چوہدری محمد علی تقسیم سے قبل برطانوی راج کے دور میں اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز تھے لیکن تقسیم کے بعد انہوں نے بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں۔ وہ تقسیمِ ہند کے بعد متحدہ پاکستان کے چیف سیکریٹری بنے۔ وہ 1956 کے آئین کے خالق بھی تھے۔ ان کا شمار لیاقت علی خان کے بہت قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ قائدِ اعظم سے لیاقت علی خان کی آخری ملاقات میں بھی وہ ان کے ہمراہ تھے۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد بنتی بدلتی حکومتوں کے عروج و زوال میں بھی شریک تھے۔ ان کی قائدِ اعظم سے آخری ملاقات کا ذکر محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب ”مائی برادر“ میں بھی کیا ہے۔ اس کتاب میں فاطمہ جناح کے بقول چوہدری محمد علی اور لیاقت علی خان یہ دیکھنے آئے تھے کہ قائدِ اعظم مزید کتنے دن زندہ رہیں گے۔ قریب المرگ قائد سے اس ملاقات اور ان کی وفات کا ذکر چوہدری محمد علی نے اپنی کتاب ”ظہورِ پاکستان“ میں کیا ہے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 448 پر وہ لکھتے ہیں کہ تفصیل سے پڑھئیے
Mir-Osman-Ali-Khan
ریاست حیدرآباد کے والی ریاست نواب میر عثمان علی خان بہادر تھے۔ ان کو "نظام آف حیدرآباد" کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ حیدرآباد کی رعایا انہیں محبت سے "حضور نظام" کے نام سے یاد کرتی تھی۔ انہوں نے 37 سال ریاست حیدرآباد پر، 1911ء سے 1948ء، حکومت کی۔ انہوں نے رعایا کی بھلائی کیلئے کام کیا اور ان کی فلاح وبہبود میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مدینہ ایجوکیشن سینٹر نے نواب میر عثمان علی خان کی قیادت میں جو ترقی حیدرآباد میں ہوئی تھی اس کو عوام کے سامنے پیش کرنے کیلئے "نواب میر عثمان علی خان میموریل لیکچر سیریز" کا آغاز کیا ہے اور اس کے افتتاحی جلسے میں بیشمبر ناتھ پانڈے (Bishambhar Nath Pande) سابق گورنر ریاست اوڈیشہ کو آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں جو بات کہی وہ ملاحظہ فرمائیے: تفصیل سے پڑھئے
آج ملک بھرمیں مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کا 122واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح اکتیس جولائی 1893 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی فاطمہ جناح بچپن سے ہی اپنے بڑے بھائی محمد علی جناح سے بہت قربت رکھتی تھیں، انہوں نے تحریک پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ جدوجہد کی اورخواتین کو متحرک کرنے میں اہم کردارادا کیا۔
FATIMAH JINNAH
محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کی ہمت اور حوصلہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد بھی محترمہ فاطمہ جناح نے پاکستان کی سالمیت اور بقا کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
محترمہ فاطمہ جناح پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ تھیں اوراپنے کیرئیر کے کامیاب ترین دنوں میں انہوں نے قائد اعظم کا ساتھ دینے کے لئے لئے بمبئی میں قائم اہنا کلینک بند کردیا اورتحریک پاکستان میں سرگرم ہوگئیں۔ وہ قائد اعظم کی سب سے قابل ِ اعتماد مشیر تھیں اور انتہائی اہم ترین قومی معملات میں قائد انہی سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔
fatima jinnah
آپ نے قائد اؑچم کی رحلت کے بعد سیاست سے کونہ کشی اختیار کی لیکن پھرایوب خان کے خلاف میدان ِسیاست میں سرگرم ہوگئیں۔ اپنے بھائی کے ساتھ کی گئی جدوجہد کے دنوں کو انہوں نے اپنی کتاب’’مائی برادر ‘‘میں قلم بند کیا ہے۔
FATIMA JINNAH
وطنِ عزیز کے لئے خدمات کے صلہ میں فاطمہ جناح کو مادرِملت کے خطاب سے نوازا گیا
فاطمہ جناح 9 جولائی 1967 انتقال کرگئیں، سرکاری سطح پرآپ کی موت کی وجہ حرکتِ قلب بند ہونا بتائی گئی ہے۔ آپ کی تدفین قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں کی گئی ۔
ہیکرز ملٹی میڈیا مسیج میں ایک کوڈ بھجوا سکتے ہیں جو کہ اینڈروئڈ میں موجود سٹیج فرائٹ نامی سروس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے- ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے اینڈروئڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم میں محققین نے ایک ایسے ’بگ‘ یعنی وائرس کا سراغ لگایا ہے جس سے کروڑوں موبائل فون متاثر ہوئے۔
اس بگ کی مدد سے سمارٹ فون استعمال کرنے والے کسی بھی صارف کو تصویر یا ویڈیو پیغام بھیج کر اس کے فون کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ بیٹری کے استعمال کے جائزہ سےفون کی نگرانی
گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے اس مسئلے کو ٹھیک کر لیا ہے تاہم اب بھی لاکھوں فونز کے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ محققین نے اس نقص کو بہت خطرناک قرار دیا ہے۔
امریکہ کی انفارمیشن سکیورٹی کمپنی زمفیرم کا کہنا ہے کہ یہ اینڈروئڈ میں موجود مواد پر حملے کے حوالے سے بدترین چیز ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے 90 کروڑ پچاس لاکھ موبائل فونز متاثر ہوئے ہیں۔
ہیکرز ملٹی میڈیا مسیج میں وائرس سے متاثرہ کوڈ بھجوا سکتے ہیں جو کہ اینڈروئڈ میں موجود سٹیج فرائٹ نامی سروس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اور جب اسے یہ رسائی مل جاتی ہے تو پھر وہ ہینڈ سیٹ میں موجود ایپس اور دیگر مواد تک پہنچ جاتا ہے اور اس میں فون کے مالک کے کسی بھی ایکشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
بتایا گیا ہے کہ لاس ویگاس میں اگلے ہفتے بلیک ہیٹ سکیورٹی کانفرنس کے دوران اس بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ سوفوس نامی سکیورٹی کمپنی میں ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ جیمز لین کا کہنا ہے کہ 2.2 ورژن یا اس سے اوپر کے اینڈروائڈ فونز کے اندر یہ خرابی بڑے پیمانے پر ترتیب کو متاثر کرتی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ حملہ آور آپ کے فون کے تمام مواد پر رسائی حاصل کر لیتے ہیں جن میں آپ کے فون کا کیمرہ بھی شامل ہے۔ حملہ آور آپ کے فون کے تمام مواد پر رسائی حاصل کر لیتے ہیں جن میں آپ کے فون کا کیمرہ بھی شامل ہے

درستگی کے لیے تیزی

زمفیریم میں موجود محققین نے گوگل کو اس بارے میں آگاہ کیا جس نے فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پیچ بنایا۔
لیکن اس کے باوجود لاکھوں ڈیوائسز پر اب بھی یہ پیچ اپ ڈیٹ نہیں ہو سکا۔ کیونکہ موبائل آپریٹرز اسے صارفین تک منتقل کرتے ہیں جو اپ ڈیٹ کو مسترد بھی کر سکتے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں گوگل نے کہا ہے کہ جہاں تک گوگل کو معلوم ہے کہ اس میں کسی بھی ڈیوائس کو نقصان نہیں پہنچا۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ اُس کے 65 فیصد صارفین یومیہ بنیادوں پر فیس بک استعمال کرتے ہیں- دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والی تقریبا نصف آبادی فیس بک استعمال کرتی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ ایسے صارفین جو کم سے کم ایک ماہ بعد فیس بک استعمال کرتے ہیں، اُن کی تعداد تقریبا ڈیڑھ ارب کے قریب ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ 50 فیصد آن لائن افراد مہینے میں ایک بار فیس بک ضرور استعمال کرتی ہے۔
دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً تین ارب ہے۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ اُس کے 65 فیصد صارفین یومیہ بنیادوں پر فیس بک استعمال کرتے ہیں۔
فیس بک کے صارفین کی تعداد میں اضافے سے کمپنی کی آمدن بھی بڑھ رہی ہے اور آمدن کا زیادہ تر حصہ موبائل ویب سائٹ پر دیے گئے اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں سمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد ہر پانچ میں سے ایک منٹ فیس بک پر گزارتے ہیں۔
فیس بک کی آمدن میں اضافے کے باوجود سٹاک مارکیٹ میں فیس بک کے شیئر تین فیصد کم ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کپمنی کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے شئیر کی قیمت کم ہوئی ہے۔ فیس بک کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں کپمنی کے اخراجات میں 82 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کمپنی کے سربراہ مارک زیکربرگ کا کہنا ہے کہ ’اخراجات میں اضافہ کمپنی کی نئے منصوبوں، ٹیکساس میں ڈیٹا سنٹر کے قیام کی وجہ سے ہوا تاکہ نیٹ ورک پر دباؤ کم ہو۔‘
فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ویب سائٹ پر تھری ڈی مواد بھی متعارف کروانے کا ارداہ رکھتا ہے۔

گندھارا تہذیب کے تاج میں 'دھرما راجیکا' کی حیثیت ایک بے بہا اور چمکتے ہوئے ہیرے جیسی ہے۔ تھوڑا تصور کریں اور اس زمانے کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک طرف دنیا میں جنگ و جدل کی بگلیں چیختی ہوئی سنائی دیں گی؛ روم میں جنگیں ہو رہی تھیں، دجلہ کے کنارے پر خون بہایا جا رہا تھا، اور اناطولیہ میں نیلے آسمان پر بغاوتوں کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔
دوسری طرف چین میں 'کن شی ہوانگ' (Qun Shi Huang) ملک میں رابطوں میں وسعت پیدا کرنے کے لیے تین رویہ سڑکیں اور ان کے کناروں پر درختوں کی قطاریں لگا رہا تھا۔ یونانی ماہر ریاضی اور فلکیات 'کینن' (Canon) اپنی چوتھی کتاب پر کام کر رہا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شمال مغربی علاقوں کے بہت سے یونانیوں نے بدھ مت قبول کرلیا تھا۔ چنانچہ مشہور بھکشو 'دھرما راجیکا'، جو خود ایک یونانی تھا، کو اشوک نے یونانی نوآبادیوں میں تبلیغ کے لیے ٹیکسلا بھیجا۔
اشوکا دو بار ٹیکسلا میں گورنر رہ چکا تھا،  تفصیل سے پڑھئے
جنگ یا انخلاء کے بعد جب ایک برادری اپنی مذہبی یا سیکیولر عمارات کو پیچھے چھوڑ جاتی ہے، تو ہمیشہ ہی کوئی دوسری برادری ان عمارات پر قابض ہوجاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہوا۔
ایسی عمارات کی اکثریت ہے جو کبھی سکھوں اور ہندوﺅں سے تعلق رکھتی تھی جو ہندوستان چلے گئے۔ ان عمارات میں اب بھی خاندان آباد ہیں مگر میں یہ دریافت کر کے حیران رہ گیا کہ ان کا اسٹرکچر اور دیواروں پر آرٹ ورک تاحال موجود ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
پاکستان میں آج تک کبھی کوئی تحقیق، کوئی تفتیش اور کوئی “فوری کارروائی” اپنے انجام کونہیں پہنچی، یہ کوئی کبھی نہیں جان سکا کہ کوئی بھی حادثہ یا سانحہ اگر ہوا ہے تو کیوں، اس کے محرکات کیا ہیں، اس سے کس کو فائدہ پہنچا ہے اورکس کونقصان؟ لیکن ہر سانحے پر بےمعنی شور ہر کوئی ہر طرف مچاتا ہے ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس واقعے یا حادثے کی آگ پر اپنی روٹیاں تب تک پکاتے ہیں جب تک ایک نیا واقعہ یا ایک نیا حادثہ جنم نہیں لےلیتا ۔ بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری میں آگ کالگنا اور پھر اس آگ کی جانچ کے لیے بنائے جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو بھی ایسے واقعات میں سے ایک حالیہ مثال کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔ جے آئی ٹی کے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آنے والے مندرجات اس واقعہ میں متحدہ قومی موومنٹ کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے فورا بعدتحریک انصاف اور متحدہ کے درمیان بیان بازیوں اور معافیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔
الطاف حسین کے بیانات اور ان کے جواب میں تحریک انصاف اور عمران خان کی زبان اور جملے استعمال کسی طرح شریفانہ قرار نہیں دیے جاسکتے۔ متحدہ نے عمران خان صاحب کی باتوں پر جو ردعمل دکھایا اورجس طرح کراچی میں ریلی نکالی وہ عمران خان صاحب کیلئے ڈھکی چھپی دھمکی کے ساتھ ساتھ جے آئی ٹی اور جے آئی ٹی والوں کیلئے بھی ایک پیغام تھی۔ اِس سب ہنگامےکےبعدالطاف حسین صاحب نےمعافی مانگی اورعمران خان نےمعاف کردیا اورحالات ایسے ہو گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ مگراس مک مکامیں ڈھائی سو گھروں کے چراغ گُل ہونے کی جے۔آئی۔ٹی رپورٹ سرد خانے میں چلی گئی۔ اس سے پہلے تو اڑھائی سو سے زائد افراد کے اہل خانہ کو یہ تسلی تھی کہ یہ حادثاتی موت ہے مگر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے پیاروں کو قتل کیا گیا ہے وہ ہر روز جیتے ہیں اور روز مرتے ہیں۔ نہ انہیں وعدے کے مطابق معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی نہ ان کے بچوں کو نوکری وہ جائیں تو جائیں کہاں ؟
گزشتہ ساٹھ سال میں ہم ایک موثر نظام ہی تخلیق نہیں کر پائے،ہم قومی حیثیت میں ناکام ہیں ۔ ہم شعوری طور پر فالج زدہ معلوم ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے بھی اپنی عمران خان کے خلاف ریلی میں سٹیج پر جلی حروف میں بینر لکھا تھا کہ “ہمیں منزل نہیں رہنما چاہئے”۔ میرا ایک سوال ہے کہ آپ جن کے حق میں ریلی نکال رہے ہیں اگر وہ رہنما ہیں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات بد سے بدتر کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں ؛یا تو رہنما کی مانی نہیں جاتی یا رہنما خود ہدایت یافتہ نہیں ہے کیونکہ رہنما ایک بار غلطی کرتا ہے اور سبق سیکھتا ہے ، بار بار غلطی کر کے معافی مانگنے والے کو خود رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے رہنما کی فہم و فراست میں کہیں کوئی جھول ہے اور یہ سب اسی لیے ہے کہ ہم لوگوں کو منزل کی تلاش ہی نہیں بلکہ ہمیں تو یہ بھی ادراک نہیں کہ ہمیں منزل چاہیے بھی تھی یا نہیں، ہم ابھی تک رہنما کے منتظر ہیں۔
ہمارے رہنما برسوں پہلے 1989میں چنیوٹ میں لوہے او ر تانبے، سونا، چاندی کے ذخائر کے لیے شروع کیے گئے جیولوجیکل سروے کو آج کی دریافت بتا کر قوم کو خوش فہمی میں مبتلا کیے جا رہے ہیں۔
ہمارے رہنما برسوں پہلے 1989میں چنیوٹ میں لوہے او ر تانبے، سونا، چاندی کے ذخائر کے لیے شروع کیے گئے جیولوجیکل سروے کو آج کی دریافت بتا کر قوم کو خوش فہمی میں مبتلا کیے جا رہے ہیں۔ جس بات کا زمانے کو 2003میں پتہ چل چکا تھا اسے ہمارے رہنما آج کی خبراس لیے بتا رہے ہیں کیوں کہ وہ ان رکاوٹوں کا ذکر نہیں کرنا چاہتے جن کی وجہ سے یہ منصوبہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکاتھا۔ کیا ایسا نہیں کہ “پنجاب” کے رہنما چھوٹے صوبوں کے وسائل کا استحصال کرتے رہے ہیں اور “سندھ “کے حکمرانوں کوپنجاب کے وسائل سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ موجود مسلم لیگ نواز کی حکومت عوام کو اس امر سے بے خبر رکھنا چاہتی ہے کہ اس منصوبے میں تاخیر کی وجہ وہ مقدمات ہیں جو پرویز الٰہی دور میں ٹینڈر کے ذریعے ٹھیکہ حاصل کرنے والی فرم نے دائر کر رکھے تھے۔رجوعہ سے پیپلزپارٹی کے ایم پی اے حسن مرتضیٰ پنجاب اسمبلی میں کام کی سست روی کے خلاف پنجاب اسمبلی میں آواز بھی اٹھائی لیکن وفاق اور صوبے میں ن لیگ کی حکومت ہونے کے باعث شنوائی نہیں ہوئی۔ موجودہ قیادت کا رویہ معدنی وسائل، بندرگاہوں حتیٰ کہ امن و سلامتی کی جانب بھی اسی قدر غیر ذمہ دارانہ ہیں، قومی اہمیت کے حامل منصوبے حکام کی نااہلی کی نظر ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام متبادل قیادت کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔

دو کمیشن اور دو رپورٹیں اور تحریک انصاف کا دہرا طرزعمل۔۔۔ تحریک انصاف جمہوریت، منصفانہ انتخابات اور انصاف کی فراہمی پر کتنا یقین رکھتی ہے یہ جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ۔ تحریک انصاف جس کی تمام تر سیاست انتخابی دھاندلی کا بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے تک محدود رہی تھی بدترین انتخابی ،سیاسی اور قانونی شکست سے دوچار ہونے کے بعد بھی بظاہر اپنا طرزعمل تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔ تحریک انصاف کے حقیقی خیرخواہوں کو اب اپنی جماعت سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ وہ تمام ثبوت کہاں ہیں جن کی بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں منظم دھاندلی کا سازشی مفروضہ تیار کیا گیا تھا؟ اب عمران خان کے متوالوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ ان کی جماعت نے نجم سیٹھی، خلیل الرحمن رمدے، جسٹس افتخار چوہدری اور فخرالدین جی ابراہیم پر جو الزامات لگائے تھے ان کی بنیاد کیا تھی۔ یہ سوال اب پی ٹی آئی کے ہر ہمدرد کے ذہن میں گونجنا چاہیئے کہ ان کے ساتھ ہونے والے دھوکے کا ذمہ دار کون ہے؟   تفصیل سے پڑھئے
ادب ہو یا سیاست ہمارے یہاں آم کا ذکر تو لازمی ملے گا بلکہ پاکستان تو دنیا بھر میں ’’مینگو ڈپلومیسی‘‘ کا بانی و موجد ہے۔ اگرچہ آم کے آم گٹھلیوں کے دام، آم کھانے سے کام یا پیڑ گننے سے، آم میں بور آنا وغیرہ آم کے حوالے سے اردو کے چند مشہور محاورے ہیں مگر گزشتہ ایک سال سے اس میں ایک نئے محاورے کا اضافہ ہوگیا ہے اور وہ ہے ’’آم کھائے گا؟‘‘۔ یارانِ نکتہ ور تو اس کی یہ تشریح کرتے ہیں کہ کسی کو گھر بلا کر بے عزت کرنا ہو تو اُس سے ان ڈھکے چھپے لفظوں میں پوچھ لو کہ ’’آم کھائے گا‘‘ اگر وہ واقعی خودار ہوا تو غیرت کھا لے گا مگر ایک موٹر سائیکل، عمرے کے ٹکٹ، سونے کے سیٹ کی خاطر کبھی بھی ’’اس طرح‘‘ آم نہیں کھائے گا۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حسن کی تاریخ وقت کی طرح قدیم ہے۔ اس تاریخ میں ایسے ایسے چہرے مدفون ہیں، جن کی شہرت کا ایک زمانہ گواہ تھا۔ وہ چہرے کسی کی دنیا ہوا کرتے تھے۔ ان چہروں کے تعاقب میں نظریں برسوں کی مسافت طے کرتی تھیں اور انتظار کی کڑی آزمائش سے گزرا جاتا تھا۔ تاریخ ایسے حسین چہروں کی وجہ سے بھی دلکش لگنے لگتی ہے۔ خاموشی اپنے حسن کے بل بوتے پر بولنے لگتی ہے۔ تاریخ سے منتخب آج کا چہرہ ایسا ہی ہے، جس کی خاموشی میں سرگوشیاں ہیں زندگی کی، زمانہ جس کے جمال میں دھڑکتا تھا، اس چہرے کا نام ”للی ایلسی“ تھا۔ وہ حسیناؤں کے جھرمٹ میں ایک پہیلی تھی، اور ہم اس کو لیلےٰ حسن بھی کہہ سکتے ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
یہ دوپہر کا وقت تھا جب ہم کالونی میں داخل ہوئے اور ہم استاد مصری جوگی کی ان کے چھوٹے مندر کے باہر موجود احاطے میں کلاس کو دیکھنے کے لیے بروقت پہنچ گئے۔ استاد نے نارنجی جوگہ پہن رکھا تھا جبکہ کانوں میں بڑی بالیوں کو دیکھا جاسکتا تھا۔ احاطے میں موجود بچوں کے گروپ کے لیے کوئی ڈیسک یا بلیک بورڈ نہیں تھا اور ہر ایک زمین پر بیٹھا اپنی کلاس شروع ہونے کا منتظر تھا۔  تفصیل سے پڑھئے
معاشرے میں اگر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا دور دورہ ہے تو اس کی ایک بنیادی وجہ آج کے نوجوانوں کی ضرورت کے مطابق کھیلوں کے میدان، پارک، اور اسٹیڈیمز کی کمی بھی ہے۔ جب نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع نہیں فراہم کیے جائیں گے، تو ان کا غیر صحتمندانہ اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا لازم ہے۔ ان نوجوانوں میں سے جن کے پاس مالی وسائل ہوتے ہیں، وہ تو پھر بھی کچھ نہ کچھ سرگرمی ڈھونڈ لیتے ہیں، لیکن وسائل سے محروم زیادہ تر نوجوان اکثر ون ویلنگ کرتے اور خطرناک حد تک کرتب دکھاتے سڑکوں پر اپنے جنون کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں۔    تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو کہ 14 اگست سے تبدیلی کے انتظار میں تھی اور اس تبدیلی کے لیے عوام کی بہت بڑی تعداد نے 126 دن تک دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا دیا، جو کہ بوجہ 16 دسمبر کو پیش آنے والے سانحہ پشاور کے بعد ختم کیا گیا۔ دھرنا ختم کرنے کے بعد تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں نے کامیابی کی پہلی سیڑھی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم ہونے والے جوڈیشل کمیشن کو سمجھا۔ جس کی شرائط طے کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مابین کئی لاحاصل مذاکرات ہوئے اور بالآخر دونوں جماعتیں مشترکہ نقاط پر متفق ہوئیں۔   تفصیل سے پڑھئے
برمنگھم یونیورسٹی سے ’قدیم ترین‘ قرآنی نسخہ برآمد- یونیورسٹی کے مطابق ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ نسخہ کم از کم 1370 سال پرانا ہے اور اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نسخہ قدیم ترین قرآنی نسخہ ہے۔
قرآن کا یہ نسخہ یونیورسٹی کی لائبریری میں تقریباً ایک صدی سے پڑا ہوا تھا۔
برٹش لائبریری میں ایسے نسخوں کے ماہر ڈاکٹر محمد عیسیٰ کا کہنا ہے کہ یہ بہت ’دلچسپ دریافت‘ ہے اور ’مسلمان بہت خوش‘ ہوں گے۔
یہ نسخہ مشرق وسطیٰ کی کتابوں اور دیگر دستاویزات کے ساتھ پڑا ہوا تھا اور کسی نے اس کی پہچان نہیں کی۔
اس نسخے کو ایک پی ایچ ڈی کرنے والے طالب علم نے دیکھا اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ اس کا ریڈیو کاربن ٹیسٹ کرایا جائے اور اس ٹیسٹ کے نتیجے نے سب کو حیران کردیا۔
یونیورسٹی کی ڈائریکٹر سوزن وورل کا کہنا ہے کہ تحقیق دانوں کو اندازہ بھی نہ تھا کہ یہ دستاویز اتنی قدیم ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ معلوم ہونا کہ ہمارے پاس قرآن کا دنیا میں قدیم ترین نسخہ موجود ہے بہت خاص ہے۔‘
آکسفرڈ یونیورسٹی کے ریڈیو کاربن ایکسلیریٹر یونٹ میں کیے گئے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نسخہ بھیڑ یا بکری کی کھال پر لکھا گیا ہے۔ یہ قدیم ترین نسخوں میں سے ایک ہے۔
اس ٹیسٹ کے مطابق یہ سنہ 568 اور سنہ 645 کے درمیان کا نسخہ ہے۔
برمنگھم یونیورسٹی کے عیسائیت اور اسلام کے پروفیسر ڈیوڈ تھامس کا کہنا ہے کہ ’اس تاریخ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے چند سال بعد کا نسخہ ہے۔‘
پروفیسر تھامس کا کہنا ہے کہ اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ جس نے بھی یہ لکھا وہ شخص پیغمبر اسلام کے وقت حیات تھا۔
’جس نے یہ لکھا ہے ممکن ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے قریب تھے۔ ممکنہ طور پر انھوں نے پیغمبر کو دیکھا ہو گا اور ان کو تبلیغ کرتے ہوئے سنا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پیغمبر کو قریب سے جانتے ہوں گے۔ اور یہ ایک اہم بات ہے۔‘
پروفیسر تھامس کا کہنا ہے کہ قرآن کو کتاب کی صورت میں 650 میں مکمل کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کافی اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا جو حصہ اس چمڑے پر لکھا گیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے گزر جانے کے دو دہائیوں کے بعد کا ہے۔‘
’جو نسخہ ملا ہے وہ موجودہ قرآن کے قریب تر ہے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ ویسا ہی جیسے کہ نازل ہوا۔‘
قرآن کا یہ نسخہ ’حجازی لکھائی‘ میں لکھا گیا ہے جس طرح عربی پہلے لکھی جاتی تھی۔ جس کے باعث اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ قدیم ترین نسخہ ہے۔
ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے مختلف تاریخیں سامنے آتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس بھی قدیم نسخے موجود ہیں جس کے باعث یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان نسخوں میں سے کوئی بھی قدیم ترین ہو سکتا ہے۔
تاہم یونیورسٹی کے کیے گئے ٹیسٹ سے 645 کی تاریخ سامنے آئی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہی قدیم ترین نسخہ ہے۔
برٹش لائبریری کے ڈاکٹر محمد عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ’خوبصورت اور واضح حجازی لکھائی میں لکھے گئے یہ نسخے یقینی طور پر پہلے تین خلفا کے زمانے کے ہیں یعنی 632 اور 656 کے عرصے کے۔‘
ڈاکٹر محمد عیسیٰ کا کہنا ہے کہ تیسرے خلیفہ کے زمانے میں قرآن کا حتمی نسخہ منظر عام پر لایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلمان اس وقت اتنے امیر نہیں تھے کہ وہ دہائیوں تک کھالوں کو محفوظ کر کے رکھتے اور قرآن کی ایک مکمل نسخے کے لیے کھالوں کی بڑی تعداد درکار تھی۔
ڈاکٹر محمد عیسیٰ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی سے ملنے والا یہ نسخہ یا تو اس زمانے کا ہے یا اس سے بھی پہلے کا۔
’بہرحال اس نسخے کا ملنا اور اس پر خوبصورت حجازی لکھائی سے مسلمان بہت خوش ہوں گے۔‘
یہ نسخہ 3000 سے زیادہ مشرق وسطیٰ کے دستاویزات کے ’منگانا مجموعے‘ کا حصہ ہے جو 1920 کی دہائی میں جدید عراق کے شہر موصل سے پادری الفونسے منگانا لائے تھے۔
ان کو چاکلیٹ بنانے والی کمپنی کے ایڈورڈ کیڈبری نے سپانسر کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ جائیں اور دستاویزات اکٹھی کریں۔
برمنگھم کی مقامی مسلمان آبادی نے اس نسخے کی دریافت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس نسخے کی نمائش کی جائے گی۔



ایک بادشاہ کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیر کر رہا تھا۔ کشتی اس لیئے کہ کروز اور لانچ کا دور نہ تھا۔ آبدوز بھی ایجاد نہ ہوئی تھی۔ کچھ درباری اور چند غلام بھی ساتھ تھے۔ وہ ساتھ نہ ہوتے تو پروٹو کول کسطرح پورا ہوتا۔ سب کہتے کتنا غریب بادشاہ ہے۔ بغیر پروٹوکول کے پھرتا ہے۔ یہ سارے غلام ایسے تھے جو پہلے کبھی کشتی میں نہ بیٹھے تھے اور شوق میں ساتھ چلے آئے تھے اور اب پچھتا رہے تھے۔ مگر اک ایسا تھا جو اپنا خوف نہ چھپا پا رہا تھا۔ اور ڈوب جانے کے خوف سے رو رہا تھا۔ موت برحق ہے والے مقولے پر اس کا ایمان بہت ناپختہ تھا۔ بادشاہ کو اس کی بھوں بھوں کر کے رونے کی آواز سے سخت الجھن ہو رہی تھی لیکن غلام پر منع کرنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے کا بالکل اثر نہ ہوا اور وہ یونہی روتا رہا۔ بادشاہ سوچ رہا تھا کہ واپس جا کر اسکی گردن مار دینے کا حکم دے دے گا۔
کشتی میں ایک جہاندیدہ اور دانا شخص بھی سوار تھا ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ یہ اک مسافر کشتی تھی اور بادشاہ کو درباریوں نے مکمل کشتی کرائے پر لینے کی بجائے ضرورت کے مطابق ہی کرایہ ادا کر کے بقیہ رقم ڈکا ر لی تھی۔ کہ بادشاہ کو کونسا پتہ چلے گا۔ اور ملاح سے سازباز کر رکھی تھی کہ مسافر کو اپنا رشتےدار بتا دے اگر بادشاہ پوچھ بیٹھے۔دوسری مصلحت یہ بھی تھی کہ اگر اسکو بھی نکال دیتے تو حکایت آگے کیسے بڑھتی۔
اب دانا شخص نے فلمی انداز میں یکلخت کھڑے ہو کر کہا کہ اگر حضور اجازت دیں تو یہ خادم اس خوفزدہ غلام کا ڈر دور کر دے؟ تو بادشاہ جو پہلے ہی شیخ سعدی کے دور کے عقلمندوں کو یاد کر رہاتھا خوش ہوگیا کہ لو آیا اک دانا۔ اور اجازت عطا فرمائی۔
دانشمند شخص نے اک نگاہ تکبرانہ سب بیوقوفوں مع بادشاہ پر ڈالی اور بقیہ غلاموں کو حکم دیا کہ اس والے غلام کو اٹھا کر دریا میں پھینک دو۔ درحقیقت وہ اک اذیت پسند شخص تھا۔ وگرنہ غلام کی توجہ باتوں میں لگا کر بھی بٹائی جا سکتی تھی۔ مگر ان دنوں شائد اس قسم کے موضوعات پر تحقیق نہ ہوتی تھی۔ غلاموں نے حکم کی تعمیل کی اور رونے والے غلام کو اٹھا کر دریا کے اندر پھینک دیا ۔ جب وہ تین چار غوطے کھا چکا تو دانا شخص نے غلاموں سے کہا کہ اب اسے دریا سے نکلا کر کشتی میں سوار کر لو. وہ غلام غوطے کھاتا کشتی سے دور جا چکا تھا۔ اب سب اک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے کہ تیرنا تو کسی کو بھی نہیں آتا تھا۔ اب سب کی نظریں ملاح پر گڑ گئیں۔ مجبورا ملاح دل ہی دل میں بکتا جھکتا دریا میں چھلانگ لگا کر اسکو اوپر گھسیٹ لایا۔ اسکے پیٹ میں پانی بھی چلا گیا تھا۔ وہ بھی نکالا گیا۔ اب وہ غلام جو غوطے کھانے سے پہلے ڈوب جانے کے خوف سے بڑی طرح رو رہا تھا بالکل خاموش اور پر سکون ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔بادشاہ جو یہ بیکار حرکت دیکھ کر بور ہو رہا تھا،قدرے غصہ ہو کر سوال کیا کہ آخر اس بات میں کیا بھلائی تھی کہ تم نے ایک ڈرے ہوئے شخص کو دریا میں پھینکوا دیا تھا اور یہ بھی پوچھنے کی زحمت نہ کی کہ کسی کو تیرنا آتا بھی ہے یا نہیں؟ لیکن دلچسپ امر جس نے تمہاری جان بچا لی وہ یہ ہے کہ یہ اب خاموش ہوگیاہے۔دانا شخص جو پہلے داد طلب نظروں سے بادشاہ کو دیکھ رہا تھا۔پریشان ہوگیا اور سوچنے لگا کہ اخلاقی سبق ایسا ہونا چاہیئے کہ اب اپنی جان بچ جائے۔ اور آخر کار اس نے جواب دیا حضور والا! اصل بات یہ تھی کہ اس نے کبھی دریا میں غوطے کھانے کی تکلیف نہ اٹھائی تھی۔ اس طرح اس کے دل میں اس آرام کی کوئی قدر نہ تھی جو اسے کشتی کے اندر حاصل تھا۔ اب جب لگے غوطے تو عقل آگئی ٹھکانے۔ اور دونوں کی حقیقت اس پر روشن ہوگئی تو یہ خاموش ہو گیا۔

حالانکہ غلام نے بعد میں اپنے دوستوں کو بتایا کہ میں اس وجہ سے چپ کر گیا کہ یہ آدمی پاگل ہے۔ اور تم لوگ احمق۔ اس بیوقوف کی اس حرکت سے اب میرا ڈر اور بڑھ گیا ہے۔
اخلاقی سبق: اگر آپ اپنے ڈر لوگوں کو بتائیں گے تو وہ نہ صرف آپ کو مزید ڈرائیں گے۔ بلکہ بعد میں آپکو اس میں اخلاقی سبق تلاشنے کا بھی کہیں گے۔ اور یہ کہ اگر کسی شخص نے کبھی کوئی مصیبت نہیں دیکھی تو اس کو اس مصیبت کا مزا چکھانا ضروری نہیں ہے۔ اس قسم کی حرکتوں سے اسکا دل بند ہو سکتا ہے۔ اور وہ مر بھی سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس قسم کے کام کرتے وقت ساتھ موجود لوگوں کی صلاحیتوں سے آگاہی ضروری ہے۔ ورنہ یہ دانائی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
اس تحریر کو حکایات نیرنگ کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے
فیض احمد فیض کا انتقال 20 نومبر سنہ 1984 میں ہوا تھا-25 اپریل سنہ 1981 کا دن تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ الہ آباد شہر کا ہر رکشہ، تانگہ اور سکوٹر الہ آباد یونیورسٹی کی طرف چلا جا رہا ہے۔ مشہور سینیٹ ہال کے سامنے فیض احمد فیض کو سننے کے لیے ہزاروں لوگ جمع تھے۔ ان میں سے ایک معروف مصنف روندر کالیا تھے۔
کالیا اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’اس دن مشاعرے کی صدارت ہندی کی شاعرہ مہادیوی ورما کر رہی تھیں۔ معروف شاعر فراق گورکھپوری بیمار تھے اس لیے انھیں گود میں اٹھا کر سٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔ ان کے ساتھاپیندرناتھ اشک، پروفیسر عقيل رضوی اور ڈاکٹر محمد حسن بیٹھے تھے۔‘
فیض نے اپنی تقریر میں کہا تھا: ’میرا دنیا کو صرف یہی پیغام ہے۔۔۔عشق کیجیے۔‘ فراق صاحب ایک ٹك فیض کو دیکھے جا رہے تھے۔ تبھی ڈاکٹر حسن نے فراق کا مشہور شعر پڑھا تھا۔  تفصیل سے پڑھئے

سندھ صوبے کا نام صرف اسی سال پہلے رکھا گیا------موجودہ صوبہ سندھ کا نام سندھ نہیں بلکہ مہران تھا اور مغلیہ دور میں صوبہ ٹھٹہ تھا ، محمد بن قاسم نے اس کو مہران کا نام دیا تھا ، آج بھی کافی سندھی خود کو مہرانی کہہ کر اپنی قوم کا تعارف کرواتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پنجاب دشمن سرائکیوں نے کئی بار دعوی کیا کہ سرائکی علاقہ ملتان دراصل صوبہ سندھ کا حصہ تھا ، بفرض محال میں بحث کے لئے انکی دلیل کو تسلیم بھی کرلوں تب بھی اس وقت سندھ نام کی کوئی سلطنت یا صوبہ یا قوم وجود نہیں رکھتی تھی ، نہ تاریخی حقایق تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی قدیم نقشہ ۔ البتہ مہران یا کلہوڑا ریاست یا خیرہور یا تالپور نام کی ریاستوں کا وجود تاریخی کتب یاقدیم نقشوں میں ضرور مل جاتا ہے ، ۔اکبر اعظم کے دور مین سندھ ٹھٹہ کے نام پر صوبہ ٹھٹہ کہلاتا تھا۔    
میں نے اپنے سندھی قوم ہرست دوستوں اور سرایکی مخالفین کے سے بار بار درخواست کی کہ اس بات کا کوئی علمی ثبوت فرایم کریں کہ صوبہ سندھ کے لئے موجودہ نام سندھ کے لئے کب استعمال ہونا شروع ہوا؟
لیکن اس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب دینے کی بجائے انھوں نے جاہل عورتون کی طرح درفطنی شروع کردی جو میرا شیوہ نہیں ۔
 اب ایک پنجابی قوم پرست دوست نے میری مشکل حل کی ہے کہ دریائے سندھ کے زیریں علاقے کو جو سکھر سے شروع ہوتا ہے برٹش نے۱۹۳۰أ۱۹۳۶ (انیس سو تیس سے انیس چھتیس )کے درمیان سندھ کا نام دیا تھا ۔  ٰیہ حیران کن انکشاف ہے کہ سندھ کا نام آج سے صرف اسی سال پہلے رکھا گیا تھا ۔ اس سے پہلے پانچ ہزار سال کی تاریخ میں کسی سندھی قوم یا صوبے یا سلطنت یا ملک کا وجود ہی نہیں تھا اور موجودہ صوبہ سندھ کا نام بھی غیر مللکی حکمرانون یعنی انگریزوں کا دیا ہوا ہے 
 اس کا کیا مطلب ہے ؟
ظاہر ہے کہ برٹش نے سندھ کو دریائے سندھ کا نام خیرخواہی کے جزبے کے تحت نہیں دیا ہوگا۔ ضرور اس کے پس پشت مخصوص سیاسی مفادات اور مقاصڈ پوشیدہ ہون گے جن کا سراغ لگانا پنجابی قوم پرستوں کا فرض ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور ہانی کا پانی کیا جاسکے ۔
      اس کے ساتھ ہی ایک بات اور بھی پیش نظر رہیی چاہئے کہ موجودہ سندھی زبان کا رسم الخط بھی برٹش مایرین لسانیات کا تیار کردہ ہے ۔ سندھی زبان میں کئی حروف تہجی کا اضافہ کیا گیا تھا تاکہ یہ پڑھنے لکھنے کی زبان بن سکے ۔ یہ بالکل وہی واردات ہے جو برٹش نے ہندی کے بطن سے اردو کو جنم دینے کے لئے کی تھی ۔
( میں ایک آرٹیکل بھی لکھ چکا ہوں کہ اردو کا آغاز کیسے ہوا ؟ جو میری ٹایم لائن کے نوٹس میں چیک کیا جاسکتا ہے )
  اس صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسی برٹش حکومت نے پنجاب میں پنجابی زبان کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور پنجاب میں پہلی بار اردو کا نفاز ہوا ۔اگر ہم سندھی اور اردو بمقابلہ پنجابی زبان برٹش حکمرانوں کی پالیسی پر غور کریں تو اس میں زبردست تضاد نظر آتا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ یہ پالیسی لیول اقدامات برٹش نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مخصوص مقاصد حاصل کرنے ہی کے لئے کئے ہوں گے ۔
    ہمیں پہلی عالمی جنگ میں سلطنت عثمانیہ کو بخرے کرنے ، عربوں اور ترکوں کو لڑوانے کے لئے عرب لسانیت اور تنگ نظری کو فروغ دینے کی برٹش کی پالیسی کو ہرگز ہر گز نہیں بھولنا چاہئے۔
یہی پالیسی برٹش نےسندھی اور اردو کو فروغ دینے اور ان کے حروف تہجی بنانے کے لئے کی تھی۔
  سوال تو یہ ہے کہ برٹش نے ایک چھوٹے سے صوبے کا نام دریائے سندھ جیسے عظیم اور طویل دریا کے نام پر کیوں رکھا ؟
دریائے سندھ سترہ سو میل طویل ہے اور تبت کی مانسرور جھیل سے شروع ہوکر لداخ ، بلتستان ، ہزارہ ، پنجاب سے ہوتا ہوا آخر میں موجودہ صوبہ سندھ میں داخل ہوتا ہے
 سندھ میں دریائے سندھ زیادہ سے زیادہ چار سو میل تک بہتا ہے ۔
کیا یہ زیادتی نہین ہے کہ سترہ سو میل طویل دریا کے صرف ایک چھوٹے سے علاقے پر ایک صوبہ کا نام رکھ کر اس کی اجارہ داری کا غلط تاثر قائم کردیا جائے ؟
  میں اپنی اس رائے پر قائم ہوں کہ سندھ نام کے کسی صوبے کا تاریخ میں کبھی وجود نہیں رہا اور موجودہ صوبہ سندھ دراصل برٹش کا دیا ہوا نام ہے جو لڑواؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت دیا گیا تھا ،
کیا ہی اچھا ہو کہ صوبہ سندھ کا نام تبدیل کرکے محمد بن قاسم کا دیا ہوا تاریخی نام صوبہ مہران بحال کردیا جائے اور اس طرح ایک بہت بڑی تاریٰخی غلط فیمی کا ازالہ ہوجائے گا۔
  اب آتے ہیں صورتحال کے دوسرے پہلو کی طرف۔
 عام آدمی کو چونکہ زئادہ معلومات نہیں ہوتیں اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ شاید پنجاب بھی اسی صوبہ سندھ کا حصہ تھا اور دریائے سندھ کا نام بھی موجودہ صوبہ سندھ کی وجہ سے ہے جو قطعی غلط ہے سندھ سنسکرت کا لفظ ہے اور جب آریاؤں نے ابڈس دریا پار کیا تو اس کو سندھو کا نام دیا ، پھر جہلم ، چناب ، راوی ، بیاس اور ستلج کے نام بھی آریاؤں ہی کے دئے ہوئے نام ہیں ۔
اس علاقے کی ایک ہی قوم اور تہزیب تھی جو وادی سندھ کی تہزیب کہلاتی تھی اور اس کا مرکز ہڑپہ ( ساہیوال ) تھا پھر اسی وادی سندھ کا نام پنجاب ہوگیا جو تاریخی ہے ، پنجاب کیسی برٹش کا دیا ہوا نام نہیں ہے ۔سرائکی لفظ اور قوم کی تحقیق بھی ایک بڑٹش کی شرارت تھی جس کا نام گرئر سن تھا
 ایک ہزار سال پہلے تک جموں سے لیکر دیبل تک ایک ہی زبان تھی جو سنکسرت سے نکل کر پراکرت بنی تھی ۔ پنجابی اور سندھی زبان کا الگ وجود ایک ہزار سال پہلے شروع ہوا کیونکہ موجودہ صوبہ سندھ کا علاقہ ریتلا، دلدلی تھا اور اس وجہ سے زیادہ تر غیر آباد تھا۔ صرف دریائے سندھ سے متصل علاقہ زرخیز تھا جہاں کچھ آبپاشی ہوتی تھی اور آبادی تھی۔ اس وجہ سے کم لوگ دریائے سندھ کے زیریں علاقے یا مہران کا رخ کرتے تھے اور یوں رفتہ رفتہ اپر وادی سندھ پنجاب کا نام اختیار کرگئی اور زیریں وادی سندھ کبھی میران، کبھی خیرپور اور کبھی ٹالپور ریاست کہلواتا رہا لیکن صوبہ سندھ کانام کبھی نہیں رہا ۔
 لیزا سندھیوں کی طرف سے یہ دعوی کہ موہیجودڑو کی عظیم تہزیب موجودہ سندھی قوم کی ہے سرے سے غلط ہے ، قدہم ہڑپہ تہزیب دراصل دریائے سندھ کی تہزیب ہے جس کی اکثریتی قوم پنجابی ہے اور اس کو پنجاب کئ عظیم تہزیب قرار دینا درست ہوگا۔

استاد اور شاگرد کا رشتہ ایک اس قدر معتبر ہے کہ اسے روحانی رشتے سے تعبیر کیا جا تا ہے۔استاد بغیر کسی لالچ اور فائدے کے علم کی روشنی شاگردوں تک منتقل کرتا ہے اور انہیں علم کی دولت سےوہ صلاحیتیں بخشتا ہے جس سے آدمی کا وقار معاشرے میں بلند ہوتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ استاد کئی سال ایک ہی ادارے سے وابستہ رہتا ہے اور اپنے شاگردوں کو خود سے بہتر اداروں سے وابسطہ ہوتا دیکھتا ہے اور اس پررنجیدہ ہونے کے بجائے مسرت کا اظہار کرتا ہے۔ استاد کی شخصیت باوقار ہوتی ہے اورشخصیت سے متاثر ہونا انسانی جبلت میں شامل ہے۔ کسی شخص کا انداز، گفتگو، لباس وغیرہ کو مجموعی طور پر شخصیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
اسلام علیکم..... بیاض افتخار کی جانب سےدل کی گہرائیوں سے امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو عید مبارک.......
جن کی آج عید تھی انہیں بھی اور جن کل عید ھے انہیں عید مبارک.... اللہ تعالٰی آپ سب کو قابل برداشت خوشیاں دیدے.

ہمارے معاشرے میں عید الفطر کے کئی رنگ ہیں۔ جیسے جیسے ماہِ رمضان اپنے اختتام کو پہنچتا ہے، تو ملک بھر کے بازار عید کی اشیاء جیسے کپڑوں، چوڑیاں، مہندی، اور کھانے پینے کی چیزوں سے بھر جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں اس تہوار کا خاصہ ہیں اور ان کا رواج کبھی ماند پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ایک رواج ہے جو گذشتہ کئی سالوں سے دم توڑتا جا رہا ہے، اور وہ ہے عید کارڈ بھیجنا۔
کبھی زیادہ تر گھرانوں میں عید کارڈ منتخب کرنے، خریدنے، لکھنے، اور دوستوں اور رشتے داروں کو بھیجنے پر خاصہ وقت لگانا ایک معمول ہوا کرتا تھا لیکن اب شاذ و نادر ہی ایسا دیکھنے میں آتا ہے۔   تفصیل سے پڑھئے

پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنما یہ بھانپتے ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں ایک قابل عمل سیاسی قوت نہیں رہی اپنی سیاست کی ڈوبتی ہوئی ناو کو سہارا دینے کے لیے تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں- مجھے یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔لوگوں کا ردعمل بہت حوصلہ افزا نہیں تھا مگر لوگوں کی لاپروائی اور عدم دلچسپی ان کے حوصلے پست نہیں کر پا رہی تھی۔ان کی آنکھوں کی چمک مجھےآج بھی یاد ہے۔پچھلے دنوں میری ملاقات ان میں سے ایک نوجوان سے ہوئی،وہ اپنی جماعت کے ساتھ وابستہ تو تھا مگر اس کی آنکھوں میں اب وہ چمک تھی نہ دل میں تبدیلی کے لیے وہ تڑپ۔ وہ اب بہت سے سوالات اور شکووں کا بوجھ لیے پھرتا ہے ،    تفصیل سے پڑھئے
رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی ہی بات نہیں ہے بلکہ ہمارے ٹی وی چینلز نے ہر مذہبی تہوار کوبے قدر کر دیا ہے۔ بات صرف رمضان المبارک میں سحری و افطاری نشریات کی نہیں ہے، ہر مذہبی تہوار پر پر ہمارے ٹی وی چینلوں نے مذہب سے منسلک لوگوں کو دین کے اصل پیغام کی ترویج کی بجائے بے معنی ہلڑبازی کے ذریعے ذہنی کوفت کا شکار کیاہے۔ ہمارے اداکار، رقاصاور کھلاڑی ایسے مواقع پر خود کو کامل مسلمان ثابت کرنے کی بے جا کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ افطاری و سحری ، محرم الحرام ، عید الاضحٰی ، عید الفطر ، لیلتہ القدر ہویا کوئی بھی مذہبی تہوار ہم نے مذہب کو ہر ممکن حد تک اور ہر طرح سے بیچا ہے، کبھی موبائل کے ڈبوں کےذریعے تو کبھی موٹر گاڑی اورشربت کی بوتلوں کی مدد سے۔ قہقوں سے لبریز خواتین اور مردوں کی محفلیں جس شان و شوکت سے افطاروسحر کے دوران سجائی جا رہی ہیں وہ رمضان کےسادگی اور صبر کے بنیادی پیغام سے متصاد م ہے۔ ٹی وی چینلوں پر مذہب کی روحانیت اور تقدس کو نظرانداز کرتے ہوئے محض ریٹنگ اور اشتہارات کے حصول میں دلچسپی کے باعث رمضان کی نشریات افسوس ناک حد تک قابل اعتراض ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
”ایک تھا بادشاہ- بادشاہ تو خود خدا ہے مگر یہ زمین کے ایک ٹکڑے کا بادشاہ تھا۔“
”ایک تھا بادشاہ، اور ایک تھی اس کی رانی۔“
”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک شیر اور لومڑی رہتے تھے۔“
مندرجہ بالا جملے ہر کہانی سے پہلے میں کسی زمانے میں اپنے بڑوں سے سنتا تھا۔ گاؤں کے آنگن کے اوپر رات کو آسمان پر ستارے جگنوؤں کی مانند جھلملاتے تھے یا چاند بھی نیلے آکاش پر سے اپنی روشنی انڈیلتا رہتا تھا، تو امی یا کسی اور سے کہانی سننے کا موقع ضرور ملتا تھا۔
اس وقت روشنی کا اہم ذریعہ لالٹین ہوا کرتی تھی، جس کے گرد ہم سب بچے جمع ہو کر بیٹھتے تھے، مگر صرف ہم نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ کیڑے مکوڑے بھی اس لالٹین کی روشنی پر اکٹھے ہو جاتے تھے۔ اس زمانے میں گاؤں میں ایسے ہی بجلی نہیں ہوتی تھی جیسے آج شہروں میں ناپید ہو چکی یے۔ اس وقت ہم سب بچوں کو لگتا تھا کہ کہانی کا بادشاہ یا شہزادے ہم ہیں۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی جاتی تھی ہم اپنے بچگانہ ذہن سے تصور کے گھوڑے دوڑاتے تھے اور اپنے آپ کو اس کردار میں سمو دیتے تھے۔
جنوں، پریوں، اور بادشاہوں کی وہ کہانیاں ایک ایسی دنیا میں لے جاتی تھیں جہاں تھا تو سب کچھ خیالی مگر کہانی سنانے والے کے اندازِ بیاں کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ حقیقی دنیا کا حصہ ہے۔
کچھ وقت قبل نہ صرف گھر کے افراد اپنے بچوں کو کہانیاں بڑے شوق سے سنایا کرتے تھے بلکہ گھر میں آنے والے مہمان سے یہ ضد کرتے تھے کہ وہ انہیں کوئی نہ کوئی کہانی ضرور سنائیں۔ پھر بچوں کی ٹولی ہونٹوں پر چپ کی مہر لگا کر کانوں کو کہانی سنانے والے کے طرف کر دیتی تھی۔ مگر اس وقت کہانی کی سب سے خراب بات یہ ہوا کرتی تھی کہ وہ جلدی ختم ہو جاتی تھی، پھر دوسری کہانی سنانے کے لیے ضد کی جاتی تھی۔ بچپن میں اور تو کچھ نہیں تھا مگر ہمارے پاس کہانیاں ضرور ہوتی تھیں۔ ان کے تصوراتی اور دیو مالائی کردار ذہن کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے تھے۔ ان کہانیوں کو بیان کرنے کے لیے جو تشبیہات اور استعارے استعمال کیے جاتے تھے، وہ بھی کمال کے ہوتے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ ہماری امی ہمیں بادشاہوں اور شہزادوں کے قصے سنایا کرتی تھیں، اور ابو یونانی دیومالائی کہانیاں سناتے تھے۔ مجھے وہ کہانیاں سن کر بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا شوق ہوا۔ اگر میں اپنے بڑوں سے کہانیاں نہ سنتا تو شاید میں بھی کبھی کہانیاں نہیں لکھ پاتا۔ ہم وہ کہانیاں سن کر بڑے ہوئے مگر اب جب میں موجودہ دور کے بچوں کو دیکھتا ہوں تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ انہیں کوئی کہانی سنانے والا نہیں ہے، اور اسی وجہ سے بچوں میں بھی کہانیوں کو لے کر وہ دلچسپی نہیں ہے جو ہم میں ہوا کرتی تھی۔
پوری دنیا لوک ادب، قصوں، اور کہانیوں سے بھری ہوئی ہے اور تقریباً یہ قصے ایک جیسے ہیں، فرق صرف زبان کا ہے۔ مثلاً شیکسپیئر کا ڈرامہ King Lear؛ یہ قصہ میں نے پہلی بار اپنی ماں سے سنا تھا اور ڈرامہ بعد میں پڑھا تھا۔ اس میں ایک بادشاہ اپنی بیٹیوں سے یہ معلوم کرتا ہے کہ اسے اس کی بیٹیاں کتنا پیار کرتی ہیں۔ جس پر ایک بیٹی کہتی ہے کہ اس کا باپ اسے نمک جتنا پیارا ہے۔ جس کے بعد بادشاہ اپنی بیٹی کو محل سے نکال دیتا ہے۔
کنگ لیئر کی کہانی ایک لوک ادب کا قصہ ہے جو کہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہا ہے، جسے جب شیکسپیئر نے لکھا تو اسے شاہکار بنا دیا، مگر وہی کہانی جب بچوں کو سنائی جاتی ہے تو بہت دلچسپ ہو جاتی ہے۔ ایسے مومل رانو، اکبر بیربل، اور سمندر کھارا کیسے ہوا جیسی کہانیاں بچپن میں سننے کو ملیں۔ مگر اب سوتے وقت کوئی کہانی ہمارے بچوں کا انتظار نہیں کرتی، کیونکہ والدین کے ہاتھ موبائل سنبھالنے میں مصروف ہوتے ہیں۔
اگرچہ اب یہ قصے کہانیاں کتابی صورت میں موجود ہیں مگر پھر بھی وہ ہمارے گھروں میں موجود معصوم دلوں میں نہیں اترتیں۔ کہانیاں سنانے کے حوالے سے اس وقت جو تحقیق ہوئی ہے وہ بھی کافی دلچسپ ہے کہ بچوں کو کہانیاں سنانے سے ان کے ذہنوں میں کون سی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کو 9 سال تک کہانیاں سنانی چاہیئں، مگر 7 سالوں کی عمر میں والدین بہت بڑا اثر چھوڑتے ہیں۔ اس عمر میں کہانیاں بچے کو مطالعے کا شوق دلاتی ہیں“۔
ایک کہانی اوسطاً 16 منٹ کی ہوتی ہے، اس لیے تھوڑی سی منصوبہ بندی سے بچوں کو رات کے وقت کہانی سنائی جاسکتی ہے۔ یہ کہانیاں بچوں کو سونے سے پہلے رلیکس کرتی ہیں، ان کے مطالعے کی عادت کو بڑھاوا دیتی ہیں، اور بچوں اور والدین کے رشتے کو برقرار رکھتی ہیں"۔
اس کے علاوہ کہانیاں سنانے سے بچوں کے اندر چھپی صلاحیتیں بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ان کی دلچسپی کہاں ہے یہ بھی پتا چلتا ہے، اور بچے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جو بچے بھی ایسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، وہ ان کہانیوں کے ذریعے بہت کچھ کر سکتے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ بچوں کی کہانیاں دنیا کی ہر زبان میں موجود ہیں، اگر انہیں فراموش کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہم اپنی زبان میں ذخیرہ کیے ہوئے لوک ادب کو فراموش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ یہ کہانیاں اصل میں ناصحانہ انداز میں لکھی گئی ہیں اس لیے انہیں سبق آموز کہانیاں کہا جاتا ہے۔
جانوروں، پرندوں، جنوں، پریوں، اور شہزادوں کی یہ کہانیاں اب ہم بھولتے جا رہے ہیں۔ اب ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچا کہ ہم اپنے بچوں کو کہانیاں سنا کر ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پرکھ سکیں۔ ہم ایک ایسی نسل کی تیاری میں مصروف عمل ہیں جو کہ ویڈیو گیم اور موبائل فون چلانے میں تو ماہر ہے مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ کہانیاں کیا ہوتی ہیں۔ کیسے لکڑہارا جن کو مار کر شہزادی کو اس کی قید سے آزاد کرواتا ہے، کیسے پھر وہ شہزادہ بنتا ہے، اور کس طرح پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔
نوبیل انعام یافتہ چینی ناول نویس مو یان نے نوبیل انعام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ”میں ایک قصہ گو ہوں، اور قصہ گوئی نے ہی مجھے نوبیل انعام سے نوازا ہے“۔
اور پیٹر ہینڈکی کے الفاظ میں: ”اگر کوئی قوم اپنے کہانی سنانے والوں کو کھو دیتی ہے تو وہ اپنے بچپن کو بھی کھو دیتی ہے۔"
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
35 پنکچر ایک ایسا دو لفظی جملہ ہے کہ جسے لے کر گزشتہ کافی عرصے سے پاکستان میں ماتم ہوتا رہا اور اب بھی جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ٹاک شوز اور پریس کانفرنس سمیت ایسا کوئی فورم نہیں چھوڑا جہاں اس جملے کا بہیمانہ استعمال نہ کیا ہو۔ تحریک انصاف کی ٹوئٹر بریگیڈ نے بھی اس جملے کا پاگل پن کی حد تک استعمال کیا۔ شاید آپ نے زندگی میں پنکچر لفظ اتنی بار نہ سنا ہو جتنا 2013 کے بعد سے سنا ہوگا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے حالیہ بیان، کہ "35 پنکچر والا بیان سیاسی بیان تھا" کے بعد تو جیسے کوئی خلائی انکشاف ہو گیا ہو۔ اس بیان کو لے کر ہمارے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے افراد بالعموم اور تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین نے بالخصوص اس بیان پر اتنے جنوں کے ساتھ تبصرے کرنا شروع کر دیے ہیں جیسے یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہو۔
یہودیوں کا ایک بڑا مجمع اور ان میں یہودیوں کا ایک بڑا عالم تقریر کر رہا تھا ۔حضرت با یزید بسطامی جا کر ان میں بیٹھ گئے ان کے بیٹھتے ہی ان کے عالم کی زبان بند ہو گئی مجمع میں شور ہوا کہ حضرت بولتے کیوں نہیں ؟عالم نے کہا ہم میں کوئی محمدی آ گیا ہے زبان بند ،مجمع سے آواز آئی اسے کھڑا کرو ہم قتل کریں گے ،کہا نہیں بھائی!جو محمدی ہو وہ کھڑا ہو جائے حضرت بایزید بسطامی کھڑے ہو گئے یہودی نے کہا میں جو سوال کروں گا کیا تُو جواب دے گا؟بایزید نے کہا دونگا۔۔۔۔حضرت بایزید نے کہا اور میں صرف ایک سوال کرونگا کیا تُو جواب دے گا یہودی عالم نے کہا دونگا،یہودی عالم نے سوالات شروع کر دیئے۔  تفصیل سے پڑھئے
نہ کسی نے چاہنے والوں سے پوچھا ،نہ کسی نے عقیدتمندوں سے دریافت کیا، نہ کوئی عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے سامنے خطاب ہوا، نہ کوئی ولولہ انگیز تقریر ہوئی، نہ عطاء اللہ کی آواز میں کوئی نغمہ گونجا، نہ گو نواز گو کا نعرہ واشگاف انداز میں لگا، نہ ڈی جے بٹ نے کوئی دھن بجائی، نہ لوگوں نے پی ٹی آئی کے جھنڈے چہروں پر پینٹ کروائے ، نہ موٹر سائیکل سواروں نے سائیلنسر نکا ل کر سڑکوں پر وکٹری کے نشان بنائے، نہ ٹاک شوز میں پی ٹی آئی مخالف لوگوں کے پر خچے اڑائے، نہ ہی چینلوں نے عمران کی تقریروں کے ٹکڑے جوڑ کر لوگوں کے دل گرمائے، نہ نوجوانوں کو قیادت سونپنے کا عزم کسی نے دھرایا، نہ نئے پاکستان کا نعرہ لگا ، نہ ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا رقص ہوا، نہ جوشیلی خواتین نے سارے پاکستان کے چوکوں پر دھرنا دیا ، نہ وال چاکنگ ہوئی ، نہ تبدیلی کی آمد کا شور مچا ، بس اچانک ہی ایک دن ایک ٹاک شو میں خان صاحب نے تسلیم کر لیا کہ پینتیس پنکچرایک سیاسی بات تھی، ایک وقتی نعرہ تھا، ایک واقعاتی بات تھی، ایک غلط فہمی تھی ، ایک مذاق تھا ، کچھ دلگی تھی-  تفصیل سے پڑھئے
کسی لانگ مارچ سے ہماری حکومت نہیں گرے گی۔وزیر اعظم عمران خان-
 اسلام آباد ( خصوصی رپورٹر )وزیر اعظم عمران خان نے جشن آزادی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا ہے کہ کسی کے دھرنوںیا لانگ مارچ سے ان کی حکومت کوئی خطرہ نہیں کسی کو شوق ہے تو اپنے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں جس جگہ چاہے دھرنا میں بدل لے ہم ان کو ہر قسم کا پروٹوکول دینے کے لئے تیار ہیں ۔تبدیلی کے سوال پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا پاکستان میں اس سے بڑھ کر کیا تبدیلی ہو گی کہ گزشتہ پندرہ سال سے میں وزیر اعظم چلا آ رہا ہوں اور آنے والے الیکشن میں چوٹھی مرتبہ وزیر اعظم کے لئے پارلیمنٹ سے منظوری کروا لیں گے۔اسلام آباد میں تمام سکیٹرز کے نام ایک دوسرے سے تبدیل کر دیئے گئے ہیں اب فارنزز جی سکیٹر میں اور گورنمنٹ ملازم فارنرز سیکٹر میں رہائش پذیر ہیں ۔عوام اس قدر بد دل ہوچکے ہیں۔تقریر کو شائد کمپوزنگ کے بعد چیک نہیں کیا گیا یہ فقرہ تھا کہ عوام اس قدر بدل چکے ہیں کہ اب وہ کسی لانگ مارچ کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔شاہ محمود قریشی، جاویدہاشمی کے منظر نامے سے آوٹ ہونے کے سوال پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ مملکت میں تو شامل ہیں جس دن انہوں نے اپنے آپ کو کندن ثابت کر دیا اسی دن انہیں امورمملکت سونپ دیئے جائیں گے۔
  مجھے اس یوم آزادی پر ریٹائر کر دیا جائے ۔صدر پاکستان ممنون حسین-
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی )صدر ممنون حسین نے ایوان صدر میں ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ گذشتہ بیس سالوں سے پاکستان کے صدر چلے آ رہے ہیں اب ان کا دل چاہتا ہے وہ ریٹائر ہو جائیں انہوں نے بارہا اس کی سمری حکومت کو ارسال کی ہے لیکن جناب وزیر اعظم اعتراض لگا کر واپس کر دیتے ہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے تو پھر بھی کوئی باہمی دل چسپی کے معاملات تھے جس سے دل ایوان صدر جیسی خشک جگہ پر بھی ٹکا ہوا تھا دوسرا نوازشریف صاحب کے لانگ مارچ کی وجہ سے گذشتہ پندرہ سال سے بلا شرکت غیرے پاکستان کا صدر ہوں کیونکہ صاحب کہہ کر گئے تھے ممنون صاحب جانا نہیں میں ابھی لانگ مارچ لے کر آیا ۔اب مایوس ہو کر آخری بار اپنی ریٹائر منٹ کی سمری حکومت کو بھجوا رہا ہوں امید ہے منظور کر لی جائے گی ورنہ کوئی دارلحکومت کی دیواروں پر کوئی وال چاکنگ کر جائے گا کہ ’’ صدر کو رہا کرو ‘‘ جس سے حکومت کی بدنامی ہو گی۔
 مسلم لیگ نون کا لانگ مارچ گوجرانوالہ پہنچ گیا شرکا کی تعداد چند ہزار سے ذیادہ نہیں ۔ذرائع
گوجرانوالہ ( نامہ نگار خصوصی )مسلم لیگ کا لانگ مارچ گذشتہ تین روز سے گوجرانوالہ میں رکا ہوا ہے مسلم لیگ نون کے ذرائع کے مطابق حکومت کو مہلت دی جا رہی ہے کہ وہ خود بخود حکومت خالی کر جائے ورنہ دوسری صورت میں اگر لانگ مارچ نے اسلام آباد کا رخ کر لیا تو پھر عمران خان کی حکومت کو بھاگنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا۔صدر پاکستان مسلم لیگ نے بھر پور ناشتے کے بعد اپنے مسلم لیگی ورکروں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کہ وہ محض گوجرانوالہ کے کھابے کھانے کے لئے وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں انہوں نے سرکاری گزٹ ہاتھوں میں لہراتے ہوئے کہا تاریخ میں اس سے بڑھ کر اور دھاندلی کیا ہو گی میرے خواجگان کو ہرا دیا گیا ،رانا ثنا اللہ،رانا مشہود ،حمزہ شہباز،عابد شیر علی کس کس کاذکر کروں اور تو اورمیں اور شہباز شریف بڑی مشکل سے سیٹ نکال پائے ہیں وزیر اعظم کی سیٹ کو پاکستان مسلم لیگ نون کے لئے شجر ممنوعہ بنا دیا گیا ہے اس سے اچھا سیٹ اپ تو ہمارا پیپلز پارٹی کے ساتھ طے پا گیا تھا،یہ سارے حلقے وزیر اعظم کو کھولنا ہو گئے ان کی دوبارہ گنتی کروانا ہو گی ۔انہوں نے اپنے ورکروں کے نعروں کی گونج میں کہا جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کر لئے جاتے ہم اسلام آباد سے نہیں اٹھیں گے ۔
 ہم جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والی کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے ۔خورشید شاہ-
  اسلام آباد ( نامہ نگار )اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنے اس عزم کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے کہ اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے ہم حکومت کے خلاف کسی لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ہم حکومت کے خلاف نواز شریف کے لانگ مارچ کی مذمت کرتے ہیں کسی بھی غیر جمہوری اقدام کی صورت میں ہم عمران خان کی حکومت کا ساتھ دیں گے۔
عوام بھوکی مر رہی ہے ،لودشیڈنگ نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے ۔شیخ رشید-
 راولپنڈی ( پریس ریلیز) لال حویلی سے جاری ایک پریس ریلیز میں صدر عوامی مسلم لیگ نے عمران خان کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عوام کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا ہے انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے پاکستانی عوام کا وہی رولا ہے نہ کھانے کے لئے روٹی ہے نہ پہننے کے لئے کپڑے ہیں اور نہ ہی رہنے کے لئے گھر ہے بجلی کی شدید کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت پر کڑی تنقید کی ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بڑے سرمایہ دار اپنی کارخانے پاکستان سے منتقل کر چکے ہیں ۔انہوں نے اپنی پریس ریلیز کے آخر میں بڑے حروف میں اس بات کا واشگاف انداز میں اظہار کیا ہے کہ اگر کوئی اس ملک کو ان بحرانوں سے نکال سکتا ہے تو وہ میاں نواز شریف ہیں مجھے ان کی قیادت پر مکمل اعتما د ہے ا نہوں نے مسلم لیگ نون کے لانگ مارچ کا حصہ بننے کا عندیہ دیتے ہوئے اسلام آباد میں اس مارچ کا استقبال کرنے کا علان کیا ہے ۔  
 حکومت صرف انقلاب مارچ سے ہی جائے گی۔صدر پاکستان مسلم لیگ قاف-
 گجرات ( نمائندہ خصوصی)پاکستان مسلم لیگ قاف کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہاش گاہ پر ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ورکرز سے ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ عوام کی حالت صرف اور صرف انقلاب مارچ سے ہی سدھاری جا سکتی ہے اس سلسلے میں ڈاکٹر طاہر القادری بہت جلد پاکستان تشریف لائیں گے اس مرتبہ انقلاب مارچ لاہور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ کی بجائے ایک سرنگ سے اسلام آباد میں داخل ہو گاکیونکہ جی ٹی روڈ سے انقلاب مارچ کے راستے میں پومی بٹ جیسے لوگ زبردستی تواضع کی کوشش کرتے ہیں اور حکومت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مارچ کو فیل کرنے کے لئے کیل پھینکتی ہے دیر صرف اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ سرنگ تو تقریباً تیار ہو چکی تھی لیکن چوہدری پرویز الہی کے ٹھیکیدار کی غلط حکمت عملی سے دریائے چناب کا پانی سرنگ میں داخل ہو گیا جس سے ساری کی ساری سرنگ بیٹھ گئی ۔ٹھیکیدار نے اس کی وضاحت یوں پیش کی کہ اس کے خیال میں وہ ابھی راوی کے نیچے تھا لیکن اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب دریائے چناب کے نیچے جا پہنچا ۔اس غلطی سے یہ بات ضرور عیاں ہو گئی کہ کسی بھی سرکاری ٹھیکیدار سے پرائیویٹ کام نہیں لینا چاہئے۔انہوں نے اپنے پارٹی ورکرز کے نعروں کے جواب میں کہا کہ دوبارہ روٹ تبدیل کرکے سرنگ کی تیاری شروع کر دی گئی ہے عوام بہت جلد اس ظالم حکومت سے چھٹکارے کے لئے ہمارے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد میں داخل ہو گی۔
بشکریہ - کے ایم خالد
ترک امریکی ماہرِ سماجی نفسیات مظفر شریف کو سماجی نفسیات کے مطالعے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے منفرد تجربات نے ماہرینِ نفسیات کو سماجی گروہوں کے درمیان تنازعات، اور ان کے پیچھے کارفرما نفسیاتی عوامل کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔ جو قارئین عمرانیات یا سماجی نفسیات میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ مظفر شریف کے Robbers Cave Experiments سے واقف ہوں گے جس کا مقصد دو گروہوں کے بیچ وسائل کے حصول کی خاطر تنازعات، منفی جذبات، اور ایک دوسرے کو غلط ناموں سے پکارنے کے رجحانات کا مطالعہ کرنا تھا۔   تفصیل سے پڑھئے
صدیوں کا سفر کر کے یہ عظیم توپ انار کلی بازار کے سامنےتنہا ایک چبوترے پر ایستادہ ہے-
میری نظر قریب ہی استنبول چوک پر ایستادہ دیو ہیکل توپ پر پڑی جس کے چبوترے پر ایک اُدھیڑ عمر آدمی کبوتروں کے غول کو دانہ دنکا ڈال رہا تھا۔ اجنبی دیسوں سے آئے کبوتروں کے غول اس چبوترے پر اترتے، دانہ چُگتے اور ان دیکھے دیسوں کی طرف پرواز کر جاتے۔ کبوتروں کے غول، اُدھیڑ عمر آدمی اور مال روڈ پر چمچماتی گاڑیوں میں گزرتے امراء بے خبری سے اس چوک کے پاس سے آ جا رہے تھے جس کے چبوترے پر ایک پرانے زمانے کی زنگ آلود توپ پڑی ہے، جو کہ زمانے کا سرد گرم سہتے سہتے اپنی شناخت کھو چکی ہے۔ حالانکہ ایک زمانے میں اس کے بارے میں مشہور تھا کہ جس کے پاس یہ توپ ہو لاہور شہر اُسی کا ہوگا۔
مگر آج صدیوں کے ہیر پھیر نے اس کو صرف پرانے زمانے کی ایک یادگار بنا دیا ہے۔ میری نظر اس کے دیوہیکل دھانے پر مرکوز ہوکر رہ گئی اور میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہوگیا۔ مجھے Redyard Kipling کا لکھا ہوا ناول Kim یاد آیا جس کی کہانی لاہورعجائب گھر کے گرد گھومتی ہے اور جو اِسی توپ کے تذکرے سے شروع ہوتا ہے اور اِسی مناسبت سے اسے Kim’s Gun بھی کہا جاتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’ایک آدمی کو اس نے میونسپل حکام کی خلاف ورزی میں اس توپ کے دھانے پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھے دیکھا جو کہ لاہور عجائب گھر کی پرانی عمارت کے سامنے کھڑی ہے۔
یہ توپ جس کے قبضے میں رہی پنجاب اُسی کے زیرِ تسلط رہا، فاتحین سب سے پہلے کانسی کی دھات میں ڈھلے اس عظیم شاہکار پر قابض ہوتے تھے ’’میرا ذہن مجھے تین صدیاں پیچھے 1757ء میں لے گیا جب افغان فاتح احمد شاہ درانی جسے احمد شاہ ابدالی بھی کہا جاتا ہے، کے حکم سے اس کے وزیر شاہ ولی خان نے یہ توپ مغل دور کے معروف دھات ساز شاہ نذیر سے تیار کروائی۔
کہا یہ جاتا ہے کہ توپ کی تیاری میں خالص تانبہ اور اعلٰی درجے کا پیتل استعمال ہوا۔ لاہور کے عوام سے گھریلو استعمال کے تانبے اور پیتل کے برتن اکٹھے کرکے اُنھیں پگھلایا گیا اور اس توپ کی موجودہ شکل میں ڈھالا گیا۔ بعض مورخین کے مطابق شاہ ولی خان نے احمد شاہ درانی کے حکم سے مفتوح علاقوں کے عوام سے جزیہ میں مال و دولت کی بجائے تانبے اور پیتل کی مصنوعات دینے کا اعلان کروا دیا، ہزاروں ٹن تانبہ اور پیتل اکٹھا ہوا جسے پگھلا کر یہ توپ تیار کی گئی۔ توپ کا دھانہ 14 فٹ ساڑھے 5 انچ لمبا ہے جس پر فارسی زبان میں اِس توپ کو بنوانے والے کا نام اور تاریخ کنندہ ہے۔
سب سے پہلے اس دیوہیکل توپ کا استعمال 1761ء میں احمد شاہ ابدالی نے پانی پت کی لڑائی میں کیا تھا۔ جنگ ختم ہوئی تو کابل واپسی کے دوران احمد شاہ اِسے لاہور میں اپنے گورنر خواجہ عبید کے پاس چھوڑ گیا۔ پانی پت سے واپسی کے دوران دریائے چناب پار کرتے ہوئے اس جیسی ایک دوسری توپ دریا بُرد ہوگئی جو کہ بعض مصنفین کے مطابق اِسی کے ساتھ بنائی گئی تھی۔
1762ء میں ہری سنگھ بھنگی نے لاہور پر قبضہ کیا تو احمد شاہ کے گورنر سے یہ توپ بھنگی سرداروں کے ہاتھ لگ گئی اور یوں اِس کا نام بھی بدل کر ’’بھنگیوں والی توپ‘‘ پڑگیا۔ بھنگی سرداروں کے دور میں یہ شاہی قلعہ کے شاہ برج پر ایستادہ رہی۔ بعد میں والئی گوجرانوالہ چڑٹ سنگھ کے ہاتھ لگی جو اسے لاہور سے گوجرانوالہ لے گیا۔ سردار چڑٹ سنگھ کی احمد خان چٹھہ سے لڑائی ہوئی تو وہ یہ توپ چھین کر احمد نگر لے گیا، جہاں اس کی وجہ سے احمد خان چٹھہ اور اُس کے بھائی پیر محمد چٹھہ کے درمیان لڑائی ہوئی جس میں دونوں طرف سے بیشتر افراد مارے گئے۔ دونوں بھائیوں کی اِس باہمی لڑائی میں گجر سنگھ بھنگی نے پیر محمد کا ساتھ دیا اور لڑائی ختم ہوئی تو توپ اپنے ساتھ لاہور لے آیا۔ کچھ سال بعد امرتسر کے مہاراجہ جھنڈا سنگھ نے پشتونوں کو شکست دیکر لاہور میں لُوٹ مار کی اور جاتے ہوئے زمزمہ کو بھی امرتسر لے گیا۔ 1799ء میں سردار رنجیت سنگھ محض 19 برس کی عمر میں لاہور کا حاکم بنا، اپنی عوام دوست پالیسیوں کی بنا پر عوام میں بے حد مقبول ہوا، ذرا حکومت مضبوط ہوئی تو مہاراجہ نے 1802ء میں امرتسر پر حملہ کیا، امرتسر فتح ہو کر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زیر تسلط آیا تو یہی سے بھنگیوں کی مشہور توپ بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ہاتھ لگی اور وہ اسے لاہور لے آیا۔ اس توپ نے رنجیت سنگھ کی بیشتر مہمات میں بہت کارآمدکردار ادا کیا۔ قصور، ڈسکہ، سجن پور، وزیرآباد اور ملتان کے محد پر اس توپ نے دشمن کے دانت کھٹے کیے۔ بہت زیادہ جنگی استعمال کی وجہ سے یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔ ملتان کی مہم میں خصوصاً اسے بہت زیادہ نقصان پہنچا اور مزید جنگی استعمال کے قابل نا رہی تو اِسے لاہور منتقل کر دیا گیا اور دہلی گیٹ کے سامنے سکھ خالصہ سلطنت کی فتوحات کی یادگار کے طور پر سجا دیا گیا۔
وقت گزرتا رہا، 1848ء میں قریباً پورے پنجاب پر برطانوی یونین جیک لہرانے لگا، ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجیں خالصہ فوج کو شکست دیکر لاہور میں داخل ہوئیں تو خالصہ سلطنت کا سورج غروب ہوگیا اور لاہور کی چابی گورے ہاتھوں میں چلی گئی اور یہ توپ بھی گوروں کے زیر تسلط آگئی۔ ایک بار پھر یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ ’’جس کے پاس یہ توپ ہو، پنجاب اُسی کا ہو گا‘‘۔ 1860ء تک یہ توپ دہلی دروازے کے باہر پڑی رہی، ڈیوک آف ایڈن برگ نے لاہور کا دورہ کیا تو اِسے مال روڈ پر ٹولنٹن مارکیٹ کے پاس پرانے عجائب گھر عمارت کے سامنے سجا دیا گیا۔ بعد میں جب لاہور میوزیم کی موجودہ عمارت تعمیر ہوئی تو اِسے عجائب گھر کے سامنے منتقل کر دیا گیا اور پچھلی قریباً ڈیڑھ صدی سے یہ اِسی جگہ پر پڑی زمانے کے عروج زوال کو دیکھ رہی ہے۔
وقت کا منہ زور گھوڑا دوڑتا رہا اور زمانے کے گرم سرد نے اِس میں شکست و ریخت پیدا کر دی تو 1977ء میں حکومت کے کسی کرم فرما کی نظر اس پر پڑی، پھر اِس کی مرمت کروائی اور استنبول چوک میں عجائب گھر اور NCA کے سامنے یادگار کے طور پر رکھوا دیا۔ صدیوں کا سفر کرکے یہ عظیم توپ یہاں تنہا ایک چبوترے پر ایستادہ ہے اس کے سامنے تاریخ بدلی، نسلیں پیدا ہوئیں اور مٹ گئیں، زمانے کے خدوخال بدل گئے، مگر اِس کی عظمت اور شان جوں کی توں رہی۔ انسان، املاک سب کچھ زوال کی طرف گامزن ہے بس باقی رہے گا نام اللہ کا۔
(چیئرنگ کراس، اسمبلی ہال جانے والے۔۔۔۔۔۔۔) کنڈیکٹر کی بلند آواز نے میرے خیالات کا طلسم توڑا اور مجھے ایک بار پھر حقیقت کی دنیا میں لا کھڑا کیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ادھیڑ عمر اجنبی جا چکا تھا، کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹ اور مال روڈ کی شور مچاتی ٹریفک میں ’’زمزمہ‘‘ تنہا کھڑی تھی۔ غروب ہوتے سورج کی سُرخی میں اس کا دھانہ ایسے بارعب لگ رہا تھا گویا کسی جنگ میں دشمن کے قلعے پر آگ برسا رہا ہو۔
ہندوستان کی سرزمین پہ سولہ اپریل 1853 کے دن پہلی بار ریل چلی تھی۔ جس طرح پل بنانے والے نے دریا کے اس پار کا سچ اس پار کے حوالے کیا ، اسی طرح ریل کے انجن نے فاصلوں کو نیا مفہوم عطا کیا۔ اباسین ایکسپریس ، کلکتہ میل اور خیبر میل صرف ریل گاڑیوں کے نام نہیں بلکہ ہجر، فراق اور وصل کے روشن استعارے تھے۔ اب جب باؤ ٹرین جل چکی ہے اور شالیمار ایکسپریس بھی مغلپورہ ورکشاپ کے مرقد میں ہے، میرے ذہن کے لوکوموٹیو شیڈ میں کچھ یادیں بار بار آگے پیچھے شنٹ کر رہی ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو میں نے ریل میں بیٹھ کر تو کبھی دروازے میں کھڑے ہو کر خود سے کی ہیں۔ وائی فائی اور کلاؤڈ کے اس دور میں، میں امید کرتا ہوں میرے یہ مکالمے آپ کو پسند آئیں گے۔ پھر سن سینتالیس آ گیا اور شہر کے بہت سے متمول خاندان ہجرت کر گئے۔ مگوں، چاولہ اور کھنہ جیسے نام، برساتی میں پڑا وہ سامان ہوگئے جس پہ بس ساون سے پہلے اور جاڑے کے بعد ہی نظر پڑتی ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
16دسمبر1971, یہ ایک سوگوار شام تھی۔ ڈھاکہ کے ریس کورس میں آج عجیب ہی منظر تھا۔ سینہ پھلائے اور گردن کو غرور کا خم دے کر جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ نے جنرل نیازی کے تمغے اور رینک سرعام نوچ ڈالے۔
ذلت ورسوائی، بے بسی و بےچارگی کا یہ منظر چرخ نیلی فام نے شاید ہی کبھی دیکھا ہوگا۔ اس سانحہ عظیم پر ہزاروں آنکھیں اشکبار تھیں۔ دل غم سے معمور تھے، سینہ درد کی شدت سے پھٹ پھٹنے کو تھا۔ پاکستان کہلانے والے کرڑوں افراد چیخ چیخ کر رونے لگے۔ اسی دن طاقت کے نشے سے سرشار بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”یہ فتح جو ہمیں حاصل ہوئی ہے یہ ہماری افواج کی فتح نہیں بلکہ ہمارے نظریے کی فتح ہے۔ ہم نے ان (پاکستانی مسلمانوں) سے کہا تھا کہ ان کا نظریہ باطل ہے اور ہمارا نظریہ برحق ہے لیکن وہ نہ مانے اور ہم نے ثابت کردیا کہ ان کا نظریہ باطل تھا۔ ہم نے ان کا نظریہ بحرہند میں غرق کردیا۔“      تفصیل سے پڑھئے

گاؤں کا نام تھا غزالہ، یہ گاؤں طوس کے قریب واقع تھا اور طوس ایران میں تھا، یہ علاقہ اس وقت سلجوق ریاست کا حصہ تھا، غزالہ میں 1058ء میں ایک بچہ پیدا ہوا، والدین نے ابو حامد نام رکھ دیا، یہ بچہ علم کا متوالہ تھا، اس نے غزالہ میں کیسے تعلیم حاصل کی؟ یہ بھی ایک کہانی ہے۔
میں یہ کہانی آپ کو کسی اور وقت سناؤں گا، بچے نے علم حاصل کیا، علاقے میں معروف ہوا، سلجوق سلطان کے وزیر نظام الملک تک پہنچا، وزیر نے سلطان سے ملاقات کرائی، سلطان علم سے متاثر ہوا اور اسے مدرسہ نظامیہ بغداد کا سربراہ لگا دیا، مدرسہ نظامیہ اس وقت عالم اسلام کی آکسفورڈ تھا، وہ اسلامی آکسفورڈ کا سربراہ بن گیا، وہ 1091ء سے 1095ء تک چار سال مدرسہ نظامیہ کا سربراہ رہا، یہ اس کا علمی، تحقیقی اور دنیاوی لحاظ سے ایکٹو دور تھا، اس نے اس دور میں دنیا کو دو بڑے فلسفے دیے، پہلا فلسفہ علم سے متعلق تھا’’ علم دو قسم کے ہوتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
سب سے پہلے آپ کے ذہن میں رہے کہ اس مذہب یا گروہ کے پیروکاروں کا یزید ابن معاویہ یا ایران کے شہر یزد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس یزیدی گروہ کا لفظ جدید فارسی لفظ ایزد سے ماخذ ہے جس کا مطلب خدا۔" ایزدیز" نام کا عام مطلب خدا کے عبادت کرنے والے ہیں اور یزیدی بھی اپنے گروہ کا نام اسی طرح سے بیان کرتے ہیں۔ان کے غیرمعمولی عقیدے کی وجہ سے اکثر اوقات اس مذہب کو شیطان کی عبادت کرنے والا گروہ کہا جاتا ہے۔یہ مذہب ترکی کے جنوب مشرقی، اور شام اور عراق کے شمالی مغربی علاقوں میں روایتی طور پر چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ان کی کل تعداد کے بارے میں بتانا مشکل ہے تاہم کچھ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد 70 ہزار سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے اور گذشتہ صدی کے دوران ان کی تعداد میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
یزیدی قرآن اور بائبل کا احترام تو کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی ہی زبانی روایات ہی ہیں۔ رازداری کی وجہ سے یزیدی گروہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس فرقے کا تعلق پارسی مذہب سے ہے، جس میں یہ روشنی اور تاریکی کے علاوہ سورج تک کی پوجا کرتے ہیں۔موجودہ تحقیق کے مطابق اگرچہ ان کے عبادت خانے سورج کی تصاویر سے سجائے جاتے ہیں اور ان کی قبروں کا رخ مشرق کی جانب سے طلوع آفتاب کی طرف ہوتا ہے، تاہم ان کے عقیدے میں اسلام اور عیسائیت کے کئی جز بھی شامل ہیں۔لیکن ان کے اصل عقائد اسلام کے سراسر منافی ہیں۔
یزیدی گروہ کا مقدس ترین مقام عراقی دارالحکومت بغداد سے 430 کلومیٹر دور لیشن میں واقع ہے
شادی کی تقریب میں یزیدی راہب روٹی دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ دلھا اور ایک حصہ دلھن کو دیتا ہے۔ شادی کی تقریب میں دلھن سرخ لباس پہنتی ہے اور چرچ جاتی ہے۔ دسمبر میں یزیدی راہب سے سرخ شراب پینے کے بعد تین دن روزہ رکھتے ہیں۔ 15 سے 20 دسمبر کے دوران یہ موصل کے شمال میں واقع شیخ ادی کے مزار پر جاتے ہیں اور وہاں دریا میں مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں جس میں جانوروں کی قربانی بھی شامل ہے۔
اس فرقے کے خدا کو یزدان کہا جاتا ہے اور اس کا اتنا اعلیٰ مقام ہوتا ہے اس کی براہ راست عبادت نہیں کی جا سکتی۔ اسے غیر متحرک طاقت کے مالک سمجھا جاتا ہے، اور وہ زمین کا نگہبان نہیں بلکہ خالق سمجھا جاتا ہے۔ان کے مطابق اس سے سات عظیم روحانی طاقتیں نکلی ہیں جن میں ایک مور فرشتہ ملک طاؤس ہے اور جو خداوندی احکامات پر عمل درآمد کراتا ہے۔ ملک طاؤس کو خدا کا ہمزاد تصور کیا جاتا ہے۔
یزیدی ملک طاؤس کی دن میں پانچ بار عبادت کرتے ہیں۔ یزیدیوں کے نزدیک ملک طاؤس کا دوسرا نام شیطان ہے، جو عربی میں ابلیس کو کہتے ہیں، اور اسی وجہ سے یزیدی فرقے کو شیطان کی عبادت کرنے والا کہا جاتا ہے۔
یزیدی عقائد کے مطابق روح ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے اور بار بار پیدائش کا عمل روح کو خالص بناتا ہے۔ کسی بھی یزیدی کی بدترین سزا اسے برادری سے خارج کیا جانا ہے اور اس کا مطلب ہوتا ہے اس کی روح کا خالص ہونے کا عمل روک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یزیدیوں کا کسی دوسرا مذہب اختیار کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ ہاں جیسے اللہ ہدایت دینا چاہے۔

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
عام طور پر ہوائی جہاز کو ہزاروں کلومیٹر کی دوری پر واقع کسی مقام تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر ضرور حیرت ہوگی کہ دنیا میں ایک ہوائی سفر ایسا بھی ہے جس میں صرف ڈھائی کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جاتا ہے اور اس کا دورانیہ صرف 47 سیکنڈ ہوتا ہے-
جی ہاں یہ عجیب و غریب سفر اسکاٹ لینڈ کے دو جزیروں ویسٹرے اور پاپا ویسٹرے کے درمیان کیا جاتا ہے اور ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک پہنچنا کا یہ فاصلہ 2.7 کلومیٹر بنتا ہے-
اس فاصلے کو طے کرنے میں کم سے کم 47 سیکنڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 2 منٹ کا وقت لگتا ہے- زیادہ وقت صرف اسی صورت میں درکار ہوتا ہے جب موسم بہتر نہ ہو-
اس مختصر سفر کے لیے لوگان ائیر لائن گزشتہ 50 سالوں سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے جو کہ کرایہ کی مدمیں فی مسافر 30 ڈالر وصول کرتی ہے-
ائیر لائن کے مطابق سفر کرنے والے افراد کا تعلق محکمہ تعلیم یا پھر محکمہ صحت سے ہوتا ہے جبکہ سال 2011 سے سیاحوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی جاری ہے-

دربار اکبری مولانا محمد حسین آزاد کی ایک تاریخی تصنیف ہے۔عبدالرحیم خان خاناں دور اکبری کے بہت ممتاز امیروں میں سے ہے یہ ترکی النسل لوگ تھے ۔بیرم خان ترکی نام ہی ہے ۔ جو اس امیر کاخطاب ہے ۔اس امیر کے نام سے پرانی دلی میں اب بھی ایک تیراہا موجود ہے ۔جو تیراہا بیرم خان کے نام سے مشہور ہے ۔اس کا اصل نام عبدالرحیم بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔یہ اپنے خطاب ہی سے مشہور ہے ۔ عبدالرحیم خان خانان اکبر کے بہت چہیتے اور قدور منزلت رکھنے والے دوستوں میں سے تھا۔ اپنے زمانے کا صاحب جاگیر وریاست شخص تھا۔ مگر دربار شاہی میں اس کی قدرو منزلت کا سلسلہ چلتا رہا ہو۔ ایسا نہیں ہے ۔وہاں امرائ کی وفاداریاں بھی بدلتی رہتی تھیں ۔ اور دربار شاہ کی خاص عنایتیں اور مہربانیاں بھی۔
مولانا نے اپنے اس مضمون میں خانِ خاناں کی جو دریادلی بیان کی ہے ۔   تفصیل سے پڑھئے

اپریل 1965ء میں پاک فوج نے رن کچھ میں بھارتی سورماؤں کی بری طرح پٹائی کی تھی اور اس شکست پر بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے کہا تھا کہ اب ہم اپنی مرضی کا محاذ چنیں گے۔ شاستری نے وہ محاذ 6 ستمبر 1965ء کی صبح لاہور پر حملہ کر کے کھول دیا مگر یہاں میجر عزیز بھٹی شہید، جنرل سرفراز اور میجر شفقت بلوچ نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیئے۔ بھارتی کمانڈر انچیف جاتنتوناتھ چودھری نے 6 ستمبر کی شام جم خانہ کلب (باغ جناح) میں جام لنڈھانے کی جو بڑہانکی تھی، پوری نہ ہو سکی۔ لاہور کے محافظوں نے دفاع وطن کا حق ادا کر دیا۔ سیالکوٹ بھی بھارتی مہاشوں کی دست برد سے محفوظ رہا۔ وہیں چونڈہ کا محاذ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔ یہ العالمین (مصر) میں دوسری جنگ عظیم کی ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کے بعد ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ تھی جو پاک فوج نے جنرل ٹکا خاں کی قیادت میں جیت کر نہ صرف سیالکوٹ کو بچا لیا بلکہ بھارتی کمانڈروں کی پاکستان کی لائف لائن جی ٹی روڈ کو کاٹنے کی خواہش بھی ناکام بنا دی، اس ہزیمت کے بارے میں جنگ 1965ء کی انڈین آفیشل ہسٹری کے باب 15 میں لکھا ہے:- تفصیل سے پڑھئے
جھنگ کی زرخیزی کو وقت کے علاوہ بھی کوئی کلر چاٹ رہا ہے۔ جس مٹی سے صوفی سرشار ہوئے ، وہاں قبروں کے کتبے اکھاڑنے کی نوبت کیونکر آئی؟ یہ شہر جیسا تھا ویسا کیوں نہیں رہا اور جیسا ہے ویسا کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں اور بھی بہت سے جواب پوشیدہ ہیں۔ جھنگ کی کہانی حقیقت میں وہ کہانی ہے جس میں مسافروں کے مارے جانے سے سیاحوں کی گردن کاٹنے تک کے سب اسباب مضمر ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسا اس وقت شروع ہوا جب ظلمت کا راج اپنے آپ کو اسلام کی ضیاء ثابت کرنے پہ بضد تھا۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے۔
کچھ اسے یہودیوں کی سازش کہتے ہیں اور کچھ سارا حساب ہندوستان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ سچ کا سفر مشکل بھی ہے اور تکلیف دہ بھی۔      تفصیل سے پڑھئے
شیخ مجیب الرحمٰن (پیدائش: 17 مارچ 1920ء، انتقال: 15 اگست 1975ء) مشرقی پاکستان کے بنگالی رہنما اور بنگلہ دیش کے بانی تھے۔ شیخ مجیب الرحمٰن 17 مارچ 1920ء کو ضلع فرید پور میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں اسلامیہ کالج کلکتہ سے تاریخ اور علم سیاسیات میں بی-اے کیا۔ طالب علمی ہی کے زمانے سے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1943ء سے 1947ء تک وہ کل ہند مسلم لیگ کی کونسل کے رکن رہے۔ 1945ء تا 1946ء وہ اسلامیہ کالج کے طلبہ کی یونین کے جنرل سیکرٹری رہے۔ 1946ء میں بنگال اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے فوراً بعد مسلم لیگ سے مستعفی ہو کر پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس لیگ قائم کر کے اردو کی مخالفت کرنا اس بات کو ظاہر کر دیتا ہے کہ شیخ مجیب شروع ہی سے مسلم قومیت کے بجائے بنگالی قومیت کے علمبردار تھے اور انہوں نے مسلم لیگ کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کی طرح مسلم لیگ کا ساتھ محض اس لیے دیا کہ وہ اس زمانے میں مقبول تحریک تھی۔ اور اس میں شامل ہو کر اقتدار حاصل کیا جا سکتا تھا۔     تفصیل سے پڑھئے
دنیا میں سنگِ زرد کی تعمیرات کو آج ’’سمّہ آرکیٹکٹ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کراچی ،اگر 15ویں، 16ہویں صدی میں آباد شہر کی صورت ہوتا تو اس کا دارالحکومت ٹھٹھہ اور راجا ہوتا جام، جن کا سمّہ خاندان کئی صدیوں تک زیریں سندھ کا حکمراں رہا۔ کراچی بھی زیریں سندھ کا حصّہ ہے۔یہ وہی راجا ہے، جسے تاریخ نے جام نظام الدین کے نام سے یاد رکھا اور48برس حکومت کرنے والے راجا کو پَرجا نے پیار کا نام دیا ’’جام نِندو‘‘۔ عقیدت صدیوں بعد آج بھی قائم ہے۔ اکثر جمعرات کی شام مقبرے پر لوگ آتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں اور کئیوں کا کہنا ہے کہ بخار ہو تو یہاں پہنچتے ہی فوراً غائب ہوجاتا ہے۔ راجا اوراس کے مقبرے سے ایسی روحانی عقیدت تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔جام سمّہ خاندان کے طویل دورِ حکمرانی کا آخری تابندہ چراغ تھا۔ اس کے بعد ایک تارہ دو بار چمکا مگر لمحہ بھر کو اور پھر ارغونوں کے ہاتھوں وہی حشر ہوا جو تیموری اولادِ شاہی کا ہندوستان میں انگریزوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔جام نِندو کے بعد صرف نو دس برس کے قلیل عرصے میں سمّہ دور تاریخ میں چلا گیا اور ارغون حاکم بن گئے۔واضح رہے کہ راجا نِندو کو تعمیرات کا بہت شوق تھا، خاص کر سنگِ زرد کی تعمیرات کا۔    تفصیل سے پڑھئے
دلی دروازے کی شاہی گزرگاہ میں جڑا پہلا نگینہ مغلیہ دور کا یہ حمام ہی ہے جو سنہ 1634 میں شاہ جہاں کے گورنر وزیرخان نے عام لوگوں اور مسافروں کے لیے تعمیر کروایا-لاہور شہر تاریخ کی ایک کتاب کی طرح ہے، جیسے کتاب کا صفحہ پلٹتے ہی الفاظ سے تراشی گئی ایک نئی تصویر ابھرتی ہے اسی طرح سر زمین لاہور کے سینے کو کریدیں تو ہر کونے میں خطے کی خوبصورت ثقافت اور روایتوں کی نئی داستان سامنے آتی ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا ہے اندرون شہر کے دلی دروازے میں جہاں مغلیہ دور کے شاہی حمام کی کھدائی میں ایک انتہائی سائنسی انداز میں بنا نظام دریافت ہوا۔  تفصیل سے پڑھئے
ایک واقعے میں شکاری کتوں سے بچنے کے لیے مادہ ہرن نے بلند جگہ سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی تھی -
ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں انسان خودکشی کرکے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا خودکشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں عموماً اس افسوس ناک صورت حال کے پیچھے حالات و واقعات کی سنگینی کا اہم دخل ہوتا ہے جن کے ہاتھوں مجبورہوکرانسان عقل وفہم کھو بیٹھتا ہے اورزندگی جیسی نعمت سے خود کوآزاد کرالیتا ہے۔
ایک عام خیال ہے کہ خودکشی کا عمل صرف انسان ہی سے وابستہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جان داروں میں صرف انسان ہی ایک ایسی نوع ہے، جو نہ صرف اچھے برے احساس کا جذبہ رکھتا ہے بلکہ حضرت انسان کی پوری زندگی سماجی ، مذہبی، معاشرتی اوراسی قسم کی دوسری کیفیات کے گرد گردش کرتی رہتی ہے اورجب ان کیفیات میں سے گزرتے ہوئے اس کے احساسات کو ٹھیس پہنچتی ہے یا کوئی نفسیاتی یا دماغی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو وہ اپنی ہی زندگی کے درپے ہوجاتا ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers