آفر بہت بڑی تھی کام وہی ’’گجب کہانی‘‘ صرف دفتر اور کیمرے اور ماحول ہی بدلنا تھا ۔ سپاٹ چہرہ اورعینک بچپن سے ہی اس کی پہچان تھی۔ استاد سے سردیوں کے پہلے پیریڈ میں بھی چھڑی سے مار کھاتے ہوئے وہ دوسرے طالب علموں کی طرح نہ تو ہاتھ کو بغل کی طرف لے جاتے ہوئے اوئی، آئے کرتا تھا نہ ہی اس کے سپاٹ چہرے کے تاثرات بدلتے تھے۔ اسے ایک عجیب سا مسئلہ تھا کہ قریب کی عینک سے اسے دور کی چیزیں صاف دکھائی دیتی تھیں۔
لیکن جب وہ ان چیزوں کے پاس جاتا تو اسے احساس ہوتا کہ یہ وہ تو نہیں ہے جو اس نے دور سے دیکھا تھا۔ سب طالب علم اسے کھوجی کے نام سے پکارتے تھے کیونکہ اسکول جاتے اور واپس آتے ہوئے وہ پھونک، پھونک کر قدم رکھتا تھا۔ سارا دن کلاس میں وہ اپنی تحقیقاتی کہانیاں سناتا رہتا جو کہ ذیادہ تر اس نے اپنے ذہن کے مطابق تیار کی ہوتی تھیں۔ لیکن سب بچے اس کی کھوجی کہانیوں میں بڑی دل چسپی ظاہر کرتے تھے۔
ایک دن تفریح کے وقت اس نے ایک کہانی کا اینڈ کرتے ہوئے اپنی عینک درست کرکے دور فوکس کی اور کہا ’’اوئے، چاچے جمالے کی مرغیوں کو ایک موٹا تازہ بلا بھنبھوڑ رہا ہے‘‘، سارے بچے اس کے ساتھ ہی چاچے جمالے کے گھر میں داخل ہوگئے وہ بھی پھونک، پھونک کر قدم رکھ رہا تھا، مرغیوں کا باڑہ دوسری منزل پر تھا سارے بچے وہاں پہنچے وہ سب سے آگے تھا کسی مرغی کی کڑ کڑ کی آواز آ رہی تھی اس نے جھٹ دروازہ کھول دیا اندر ایک مرغی انڈوں پر اپنے پر ٹھیک کرتے ہوئے کڑ کڑ کر رہی تھی مرغی نے اس کی طرف یوں دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں کیا ہوا۔۔۔؟
تجسس، کھوج اور کہانی اس کے ساتھ ہی جوان ہوئی۔ وہ صحافت میں آیا تو چھاتا ہی چلا گیا۔ اُس کی تحقیقاتی کہانیاں اس کے ادارے اور اس کا نام بناتی چلی گئیں۔ وہ قریب کی عینک سے دور دیکھتا اور تحقیقاتی کہانی اپنے انجام کو پہنچ جاتی۔ اس کی ان تحقیقاتی کہانیوں کی بدولت پیسہ اور ادارہ اس پر بڑا عاشق تھا، بہت سی پرنٹ میڈیا کو قریب ہی دیکھنے والی شخصیات اس سے’’حسد‘‘ کرتی تھیں، اسے بہت سے اخباروں نے بڑی بڑی آفرز کیں لیکن وہ قریب کی نظر سے دور دیکھ کر ان آفرز کو ٹھکراتا رہا۔
وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹس کی بدولت ایسی سنسنی اور تجسس پیدا کر دیتا تھا کہ بڑے بڑے تحقیقاتی صحافی اس کے آگے پانی بھرتے تھے۔پاکستان پرنٹ سے الیکٹرنک میڈیا میں داخل ہوا اس نے بھی کیمرے کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس نے کیمرہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے سپاٹ چہرے کی ساتھ دور دیکھتے ہوئے ’’گجب کہانیوں‘‘ کی لائنیں لگادیں اور اس کا ادارہ اُس کی بلائیں لیتا نہیں تھکتا تھا۔
اس نے قریب کے عینک سے اپنے ادارے میں رہتے ہوئے بہت کچھ محسوس کر لیا تھا اور کوئی بہت دنوں سے اسے ’’بولنے‘‘ کے لئے اکسا رہا تھا لیکن وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ خاموش رہا۔ معاملہ لاکھوں سے کروڑوں تک جا پہنچا تھا۔ ایک رات اس نے اپنی قریب کی عینک فٹ کی اور اپنی نظریں اس جگہ فوکس کر دیں جہاں سے اسے ’’بولنے‘‘ کے لئے اکسایا جا رہا تھا۔ آفر بہت بڑی تھی کام وہی ’’گجب کہانی‘‘ صرف دفتر اور کیمرے اور ماحول ہی بدلنا تھا۔ اس کا موجودہ ادارہ بھی ڈانواں ڈول تھا، روزانہ صبح شام ادارہ کے لئے ایک ’’ڈاکٹر‘‘ معافی کا خواستگار ہو رہا تھا۔ اس کی عینک اسے مبارک باد دے رہی تھی اس نے سپاٹ چہرے کے ساتھ آفر قبول کرلی۔
اسے حیرت اس بات پر تھی کہ وہ جو اس عینک سے دور سے دیکھتا تھا قریب جانے پر منظر کوئی اور ہی ہوتا تھا لیکن یہ اتنے ’’ایگزیکٹ‘‘ لوگ اپنے پاکستان میں حیرت کی بات ہے، وہ ان کی کوئی ’’گجب کہانی‘‘ تلاش نہ کرسکا وہ روزانہ ڈمی کیمرہ کے سامنے اپنی ’’گجب کہانی‘‘ کرتا اور اسٹاف کی تالیوں کی گونج میں اپنے دفتر کی راہ لیتا۔ وہ اپنی آرام دہ کرسی پر انگلیوں پر حساب کرتا کہ ایسے ادارہ پہلے مل جاتا تو پنتیس سال میں کتنے کروڑ اکھٹے ہوجاتے اور ایک ارب تک نہ صرف ہکلا جاتا بلکہ اس کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہوجاتی۔ اچانک ایک دن اس نے دیکھا کچھ چینل اور اخبار اور ہی بول رہے تھے۔ معاملہ سنگینی کی طرف جا رہا تھا، پھر اس نے اپنے ’’ضمیر‘‘ کی آواز پر ’’بولنے‘‘ سے پہلے ہی خاموش رہنے کا فیصلہ کر لیا وہ پہلا کپتان تھا جو اس جہاز سے اترا.
اسے حیرت اپنی عینک پر تھی، اُس نے عینک اتار کر دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کی آنکھوں پر اب بھی کوئی پٹی نما چیز ہے، اس نے اس پٹی کو اتارا تو وہ لالچ کی پٹی تھی۔ لالچ کی پٹی اتار کر اس نے دوباری عینک پہنی اور نیلے رنگ کے جگمگاتے ہوئے چینل کی طرف دیکھنے لگ گیا جو اسے ’’دعوت گناہ ‘‘ دے رہا تھا اور اب ایک بار پھر گجب کہانی کا سلسلہ بحال ہوگیا۔
بشکریہ - کے -ایم خالد
ہمارے ملک کی ایک شاہراہ کا منظر: ثواب، کمرشلازم، اور ریٹنگ سب ساتھ ساتھ چلتا ہے اپنے ہاں کون کہتا ہے کہ ہم میں اتفاق نہیں۔ امید کی جاتی ہے کی سیانا ہی ہوگا مگر ہاں شاعر ضرور تھا کہ جس نے یہ نصیحت نما شعر کہہ دیا کہ؛ نہ طبیعتوں میں شگفتگی نہ دلوں کو اب قرار ہے- 
مگر احترام چمن کرو کہ بہار پھر بہار ہے۔
سوچا ہم نے بھی ایسا ہی تھا کہ چپ کر کے کان لپیٹ اور سر سٹ کے یہ مہینہ گزاریں گے کہ بہار پھر بہار ہے۔ یہ بھی سوچا تھا کہ کیا ہوا جو اپنے اندر اب وہ جذبہ باقی نہ رہا جو اس مہینے کے آغاز سے پہلے ہی خوشی بن کر ہمارے ارد گرد پایا جاتا تھا. ایک کشش سی تھی اس مہینے میں جو اس کی رونق می‍ں بھی ایک سکون بھر دیتی اور اسکی تنہائیاں با رونق بنا دیتی تھی۔ پھر ہوا یہ کہ ہم بڑےہو گئے اور ہمارے شوق اور جذبات بھی بڑے ہو گئے اب وہ رمضان کو لیکر ہم میں بچوں کی سی خوشی کہاں رہی. خیر ان سب باتوں کے باوجود ہم نےسوچا کہ سر سٹ کے اور کان لپیٹ کر کچھ نیکیاں کمائی جائیں کیونکہ بہار تو پھر بہار ہے۔    تفصیل سے پڑھئے
پہلےعشق عبادت سمجھ کر کیا جاتا تھا اور عاشق کی ساری عمر کی کمائی یار کی ایک جھلک ہوتی۔ یہ لق ودق صحرا کا منظر ہے وہ دور کہیں ریگستانی جہاز کے کھڑے ہونے کے آثار نظر آتے ہیں۔ اُس کے پہلو میں ہونے والی حرکات و سکنات سے انسانی زندگی کی موجودگی کا پتا ملتا ہے۔ نگاہیں اس منظر کا تعاقب کرتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مسافر ہے جو خدا کے حضور سر تسلیم خم کیے کھڑا ہے۔ اس منظر سے کچھ فاصلے پر ایک اور منظر دکھائی دیتا ہے۔
بالوں میں ریت، چہرے پر جمی گرد کی تہیں، پیاس کی شدت سے لٹکتے ہوئے ہونٹ، جگہ جگہ سے پھٹا بوری نما لباس، پاؤں میں آبلے اور آنکھوں میں ایک ناختم ہونے والی کھوج  لیے گرتا سنبھلتا ہوا ایک شخص اُونٹ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے شخص کی طرف بڑھ رہا ہے مگر وہ کسی کی تلاش میں اس قدر مستغرق ہے کہ اُسے پتا ہی نہیں چلتا کے وہ ایک نماز پڑھتے شخص کے سامنے سے گزر رہا ہے ۔۔۔ نماز پڑھنے والا نماز چھوڑ کر اُس مجنون سے شخص کو رُوکتا ہے اور پوچھتا ہے؛    تفصیل سے پڑھئے
بہت سارے دوست مجھ سے مشورہ چاہتے ہیں کہ کون سا لیپ ٹاپ خریدا جائے؟ یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہر شخص کو لیپ ٹاپس کی فنی تفصیلات اور برانڈز کا زیادہ علم نہیں ہوتا اس لیے فطری طور پر ان کو رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔ لوگ جب بازار میں لیپ ٹاپ خریدنے کے لیے نکلتے ہیں تو شش و پنج کا شکار ہوجاتے ہیں کہ کیا خریدیں۔ اکثر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ جو قیمت ادا کررہے ہیں کیا وہ اس لیپ ٹاپ کے لیے مناسب ہے یا پھر وہ دھوکہ کھا رہے ہیں۔
دوسری چیز وہ برانڈ کے بارے میں مذبذب ہوتے ہیں کہ کون سا برانڈ خریدا جائے۔ تیسری چیز انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ نیا خریدیں یا مستعمل، یعنی سیکنڈہینڈ۔
یہاں میں کچھ اہم اور ضروری باتیں بتائے دیتا ہوں۔ آپ کوئی بھی لیپ ٹاپ خریں، سب ہی ٹھیک چلتے ہیں لیکن کچھ برانڈ یا ماڈل ایسے ہوتے ہیں جو خریدتے وقت سستے ہوتے ہیں لیکن جب وہ خراب ہوجائیں تو ان کے پارٹس بہت مشکل سے اور منہگے ملتے ہیں۔ جیسے:
NEC
ASUS
Samsung
IBM
Hitachi
Lenovo
Sony Vio وغیرہ۔
یہ تمام لیپ ٹاپ، سوائے سام سنگ کے، کچھ زیادہ منہگے بھی ہوتے ہیں۔ خاص کرکے سونی اور سونی وائیو۔ لیکن یہ بہت پائیدار بھی ہوتے ہیں ، جلدی خراب نہیں ہوتے۔ لیپ ٹاپ کو دو تین سال کے بعد بیٹری بدلنے کی ضرورت رہتی ہے، اکثر چارجر بھی خراب ہوجاتے ہیں۔ مندرجہ بالا ماڈلز کی بیٹری یا چارجر بھی مشکل سے اور زیادہ قیمت پر ملیں گے۔
دوسرا مسئلہ ان برانڈز کی ری سیل ویلیو کا ہے۔ جب کبھی آپ ان کو بیچنے کے لیے بازار میں نکلیں گے تو مشکل سے اور بہت تھوڑی قیمت پر فروخت ہوں گے سوائے سونی کے۔ ویسے بھی نئے خریدے گئے لیپ ٹاپ کو دوبارہ بیچنے پر بہت ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے جب آپ نیا لیپ ٹاپ خریدیں تو لمبے عرصہ کے لیے اپنے استعمال کے لیے خریدیں ، جلد بیچنے کی نیت سے نہیں۔
تیسری چیز یہ دیکھ لیں کہ اگر آپ نیا لیپ ٹاپ کسی بیرون ملک سے منگوا رہے ہیں تو اس کی سروس وارنٹی اس ملک کے لیے ہے جس میں آپ رہتے ہیں؟ اگر آپ دبئی سے یا کسی دوسری جگہ سے پاکستان میں بیٹھے بیٹھے لیپ ٹاپ منگوا رہے ہیں تو یہ بات یقینی کر لیں کہ اس کمپنی کی طرف سے انٹرنیشل وارنٹی آپ کو دی جارہی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو آپ بہت بڑا رسک لے رہے ہیں۔ کبھی کبھار بلکل نئے لیپ ٹاپس میں بھی پرابلم آجاتا ہے، سوچیں اس وقت آپ کیا کریں گے؟
وہ لیپ ٹاپ برانڈز یا ماڈلز جن کے پارٹس آسانی سے اور ہر جگہ سے مل جاتے ہیں ان کی لسٹ نیچے دی جارہی ہے:
HP
Dell
Toshiba
Sony
ACER
Compaq وغیرہ
ان برانڈز کی چارجرز اور بیٹریز سستی اور آسانی سے مل جاتی ہیں۔
ایک چیز سیکنڈ ہینڈ لیپ ٹاپس میں اکثر ہوتی ہے کہ ان کے مدربورڈ مرمت شدہ ہوتے ہیں۔ لیپ ٹاپ کا مدربورڈ اگر اکر ایک بار خراب ہوجائے اور مرمت شدہ ہو تو وہ دوبارہ کسی وقت بھی خراب ہوسکتا ہے۔ مرمت شدہ لیپ ٹاپ کا مدربورڈ اکثر مرمت کے تین ماہ کے اندر اندر خراب ہوجاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اس کا بائے پاس آپریشن ہوچکا ہے اور وہ کبھی بھی آپ کو داغ مفارقت دے سکتا ہے۔ اس لیے دوکاندار بھی آپ کو ایک ماہ کی وارنٹی دے کے اپنی جان چھڑا لے گا۔ اب یہ کیسے معلوم پڑے کہ مدر بورڈ مرمت شدہ ہے یا نہیں۔ اس کے لیے لیپ ٹاپ کو کھولنا پڑے گا۔ عام آدمی کو معلوم نہیں پڑے گا۔ اس لیے سیکنڈہینڈ لیپ ٹاپ میں یہ خطرہ اکثر موجود رہتا ہے۔
اب آجاتے ہیں پائیداری پر۔ Sony, Sony Vio, ASUS وغیرہ میں پرابلمز کم آتی ہیں۔ یہ لیپ ٹاپ کئی کئی سال چل جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کی بیٹری یا چارجر بدلنے کی نوبت آتی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ دوسرے جتنے بھی ہیں ان میں اکثر مدربورڈ کا پرابلم آجاتا ہے۔ اکثر میں تو ڈسپلے کارڈ یا گرافک کارڈ کا پرابلم آتا ہے۔
اگر آپ کوئی گرافک ڈزائننگ کا کام یا آٹوکیڈ پر کام نہیں کرتے اور نارمل استعمال کے لیے لیپ ٹاپ خریدنا چاہتے ہیں تو ایسے لیپ ٹاپ جن کے اوپر NVdia اورATIکا لوگو لگا ہوا ہو، خریدنے سے احتراز کریں۔ یہ وہ ماڈلز ہوتے ہیں جن میں بہتر ڈسپلے کے لیے گرافک کارڈز لگے ہوتے ہیں۔ اور اکثر پرابلم ان ہی میں ہوتے ہیں۔
آخری چیز ہے ماڈل جنریشن۔ لوگ اکثر صرف یہ دیکھا کرتا ہیں کہ کتنی ہارڈ ڈسک ہے، کتنی ریم ہے اور پراسیسر کی کیا اسپیڈ ہے۔ لیکن وہ جنریشن نہیں دیکھا کرتے۔ جیسے اگر کورٹوڈو لیپ ٹاپ میں ایک جی بی کی ہارڈ ڈسک لگی ہو، چار جی بی ریم ہو اور اسپیڈ ہو تین میگا ہرٹز تو اس کی قیمت اسی اسپیسیفیکیشن کے ساتھ کور آئی تھری یا کور آئی فائیو کے مقابلہ میں بہت کم ہونی چاہیے۔ عام افراد اکثر صرف ہارڈ ڈسک، ریم اور پراسیسر اسپیڈ کا تقابل کرکے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔
آخر میں لیپ ٹاپ چارجنگ کے متعلق اہم بات: اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ان کا لیپ ٹاپ ہمیشہ چارجنگ پہ لگا ہوتا ہے۔ یہ بہت غلط ہے۔ لیپ ٹاپ کی بیٹری کی لائف اس طرح بہت کم ہوجاتی ہے۔ اصول یہ ہے کہ جب بیٹری فل ہوجائے تو پلگ نکال دیا جائے اس سے بیٹری زیادہ عرصہ چلے گی۔
لیپ ٹاپ کی بالائی سطح کو اسکریچز سے بچانے کے لیے کوئی اسکن یا کور لگوا لیں ا س سے آپ کا لیپ ٹاپ ہمیشہ نیا رہے گا۔
لیپ ٹاپ کی اسکرین کو کبھی بھی زیادہ زور سے دبا کر صاف نہ کریں، اس سےکسی بھی وقت اسکرین ٹوٹ سکتی ہے جو آپ کے لیے اچھے خاصے مالی نقصان اور پریشانی کا باعث بن سکتی ہے

فغانستان کی سرزمین اگر ایک طرف عالمی قوتوں یا ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کےلیے میدان جنگ کی حثیت رکھتی ہے تو دوسری طرف یہ مٹی زمانہ قدیم سے اپنے وقت کے طاقت ور بادشاہوں اور جنگجوؤں کےلیے گوشہ سکون بھی رہی ہے۔ سکندر اعظم سے لے کر بڑے بڑے حمکمران یا تو اس سرزمین سے گزرے ہیں یا انہوں نے اسے اپنا مستقل مسکن بنائے رکھا۔ افغانستان میں آج بھی کئی حکمرانوں اور بادشاہ دفن ہیں اور وہاں ان کے مقبرے بھی موجود ہیں۔
ان میں مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کا نام خصوصی طور پر اس لحاظ سے بھی لیا جاتا ہے کیونکہ ان کا انتقال ہندوستان کے شہر آگرہ میں ہوا تھا لیکن ان کے وصیت کے مطابق دس سال کے بعد ان کے جسد خاکی کو افغانستان لاکر ایک باغ میں دفن کیا گیا۔   تفصیل سے پڑھئے
ٹھٹہ، جس کے لیے حیدرآباد دکن کے ایک شاعر 'عثمان' نے کہا تھا: "ننگر ٹھٹہ ہیرے جیسا خوبصورت شہر ہے۔ اس میں دھان کی سبز فصلیں ہیں۔ اس میں کشادہ باغ، ہرن، اور خوبصورت جنگل ہیں۔" ٹھٹہ کے باغات مشہور تھے، جن میں طرح طرح کے پھل ہوتے تھے، خاص طور پر کھجور اور انار اپنے رنگ اور شیرینی کی وجہ مشہور تھے۔ 'امیر خسرو' (وفات اکتوبر 1325) نے اپنی ایک غزل میں اپنے محبوب کو ٹھٹہ کے پھولوں سے تشبیہ دی ہے۔
'تاریخِ طاہری' کے مصنف میر طاہر محمد تحریر کرتے ہیں کہ: "ٹھٹہ کی بنیاد کسی اچھی ساعت میں پڑی تھی۔ ٹھٹہ شہر میں چار ہزار سے زائد خاندان کپڑے بننے والے 'کوریوں' کے تھے۔" "تھیوناٹ" یہاں 1667 میں آیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:"یہ صوبے کا مشہور شہر ہے، سارے ہندوستان کے اکثر بیوپاری، یہاں بننے والی مختلف اشیاء خریدتے ہیں۔ یہ ملک کی مارکیٹ ہے، یہ شہر تین میل لمبائی اور ڈیڑھ میل چوڑائی میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ شہر مذہبیات، علم لغت، اور علم سیاست کے لیے مشہور ہے۔ شہر میں چار سو سے بھی زائد مدرسے ہیں۔ ٹھٹہ عظیم شہر ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
اگر آپ کی مصروفیت زیادہ ہے تو مارکیٹ میں مزے دار تیار شدہ مشروبات بھی موجود ہیں جسے فوری پانی میں حل کیجیے اور ٹھنڈے شربت کا مزہ لیجیے۔ افطار کے وقت چاہے کتنے ہی انواع و اقسام کے لوازمات دسترخوان پر کیوں نہ سجے ہوں لیکن نظریں صرف اس جگ پر ٹک جاتی ہیں جس میں ٹھنڈا ٹھار اور مزے دار شربت بنا ہوا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ کھجور کا لقمہ لینے کے بعد آپ کا دل بھی میری طرح ایک گلاس شربت پینے کا ضرور چاہتا ہوگا۔ یہ قدرت کا اصول بھی ہے کہ انسان کچھ کھائے بغیر تو رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر گزارا ممکن نہیں خصوصاََ موسم گرما میں پیاس کی شدت میں اضافہ بھی پانی کی طلب کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
حالیہ ایام میں کراچی میں پڑنے والی شدید گرمی نے مشروبات کے استعمال میں مزید اضافہ کر یا ہے اور ماہرینِ صحت نے بھی پانی کی کمی کو پورا کرنے اور ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لئے بھی پانی اور صحت بخش مشروبات کے استعمال پر زور دیا ہے تاکہ گرم موسم کے اثرات سے بچا جاسکے۔ گرم موسم میں انسانی جسم میں پسینہ آنے کی وجہ سے نمکیات میں کمی ہوجاتی ہے اور خاص کر رمضان المبارک جو کہ اب گرمی کے موسم میں آتا ہے اس لیے سحر وافطار کے اوقات میں نمکیات کی کمی کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔
ہر موسم اپنے ساتھ سوغات لے کر آتا ہے اور بات جب رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی ہو تو پھر اہتمام بھی عام دنوں سے ہٹ کر کیا جاتا ہے لیکن اس اہتمام میں عبادتوں کو بھی خاص اہمیت دینا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ہم آپ کی یہ مشکل آسان کردیتے ہیں اور آپ کی توجہ ایسے مشروبات کی طرف مبذول کروادیتے ہیں جو آپکا قیمتی وقت بھی نہ لیں اور آپ کو تازہ دم بھی کردیں۔
لسی:-
برصغیر کا روایتی اور مشہور مشروب ’’لسی‘‘ کو سمجھتا جاتا ہے جو نا صرف پاکستان اور بھارت میں پسند کی جاتی ہے بلکہ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی بے حد شوق سے پی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں دہی کا استعمال نہایت مفید ہوتا ہے، اس لیے میٹھی یا نمکین لسی کو سحر وافطار کا حصہ بنا لیجیے، ٹھنڈی ٹھنڈی اور مزے دار لسی سے نہ صرف ہاضمہ درست رہتا ہے بلکہ لسی گرم ہوا سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔
سکنجبین یا لیموں کا شربت:-
اب ذرا بات لیموں کے شربت یعنی سکنجبین کی ہوجائے، لیموں کا رس، چینی اور پانی کے مرکب سے بننے والا کٹھا میٹھا شربت نہایت لذیذ لگتا ہے۔ لیموں پانی ایشیا میں مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا، کینیڈا، یورپ اور افریقی ممالک میں بھی کافی شوق سے پیا جاتا ہے۔ لیموں بھی نظام ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے، اِس کے علاوہ پتھری کے مرض میں بھی کافی فائدہ پہنچاتا ہے، لیموں کا شربت دیگر پھلوں کے رس کے ساتھ بھی پسند کیا جاتا ہے۔
مینگوشیک:-
پھلوں کے رس کا ذکر ہورہا ہے تو پھلوں کے بادشاہ آم پر بات کیے بغیر مزہ نہیں آئے گا۔ آم کا ملک شیک بچوں اور بڑوں میں خاصا مقبول ہے، اِسی طرح کیری کا شربت بھی افادیت کا حامل ہے اور گرم موسم میں کیری کا شربت پیٹ کو ٹھنڈا رکھتا ہے، رس بھرے فالسے بھی گرمی کی سوغات میں سے ایک ہے۔ فالسے کا مزے دار شربت پاکستان اور بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک میں شوق سے پیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں فالسے کا شربت غذائیت بھی دیتا ہے اور پیٹ کے امراض سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
تھادل:-
سندھ کا مشہور زمانہ گرمی کا دشمن جسے’’ تھادل‘‘ کہا جاتا ہے جو انتہائی شوق سے پیا جاتا ہے۔ اِس میں شامل بادام، چہار مغز، سونف، سبز الائچی، خشخاش اور زیرہ پیس کے دودھ میں شامل کیا جاتا ہے لیکن گرم موسم میں پانی کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹھنڈا ٹھنڈا مزے دار تھادل بھی افطار میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ کی مصروفیت زیادہ ہے تو مارکیٹ میں مزے دار تیار شدہ مشروبات بھی موجود ہیں جسے فوری پانی میں حل کیجیے اور ٹھنڈے شربت کا مزہ لیجیے، یوں تو مشروبات کی فہرست بہت طویل ہے لیکن آج تک کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
یہ ماہ مقدس سحر و افطار کی بے پناہ رحمتوں اور نعمتوں سے تو نوازتا ہی ہے، اِس کے ساتھ ساتھ صبر و برداشت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا درس بھی دیتا ہے۔ اِس لیے ایک گلاس ٹھنڈا شربت ان کو بھی دیجیے گا جو آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پاکستان میں 4 قسم کی شہد کی مکھیاں پائی جاتی ہیں. اللہ تعالیٰ نے شہد میں ایسی بے بہا خصوصیات رکھی ہیں کہ جن کو دیکھ کر نہ صرف انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے بلکہ سائنس آج اتنی ترقی اور متعدد تجربات کے باوجود شہد تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
شہد اور مکھیوں کی خاصیت
شہد کو نہ صرف کھانے کے بعد میٹھے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب کہ مختلف ممالک میں اسے مختلف قسم کی بیماریوں کے توڑ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شہد کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اگر شہد کی مکھی پورے قدرتی عمل سے شہد تیار کر لے تو پھر وہ 1000 سال بھی پڑا رہے تو نہ تو وہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے ذائقے میں ذرا برابر بھی فرق آتا ہے جب کہ اس قسم کے شہد میں رکھی گئی کوئی چیز بھی خراب نہیں ہوتی۔
شہد کی مکھیوں کی ایک اور خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ دوسرے کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کی طرح کبھی بھی آپس میں لڑتی نہیں ہیں بلکہ آپس میں محبت اور منظم طریقے سے رہتی ہیں۔
شہد کی طبی خصوصیات
شہد کو ہزاروں برس سے طبی فوائد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور آج بھی بہت سے ممالک میں یہ روایت برقرار ہے۔ شہد کو گلے کی خراش دور کرنے، بدہضمی دور کرنے، گرمی دور کرنے کے علاوہ دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ مغربی ممالک میں شہد کی مکھی کے ڈنگ سے جوڑوں کے درد اور سوجن کو دور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد کا استعمال خون کی کمی، دمہ، گنجا پن، تھکاوٹ، سردرد، ہائی بلڈپریشر، کیڑے کا کاٹا، نیند کی کمی، ذہنی دباﺅ اور ٹی بی جیسے امراض میں بھی فائدہ مند ہے۔
شہد کی مکھیوں کا چھتہ
شہد کی مکھیاں جو چھتے بناتی ہیں ان میں 8 قسم کے خانے ہوتے ہیں جو مثلث سے لے کر 10 خانوں تک ہوتے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کے چھتے میں صرف ایک 6 خانوں والی شکل ایسی ہے جس میں ایک ملی لیٹر کا بھی خلا نہیں ہوتا۔ شہد کی مکھی کے چھتے میں انڈوں، شہد، موم اور بچوں کے خانے الگ الگ ہوتے ہیں اور ہر خانہ دوسرے خانے سے مکمل طور پر علیحدہ ہوتا ہے۔
شہد کی مکھیوں کی اقسام
ایک تحقیق کے مطابق شہد کی مکھیاں اڑنے والے کیڑے ہیں۔ پاکستان میں 4 ڈومنا، پہاڑی، چھوٹی اور یورپی مکھیاں پائی جاتی ہیں۔ پہلی ڈومنا، پہاڑی اور چھوٹی مقامی مکھیاں ہیں جب کہ یورپی مکھی (ایپس میلیفرا) آسٹریلیا سے لائی گئی۔ سب سے اچھی مکھی یورپی مکھی ہوتی ہے کیونکہ یہ دوسری مکھیوں کے مقابلے میں زیادہ شہد پیدا کرتی ہے۔
پھولوں کا رس اور سفر
شہد کا ایک چھوٹے چائے کا چمچ میں 5 ہزار پھولوں کا رس شامل ہوتا ہے جب کہ ایک بڑے چمچ میں 2 لاکھ پھولوں کا رس شامل ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی آدھا کلو شہد بنانے کے لئے 35 لاکھ اڑانیں بھرتی ہے اور 50 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرتی ہے۔
شہد کی مکھیاں عام طور 8 کا ہندسہ بنا تے ہوئے سفر کرتی ہیں لیکن شہد کی تیاری کے دوران یہ مختلف انداز سے سفر کرتی ہیں۔ گائیڈ مکھیاں انھیں راستہ بتاتی ہیں اور اس طرح یہ میلوں کا سفر با آسانی طے کر لیتی ہیں۔
شہد کی مکھیوں کے انڈے
شہد کی مکھیاں بہت ہی منظم طریقے سے ایک معاشرے کی طرح رہتی ہیں اور اپنی ملکہ کے تابع ہوتی ہیں۔ شہد کی ملکہ مکھی روزانہ 15000 ہزار انڈے جب کہ ایک سیزن میں 25 لاکھ انڈے دیتی ہے۔
شہد کی تیاری
شہد مادہ مکھیاں بناتی ہیں جس کے لئے تقریباً 30 ہزار کی فوج مقرر ہوتی ہے۔ مکھیوں کی ایک جماعت آس پاس اور دور دراز کے علاقوں میں شہد کے ذرائع دیکھ کر آتی ہے۔ شہد کے ذرائع دیکھ کر آنے والی مکھیاں مخصوص حرکات کے ذریعے سے ساتھی مکھیوں کو راستہ بتاتی ہیں کہ کس سمت میں کتنا سفر کرنا ہے۔
شہد کی مکھی جس راستے سے گرزتی ہے وہاں کے پھولوں کی خوشبو کو اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیتی ہے اور اپنے پیٹ میں شہد جمع کر کے اسی یاداشت کے ذریعے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہے۔
جب مکھیاں چھتے کے پاس پہنچتی ہیں تو وہاں پر شہد کی کوالٹی چیک کرنے والی ٹیم کے اراکین موجود ہوتے ہیں، اور جو مکھی کوئی مضر صحت چیز اپنے ساتھ چھتے میں لے کر جانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ٹیم اس کے پر توڑ کر اسے نیچے پھینک دیتی ہے۔ اس طرح سے صرف خالص شہد ہی چھتے میں جمع ہوتا ہے جسے ہم با آسانی حاصل کر کے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال میں لا سکتے ہیں۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

ہمارے ہاں ایسے’’ تاریخ دانوں‘‘ کی بھرمار ہے جو نظریہ پہلے گھڑتے ہیں اور تاریخی حقائق کو بعد میں جوڑتے چلے جاتے ہیں۔ یہ بات محض جنوبی ایشیائی تاریخ دانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کھیل کو تو انہوں نے بھی گورے تاریخ دانوں ہی سے مستعار لیا ہے۔ یہاں محض آپ کو تاریخی واقعات بارے حقائق بتائے جائیں گے کہ جن کو پڑھ کر آپ فیصلہ خود کریں گے۔ اورنگ زیب کے زمانے تک تو مضبوط حکومت قائم تھی مگر 1707 کے بعد حالات نے اس تیزی سے پلٹا کھایا کہ ان کو جاننے سے ہی ہمیں اصل تصویر نظر آنے لگے گی۔ یہ بات پہلے سے بتا دیں کہ 18ویں صدی یعنی 1701 سے 1799 تک صرف جنوبی ایشیا اور مغل دربار ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بڑی بادشاہتوں کے ٹوٹنے اور جغرافیائی بنیادوں پر چھوٹی بادشاہتوں یا قومی ریاستوں کے بننے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ خود سلطنت برطانیہ یعنی Great Britainبھی انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے اشتراک سے1707 میں بنی تھی۔تقریباً 50 برس حکومت کرنے کے بعد مارچ 1707 میں اورنگ زیب کا عہد اس کی موت پر ختم ہوا تو اس کا فرزند محمد اعظم تخت نشین ہوا جو محض تین ماہ برسراقتدار رہا کہ اس کے بھائی معظم نے اسے ایک جنگ میں قتل کر ڈالا۔ 63 سالہ معظم بہادر شاہ اول کہلایا اور 1712 میں لاہور میں اس کا انتقال ہو گیا۔ لاہور ہی میں تاج شاہی پر بیٹھنے والا معظم کا فرزندجہاندار شاہ محض ایک سال حکومت کر سکا اور 1713 میں قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سید برادران کی مدد سے ’’فرخ سیار (سیر)‘‘ نے مغل دربار سنبھالا مگر انہی کے ہاتھوں وہ اندھا ہو کر 1719 میں راہی ملک عدم ہوا۔ یہ معظم کا پوتا اور ’’عظیم الشان‘‘ کا بیٹا تھا۔ اس کے بعد معظم ہی کے دوسرے بیٹے ’’رفیع الشان‘‘ کا بیٹا ’’رفیع الدرجات‘‘ اقتدار میں آیا اور محض چار ماہ گذار سکا۔ اس کے بعد اس کا رشتے کا بھائی رفیع الدولہ بھی تین ماہ کے لیے تاج شاہی پر براجمان ہوا۔ ان کے بعد نصیرالدین محمد شاہ نے تخت سنبھالا جو 1748 تک ٹوٹتے ہوئے مغل دربار کو کبھی تخت پر بیٹھ کر اور کبھی خیمہ میں نظربند ہو کر گھسیٹتا رہا۔ ا1739 میںنادر شاہ افشار قندھار، غزنی، کابل، لاہور میں لشکرکشیاں کرتا ہوا تخت دلی پر جا بیٹھا، اپنا خطبہ بھی پڑھوایا اور مغل شہنشاہ کو خیمہ میں مقید کر دیا۔ پھر اس سے من مرضی کے فیصلے کروا کر محمد شاہ کو دوبارہ اقتدار بخشا اور واپس چلا آیا۔ 1747 میں جب وہ خراسان میںقتل کردیا گیا تو احمد شاہ ابدالی کی لشکری مہمیں شروع ہو گئیں جو 1765 تک جاری رہیں۔ اس دوران 1748 سے 1754 کے دوران مغل تخت پر احمد شاہ بہادر تخت نشین رہا تو 1754 سے 1759 تک عزیزالدین عالمگیر جبکہ 1759 سے 1806 تک بظاہر مغل تخت پر علی گوہر شاہ عالم دوئم برسراقتدار رہا۔ مگر اس دوران بنگال سے پنجاب تک کہیں مرہٹے تو کہیں پنجابی مضبوط ہو رہے تھے تو کہیں احمد شاہ ابدالی، فرانسیسی اور انگریز لشکرکشیاں کر رہے تھے۔ یہ سب ٹوٹتی ہوئی بادشاہت کا زمانہ تھا کہ جسے عدم مرکزیت کی عینک سے دیکھیں تو بات زیادہ سمجھ آنے لگتی ہے۔ اس دوران پلاسی (1757)، پانی پت (1761) اور بکسر (1764) کی جنگیں ہو چکی تھیں جس میں مغل تخت لاچار اور صوبائی سرکاریں ہوشیار نظر آتی ہیں۔ جب 1761 میں احمدشاہ اور مرہٹوں نے پنجاب (پانی پت) میں لڑائی لڑی تو مغل بادشاہ دلی میں بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہ نہ تین میں تھا نہ تیرہ میں۔ بکسر کی جنگ کے بعد تو لارڈ کلائیو نے بنگال، بہار، اڑیسہ کی دیوانی اپنے نام شاہ عالم ثانی سے لکھوا لی تھی۔ حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے تھے کہ 1773 میں تو کمپنی کے لامحدود اختیارات کو تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے کر عملاً کمپنی کو ’’محدود‘‘ کر دیا تھا۔ یوںبرطانوی حکومت نے کمپنی کی پادشاہی کا اسی وقت قلع قمع کر ڈالا تھا۔ تاہم پنجاب پر 1767 سے 1797تک سہہ حاکمان لاہور نے 30 سال تسلسل سے حکومت کر کے اس کی حیثیت کو مضبوط کیا۔ 1803 میں تو انگریزوں نے شاہ عالم ثانی (دوئم) یعنی بہادر شاہ ظفر کے دادا کی پنشن بھی مقرر کر ڈالی تھی۔ لارڈ لیک اور لارڈ ولزلی نے جس طرح یہ سب کیا یہ تمام کتب میں محفوظ ہے۔ ’’لارڈ ایلن برا‘‘ نے تو انہی دنوں بادشاہ کو دئیے جانے والے نذرانے بھی بند کروا دیئے۔ یہ ٹوٹ چکا مغل دربار تھا کہ جس میں خود شاہ عالم دلی کے ریذیڈنٹ چارلس مٹکاف کو فرزند ارجمند لکھتا تھا۔ مگر پھر ہاروے جیسے افسروں نے فرزند ارجمند لکھنے پر بھی اعتراض لگا دیاتو بادشاہ کو اپنی حیثیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ اس زمانے میں یہ محاورے عام تھے جیسے حکومت بادشاہ کی اور حکم انگریز (کمپنی) کا یا پھرحکومت شاہ عالم: ازدلی تا پالم۔ (پالم پایہ تخت سے چند میل کے فاصلہ پر تھا۔) محاوروں میں جو تاریخ رقم ہے اسے تاریخ دان کہاں لے جائیں گے کہ عوامی تاریخ کا ایک بنیادی ماخذ تو محاوروں،لوک داستانوں اور شاعری میں محفوظ ہے۔ 1806 کے بعد مرزا اکبر کو اس مغل تخت پر بٹھایا گیا اور اس کے بعد 1837 میں بہادرشاہ ظفر کی باری بھی آ ہی گئی۔ 1837 سے 1857 کے دوران تمام تر فیصلے کون کر رہا تھا؟ 1835 میں میکالے نے تقریر کی اور 1837 میں ماسوائے پنجاب، ہر جگہ سے انگریزوں نے فارسی بھی ختم کر ڈالی۔پنجاب بشمول کشمیر، سرحد، فاٹا میں تو ’’لہور دربارــ‘‘ کی حکومت تھی۔ تمام تر اہم فیصلوں میں مغل دربار تو کہیں نظر ہی نہیں آتا تھا۔ انگریزوں نے تو فرانسیسیوں کو 1799 ہی میں شکست دے ڈالی تھی اور ٹیپو سلطان بھی حیدرعلی کی میراث بچا نہ سکے تھے البتہ پنجاب میں ’’لہور دربار‘‘ نے 1799 سے 1849 تک انگریزوں کی حکومت نہ بننے دی۔ ’’لہور دربار‘‘ کا مغل دربار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اب آپ ہی بتائیں آپ کو 1707 کے بعد برسراقتدار آنے والے مغل حکمرانوں کے نام یاد بھی رہے ہیں یا نہیں؟ اکبر، اورنگ زیب کا ’’مغل دربار‘‘ تو کب کا ختم ہو چکا تھا۔ پوری 18ویں صدی اور 19ویں صدی کے پہلے نصف کی تاریخ گواہ ہے تو پھر بیچارے بہادر شاہ ظفر کو اب معاف کر دینا چاہیے۔ محض 1857 کے واقعات کی عظمت کو چار چاند لگانے کے لیے آپ اس بیچارے کو کیوں رگید رہے ہیں۔ مغلوں کی شان و شوکت تو 1707 میں ختم ہو گئی تھی جو باقی بچی تھی اسے نادرشاہ، احمد شاہ اور مرہٹوں نے اور بعد میں انگریزوں نے 1764 تک پارہ پارہ کر دیا تھا۔ اب اسے مزید کھینچنے کی کیا ضرورت تھی۔ 1857 کے واقعات کو کسی اور طرح بھی لکھا جا سکتا تھا۔ مگر جب پہلے سے نظریہ بنا لیا جائے تو تاریخ کے ساتھ یہی کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر ہی آخری مغل بادشاہ تھا اور اس کے بعد مغل بادشاہت میں سے جغرافیائی بادشاہتیں برآمد ہوئیں۔ اگر انگریز نہ آتے تو امریکہ کی طرح یہاں بھی یہ جغرافیائی وحدتیں مضبوط ہو کر مشترکہ وفاق بنا سکتی تھیں۔ یہ ہے وہ تاریخ جسے جنوبی ایشیا کی نصابی کتابوں میںبوجوہ جگہ نہیں مل سکی۔ -

“پاکستان کے چار صوبے ہیں؛ پنجاب، پنجاب کے جنوب میں واقع صوبہ جہاں مہاجر اور وڈیرے رہتے ہیں اور پنجاب کے مغرب میں واقع صوبہ جہاں نسوار بہت استعمال ہوتی ہے، لوگ کندھوں سے بندوقیں لٹکائے پھرتے ہیں اور پشتو فلمیں بنتی ہیں۔ “
پاکستان کے چار صوبے ہیں؛ پنجاب، پنجاب کے جنوب میں واقع صوبہ جہاں مہاجر اور وڈیرے رہتے ہیں اور پنجاب کے مغرب میں واقع صوبہ جہاں نسوار بہت استعمال ہوتی ہے، لوگ کندھوں سے بندوقیں لٹکائے پھرتے ہیں اور پشتو فلمیں بنتی ہیں۔
“اور چوتھا صوبہ؟”
“چوتھا صوبہ؟؟ چوتھا صوبہ نامعلوم صوبہ ہے!!”
“وہاں رہتا کون ہے؟؟”
“معلوم نہیں”
کیا مطلب؟ ارے بھائی کوئی تو رہتا ہو گا!!
“معلوم نہیں، ہو سکتا ہے کوئی بھیڑ بکریاں رہتی ہوں”
“اگر بھیڑ بکریاں ہیں تو کوئی نہ کوئی چرواہا بھی رہتا ہوگا۔”
“معلوم نہیں۔”
“لیکن آخر یہ اب تک نامعلوم کیوں ہے؟”
“اس پر ابھی تحقیق جاری ہے۔”
“تو کیا پتہ چلا اس تحقیق سے؟”
“تحقیق کے نتائج ابھی نامعلوم ہیں۔ ”
“تو یہ تحقیق کب تک مکمل ہو جائے گی؟”
“معلوم نہیں۔”
“یہ بات تو یقینی ہے نا ں کہ واقعی کوئی چوتھا صوبہ ہے؟”
“معلوم نہیں۔ سنا تو یہی ہے اور پڑھا بھی یہی ہے۔ ”
“ارے بھائی کسی کو تو پتہ ہوگا۔ کوئی راستہ تو جاتا ہوگا۔”
“راستہ؟؟ راستہ پوچھ کر کیا کرو گے۔ وہاں جانے کی اجازت نہیں۔”
“کیوں اجازت نہیں۔ ”
“معلوم نہیں۔”
“کس سے اجازت ملے گی؟”
“معلوم نہیں۔”
“وہاں دیکھنے لائق کوئی جگہ ہے؟ کوئی پہاڑ، جھیلیں، جنگل؟؟”
“معلوم نہیں۔ ہاں وہاں چھاونیاں ضرور ہیں۔”
“چھاونیاں؟؟ لیکن کیوں؟؟”
“معلوم نہیں۔ شاید حفاظت کے لیے۔”
“کس کی حفاظت؟؟”
“معلوم نہیں۔”
“جب وہاں کوئی رہتا نہیں، کوئی وہاں جاتا نہیں تو پھر فوج اور چھاونیاں کیوں ہیں وہاں؟”
“معلوم نہیں۔ لیکن اس قسم کے سوال آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ ”
“میں ایک پاکستانی ہوں اور مجھے اپنے ملک کے بارے میں جاننے کا حق ہے، چوتھے صوبے کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔”
“حقوق کی بات کرتے ہو؟؟ کسی این جی او سے ہو؟”
پاکستانی؟؟ تم پاکستانی کیسے ہو سکتے ہو؟کسی پاکستانی کو پاکستان سے اتنی دلچسپی کبھی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی وہ اتنے سوال پوچھ سکتا ہے
“جی نہیں۔ اپنے حق کی بات کرنے کے لیے این جی او بنانے کی ضرورت نہیں۔ میں صرف پاکستان کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔”
“معلومات؟؟ کیسی معلومات؟ ”
“یہی کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہیں، وہاں کون سے قدرتی وسائل ہیں۔ کون لوگ بستے ہیں۔ ان کے نظریات اور خیالات کیا ہیں”
“قدرتی وسائل ، لوگ، نظریات؟؟تم کوئی علیحدگی پسند لگتے ہو۔”
“علیحدگی پسند؟؟؟ یہ آپ کس قسم کی باتیں کررہے ہیں۔ میں صرف تجسس کے تحت معلومات اکٹھی کرنا چاہتا ہوں”
“تجسس تو جاسوسوں کو ہوتا ہے؟ تم ضرور کسی کے ایجنٹ ہو۔”
“ایجنٹ؟؟ ”
“ہاں غیر ملکی ایجنٹ۔”
“جی میں غیر ملکی نہیں۔ پاکستانی ہوں۔”
“پاکستانی؟؟ تم پاکستانی کیسے ہو سکتے ہو؟کسی پاکستانی کو پاکستان سے اتنی دلچسپی کبھی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی وہ اتنے سوال پوچھ سکتا ہے۔”
“جی؟؟؟میں سمجھا نہیں ۔ کیا سوال کرنا منع ہے؟”
“جی کے کچھ لگتے ۔ تم ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جارہےہو۔”
“میں اور خطرہ؟؟ میں ایک نہتا عام شہری ہوں۔ میں کیسے خطرہ ہو سکتا ہوں۔ ”
“تم صرف خطرہ نہیں بہت بڑا خطرہ ہو۔ تمہاری جان تو اب نہیں چھوٹے گی۔ غدار، ایجنٹ، دہشت گرد۔ تمہیں تو فوراً گرفتار کرنا چاہیے”
(خبر: خطرناک دہشت گرد گرفتار، نامعلوم مقام پر منتقل، تہلکہ خیز انکشافات کی توقع۔)

  سترھویں صدی تک یوپی کے مغربی علاقے کی زبان کو ہندوستاتی یا ہندوؤئی کیا جاتا تھا ، اتر پردیش کا مغربی علاقہ لکھنؤ ،میرٹھ ، بریلی ،مراد آباد ، علی گڑھ اور ساتھ ہی دارلحکومت دہلی بھی ۔   مغلیہ سلطنت کی سرکاری زبان فارسی تھی اور اعلی حلقوں میں فارسی ہی بولی جاتی تھی لیکن عوام الناس کی زبان ہندی یا ہندوستانی تھی ۔ جس کو دیوناگری رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ یہ اٹھارہویں صدی تک کے ہندوستان کا معاملہ ہے ۔
بات وہاں سے شروع ہوتی ہے جب انگریز ہندوستان میں آتا ہے ۔ چونکہ انگریز بنگال کے راستے انڈیا میں آیا تھا تو اس کا سب سے بڑا مرکز انیسویں صدی کے آغاز میں کلکتہ شہر تھا ۔ یہ انیسویں صدی کے آغاز کی بات ہے یعنی سوا دوسو سال پہلے کا زمانہ ۔
برٹش نے کلکتہ مٰیں فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی ۔یہ وہ کالج ہے جہان انگریز ماہر لسانیات نے ہندی سیکھ کر اردو کو الگ زبان بنانے کا بیڑا اٹھایا۔ اردو کو فارسی رسم الخظ دیا گیا ۔ اس سے پہلے اردو کا کوئی سکرپٹ نہیں تھا کیونکہ اس میں بعض حروف تہجی نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ الگ زبان نہیں بن پارہی تھی ۔ انگریز ماہر لسانیات نے ہندوستانی زبان میں کچھ حروف تہجی کا اضافہ کیا اور پھر اس کو فارسی رسم الخط دیکر ہندی یا ہندوستانی سے الگ زبان بنادیا۔  اردو کی پہلی عظیم کتاب قصہ چہار درویش ، باغ و بہار فورٹ ولیم کالج کلکتہ ہی میں لکھی گئی اور اسی کالج کے پریس میں اردو ادب کی پہلی کتاب بھی چھپی۔یہ سن اٹھارہ سو تین کی بات ہے یعنی آج سے دو سو بارہ سال پہلے کا واقعہ ۔
فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے روح رواں جان گلککرسٹ تھے جو بنیادی طور پر تو ڈاکٹر تھے لیکن علم و ادب کی چاشنی ان میں قدرتی طور پر موجود تھی،دس سال ہندوستان میں گزارنے کے بعد ان کے دل میں ہندی سیکھنے کا شوق پیدا ہوا اور پھر اس زبان میں اتنی مہارت پیدا کرلی کہ استادوں میں شمار ہونے لگے ۔ رفتہ رفتہ انھوں نے سکرپٹ کی بنیاد پر ہندوستانی زبان کو پندی اور اردو میں تقسیم کرکےہی دم لیا ۔ اس کے بعد برطانیہ سے جو بھی افسر انڈیا تعینات ہوتے تھے اس کو فورٹ ولیم کالج میں اردو کی تعلیم حاصل کرنا پڑتی تھی رقتہ رفتہ اردو کلچرڈ طبقے کی زبان ہونے کی علامت بنتی گئی جو آج ہر شخص کے زہن میں موجود ہے خاص طور پر لاہور کی اشرافیہ کے زہنوں مین اس کا بہت بڑا قفل بھی لگا ہوا ہے ۔
اردو ہی کو انگریز نے مسلمانوں کی زبان قرار دیا اور سرسید احمد خان جو کہ انگریزی سرکار سے بڑے قریب تھے انھوں نے اردو ہندی تنازع پر بڑا کام کیا ۔ پھر مسلم لیگ نے بھی اردو کو مسلم زبان قرار دیکر سیاسی اشو بنادیا ۔جب برٹش نے پنجاب فتح کیا تو اس نے پیلا کام یہ کیا کہ پنجاب کی دفتری اور تعلیمی زبان اردو قرار دے دی۔ اس سے پہلے پنجاب میں اردو کبھی بھی رائج نہیں رہی تھی۔  اب جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اردو کوئی مسلماوں کی زبان ہے یا ایک ہزار سال سے وجود رکھتی ہے وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں ۔ اردو برٹش نے انڈٰیا میں ہندو مسلم کو لڑوانے کے لئے بنائی تھی ۔ یہ بالکل ایسے ہی جیسے بعض شرپسبد سرائکی کو پنجابی سے الگ زبان بنانے کی بھونڈی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔
اس نے اپنے کام کو مزید جدید نہج دی، اپنا سارا علم لیپ ٹاپ میں بند کردیا اور پھر اُس کی محنت رنگ لائی اور اسے ٹی وی پروگرامز تک رسائی مل گئی۔ وہ بچپن سے ہی پی ٹی وی کے ہارر ڈرامے ’’حقیقت‘‘ کے کردار ’’مقدس‘‘ کی طرح تھی۔ ایویں خلاوں میں گھورتے رہنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اُس کا بچپن سے ہی دعوی تھا کہ چاند اس کے ساتھ بھاگتا ہے اور اُس کے ساتھ بھاگنے والے بچوں کا بھی یہی دعوی تھا لیکن اُس کے ہتھ چھٹ مشہوری کی وجہ سے بچے اِس دعوی سے دست برادر ہوجاتے تھے چونکہ اُس کے منہ میں جو کچھ آتا تھا وہ بنا سوچے، سمجھے کہہ دیتی تھی اس لئے بڑے بھی اس سے کنی کتراتے تھے۔
ایک روز جب صحن میں مرغی اس کو ٹھونگیں مارنے کے لئے دوڑ رہی تھی تو اس نے رک کر دور کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے ہوئے سینہ پھیلائے مرغی کو دیکھ کر یہی کہا تھا ’’اللہ کرئے آج تیرا شوہر یہ مشٹنڈا مرغا مرجائے‘‘ اور مرغے نے اس کی بد دعا کے جواب میں ایک لمبی بانگ سے اسے نوازا تھا جیسے کہہ رہا ہو میں کونسا بیمار ہوں۔ دوسرے دن اُس نے دیکھا کہ کہ مرغا اور مرغی تو اسی طرح صحن میں فخر سے پھر رہے ہیں البتہ ہمسائیوں کا مرغا ’’تھانیدار‘‘ رات کسی بلی کا شکار بن کر پسماندگان میں صرف اپنی وردی چھوڑ گیا ہے۔ یہ خبر گاوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تھی اور اِس واقعہ کے بعد خاص طور پر عورتیں اس کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتی تھیں۔
اُسے بچپن سے ہی گڑیوں کی بجائے ہاتھ کی لکیروں سے کھیلنا ذیادہ پسند تھا، وہ اپنی صحن میں لگی ٹاہلی کے نیچے بیٹھ کر اپنے ہاتھ کی لکیروں جیسا جال کچی مٹی پر بناتی اور مٹاتی رہتی۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ کر اپنے ہاتھ کی لیکروں سے موازنہ کرتی۔ ہائی اسکول میں اسے کتابوں سے پتہ چلا کہ چاند، سورج کے علاوہ بھی نظام شمسی کے اور بھی سیارے ہیں، اُس کے علاوہ لامحدود کہکشاں ہیں، بیش بہا ستارے ہیں، پتھروں کی بہت سی اقسام ہیں، ہاتھ کی لیکروں کے علاوہ لوگوں کے چہروں میں بھی بہت کچھ چھپا ہوتا ہے جسے قیافہ شناسی کہتے ہیں۔
خالی پیریڈ میں اسکول کی لڑکیاں اپنی ہتھلیاں کھولے اس کے گرد اکٹھا ہوجاتیں اور جب وہ لیکروں، ستاروں، کہکشاوں اور دیگر علوم سے قیافہ کرکے اس کے کان میں معلومات انڈیلتی تو اُس کی اپنی کان کی لویں تک گرم محسوس ہوتیں۔ ہائی کلاس میں اس کی جانے والی کوئی پشین گوئی سچی ثابت نہیں ہوسکی تھی، صرف ایک کلاس فیلو کی شادی کی پشین گوئی کے جس کی پکی خبر اس کی والدہ نے دی تھی کہ بلو کی کی شادی تو چٹ منگنی پٹ بیاہ والی بات ہوئی اور یہ کہ اُس کی شادی کی تاریخ پکی کر دی گئی ہے۔ یہی خبر اُس نے اپنی کلاس میں پھیلائی تھی جو سو فی صد سچی ثابت ہوئی۔
کالج، یونیورسٹی تک پہنچتے ہوئے اُس کی پامسٹری اور قیافوں کی دنیا مزید وسیع ہوگئی۔ اُسے کتابوں اور رسائل تک رسائی حاصل ہوگئی جو کہ بطور خاص ان علوم سے متعلق تھے۔ وہ درباروں اور شاپنگ بازاروں سے حاصل کئے ہوئے مختلف پتھر، عقیق، سپیاں، گھونگے، مختلف سیاروں کی مٹی خواہش مند لڑکیوں میں ان کی خواہش کی بہتر حصول کے لئے بانٹنے لگی۔ کوئی ایک آدھ کام ہونے لگا اور باقی کے ناکام کام وہ اپنی چرب زبانی کے بل بوتے پر سو طرح کے نقص نکال کر وہ اپنا دامن صاف بچا جاتی۔
اسے ٹی وی پر بیٹھے ہوئے ’’ماموؤں‘‘ کو دیکھ کر بہت رشک آتا تھا، جو کبھی صبح اور کبھی رات کے اوقات میں عوام کو ’’ماموں‘‘ بناتے وہ خیالوں میں اپنے آپ کو ’’ماموؤں‘‘ کی صف میں بیٹھے ہوئے پاتی۔ پھر اُس نے اپنے کام کو مزید جدید نہج دی، اپنا سارا علم لیپ ٹاپ میں بند کردیا، اور پھر اُس کی محنت رنگ لائی اور اسے ٹی وی پروگرامز تک رسائی مل گئی چونکہ اسے مشہور شخصیات کے زائچہ پر بات کرنا ہوتی تھی اور ان کے زندگی کے بارے میں ساری معلومات گوگل سے حاصل ہوجاتی تھیں تو اس نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں سابق صدر آصف زرداری کی شادی کے بارے میں پشین گوئی کی تھی کہ تین چار ماہ تک وہ شادی کرلیں گے، اُن کی یہ پشین گوئی تقریباً پانچ سال بعد مبینہ اطلاعات کے مطابق سچ ثابت ہوئی۔
بلاول اتنے ناراض اپنے والد سے نہیں جتنا وہ اس پشین گو اینکر سے ہیں جنہوں نے جوانی کی سرد ہوتی آگ کو دوبارہ حدت دکھائی ہے۔ اب وہ ایک طنزو مزاح کے مستقل پروگرام میں پشین گو اینکر کم ماڈل کے طور پر شامل ہوتی ہیں۔ ایک کلک پر ان کا لیپ ٹاپ سامنے بیٹھی شخصیت کے متعلق کچا چھٹا ان کی سکرین پر ظاہر کردیتا ہے جسے وہ ایک مخصوص لگاوٹ اور بناوٹ کے ساتھ مصنوعی مسکراہٹ شامل کرتے ہوئے، ٹی وی اسکرین پر اچھال دیتی ہے جسے جھوٹ سمجھتے ہوئے بھی وہ شخصیت ان کے سامنے ’’ماموں‘‘ بن کر اسے ایک عظیم پشین گو سمجھ کر سچ مان لیتی ہے اور پورا ہال اس کے مصنوعی قہقہوں اور بائیں ہاتھ کی تالی سے گونج اٹھتا ہے۔

بشکریہ - کے ایم خالد

محمد صاحب نے فرمایا کہ ہم لکھتے تو ٹھیک ہیں، لیکن کبھی دائیں بازو کی نامور شخصیات کے بارے میں نہیں لکھا۔ گزارش یہ ہے کہ تقسیم سے قبل دائیں اور بائیں کی سیاست تو ضرور ہوتی تھی لیکن اس میں نمایاں بات سیاہ اور سفید کی ہوتی تھی۔ کوئی مذہبی شخصیت ہو یا سیکیولر، اس کا کردار دیکھا جاتا تھا نہ کہ نظریات۔ شیخ عبد المجید سندھی بھی ان ہی میں سے ایک تھے۔ پیر علی محمد راشدی 80 کی دہائی میں شائع ہونے والے اپنے کالموں کے مجموعے، جو 2002 میں چھپا تھا، کے صفحہ نمبر 69 پر لکھتے ہیں:       تفصیل سے پڑھئے
جب بھی مجھے اپنے تحقیقی یا دفتری امور سے ذرا سی بھی رخصت ملتی، تو میں فوراً گجر خان، کالار سیدان، دولتالا، ساگری، سُکھو، دورا بدھل، بیول، دوبیران کالان، حضرو، کوٹ فاتح خان، قطبال، ہرنال یا ہریال جا کر وہاں کے عجوبہ مندروں، گوردواروں، اور حویلیوں کو دیکھتا رہا ہوں۔
بخشی رام سنگھ کی حویلی------------------  تفصیل سے پڑھئے
چانکیا کوتلیہ-مکاّری‘عیاری‘فریب‘دھوکا دہی اور منافقت کا بے تاج بادشاہ-350-275 BC
چانکیا کوتلیہ ہندوستان کا ایک نامور مصنف تھا‘ اس کی پیدائش مورخین کے مطابق چوتھی صدی قبل مسیح کے نصف اول میں ہوئی‘ بدھ مذہب کے راویوں کے مطابق یہ ٹیکسلا میں پیدا ہوا‘ لیکن اس کی جائے پیدائش کے متعلق متضاد بیانات ہیں۔۔جین کتب کے مطابق وہ جنوبی ھند سے تعلق رکھتا تھا۔۔ایک جین مصنف کے مطابق اس کے باپ کا نام کانن اور ماں کا نام کنیسوری تھا۔۔کچھ دوسرے ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے باپ کا نام چانک تھا اور اسی نسبت سے وہ چانکیا کہلایا۔۔جین کتب کے مطابق چندر گپت موریا کی طرح چانکیا نے بھی بڑھاپے میں جین مزہب اختیار کر لیا تھا۔۔۔۔ چانکیا نے ابتدئ تعلیم ٹیکسلا میں حاصل کی اور جوانی تک وہیں مقیم رہا۔۔۔۔۔ا‘ہندوستان میں اسے دانشوری کا شاہکار سمجھا جاتا ہے اور یہ اپنے دور سے لے کر آج تک دور اندیش‘ذہین و فطین ‘عاقل اور اصول حکمرانی کا سب سے اعلیٰ معلم قرار دیا جاتا ہے۔    تفصیل سے پڑھئے
یہ ۲۰۰۱ء کی بات ہے، آسٹریلوی حیاتی جینیات داں (Biogeneticist) جیمز ڈیل ایک تحقیقی دورے پہ افریقا پہنچا۔ وہ اس براعظم میں تین ماہ مقیم رہا۔ اسی دوران اسے معلوم ہوا کہ براعظم میں ہر سال چھے تا سات لاکھ بچے اندھے ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ انھیں غذا کے ذریعے مطلوبہ وٹامن اے نہیں مل پاتا جو آنکھوں کو صحت مند رکھتا ہے۔ جیمز ڈیل ایک ہمدرد اوررحم دل انسان ہیں۔ وہ سوچنے لگے کہ لاکھوں افریقی بچوں کو بینائی جیسی عظیم نعمت کھونے کے شدید نقصان سے کیونکر بچایا جائے؟ غوروفکر کے بعد ان کے ذہن میںایک ترکیب آ ہی گئی۔
آسٹریلوی محقق نے افریقا میں دوران قیام دیکھا تھا کہ اکثر افریقی ممالک میں کیلا بہت کھایا جاتا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں روٹی، امریکا میں آلو اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں چاول ذوق و شوق سے کھائے جاتے ہیں، اسی طرح کئی افریقی ملکوں میں کیلا من بھاتا کھا جا ہے۔ جیمز ڈیل کے ذہن میں یہ خیال آیا، کیوں نہ ایسا کیلا اگایا جائے جس میں قدرتی طور پر وٹامن اے موجود ہو۔ کیلے کے پودے میں جینیاتی تبدیلیاں لا کر ایسا ’’سپر کیلا‘‘ تخلیق کرنا ممکن تھا۔ لیکن تحقیق کی خاطر درکار لاکھوں ڈالر کہاں سے آتے؟
آخر جیمز ڈیل نے مشہور فلاحی تنظیم، بل اینڈ ملینڈا گیٹس فائونڈیشن سے رابطہ کیا اور متعلقہ افسروں کے سامنے اپنا منصوبہ رکھا۔ وہ انھیں پسند آیا۔ چناںچہ جیمز کو مطلوبہ رقم مل گئی۔ وہ پھر اپنی تحقیق پہ جت گیا۔ اس کی شبانہ روز محنت رنگ لائی اور وہ پچھلے سال کے اواخر میں وٹامن اے سے بھرپور کیلا تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کوئی فرد روزانہ ایسے صرف دو تین کیلے کھا لے، تو اسے مطلوبہ وٹامن اے مل جاتا ہے۔یوں جیمز ڈیل کی انسان دوستی اور رحم دلی کے باعث اب لاکھوں معصوم افریقی بچے اندھے ہونے سے بچ سکیں گے۔
افریقا میں یہ پودے امداد باہمی کے نقطۂ نظر سے تقسیم ہوںگے۔ یعنی ہر گائوں کے معززین اس شرط پر ۱۰ تا ۲۰ کیلے کی اس نئی قسم کے پودے پائیں گے کہ وہ بیس نئی کونپلیں دیگر دیہاتیوں میں تقسیم کریں گے۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد سے آج تک کبھی نواز شریف، کبھی پرویز مشرف تو کبھی ان کی اپنی ہی جماعت کے لوگ سبھی آصف علی زرداری پر الزامات کی اس تواتر سے بوچھاڑ کرتے رہے ہیں کہ ان کے بارے میں سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنا بے حد دشوار ہے۔ آصف علی زرداری صاحب کی ذات اور محترمہ کی زندگی میں ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات سے قطع نظر پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کے لیے لیے اس وقت یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کی جماعت کہلانے والی جماعت آج ایک صوبے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس صورت حال کا ذمہ دار عموماً آصف علی زرداری کو قرا دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے نہ تو کوئی کارکن خوش ہے اور نہ ہی کوئی رکن۔ پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں۔  تفصیل سے پڑھئے
تاریخ کی کتابوں میں رقم ہے کہ ’’سوات‘‘ گندھارا تہذیب کے انتہائی اہم مراکز میں سے ایک تھا۔ نیز یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ سوات کی گود میں گندھارا تہذیب کے علاوہ بھی دیگر کئی تہذیبوں نے پرورش پائی ہے۔ ہندوؤں کی مقدس شخصیت مہاراجہ رام چندر جی نے سوات ہی کے ایلم پہاڑ میں بن باس کرکے اسے ہندومت کے پیروکاروں کے لئے مقدس بنا یا۔
کہا جاتا ہے کہ ایلم پہاڑی کی عظمت اور تقدس کی روایات زرتشتیوں ، پارسیوں اور یونانیوں کی کتب میں بھی ملتی ہیں۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب ’’رگ وید‘‘ میں یہاں بہنے والے دریا کو ’’سواستو‘‘کہا گیا ہے۔
یہ پارس کے بادشاہ دارا اول (Darius I) کا ایک صوبہ رہ چکا ہے، جسے 327 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے فتح کیا۔ 305 قبل مسیح میں یہ ہندوستان کے ماوریان خاندان کے قبضہ میں آیا۔ لگ بھگ پچپن سال بعد پارتھیا قوم نے مذکورہ علاقہ پر دست تصرف دراز کیا۔
پہلی صدی عیسوی میں گندھارا تہذیب کشانا (Kushana) کے زیر نگیں آئی جو کہ وسطی ایشیاء کے خانہ بدوش تھے۔
ساتویں صدی عیسوی میں سوات کے علاقہ سے ’’پدما سمبھاوا‘‘ (بدھا ثانی) تبت کے لیے نکل پڑے تھے۔ ان ادوار میں مشرقی ایشیائی بدھ مت کا اصل ذریعہ ہوتے ہوئے سوات کا علاقہ ایک مقدس زمین تصور کیا جاتا تھا اور اس کی زیارت کے لیے تبت، چین اور دوسری جگہوں سے زائرین باقاعدہ طور پر حاضری دینے آیا کرتے تھے۔ 
بٹ کدہ اسٹوپا
ڈاکٹر لوکا ماریا جو کہ مشہور اطالوی ماہر آثار قدیمہ ہیں۔ انھوں نے ’’اٹالین آرکیالوجکل مشن‘‘ کے لیے خدمات سرا نجام دیتے ہوئے وادیٔ سوات میں ستائیس سال گزارے ہیں۔ انھیں موجودہ دور میں اودھیانہ (سوات کا پرانا نام) کا سب سے مستند عالم اور محقق مانا جاتا ہے۔
سوات کے آثار قدیمہ کی درجہ بندی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ورثہ عظیم، وسیع اور حیرت انگیز ہے۔’’اس کی درجہ بندی مشکل ہے لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دنیا کے پچاس اہم ترین آثار قدیمہ میں سے ایک ہیں۔ قدیم کتب اور چینی ریکارڈ ان میں سے چند کی صاف وضاحت کرتے ہیں۔‘‘
آرکیالوجی اینڈ میوزیم گورنمنٹ آف خیبر پختون خوا کے سبکدوش ڈائیریکٹر پروفیسر شاہ نذر خان کا کہنا ہے کہ ’’اودھیانہ کو گندھارا کا حصہ مانا جاتا ہے۔ بعض محققین کی رائے میں اودھیانہ ایک علیحدہ سلطنت تھا۔ اس وادی کے جنت نظیر ہونے کے علاوہ اس کے بدھ مت کے قدیم آثار بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسٹوپے، خانقاہیں، رہائشی عمارات، قلعے اور بڑی تعداد میں Rock curvings وادی میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔‘‘ 
شموزو اسٹوپا
وادیٔ سوات میں یہ آثار آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں مگر یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کو بھی ان کی اہمیت کا سرے سے اندازہ نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ تیزی کے ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق سوات میں اب تک دس فی صد آثار کو بھی دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ سوات میں مختلف جگہوں سے نکلنے والے قیمتی آثار جن میں بدھا کے مجسمے، سکے، اس وقت کے برتن، زیورات اوردیگراشیاء شامل ہیں، کو پہلے پہل سیدو شریف عجائب گھر میں رکھا جاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے رکا ہوا ہے۔ 
سنگدرہ اسٹوپا
موضع جہان آباد منگلور سوات میں چٹان میں کندہ کیا ہوا دنیا کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے جسے طالبان دور میں ناتلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ گیارہ اور 23 ستمبر دو ہزار سات کو اس کے سر کو بارودی مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی جسے بعد میں اٹالین مشن نے مزید خراب ہونے سے بچانے کی خاطر کوششیں کیں۔ اس کے علاوہ جہاں بھی سوات کے طول و عرض میں بدھ مت دور کے آثار بکھرے پڑے ہیں، ان میں چند ایک اٹالین مشن کی نگرانی میں ہیں اور باقی کو حالات کی ستم ظریفی کا سامنا ہے۔ زیادہ تر میں اسمگلروں کی غیر قانونی کھدائیاں جاری ہیں، جب کہ باقی ماندہ کو بچے، بوڑھے اور جوان ’’ثواب‘‘ حاصل کرنے کی غرض سے پتھر مارتے ہیں اور اس پر گندگی ڈالتے ہیں۔  
جہان آباد میں بدھا کا مجسمہ
اس حوالہ سے سوات کے نوجوان محقق فضل خالق جنھوں نے سوات کے آثار قدیمہ پر اپنے ایک تحقیقی مقالہ "The Uddiyana Kingdom: the forgotten Holy Land Of Swat"کو کتابی شکل دی ہے، کہتے ہیں کہ سوات کے آثار قدیمہ کو نہ صرف عام عوام سے خطرہ ہے بلکہ ان کی زبوں حالی اور انھیں اس حالت تک پہنچانے میں محکمۂ آثار قدیمہ برابر کا شریک ہے۔
’’عوام کی غلط سمت میں رہنمائی کی گئی ہے۔ اس لیے وہ ان آثار کو پتھر وغیرہ مارتے ہیں۔ حالاں کہ قرآن شریف کے پارہ نمبر چھ میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے لیے برے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔‘‘
فضل خالق کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ یہاں پر دو ڈھائی سو اسمگلر گروپ ان آثار کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی خاطر ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے ساتھ حکومتی اور عوامی دونوں طرح کی مدد بھی حاصل ہےجب تک حکومتی اہل کار اس عمل کا سختی سے نوٹس نہیں لیتے، اسمگلروں کو پکڑا نہیں جاتا، ان کے معاون عناصر کو سزا نہیں دی جاتی، تب تک ان آثار کو تباہ ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘
سیدو شریف اسٹوپا
ان آثارکا ایک عرصہ سے مطالعہ کرنے والے ماہر منہاج الدین المعروف بابا اس حوالے سے کافی تشویش میں ہیں۔ ان کے مطابق’’سوات کے کئی علاقوں بریکوٹ، پنجی گرام، کنجر کوٹو، ننگریال، پانڑ، کوکاریٔ،بالی گرام، کبل، خوازہ خیلہ، مٹہ، شوخ دڑہ حتی کہ گل کدہ (جوکہ حکومتی تحویل میں لیا گیا علاقہ ہے) میں غیر قانونی کھدائیاں آج بھی جاری ہیں۔اس کے علاوہ بڑے بڑے آثارقدیمہ کے مراکزجن میں کوٹہ ابوہا، شموزو، جلالہ، گاڑوڈاگئی، بنجوٹ اور تلیگرام کے علاقے شامل ہیں، میں بھی بڑے پیمانہ پر غیرقانونی کھدائیاں ہو رہی ہیں۔ ان جگہوں سے قیمتی اشیاء نکالی جاتی ہیں جو کہ تھائی لینڈ، جاپان ، امریکہ اوریوروپی ممالک اسمگل کی جاتی ہیں۔ اس غیر قانونی کام میں محکمۂ آثار قدیمہ، مقامی پولیس اور بہت سے حکومتی ادارے اور مقامی بااثر سیاسی شخصیات تک شامل ہیں۔‘‘

گندھارا نوادرات
منہاج کا مزید کہنا ہے کہ ’’یہ آثار سوات کا قیمتی اثاثہ ہیں مگر بدقسمتی سے اس طرف حکومتی ادارے مسلسل غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔‘‘
اس ضمن میں سواستو آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن کے روح رواں عثمان اولس یارؔ بھی کافی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ عثمان اولس یارؔ پشتون بیلٹ پر جہاں بھی تہذیبی وثقافتی کام ہوتا ہے، وہاں پیش پیش ہوتے ہیں۔
ان کے بقول سوات میں آثار قدیمہ کی تباہی کا ذمہ دار محکمۂ آثار قدیمہ ہے۔’’آثار قدیمہ کی حفاظت کے لیے جتنے ادارے سوات میں کام کرتے ہیں، اُن سب سے اِن آثار کو خطرہ ہے۔ سوات میں جتنے آثار ہیں، چاہے وہ کھنڈرات ہوں، سوات کا اکلوتا عجائب گھر ہو یا مجسمے وغیرہ ہوں، ان کی حفاظت اور بحالی کے لیے مذکورہ ادارے اٹالین مشن کے رحم و کرم پر ہیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آج تک محکمۂ آثار قدیمہ نے سوات میں ایک پیسے کا کام بھی نہیں کیا ہے۔ سوات عجائب گھر کو ہی لے لیں۔ اٹالین مشن نے اسے کتنے زبردست طریقے سے تیار کیا ہے، مگر محکمۂ آثار قدیمہ نے اس پر جو گیٹ لگایا ہے وہ کسی طویلے پر بھی نہیں لگایا جاسکتا۔‘‘
سوات کے آثارِقدیمہ کے بچاؤ اور ان کی مسلسل تباہی کے بارے میں جب مقامی محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر فیض الرحمان سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ ’’سال دو ہزار بارہ کو املوک درہ سائٹ (تحصیل بریکوٹ سوات) میں غیر قانونی کھدائی کے دوران میں چند اسمگلروں کو پکڑا گیا تھا، ان سے ’’بدھ ستوا‘‘ تک برآمد کیا گیا تھا جسے بعد میں سوات میوزیم کا حصہ بنایا گیا۔ ان اسمگلروں کو بعد میں معمولی سزا اور جرمانہ کے بعد چھوڑا گیا۔ 
املوک درہ اسٹوپا
ہندوستان میں ترکوں کی آمد کے ساتھ ساتھ اسلامی حکومتوں کی تاریخ لکھنے کا چلن عام ہو چکا تھا۔جوکہ گیارھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک مسلسل جاری رہا۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے اس سنہری دور کی پوری تاریخ موجود ہے۔یہ بھی اہم بات ہے کہ بہت سی تاریخیں فارسی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ان میں محمد قاسم ہندو شاہ فرشتہ کی ’’تاریخ فرشتہ‘‘اہم تاریخی مآخذ قرار دی گئی ہے۔جو کہ فارسی میں ہے۔محمد قاسم فرشتہ کی تاریخ کی قدر اس لئے بھی زیادہ مانی گئی ہے کیونکہ اس نے حالات اور واقعات کو بیان کرنے میں ایمانداری برتی ہے۔اور کسی بھی واقعہ کو بیان کرنے میں حتی الامکان احتیاط برتی ہے۔تاریخ فرشتہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میںسولہ (۱۶)الباب ہیں۔جن میں امیر ناصر الدین سبکتغین ،محمد غزنوی،سلطان ابراہیم،بہرام شاہ،خسرو وغیرہ کی حکومتوں کے احوال ،جنگی حکمت عملی،سیاسی سماجی اور انتظامی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔دوسرا حصہ تینتالیس(۴۳)الباب پر مشتمل ہے۔اس میں دلی سلطنت شہاب الدین غوری،کتب الدین،التمش، فیروز شاہ،رضیہ سلطان،بلبن،خلجی وغیرہ کے حکومتی احوال بیان کئے گئے ہیں۔
ساتھ ہی تغلق اور سادات خاندانوں کی تہذیبی ،ثقافتی اور ادبی معلومات بھی پیش کی گئی ہیں۔’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دوسرے حصے میں ہی بابر،ہمایوں اور اکبر کے ادوار پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔مغل حکومت کا قیام و استحکام ،بابر کا ہندوستان پر حملہ،ہمایوں کی حکومت اور اکبری حکومت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے نشیب و فراز کا بیان نہایت خوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔جبکہ تیسرے حصے میں جنوبی ہند اور بہمنی سلطنت کا بیان ہے اور یہ اٹھارہ(۱۸) الباب پر مشتمل ہے۔
فرشتہ کے تاریخ سے متعلق علم کو تسلیم کرتے ہوئے بادشاہ ابراہیم عادل دوئم نے اس سے ’’ہندوستان میں اسلامی حکومت کی تاریخ‘‘لکھنے کا مطالبہ کیا۔فرشتہ چونکہ غیر جانبداری کا پرستار تھا اس لئے اس نے بادشاہ سے معذرت کر لی۔لیکن جب بادشاہ کا اصرار بڑھا تو فرشتہ نے ۱۶۰۶ء؁ میں تاریخ لکھنا شروع کی اور پانچ سال کی سخت محنت کے بعد ۱۶۱۱ء؁ میں مکمل کی۔اس نے حالانکہ تاریخ لکھنے میں حتی الامکان احتیاط سے کام کیا لیکن کچھ خامیاں پھر بھی چھوٹ گئیں۔اس کی بڑی وجہ قاسم فرشتہ کو جغرافیائی علم کی مکمل جانکاری نہ ہونا تھی۔کچھ خامیوں کے باوجود ’’تاریخ فرشتہ‘‘ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جو کہ ہندوستان میں اسلامی حکومتوں کے متعلق اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
محمد قاسم فرشتہ نے ظہیر الدین محمد بابر کے ذریعہ مغلیہ حکومت کے ہندوستان میں قیام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔بابر کی پیدائش،خاندانی اختلافات،سمر قند،کابل وغیرہ کا بیان کرتے ہوئے جب وہ ہندوستان پر بابر کے حملوں کا بیان کرتا ہے تو اس سے اس دور کے حالات تو پتہ لگتے ہیں ساتھ ہی اس دور کی رسوم و روایتیں بھی معلوم ہو جاتی ہیں۔بابر پانی پت کی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر آگرہ کے قلعہ کو آزاد کرانے پہنچا جو کہ ابھی تک سلطان ابراہیم لودھی کے عزیزوں کے قبضے میں تھا۔محض پانچ دنوں کے اندر ہی قلعہ بابر کے کنٹرول میں آ گیا تھا۔محمد قاسم فرشتہ نے تزک بابری کے حوالے سے لکھا ہے کہ بابر کو ابراہیم لودھی پر اپنی فتح بہت اہم معلوم ہوئی تھی۔کیونکہ اس نے حد سے زیادہ مخالف حالات میں یہ فتح حاصل کی تھی۔فرشتہ نے بابر کو ہمایوں کے ذریعہ قیمتی ہیرا پیش کرنے ،ہمایوں کو بابر کے ذریعہ مہر بند خزانہ عطیہ کرنے،لو اور شدت گرمی سے بابر کے سرداروں کی موت اور سرداروں کا کابل واپسی کا مطالبہ وغیرہ کا بیان بھی خوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔بابر نے آگرہ سے گوالیر کا سفر کیا اور وہاں سے سرخ رنگ کے گلاب کا پودھا آگرہ میں لگانے کا حکم دیا تھا کیونکہ تب آگرے میں گلاب کا سرخ پھول نہیں ہوتا تھا۔بابر کے انتقال کے ساتھ ساتھ فرشتہ نے بابر کی شخصیت ،انصاف پسندی،خوبصورتی کے لئے دیوانگی اور اس کے سلسلہ نسب پر بھی خوب روشنی ڈالی ہے۔فرشتہ نے جہاں بابر کو کبھی نماز قضا نہ کرنے والا لکھا ہے تو کبھی اسے عیاش بادشاہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔فرشتہ لکھتا ہے کہ چھٹی کے دنوں میں وہ خوبصورت عورتوں کے ساتھ وقت گزارتا تھا اور اس نے کابل میں پتھر کا ایک حوض بنوایا تھا جس میں خالص شراب بھروائی جاتی تھی۔وہ اس کے کنارے بیٹھ کر راس رنگ کی محافل سجاتا تھا اس نے یہ شعر بھی حوض پر کندہ کرایا تھا :
نو روز ، نو بہار و مع دلبری خوش است*بابر و عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
بابر کے انتقال کے بعد ’’نصیر الدین ہمایوں‘‘بادشاہ مقرر ہوا۔محمد قاسم فرشتہ نے تاریخ فرشتہ میں ہمایوں کے بابت بھی مفصل حالات پیش کئے ہیں۔ہمایوں کے بھائیوں کے ساتھ مشفقانہ رویے لیکن بھائیوں کی طرف سے عدم اطمینان اور شیر شاہ کی وعدہ خلافی کا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شیر شاہ نے مغل فوج پر ۱۵۳۹ء؁ میں حملہ کر دیا۔شدید حملے کی ہمایوں اور اس کی فوج تاب نہ لا سکی اور ہمایوں کو ندی پار کر کے آگرہ بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔نظام سکے کی مدد سے ہمایوں آگرہ پہنچ سکا تھا۔ہمایوں نے اسے آدھے دن کی بادشاہی سونپ کر اس سے کیا وعدہ نبھایا۔ہمایوں کے آگرہ میں رہتے ہوئے کامران مرزا کی وجہ سے فوج میں بدامنی پھیل گئی جبکہ شیر شاہ کو مغل بھائیوں کے درمیان اختلاف کی خبر ملی تو وہ دریائے گنگا کے کنارے پہنچ کر ہمایوں کو للکارنے لگا۔کالپی میں ہوئی جنگ میں حالانکہ مغل فوج جیت گئی۔ہمایوں ایک لاکھ کا فوجی لشکر لے کر شیر شاہ کے حملے کو ناکام کرنے کے لئے آگرہ سے نکل کر کنوج کے پاس پہنچا۔لیکن کامران مرزا کے بھروسے مند سپاہی اس سے دغا کر گئے۔جس کی وجہ سے ہمایوں کی باقی فوج بھی بھاگ نکلی۔ہمایوں بھی اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ گنگا پار کر کے آگرہ واپس آ گیا لیکن جب پتہ لگا کہ شیر شاہ مسلسل قریب آتا جا رہا ہے۔تووہ لاہور روانہ ہو گئے۔
قاسم فرشتہ ہمایوں کے بارے میں آگے لکھتاہے کہ لکھنوتی میں آرام کی زندگی جی رہا تھا تو اسے پتہ چلا کہ ہندال مرزا نے آگرہ اور رامپور میں قہر برپا کر رکھا ہے۔اور مرزا کا خطبہ پڑھا جا رہا ہے۔تو ہمایوں پانچ ہزار فوج کو جہانگیر بیگ کے حوالے کر کے لکھنوتی سے آگرہ کے لئے روانہ ہوا۔لیکن راستے میں ہی شیر شاہ نے اسے آ گھیرا اور بہ مشکل تمام ہمایوں آگرہ پہنچ سکا۔ایک سال بعد ہی شیر شاہ نے آگرہ پر چڑھائی کی۔ہمایوں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہا۔ہمایوں نے واپسی کی اور اس نے دوبارہ آگرہ پر قبضہ کر لیا۔فرشتہ لکھتا ہے کہ ہمایوں مزاجاً بہادر تھا ۔دان کرنا اور رحم دلی اس کے کردار کی بنیادی چیزیں تھیں۔
ہمایوں کی موت کے بعد’’ جلال الدین محمد اکبر‘‘ کو بادشاہ بنایا گیا۔فرشتہ نے علامہ شیخ ابو الفضل کی کتاب’’اکبرنامہ‘‘سے جلال الدین اکبر کے بہت سے واقعات مختصر مگر جامع انداز میں پیش کئے ہیں۔اکبر نے بھی آگرہ میں بہت وقت قیام کیا۔اس نے آگرہ سے اجمیر ،دہلی وغیرہ کا سفر کیا۔لیکن واپس آگرہ لوٹ آیا۔اکبر نے ۱۵۶۴ء؁ میں آگرہ کا قلعہ جو کہ پکی اینٹوں کا بنا ہوا تھا اس کو گرواکر لال پتھر سے دوبارہ تعمیر کرایا جو کہ چار سال میں تعمیر ہوا۔رنتھمبور کی فتح کے بعد اکبر نے حضرت شیخ سلیم چشتیؒ سے فتح پور سیکری میں مل کر بیٹے کے لئے دعا کرائی جو کہ قبول ہوئی۔بادشاہ اکبر نے یہاں سے آگرہ واپسی کی۔خواجہ حسین ثنائی نے شہزادے کی پیدائش پر ایک قصیدہ لکھا جس کے ہر شعر کے پہلے مصرعے سے اکبر کے بادشاہ بننے کی تاریخ اور دوسرے مصرعے سے شہزادے کی پیدائش کی تاریخ نکلتی تھی۔اکبر نے سیکری میں رہائش اختیار کی تو یہ اس کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔اکبر نے فتح پور سیکری کے نام سے بڑے شہر کی بنیاد ڈالی۔فتح پور سیکری کے ساتھ ہی اسے کئی جیت نصیب ہوئیں۔اور اس نے اسی سال گجرات پر فتح حاصل کی۔فتح پور سیکری میں اس نے مسجد کی تعمیر ۱۵۷۲ء؁ میں شروع کرائی جو کہ ۱۵۷۸ء؁ میں مکمل ہوئی۔محمد قاسم فرشتہ نے تاریخ فرشتہ میں علم فلکیات سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنے کی کوشش کی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حالات سے کس حد تک واقف ہونے کے بعد قلم چلاتا تھا۔اس نے لکھا ہے کہ اکبر خواجہ غریب نوازؒ کی زیارت کے لئے اجمیر گیایہاں سے دہلی اور پھر کابل کی طرف روانہ ہوا۔انہی دنوں مغرب میں ایک دمدار ستارہ دکھائی دینے لگا تھا۔جس کی وجہ سے وہ کابل کا سفر ترک کر کے دار السلطنت واپس آیا اور سیکری کی مسجد کی تعمیر مکمل کرائی۔۱۵۷۹ء؁ میں فتح پور سیکری کے فراش خانے میں آگ لگی اور بہت سا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔فرشتہ لکھتا ہے کہ ہمایوں کی طرح اکبر کو بھی افیون(افیم) کی لت لگ گئی تھی جس سے سبھی لوگ پریشان تھے۔۱۶۰۱ء؁ میں اکبر نے آگرہ میں سبھی صوبوں پر اپنی فتح کا اعلان کیا۔اسی کے بعد اکبر کے دو بیٹوں کی موت واقع ہوئی۔جس کے سبب اکبر بیماری میں مبتلا ہو گیا۔۵۱ ؍سال حکومت کر کے ۱۶؍ ستمبر ۱۶۰۵ء؁ میں اکبر انتقال کر گیا۔فرشتہ نے اکبر کے پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود عالموں اور علم کی عزت افزائی کرنے کا بیان بھی کیا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ اکبر نے عام راستوں پر پانچ پانچ کوس کے فاصلوں پر ڈاک چوکیاں بنائی تھیں جن سے شاہی فرمان بہت جلد بھیجے جا سکتے تھے۔
ہندوستان میں اسلامی حکومتوں کے متعلق فارسی میں جتنی بھی کتب ملتی ہیں ان میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ منفرد اہمیت رکھتی ہے۔مغلیہ دورِ حکومت پر اس میں جس جامع انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے وہ کم ہی کتابوں میں دستیاب ہے۔واقعات بیان کر نے میں صحت کا اہتمام تو کیا ہی گیا ہے ساتھ ہی گرد و پیش کے ماحول کو بھی حتی الامکان پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس لئے ’’تاریخ فرشتہ‘‘تاریخ کے واقعات کے لئے اہم ماخذ قرار دی جاتی ہے۔
جو رحجان اب ہمارے اندر پیدا ہوتا جارہا ہے اس کے بعد لگتا یہ ہے کہ اب یہ لشکر (زبان اردو) تتر بتر ہوجائے گا.
 ’ارے واہ اعلیٰ لکھ دیا یار‘ ۔۔۔ ’کمال‘ ’’لاجواب‘ ’بہت شاندار لکھا ہے۔۔۔ کس قدر با مقصد ہے۔۔۔!‘
ہمیشہ کی طرح حماقت ۔۔۔ پڑھتے جاؤ اور سر دھنتے جاؤ ۔۔۔ احمقانہ تحریر پر انتہائی عقلمندانہ تبصرے پڑھ کر کیا مزہ آتا ہے؟ دل چاہتا ہے خوشی سے کوئی ایک کبوتر ہی آزاد کردوں مگر ڈرتا ہوں کہ بھارت اِدھر سے بہت قریب ہے۔۔۔ ارے لکھنا کونسا مشکل ہے اگر کی پیڈ پر ہاتھ سیٹ ہو ۔۔ سیٹ ہونے سے کوئی غلط مطلب نہ لیجیے گا۔۔ احمق ضرور ہوں۔۔ عقل کا کوئی کام سرزد ہونا محال ہے۔۔۔ مجال ہے کہ ایسے کام میں ہاتھ ڈالوں جو محال ہو۔۔۔ سیٹ تو آج تک مجھ سے مرغی بھی نہ ہوئی۔۔ روز بس ایک انڈہ ـــ! یہ کیا شروع کردیا۔۔لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔!
’کیا لکھتے ہو بھائی۔۔۔!‘، بھائی کا تبصرہ پڑھ کر میں نے اطمینان سے لکھا۔۔۔ ’اردو !‘ ہمارے ہاں اردو کو نئے سرے سے ترویج دینی پڑے گی۔۔ ورنہ یہ لشکری زبان ہے سب ہضم کرجائے گی اور سرکاری ڈکار مارے گی ۔۔۔ پھر ہمیں مجبوراً حروف تہجی کم کرنا پڑیں گے۔۔۔ جب سے یہ رومن اردو ایجاد ہوئی۔۔۔ رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی۔۔ اردو پورے 26 حروف میں ہی سمٹ گئی۔۔ مجھ جیسے احمق ’ز‘ کو ’ذ‘، ’ہ‘ کو ’ح‘ ، ’س‘ کو ’ث‘ ، ’ت‘ کو ’ط‘ اور اِس کے برعکس لکھتے ہیں۔۔ پڑھنے والے کہتے ہیں۔۔ ‘واہ۔۔۔ واہ ـــ!’ پڑھنے والا تو خوش۔۔۔ اور لکھنے والا ہواؤوں میں اڑنے لگتا ہے۔۔ ہے نا نری حماقت ۔۔۔ نہیں؟ ’نہ‘ ، ’نا‘ اور ’ناں‘ زلفِ یار میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ ہاں کرتے بنتی ہے نہ ، نہ ۤـــ! دل لبھانے کو بندہ ’ناں‘ کہتا ہے۔۔۔ ’سنو ناں۔۔۔!‘، مگر توڑے جاؤ اردو کی ٹانگیں۔۔ لشکری ہی ٹہری۔۔ ٹوٹ پھوٹ کر پھر نئی بن جائے گی۔۔۔ اس لیے کچھ ’نہ‘ سنو۔۔ کبھی ’نہ‘ سنو۔۔۔ پھر بعد میں کہنا۔۔ اچھا ’نا‘ سوری۔۔۔!
ذندگی کو ’ذ‘ سے لکھ کر، زندگی کو جیتے جی مارڈالا۔۔۔ ہائے ظالم ـــ! اتمینان ’ت‘ سے لکھا اچھا لگتا ہے۔۔۔ نہیں؟ میں تو ماخوذ میں ’ز‘ لکھتا رہا ہوں۔۔ احمق جو ٹہرا۔۔۔۔ـ!
احمق کو مزید ہوا دیتا ہے۔۔۔ یا یوں کہیے کہ جلتی پر تیل چھڑکتا ہے۔۔ بلکہ خود کش دھماکہ ہوتا ہے جب بندہ اردو میں لکھنے بیٹھے اور اس کے سامنے انگریزی الفاظ کا ڈھیر پڑا ہو۔۔۔ مثال بڑی گندی ہے مگر کچرے کے ڈھیر سے صاف کھانا چننا بڑی تکلیف دیتا ہے۔۔۔ اب آپ فتوی لگادیں کیوں کہ انگریزی کو برا کہہ دیا ہے۔۔ آپس کی بات ہے انگریز ہمیں دو چیزیں سکھا گئے۔۔۔ ایک لفظ غلامی (جو ہم میں سرائیت کر چکا ہےــ!) اور دوسرا لفظ سوری۔۔۔ میں بھی لکھ دیتا ہوں۔۔ ’اچھا سوری۔۔۔!‘
بات یہ ہے کہ احمق چاہے جتنا پڑھ لکھ لے۔۔۔ وہ خواب اپنی مادری زبان میں ہی دیکھتا ہے۔۔ اور تخیل کی پرواز اوجِ ثریا تک مادری زبان میں ہی ہوتی ہے۔۔۔ انسان جب لاشعور سے اچانک شعور کی کیفیت میں منتقل ہوتا ہے تو چاہے لاکھ منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتا ہو مگر بے ساختہ منہ سے وہی زبان نکلتی ہے۔۔۔ آہ۔۔۔ !
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
انگریز زبان کو ناخدا کرکے انگریزی آتی ہے اور نہ اردو۔۔۔ محاورہ تو یہ ہے کہ آدھا تیتر، آدھا بٹیر۔۔ مگر حماقت میں ہم کوئی تیسری چیز ہی بن گئے ہیں۔۔ تیتر اور بٹیر دونوں سے پوچھ لیں بیشک۔۔ دونوں کہیں گے احمق ہو ۔۔۔۔!
زیادہ زبانیں سیکھنا تو اچھا ہے۔۔ مگر اتنا بھی اچھا نہیں کہ بندہ اپنی زبان سے بے بہرا ہوجائے۔۔ نہ لکھ سکے نہ پڑھ سکے۔۔۔ اردو لکھتے پڑھتے ’کنفیوژن‘ کا شکار ہوجائے۔۔ حق ہا۔۔۔ اب کیا کروں جس قسم کی کنفیوژن مجھے ہوگئی ہے اس کے معنی ’الجھن‘ میں پوشیدہ نہیں ہیں۔۔۔ وقت کے وقت کے ساتھ ساتھ اردو میں بگاڑ ہی پیدا ہوتا جارہا ہے۔۔ ایک طرف ہمارا احمقانہ پن اور دوسری طرف اردو میں نئے ادبی الفاظ کی شمولیت کا شدید فقدان ہے۔۔۔ پچھلی دہائی میں اردو بے چاری شرماتی لہراتی اور بل کھاتی چلتی رہی ہے۔۔۔ اگلی دہائی کا تصور کرکے لگتا ہے کاندھوں پر ہی ہوگی۔۔۔ !
جو رحجان اب ہمارے اندر پیدا ہوتا جارہا ہے اس کے بعد لگتا یہ ہے کہ اب یہ لشکر (زبان اردو) تتر بتر ہوجائے گا ۔۔۔ اور ہم اپنی اگلی نسل کو جب عجائب خانوں میں بغرضِ سیر و تفریح لے جائیں گے تو انھیں بتائیں گے۔۔۔ ’بیٹا یہ عبرانی زبان کے نسخے ہیں۔۔۔‘ ، ’بیٹا یہ سانسکریت زبان ہے جو اب متروک ہو چکی۔۔۔‘ اور۔۔۔ شرماتے ہوئے ، سر کجھاتے ہوئے اور نظریں چراتے ہوئے کہیں گے۔۔ ’یہ ہماری مادری زبان تھی۔۔ اردوـــ!‘
داغ صاحب سے معذرت۔۔۔ مگر اب حالات ایسے ہیں کہ ان کا شعر مجبورا تبدیل کردیا۔۔۔ حال کو ماضی کے صیغے سے بدلنا پڑا۔۔۔۔
اردو ’تھا‘ جس کا نام ہمیں جانتے ’تھے‘ داغ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ’تھی

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers