رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی ہی بات نہیں ہے بلکہ ہمارے ٹی وی چینلز نے ہر مذہبی تہوار کوبے قدر کر دیا ہے۔ بات صرف رمضان المبارک میں سحری و افطاری نشریات کی نہیں ہے، ہر مذہبی تہوار پر پر ہمارے ٹی وی چینلوں نے مذہب سے منسلک لوگوں کو دین کے اصل پیغام کی ترویج کی بجائے بے معنی ہلڑبازی کے ذریعے ذہنی کوفت کا شکار کیاہے۔ ہمارے اداکار، رقاصاور کھلاڑی ایسے مواقع پر خود کو کامل مسلمان ثابت کرنے کی بے جا کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ افطاری و سحری ، محرم الحرام ، عید الاضحٰی ، عید الفطر ، لیلتہ القدر ہویا کوئی بھی مذہبی تہوار ہم نے مذہب کو ہر ممکن حد تک اور ہر طرح سے بیچا ہے، کبھی موبائل کے ڈبوں کےذریعے تو کبھی موٹر گاڑی اورشربت کی بوتلوں کی مدد سے۔ قہقوں سے لبریز خواتین اور مردوں کی محفلیں جس شان و شوکت سے افطاروسحر کے دوران سجائی جا رہی ہیں وہ رمضان کےسادگی اور صبر کے بنیادی پیغام سے متصاد م ہے۔ ٹی وی چینلوں پر مذہب کی روحانیت اور تقدس کو نظرانداز کرتے ہوئے محض ریٹنگ اور اشتہارات کے حصول میں دلچسپی کے باعث رمضان کی نشریات افسوس ناک حد تک قابل اعتراض ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
سحرو افطار کے دوران چند ایک پروگراموں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو درپیش شدت پسندی، قدامت پرستی اور علمی انحطاط جیسے مسائل پر کسی قسم کی گفتگو سننے کا موقع نہیں ملا
یہ کیسا رمضان ہے کہ جس میں سحرو افطارکے دوران بڑے بڑے سٹوڈیوز میں انعامات کی بھرمار چل رہی ہے، اور لوگوں کو تزکیہ نفس اور حسن معاشرت کا پیغام دینے کی بجائے نفسانی خواہشات میں مزید الجھایا جارہا ہے۔ سحرو افطار کے دوران چند ایک پروگراموں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو درپیش شدت پسندی، قدامت پرستی اور علمی انحطاط جیسے مسائل پر کسی قسم کی گفتگو سننے کا موقع نہیں ملا۔
رمضان نشریات کے دوران موسمی علماء اور اشتہاری مبلغین کے رٹے رٹائے مضامین کے سوا معاصر مذہبی مسائل پر کہیں فکر نو کی ترویج کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ علمائے دین کے برس ہا برس کے آزمودہ خطبات ، تقاریر اور بیانات میں مسلم دنیا کے مسائل پر گفتگو کی بجائے وہی صدیوں پرانی تقلیدی روش حاوی ہے۔ اگر ان ٹی وی چینلوں کو ایک ماہ مذہب پر بات کرنے کا موقع مل ہی گیا ہے تو اخلاق حسنہ اور مہذب معاشرتی اقدار کی ترویج کی کوشش کی بجائے ہر برس کی طرح محض روایات کی جگالی جاری ہے۔ رمضان کی نشریات محض انعامات کی تقسیم کے ذریعے کاروباری اداروں کی تشہیر کا ایک سنہری موقع بن کر رہ گئی ہے۔ اس ہڑبونگ میں پی ٹی وی کو داد دینا ضروری ہےجو سحری کے وقت مذہب پر روایتی مگر پر مغز گفتگونشر کررہا ہےلیکن مجال ہے جو کسی اور چینل نے کوئی ڈھنگ کاپروگرام پورے ماہ میں دکھایاہو ۔
رمضان کی نشریات کے دوران دکھائی دینے والے چہرے بہروپ بدلنے میں اس قدر ماہر ہیں کہ رمضان کے آغاز اور اختتام کے ساتھ ہی اپنے چینل کی ہدایت پر نیا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ خواتین وحضرات سکرین پر رہنے کے لیے تسبیح پکڑنے سے لے کر ڈھول بجانے تک ہر سوانگ بھرنے کے ماہر ہیں۔ جیسے ہی ایک مذہبی تہوار ختم ہوتا ہے یہ اداکار “سیزن” تک کے لیے اپنے اپنے معمولات میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ کسی اداکار، گلوکار یا بہروپیے کا مذہب پر بات کرنا غلط نہیں تاہم مذہب پر بات کرنے کے لیے جس سنجیدگی، علمیت اور دینی و عصری علوم پر دسترس کی ضرورت ہے وہ رمضان کی خصوصی نشریات کے کسی میزبان میں دکھائی نہیں دیتی
اگرچہ کسی اداکار، گلوکار یابہروپیے کا مذہب پر بات کرنا غلط نہیں تاہم مذہب پر بات کرنے کے لیے جس سنجیدگی، علمیت اور دینی و عصری علوم پر دسترس کی ضرورت ہے وہ رمضان کی خصوصی نشریات کے کسی میزبان میں دکھائی نہیں دیتی۔ یا تو وہ موسمی بٹیر ہیں جو صرف خوش رو ہونے اور معروف ہونے کے باعث مذہبی پروگراموں کی زیب و زینت بڑھانے کے لیے آرائشی نمونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے یا پھر وہ مذہبی علماء ہیں جو معاصر علوم سے بے بہرہ ہیں۔ معروف فلم سٹار سعود جو سامنے لکھے ہوئےمکالمے ٹھیک سے ادا نہیں کرپاتے وہ ایک نجی چینل پر انتہائی ڈھٹائی سے اسلام پر لیکچر دے رہے ہیں ۔ ابرار الحق صاحب نے بھی ایک ٹی وی پر سحری کی نشریات شروع کر دی ہیں، اداکارہ نو ر ، جویریہ عباسی اور پاکستان کےنام نہاد مذہبی دانشور عامر لیاقت صاحب بھی مسلسل موبائل، لان کے سوٹ اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے اسلام کا پیغام عام کررہے ہیں۔اگرچہ کسی خوش رو خاتون یا مرد کا مذہب پر بات کرنا قطعاً کوئی جرم یا گناہ نہیں تاہم مذہب جیسے سنجیدہ معاملے کو محض کھیل کود یا تفریح کے سپرد کردینا کسی طرح دانشمندی نہیں۔
اشتہاروں اور ریٹنگ کے لیے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی خاطر مذہب کا سہارا لینا علمی بددیانتی ہے اور مذہب پر سنجیدہ بحث اور مکالمے کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ یہ کیسی تشہیر ہے یہ کیسی مارکیٹنگ ہے کہ ہم مذہب کو اس طرح دکانوں میں مٹھائی کی طرح بیچ رہے ہیں ۔عامر لیاقت صاحب جب پروگرام میں بولنے لگتے ہیں تو پس منظر میں نعت کی آواز مدھم ہو جاتی ہے پھر جب وہ چپ ہوتے ہیں نعت کی آواز گونجنے لگتی ہے۔ مذہب کوموضوع بحث بناتے وقت اسے ایک کاروباری موقع کی بجائے علمی ذمہ داری سمجھنا زیادہ ضروری ہے کیوں کہ مذہب ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اور اسے سمجھنے، پھیلانے اور موجودہ زمانے کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے اسی قدر متانت اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers