورٹ بھی فری ہے، آپ کسی بھی جگہ بس میں سوار ہو جائیں اور جہاں چاہیں اتر جائیں۔ جہاں طارق بن زیاد اترا تھا اور اس نے اپنی کشتیاں جلائی تھیں، اب یہ ایک چھوٹا سا ساحلی علاقہ ہے، آج کل وہاں رہائشی ایریا ہے، اسلام کے اس عظیم مجاہد نے اپنی کشتیاں بھی یہیں جلائیں تھیں، طارق بن زیاد نے وہاں ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنائی تھی لیکن وہ مسجد ختم ہو چکی ہے تاہم سعودی عرب نے وہاں سفید رنگ کی ایک خوبصورت سی مسجد تعمیر کر دی ہے، یہ مسجد ساحل اور جبرالٹر کی سبز پہاڑیوں کے درمیان واقع ہے اور یہ ماحول کو خوبصورت بھی بناتی ہے اور وہاں تقدس کے سگنل بھی پھیلاتی ہے،
جبرالٹر کی اصل اٹریکشن اس کی دونوں پہاڑیاں ہیں، یہ چونے کے پتھر کی پہاڑیاں ہیں، پہاڑیوں پر دیکھنے کی چار چیزیں ہیں، پہلی چیز اس کے غار ہیں، پہاڑ کے اندر 52 کلو میٹر لمبے 140 غار ہیں، یہ غار جبرالٹر کی چھاؤنیاں ہیں، غار میں گولہ بارود بھی ہے اور فوجی جوانوں کی رہائش گاہیں بھی۔ غاروں کا فوجی استعمال 1779ء سے 1783ء کے درمیان شروع ہوا، اس دور میں یورپ کے بڑے ملکوں نے جبرالٹر پر قبضے کے لیے اس کا محاصرہ کر لیا، دشمنوں کی 33 ہزاز فوج نے جزیرے کو گھیر لیا، ملک کی آبادی سات ہزار تھی، یہ لوگ پہاڑوں پر چڑھ گئے، پہاڑوں کے اندر پہلے سے غار موجود تھے۔
جبرالٹر کے لوگوں نے ان پہاڑوں کو وسیع کیا، ان کے دھانوں پر توپیں لگائیں اور وہاں سے دشمنوں پر گولہ بار ی شروع کر دی، یہ ایک حیران کن تکنیک تھی، دشمن نے چار سال محاصرہ کیے رکھا لیکن وہ کوشش کے باوجود جبرالٹر پر قبضہ نہ کر سکا، وہ دن ہے اور آج کا دن ہے یہ غار جبرالٹر کا پینٹا گان ہیں، پہاڑوں میں دیکھنے والی دوسری چیز اس کی سو سو ٹن کی دوبڑی توپیں ہیں، یہ توپیں دونوں پہاڑوں پر نصب ہیں، ایک توپ کا رخ مراکش کی طرف ہے اور دوسری اسپین کو فوکس کیے ہوئے ہے، یہ توپیں دس کلو میٹر تک مار کر سکتی ہیں اور یہ ملک کا سب سے بڑا دفاع ہیں۔
طارق بن زیاد نے اپنے زمانے میں سمندر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پہاڑ کی اترائی پر چھوٹا سا قلعہ بنایا تھا، وہ قلعہ وقت کے ہاتھوں ختم ہوگیا، چودہویں صدی عیسوی کے مراکشی حکمرانوں نے بعد ازاں انھی بنیادوں پر نیا قلعہ تعمیر کیا، یہ قلعہ آج تک قائم ہے اور یہ مورش قلعہ کہلاتا ہے، اسپین کے لوگ مسلمانوں کو مراکش کی نسبت سے موریا یا مورش کہتے تھے، پہاڑ کے شروع میں یونانی خدا ہرکولیس کا ایک ستون بھی ایستادہ ہے۔
جبرالٹر میں پورے یورپ کے مقابلے میں پٹرول سستا ہے، حکومت نے حکمت عملی کے تحت پٹرول سستا کیا، پٹرول سستا ہونے کی وجہ سے بحری جہاز جبرالٹر سے روزانہ لاکھوں ٹن پٹرول خریدتے ہیں، حکومت پٹرول سے کوئی منافع نہیں کماتی لیکن یہ جہازوں کی پارکنگ فیس اور محصول کی مد میں اربوں روپے سالانہ کما لیتے ہیں اور یہ رقم بعد ازاں عوام کی بہبود پر خرچ ہوتی ہے۔


آپ میں کچھ لوگوں نے نسیم حجازی کا ناول "یوسف بن تاشفین " تو ضرور پڑھا ہوگا۔ جس میں یوسف بن تاشفین کی زندگی کے کچھ پہلووں پر نظر ڈالی گئی ہے۔ اور اس میں ناول کی شکل میں بتایا گیا ہے کہ یوسف نے کس طرح اندلس میں مسیحی یلغار کو روکے رکھا۔ آئیے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو یوسف بن تاشفین کے متعلق کچھ بتاتے ہیں۔
یوسف بن تاشفین نے 1061ءسے 1107ءتک حکومت کی۔ وہ بڑا نیک اور عادل حکمران تھا،اس کی زندگی بڑی سادہ تھی۔ تاریخ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ صحرائے اعظم میں اسلام کی اشاعت اور اندلس میں مسیحی یلغار کو روکنا اس کے بہت بڑے کارنامے ہیں۔ شہر مراکش کی تعمیر بھی قابل فخر کارناموں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اس طرح اس نے ایک نیم وحشی علاقے میں دارالحکومت قائم کرکے تہذیب اور علم کی بنیاد ڈالی۔ یوسف نے تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ اس کی قائم کی ہوئی سلطنت دولت مرابطین (1061ءتا 1147ء) کہلاتی ہے۔ یوسف کے انتقال کے بعد یہ حکومت مزید 40 سال قائم رہی۔ اس کے بعد جن لوگوں کی حکومت ہوئی وہ موحدین کہلاتے تھے۔ سلطنت موحدین میں بھی کچھ سلاطین بڑے ہی قابل ذکر تھے ۔ جن میں ابو یوسف یعقوب المنصور اور عبدالمومن بڑے قابل ذکر نام ہیں۔ جن کا تذکرہ ان شاءاللہ جلد ہی اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں سے کروں گا۔
یوسف بن تاشفین مراکش کے جنوب میں صحرائی علاقے کارہنے والا تھا جس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے صحرائے اعظم اور اس کے جنوب میں خاندان مرابطین کی حکومت قائم کی اور بعد ازاں اسے اسپین تک پھیلادیا۔ اس نے صحرائے اعظم میں رہنے والے نیم وحشی اور حبشی باشندوں سے کئی سال تک لڑائیاں کیں اور اپنی حکومت دریائے سینی گال تک بڑھادی تھی۔ یہ لوگ ان قبائل کے خلاف جہاد ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان میں اسلام کی تبلیغ بھی کرتے تھے اور اس طرح انہوں نے بے شمار بربروں اور حبشیوں کو مسلمان بنایا۔ تبلیغ کا یہ کام یوسف کے چچا عبداللہ بن یٰسین کی نگرانی میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے دریائے سینی گال کے ایک جزیرے میں ایک خانقاہ بنائی تھی۔
شروع میں یوسف بن تاشفین اس کام میں اپنے چچا کے ساتھ تھا لیکن بعد میں یوسف شمال کی طرف آگیا اور یہاں فاس اور دوسرے شہر فتح کرکے کوہ اطلس کے دامن میں واقع شہر مراکش کی بنیاد ڈالی۔ اندلسی مسلمانوں کا وفد یوسف سے امداد لینے کے لئے اسی شہر مراکش میں آیا تھا۔
یوسف بن تاشفین کا تذکرہ شائد جنگ زلاقہ کے بغیر ادھورا ہے اس لئے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو جنگ زلاقہ کے بارے بھی کچھ تفصیل بتاتے ہیں۔جب اندلسی مسلمانوں کا وفد یوسف سے مدد مانگنے مراکش آیا تویوسف بن تاشفین اندلسی مسلمانوں کی مدد کے لئے تیار ہوگیا اور ایک طاقت ور فوج کے ساتھ اندلس روانہ ہوا۔ 1086ء میں عیسائی بادشاہ الفانسو نے ”زلاقہ“ کے میدانِ جنگ میں مسلمانوں کامقابلہ کیا۔ ایک سخت لڑائی کے بعد یوسف بن تاشفین نے الفانسو کو شکست دی۔ جنگ زلاقہ نے ایک انقلاب پیدا کردیا،عیسائیوں کی ہمتیں ٹوٹ گئیں اور یوسف بن تاشفین نے اندلس کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو سلطنت مرابطین میں شامل کرلیا۔
اس جنگ وجوہات کچھ یوں تھیں۔ ہشام ثانی نے اپنے 26 سالہ دور حکومت میں ہسپانیہ میں ابھرتی ہوئی عیسائی ریاستوں کے خلاف 52 مہمات میں حصہ لیا اور کبھی بھی شکست نہیں کھائی لیکن 1002ء اس کے انتقال کے بعد اسپین میں مسلم حکومت کو زوال آگیا اور وہ کئی حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ 1082ء میں الفانسو ششم نے قشتالہ سے اپنی تاریخی فتوحات کے سفر کا آغاز کیا۔ نااہل مسلم حکمرانوں میں اسے روکنے کی ہرگز صلاحیت نہیں تھی۔ 1085ء میں اس نے بنو امیہ کے دور کے دارالحکومت طلیطلہ پر قبضہ کرلیا۔ شہر کے عظیم باسیوں نے 5 سال تک عیسائیوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی لیکن بالآخر ہمت ہار بیٹھے۔ الفانسو کا اگلا ہدف سرغوسہ کی کمزور ریاست تھی۔ مسلم حکمرانوں کی نااہلی کے مکمل ادراک کے بعد علماء نے شمال مغربی افریقا میں دولت مرابطین کے امیر یوسف بن تاشفین سے رابطہ کیا اور ان سے اندلس کی ڈوبتی ہوئی مسلم ریاست کو بچانے کا مطالبہ کیا۔ جس پر یوسف نے تیاری شروع کردی۔
قشتالہ کے بادشاہ الفانسو ششم کو 80ہزار شہسواروں، 10ہزار پیادوں اور 30 ہزار کرائے کے عرب فوجیوں کی خدمات حاصل تھیں۔جبکہ یوسف کی فوج بیس ہزار کے قریب تھی۔20 ہزار مسلم افواج میں سے شامل 12 ہزار بربر (10 ہزار شہسوار اور دو ہزار پیادی) بہترین جنگجو تھے جبکہ مقامی 8 ہزار افواج شہسواروں اور پیادہ افواج پر مشتمل تھے۔ دونوں سپہ سالاروں نے جنگ سے قبل پیغامات کا تبادلہ کیا۔ یوسف نے دشمن کو تین تجاویز پیش کیں: ١۔ اسلام قبول کرو، ٢۔ جزیہ ٣۔ یا جنگ ۔
الفانسو نے مرابطین سے جنگ کو ترجیح دی۔جنگ 23 اکتوبر1086ء بروز جمعہ صبح سورج نکلتے وقت الفانسو کے حملے کے ساتھ شروع ہوئی۔ یوسف نے اپنی فوج کو دستوں میں تقسیم کیا پہلے دستے کی قیادت عباد ثالث المعتمد کررہا تھا جبکہ دوسرے دستے کی قیادت خود یوسف بن تاشفین نے کی۔ دوپہر تک المعتمد کی افواج ہی الفانسو کا مقابلہ کرتی رہیں جس کے بعد یوسف بن تاشفین اپنی فوج سمیت جنگ میں داخل ہوا اور الفانسو کی افواج کا گھیرائو کرلیا جس پر عیسائی افواج میں افراتفری پھیل گئی اور یوسف نے سیاہ فام باشندوں پر مشتمل تیسرے دستے کو حملے کا حکم دے دیا جس نے آخری اورفیصلہ کن حملہ کرتے ہوئے جنگ کا فیصلہ مسلم افواج کے حق میں کردیا۔ مسلمانوں کی فیصلہ کن فتح کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 60ہزار کے عیسائی لشکر میں سے 59ہزار 500 اس جنگ میں کام آئے جبکہ الفانسو زندہ بچ گیا تاہم اس کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی۔
اس میدان جنگ کو زلاقہ کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کا مطلب ”پھسلتا ہوا میدان“ ہے کیونکہ معرکے کے روز اس قدر خون بہا کہ افواج کو قدم جمانے میں مشکل ہونے لگی۔ عیسائی ذرائع اس جنگ کو Battle of Sagrajas کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس تاریخی فتح کے نتیجے میں اگلے 300 سال تک اسپین میں مسلم حکومت موجود رہی۔ اگر یہ فتح نہ ہوتی تو مسلمانوں کی حکومت 1092ء میں ہی ختم ہوجاتی۔

اس جنگ کو صلیبی جنگوں کے آغاز کی اہم ترین وجہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں شکست کے بعد ہی عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جارحیت کے سلسلے کا آغاز کیا۔جس کا جواب بعدازاں صلاح الدین ایوبی نے باخوبی دیا۔
یقینا آپ دوستوں میں بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہوں گے آخر یہ کتاب کب اور کیسے شروع ہوئی توآج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس حیرت انگیز کتاب کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات دیتے ہیں۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز ایک سالانہ چھپنے والی کتاب ہے جس میں انسانی کارناموں اور فطری دنیا کے ریکارڈ درج ہیں۔ اپنی فروخت کے لحاظ سے یہ کتاب خود ایک ریکارڈ ہے۔یہ کتاب بھی امریکہ میں عوامی لائبریریوں سے اکثر چوری ہونے والی کتابوں میں سے ایک ہے. اب تک دنیا بھر میں ١٢٠ ملین سے زائد گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کاپیاں فروخت کی جا چکی ہیں. ہر سال اس کتاب کا نیا اڈیشن شائع کیا جاتا ہے. جس میں گزشتہ سال میں بننے والے نئے ریکارڈ کا اندراج ہوتا ہے.
اس کی شروعات کیسے ہوئی
١٠ نومبر ١٩٥١ کو سر ہیو بیور، بعد میں گینز بک آف بریوریز کے مینیجنگ ڈائریکٹر، شمالی سلوب میں کاؤنٹی ویکسفورڈ، آئر لینڈ میں دریائے سینی کی طرف سےایک شوٹنگ پارٹی پر چلے گئے.وہاں پر انھیں کھیل دیکھ کر یہ احساس ہوا کے ان کا ریکارڈ ہونا بہت ضروری ہے، اور اس سے پہلے اس طرح کی دنیا میں کوئی کتاب بھی موجود نہیں ہے. اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوا انہوں نے ایک سوال و جواب کی کتاب شائع کی جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی. اگست ١٩٥٤ میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی ایک ہزار کاپیاں چھاپی گئیں. اس کے بعد ١٠٧ فلیٹ سٹریٹ، لندن میں ٢٧ اگست ١٩٥٥ کو ١٩٧ صفحوں پر مشتمل ایڈیشن جاری کیا گیا، جو برطانیہ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے لسٹس میں سب سے اوپر رہا. اگلے سال یہ امریکہ میں شروع کیا گیا اور اس کی ٧٠٠٠٠ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں. کیونکہ کتاب ایک حیرت انگیز ہٹ بن گئی تھی اس لئے اس کے بعد بھی اس کی بیشمار کاپیاں شائع کی گئیں. گینز سوپر لیٹو جو کے بعد میں (گنیز ورلڈ ریکارڈزلمیٹڈ) کے نام سے جانا جاتا ہے اس ادارے نے ١٩٥٤ میں باضابطہ طور پر پہلی کتاب شائع کی. گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کا گلوبل ہیڈکوارٹر لندن میں ہے. اب یہ کتاب اتنی مقبولیت حاصل کر چکی ہے کہ ہر خاص و عام کی زبان پر اس کا نام ہے.
یہ کتاب مختلف حقائق پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ہر طرح کے ریکارڈذ جو کے انسانی مدمقابلین اور بہت سے امور اور اجناس کا احاطہ کرتے ہیں. ہر ایڈیشن گینز بک آف ڈیٹا بیس کے پاس محفوظ ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نئے ریکارڈ بھی شامل ہوتے رہتے ہیں. کسی ریکارڈ کو توڑنے یا نئے ریکارڈ کو درج کرونے کے لئے تحریری درخواست جمع کروانی پڑتی ہے. درخواست کے جواب کے لئے کافی انتظار کرنا پڑتا ہے جو لوگ ٤ سے٦ ہفتے انتظار نہیں کر سکتے وہ ٤٥٠$ ادا کر کے فوری اندراج کروا سکتے ہیں. یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کاپی رائٹ کتاب ہے، اس کے علاوہ ٹیلی ویژن سیریز کی ایک بڑی تعداد اسے ناظرین کو دکھاتی ہے. گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی تمام فہرست ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے.
ریکارڈز کی وضاحت
گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز دنیا کے بہترین اندراج پرمحیط ہے، اس میں بہت سی وجوہات کی بنا پر نئے ریکارڈ شامل بھی کیے جا سکتے ہیں اور ختم بھی کیے جا سکتے ہیں. یہ تمام اختیارات گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے پاس ہیں. لوگ اس میں نئے ریکارڈ شامل کروا سکتے ہیں بشرط یہ کے وہ پہلے ریکارڈ سے بہتر ہو.
اخلاقی مسائل اور سلامتی کی تشویش
گینز ورلڈ ریکارڈز ایسے اندراج قبول نہیں کرتا جو اخلاقیات سے گرے ہوے ہوں یا جن میں جانوروں کے قتل یا نقصان پہنچانے سے متعلق کچھ ہو اس کے علاوہ گینز پوسٹ یا ای میل کے ذریعے بھیجے ہوے خط سے کسی بھی ریکارڈ کو قبول نہیں کرتا ہے.
ریکارڈز کی وضاحت میں مشکلات
کچھ اقسام کے لئے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے اصول مختلف ہیں جیسے کہ گینز کی ویب سائٹ خوبصورتی سے متعلق کسی بھی دعوے کو قبول نہیں کرتی ہے کیوں کہ اس کی پیمائش ممکن نہیں ہے.
16 فروری، 2014ء کو لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں 29،040 افراد نے مل کر دنیا کے سب سے بڑے انسانی پرچم کا گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ قائم کیا

حدیث شریف میں ہے :’’ حضرتِ سَیِّدُنا صُہَیْب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک بادشاہ ہواکرتاتھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، جب وہ بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا: میں بوڑھا ہوگیاہوں ، لہٰذا میرے پاس کسی لڑکے کو بھجواؤتاکہ میں اسے جادو سکھاؤں۔ چنانچہ، بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیج دیا تو وہ اسے سکھانے لگا، لڑکے کے راستے میں ایک راہب رہتا تھا ۔ راہب کی باتیں اسے بہت اچھی لگتیں۔ چنانچہ، وہ اس کے پاس بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا ، جب وہ جادو گر کے پاس دیر سے پہنچتا تو وہ اسے مارتا، لڑکے نے راہب سے شکایت کی تو اس نے کہا : جب جادوگر سے ڈر محسوس کرو تو کہہ دیا کرو کہ مجھے گھر والوں نے روک رکھاتھا اور جب گھر والوں کا خوف ہو تو کہہ دو کہ مجھے جادو گر نے روک رکھا تھا۔ ( چنانچہ یو نہی سلسلہ چلتا رہا)پھر ایک دن لڑکے نے راستے میں ایک بہت بڑا جانور دیکھا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا تواس نے دل میں کہا :آج معلوم کروں گا کہ جادو گر افضل ہے یا راہب ؟ چنانچہ، اس نے یہ دعا مانگی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادو گر کے معاملے سے زیادہ پسندیدہ ہے تو اس جانور کو ہلاک کردے تاکہ لوگ گزر سکیں۔پھر اس نے ایک پتھر پھینکااور اس جانورکو ہلاک کر دیاتو لوگ گزر گئے، اب اس نے راہب کے پاس آکر واقعہ سنایاتو راہب نے کہا: بیٹا! آج تم مجھ سے افضل ہوگئے ہو، تمہارا معاملہ وہاں تک پہنچ گیا جس کو میں دیکھ رہا ہوں اور عنقریب تمہاری آزمائش ہوگی جب تمہیں آزمایا جائے تو میرے بارے میں نہ بتانا ۔اب لڑکے کی یہ کیفیت ہو گئی کہ ( اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے) و ہ پیدائشی اندھوں اور برص والوں کوشفا د ینے لگا اور لوگوں کا ہر قسم کا علاج کرنے لگا ، بادشاہ کا ایک ہم مجلس نابینا تھا جب اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو بہت سے تحائف لے کر اس کے پاس آیا اور کہا : اگر تو مجھے شِفا دیدے تو یہ سب کچھ تجھے دیدیا جائے گا۔ اُسنے کہا: میں کسی کو شِفا نہیں دیتا، شِفا تو اللہ تَعَالٰی کے دستِ قدرت میں ہے، اگر تو اس پرایمان لے آئے تو میں دعا کروں گااور وہ تجھے شِفا دے گا۔ چنانچہ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لایا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے شِفا عطا فرمادی ، پھر وہ حسبِ معمول بادشاہ کے پاس آکر بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا: تیری بینائی کس نے لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا: کیامیرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تیرا رب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے اسے پکڑا اور اس وقت تک سزا دیتا رہا جب تک کہ اس نے لڑکے کے بارے میں نہ بتادیا۔پھراس لڑکے کو لایا گیا تو بادشاہ نے کہا :اے لڑکے تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ تو مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو تندرست کردیتا ہے، اوراب تو خوب ماہر ہو گیا۔ لڑکے نے کہا : میں تو کسی کو شِفا نہیں دیتا، بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ شِفا دیتا ہے۔ ( یہ سن کر ) بادشاہ نے اسے پکڑا اور مسلسل سزا دیتا رہا یہاں تک کہ اس نے راہب کا پتا بتادیا۔ راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ اپنا دین چھوڑ دے تو اس نے صاف انکار کر دیا ۔
بادشاہ نے آرا اس کے سر کے درمیان رکھا اور سرکے دو ٹکڑے کردیئے، پھراپنے مُصاحِب سے کہا کہ وہ اپنا دین چھوڑ دے تو اس نے بھی انکار کر دیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھا اور اس کے دو ٹکڑے کردیئے، پھر لڑکے کو لایا گیا اور اُس سے بھی دین چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا، اُس نے بھی انکار کردیا۔ چنانچہ، اُسے چند آدمیوں کے حوالے کیا گیا کہ اگر یہ اپنے نئے دین سے پلٹ جائے تو ٹھیک ورنہ اسے فلاں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دینا ۔ چنانچہ، لوگ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس نے دعا کی : اے اللہ عَزَّوَجَل! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے کفایت کر۔ چنانچہ، پہاڑ لرزنے لگا اور وہ گر پڑے ،(اور ہلاک ہوگئے) لڑکا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والوں نے کیا کیا ؟کہا: اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ان سے بچالیا۔ بادشاہ نے اسے کچھ اور آدمیوں کے حوالے کیا اور کہا: اسے کشتی میں سوار کر کے دریا کے وَسْط میں لے جاؤ اگر اپنے دین سے پھر جائے تو بہتر ہے ورنہ اسے ( دریا میں )پھینک دینا۔ چنانچہ، وہ اُسے لے گئے،تو اُس نے دعا کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے محفوظ رکھ۔ چنانچہ، کشتی اُلٹ گئی اور وہ غرق ہوگئے، لڑکا پھر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والے کہاں ہیں ؟ اُس نے کہا: اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ان سے بچالیا اور تو اُس وقت تک مجھے قتل نہیں کرسکتا، جب تک میری بات پوری نہ کرے، بادشاہ نے کہا: بتا کیا بات ہے ؟ اُس نے کہا :لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مجھے ایک لکڑی پر سولی چڑھا دے پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر لے کر یہ الفاظ کہتے ہوئے مجھے تیر ماردے ،’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے۔‘‘تو جب ایسا کرے گا تو مجھے قتل کرسکے گا ۔
چنانچہ، بادشاہ نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے لڑکے کو سولی پر لٹکا کر اس کے تَرکَش سے ایک تیر لیا اور کمان میں رکھ کر’’ بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَام‘‘ کہا :اور تیر پھینک دیا جو لڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ ا س نے اپنا ہاتھ کنپٹی پر رکھا اور اس دار فانی سے آخرت کی طرف کوچ کر گیا ۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ۔جب لوگوں کی یہ حالت بادشاہ کو بتا کر کہا گیا کہ تجھے جس بات کا خطرہ تھا اللہ (عَزَّوَجَل) نے وہ سب کچھ تیرے ساتھ کردیا ہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے گلیوں کے دَہانے پر خندق کھودنے کا حکم دیا۔ چنانچہ، خندقیں کھود کر ان میں آگ جلا دی گئی اور بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ جو شخص اپنے دین سے باز نہ آئے اُسے آگ میں ڈال د یا جائے یا اس سے کہا جائے آگ میں داخل ہو جا! چنانچہ، لوگوں نے ایسے ہی کیا یہاں تک کہ ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ آئی۔ وہ آگ میں داخل ہونے سے کچھ ہچکچا نے لگی تو بچے نے کہا :ماں صبر کر، تو حق پر ہے۔

( مسلم ، کتاب الزھد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود، ص۱۶۰۰، حدیث:۳۰۰۵)
حدیث میں جس بادشاہ کاذکرہے اس کا نام زُرْعَہ بِنْ حَسَّان تھا حُمَیْر اور گردو نواح کا بادشاہ تھا اسے یوسف بھی کہا کرتے تھے۔ (تفسیر روح البیان،پ۳۰،البروج، تحت الایۃ:۴، ۱۰/۳۸۶)
حدیث میں جس لڑکے کاذکرہوا ’’دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن‘‘ میں اس کا نام عَبْدُ اللہ بن تَامِر بیان کیا گیا ہے ۔
(دلیل الفالحین، باب فی الصبر، ۱/۱۶۲)

( رياضُ الصالحين سے ماخوذ حدیث مسلم شریف )

چونڈہ ۔۔۔۔۔۔۔ ضلع سیالکوٹ کا ایک سرحدی گاں ہے جہاں ایک دن میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی اور چونڈہ کو جنگِ ستمبر 1965 کے حوالے سے دنیا بھر میں بے پناہ شہرت و اہمیت حاصل ہو گئی۔ میجر شبیر شریف شہید نے اس محاذ پر بھی دادِ شجاعت دی اور اپنے وطن کی حفاظت کے لئے جان کی بازی لگا دی۔
سیالکوٹ سیکٹر کا محاز دشمن کی پلاننگ کے تحت بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ چپراڑ سے لے کر جسٹر تک کا 24 میل کا علاقہ میدانِ کارزار بنا ہوا تھا۔ بھارتی فوج کی پلاننگ یہ تھی کہ چونڈہ کو ہر قیمت پر فتح کر لیا جائے تاکہ ڈسکہ اور گوجرانوالہ کو بآسانی نشانہ بنایا جا سکے۔ اس کے لئے اس نے اپنی بہترین فوج اور ٹینکوں کو جنگ میں جھونک دیا۔ اگر وہ چونڈہ پر قبضہ کر لیتا تو بڑی آسانی سے گوجرانوالہ کے نزدیک جرنیلی سٹرک کو کاٹ سکتا تھا۔
چونڈہ کا محلِ وقوع یہ ہے کہ سیالکوٹ سے پندرہ میل دور جنوب مشرق میں پسرور سے ڈسکہ اور گوجرانوالہ کے راستے پر یہ بے حد اہم جگہ پر واقع ہے۔ اگر دشمن چونڈہ کو سر کر لیتا تو اسے دو فائدے فوری طور پر حاصل ہو جاتے:
1: سیالکوٹ اس کے قبضے میں چلا جاتا۔
2:۔ لاہور، وطنِ عزیز کے دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹ جاتا۔
سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن کی منصوبہ بندی کے تحت اس کے اہداف میں سیالکوٹ کے ساتھ بڈیانہ، ظفروال اور چونڈہ تھے۔ جس کے لئے اس نے سات محاذ کھول رکھے تھے۔ ان سات محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے جب وہ پاک سرحدوں پر پہنچا تو اس کی فوج 12 حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن کو پلاننگ کے تحت کہیں تو آگے بڑھنا تھا اور کہیں دائیں اور بائیں طرف سے سفر کرتے ہوئے بلآخر ایک دوسرے کے ساتھ آ ملنا تھا۔ اور جب یہ فوج کے 12 حصے کسی ایک مقام پر جمع ہو جاتے تو ایک جرار لشکر کی شکل میں پاک فوج کے سامنے ڈٹ جاتے۔
بھارتی فوج کا ایک حصہ نالہ ڈیک کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ اس حصہ کو فوج میں بھارتی فوج کے تین ڈویژن پیدل اور ایک ڈویژن بکتر بند شامل تھا مگر سامنے پاک فوج کا جیالا توپ خانہ موجود ؟؟تھا جس نے اس ٹڈی دل کو اپنی جگہ سے ایک قدم آگے بڑھنے نہ دیا اور اپنی گولہ باری سے اس کا ناک میں دم کئے رکھا۔
سیالکوٹم سیکٹر کے عقب میں تقریبا تیس میل طویل اور پانچ دس میل چوڑی پٹی پر تاریخ کی سب سے بڑی مشینی جنگ لڑی گئی۔ یہ میدان بظاہر چھوٹا سا تھا مگر اس میں 10 لاکھ سے زائد فوجی، 600 سے زائد ٹینکوں اور ہزاروں دیگر خود کار ہتھیاروں کے ساتھ باہم بر سرِ پیکار تھے۔ ان کے سروں پر فضا میں بمبار جیٹ مصروفِ کار تھے۔ زمین کا سینہ گولوں کی گھن گرج سے دہل رہا تھا۔ آگ اور دھوئیں کے بادل آسمان سے باتیں کر رہے تھے اور ہر طرف چیخوں اور نعروں کا طوفان برپا تھا
سیکٹر میں بھارتی فوج تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل تھی۔ نیز گولے بارود سے لیس 225ٹینکوں کی کمک بھی اس علاقے میں پہنچ گئی۔
دوسری طرف میدانِ جنگ میں صرف پچاس ہزار پاکستانی فوجی موجود تھے۔ان کے پاس صرف 135ٹینک تھے۔بعدازاں وہاں مزید15ٹینک پہنچا دیے گئے۔
سیالکوٹ سیکٹر میں پاکستانی فوج کے سربراہ‘میجر جنرل ابرار حسین تھے۔ وہ ایک تجربے کار‘ ثابت قدم اور بہادر فوجی تھے۔ علاقے میں دشمن کی عددی و مشینی قوت بہت زیادہ تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ہوش و حواس نہیں کھوئے اور اپنے جوانوں کا حوصلہ بھی بلند رکھا۔
12ستمبر سے لے کر 21ستمبر تک بھارتیوں نے وقتاً فوقتاً چونڈہ میں قائم پاکستانی حصار توڑنے کے لیے کئی چھوٹے بڑے حملے کیے‘ مگر ہر بار اُنہیں منہ کی کھانی پڑی۔ پاکستانی افسروں اور جوانوں نے بے مثال دلیری دکھائی اور اپنے سے کہیں زیادہ طاقت ور دشمن کو شکست فاش دے ڈالی۔
چونڈہ کی لڑائی میں پاک فوج نے اصل اتر اور پھلروان کی لڑائیوں میں پسپائی کا بدلہ چکا دیا
نیز حملہ آور بھارتیوں کو ایسی زبردست شکست دی کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آ گیا
شواہد کے مطابق اپنے جسموں سے بم باندھ کر جس طرح پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے لیٹ کر ٹینکوں کے کچھ اس طرح پرخچے اڑ ا دیئے کہ بھارتی فوج اپنے حواس کھو بیٹھی اور ذہنی طور پر اپنی شکست تسلیم کرلی اس
چونڈہ میں تقریباً 120بھارتی ٹینک تباہ ہوئے۔ لڑائی کی شدت کا اندازہ یوں لگائیے کہ 800گز کے فاصلے پر انگریز صحافیوں نے گیارہ تباہ شدہ بھارتی ٹینک پائے۔ ں۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کوچھوڑ کر دشمن نے فرار کی راہ اختیار کی اور میدان میجر شبیر شریف کے ہاتھ رہا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ چونڈہ کے محاذ پر پاکستانی ٹینکوں کا کمانڈر کون تھا کہ جس کی سربراہی
میں پاک فوج نے یہ تاریخی کارنامہ شجاعت انجام دیا؟؟
یہ تھے جنرل حمید گل

زلفی بھٹو کے مصنف اسٹینلے وولپرٹ کے بقول ٹکا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھٹو کو انھی کی طرح ایک وفادار، حکم بجا لانے والے، اپنے کام سے کام رکھنے والے جنرل کی تلاش تھی جس کے بارے میں شبہ تک نہ ہو کہ وہ کوئی آڑی ترچھی حرکت کرسکتا ہے۔
پاکستان کے سب سے طاقتور عہدے کے لیے سب سے جونیئر ضیا الحق کا انتخاب کیوں کر ہوا، اس بارے میں جتنے منہ اتنی باتیں۔ جنرل ٹکا خان چاہتے تھے کہ جنرل اکبر خان ان کے جانشین بنیں۔ تاہم آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل غلام جیلانی نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کہ جنرل ضیاء الحق بہتر ہیں، سب سے جونیئر ہیں اس لیے احسان مند بھی رہیں گے۔
اسٹینلے وولپرٹ کے بقول غالباً کانفیڈینشل رپورٹوں کے ساتھ ساتھ تصویریں سامنے رکھ کے یہ قیافہ شناسی بھی ہوئی ہوگی کہ جو آنکھوں میں سرمہ لگاتا ہو، سر کے بیچ میں سے گیلی مانگ نکالتا ہو اور چہرے پر مستقل احسان مندی طاری ہو وہی سب سے افضل ہے اور پھر یہ تاثر تو سونے پہ سہاگہ ہوگیا ہوگا کہ جنرل ضیا ایک خالص فوجی، مذہبی اور غیر سیاسی سوچ اور شراب سے فاصلہ رکھنے کے لیے معروف ہیں۔ ان کی زندگی احکامات کے مدار میں گھومتی ہے اور اردن میں بطور بریگیڈیئر تین برس قیام کے دوران انہوں نے جس وفاداری کے ساتھ شاہ حسین کے فلسطینی مخالفین کو نتھ پہنائی، وہ کام سے لگن میں اپنی مثال آپ ہے۔
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ضیا الحق بھٹو سے بڑے قیافہ شناس نکلے۔ انہوں نے منصب پانے سے بہت پہلے ہی بھٹو کی جاگیردارانہ عطا گیر نفسیات پڑھ لی تھی۔ روایت ہے کہ سنہ 1975 میں بھٹو صاحب نے ملتان میں سیکنڈ سٹرائیک کور کا دورہ کیا تو کمانڈر ضیاء الحق نے صاحب کی پسندیدہ غذاؤں پر پورا ہفتہ تحقیق کرائی اور صرف ایک رات میں بھٹو صاحب کے لیے کرنل کمانڈنٹ کی وردی سلوائی اور انہیں ٹینک میں بٹھا کر ان سے فائر بھی کروایا۔
جب وہ چیف آف آرمی سٹاف بنے تو اس ادب کو یقینی بنایا کہ ہمیشہ دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر تشکر آمیز دائمی زیرِ لب تبسم سجائے وزیرِاعظم سے دو قدم پیچھے چلیں۔ کبھی پرائم منسٹر نہیں کہا، ہمیشہ سر کہتے رہے۔
وولپرٹ کے مطابق جب رومانیہ کے صدر چاؤ شسکو پاکستان آئے تو بھٹو صاحب نے بھرے عشائیے میں چاؤ شسکو سے کہا کہ میں آپ کو اپنے نئے کمانڈر سے ملواتا ہوں۔ یہ کہہ کر بھٹو نے دور بیٹھے ضیاءالحق کو انگشتِ شہادت کے اشارے سے ایسے بلوایا جیسے اردلی کو بلاتے ہیں۔ ضیاء الحق بھی ماتھے پر خفیف سی شکن لائے بغیر نہایت عاجزی سے چاؤ شسکو سے جھک کے ملے۔
وولپرٹ کا خیال ہے کہ شاید یہی وہ لمحہ تھا کہ ضیاء الحق نے سوچ لیا ہو کہ اگر موقع ملا تو کم ازکم اسے تو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔
ضیاء الحق جو دہرہ دون فوجی کلچر کی آخری نشانی تھے، لگ بھگ ساڑھے 11 سال چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر برقرار رہے، تا آنکہ موت کے ہاتھوں ریٹائر ہوئے مگر مرنے سے پہلے پاکستان کا سماجی، سیاسی، آئینی حلیہ اور مستقبل بدل کے رکھ دیا۔
آج پاکستان کا مطالعہ قبل از ضیاء اور بعد از ضیاء دور میں بانٹے بغیر ممکن ہی نہیں۔گو ضیاء الحق نے مرتے دم تک سپہ سالاری اپنے ہاتھ میں ہی رکھی لیکن فوج کے روزمرہ معاملات چلانے کے لیے تین جرنیلوں یعنی سوار خان، خالد محمود عارف اور مرزا اسلم بیگ کو وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدوں پر متمکن رکھا اور جب ضیاء الحق نہ رہے تو بربنائے تقاضائے عہدہ و قسمت جنرل اسلم بیگ فوج کے اگلے فور سٹار سربراہ بن گئے۔
صدر الدین ہاشوانی ملک کے ممتاز بزنس مین ہیں‘ یہ اسماعیلی ہیں‘ پرنس کریم آغا خان کو اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں‘ اسماعیلیوں کی تین نشانیاں ہیں‘ علم دوستی‘ بزنس اور خیراتی ادارے۔ آپ کے لیے شاید یہ انکشاف ہو‘ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی بنیاد بھی اسماعیلیوں نے رکھی تھی اور جامع الازہر بھی انھوں نے بنائی تھی‘ اسماعیلیوں کے چودھویں امام المعوز نے الازہر مسجد اور دنیا کی پہلی اسلامی یونیورسٹی جامع الازہر کی بنیاد رکھی‘ ہاشوانی صاحب کا خاندان 1840ء میں اسماعیلیوں کے 46ویں امام‘ امام حسن علی شاہ کے ساتھ ایران سے بلوچستان آیا‘ امام حسن علی شاہ آغا خان اول کہلاتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
آپ اکثر خوشبویات کا استعمال کرتے ہیں۔۔لیکن کیا آپ نے کبھی پرفوم کی بوتل یا ڈبے پر دیکھا ہے کہ اس پر کیا لکھا ہوتا ہے۔۔ کبھی پرفیوم، کہیں یو ڈی پرفیوم، کہیں یو ڈی کلون اور کہیں یو ڈی ٹوائلٹ۔۔۔
ان سب میں کیا فرق ہوتا ہے؟۔
اصلی پھولوں، لکڑیوں، اور مصالحہ جات مثلا'' دار چینی، الائچی، لونگ، صندل، عنبر اور مشک وغیرہ سے جو خوشبو کشید کی جاتی ہے وہ تیل کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کو پرفیوم یا عطر کہا جاتا ہے۔۔عطر تقریبا'' چالیس فیصد خالص خوشبو ہوتی ہے۔۔اور یہ بہت مہنگا ہوتا ہے۔۔۔اس کے بعد یو ڈی پرفیوم کا نمبر آتا ہے۔۔۔ عام طور پر الکحل میں خالص عطر ایک تناسب سے ملایا جاتا ہے۔یو ڈی پرفیوم میں عطر کی مقدار پندرہ فیصد ہوتی ہے۔۔تیسرے نمبر پو یو ڈی کلون ہوتا ے جس میں عطر کی مقدار تقریبا'' دس فیصد ہوتی ہے۔۔۔ اور یو ڈی ٹوائلٹ میں یہ مقدار دس سے پانچ فیصد تک ہوتی ہے۔۔۔خالص عطر بہت تیز ہوتا ہے اور عام طور پر طبیعت میں بھاری پن پیدا کرتا ہے جبکہ یو ڈی کلون اور یو ڈی ٹوائلٹ بہت خوشگوار اور طبیعت کوتر و تازہ کر دیتے ہیں۔۔  تفصیل سے پڑھئے
محمد شاہ رنگیلا کانام تو ہر سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص نے سن رکھا ہو گا مگر صرف نام ،بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ کون تھا ،اس کا اصل نام کیا تھا اور تاریخ میں یہ محمد شاہ رنگیلا کے نام سے کیوں مشہور ہے،تو جناب یہ صاحب کوئی چھوٹا موٹا کردار نہیں اپنے وقت میں ہندوستان کا بڑا نامور بادشاہ تھا ،اس کا اصل نام روشن اختر تھا،وہ شاہ جہاں اختر کا بیٹا تھااور شہنشاہ عالم بہادر شاہ اول کا پوتا تھا،یہ 17ستمبر 9 171کوتخت نشین ہوا،اس نے بادشاہ بننے کے بعد اپنے لیے ناصر الدین شاہ کا لقب پسند کیا مگر تاریخ میں یہ محمد شاہ رنگیلا کے نام سے مشہور ہے، آپ اس کی شہنشاہانہ طبیعت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس نے اپنے دور میں اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کو بھی وزیر کا درجہ دے دیا تھا اور یہ گھوڑا شاہی دربار خلعت فاخرہ پہن کر شریک ہوتا وزیروں کے ساتھ کھڑا ہوتا اور ایک وزیر کا پورا پروٹوکول انجوائے کرتا، اور گھوڑے کو وزارت عطا کرنے والا یہ غالباً پہلا اور آخری شخص تھا، محمد شاہ رنگیلا ایک دن ایک قانون بناتا اگلے دن خود سب سے پہلے اس کی پامالی کرتا اور اسے فی الفور ختم کر دیتا،دن رات شراب پیتا اور بعض اوقات تو طوائفوں اور خوبصورت عورتو ں کو لٹا کر ان کے اوپر بیٹھ کر دربار کی سر پرستی فرماتا،کبھی زنانہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر تمام امراء وزراءاور روﺅسا کو بھی لیڈیز لباس زیب تن کرنے کا حکم دیتا اور یہ تمام واہ واہ کرتے ہوئے ہر حکم من و عن بجا لاتے،کسی میں بھی کسی بھی قسم کے ا نکار کی رتی بھر بھی گنجائش نہیں تھی،یہ اپنے قاضی کو شراب سے وضو کرنے کا حکم دیتا اور نظریہ ضرورت کا مارا قاضی ایک منٹ کی بھی دیر نہ لگاتا،اس کا حکم تھا کہ ملک بھر کی تمام خوبصورت عورتیں اس کی ملکیت اور امانت ہیں اور جو بھی اس امانت میں خیانت کرتا اور اس کا علم رنگیلے کو ہو جاتا تو وہ اسی وقت قابل گردن زنی قرار پاتا،روازانہ ایک حکم پر سینکڑوں قیدیوں کو جیل سے رہا کرنے کا حکم دیتا ساتھ ہی جیلر کو گنتی پوری کرنے کا حکم دیتا ،نتیجتاً جیلر اتنے ہی بے گناہ افراد پکڑ کر جیل میں بند کر دیتا،یہ شراب پی پی کر اپنے گردے جگر،اور اپنے جسم کا پورا نظام تباہ کر بیٹھا اور یہ رنگیلا ترین شہنشاہ26اپریل1748کو انتقال کر گیا،اس نے لگ بھگ 29 برس حکمرانی کی اور تاریخ میں اپنا نام ایک غلیظ کردار کے نام پر لکھوا کر اس دار فانی سے کو چ کر گیا.
سندھی زبان میں "موئن" کا مطلب "مردے" اور "دڑو" کا مطلب "ٹیلہ" جبکہ "جو" "کا" کے لئے استعمال ہوتا ہے اس طرح لفظ بنتا ہے "مردوں کا ٹیلہ"
یہ سندھ کی قدیم ترین تہذیب ہے جو ٢٦٠٠ قبل از مسیح کا زمانہ ہے ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ ٣٠٠٠٠ ہزار کی آبادی والا یہ شہر جدید ڈسٹرکٹ لاڑکانہ میں واقع تھا ١٩٢٢ میں ایک ہندوستانی تاریخ دان اور محقق آر ڈی بنجیری (Rakhaldas ) نے دریافت کیا ......
ان کی تباہی کی کوئی معقول وجہ آج تک بیان نہیں کی جا سکی یہاں سے نکلنے والے مجسمے یہ بتاتے ہیں کہ یہ قوم بت پرست تھی اس قوم کی ایک خاص بات انکا آبپاشی کا نظام ہے
یہاں کنووں کا ایک باقائدہ نظام تھا موجود تھا جسکے ذریعہ پانی کو جمع کیا جاتا تھا عظیم حمام انکی خاص عبادت کا حصہ تھا جہاں مرد و عورت غسل کرتے تھے .
عظیم کنواں انکی خاص نشانی ہے جو سینکڑوں چھوٹے کنووں تک پانی پہچانے کا بنیادی منبع تھا ...
قرآن کریم اور اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے ایک عجیب انکشاف ہوا کہ اسلامی مصادر میں بھی ایک قوم کا تذکرہ ملتا ہے جنکی خاص علامت کنواں ہی تھا یعنی " اصحاب الرس "
قال تعالى في سورة الفرقان :
(( وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا )).
وقال تعالى في سورة ق:
(( كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ ))
قصص القرآن میں ایک عجیب واقعہ پڑھنے کو ملا
لغت میں رس کے معنی پرانے کنویں کے ہیں اور اصحاب الرس کے معنی ہوے کنوے والے
ابو بکر بن عمر بن حسن نقاش اور سہیلی کہتے ہیں اصحاب الرس کی بستی میں ایک بہت بڑا کنواں تھا جسکے پانی سے وہ پیتے اور اپنی کھیتیاں سیراب کرتے تھے اس بستی کا بادشاہ بہت عادل تھا اور لوگ اس سے بہت محبت کرتے تھے جب اس بادشاہ کا انتقال ہوا تو لوگ بہت غمگین ہوے ایک دن ایک سرکش شیطان اس بادشاہ کی شکل میں پہنچا اور کہنے لگا میں وقتی طور پر تم لوگوں سے دور ہوا تھا اور اب میں واپس آ گیا ہوں اور ہمیشہ زندہ رہونگا لوگ بہت خوش ہوے اور ایک عظیم جشن کا انتظام کیا اس فسٹیول کے بعد اس شیطان نے ان پر حکومت شروع کر دی اور ان لوگوں کو عیش و عشرت اور بت پرستی پر ڈال دیا .
کہتے ہیں ان لوگوں میں حنظلہ بن صفوان نامی نبی مبعوث کیے گۓ جنہوں نے ان لوگوں پر دین کی دعوت پیش کی لیکن وہ لوگ شیطان کی پیروی میں اندھے ہو چکے تھے اور انہوں نے اس پیغمبر کو قتل کر دیا اور ان پر الله کا عذاب نازل ہوا تفسیر ابن کثیر سوره فرقان (البدایہ و النہایہ ١)
کچھ اور روایات میں ملتا ہے کہ ان پیغمبر کو ایک بڑے کنویں میں قید کر دیا گیا تھا اسی طرح ابن ابی حاتم کی روایت میں آتا ہے کہ اس قوم نے اپنے نبی کو کنویں میں دفن کر دیا تھا ...
آج کوئی بھی مکمل استحقاق سے نہیں کہ سکتا کہ "موئن جو دڙو" والے کون لوگ تھے اسی طرح اصحاب الرس کی باقاعدہ شناخت بھی ممکن نہیں لیکن دونوں کے مشترکات بیشمار ہیں-



عظیم کنووں کا نظام
بت پرستی
خوشحالی کے بعد اچانک تباہی
محققین کیلئے میدان کھلا ہے کہ مزید تحقیق کرکے معاملے کی حقیقت کو واضح کیا جاۓ
(http://www.mohenjodaro.net/wellindus76.html

ڈیئر عمران خان!
مجھے ڈر ہے کہ این اے 122 کی کامیابی کے پیچھے لگ کر آپ اپنی اور میری بربادی کا سفر دوبارہ سے شروع نا کر دیں۔ گزرے ڈھائی سالوں نے بہت دفعہ آپ کی سیاسی سوجھ بوجھ پر سوال اٹھائے ہیں اور ایسا بالکل نہیں کہ میرے لیے یہ کوئی انکشاف تھا۔ میں کبھی بھی آپ کی سیاسی بصیرت کو لے کر کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھا پھر بھی 2013 کے الیکشن میں جب میں نے اپنا ووٹ قومی اسمبلی کی نشست پر کھڑے اس امیدوار کو دیا جس کے پاس آپ کی پارٹی کا ٹکٹ تھا تو میں جانتا تھا کہ میرا ووٹ ضائع ہوگا۔ مگر آپ کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی خواہش کا اظہار صرف اسی صورت ممکن تھا۔
آپ نے میرے بھروسے کو توڑا اور میرے مان کو ملیامیٹ کر دیا۔ آپ نے ان 77 لاکھ لوگوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی جنہوں نے آپ کی پارٹی کو ووٹوں کے اعتبار سے دوسری بڑی جماعت بنا دیا۔ آپ بہت آسانی سے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مؤثر اور منفرد اپوزیشن سیاست کی داغ بیل ڈال سکتے تھے۔ آپ پاکستان کی پارلیمانی جمہوریت کا چہرہ بدل سکتے تھے۔ مگر اپنی ہٹ دھرمی، وقت پر فیصلہ نہ کرنے اور کسی سے بھی بنا کر نا رکھنے کی بری عادت نے ایک کاٹھ کے الو کو ٹین ڈبا بجانے کا موقع دے دیا جسے ڈھائی سالوں سے اسمبلی کے فلور پر چار و ناچار سننا پڑتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
شمالی شام اور عراق کے کچھ علاقوں پر گذشتہ دو سال سے زائد عرصے سے داعش کا قبضہ ہے اور اُن کے زیرِ نگیں علاقے میں نہ تو سالوں کی عمر پانے والے انسان محفوظ ہیں اور نہ ہی صدیوں کی عمر پانے والے آثارِ قدیمہ۔
ابھی قدیم میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے وارث شہر ''بابل'' کے آثار کی تباہی کا الم گہرا تھا کہ خبر ملی کہ شام میں واقع پالمائرہ شہر میں جہاں ان دنوں داعش کا راج ہے، وہاں موجود قدیم عہد کے رومی و یونانی معبدوں میں بارود نصب کر دیا گیا ہے۔ پھر یہ اطلاع آئی کہ وہاں رہائش پذیر ان آثار کے تحفظ اور تحقیق پر مامور خالد الاسعد نامی ضعیف ماہرِ آثارِ قدیمہ کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔ قصور یہ تھا کہ وہ بوڑھا قدیم بت پرستی کے عہد کی عمارات کا محافظ تھا۔
ابھی تصاویر جاری ہوئی ہیں کہ سب سے قدیم معبد کو بارود کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے۔ یونیسکو اور دیگر عالمی اداروں کے مذمتی بیانات جاری ہو رہے ہیں۔ شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ داعش سے صرف شام کی سالمیت کو ہی خطرہ درپیش نہیں ہے بلکہ یہ تنظیم شام کے تہذیبی ورثے، شناخت، اور شاندار ماضی کو بھی تاراج کردینا چاہتی ہے۔
جوں ہی تہذیبی ورثہ، شناخت، اور شاندار ماضی جیسے الفاظ نے دروازہء ذہن پر دستک دی تو یکلخت کچھ چھناکے سے ٹوٹ گیا۔
عکسی مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ''پاکستان میں ثقافتی محکموں کے کسی اہلکار سے اگر پوچھا جائے کہ ہماری ثقافت کیا ہے تو وہ فوری طور پر ناچ گانا، مصوری، اور ممکن ہے کہ پتنگ بازی کا نام لے کیوں کہ اس کی نظر میں یہی ہماری ثقافت ہے اور اس پر گلہ بھی کیوں کریں کہ اگر کبھی کسی غیرملکی سربراہ کی نرگسی حس کی تسکین بجا لانی ہو تو سرکاری طور پر ایسی ہی کسی تقریب کا اہتمام ہمارے ثقافتی محکموں کی ذمہ داری قرار پاتا ہے۔
پھر مفتی جی ہی فرماتے ہیں کہ اگر یہی سوال کسی سیاستدان، نامور صحافی، یا محب الوطن دانشور سے پوچھ لیا جائے تو وہ نظریہ پاکستان کا تحفظ، تصورِ پاکستان کی آبیاری، پورے جوش و ولولے سے قائد اور اقبال کے فرامین کی روشنی میں تحریکِ پاکستان، قراردادِ پاکستان، اور دو قومی نظریے کی بات شروع کردے گا ''کیونکہ اسی مزاج کے حامل شخص کو سرکار سے حب الوطنی کی سند عطا ہوتی ہے۔
ذرا گہرائی میں چلے جائیں تو اسی طرح کے صالح فکر افراد اردو زبان کو ہی اوڑھنے بچھونے پر زور دیتے ہوئے عرب کے صحراؤں اور وسط ایشیاء کے سبزہ زاروں میں جا نکلیں گے اور جھٹ سے اپنی مقامی، علاقائی اور لسانی شناخت سے جڑے ہوئے افراد کو غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دے دیں گے۔"
پیرس کی کچی آبادی میں رہائش پذیر اپنا سب کچھ علمی اداروں کے نام کر دینے والے پاکستان کے ادارہ برائے آثارِ قدیمہ کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مونسیو کریال نے عکسی مفتی صاحب سے ملاقات کے وقت اُن کے اس سوال پر کہ وہ یونیسکو کے چیئرمین کیوں نہیں لگ جاتے، جواب میں کچھ ایسا جملہ کہا کہ ان کے الفاظ سے صرف مفتی جی کی ہی نہیں میری آنکھیں بھی حیرت سے کھل گئیں۔ ''مفتی! پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ چیئرمین یونیسکو سے کہیں بلند تر ہے۔ یونیسکو کا چیئرمین کیا ہوتا ہے سوائے ایک دفتری ملازم کے؟ پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا ڈی جی دنیا کی تین خوبصورت تہذیبوں کا وارث ہوتا ہے، موہنجوداڑو، گندھارا، اور مغل عہد کے قلعے اور عمارات''
کبھی سوچا بھی ہے؟
(مفتی صاحب کی سوچ پڑھنے کے لیے ان کی تحریر کردہ کتاب ''پاکستانی ثقافت'' سے رجوع کیجیے یہاں وہ سوچ درج کرنا مناسب امر نہیں ہے۔)
شنید ہے کہ یونیسکو نے سرد جنگ کے خاتمے کے دنوں میں عالمی ورثے کے تحفظ کی مہم کی کامیابی کے بعد انٹیلیکچوئل پراپرٹی اور کیوریٹو رائٹس کے تحفظ کی مہم کا آغاز کیا تھا۔
حیف! کہ وطنِ عزیز سے منسوب دو خبریں جی جلاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ بی ایس اے نامی عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 86 فیصد شرح کے ساتھ دنیا کے پہلے تین ممالک میں شامل ہے جہاں پائریسی اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی شدید خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
دوسری خبر یہ ہے کہ پاکستان سے چوری ہو کر برطانیہ اور اٹلی اسمگل ہونے والے تین سو سے زائد ناقابل بیان مالیت کے حامل قیمتی نوادرات، جنہیں اِن ممالک میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کے حوالے کر دیا گیا تھا، پچھلے 8 سالوں سے وطن واپس نہیں لائے جا سکے کہ اس کے لیے فنڈز مہیا نہیں ہیں۔ جس جگہ ان نوادرات کو اسٹور کر کے رکھا گیا ہے وہاں ان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
سوچتا ہوں کہ ہماری شناخت، ہمارے ماضی، اور قدیم روایات کے حامل ان آثارکو تو کسی دولت اسلامیہ العراق و الشام سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، پھر میں ان سلامتی اور تحفظ کے لیے نوحہ کناں کیوں ہوں؟ سر جھٹک کر کام میں لگئے صاحب!
بہتر یہی ہے کہ کے پی کے میں کارکردگی کا مظاہرہ کریں صرف یہی ایک طریقہ آپ کو حقیقی جیت تک پہنچا سکتا ہے۔ 
حلقہ این اے 154 کا منظر تھا اور میڈیا پر ایک طوفان برپا تھا کہ عمران خان نے ایک اور وکٹ گرادی۔ میں نے غور کرنا شروع کیا کہ آخر کونسی وکٹ گری؟ لیکن سمجھ نہ سکا کہ کونسی وکٹ گری۔ اربوں روپیہ دھرنوں پر اُڑا کر اگر وکٹیں ایسے ہی گرانی تھیں تو دو مہینے تک عوام کو ڈی جے بٹ کی 6 کروڑ مالیت کی دھنوں پر نچایا کیوں گیا؟ اب تک جن فیصلوں کو وکٹ گرانا کہا جارہا ہے، ان میں کہیں بھی تحریک انصاف کی جیت یا کسی وکٹ گرانے کا ذکر نہیں ہے۔ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ’’بے ضابطگیاں‘‘ ہوئیں ہیں اور بے ضابطگیوں کا ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ کس نے کس کے حق میں دھاندلی کی ہے۔ پھر یہ بھی عین ممکن ہے کہ ’’بے ضابطگیاں‘‘ تحریک انصاف کی حق تلفی ظاہر کرتی ہوں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ’’بے ضابطگیاں‘‘ ن لیگ کی مزید برتری ثابت کرتی ہوں-   تفصیل سے پڑھئے
نادر شاہ درانی نے دلی میں بد ترین قتل عام کے بعد ، جب دلی فتح کر لیا تو مفتوح بادشاہ محمد شاہ رنگیلا نے شاہی محل میں فاتح بادشاہ کا گرم جوشی سے استقبال کیا ۔ کہتے ہیں کہ نادر شاہ درانی نے دلی کے اس قتل عام کا حکم صرف ایک لفظ کہہ کر دیا تھا اور وہ لفظ تھا ’’بزن ‘‘ فارسی کا یہ لفظ انگریزی کے لفظ BEGIN کا ہم وزن ہے، جس کا مطلب ہے شروع کرو یا شروع ہو جاؤ۔ جب ایرانی لشکر کے گھوڑوں کی سُمیں خون سے سرخ ہو گئیں، تو نادر شاہ فاتح کی حیثیت سے شاہی محل میں داخل ہوا اور محمد شاہ رنگیلے کی جانب سے خود کو ملنے والی اس شاندار مہمان نوازی پر حیران رہ گیا۔
لوگوں نے دیکھا کہ محمد شاہ رنگیلے نے اسے اپنے تخت پر ساتھ بٹھا لیا ۔ گویا ایک نیام میں دو تلواریں سما گئیں تھیں۔ فاتح بادشاہ نے مفتوح بادشاہ کے تخت پر اس کے ساتھ بیٹھنے کے بعد اپنی شرائط منوانا شروع کیں۔ محمد شاہ رنگیلا نے اپنا مشہور و معروف خاندانی ہیرا کوہ نور اپنی پگڑی میں چھپا لیا تھا۔ نادر شاہ کو اس کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی کہ ہیرا کہاں ہے؟ کیونکہ مخبر کب اور کہاں نہیں ہوتے؟ اس زمانے میں بھی موجود تھے۔ نادر شاہ نے تخت پر بیٹھتے ہی محمد شاہ رنگیلا کو اپنا منہ بولا بھائی بنا لیا اور بولا ’’جس طرح عورتیں دوپٹہ بدل کر آپس میں بہنیں بن جاتی ہیں، کیوں نا ہم دونوں بھی پگڑی بدل کر آپس میں بھائی بن جائیں‘‘؟ یہ کہہ کر نادر شاہ نے محمد شاہ کی پگڑی اتار کر اپنے سر پر رکھ لی اور اپنی پگڑی محمد شاہ کے سر پر سجا دی ۔ اس طرح کوہ نور ہیرا بڑی صفائی کے ساتھ نادر شاہ کی تحویل میں پہنچ گیا۔ نا اہل اور مفتوح مغل بادشاہ اپنی کمزوری پر پیج و تاب کھا کر رہ گیا، لیکن کچھ کہہ نہ سکا
’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘
جنگ کے تاوان کے علاوہ نادر شاہ وہ تاریخی تخت طاؤس بھی اپنے ساتھ ایران لے گیا جو محمد شاہ کے جد امجد شاہ جہاں نے بڑے چاؤ سے بنوایا تھا۔ ان سب کے علاوہ اب فاتح بادشاہ نے مطالبہ کیا کہ محمد شاہ رنگیلا اپنی بیٹی کا نکاح نادر شاہ کے بیٹے سے پڑھوا دے تا کہ دونوں ’’بھائیوں‘‘ کے درمیان یہ رشتہ مزید مضبوط ہو جائے۔ چونکہ مفتوح کے پاس فاتح کی بات ماننے کے سوا دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں ہوتا لہذا نکاح کی تقریب کے لیے پنڈال سجا دیا گیا۔ محمد شاہ رنگیلا بہرحال ایک خاندانی بادشاہ تھا۔ اہلیت اور نا اہلیت سے قطع نظر بادشاہت اس کے خاندان میں پشتوں سے چلی آ رہی تھی ، جب کہ نادر شاہ درانی ایک چرواہے کا بیٹا تھا، ( ایک روایت کے مطابق موچی کا بیٹا تھا) جس نے اپنے زور بازو سے یہ بادشاہت حاصل کی تھی۔ محمد شاہ کے کسی ہمدرد نے اس کے کان میں یہ ’’جڑ‘‘ دیا کہ نکاح کے وقت نادر شاہ سے اس کے خاندانی شجرے کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں، اس طرح اسے کم سے کم زبانی طور پر ہی سہی ذلیل کرنے کا ایک موقع تو حاصل ہو ہی جائے گا۔ لہذا جب نکاح کی تقریب شروع ہوئی تو رواج کے مطابق دلہن کے والد نے اپنا نام لکھوا کر اپنا شجرہ سنانا شروع کر دیا اور اس خاندانی نسب نامے کو اکبر اعظم سے ظہیر الدین بابر تک، بابر سے امیر تیمور تک اور امیر تیمور سے چنگیز خان تک بیان کرتا چلا گیا۔ اب نادر شاہ درانی کی باری آئی اور دولہا کا جب شجرہ یا حسب نسب پوچھا گیا تو نادر شاہ نے دولہا کا نام لکھوا کر ولدیت میں اپنا نام لکھوایا پھر وہ پنڈال میں یکایک کھڑا ہو گیا اور اپنی تلوار سونت کر بولا ’’ لکھو! ابن شمشیر، بن شمشیر، بن شمشیر اور جہاں تک چاہو لکھتے چلے جاؤ۔‘‘
موجودہ دور میں پان کا استعمال ایک نشے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بھارت مین حیدرآباد، دکن ، دیلی میں اور پاکستان میں کراچی، حیدرآباد ، لاھور میں پان کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں موجود تمباکو اور چھالیہ یا سپاری گلے کے کینسر کا موجب بنتا ہے۔ پان میں جن اشیاء کا استعمال کیا جاتا ہے اس میں چونا، کتھا، سونف، گلقند، کٹا ہوا چھالیہ اور تمباکو ، پان کو ایک پودے کے سبز پتے میں لپیٹ کر دیا جاتا ہے جسے گلوری کہتے ہیں۔ اس کو منہ میں چبا کر کھایا جاتا ہے اس کے چبانے سے ایک سرخ رنگ کا لہاب بنتا ہے جسےتھوکتے رہتے ہیں جو ماحول میں گندگی کا باعث بنتا ہے۔
اصل پان کی تاریخ برصغیر پر مغلیہ دور اقتدار کے دور سے ملتی ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
غم، پریشانیاں زندگی کا حصّہ ہیں۔ ان کے حل کی طرف جانا چاہئے نہ کہ اپنی طبیعت میں غصّہ یا چرچڑا پن لایا جائے۔
یقین مانیں کہ اگر آپ کو کوئی ایسا دوست میسر ہے، جو آپ کو خوش رکھتا ہے، آپ اس کی موجودگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں تو یہ بہت کمال کی بات ہے۔ اگر آپ ہسنا جانتے ہیں اور دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق آپ کا معمول ہے تو پھر آپ بہت عمدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یاد رکھا کریں کہ غم، پریشانیاں زندگی کا حصّہ ہیں۔ کوئی بھی انسان اس سے بچا ہوا نہیں ہے، تو جب ایک چیز ہو کر رہنی ہے تو پھر اُس کے حل کی طرف جانا چاہئے نہ کہ اپنی طبیعت میں غصّہ یا چرچڑا پن لایا جائے۔
میرے ساتھ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب بھی میں اداس ہوتا ہوں، گھر یا دفتری معاملات کی وجہ سے پریشان ہوتا ہوں تو پہلے میں یہی سوچتا کہ کون سا دوست ایسا ہے جو مجھے مسکراہٹ دے سکے۔ کوئی ایسا جس کے پاس بیٹھ کر میں کھلکھلا کر ہنسوں اور اپنے دماغ کو سکون دے سکوں۔ بس اِس ملاقات کے بعد یقین مانئے غم بہت ہلکا محسوس ہوتا اور اپنی پریشانی کا حل مل جاتا ہے۔ دراصل جب ہم پریشانیوں کو اپنے سر پر سوار کر لیتے ہیں تو ہمیں سب راستے بند ہی نظر آتے ہیں۔ بہت دفعہ ہوتا ہے کہ سفر کرتے اچانک راستہ آگے بند ملتا ہے تو پھر ہم کیا کرتے ہیں؟ اپنی بائیک یا کار فوراً واپس موڑتے ہیں اور دوسرے راستے کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ بس ایسا ہی رویہ ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں لانے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم بند گلی میں صرف کھڑے سوچتے رہیں گے تو اُس سے نہ صرف وقت ضائع ہوگا بلکہ زیادہ سوچنے کی وجہ سے طبیعت خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اس دنیا میں انسانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ رشتے ناتے اسی وجہ سے ہیں کہ ہم اپنا دکھ درد بانٹ سکیں۔ ہر شخص کوئی نہ کوئی ایسا خاص رشتہ رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود کو بہت پُرسکون محسوس کرتا ہے۔ اس سے بات کرکے بہت سکون ملتا ہے اور اپنے مسئلے کا حل بھی نکل آتا ہے۔ آپ بھی اپنے اردگرد ایسے لوگ رشتے تلاش کریں جو آپ کے چہرے پر رونق لائیں اور آپ ان سے مل کر خوب ہنسیں اور خوش رہیں۔
یاد رکھیں اکیلے رہنا، کتابیں پڑھنا یا موسیقی سننا بہت اچھا ہے، لیکن کسی اچھے دوست کی موجودگی بھی بہت ضروری ہے۔ ایسا دوست جو مثبت باتیں، مذاق کرتا ہو، خود بھی ہنستا ہو اور آپ کو بھی ہنساتا ہو۔ کسی بھی پریشانی میں کسی ایسی دوست سے ملاقات ایسے ہی اثر کرتی جیسے سر درد میں ڈسپرین۔ تو جناب اٹھیے اور جاکر ایسے دوست سے ملئے جو آپ کو سب بھلا کر مسکرانے پر مجبور کردے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
شطرنج کا آسٹرین چیمپیئن کموچ اس وقت غصے میں تھا۔ وہ شطرنج کے ایک عالمی مقابلے میں اپنے مخالف کھلاڑی سے تین مرتبہ پوچھ چکا تھا کہ کیا وہ یہ گیم ڈرا کرنا چاہتا ہے، لیکن مخالف کھلاڑی ہر مرتبہ اس کی بات سن کر مسکرا دیتا۔ کموچ چلایا ’آخر تمہارا یہ چیمپیئن کون سی زبان سمجھتا ہے؟‘ ’صرف شطرنج کی‘ میں نے جواب دیا۔ اور پھر کچھ چالوں کے بعد آسٹرین چیمپیئن کموچ کو ہار تسلیم کرنی پڑی۔
(ولیم ونٹر، شطرنج کے عظیم برطانوی کھلاڑی) کموچ کو ہرانے والے شخص میر سلطان خان (66-1905) تھے جو پنجابی کے علاوہ کسی اور زبان کو مشکل ہی سے سمجھتے تھے۔ میر سلطان خان کا تعلق سرگودھا کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔ وہ مہاراجہ ملک سر عمر حیات خان کے معمولی ملازم تھے جو ان کی حویلی میں چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ میر سلطان خان نے 1928 میں ہندوستانی شطرنج کی چمپیئن شپ جیتی اور 1929 میں سر عمر حیات خان انہیں اپنے ساتھ انگلینڈ لے آئے۔  تفصیل سے پڑھئے
آرائیں ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان اور بھارت میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔آپ میں سے بھی بہت سے دوست آرائیں قوم سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ آئیے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو ان کی تاریخ کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں جو یقینا آپ کے لئے دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا باعث ہوگی۔ذہن میں رہے ذات صرف ہماری پہچان کے لئے ہوتی ہے ۔ اس پر فخر کرنا مناسب نہیں۔ہم پہلے مسلمان ہیں پھر پنجابی پٹھان آرائیں بلوچ راجپوت جاٹ وغیرہ ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین وہ ہے جو متقی ہے۔اب اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔
آرائیں ذات کے آباؤاجداد اریحائی فلسطینی عرب تھے، جو 712ء ميں دریائے اردن کے کنارے آباد شہر اريحا سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغير ميں داخل ہونے والی فوج کی تعداد 12,000 تھی، جس میں سے 6,000 اریحائی تھے۔ محمد بن قاسم تقریباً 4 سال تک سندھ میں رہے۔ اسی دوران گورنر عراق حجاج بن یوسف اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا۔ خليفہ سلیمان بن عبدالملک نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر سخت مظالم ڈھائے۔ اسی دوران اس نے محمد بن قاسم کو بھی حجاج بن یوسف کا بھتیجا اور داماد ہونے کے جرم میں گرفتار کرکے عرب واپس بلایا، جہاں وہ 7 ماہ قید میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔  تفصیل سے پڑھئے
"صاحب! کشمیر تو سارا ان (ہندوستان) کے پاس ہے، ہمارے پاس تو صرف مسئلہ ہے"۔ میرے ڈرائیور نے کیرن سیکٹر سے گزرتے ہوئے کنٹرول لائن کے پار اشارہ کرتے ہوئے ایسا کہا اور جیپ کی کھڑکی سے باہر منہ نکال کر پان کی پِیک پھینک دی۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے شمال کی جانب چہلہ بانڈی پل سے شروع ہو کر تاؤبٹ تک 240 کلومیٹر کی مسافت پر پھیلی ہوئی حسین و جمیل وادی کا نام نیلم ہے۔ یہ وادی اپنے نام کی طرح خوبصورت ہے۔ وادی نیلم کا شمار پاکستانی کشمیر کی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں دریا، صاف اور ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے نالے، چشمے، جنگلات اور سرسبز پہاڑ ہیں۔ جا بجا بہتے پانی اور بلند پہاڑوں سے گرتی آبشاریں ہیں جن کے تیز دھار دودھیا پانی سڑک کے اوپر سے بہے چلے جاتے ہیں اور بڑے بڑے پتھروں سے سر پٹختے آخر دریائے نیلم کے مٹیالے پانیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
حیدرآباد کی ہر تاریخی عمارت آج کل اپنے وجود کو بچانے کی جی توڑ کوشش کر رہی ہے، مگر رفتہ رفتہ گزرتا وقت ان عمارات کو کمزور کر رہا ہے۔ ایسی ہی ایک عمارت ہے جو اب 115 برس کی ہو چکی ہے، اور وقت کے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کا وجود بکھرتا جا رہا ہے۔ اس عمارت کا نام بیسنت ہال ہے مگر اکثر لوگ اسے بسنت ہال کہتے ہیں۔ اس کی دیکھ بھال پر معمور شخص پرتاب (فرضی نام) عرصہء دراز سے اس عمارت کا حصہ بن گیا ہے، جس کی اینٹیں اب وقت کے تھپیڑوں کا زیادہ اثر نہیں سہہ سکتیں۔  تفصیل سے پڑھیے
محفل رقص و موسیقی اپنے عروج پر تھی تہذیب بیگم اپنی مترنم آواز میں سامعین کے دلوں کے تار چھیڑ رہی تھیں۔ بالا خانے میں موجود ہر شخص عالم بے خودی میں جھوم رہا تھا۔ تہذیب بیگم کے مداحوں میں نہ صرف شہر کے بڑے بڑے نواب اور روساء شامل تھے بلکہ ان کی سریلی آواز کی باز گشت اب امرتسر سے اٹھ کر لکھنو اور دہلی تک سنائی دے رہی تھی۔ پورے ہندوستان سے روساء تہذیب بیگم کے بالا خانے پر حاضر ہوتے اور بیگم صاحبہ کی مترنم آواز میں دادرا، ٹھمری اور خیال سے اپنی حس جمالیات کو تسکین پہنچاتے۔  تفصیل سے پڑھئے
ﺭﺿﯿﮧ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭﮨﻨﺪ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺵ ﻣﻨﺪ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺭﺿﯿﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﻠﻄﺎﻧﮧ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺭﺿﯿﮧ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﺎﮨﯽ ﻧﺎﻡ ﺟﻼﻟۃ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺿﯿﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ 1205 ﺀ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ 1240 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮﮔﺌﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺗﺮﮎ ﺳﻠﺠﻮﻕ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺷﮩﺰﺍﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻨﮕﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻟﺘﻤﺶ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﻧﯿﮏ ﺳﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﺑﺰﺭﮒ ﺗﮭﮯ ۔ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﭘﯿﺞ ﭘﺮ ﮔﺰﺭ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﻟﺘﻤﺶ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺿﯿﮧ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺎﻧﺸﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﻟﺘﻤﺶ ﻧﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﺮﯾﻨﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺎ ﺍﮨﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺶ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺎﻧﺸﯿﻦ ﻣﻘﺮﺭﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺭﺿﯿﮧ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺣﺴﯿﻦ ﺫﮨﯿﻦ ﻭ ﻓﻄﯿﻦ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺗﺎﮨﻢ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﻟﺘﻤﺶ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﺿﯿﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﮐﻦ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻓﯿﺮﻭﺯ ﻧﮯ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ 7 ﻣﺎﮦ ﺗﮏ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ۔   تفصیل سے پڑھئے
ﯾﮧ ﺗﺎﺑﻮﺕ ﺷﻤﺸﺎﺩ ﮐﯽ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﺧﺮِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﮏ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﯿﺮﺍﺙ ﯾﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮕﺮﮮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﻼ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﻭﺭﺟﺐ ﯾﮧ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺭﺍۃ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﺎﺹ ﺧﺎﺹ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ تفصیل سے پڑھئے

جدید ریاست سوات کے بانی میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب (1881ء تا 1971ء ) کے حکم سے جب 1941ء کو سفید محل کی تعمیر مکمل ہوئی، تو اس محل کی بد ولت مرغزار کا علاقہ ایک طرح سے ریاست سوات کے موسم گرما کا دارالحکومت ٹھہرا۔پھر گرمیوں میں یہاں سے شاہی فرمان جاری ہوا کرتے تھے۔ آج بھی سات دہائیاں گزرنے کے باوجود سفید محل قابل ِ دید ہے۔ مرغزار کا علاقہ ضلع سوات کا واحد پرفضا مقام ہے، جو مرکزی شہر مینگورہ سے قریباً بارہ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ سیاح صرف قدرتی حسن اور معتدل موسم کی وجہ سے مرغزار کا رخ نہیں کرتے بلکہ وہاں پر قائم ریاست سوات دور کی ایک تاریخی عمارت سفید محل (1941ء) کی سیر کرنے بھی جاتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں ایک ٹکٹ میں دو مزے،مگر سفید محل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا اولین نام ’’موتی محل‘‘ تھا۔ سفید محل کی تعمیر کے حوالے سے شاہی خاندان کے میاں گل شہر یار امیر زیب باچا (بادشاہ صاحب کا پڑپوتا) کا کہنا ہے کہ در اصل بادشاہ صاحب ہندوستان گئے تھے ،     
افیون کا شمار منشیات کے اس گروہ سے ہے جن کو ’نشہ آور‘ کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کو ’آپیئڈ‘ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، جوکہ وہ مادہ ہے جو دماغ کے اندر پائے جانے والے آپیئڈ رسپیٹرز کو متاثر کرتا ہے۔ افیون کو افیون کی پوست کے پودے کے بیج کے ڈوڈے میں پائے جانے والے دودھیا مائع سے بنایا جاتا ہے۔ جب اس مائع کو خشک کیا جاتا ہے تویہ ایک زردی مائل بھورے رنگ کے گاڑھے ربڑ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس میں کوڈین اور مارفین کے علاوہ مختلف طرح کے کئی دوسرے کیمیائی مواد وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ جب اس کو عمل سے گزار کر حتمی شکل دی جاتی ہے تو یہ تارکول کی طرح بھورے سے سیاہ رنگ کا ہوتا ہے یا پھر بھورے پاؤڈر کی شکل کا ہوتا ہے۔ اس منشیات کو اکثر تمباکو کے ساتھ ملا کر دھواں اندر کھینچ کر استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس کے علاوہ سوئی کے ذریعے جسم میں داخل بھی کیا جاتا ہے یا پھر کھایا بھی جاتا ہے۔ 
پاکستان میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کا معاملہ ہو تو حکومت کے پاس پابندیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا یعنی موٹرسائیکل کی ڈبل سواری اور موبائل فون تو چھوڑیں کچھ علاقوں میں تو موٹرسائیکل چلانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی، پھر یوٹیوب، فیس بک، ٹوئیٹر غرض متعدد ویب سائٹس بھی پابندی کی زد میں آئیں مگر جناب یہ تو کچھ بھی نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں تو ایسی ایسی چیزوں پر پابندی عائد ہوجاتی ہیں جو حیران کن نہیں بلکہ ہوش اڑا دینے والی ہوتی ہیں۔
یقین نہیں آتا چلیں دنیا کے مختلف ممالک کے ان مضحکہ خیز قوانین کی یہ فہرست آپ کو شرطیہ حیران کرکے رکھ دے گی جیسے گلے ملنے سے لے کر کھلی ہوا میں سیگریٹ جلانا آپ کو بہت بڑی مشکل میں ڈال سکتے ہیں اور ان ممالک میں جانے کا موقع ملے تو ان اشیاءسے گریز ہی آپ کے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔  تفصیل سے پڑھئے  
جلال الدین رومی قونیہ میں محو ِ خواب مردِ خود آگاہ و خود بین کا تذکرہ اور دو حکایات- جلال الدین رومی،دنیا بھر میں مولانا روم کے نام سے مشہور ہوئے۔ ۶۱۰ ھ میں اُن کے والد گرامی شیخ بہائوالدین نیشاپور ہجرت کر گئے۔ جلال الدین رومی کی عمر ۶ سال تھی جب ان کے والد انھیں ساتھ لے کر نیشاپور کے مشہور بزرگ شیخ فریدالدین عطار سے ملاقات کرنے گئے۔ فریدالدین نے ننھے محمد کو دیکھ کر شیخ بہائوالدین سے فرمایا ’’مولانا اس کی تربیت میں غفلت نہ برتنا، آگے چل کر یہ مسلمانوں کا بہت بڑا امام بنے گا اور اس کا نام رہتی دنیا تک قائم رہے گا‘‘۔ جلال الدین رومی نے ابتدائی علوم کی منازل اپنے والد سے ہی طے کرلی تھیں۔  تفصیل سے پڑھئے
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﺭﭘﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﻦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺁﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﭼﮑﮯﮨﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﯾﻮﺭﭖ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭ ﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﯾﺠﺎﺩﺍﺕ ﻭ ﺩﺭﯾﺎﻓﺘﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﺎﻓﺘﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺷﻦ ﺑﺎﺏ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﮐﻮ ﯾﻮﺭﭖ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﻮ " ﮈﺍﺭﮎ ﺍﯾﺠﺰ " ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺟﺒﮑﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺧﺸﻨﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺑﺎﮞ ﺗﮭﺎ۔ﺁﺋﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﭘﯿﺞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﻔﯿﺪ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔  تفصیل سے پڑھئے
قدیم تہذیب و ثقافت کا مرکز عجائب گھر یوں تو اس کی عظیم عمارت1894ء میں تعمیر ہوئی، لیکن بذاتِ خود اسکی تاریخ ڈیڑھ صدی پرانی ہے- کہتے ہیں گذرے زمانے اور قدیم تہذیبوں کا پتا کرنا ہو تو عجائب گھر ان میں جھانکنے کے لیے کھڑکی کا کام دیتے ہیں۔ ہمیں اس کھڑکی میں جھانکنے کے لیے پہلے ٹکٹ کی کھڑکی تک جانا پڑا۔ٹکٹ لے کر ہم مرکزی دروازے سے عجائب گھر میں داخل ہو رہے تھے کہ سامنے سے سیّد حمید رضا آتے دکھائی دئیے۔ لاہور کی تاریخ سے ان کو خاصی دل چسپی تھی۔وہ ہمیں عجائب گھر کی لائبریری میں لے گئے، جہاں پرانی الماریوں میں پڑی قدیم کتابوں کو آج کے کچھ جدید انسان ٹٹولنے میں مصروف تھے۔ ہم بھی ایک طرف بیٹھ کر عجائب گھر کی تاریخ ٹٹولنے لگے۔ گفت گو بڑھتی گئی عجائب گھر کی تاریخ کے در کھلتے چلے گئے۔   تفصیل سے پڑھئے
ریاست مغربی بنگال کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ مٹھائی رسگولّہ بنگال کی دین ہے-برصغیر کی مشہور مٹھائی رسگولّہ کی جائے پیدائش کیا ہے؟ اس حوالے سے بھارت کی دو ریاستوں، اڑیسہ اور مغربی بنگال کے درمیان ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ریاست اڑیسہ کی حکومت نے قومی شاہراہ نمبر 5 پر کٹک اور بھونیشور کے درمیان واقع پاہال میں ملنے والے معروف رسگولّے کو ’جيوگرافیكل انڈیكیشن‘ یعنی ’جی آئی‘ سے منظور کرانے کے لیےکوششیں شروع کیں۔   تفصیل سے پڑھئے
فاسٹ بولر، سرفراز نواز نے اپنا کیریئر کا آغاز 1969 میں، 20 سال کی عمر میں کیا-لیکن ان کی صحیح پہچان 1974 میں کرکٹر اور بقول ایک کپتان کے “ایک عاجز بچے” کی حیثیت سے ہوئی-ایک جھگڑالو، انتہائی شرابی، اور کلبوں کے شوقین، 6.4 فٹ کے سرفراز، مشتاق اور عمران خان کے مطابق دہری شخصیت کا حامل تھے، جو کرکٹ کے میدان میں اپنی پوری جان لگا دیتے تھے لیکن ساتھ ہی انہیں انتظامیہ اور بورڈ کی طرف سے لگائے گئے تمام قائدے قانون توڑ دینے کی بھی بیماری تھی-مثال کے طور پر، مشتاق کو ہمیشہ یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی کہ کس طرح سرفراز باقائدگی سے ٹیم پر لگائے گئے کرفیو کے باوجود ہوٹل سے نکل جاتے اور کلبوں میں رات بھر شراب اور عورتوں کے ساتھ گل چھڑے اڑاتے اور پھر صبح گراؤنڈ میں پنہچنے والے سب سے پہلے شخص بھی وہی ہوتے-  تفصیل سے پڑھئے
چرسں بھنگ کے خشک پودوں سے بنتا ہے۔ بھنگ کا پودہ سبز رنگ کا ہوتا ہے جسکا قد چھ سے سات فٹ ہوتا ہے۔یہ پودے عام طور پر برفانی اور پہاڑی علاقوں میں کاشت ہوتے ہیں۔ اسے مارچ اور مئی کے درمیان کاشت کیا جاتا ہے جبکہ ستمبر کے آخری ایام میں اس کی کٹائی ہوتی ہے۔ چونکہ بنیادی طور پر یہ ایک بارانی فصل ہے اس لیے بھنگ کم پانی والے علاقوں میں بھی کاشت ہوتی ہے۔ بھنگ کے پودے سے چرس بننے تک کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔
بھنگ کو کاٹنے کے بعد خشک کرنے کے لیے کھلے آسمان تلے رکھا جاتا ہے۔بارش اور برفباری کے دوران اسے کھلی جگہ سے ہٹایا نہیں جاتا، بلکہ کہا جاتا ہے کہ برف سے اس کی کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔ جب یہ فصل اچھی طرح خشک ہوجاتی ہے تو اس سے گردہ نکالا جاتا ہے۔ گردہ مقامی زبان میں خام چرس کو کہتے ہے۔ بھیڑ کی کھال میں رکھ کرگردے کو چکنا کیا جاتا ہے۔      تفصیل سے پڑھئے

سنگنی کا قدیم قلعہ گجر خان سے 25 کلومیٹر مغرب میں سوئی چیمیاں کے دریا پر واقع ہے۔ یہ قلعہ جسے قیدیوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اسے مغلوں نے تعمیر کروایا تھا اور بعد میں اس پر کشمیر کے ڈوگروں اور سکھوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ پوٹوہار کے خطے میں ایسے کئی قلعے ہیں جن میں روہتاس، اٹک، پھروالہ، روات، اور گری شامل ہیں۔ لیکن سنگنی کا قلعہ دو دریاؤں کے سنگم پر ایک بہت ہی خوبصورت جگہ پر قائم ہے۔ 
یہ ایک ایسی پہاڑی پر قائم ہے جہاں سے آپ کئی دیہاتوں کا طائرانہ نظارہ کر سکتے ہیں، جن میں سوئی چیمیاں اور ڈھوک لاس وغیرہ شامل ہیں۔ ڈھوک لاس کا گاؤں سترہویں صدی کے ایک قدیم قبرستان کے لیے مشہور ہے۔ یہ قبریں کنجور کے پتھر کی بنی ہیں، اور ممکنہ طور پر ان مغل سپاہیوں کی ہیں جو اس قلعے پر تعینات تھے۔ اسی طرح کی قبریں ٹکل گاؤں میں بھی ہیں۔ ایک مقبرہ، جو اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، اس مغل ناظم کا ہے جو سنگنی اور آس پاس کے دیہاتوں کا انتظام سنبھالتا تھا۔      تفصیل سے پڑھئے
ونڈو 10 مائیکروسافٹ کی نئی ونڈو اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ یہ ونڈو فیملی کا اخری ایڈ یشن ہے۔ اسکے بعد ہو سکتا ہے کہ کئی سال تک (جو غالبا چار سے چھے سال ہیں ) یہی ونڈو چلے گی۔ اور مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ وہ اسی ونڈو کے مزید ایڈیشن سامنے لائیں۔ یا ایک نیا ہی آپریٹنگ سسٹم مارکیٹ میں لائیں گے۔ جو مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی کو سامنے رکھ کر بنایا جائے گا۔ اور جن کے بارے میں ابھی صرف تصور کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی جس تیزی کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کمپیوٹر ایک چھوٹی سی گھڑی یا پن میں ہی فٹ ہو جایا کرے گا یا ہو سکتا ہے کہ آپکے دماغ میں ہی کمپوٹر کی چپ فٹ ہو جایا کرے گی۔ ماؤس اور کی بورڈ آثار قدیمہ میں شمار ہونے لگیں گے ایل سی ڈی کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔ ہمارے پن اور گھڑی سے ہی شعاعیں نکل کر سکرین کی صورت بن جائیں گی۔
تو اس صورت میں مائکروسافٹ بھی کچھ نیا کرنے کا سوچ رہی ہے۔ کوئی ایسا آپریٹنگ سسٹم جو مستقبل کی ضروریات پوری کرے گا۔ جو آپکےساتھ بولے گا۔ آپکی ضروریات کو سمجھے گا۔ آپکو مشورے دے گا۔  تفصیل سے پڑھئے

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے محض 38 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع گاؤں گوالیری، سوات کے ان چند گنے چنے دیہات میں سے ایک ہے جو موسم گرما میں اپنے معتدل موسم کی بدولت اٹھارہ قسم کا مختلف سیب پیدا کرتا ہے۔ یہاں کا سیب ذائقہ میں نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی یکساں مقبول ہے اور ہر جگہ یہ سوات کے سیب کے نام سے جانا جاتا ہے۔
تقریباً تین مربع کلومیٹر پر مشتمل گاؤں گوالیری دو ندیوں مارکَرکَٹ اور ارنوہئی کے بیچ واقع ہے۔ سوات کے دیگر زرخیز دیہات کی طرح گوالیری میں ہر قسم کی سبزی، ساگ، گندم، جوار، پھلوں میں املوک، خوبانی، آلوچہ، شفتالو اور ناشپاتی سے لے کر انار اور انگور تک کی فصلیں پیدا ہوتی ہیں، مگر جس فصل کے لیے ’’گوالیریٔ‘‘ پورے ملک میں بالعموم اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بالخصوص مشہور ہے، وہ 'سیب' ہے۔    تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers