اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کا یہ بے پناہ احسان اور اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ساری مخلوق میں سب سے افضل اور اشرف بنایا۔ اور ہمیں اپنے پیارے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے بندوں کی ہدایت اور رہِ نمائی کے لیے اپنے نبیوں اور رسولوں کو دنیا میں مبعوث فرمایا، تاکہ وہ اس کے بندوں کو کفر و شرک اور گمراہیت و ضلالت کی تاریکی سے نکال کر وحدہٗ لاشریک جل شانہٗ کی بارگاہِ اقدس میں سجدہ ریز کریں اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے اس کے نبیوں اور رسولوں کی نبوت اور رسالت کو بھی سچے دل سے تسلیم کریں۔ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے وہ چاہتا تو اپنے نبیوں اور رسولوں کو دنیا میں بھیجے بغیر بھی لوگوں کو سیدھے راستے پر لاسکتا تھا کہ وہ کسی بھی معاملہ میں کسی کا محتاج نہیں ہے بل کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اسی کا محتاجِ کرم ہے۔ لیکن یہ اس کی مرضی اور مشیت ہے کہ اس کے بندے بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر کے حق کی راہ میں مشقتیں جھیلیں تاکہ وہ اپنے فضل اور عطا ے خاص سے انھیں بلند درجات سے نوازے۔   تفصیل سے پڑھئے
اسلام کی اساس رسالت پر ہے - رسالت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر حضرت محمدﷺ تک چلا جاتا ہے - تمام انبیاءعلیھم السلام اسلام کے ہی مبلغ تھے - قرآن حکیم میں انبیاءکرام علیھم السلام کا تسلسل سے تذکرہ سلاسل نبوت کی حقانیت اور ان کے دین اسلام کی توثیق و تائید کے لیے ہی دیا گیا ہے - اقبال بھی نبوت کے اس ادارے کی حقانیت کو اپنے اشعار کے ذریعے دینِ اسلام کی دلالت کے لیے لاتے ہیں - اقبال اپنے کلام میں حضرت آدم علیہ السلام سے جناب رسالت مآب ﷺ تک متعدد انبیاءکرام کی خصوصیات کے بیان سے تمثیلی ، اشاراتی اور استعاراتی دلائل و براہین لا کر اپنے تفکر اور نظریات کو بیان کرتے ہیں - ان انبیاءکرام میں حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی نمایاں ہیں جن کا ذکر اقبال نے اپنے کلام میں کیا - ذیل میں ان کی حیات اور ان صفات کا بیان ہے جن سے اقبال نے تحریک پائی اور لازوال شعر کہے- اقبال حضرت اسماعیل کا تذکرہ یوں کرتے ہیں:سِرّ ابراہیم و اسماعیل بود یعنی آں اجمال را تفصیل بود(۱)(ترجمہ:حضرت ابراہیم اورحضرت اسماعیل کے (رازِ قربانی کے)مظہر حضرت امام حسین ؑ تھے یعنی اس اجمالی واقعہ کی تفصیل امام موصوف (کی کرب و بلا) میں موجود تھے)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے - آپ کی پیدائش سے قبل کے حالات یوں بیان کئے گئے ہیں -   تفصیل سے پڑھئے
جس طرح کمپیوٹر پر انگریزی یا دوسری کوئی زبان لکھتے ہوئے کچھ اصول ہوتے ہیں اسی طرح اردو لکھتے ہوئے بھی کچھ اصول ہیں جو درج ذیل ہیں۔
1:- جہاں آپ اردو لکھ رہے ہیں وہاں تحریر کی سمت Right to Left کر لیں جو کہ دائیں طرف کے Ctrl+Shift سے ہو گی۔
2:- اگر ہو سکے تو تحریر کا رسم الخط (Font) اردو کا استعمال کریں جیسے “علوی نستعلیق”، “نفیس نستعلیق”، “پاک نستعلیق”، “اردو ویب نسخ” یا کوئی بھی اردو رسم الخط جو آپ کو پسند ہو۔ ویسے کوشش کریں کہ عام تحریر کسی نستعلیق رسم الخط میں لکھیں کیونکہ اردو پڑھنے والوں کو نستعلیق رسم الخط ہی زیادہ پسند ہے ویسے بھی اردو پڑھنے والوں کو نستعلیق کی عادت پڑ چکی ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ کوئی نستعلیق رسم الخط ہی استعمال کریں۔
3:- اردو تحریر لکھتے ہوئے سپیس کا استعمال دھیان سے کریں نہیں تو تحریر کی خوبصورتی متاثر ہو سکتی ہے۔
جس طرح انگریزی لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد سپیس دی جاتی ہے اسی طرح اردو لکھتے ہوئے بھی ہر لفظ کے بعد سپیس دی جاتی ہے اور جب کوئی فقرہ ختم ہو تو اس کے آخری لفظ کے بعد سپیس نہیں دی جاتی بلکہ آخری لفظ کے بعد ختمہ (۔) ڈالتے ہیں اور پھر اگر اسی لائن پر نئا فقرہ شروع کرنا ہو تو نئا فقرہ شروع کرنے سے پہلے سپیس دی جاتی ہے۔ اسی طرح کامہ کا استعمال کیا جاتا یعنی جب کسی لفظ کے بعد کامہ ڈالنا ہو تو اُس لفظ کے بعد سپیس دیئے بغیر کامہ ڈالتے ہیں اور پھر نئے لفظ کے شروع میں سپیس دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہم دو فقرے لکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہاں کہاں سپیس دی گئی ہے۔
فقرے:- “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔”
اب ان دونوں فقروں میں درج ذیل الفاظ کے بعد سپیس دی گئی ہے۔
“اللہ
کے
سوا
کوئی
معبود
نہیں۔
محمد

اللہ
کے
رسول
ہیں۔”
امید ہے اردو لکھتے ہوئے کہاں کہاں سپیس دینی ہے اس بارے میں آپ جان گئے ہوں گے۔ ویسے اردو تحریر میں سپیس دینے کا اصول ویسے ہی ہے جیسے انگریزی میں ہے۔
4:- جب کسی لفظ کے درمیان “ی” استعمال ہو تو وہاں پر چھوٹی “ی” لکھیں۔ اسی طرح جب کسی لفظ کے درمیان نون (ن) استعمال ہو تو وہاں نون نقطہ والا لکھیں نہ کہ نون غنہ (ں)۔
5:- اگر کسی لفظ میں الف مد (آ) لکھنا ہو تو اسے ایک کنجی (Key) سے ایک دفعہ دبا کر لکھیں نہ کہ پہلے ایک کنجی سے “الف” لکھیں اور پھر کسی دوسری کنجی یا اسی کنجی کو دوبارہ دبا کر الف کے اوپر مد ( ۤ) ڈالیں۔ عام طور پر اردو کلیدی تختہ میں الف مد (آ) Shift+a پر ہوتا ہے۔
6:- اردو کا حرف “ء” بہت زیادہ الفاظ میں استعمال ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کی اردو میں “ء” کی کئی صورتیں ہیں یعنی کسی لفظ کے شروع میں ، درمیان میں، آخر پر، اوپر اور نیچے۔ کمپیوٹر میں اردو لکھتے ہوئے “ء” کی ہر صورت کے لئے علیحدہ علیحدہ کنجی استعمال کی جاتی ہے۔ اگر کسی لفظ کے درمیان “ء” لکھنا ہو تو اسے “ئ” لکھا جاتا ہے جو کہ عام طور پر اردو کلیدی تختہ میں “u” کی کنجی پر ہوتا ہے اور “ء” کی آخری صورت Shift+u ہوتی ہے۔
عام طور پر اردو میں “ء” درمیانی، آخری اور “و” کے اوپر لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ “و” کے اوپر “ء” لکھنے کے لئے علیحدہ سے کنجی موجود ہے جیسا کہ الف مد (آ) پورا ایک ساتھ لکھنے کے لئے ایک ہی کنجی موجود ہے اسی طرح “و” کے اوپر “ء” لکھنے کے لئے بھی ایک ہی کنجی موجود ہے۔ عام طور پر اردو کلیدی تختہ میں “ؤ” Shift+w سے لکھا جاتا ہے۔
نوٹ:- اگر آپ کمپیوٹر پر اردو لکھتے ہوئے اصولوں کا کوئی خاص خیال نہ رکھیں تو ظاہری تحریر پر کوئی خاص فرق نہ بھی پڑتا ہو لیکن ایک تو آپ کو غلط انداز تحریر کی عادت پڑ جائے گی اور دوسرا جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ جب آپ یا کوئی دوسراآپ کی تحریر سے کوئی لفظ تلاش کرنا چاہے گا تو آپ کو یا کسی دوسرے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میں اس الگ تھلک واقع جنگل میں سیٹھ گوپی چند کے ساتھ گُل داروں کے ایک جوان جوڑے کا خاتمہ کرنے گیا تھا۔ گوپی چند ایک قصبے کے بہت بڑے تاجر، سیٹھ ارمان چند کا بڑا بیٹا تھا۔ پنجاب کے اس جنگل میں گُل داروں کا جوڑا آدم خور ہوگیا تھا۔ میری اطلاع کے مطابق یہ جوڑا دور سے آیا تھا اور کچھ عرصہ پر اُمن رہنے کے بعد انسانوں کا شکار کرنے لگا۔
اسے ایک انگریز لڑکی نے آدم خوری پر اُکسایا۔ جولی کوپر نامی اناڑی لڑکی نے جنگل میں گھومتے گُل داروںپر گولیاں چلائیں‘ تو وہ زخمی ہو کر غائب ہوگئے۔بعد ازاں دوران تلاشی جولی کا ماتحت ’’اٹھے‘‘ مارا گیا ۔ اٹھے یوپی کا ایک شاعر تھا۔ وہ جولی کے دفتر میں اس کا ماتحت تھا اور جولی سے پیسے لے کر شکار میں ساتھ دیتا۔ اٹھے کو چیرپھاڑ کھانے کے بعد وہ جوڑا آدم خور ہوگیا۔ پھر دو ماہ میں اس جوڑے نے مزید تین افراد مار ڈالے۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا جب خوارج نے الیحدگی اختیار کی تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے امیر المومنین نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھیں( یعنی تھوڑی تاخیر سے پڑھیں) تا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں اور ان سے بات کروں! حضرت علیؓ نے فرمایا! مجھے ان لوگوں کا خوف ہے کہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ میں نے کہا انشاء اللہ ہرگز ایسا نہ ہو گا۔ چنانچہ میں نے یمن کا عمدہ سے عمدہ جوڑا زیب تن کیا اور پھر خوارج کے پاس آ گیا۔
وہ لوگ عین دوپہر کے وقت قیلولہ کر رہے تھے۔ چنانچہ میں ایسے لوگوں کے پاس گیا کہ ان جیسے میں نے کبھی نہ دیکھے وہ لوگ شدت و ریاضت سے عبادت خدا وندی کرتے تھے ۔ ان کے ہاتھ کثرت عبادت کی وجہ سے اونٹ کے بدن کی طرح پھٹے ہوئے تھے اور ان کے چہروں پر کثرت سجود کی وجہ سے نمایاں نشانات پڑھے ہوئے تھے۔ تا ہم میں ان کے پاس داخل ہوا۔ وہ لوگ کہنے لگے اے ابن عباس مرحبا! یہاں آپ کیوں تشریف لائے؟ میں نے کہا میں تمھارے پاس آیا ہوں تا کہ تم سے بات کروں! پھر میں بولا رسول اللہ صلی اللہ علیہ اسلم کے صحابہ اکرام کے زمانے میں وحی نازل ہوتی تھی، لہٰزا صحابہ اکرام وحی کی تاویل سے باخوبی واقف ہیں۔
بعض خارجیوں نے کہا کہ ابن عباسؓ کے ساتھ بات مت کرو اور بعض نے کہا کہ ہم ان سے ضرور بات کریں گے۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا مجھے بتاؤ! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی، ان کے داماد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والے (یعنی حضرت علیؓ) پر کیوں طعن و تشنیع کرتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ کے صحابہ اکرام بھی ان کے ساتھ ہیں؟ خوارج بولے ہم تین باتوں کی وجہ سے طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ میں نے کہا بھلا وہ کیا کیا ہیں؟ کہنے لگے پہلی چیز یہ کہ انھوں نے اللہ کے دین کے معاملہ میں مَردوں کو منصف بنایا ہے، حالانکہ ارشاد باری تعالٰی ہے: حکم و فیصلے کا اختیار صرف اللہ کے لئے ہے (انعام: ۵۷)۔ میں نے کہا اس کے علاوہ اور کیا چیز ہے؟ کہنے لگے: حضرت علیؓ معاویہؓ کے ساتھ قتال کرتے ہیں اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی نہیں بناتے اور نہ ہی ان کے اموال کو غنیمت سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں سو اگر وہ کافر ہیں تو لامحالہ ان کے اموال ہمارے لئے حلال ہیں اور اگر وہ مومنین ہیں پھر تو ہمارا ان کی طرف تلوار اٹھانا بھی حرام ہے۔
میں نے کہا ان دو کے علاوہ اور کونسی بات ہے جو تعن و تشنیع کے قابل ہے؟ کہنے لگے انہوں نے اپنے نام سے ”امیر المومنین“ لقب مٹا دیا ہے پس اگر وہ امیر المومینین نہیں تو امیر الکافرین ہوں گے۔ (معاذاللہ)
میں نے کہا اگر میں تمھیں اللہ کی محکم کتاب سے آیات اور نبیؐ کی سنت سے احادیث پڑھ کر (بطور دلائل کے) تمھیں سناؤں تو کیا تم رجوع کر لو گے؟ کہنے لگے جی ہاں ہم ضرور کر لیں گے۔ میں نے کہا رہی تمھاری یہ بات کہ حضرت علیؓ نے اللہ کے دین کے معاملے میں مَردوں کو حاکم بنایا ہے، سو اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:
”اے ایمان والو(وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہے۔ جسکا فیصلہ تم میں سے دو معتبر آدمی کر دیں۔“(مائدہ)
نیز شوہر اور اس کی بیویں کے بارے میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:
”اگر تمھیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مَرد والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کر لو۔“(نساء: ۳۵)
پھر ابن عباسؓ نے فرمایا میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں آیا کہ مَردوں کے خون و جان کی حفاظت اور ان کے باہمی امور کی اصلاح کی خاطر مَردوں کو حکم و منصف بنانا زیادہ بہتر ہے یا ایک شکار کئے ہوئے خرگوش جسکی قیمت چوتھائی درہم ہے کے بارے میں مردوں کو حکم بنانا زیادہ بہتر ہے؟ کہنے لگے جی ہاں مردوں کی جان کی حفاظت اور ان کے باہمی امور کی اصلاح کے لئے مردوں کو حکم بنانا زیادہ بہتر ہے۔ فرمایا کیا میں اس اعتراض کے جواب سے بری الزمہ ہو گیا ہوں؟ کہنے لگے جی ہاں۔
فرمایا رہی تمھاری یہ بات کہ وہ قتال تو کرتے ہیں مگر فریق مخالف کی عورتوں اور بچوں کو قید نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے اموال مال غنیمت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تو مجھے بتاؤ کیا تم لوگ اپنی ماں کو قید کرو گے؟ اور پھر تم اس سے ایسے تعلقات کو حلال سمجھو گے جن کو تم لوگ دیگر عورتوں سے حلال سمجھتے ہو؟ اگر تمھارا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ( یعنی حضرت عائشہؓ جو جنگ میں امیر معاویہؓ کے ساتھ ہیں) تمھاری ماں نہیں ہیں تو بلا شبہ تم نے کفر کا ارتقاب کر لیا چونکہ فرمان باری تعالٰی ہے: ”نبیؐ مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔“(احزاب:6)
پس تم لوگ دو طرح کی گمراہیوں میں مُنڈلا رہے ہو (عائشہؓ کو قید کرنا روا سمجھو تو کفر اور اگر انھیں نبی کی بیوی نہ جانو تو کفر) پس ان میں سے جس کو چاہو ترجیح دو۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کیا میں اس اعتراض سے بازیاب ہو کر صیح و سالم نکل گیا؟ کہنے لگے جی ہاں۔
فرمایا رہی تمھاری یہ بات کہ حضرت علیؓ نے اپنے نام سے امیر المومنین کا لقب مٹایا ہے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کو شرائط صلیح طے کرنے اور لکھنے کی دعوت دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جسے محمد رسول اللہ نے طے کیا ہے۔ قریش کہنے لگے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو ہم آپ کا راستہ قطعاً نہ روکتے اور نہ ہی آپ کے ساتھ قتال کرتے۔ لیکن صرف محمد بن عبد اللہ لکھو! (یعنی معاہدہ کے شروع میں جو نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ بڑھایا ہے اسے کاٹ دو)۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بخدا! میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم میری تکذیب ہی کیوں نہ کرتے ہو۔ اے علی! لکھو: محمد بن عبداللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(۱)
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ سے بدرجہا افضل ہیں (یعنی جہاں نبی نے اپنے نام سے رسول اللہ کا لفظ مٹا دیا وہاں حضرت علی نے اپنے نام سے امیر المومنین کا لقب مٹا دیا تو کونسا کفر ہو گیا)۔ ابن عباس نے فرمایا: کیا میں اس اعتراض سے بھی بری الزمہ ہو گیا؟ کہنے لگے جی ہاں۔
چنانچہ خوارج میں سے تقریباً بیس ہزار افراد نے رجوع کر لیا اور تقریباً چار ہزار اپنے حال پر بدستور قائم رہے بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
(کتاب: حلیۃ الاولیاء ، مصنف: الامام الحافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانی رحمتہ اللہ)
حوالہ جات:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱)۔ سنن ابی داؤد:۲۷۶۵، والمعجم الکبیر للطبرانی:۳۱۴/۱۰، ونصب الرایۃ: ۱۳۰/۳، ومجمع الزوائد: ۲۴۰/۶، و کنزالعمال:۳۰۱۵۳۔
آج کل افریقن دو شیزگان نے میرے فیس بک کے ان بکس پر یلغار کی ہوئی ہے۔۔۔ روزانہ کا ایک میسیج اوسطاً آتا ہے۔۔۔جس میں کچھ ملتے جلتے پیغامات ہوتے ہیں۔مثلاًمیں نے آپ کا پروفائل دیکھا۔
میں بہت متاثر ہوئی۔اسی لئے میں آپ کو دوستی کا پیغام بھیج رہی ہوں۔یہ میرا ی میل ایڈریس ہے۔فوراً مجھ سے رابطہ کریں۔مجھے آپ سے بہت ضروری کام ہے وغیرہ۔میں یہ سوچوں کہ یا اللہ!
یہ کیا ماجرہ ہے۔۔۔اچانک میں ان افریقن دوشیزگان میں اتنا پاپولر کیسے ہو گیا۔۔۔ہوسکتا ہے انہوں نے میری تحریریں ترجمہ کر کے پڑھی ہوں۔۔اور ان کے اندر اچانک انقلابی تحریک نے جنم لیا ہو۔۔۔ لگتا ہے میں افریقہ میں ایسا ہی انقلاب برپا کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔۔جیسا کہ شیخ الاسلام طاہرالقادری نے اسلام آباد میں برپا کیا ہے۔
نپولین نے بھی کہا تھا کہ مجھے اچھی مائیں دو۔۔۔میں تمہیں عظیم قوم دوں گا۔
مجھے بھی شاید افریقہ کی اچھی مائیں مل جائیں۔۔۔اور میں انھیں ایک عظیم قوم بنا دوں۔ویسے بھی یہاں پاکستان میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔۔۔یہ قوم سدھرنے والی ہی نہیں۔۔دیکھو یہاں کی عورتوں کو۔۔۔انہیں کی ساس نندوں کی غیبت سے ہی فرصت نہیں کہ دستک کی تحریریں پڑھیں۔واقعی افریکن ایک عظیم قوم ہیں۔
میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ میں افریقن خواتین میں کتنا مقبول ہو رہا ہوں۔۔۔میرے دوست کے منہ سے ایسی آوازیں نکلیں جیسی کہ باتھ روم کے نل میں سے اس وقت نکلتی ہیں جب اس کا وائسر خراب ہو جاتا ہے۔۔۔(جن کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی ہو کسی پلمبر سے رجوع کریں )
میں نے انھیں اس بے تکے انداز میں ہنستے ہوئے دیکھا تو پوچھا۔
“خیریت ؟ آج تم نے پھر دوائی نہیں پی؟ پھر پاگل پنے کا دورہ پڑا ہے”
فرینڈ نے ہنستے ہنستے یکایک ایسے سنجیدہ ہوئے جیسے کسی نے سوئچ آف کر دیا ہو۔پھر بولے،“میں اس لئے ہنس رہا ہوں کہ جس قسم کے میسیج تمہیں پچھلے ایک ہفتے سے آرہے ہیں وہ مجھے پچھلے ایک سال سے آرہے ہیں ”
“کیا؟” میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
“تمہیں بھی؟ کیا یہ ساری افریقن سٹھیا گئی ہیں۔۔۔ تمہارے پروفائل میں تو ویسے بھی حکیموں کے نسخے بھرے ہوتے ہیں ”مولوی بولے

“جی جناب! مجھے بھی” پھر کچھ سوچ کے بولے “یار! مجھے تو ان میں سے بہت سی شکل سے ہی آدم خور لگتی ہیں۔۔یہ نہ ہو کہ کہیں ہم سے دوستی کر کے افریقہ بلوائیں۔۔۔اور پھر اپنے قبیلے کی دعوت کریں ”
مجھے جھرجھری آ گئی۔۔۔ میں نے کہا۔
” لعنت بھیجو۔۔۔ہم کون سے مرے جاتے ہیں ان سے دوستی کے لئے۔اور کون سے افریقہ جاتے ہیں۔۔۔ اپنا ملک اپنا ملک ہے۔۔۔یہاں مرنے کے اسباب کیا کم ہیں طالبان ہیں۔۔۔ٹارگٹ کلرز ہیں۔۔۔غیر ملکی دہشت گرد ہیں۔۔۔گینگ وار والے ہیں۔۔۔ اور کچھ بھی نہ ھوں تا نامعلوم افراد تو کہی گیئے ھی نھی، مرنا ہوا تو انہی کے ہاتھوں مریں گے۔۔۔نا کہ کسی افریقن حسینہ کے ہاتھوں۔۔۔۔۔یہیں انقلاب لائیں گے۔۔چاہے دیر سے لائیں۔۔۔لگاؤ نعرہ۔۔۔پاکستان ”
فرینڈز نے کہا
“زندہ باد”
بدقسمتی سے شعبہ صحافت میں ایسے حضرات کا عمل دخل بڑھ گیا ہے، جو صحافت کو بھی حماقت کا مترادف سمجھتے ہیں۔ ایسے مبینہ صحافی خبر اور اشتہار میں زیادہ فرق نہیں کرتے۔۔۔اشتہار کی طرح خبر کو بھی ناچ ناچ کر بیان کرنا چاہتےہیں۔  یہ حضرات خبر اور ڈکار کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں، یعنی دونوں کو روکا نہ جائے۔ خبر اور ڈکار ،جب اور جہاں آئے، مار دیا جائے۔
ایسے صحافی خبر بنانے، سنوارنے، اور نکھارنے پر نہیں، صرف اسے چلانے پر یقین رکھتےہیں۔ لہذا خبر میں غلطیاں تو بہت ہوتی ہیں، خبریت بالکل بھی نہیں ہوتی۔مجھے لگتا ہے، ایسے حضرات شعبہ صحافت میں آنے سے قبل مرغے لڑاتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ دماغ نہیں لڑاتے، چونچیں لڑاتےہیں، اور آخر کار خبر کو بھی مرغ کی طرح  ہلال کردیتےہیں۔ خبر کو اوڑھنا بچھونا ضرور سمجھتے ہیں، لیکن اوڑھنے کی جگہ اکثر اسے بچھا دیتےہیں۔
مرغے لڑانے والے صحافی ، جو خبر مل جائے اس پر شکر نہیں کرتے، جو نہ ملے اس کا شکوہ ضرور کرتےہیں۔  محاوروں کی ترتیب تک الٹ دی ہے؛ کہتے ہیں “جھاڑی میں چھپے دو مرغے ہاتھ آئے ایک مرغے سے بہتر ہیں۔”
دوسرے چینل کی خبر اور فوٹیج بھی یوں پکڑتے ہیں جیسے پڑوسی کی مرغی پکڑی جاتی ہے۔ (بعد میں اس کا حشر بھی پڑوسی کی مرغی والا ہی کرتے ہیں)
انہیں خبر پہلے چلانے کی جتنی فکر ہوتی ہے، خبر کی اہمیت کی اتنی نہیں ہوتی۔  تبھی تو مرغے کی طرح سینہ پھلا پھلا کر کہتے پھرتے ہیں، یہ خبر ہم نے سب سے پہلے دی، یہ فوٹیج سب سے پہلے دکھائی، انتخابات کا یہ نتیجہ  ابھی آیا بھی نہیں تھا کہ ہم نے دے دیا۔
اس دوڑ میں کسی سیاسی جماعت کے اتنے امیدوار جیت جاتے ہیں، جتنے اس نے کھڑے بھی نہیں کیے ہوتے۔
ایسے صحافی لفافہ صحافت پر نہیں، قیافہ صحافت پر یقین رکھتے ہیں۔
(نوٹ: لفافہ نہ لینے میں کوئی اخلاقی دشواری نہیں، لفافہ پھینک حضرات نیوز روم والوں پر شفقت ہی نہیں فرماتے۔تاہم جب معاملہ نیوز روم کے بجائے ٹاک شو میں پہنچے تو لفافہ لے کر قیافہ لگایا جاتا ہے۔۔ اورہاں  قیافہ اندازے لگانے کو کہتےہیں۔ )
خبر چلائے بغیر ان کا گزر نہیں، اور اندازہ لگائے بغیر گزارا نہیں۔ اس لیے خبر آنے پر خوش ہوتےہیں، خبر منفی ہو تو اور زیادہ خوش ہوتےہیں۔
کوئی (غلط ) خبر جلدی سے چلا کر دوسرے ٹی وی چینلز کی اسکرین یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی مرغا لڑانے والا حریف کو چت کرنے کے بعد دیکھتا ہے۔ گردن اکڑتی نہیں۔۔۔پھول جاتی ہے۔ سر پر کلغی ہوتی تو وہ بھی تن جاتی۔ اکثر تو فاتح مرغے کی طرح کڑکڑاتے بھی ہیں۔
”سارہ! بیٹا تیار ہو جاؤ، تمہاری خالہ لڑکے والوں کو لے کر آتی ہی ہوں گی۔ دیکھو کتنی دیر ہوچکی ہے، اوپر سے کھانے پینے کے انتظامات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔“ گذشتہ نا خوشگوار تجربوں سے اکتائی ہوئی سارہ کہتی ہے: "جی امی! ہوجاتی ہوں تیار۔ ان لوگوں نے کون سا مجھے دیکھتے ہی پسند کرلینا ہے، ہر بار کی طرح آئیں گے، اپنی تواضع کروائیں گے، اور پھر کوئی نہ کوئی خامی نکال کر چلے جائیں گے۔"  تفصیل سے پڑھئے
انسان اب میں میری ترغیب کے بغیر ہی ایسا ایسا مکروہ اور شیطانی فعل ہورہا کہ اگر میں شیطان نہ ہوتا تو انہی معززین کو شیطان سمجھتا۔ ابلیس اپنے کنٹری ہیڈ کواٹر میں اہم اجلاس کی صدارت کرنے والا تھا ۔۔۔ اسی کی کرسی ابھی تک خالی تھی جبکہ چیلے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے بے صبری سے اپنے خبیث باس کا انتطار کررہے تھے ۔۔۔ ایک چیلے نے دوسرے سے کہا گرو آج کل شدید تنہائی اور ڈپریشن کا شکار رہنے لگے اور اب تو ان کی ذہنی حالت بھی ایسی نہیں رہی کہ وہ کسی کو ورغلا یا بہکا سکیں۔۔۔ دوسرا چیلا بولا، مجھے تو لگتا ہے گرو کسی بولی ووڈ حسینہ کے دل ہی ہار بیٹھے ہیں ۔۔۔ تیسرا چیلا بولا، میرا دل کہتا ہے گرو عشق و محبت سے بھی بڑا کوئی روگ لگا بیٹھے ہیں ۔۔۔  تفصیل سے پڑھئے
آج 29مئی ہے۔ ایک ایسا دن جو ہمیشہ ہی اسلامی تاریخ میں روشن و تابندہ نظر آتا ہے۔ اس دن اُمت مسلمہ کے ایک عظیم سالار اور لشکر نے وہ خواب شرمندۂ تعبیر کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے بشارت سننے کے بعد ہر مسلمان دیکھا کرتا تھا اور امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں 32ھ ہی سے اسے شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے اسلامی لشکر کوششوں میں لگے تھے۔
جی ہاں آج 29 مئی ہے جس دن مسیحیوں کی مشرقی سلطنت ’مملکت بازنطین‘ کے پایہ تخت ’قسطنطینیہ‘ کو اسلامی لشکر نے فتح کیا جس کے ساتھ ہی مسیحیوں کے اقتدار کا ایک بازو کٹ گیا۔ مشرق سے مسیحیت کی شان و شوکت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا اور اسلام مسیحیوں کی مغربی سلطنت کے دروازے پر پہنچ گیا۔  تفصیل سے پڑھئے
ہر عورت چاہتی ہے کہ اس کا ہونے والا شوہر اسے زیادہ سے زیادہ وقت دے اور باہر کی مصروفیت کم کر کے اسے کمپنی دے۔ یوں تو ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ہونے والا شوہر اسمارٹ، پرکشش، دولتمند اور اس کی بات ماننے والا ہو لیکن حقیقی زندگی میں کچھ مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم پھر بھی خواتین چاہتی ہیں کہ انہیں آئیڈیل شوہر مل جائے۔ عام طور پر خواتین کس طرح کا شوہر چاہتی ہیں اس حوالے سے عالمی میٹریمونیل ویب سائٹ نے ایک دلچسپ سروے کیا جس کے نتائج دلچسپ اور حیرت انگیز ہیں۔
کام کاج اور باورچی خانے میں ہاتھ بٹانے والا: سروے کے مطابق 51.9 فیصد خواتین چاہتی ہیں کہ اس کا شوہر گھر کے کام کاج میں اس کا ہاتھ بٹانے والا ہو جبکہ 39.5 فیصد خواہش رکھتی ہیں کہ شوہر کام کاج کے ساتھ ساتھ کھانا پکانا بھی جانتا ہو تاکہ باورچی خانے کا بوجھ بھی بانٹ سکے۔ میرج بیورو کی کاؤنسلر ودیکا شریشتھا کا کہنا ہے کہ آج کی عورت آزاد خیال، اسمارٹ اور اپنے دل کی بات کہنے والی ہے جو کہ ماضی کی عورت سے بالکل مختلف ہے۔ اب خواتین چاہتی ہیں کہ اس کا شوہر زندگی کے ہر معاملے میں اس کا ساتھ دے تاکہ ایک خوشگوار زندگی گزاری جاسکے۔
ایچ آئی وی (ایڈز) ٹیسٹ: سروے میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس جدید دور میں خواتین چاہتی ہیں کہ اس کا ہونے والا شوہر طبی طور پر بھی مضبوط ہو اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہو جس کا ان کی زندگی پر اثر پڑے۔ اس لیے شادی سے قبل ایچ آئی وی یعنی ایڈز کا ٹیسٹ کا مطالبہ عام ہوگیا ہے کیوں کہ اگر کوئی مرد اس بیماری کا شکار ہوگا تو پوری زندگی اذیت ناک بن جاتی ہے۔
عورت کی جاب سے پریشان نہ ہو: سروے کاکہنا ہے کہ خواتین چاہتی ہیں کہ مرد اس بات کی ضمانت دے کہ اگر وہ جاب کرے اور گھر پر کمائی لائے تو وہ خود کو مالی طور پر غیر محفوظ نہ سمجھے گا اور اپنی خودداری کا لبیل لگا کر اسے جاب کرنے سے نہ روکے۔
جنسی تعلقات پر بات کرے: خواتین چاہتی ہیں کہ اس کا مستقبل مین بننے والا شوہر جنسی تعلقات میں کھلے ذہن کے ساتھ بات کرنے والا ہو تاکہ زندگی بھر رہنے والا ساتھ خوشگوار انداز میں گزرے۔
جہیز کے خلاف ہو: خواتین اب یہ مطالبہ کرنے لگیں ہیں کہ مرد کو جہیز کے خلاف سوچ رکھنے والا ہونا چاہئے۔ خواتین کی اکثریت چاہتی ہیں کہ معاشرتی اور رسم و رواج کے باوجود مردوں کو جہیز کے خلاف بولنا چاہئے۔
زیادہ وقت دینے والا: ہر عورت چاہتی ہے کہ اس کا ہونے والا شوہر اسے زیادہ سے زیادہ وقت دے اور باہر کی مصروفیت کم کر کے اسے کمپنی دے۔ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خواتین دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی بجائے گھر پو وقت گزارے۔
ساس کے ساتھ موازنہ نہ کرے:  شادی کے بعد عورت کو سب سے زیادہ نازک ترین ساس کے رشتے سے واسطہ پڑتا ہے اسی  لیے اب خواتین شادی سے قبل ہی ہونے والے شوہر سے یہ یقین دہانی چاہتی ہے کہ وہ اس کا موازنہ اپنی ماں سے نہ کرے اور ماں اور اسکی محبت کو الگ الگ رکھے۔ اچھے اور برے، لباس، خوراک اور دیگر معاملات میں اس کا موازنہ ساس سے نہ کرے۔
اولاد کے لیے اصرار نہ کرے:  سروے کے مطابق کچھ خواتین چاہتی ہیں کہ اس کا ہونے والا شوہر شادی کے فوری بعد اولاد کے لیے اصرار نہ کرے اور دونوں آپس کے مشورے سے اس کا فیصلہ کریں۔
کیرئیر چھوڑنے کی ضد نہ کرے: جدید دور میں خواتین بھی تعلیم کے میدان میں نمایاں کارنامے انجام دے رہی ہیں اس لیے وہ چاہتی ہیں کہ اس کا ہونےوالا شوہر اسکے کیرئیر کو ختم کرنے پر اصرار نہ کرے بلکہ اسے مکمل کرنے میں ساتھ دے
جب ڈرائیور حضرات کی توجہ لمحہ بھر کو بھی ان بل بورڈز پر مر تکز ہوتی ہے تو حادثے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اگر آپ سڑکوں پر سفر کرتے ہیں اور یقیناً کرتے ہونگے تو مجھے یقین ہے کہ آپ بھی روزانہ کی بنیاد پر بڑی بڑی آنکھوں والی ماڈلز کے لشکاروں سے محفوظ نہیں رہے ہونگے۔ ارے ارے، غلط نہ سمجھیں، میں تو پورے شہر کی شاہراؤں پر نصب بل بورڈز کی بات کررہی ہوں جن کی رونق اور کشش بڑھاتے روشن چہرے، قیمتی لباس، اشتہا انگیز کھانے، جدید موبائل فون کی تشہرِ ہر سو پھیلے ہوئے ہیں۔
جب خوابیدہ آنکھوں، خوبصورت سجی سنوری، دھیمے دھیمے رنگوں والی لان میں ملبوس ماڈلز قد آدم بورڈ پر نصب ہوتی ہیں تو یقین رکھئے آپ کو یہی گمان ہوگا کہ یہ آپ کو ہی دیکھ کر شرمائے جارہی ہیں اور جب یہ ذہن میں خیال آجائے تو پھر انسان تھوڑا شرماتا بھی ہے اور دل ہی دل میں خوشی کے احساسات بھی جنم لیتے ہیں، لیکن یہ احساسات اپنی حدود سے تجاوز کرجائیں، اِس سے پہلے برائے مہربانی ایک سیکنڈ سامنے سے آتی گاڑی بھی دیکھ لیجئے ورنہ آپ کا ایکسیڈینٹ بھی ہوسکتا ہے، اور خدانخواستہ اگر ایسا ہوجائے تو یہ ہرگز مت سمجھیے گا کہ جو خوبرو ماڈل آپ کو دیکھ کر شرما رہی تھی اب وہ آپ کی عیادت کے لیے بھی آئے گی۔
ارے شرمانے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ واحد شخص نہیں ہیں جن کی توجہ حاصل کرنے میں یہ ماڈلز کامیاب ہوئی ہیں، جناب روزانہ ہزاروں منچلے ان کی شوخ اداؤں، گھائل نگاہوں، دلربا مسکراہٹ کے سبب  لڑکھڑا کر بے ساختہ اپنی گاڑیوں کو بریک لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
پورے شہر کی سڑکوں پر لگے ہوئے جناتی بل بورڈز شہریوں کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں جہاں ایک طرف تو یہ تشہیر کا موثر ذریعہ حکومت کو منافع پہنچاتے ہیں وہیں ان بل بورڈز کی بھرمار نے سڑکوں پر سفر کرتے افراد کی توجہ اپنی طرف کھینچ کر حادثات میں اضافے کا گراف بھی اونچا کرسکتے ہیں کیونکہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے جب دوشیزائیں جگہ جگہ اپنے رنگ بکھیر رہی ہوں اور مرد حضرات اُن کو نہ دیکھیں، اور جب ایسا نہیں ہوگا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ توجہ بٹنے کے سبب حادثات کے خدشات بڑھ نہ جائیں۔
عالمی مروجہ تعریف کے مطابق ’’ادا شدہ معاوضے پر لکڑی کے بڑے حجم پر مشتمل وہ تختے جو علامتی طور پرمصروف شاہراؤں پر تشہیری یا آگاہی مہم کے دوران نصب کئے جاتے ہیں اُن کو بل بوڑد اور ہورڈنگ یا سائن بورڈز کہا جاتا ہے۔ تاہم ان کے لئے کچھ اصول و ضوابط ہیں جن سے فی الحال تو شہری انتظامیہ واقف نظرنہیں آتی، شاید یہی وجہ ہے کہ شہر میں اِس قدر بے ہنگم اور وافر تعداد میں بل بورڈز شہر پر اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہان پیسہ کمانے کے لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ سڑکوں پر بل بورڈز کی تعداد میں ہوتا چلا جارہا ہے۔ وہ کونسی جگہ ہے جہاں اِن بورڈز کا قبضہ نہیں ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر بُری چیز کو اپنانے کے لیے مغرب کی طرف دیکھتے ہیں مگر مجال ہے کہ اچھی چیز کو اپنانے کے لیے اپنا رُخ مغرب کی طرف کرلیں۔ گزشتہ دنوں یورپی شہر گرینوبل کے مئیر کی جانب سے ایک اہم فیصلہ آیا ہے جس کے مطابق سڑکوں پر پھیلے بل بورڈ کی جگہ درختوں کا لگانے کے فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ شاید وہاں پیسوں کی اہمیت سے زیادہ انسانی جان کی اہمیت ہے۔

اگر ہم دنیا میں ہونے والی کچھ تحقیقی شواہد کا جائزہ لیں تو سوئیڈن نیشنل روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ انسٹیوٹ کے ایک تحقیقی جرنل میں شائع ہونے والے تحقیقی مطالعے کے مطابق سڑکوں پر آویزاں ڈیجیٹل سائن بورڈز پر جب ڈرائیور کی نظر پڑتی ہے تو تقریباً 2 سیکنڈ کے لئے اُس کا دھیان سڑک کے بجائے اشتہارات پر چلا جاتا ہے جس کے نتیجےمیں حادثے کا خدشہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ امریکی ریاست ورجینیا میں 2006 میں  نیشنل ہائی وے  ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے تحت کی جانے والی تحقیق کے نتائج بھی یہ بتاتے ہیں کہ اگر ڈرائیور کی توجہ 2 سیکنڈز سڑک سے محو ہوجائے تو حادثے کےامکانات بڑھ جاتے ہیں۔
درج بالا تحقیقی شواہد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آنکھیں کھول کر باشعور انداز سے جائزہ لیا جائے تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح غیر قانونی اور بے ہنگم انداز میں لگے بل بورڈز کس طرح حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ شہری انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ بل بورڈز اور سائن بورڈز کے قوانین پر عمل درآمد کیلئے قائم متعلقہ اداروں کو ان اصول و ضوابط پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہوگا، بل بورڈز نصب کرنے کے لئے باقاعدہ کوئی فاصلہ مقرر ہونا چاہئیے اور اس کے ساتھ  رنگ اور  سائز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، لہذا ایسے قوانین ہوں جو ان تمام نزاکتوں کا خیال رکھ سکیں اور انسانی نفسیات کے پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اِس بات کا اندازہ لگاسکیں کہ کون سے عوامل کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں اور کس  انداز میں  بل بورڈز نصب کئے جائیں کہ دوران ڈرائیونگ عوام الناس کی  توجہ کم از کم بھٹک سکے۔
فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے مشہور زمانہ Internet.org کو پاکستان میں بھی متعارف کرا دیا۔
جمعرات کو مارک زکربرگ نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ اب پاکستان میں انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم افراد کچھ مخصوص معلوماتی ویب سائیٹس تک مفت رسائی حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیلی نور موبائل فون سروس کے صارفین ان ویب سائٹس تک مفت رسائی پائیں گے۔
زکربرگ کا کہنا تھا کہ Internet.org سے پہلے اٹھارہ کروڑ سے زائد پاکستانی شہریوں میں سے صرف 15 فیصد افراد کو ہی انٹرنیٹ تک رسائی حاصل تھی مگر اب لوگ صحت، تعلیم، روزگار ، مقامی خبریں اور کمیونیکشن سمیت دیگر اہم خدمات مفت حاصل کر سکیں گے۔
فیس بک کے بانی نے کہا کہ اب تک دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد افراد Internet.org سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور گیارہ ممالک میں اس سروس کو متعارف کرایا جاچکا ہے۔
پاکستان میں ٹیلی نور کے صارفین فیس بک کی اس سروس کی بدولت 17 ویب سائٹس پر مفت براﺅز کرسکیں گے۔ ان میں فیس بک، ٹیلی نور موبائل پورٹل، بی بی سی نیوز، بنگ، ای ایس پی این کرک انفو، فیکٹ فار لائف، گرل ایفکیٹ، بے بی سینٹر اینڈ ماما، ایکو ویدر، علم کی دنیا، ملیریا نو مور، مستقبل، او ایل ایکس، ٹیلی نور نیوز، اردو پوائنٹ کوکنگ، وکی پیڈیا اور بی بی سی اردو شامل ہیں۔
Internet.org is now live in Pakistan for people on the Telenor Pakistan network!
Before today, only ~15% of Pakistan's 180+ million people had access to the internet. Now, people will be able to access valuable services for free, including resources for health, jobs, local news and communication.
More than 1 billion people around the world now have the ability to use free basic services through Internet.org, and we've seen these bring a lot of value to people in the 11 countries where we've launched.
Here's a photo of Javed, a rickshaw driver, and Ashfaq, a construction worker, who use their phones to help do their jobs.




اگر آپ جاننا چاہیں کہ گھر میں فری لانس رہ کر آپ کے سب سے زیادہ بہتر کیا ہوسکتا ہے تو ای لانس او ڈیسک نامی ایک ویب سائٹ جو دنیا بھر سے اپنے کاموں کے لیے فرنس لانس افراد کو بھرتی کرتی ہے، نے دس شعبوں کی ایک فہرست بنائی ہے جس میں کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
وائس اوور وائس اوور آرٹسٹ عام طور پر ویڈیوز اور اشتہارات وغیرہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس کے لیے انہیں کسی مرکزی اسٹوڈیو کا بھی رخ کرنا پڑتا ہے مگر اب یہ کام کے اندر ہوم اسٹوڈیو میں بھی کیا جاسکتا ہے اور ساونڈ فائلیں ای میل یا انٹرنیٹ کے ذریعے ارسال کی جاسکتی ہیں۔
انفوگرافک ڈیزائن پیچیدہ معلومات کو شیئرایبل طریقے سے پیش کرنے کی صلاحیت وائس اوور کے بعد فری لانس افراد کو بہت زیادہ کامیابی دلانے کا سبب بن سکتی ہے یعنی کسی بھی موضوع پر جامع گراف تیار کرنا انہیں راتوں رات کامیابی دلاسکتا ہے، صرف برطانیہ میں ہی اس کام کے لیے فی گھنٹہ 44 پاﺅنڈز دیئے جاتے ہیں۔
مالیاتی تحریریں فنانشل معاملات پر جامع تجزیوں یا مارکیٹ کے اشاریوں پر لکھا جاتا ہے، یہ کام کرنے والے کمپنیوں کے لیے بلاگ بھی لکھ کر پوسٹ کرسکتے ہیں یہاں تک کہ ان کی سالانہ رپورٹس کا کام بھی ان کی آمدنی بڑھاتا ہے۔
کنٹریکٹ ڈرافٹنگ کنٹریکٹ ڈرافٹنگ ایک ایسا کام ہے جس کے لیے بہت زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے کیونکہ کسی بھی کاروباری معاہدے کو قانونی طور پر موزوں بنانے کے لیے اس صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ریکروٹنگ متعدد کمپنیوں نے اب نئے عملے کی بھرتی کا پیچیدہ ٹاسک فری لانس افراد کو منتقل کردیا ہے، جو لوگوں کو متوجہ، منتخب اور بھرتی کرنے کا تمام کام کرتے ہیں۔
مالیاتی پیشگوئی کاروبار ایسے فری لانسرز کو بہت زیادہ بھرتی کرتی ہیں جو کمپنی کے مالیاتی ٹرن اوور کی پیشگوئی مقررہ وقت کے اندر کرسکے، اس کام کے لیے کسی کمپنی کے اندرونی اکاونٹنگ اور سیلز ڈیٹا کا جائز ہ لینا پڑتا ہے۔
الیکٹرونک انجنئیرنگ الیکٹرونک پروگرامرز نئے سافٹ ویئرز اور آپ کے فونز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس کے آپریٹنگ سسٹم کے لے آوٹ پروگرام کرسکتے ہیں۔
مترجم ٹرانسلیشن یا کسی بھی ایک سے دوسری زبان کی تحریروں کے ترجمے کی صلاحیت کی اس وقت کاروباری کمپنیوں کے اندر مانگ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
سی وی رائٹنگ دنیا بھر میں ملازمت کی تلاش لوگ کرتے ہی ہیں اور اس کے لیے اپنی اچھی سی وی کی تیاری لازمی ہوتی ہے اور فری لانسرز اس کام کے ذریعے اچھی آمدنی کماسکتے ہیں۔
پے پر کلک یہ ایک انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ ماڈل ہے جسے ویب سائٹ کی براہ راست ٹریفک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، فری لانسر ایڈورٹائزر بن کر پیسہ بناسکتے ہیں جس کے لیے انہیں مختلف ویب سائٹس کو پے پر کلک ٹریفک فراہم کرنا ہوگا۔

گجرنوالہ سے کچھ کلومیٹر دور ایک جنکشن ’موڑ ایمان آباد‘جی ٹی روڈ کو برصغیر کی ایک تاریخ اور قدیم لوک کہانیوں کو خاموشی سے اپنے دامن میں سمو رکھنےوالے ایک گاؤں سے ملاتا ہے۔ گاؤں ایمان آباد میں ایک گرودوارا، کچھ مندر اورایک ٹوٹی پھوٹی مسجد پرامن طور پر ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ سیاح اور مصنف سلمان راشد کے خیال میں لودھی دور میں بننے والی یہ مسجد پاکستان کی سب سے پرانی مسجدوں میں سے ایک شمار ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، اس چھوٹے سے گاؤں میں موجود روڑی صاحب گردوارا، تین شیو مندر اور ایک ہندو پانی ٹینک مغلیہ دور سے بھی پرانے ہیں۔
یہاں سے کچھ کلومیٹر دور مشرق کی جانب بڑھیں تو کوٹلی مقبرہ گاؤں میں چار میناروں پر مشتمل ایک مقبرہ آپ کو اپنے سحر میں جگڑ لے گا۔ کوٹلی مقبرہ کی جانب بڑھتے ہوئے کھیتوں میں سے ابھرتے اس مقبرے کو نظر انداز کیا جانا مشکل ہے۔ اس کے مینار سترہویں صدی کی مشہور عمارتوں مثلاً جہانگیری مقبرہ، دائی آنگا مسجد اور لاہور کی وزیر خان مسجدسے مماثلت رکھتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل کا 70٪ حصہ " انڈین میڈیا اور یورپین میڈیا " کے زیر اثر پایا جاتا ہے ۔ یونیورسٹیوں اور کالجز کے طالب علموں میں Teenager زیادہ تر ایسی Science Fiction فلموں کو بہت پسند کرتے ہیں ۔
جس میں ان کو لگتا ہے کہ وہ Knowledge حاصل کرتے ہیں۔
اسی پر 2014 میں ہالی ووڈ میں ایک فلم "Lucy" بنائی گئی جس نے فلمی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ۔ اور سائنس فکشن کے نئے باب کا آغاز ہوا ۔ اس بات سے قطع نظر کہ فلم بے حیائی کو پھیلانے کا ایک شیطانی چرخہ ہے ۔ لیکن اس فلم نے
بڑے بڑے مذہبی پنڈتوں ، مبلغین ، اساتذہ اور سائنس کے ماہرین کو ہلا کر رکھ دیا۔
اور دھریت ، الحاد اور فلسفے میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ۔
اگر میں کہوں کہ صرف فلسفہ ، الحاد دھریت اور سائنس کا مقصد اس فلم میں سمو دیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا ۔۔۔۔ لیکن اگر کوئی مسلمان جو سائنس، الحاد ، دھریت اور فلسفہ کو پڑھتا ہے ، اس پر تحقیق کر ے تو معلوم ہو گا کہ یہ فلم خاص طور پر فلسفیوں ، سائنسدانوں کو نفسیاتی طور پر Satisfaction اطمعنان یا اعتماد دینا تھا کہ وہ جن عقائد پر ہیں وہ بالکل درست ہے جبکہ اس کا حقیقی معنی میں دور دور تک حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
جیسے ۔۔۔ اس مووی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان کو " ڈر ، خوف ، مایوسی ، درد وغیرہ " جیسے جذبات 'انسان ' بناتے ہیں ۔
لیکن ایک synthetic CPH4 فارمولا پر مبنی ایک " میڈیسن " کھاتے ہیں جب وہ انسانی خون میں سراعت کر جاتی ہے اور انسانی خون اس کی سراعت کو برداشت کر لیتا ہے تو " انسانی دماغ Human Brainموجودہ طاقت کے تناسب سے زیادہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے ۔
مثال کے طور پر اگر ہمارا دماغ اس وقت 15٪ فیصد کام کر رہا ہے ۔ تو اس میڈیسن کے استعمال سے اس کی طاقت کو 100٪ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے استعمال کرتے ہی انسان کے جسم میں بے پناہ لاجواب اور نا قابل تسخیر تبدیلیاں رو نما ہو جاتی ہیں ۔
(1)جیسے انسان اپنے Neuron کے کام کرنے کی طاقت کو 100٪ بڑھا دیتا ہے۔
(2) انسان اپنا Metabolism خود کنٹرول کر سکتا ہے ۔
یعنی دوسرے الفاظ میں انسان اپنے جسم میں ہونے والی تمام تر کیمیائی تبدیلیوں پر مکمل طور پر مکمل اختیار حاصل کر لیتا ہے ۔
جس وجہ سے اسے انسانی جذبات اور احساسات پر برداشت کا مکمل کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے ۔
(1) جیسے کسی بھی زخم کی وجہ سے درد ہونا ،
(2) موت کے ڈر سے خوف کا ہونا ۔
(3) ناکامی نہ ہونا ۔ یعنی ناکامی کا ختم ہو جانا ۔
(4) ان چاروں احساسات کی وجہ سے "مایوسی " کا ہونا ۔۔۔۔۔۔
لیکن حقیقت میں ایسا بالکل بھی ممکن نہیں ۔
اگر آپ کسی بھی ملحدسے پوچھیں کہ " میں آپ کو زخم دیتا ہوں "
تو اس میں تین چیزیں فورا پیدا ہو جائیں گی ۔۔۔۔
1 : زخم ہوا تو " درد " ہو گا ۔ 2: درد ہوا تو " تکلیف " میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔
3: تکلیف میں اضافہ ہوا تو " موت " واقعہ " ہو سکتی ہے ۔
آپ کے صرف ایک جملہ کہنے سے ملحد کا یہ حال ہو جائے گا کہ اس کے اندر
مایوسی ، خوف اور موت کا ڈر پیدا ہو جائے گا ۔
جبکہ مسلمانوں نے آج تک ملحدین سے ان کی " الحادی " فکر پر صرف اور صرف سائنس پر طعن کیا کہ بھائی اگر سائنس اتنی ترقی جو کر چکی ہے تو آپ ہمیں موت سے نجات کیوں نہیں دلوا دیتے ۔۔۔۔
دوسری بات :
اس فلم کے کردار میں " پروفیسر سینومن " نے یہ بات کی کہ انسان میں
billions of neuron ہوتے ہیں ۔ اگر ان کو Unlock کر دیا جائے تو انسان کے لاشعور
کو بیدار کیا جا سکتا ہے ۔
تیسری بات کہ اس universe میں Information کا ایک ایسا نظام موجود ہے جس
تک انسان کی مکمل رسائی یا پہنچ ممکن نہیں ۔
اب یہاں پر بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنس کی پیش کی جانے والی یہ فلمائی تھیوری کس چیز کی عکاس ہے ۔
کوئی بھی چیز جب ورک کرتی ہے تو اسے ورکنگ انفارمیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
human Cell کی ساخت پر کی جانے والی تحقیق اور قائم کیے جانے والے مفروضے بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ Jean میں ریاضیاتی مفروضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انفارمیشن کا ایک مربوط نظام موجود ہے ۔
اگر اس مفروضے کو درست سمجھا جائے تو کیا ہمیں یہ لوگ یہ بتا سکتے ہیں ۔
کہ پہلے سیل میں جو تبدیلیاں ہوئیں کیا ہو Working Information کے بغیر ہوئیں؟
اگر ایسا نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ Cell میں تھنکنگ پاور موجود تھی ؟
یعنی Cell جب ازخود دو میں تقسیم ہو رہا تھا تو وہ کسی انفارمیشن کے تحت کام کر رہا تھا ۔ !!!!
تو یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ " پہلا سیل ہو یا لاکھوں سیل پر مشتمل انسان"
اس تمام کو ورکنگ انفارمیشن کی ضرورت ہوتی ہے ۔
تو اس سوال کا جواب بھی دینا سائنسدانوں کے لیے مشکل ہو گا کہ اس سیل کو انفارمیشن دینے والا کون تھا ؟
Charles Darwin کی تھیوری کے متعلق یہ پروفیسر یہ بات کرتا ہے کہ "اربوں سال"
گزر جانے کے باوجود اس نے سیل کی ساخت پر بغیر Microscope کے پیش کیا اور اس کو غلط سمجھا جاتا رہا ۔۔۔۔
یعنی اربوں سال بعد انسان کی حقیقت کو بغیر ثبوت کے محض مفروضوں کے تحت پیش کر دیا گیا اور مان بھی لیا گیا ؟ کیا سائنس کا معیار یہی ہے ۔ اگر ہاں تو ہم اس کو کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں ؟
اسی طرح " پروفیسر سنومن " کے کردار نے ایک لیکچر میں یہ بات کی کہ اگر انسان 100٪ دماغی صلاحیتوں کو استعمال میں لے آئے ۔ تو انسان اپنے پیدائشی عمل کو نہ صرف محسوس کر سکتا ہے بلکہ ان تمام عوامل کو جو اس کے لاشعور سے اس کے شعور تک لے کر آئے بیان کر سکتا ہے ۔
مثلا ۔
(1) بچے کا اپنی ماں کا دودھ پینا ۔
(2) بچے کا اپنے Blood Circulation کو Vanes محسوس کرنا ۔
(3) اپنی ماں کا پیار سے بوسا لینا ۔
(4) اپنے Mass کے نیچے سے ہڈیوں کا کھسکنا وغیرہ ۔۔۔۔
اب اگر ہم کسی دھریئے سے اس سوال کا جواب مانگیں کہ ان مفروضوں کو طے کرتے یا تکمیل کے مراحل تک لے جاتے انسان کو کتنا وقت میسر ہو گا تو شاید یہ لوگ اپنی بیس لیس عقائد و نظریات کے اثبات کے لیے مزید لاکھوں سالوں کا بہانہ لگا لیں ۔
لیکن حقیقت میں نہ ہی انسان اپنی Vanesمیں Blood Circulation کو کنٹرول کر سکتا ہے !
نہ ہی انسان اپنے لاشعور کو ان لاک کر کے اپنے ماں کے دودھ پلانے کے عمل کو موجودہ دور میں محسوس کر سکتا ہے ۔۔۔
نہ ہی انسان Under the human Massاپنی ہڈیوں کو بڑھتے اور مضبوط ہوتے محسوس کر سکتا ہے ۔
یا وہ ہزاروں بوسے وہ کس لمحہ ، کس وقت ماں نے لیے انسان کے دماغ میں یہ بھی نہیں سما سکتا نہ اس کا علم آ سکتا ؟
پھر کس طرح ملحدین صرف عقل ہی کو بنیاد بنائے بیٹھے ہیں ۔
ایسے علوم جن کا بس انسانی دماغ تک رسائی قطعی ممکن نہیں ۔
ان علوم کا ذکر اسی کو ہو سکتا ہے جس نے انسان کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے پیدا کیا ۔ جس تک رسائی تا قیامت ممکن نہیں ۔۔۔
اس مووی میں Time and space کا انکار بھی کیا گیا ہے ۔ اور Gravity کو بھی محسوس کروایا گیا ہے ۔ اور ہر قسم کی waves پر انسانی مستقل کنٹرول کو ثابت کیا گیا ہے اور یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کو دیکھا بھی جا سکتا ہے ۔ جیسے کہ موبائل سگنل ، ریڈیو ویوز وغیرہ ۔
جس میں معلومات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہوتا ہے ۔۔۔۔
میں سائنسدانوں سے پوچھتا ہوں ۔۔
وہ کونسی ایسی طاقت ہے جس نے آج کروڑوں انسانوں کی باتوں کو وہ موبائل کے بغیر کرتے ہیں سنا ، دیکھا ۔۔۔ کیا ایسی جدید ٹیکنالوجی کا خواب بھی انسان نے دیکھ رکھا ہے کہ اربوں انسانوں کی آواز ایک تنھا وجود سمجھ سکے ۔۔۔
جبکہ نہ ملحدین کے پاس اس کا جواب ہے نہ ہی سائنس کے پاس ۔۔۔
نتیجتا ہم یہ کہہ سکتے ہیں ۔
کہ ملحد سائنس ، فلسفہ کی بنیاد پر خدا کے احکامات کو مٹا کر خود خدا بننے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ جنت تک عدم رسائی کے خوف نے اس کو دنیا میں جنت بنانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ معاذ اللہ ۔۔۔ وہ اختیارات جو صرف اللہ کے علم میں ہیں اور قدرت میں ۔ ان کو حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔۔
یہی وجہ ہے کہ حیرت نے ان کا دماغی توازن خراب کر دیا ہے اور یہ عقائد سے بھٹک کر لایعنی اور لا ادری کی دنیا میں چلے گئے ہیں ۔۔۔۔
Lucy کا کردار انسان کے دل سے وہ تمام خدشات مٹانے کے لیے تشکیل دیا گیا۔
لیکن افسوس سد افسوس کے وہ ناکام رہے
ایرانیوں میں تقریباً 22 فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں اور دارالحکومت تہران میں اس کی شرح اور بھی زیادہ ہے!
ایران کے کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کے نائب وزیر محمود گلریزی کے مطابق ایران میں تقریباً 300 انٹرنیٹ متعہ ڈیٹنگ ویب سائٹس موجود ہیں ! غیر شادی شدہ لڑکیوں کے والدین آئے دن اچانک بیٹی کے حاملہ ھونے کی سرپراز خبر سے تنگ!
متعہ ڈیٹنگ ویب سائٹوں کو لے کر خدشہ ہے کہ ایسی ویب سائٹیں شادی سے پہلے جنسی تعلقات رکھنے کو فروغ دیتی ہیں، دائمی شادی کی زمہ داریوں سے بچنے کے لیے لوگ عارضی شادیاں یعنی متعہ کرنے کو ترجع دیتے ہیں، جسکے کے نتیجے میں لاوارث حرامی بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ھو رہا ھے۔
متعہ کے تحت ایک شادی 30 منٹ سے لے کر 99 سال کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے سرکاری کاغذات کی بھی ضرورت نہیں ہے اور بس ایک مذہبی شیعہ عالم کی موجودگی کافی ہے۔
شیعہ عالم فحاشی کے جرم میں نوجوان جوڑوں کو ایرانی پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچاؤ کے لیے صیغہ متعہ کا سرٹیفیکیٹ مہنگے داموں فروخت کرتے ھیں۔
نیوز کا لنک: www.bbc.co.uk/news/world-middle-east-32833363

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
سات جون 1981 میں بغداد کے جنوب میں موجود فرانس کے تعاون سے بننے والے عراقی نیوکلئیر ری ایکٹر سائٹ "تموز 1" پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پاکستان کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اسرائیل کے اگلے ایڈونچر کا نشانہ پاکستان ہی ہو گا۔ کہوٹہ پر حملے کا منصوبہ عراقی ری ایکٹر پر حملے کے منصوبے کا ہی ایک حصہ تھا اور پلان کے مطابق اگر عراقی ری ایکٹر پر حملہ کامیاب رہتا تو اسرائیل پاکستانی ری ایکٹر پر بھی حملہ کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھاتا۔ عراقی تنصبات پر ہونے والا حملہ کامیاب رہا تو اسرائیل نے منصوبے کو حتمی شکل دینی شروع کر دی۔ حملے کے لیے اسرائیل کے پاس دو آپشنز تھے۔ پہلا یہ کہ اسرائیلی طیارے انڈیا میں آتے اور وہاں سے فیول لینے کے بعد اڑ کر پاکستان پر حملہ کرتے۔ دوسرا آپشن یہ تھا کہ اسرائیلی طیاروں کے ساتھ ہوا میں ہی ایندھن بھرنے والا طیارہ ساتھ آتا اور جہاں ایندھن ختم ہوتا وہاں اسرائیلی طیاروں کو ایندھن بھر دیتا۔ پلان کے مطابق حملے کے وقت اسرائیل کے اواکس طیارے کو پاکستانی کے ریڈار جام کرنا تھے تاکہ پاکستانی ائیرفورس ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتی۔
اس دوران انڈیا نے اپنی طرف سے اسرائیل کو بہت منانے کی کوشش کی اسرائیل پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرے لیکن اسرائیل کا اصرار تھا کہ ان کے طیارے پہلے انڈیا کے اڈے پر اتریں گے اور فیول لینے کے بعد حملہ کریں گے جبکہ انڈیا اس پر تیار نہیں تھا کیونکہ اس طرح انڈیا اس حملے میں حصے دار بن جاتا اور پاکستان کے ساتھ جنگ شروع ہو سکتی تھی۔
آسٹریلین انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملے کا منصوبہ بھارت کی وجہ سے 1982 میں مکمل نہ ہو سکا کیونکہ بھارت یہ تو ضرور چاہتا تھا کہ کہوٹہ تباہ کر دیا جائے لیکن وہ اس حملے کی ذمہ داری اور اس کے بعد پاکستان کے جوابی حملے کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ جبکہ اسرائیل چاہتا تھا کہ اس حملے کا الزام اسرائیل اور انڈیا مل کر اٹھائیں۔ دوسری جانب امریلی صدر رونالڈ ریگن کی حکومت بھی ایسے کسی حملے کی مخالف تھی۔ کیونکہ تب پاکستان افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف لڑ رہا تھا اس دوران اگر پاکستان پر اسرائیلی حملہ ہو جاتا تو یقیناً پاکستان روس کو چھوڑ کر انڈیا اور اسرائیل سے الجھ پڑتا جس سے افغانستان میں روس کے قدم جم جاتے۔
اسرائیلی حملے کے منصوبے پر آخری مہر پاکستان کی حکومت نے تب لگا دی جب پاکستانی میراج طیاروں نے اسرائیل کی صحرائے نجف میں موجود دیمونہ نیوکلئیر تنصیبات تک پہنچ جانے کی ایک کامیاب کوشش کرتے ہوئے اسرائیل کو ایک واضح پیغام دیا جو کہ سفارتی ذرائع سے بھی اسرائیلی حکومت تک پہنچا دیا گیا کہ اگر کہوٹہ پر حملہ ہوا تو پاکستان اسرائیل کی دیمونہ ایٹمی تنصیبات کو مٹی کا ڈھیر بنا دے گا۔
لیکن پاکستان کوئی چانس نہیں لے سکتا تھا اس لیے 1981 میں عراقی ایٹمی ری ایکٹر پر حملے کے بعد پاکستان کے صدر ضیا الحق نے پاکستان ائیرفورس کے ہیڈکوارٹرز کو اسرائیلی حملے کو ذہن میں رکھتے ہوئے پلانز بنانے کی ہدائت کی۔ جس کے بعد پاکستان کے ائیر چیف نے ائیر ٹاسکنگ آرڈرز جاری کرتے ہوئے ائیرڈیفنس چیف کو کہوٹہ کی حفاظت کے لیے پلانز بنانے کا حکم جاری کیا اور ساتھ ہی اسرائیلی دیمونہ ری ایکٹر پر حملے کا پلان بنانے کا بھی حکم دیا۔ جس کے بعد ائیر ہیڈکوارٹرز چکلالہ اسلام آباد میں ایک خاص آپریشنز روم بنا دیا گیا جس میں ائیرڈیفنس کی ساری صورتحال کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔ 10 جولائی 1982 کو پاکستان ائیرفورس نے اسرائیل کی دیمونہ ایٹمی تنصیبات پر میراج طیاروں کی مدد سے حملے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور 1983 میں ایف 16 طیاروں کی آمد کے بعد انہیں بھی اس اسپیشل اسٹرائیک فورس میں شامل کر لیا گیا۔
اس سارے پس منظر میں 13 مئی 1998 کو انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو بہت سخت خدشہ تھا کہ اسرائیل اور انڈیا اپنے سابقہ پلان کے تحت پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان ائیرفورس انتہائی زیادہ الرٹ حالت میں تھی۔ سفارتی سطح پر ٹینشن اس قدر زیادہ تھی کہ بلوچستان میں راس کوہ ٹیسٹ سائٹ پر اڑتے ہوئے ایک پاکستانی ایف 16 طیارے کو گہرے بادلوں کی وجہ سے زمینی دستوں نے اسرائیلی طیارہ سمجھ لیا اور اس سے پہلے کہ اس چیز کو پاکستان ائیرفورس کنفرم کرتی یہ خبر امریکہ میں پاکستانی سفیر تک پہنچ چکی تھی جس نے خفیہ طور پر اسرائیلی سفارت خانے کو انتہائی سخت پیغام بھیجا جس پر امریکہ میں اسرائیلی سفیر کو پبلک میں وضاحت کرنا پڑی کہ ہمارا پاکستان پر حملے کا کوئی پلان نہیں ہے۔
اسی دن اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر احمد کمال نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی خواہش رکھتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان کا جواب انتہائی سخت اور عالمی امن کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو گا۔
اس کے بعد جیسے ہی پاکستان نے اپنے جوابی ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا تو پاکستان ائیرفورس کو چاغی کے ساتھ ساتھ کہوٹہ خوشاب فتح جنگ نیلور چشمہ اور کراچی کی ایٹمی تنصیبات کی فضائی نگرانی کی بھی اضافی ذمہ داری دے دی گئی۔
آپریشن بیدار 98:
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے پہلے پاکستانی ہوائی حدود کی مسلسل نگرانی کو آپریشن بیدار کا نام دیا گیا۔ جس میں چاروں جانب نگرانی کے لیے چار سیکٹرز تشکیل دئیے گئے جنہیں اسلام آباد پشاور سرگودھا کوئٹہ اور کراچی سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
نمبر 6 سکواڈرن جو کہ سی 130 طیاروں سے لیس تھا جس کا کام سامان پہنچانا تھا اس نے اس مشن کے دوران 71 مختلف فلائٹس میں 12،66،615 پاؤنڈ سامان چاغی پہنچایا۔
نمبر 7 ٹیکٹیکل اٹیک سکواڈرن جو کہ میراج طیاروں سے لیس تھا اسے مسرور ائیر بیس کراچی سے شہباز ائیر بیس جیکب آباد بلوچستان منتقل کر دیا گیا تاکہ وہ چاغی کے ایریا میں چوبیس گھنٹے ائیر ڈیفنس ڈیوٹی دے سکے۔
نمبر 9 ملٹی رول سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے سرگودھا سے ہٹا کر سمنگلی ائیر بیس کوئٹہ بھیج دیا گیا تاکہ بلوچستان کے ایریا کو کوور کیا جا سکے اور رات کو ان علاقوں میں پہرہ دیا جا سکے۔
نمبر 11 سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے 24 مئی کو سرگودھا سے ہٹا کر جیکب آباد بلوچستان بھیج دیا گیا۔
نمبر 14 سکواڈرن کے ایف 7 طیاروں کو چکلالہ ائیر بیس بھیج کر کہوٹہ کے علاقے کی حفاظت کا مشن دیا گیا۔
نمبر 17 سکواڈرن کے ایف 6 طیاروں کو پاکستان کے بارڈرز کے ساتھ ساتھ ہوائی پہرے داری اور گشت لگانے کی ذمہ داری دی گئی۔
اسی کے ساتھ پاکستان ائیرفورس کے پاس موجود تمام ریڈار یونٹس کو اس طرح پھیلایا گیا کہ ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی دھماکوں کی ٹیسٹ سائٹ کے آس پاس ایک مکمل گھیرا بن گیا۔
اس سارے مشن کے دوران دالبندین ائیر پورٹ نے بہت شہرت حاصل کی جو کہ چاغی سائٹ سے صرف 30 کلو میٹر دور تھا اور تمام سامان اسی چھوٹے سے ائیرپورٹ پر اتارا جاتا تھا
پاکستان کا ایٹم بم مختلف حصوں کی شکل میں دو سی 130 طیاروں کے ذریعے دالبندین پہنچا تھا۔ ان سی 130 طیاروں کو پاکستانی حدود کے اندر بھی پاکستان کے ایف 16 طیاروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا جو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائیلوں سے لیس تھے جبکہ اس دوران پاکستان انڈیا بارڈر کے ساتھ ساتھ ایف 7 طیارے میزائیلوں سے لیس چوبیس گھنٹے گشت لگاتے رہے تھے تاکہ کوئی بھی بیرونی طیارہ ہماری حدود میں داخل نہ ہونے پائے۔
یہ مشن اس قدر سیکرٹ تھا کہ یہ تک سوچا گیا کہ اگر ایٹم بم لے جانے والا طیارہ اغوا ہو گیا تو کیا ہو گا۔ جس پر ایف 16 کے پائلٹوں کو ایک خفیہ آرڈر جاری کیا گیا کہ اگر ایٹم بم والا سی 130 ہائی جیک ہو جائے یا پاکستانی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو بنا کچھ سوچے اسے ہوا میں ہی تباہ کر دیں۔ اور اس دوران ایف 16 طیاروں کے ریڈیو آف کروا دئیے گئے تاکہ مشن کے دوران انہیں کوئی بھی کسی بھی قسم کا حکم نہ دے سکے۔ پائلٹوں کو یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ ان کے آرڈرز فائنل ہیں۔ اگر مشن کے دوران انہیں ائیر چیف بھی آرڈرز بدلنے کا حکم دے تو اسے انکار کر دیں۔
جب 30 مئی 1998 کو پاکستان کے چھٹے ایٹمی دھماکے سے زمین کانپی تو آپریشن بیدار 98 بھی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیئے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اہم کردار ادا کیا جہاں ایک طرف انہوں نے سارا سازوسامان سائیٹ تک پہنچایا وہیں سرحدوں کی نگرانی میں بھی ہمہ وقت ،صروف رہے۔
ایسے تمام لوگوں کو آج مل کر سلام کرتے ہیں جن کی بدولت آج ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔۔۔
ہندوستان کو اگر اِس وقت پاکستان پر حملے سے کسی چیز نے باز رکھا ہوا ہے وہ کچھ اور نہیں صرف پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہیں۔ پچھلے دنوں برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ میں ایک خبرعالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی جس میں داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک سال بعد پاکستان سے ایٹمی ہتھیار خرید لے گی‘‘۔ اس سے پہلے کہ میں اس خبر کا تجزیہ آپکے سامنے پیش کروں میں بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر کا وہ بیان بھی آپکے سامنے رکھنا چاہوں گا جس میں وہ کہتے ہیں کہ اب پاکستان کا مقابلہ پاکستان میں دہشتگرد بھیج کر کیا جائے گا۔ داعش کا پاکستان سے ایٹمی ہتھیار خریدنے کی بات کرنا اور عالمی میڈیا پر اسے بھرپور کوریج ملنا کیا ظاہر کرتا ہے؟    تفصیل سے پڑھئے
11 مئی 1998ء کی سہ پہر، ساری دنیا اس وقت حیران رہ گئی جب اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تین نیوکلیائی ٹیسٹ کرنے کا اعلان کیا۔ مزید حیرانی تب ہوئی جب اگلے دن دو اور ٹیسٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جوابی پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ گوہر ایوب نے کہا کہ ہم ہندوستان کو جواب دینے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔
اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم، میاں محمد نواز شریف پر ایٹمی دھماکے کرنے کیلئے قوم کی طرف سے بے پناہ دباؤ تھا۔ دوسری طرف امریکہ سمیت، کم و بیش تمام اقوامِ عالم پاکستان پر ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی تھیں۔ اِس کے باوجود، پورے ملک میں یہ نعرہ گونج رہا تھا: ’’میاں صاحب! دھماکہ کردیجئے ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کردے گی۔‘‘
15 مئی 1998ء کے روز کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا ایک اجلاس بلایا گیا۔ چونکہ ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب بیرون ملک تھے، اس لئے کابینہ کو بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرنے اور جوابی پاکستانی تیاریوں کے بارے میں بتانے کی ذمہ داری بھی ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے کاندھوں ہی پر آن پڑی۔
ڈاکٹر ثمر مبارک نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 11 مئی کو ہندوستان کا صرف ایک ہی ٹیسٹ کامیاب ہوا تھا؛ اور اگر پاکستان نے دھماکہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن صرف دس دنوں میں ایٹمی دھماکہ کرنے کیلئے بالکل تیار ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کے آر ایل کی طرف سے بتایا کہ اگر انہیں یہ ذمہ داری دی جائے تو وہ تین مہینے کے اندراندر دھماکہ کرسکتے ہیں۔ کے آر ایل اور پی اے ای سی، دونوں تیار تھے لیکن پی اے ای سی کو دو وجوہ سے برتری حاصل تھی: ایک تو یہ کہ پی اے ای سی کے پاس کولڈ ٹیسٹ کا وسیع تجربہ موجود تھا؛ اور دوسری یہ کہ چاغی کی سائٹس، پی اے ای سی نے ہی تیار کروائی تھیں۔
16 مئی کو وزیر خارجہ نے اعلان کیاکہ پاکستان کی طرف سے دھماکہ تو یقینی ہے؛ صرف وقت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ 17 مئی کو میاں نوازشریف نے ڈاکٹر اشفاق احمد اور ڈاکٹر ثمر مبارک کے ساتھ ایک ملاقات میں انہیں ایٹمی دھماکے کیلئے تیار رہنے کو کہا۔ 18 مئی کو چیئرمین پی اے ای سی کو دوبارہ وزیرا عظم ہاؤس بلا کر کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا فیصلہ سنادیا گیا: ’’دھماکہ کردیجئے۔‘‘ چونکہ چاغی میں چھ دھماکے کرنے کی گنجائش تھی، لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ چھ ٹیسٹ ہی کئے جائیں گے۔
19 مئی کو پی اے ای سی کے 410 سائنسدانوں کی ایک ٹیم چاغی پہنچ چکی تھی۔ وہاں پہلے ہی سے ڈی ٹی ڈی، تھیوریٹیکل گروپ اور واہ گروپ کے لوگ موجود تھے۔ 24 مئی تک نیوکلیئر ڈیوائس کی تنصیب کرکے تاریں بچھائی جاچکی تھیں۔ 26 مئی تک جگہ کو مکمل طور پر سربند (sealed) کردیا گیا۔
27 مئی کو امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کی گئی، 25 منٹ تک جاری رہنے والی فون کال میں ان سے ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے اس کہ بدلے میں پاکستان کو بیش بہا امداد دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس سے بہت پہلے ہی 28 مئی 1998ء کی سہ پہر تین بجے ایٹمی دھماکہ کرنے کا وقت طے کیا جاچکا تھا۔
چاغی میں اس روز موسم صاف اور خوشگوار تھا۔ گراؤنڈ زیرو (ایٹمی دھماکے والے علاقے) سے متعلقہ لوگوں کے سوا تمام افراد کو ہٹالیا گیا تھا۔ 2 بج کر 30 منٹ پر پی اے ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جاوید ارشد مرزا اور فرخ نسیم بھی وہاں موجود تھے۔ تین بجے تک ساری کلیئرنس دی جاچکی تھی۔ پوسٹ پر موجود بیس افراد میں سے محمد ارشد کو، جنہوں نے ’’ٹرگرنگ مشین‘‘ ڈیزائن کی تھی، بٹن دبانے کی ذمہ داری دی گئی۔ تین بج کر سولہ منٹ پر محمد ارشد نے جب ’’اﷲ اکبر‘‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے بٹن دبایا تو وہ گمنامی سے نکل کر ہمیشہ کیلئے تاریخ میں امر ہوگئے۔
بٹن دباتے ہی سارا کام کمپیوٹر نے سنبھال لیا۔ اب ساری نگاہیں دس کلومیٹر دور پہاڑ پر جمی ہوئی تھیں۔ دل سہمے ہوئے لیکن دھڑکنیں رک گئی تھیں۔ بٹن دبانے سے لے کر پہاڑ میں دھماکہ ہونے تک صرف تیس سیکنڈ کا وقفہ تھا؛ لیکن وہ تیس سیکنڈ، باقی ساری زندگی سے طویل تھے۔ یہ بیس سال پر مشتمل سفر کی آخری منزل تھی۔ یہ بے یقینی اور شک کے لمحات سے گزر کر، مشکلات اور مصائب پر فتح پانے کا لمحہ تھا۔
جنرل ذوالفقار نے ایٹمی دھماکے کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک روشن دن تھا، جب وہ ایٹمی دھماکوں کیلئے بلوچستان کے شہر چاغی پہنچے ۔ 28 مئی 1998ء کو وہ اس پہاڑ کے سامنے کھڑے تھے جس کے اندر بنائے جانے والے ایک غار میں دھماکہ کیا جانا تھا ۔ اس ٹنل کی مخالف سمت میں وہ ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے، اٹامک انرجی کمیشن کے ایک جونئیر اہلکار جوعمر میں ان سب سے بڑے تھے، ان سے کامیابی کی دعا کروائی گئی۔ رقت آمیز دعا کے بعد انہی سے بٹن دبانے کی استدعا کی گئی ۔انہوں نے بٹن دبایا ۔ بٹن دبانے اور ایٹمی دھماکے میں گیارہ سیکنڈ کا تاخیری وقت رکھا گیا تھا ۔ یہ گیارہ سیکنڈ اس دن اتنے لمبے ہو گئے کہ انہیں گیارہ ماہ اور گیارہ سال معلوم ہو رہے تھے۔
انہوں نے کہا،’جب ایٹمی دھماکہ ہوا تو ہمارے پاوں تلے موجود زمین ہل گئی۔ یہ ریکٹر سکیل پر چارسے چھ تک کی شدت کا ایک زلزلہ تھا ۔ ہمارے سامنے موجود کالے
رنگ کا مضبوط گرینائڈ پہاڑ پہلے گرے رنگ میں تبدیل ہوا پھر اس کا رنگ آف وائٹ ہو گیا ۔ اس پہاڑ میں ایک ملین سینٹی گریڈ کا ٹمپریچر پیدا ہوا۔ اس کے باوجود کوئی نیوکلئیر تابکاری وہاں سے خارج نہیں ہوئی۔‘
جونہی پہاڑ سے دھوئیں اور گرد کے بادل اٹھے، آبزرویشن پوسٹ نے بھی جنبش کی۔ پہاڑ کا رنگ تبدیل ہوا اور ٹیم کے ارکان نے اپنی جبینیں، سجدۂ شکر بجالاتے ہوئے خاک بوس کردیں۔ اب وہ لمحہ آن پہنچا تھا جب پاکستان، دنیا کی بڑی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرسکتا تھا۔ یہ لمحات پاکستان کی تاریخ میں عزت، وقار اور شان و شوکت کا تاج بن کر تاریخ میں رقم ہورہے تھے․․․ پاکستان بالآخر مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا تھا۔
سہ پہر تین بجے میاں نواز شریف نے قوم سے اپنے خطاب کا آغاز کیا: ’’آج ہم نے پانچ کامیاب نیوکلیائی دھماکے کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے سنہرا باب ہے۔‘‘ انہوں نے اس پر پوری قوم، پاکستانی سائنسدانوں اور باالخصوص پی اے ای سی اور کے آرایل کے سائنسدانوں کوہدیہ تہنیت پیش کیا۔
ہم نے ایٹم بم تو بنالیا، لیکن ملکی سالمیت آج بھی خطرے میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر وطن عزیزکے دفاع کو مضبوط بنائیں اور اس کے خلاف ہونے والی سازشوں کے سامنے اسی جذبے کے ساتھ سینہ سپر ہوجائیں، کہ جس جذبے نے ایٹمی دھماکوں کو ناممکن سے ممکن بنادیا تھا۔
”چاغی میں اس روز موسم صاف اور خوشگوار تھا۔گراونڈ زیرو (ایٹمی دھماکے والے علاقے)سے متعلقہ لوگوں کے سوا تمام افراد کو ہٹا لیا گیا تھا۔دو بج کر تیس منٹ پرپی اے ای سی کے چئیر مین ڈاکٹر اشفاق احمد،ڈاکٹر عبدالقدیرخاں،جاوید ارشد مرزا،اور فرخ نسیم بھی وہاں موجود تھے۔تین بجے تک ساری کلیرنس دی جا چکی تھی۔پوسٹ پر موجود بیس افراد میں سے محمد ارشد کوجنہوں نے ”ٹرگرنگ مشین ڈیزائن کی تھی،بٹن دبانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔محمد ارشد نے جن اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے ہوئے بٹن دبایا تو وہ گمنامی سے نکل کر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں امر ہو گئے۔بٹن دباتے ہی سارا کام کمپیوٹر نے سنبھال لیا اب ساری نگاہیں دس کلومیٹر دور پہاڑ پر جمی ہوئی تھیں۔دل سہمے ہوئے ،لیکن دھڑکنیں رک سی گئی تھیں۔بٹن دبانے سے لے کر پہاڑ میں دھماکہ ہونے تک صرف تیس سیکنڈ کا وقفہ تھا،    تفصیل سے پڑھئے
دریائے ہنزہ -  میں پاکستان کی سرحد پر کھڑا تھا۔ ارد گرد ویرانی تھی، دور تک خاموشی تھی، اور آسمان سے برف گر رہی تھی۔ نومبر کے دوسرے ہفتے کا آغاز تھا۔ ایسا سفید دن تھا کہ میری سرخ جیپ اور سرمئی رنگ کی جیکٹ کے علاوہ منظر میں کوئی رنگ نہ تھا۔ جو رنگ تھے، ان کو برف ڈھانپ چکی تھی یا ڈھانپے جا رہی تھی۔ کوئی سرحدی فوجی چوکی تھی آس پاس، نہ ہی کسی بشر کا نشان۔ یہ دوست ملک چین کی سرحد تھی۔ درہ خنجراب پر کھڑے ہوئے میرا رُخ چین کی طرف تھا۔     تفصیل سے پڑھئے
پتھر کوٹھی انیسویں صدی کے آخر میں رسول گاؤں میں تعمیر کیے گئے ریسٹ ہاؤسز میں سے ایک ہے
بے ترتیب باغات کے درمیان مصروف شہری زندگی سے دور سفید رنگ کے ایک چھوٹے سے گھر جس کا ٹیرس دریا کے سامنے کے رخ پر ہے، کے سامنے کے دروازے پر دو درخت جھک کر سایہ دیئے ہوئے ہیں، جالیوں والے سے دروازے سے آپ تہہ خانے میں پہنچتے ہیں جبکہ چکر دار زینہ آپ کو چھت پر لے جاتا ہے جہاں سے آپ دریائی پانی کا نظارہ کرسکتے ہیں۔ چھت کے اوپر لگی تختی پر یہ الفاظ پڑھے جاسکتے ہیں ' رسول 1920 ' ۔ یہ پتھر کوٹھی ہے، ایک چھوٹا مگر ہوا دار ریسٹ ہاﺅس جو دریائے جہلم کے کنارے پر ضلع منڈی بہاﺅ الدین کے گاﺅں رسول میں واقع ہے۔ یہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں محکمہ زراعت کی جانب سے دریا کنارے تعمیر کیے گئے متعدد ریسٹ ہاﺅسز میں سے ایک ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
 آج سے بیس برس قبل جب میں سوئیڈن آیا تھا تو اس وقت ریل گاڑیوں، بسوں، ہوائی جہازوں، اور انتظار گاہوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھا۔ کتب بینی کا یہ شوق دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی۔ یہاں لائبریری ہر گھر کا ایک لازمی حصہ ہے اور ہر دوسرے شخص کے پاس کم از کم ایک کتاب ضرور ہوتی ہے جسے وہ سفر کے دوران یا انتظار کے لمحات میں مطالعہ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ہسپتالوں اور دوسری انتظار گاہوں میں کتابیں رکھی ہوتی ہیں جنہیں وہاں بیٹھنے والے اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے

یوم عذاب 26 مئی کے یادگار اور تاریخی دن مرزا غلام قادیانی کی بیت الخلا میں دردناک موت کے احوال کے بارے تو اکثر و بیشتر مسلمان اورخود قادیانی حضرات بھی خوب جانتے ہیں۔ لیکن یہاں میں مرزا جی کے خلیفوں کی عبرت انگیز اموات کا وہ ہولناک احوال بیان کر رہا ہوں جس سے سب مسلمان تو شاید آگاہ نہ ہوں لیکن ہاں ہر قادیانی زندیق ضرور واقف ہے۔ دعا گو ہوں کہ میرے یاد دلانے پران کے مقفل دلوں کے قفل کھلیں اور وہ کفرِ قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہء اسلام میں لوٹ آئیں۔
مجھے یقین ہے کہ اگر قادیانی زندیق اپنے مرزا جی کے کافرانہ عقائد ، توہین انبیاء اکرام و اکابرین ملت میں لکھی اس کی گستاخانہ تحریریں کھلے ذہن کے ساتھ پڑھیں اور پھراس کے ہولناک انجام سےعبرت حاصل کریں تو کانوں کو ہاتھ لگا کر قادیانیت کو خیرباد کہہ دیں۔ مرزا غلام قادیانی کی بیت الخلا میں دردناک موت کے احوال کے بارے تو اکثر و بیشتر مسلمان اورخود قادیانی حضرات بھی خوب جانتے ہیں۔ لیکن یہاں میں مرزا جی کے خلیفوں کی عبرت انگیز اموات کا وہ ہولناک احوال بیان کر رہا ہوں جس سے سب مسلمان تو شاید آگاہ نہ ہوں لیکن ہاں ہر قادیانی زندیق ضرور واقف ہے۔ دعا گو ہوں کہ میرے یاد دلانے پران کے مقفل دلوں کے قفل کھلیں اور وہ کفرِ قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہء اسلام میں لوٹ آئیں۔
مرزا غلام قادیانی کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کا پہلا خلیفہ حکیم نورالدین تھا۔ خود مرزا جی کی روایت کے مطابق ، وہ ایک ایسا غلیظ المزاج اور بدبودار شخص تھا کہ جو مدتوں تک نہ نہاتا تھا اور نہ ہی اپنے بال اور ناخن تراشتا تھا۔ مگر اس کے گھوڑے پر بیٹھنے کا انداز انتہائی تکبرانہ اور شاہانہ ضرور تھا۔ یاد رہے کہ حضرت علامہ اقبال رحمۃ علیہ ہر اس محفل میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیتے تھے، جہاں یہ بدبخت شخص مدعو ہوتا تھا۔ ایک دن یہ بدبخت گھوڑے پر سوار ہو کے نکلا تو گھوڑے کے بدکنے پر نیچے گرتے ہوئے اپنا ایک پاؤں گھوڑے کی رکاب میں پھنسا بیٹھا۔ اور پھر وہ پاؤں رکاب میں پھنسا رہا اور گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا خلیفہ جی کو گھسیٹتا اوراس کی ہڈیاں چٹخاتا رہا۔ اس حادثے میں نامراد خلیفہ زندہ تو بچ گیا مگر قدرت کو اس منکر ختم نبوت کی عبرت ناک موت زمانے کو دکھانا منظور تھا۔ زخم ناسور کی شکل اختیار کر کے پہلے اذیت ناک اور مابعد جان لیوا ثابت ہوئے۔ سارے قادیانی حکیم اور قادیانیوں کے سرپرست انگریز ڈاکٹرز تک اس بد بخت حکیم کا علاج کرنے میں ناکالم رہے۔ اور یوں مرزا قادیانی کا جانشین ، ملعون خلیفہ اول بسترِ مرگ پر انتہائی درد ناک حالت میں ایڑیاں رگڑتے ، دنیا میں ہی جہنم اور عذاب الہی جھیلتے ہوئے اپنے کاذب نبی مرزا غلام قادیانی کے ٹھکانہ ہاویہ کو سدھار گیا۔
حکیم نورالدین کے اس انجام کے بعد ممکنہ جانشین مولوی محمد علی لاہوری کو خلافت نہ ملی۔ مرزا قادیانی کی بیوی نے اپنے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کو زبردستی خلیفہ بنوا دیا۔ اکھنڈ بھارت کےخواب دیکھنے والا یہ بدترین گستاخ قرآن و رسالت جنسی تعلقات کا دلدادہ اورانتہائی عیاش جوان تھا، جسے خلافت ملنے پر مرزا قادیانی کے وفادار ساتھی مولوی محمد علی لاہوری نے جماعت قادیان چھوڑ کراپنا لاہوری مرزائی فرقہ بنا لیا۔ مرزا بشیرنے خلیفہ بنتے ہی ایسی گھناؤنی حرکتیں کیں کہ خود شرم بھی شرما گئی۔ اسن کی قصرخلافت نامی رہائشگاہ دراصل قصرِ جنسی جرائم تھی جہاں عینی شاہدین کے مطابق صرف عقیدتوں کا خراج ہی بھینٹ نہیں چڑھا بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے یہاں عصمتیں بھی لٹتی رہیں۔ ربوہ کے قصرمحمود میں اس عیاش خلیفہ نے صرف قادیانی نوجوان لڑکیوں کی عصمتیں ہی برباد نہیں کیں بلکہ یہ ملعون ایک ایسا پلید ترین جنسی بھیڑیا تھا جس کی
جنسی ہوس سے اس کی اپنی سگی بیٹی تک بھی محفوظ نہ رہی۔ اس خلیفہ کے جنسی جرائم کے بارے قادیانی جماعت کے منحرف لوگوں کے تبصرے، حلفیہ بیانات، مباہلے اورقسمیں موجود ہیں۔ خدائے برتر ایسے ظالم انسان کو کبھی معاف نہیں کرتے چنانچہ اس خلیفہ ثانی کی زندگی کا خاتمہ بھی ایسے دردناک حالات میں ہوا کہ اس فالج زدہ ابلیس کو زندگی کے آخری بارہ سال بسترمرگ پر ایڑیاں رگڑتے اور مرتے دیکھ کرقادیانی بھی کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ اس ملعون کی شکل و صورت پاگلوں کی سی بن چکی تھی اور وہ سر ہلاتا منہ میں کچھ ممیاتا رہتا تھا۔ اکثر یہ مجنون اپنے بال اور داڑھی نوچتا رہتا اور اپنی ہی نجاست ہاتھ منہ پرمل لیا کرتا تھا۔ بہت سارے لوگ ان سب حالات و واقعات کےعینی شاہد ہیں۔ ایک عرصہ ایسی اذیت ناک زندگی بسترمرگ پرگزارنے کے بعد جب یہ گستاخ ، جہنم کو سدھارا تواس کا جسم بھی عبرت کا اک عجب نمونہ تھا۔ ایک لمبےعرصہ تک بستر مرگ پر رہنے کی وجہ سے لاش مرغ کے چرغے کی طرح اس قدر اکڑ چکی تھی کی ٹانگوں کو رسیوں سے باندھ کر بمشکل سیدھا کیا گیا۔ چہرے پر پڑی لعنتیں چھپانے کیلئے خصوصی میک اپ کروایا گیا۔ اور پھرعوام الناس کو دھوکہ دینے کے لیے مرکری بلب کی تیزروشنی میں لاش کواس طرح رکھا گیا کہ چہرے پر لعنت زدہ سیاہی نظر نہ آئے۔ لیکن قادیانی توساری اصل حقیقت سے آشنا تھے
مرزا بشیرکی دردناک موت کے بعد مورثی وراثت اور چندوں کے نام پر لوٹ مار کا روایتی سلسلہ جاری رکھنے کی خاطر اسی کا بڑا بیٹا مرزا ناصراحمد گدی نشین ہوا۔ یہ ٹھرکی خلیفہ گھوڑوں کی ریس اور جوا بازی کا شوقین ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان مٹیاروں سے معاشققوں کا انتہائی دلدادہ تھا۔ جنسی ہوس اسے اپنے دادا مرزا غلام احمق سے وراثت میں
ملی تھی۔ اس کے گھڑ سواری کے شہنشاہی شوق نے ربوہ میں گھڑ دوڑ کے دوران ایک غریب کی جان بھی لی۔ قادیانی حضرات بھی گواہ ہیں کہ ان کے اس تیسرے خلیفہ کی موت بھی ایک بوڑھے جنسی مریض کی داستان صد ہوس عبرت ہے۔ اس ہوس رسیدہ و شہوت زدہ خیلفہ نے اڑسٹھ سال کی بوڑھی عمر میں فاطمہ جناح میڈیکل کی ایک ستائیس سالہ طالبہ کو یہ کہتے ہوئے اپنے عقد میں لے لیا کہ ’’ آج یہ مقدس دولہا اپنا نکاح خود ہی پڑھائے گا ‘‘۔ اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ خود قادیانی کلٹ کی مرکزی قیادت کو بھی تھا۔ خود سے چوالیس برس چھوٹی بیوی سے ازدواجی تعلقات میں جسمانی طور پر کلی ناکام ٹھہرنے کے بعد بوڑھے دولہا نے اپنے ناکارہ و ناقابل مرمت اعضاء میں نئی جوانی بھرنے کیلیے دیسی کشتوں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ۔ اور ان کشتوں کے راس نہ آنے پر خود ہی کشتہ ہو گیا۔ مرنے سے پہلے اس تیسرے قادیانی خلیفہ کا جسم پھول کرکپا ہو گیا۔ سونے چاندی کے کشتوں کا زہریلا ناگ ایسا ڈسا کہ یہ زندیق ، مختصر عرصے میں خدائے قہارکے قہر کی گرفت میں، کشتوں ہی کی آگ میں جھلس کر، محمدی بیگم کے ناکام عاشق، اپنے دادا مرزا غلام قادیانی کے پاس ملک عدم کو سدھارگیا ۔
مرزا ناصر احمد کی موت کے بعد مرزا طاہر احمد گدی نشین ہوا تو اس کا سوتیلا بھائی مرزا رفیع احمد خلافت کو اپنا حق سمجھتے ہوئے میدان میں آ گیا۔ جب اسکی بات نہ مانی گئی تو وہ اپنے حواریوں سمیت سڑکوں پر آ گیا۔ لیکن ان باغیوں کو بزور قوت گھروں میں دھکیل دیا کر خلافت پر قبضہ کر لیا گیا۔ جماعت قادیان کا چوتھا خلیفی مرزا طاہراحمد انتہائی آمرانہ مزاج کا حامل تھا۔ اس کی فرعونی عادات نے نہ صرف اسے بلکہ پوری قادیانی جماعت کو دنیا بھر میں
ذلیل و خوار کیا۔ اپنی زبان درازی ہی کی وجہ سے وہ پاکستان سے بھاگ کر لندن میں اپنے گورے آقاؤں کے ہاں پناہ گزین ہوا۔ اس کے دور خلافت میں اس کے ہاتھوں غیر تو کیا کسی قادیانی کی بھی عزت محفوظ نہیں تھی ۔ اس نے نظریں ملا کر بات نہ کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ مرزا طاہر ہومیو پیتھک ڈاکٹر کہلوانے کے شوقین تھا اور اس کا یہی شوق انسانوں کے لیے مصیبت کا باعث بن گیا۔ مرزا طاہرکی خواہش تھی کہ قادیانی عورتیں صرف لڑکے ہی پیدا کریں جن میں ذات پات یا نسل کا کوئی لحاظ نہ ہو۔ مرا طاہر قادیانیوں کو’’ نر نسل ‘‘ پیدا کرنے کی گولیاں تو دیتا رہا مگر یہ ڈاکٹر اپنی بیوی کو لڑکا نہ دے سکا اور اس کے اپنے ہاں تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس خبطی کے ذہنی توازن کا یہ حال تھا کہ امامت کے دوران عجیب و غریب حرکتیں کرتا، کبھی باوضو تو کبھی بے وضو ہی نماز پڑھا دیتا۔ رکوع کی جگہ سجدہ اور سجدہ کی جگہ رکوع اورکبھی دوران نمازہی یہ کہتے ہو ئے گھر کوچل دیتا کہ ٹھہرو، میں ابھی وضو کر کے آتا ہوں۔ غرضیکہ اپنے پیشرؤں کی طرح مرزا طاہرکی بھی بڑی مشکل سے جان نکلی۔ پرستاروں کے دیدار کے لیے جب لاش رکھی گئی تو چہرہ سیا ہ ہونے کے ساتھ ساتھ لاش سے اچانک ایسا بدبودار تعفن اٹھا کہ پرستاروں کو فوراً کمرے سے باہر نکال دیا گیا اورلاش بند کرکے تدفین کے لیے روانہ کر دی گئی۔ لوگوں نے یہ عبرتناک مناظر براہِ راست قادیانی ٹی وی پربھی دیکھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق موجودہ خلیفہ مرزا مسرور بھی ایک پراسرار بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے اور قادیانی قیادت نے اندرون خانہ اپنے اگلے بدبخت خلیفہ کی تلاش شروع کر دی ہے۔
اسلام دشمن قوتوں کیخلاف پر امن قلمی جہاد اور حب الوطنی کے فروغ دیں دوستوں کے ساتھ شئیر کیجئے شکریہ
یہودی مسجد اقصیٰ کی کھدائ کیوں کرتے رہتے ہیں؟-
وہ کیا تلاش کرنا چاہتے ہیں؟
تابوت عربی اور عبرانی زبان میں صندوق کو کہتے ھیں۔ صندوق سکینہ یا توبات سکینہ کا ذکر قرآن کریم میں تابوت سکینہ کے نام سے کیا گیا ھے ۔تابوت سکینہ کو انگریزی زبان میں دی آرک آف کو وننٹ یعنی میثاق کا صندوق کہتے ھی
ںتابوت سکینہ مسلمانوں کے لئے صرف ایک صندوق جتنی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن میں اس کے بارے میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسکو اس وقت فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے مزید اسکے بارے میں قرآن اور حدیث میں مکمل خاموشی ہے - لیکن تابوت سکینہ یہودی مذہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائ مقدس سمجھا جاتا ہے- عیسائیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اسکا ذکر انکی کتابوں میں بھی ملتا ہے - ۔
وَقَالَ لَهُمْ نِبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ
اور ان سے ان کے پیغمبر نے کہا: اس کی بادشاہی کی علامت یہ ہے کہ وہ صندوق تمہارے پاس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے سکون و اطمینان کا سامان ہے اور جس میں آل موسیٰ و ہارون کی چهوڑی ہوئی چیزیں ہیں جسے فرشتے اٹهائے ہوئے ہوں گے، اگر تم ایمان والے ہو تو یقینا اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے۔ سورہ بقرہ۲۴۸
اس مقدس تابوت میں مختلف متبرکات رکھی تھیں جن میں وہ لوح بھی تھی کہ جس پر تورات کی آیات کندہ تھی اور جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ھوئی۔اس صندوق میں حضرت ھاروں علیہ السلام کی چھڑی اور معجزاتی خوراک من بھی رکھی گئی تھی۔
تبرکات کے علاوہ یہ صندوق اس لئے مقدس ٹھہرا کیونکہ اس کی تقدس اور مقام کا تعین اللہ تعالیٰ نے کیا ۔وادی سینا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر ایک مقدس خیمہ نصب کیا جو بنی اسرائیل کے لئے ایک عارضی قبلہ مقرر کیا گیا تھا ۔اس مقدس خیمہ کے تین حصے تھے جن مین آخری حصہ کو قدس الاقداس یعنی ھولی آف ھولیز کہا گیا جس کے اندر یہ مقدس تابوت رکھا گیا ۔
جب بنی اسرائیل نے اللہ کے حکم سے انکار کر تے ھوئے فلسطین کے کفار کے ساتھ جہاد سے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر چالیس سال تک بنی اسرائیل کو جزیرہ نما سینا کے وادی سینا میں خمیہ بستی میں رہنے کا حکم دیا ۔اس دوران یہ مقدس خیمہ بنی اسرائیل کا قبلہ رھا ۔جب چالیس سال کے دوران حضرت ھاروں اور حضرت موسیٰ علیھم السلام وفات پا گئے اور بنی اسرائیل کی وہ غلام ذدہ باغی نسل بھی مر گئی اور اس خیمہ بستی میں ایک محنت کش، جفا کش اور مجاھد نسل پیدا ھوئی اور پروان چڑھی۔حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے اپنی وفات سے پہلے حضرت یوشع بن نون کو نیا آمیر مقرر فرمایا ۔نئی نسل کے عظیم سالار حضرت یوشع بن نون اللہ کے پیغمبر بھی تھے۔حجرت یوشع بن نون کے حکم پر لبیک کہتے ھوئے بنی اسرائیل کے مجاھد جہاد کا علم بلند کر کے فلسطین پر حملہ آور ھوئے اور بہت سے علاقوں کو فتح کیا ۔
- اسکو جنگوں کے دوران لشکر سے آگے رکھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس تابوت کی برکت کی وجہ سے جیت ہمیشہ بنی اسرایئل کی ہی ہو گی - جب بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم
کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران کھو گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا- یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا اور اسی بارے میں قرآن میں بھی ارشاد ہے،"ان لوگوں سے انکے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے اور وہ کچھ اشیاء بھی ہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون چھوڑ گئے تھے اسکو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلاشبہ اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو "- یہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رھا تب تک اسکی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں اور آخر کار تنگ آکر انہوں نے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرایئل تک پہنچا دیا اور غالبا"اسی بات کی طرف قرآن پاک میں بھی اشارہ کیا گیا ہے - حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لئے کوئ خاص انتظام نہیں تھا اور اسکے لئے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اسکو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے- اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا- اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا - بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اسکو آگ لگا دی ، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا- اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئ چیز باقی نہیں ہے-
ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اسکا کوئ نشان نہیں ملا- آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصا"یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اسکی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اسکو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی-
تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا، ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اسکو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے- بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے
ایک بات نوٹ فرمائیں کہ بنی اسرائیل کے لشکر کے آگے یہ تابوت سکینہ ھوتا جس کی برکت سے دشمنوں پر رعب طاری ھوتا اورسب سے اھم اور قابل افسوس بات یہ تھی کہ یہودی قبلہ اس مرتبہ تابوت سکینہ سے محروم تھا جو بخت نصر کے حملے کے دوران لا پتہ ھو گیا تھا ۔
تابوت سکینہ کا سراغ تک نہین مل سکا کہ وہ سلامت بھی ھے یا تباہ کیا جا چکا ھے۔ تاھم اسرائیلی روایات اور عقیدے کے مطابق تابوت سکینہ نہ گم ھوا ھے نہ تباہ ۔ ۔ ۔ ۔بلکہ اس کو اسرائیلی مومنوں نے محفوظ کر دیا تھا ۔آج کے اسرائیلیوں کا دعویٰ ھے کہ تابوت سکینہ مسجد الاقصیٰ میں گنبد صخریٰ Dom of the Rock کے نیچھے کسی تہہ خانے میں محفوظ ھے ۔یہودیوں کا عقیدہ ھے کہ آخر دور میں جب ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا وقت آجائے گا تو اس مقام سے ایک دھواں نکلے گا جس کو تمام یہودی دوردور سے دیکھ لیں گے اور وہ تابوت سکینہ تک پہنچ جائیں گے جس کو نکال کر وہ نئی تعمیر شدہ ہیکل کے قدس الاقداس میں ایک بار پھر رکھ دیں گے ۔
یہ یاد رھے کہ تابوت سکینہ کا سراغ لگانے کے لئے یہودیوں نے مسجد الاقصیٰ کے نیچھے بہت سی کھدائیاں کر رکھی ھیں

چائے سے برصغیر کے رومان کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انگریزوں نے چائے ٹائم ایجاد کیا ہو مگر دیسیوں نے اس کا گرمجوشی سے استعمال کیا اور اس مشروب کو برصغیر کے طرز زندگی کا جزو بنالیا۔ آسمانوں پر بننے والے متعدد جوڑوں کو دنیاوی شکل چائے کے ایک کپ پر ملی، بہترین دوست بننے کا عمل چائے کے ایک کپ پر ہوا، دفتری وقفے (جن سے ہم نوے کی دہائی میں ڈان کے دفتر ہارون ہاﺅس میں لطف اندوز ہوتے تھے) کے دوران ہمیشہ برقرار رہنے والی دوستی کا آغاز بھی چائے کے کپس سے ہوا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جو واحد چیز لوگوں کے چائے سے تعلق کے جوہر اور تاریخ کو بیان کرسکتی ہے وہ چائے کا ایک کڑک کپ خود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ 20 ویں صدی کے آغاز تک برصغیر کے رہائشیوں میں سے اکثریت چائے بنانے کے فن سے ناآشنا تھی۔
کھانوں کی برطانوی تاریخ دان لزی کولنگھم کے مطابق "برصغیر کے عوام میں چائے پینے کا رجحان پیدا ہونے کی وجہ بیسویں صدی کے ہندوستان میں پہلی بڑی مارکیٹنگ مہم تھی۔ برطانوی ملکیت میں موجود انڈٰین ٹی ایسوسی ایشن نے لوگوں میں ایک نئی عادت کو فروغ دینے کا بیڑہ اٹھایا اور پھر اسے پورے برصغیر تک توسیع دے دی۔"
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 1800 تک برصغیر کے لوگ چائے کو ایک دوا تصور کرتے تھے۔ اس زمانے میں یہ ادویات کی الماری سے متعلق سمجھی جاتی تھی، بالکل ایسے ہی جیسے چوتھی صدی کے چین کے ابتدائی چائے پینے والے افراد جو اسے سردرد، جوڑوں کے درد اور ادویات کی تاثیر بڑھانے کے لیے بطور ہربل نسخے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
1700 کی ابتدا میں چائے برطانیہ کے اعلیٰ طبقے میں ایک ہربل جز بن چکی تھی اور بہت جلد اسے ہر ایک کے لیے فیشن ایبل مشروب کا درجہ مل گیا۔ مغرور خواتین انگلش دوپہروں میں کیکس اور بسکٹوں کے ساتھ وائن کی جگہ چائے پینے کو ترجیح دینے لگی تھی۔ چائے پینا ان کے لیے اپنے بہترین چینی برتنوں کی نمائش کا موقع بن گیا تھا لہذا ٹی ٹائم کو ایجاد کیا گیا۔
لزی کولنگھم اپنی کتاب 'Curry' میں تحریر کرتی ہیں: "اب چائے متوسط طبقے کے طرز زندگی میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ بریڈ، مکھن، اور کیک کے ساتھ پیش کی جانے والی چائے متوسط طبقے کی خواتین کو رات کے کھانے تک تروتازہ رکھتی ہے، جسے اب تاخیر سے تناول کیا جاتا ہے، جبکہ اس میں چینی کے اضافے نے اسے ایک توانائی سے بھرپور مشروب بنا دیا ہے۔"
چونکہ چائے کو چین سے درآمد کیا جاتا تھا اس لیے یہ برطانوی حکومت پر بھاری بوجھ کا باعث بنتی تھی۔ لزی کولنگھم کے مطابق "فروری 1834 میں گورنر جنرل ولیم بینٹینک نے ایک ٹی کمیٹی تشکیل دی تاکہ جائزہ لیا جاسکے کہ کمپنی کے لیے ہندوستان چائے کی پیداوار کے لیے اچھا مقام ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔ ہندوستان میں چائے کی کاشت کی ابتدائی کوششیں ناکامی کا شکار ہوئیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آسام چائے کی کاشت کے ایک تجربے کے لیے موزوں مقام ہے اور اگرچہ یورپی شہری دو صدیوں سے چینیوں سے چائے سے خرید رہے تھے، تاہم وہ اس وقت تک اس کی پیداوار کے طریقہ کار سے ناواقف تھے۔"
لہٰذا چینیوں سے مدد طلب کرنے کی کوشش بھی کی گئی مگر "چینیوں نے حسد کے باعث اپنے اس راز کو افشاء نہیں کیا۔"
تمام تر مشکلات کے باوجود آسامی افراد 1838 میں کچھ درجن ٹرنک چائے کی پیداوار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جنہیں برطانیہ میں لگ بھگ بے خبری میں ہی نیلام کیا گیا۔ 1870 کی دہائی میں جاکر ہی ہندوستان میں چائے کی صنعت کسی حد تک مستحکم ہوئی اور معقول منافع کے ساتھ بہترین معیار کی چائے کی پیدوار کا آغاز ہوا۔
لزی کولنگھم مزید بتاتی ہیں "برطانیہ اور آسٹریلیا میں ورکنگ کلاسز میں تیز سیاہ انڈین چائے کا شوق تھا جس کی حوصلہ افزائی ان ہول سیلرز نے کی، جو انڈین چائے چینی چائے کے مقابلے میں کم نرخوں پر بیچنا جان گئے تھے۔ یہ تھامس لپٹن تھے جنہوں نے بڑی مقدار میں ہندوستان سے براہ راست چائے کی پتیاں خریدیں"۔
1909 تک چائے برطانوی ذہن کے ساتھ اس حد تک جڑ گئی تھی کہ ایک ہندوستانی کو لپٹن کیفیز کے سامنے ایڈورٹائزمنٹ کے لیے کھڑا کیا گیا تھا۔ اگرچہ برصغیر میں چائے کو برطانوی اور آسٹریلیوں کا مشروب سمجھا جاتا تھا تاہم مقامی افراد خود اس مشروب کو اس زمانے میں بھی نہیں پیتے تھے۔
ہندوستان کے کچھ بڑے شہروں میں اعلیٰ طبقے کے کچھ ہندوستانی افراد اکثر اس مزیدار مشروب کو پیتے تھے جسے چائے کہا جاتا تھا مگر مہاتما گاندھی نے اعتراف کیا کہ کچھ مغربی سوچ کے حامل ہندوستانی ہی ناشتے میں ایک یا دو کپ چائے کا استعمال کرتے تھے۔ ان کے بقول 'خودساختہ تعلیم یافتہ ہندوستان کی جانب سے چائے اور کافی پینا برطانوی حکمرانی کا نتیجہ ہے جو کہ جلد گزر جائے گا۔'
جارج واٹ اکنامک پراڈکٹس آف انڈیا نامی ایک ڈکشنری میں ذکر کرتے ہیں "اگرچہ برصغیر نے گزشتہ تیس برسوں کے دوران چائے کی پیداوار میں چین کو شکست دے دی ہے تاہم مقامی افراد میں چائے نوشی کا رجحان متعارف کرانے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی"۔
کیمبرج سے تربیت یافتہ تاریخ دان لزی کولنگھم لکھتی ہیں "بعد ازاں 1901 میں انڈین ٹی ایسوسی ایشن خواب غفلت سے جاگی اور اس حقیقت کا احساس کیا کہ ان کی سب سے بڑی مارکیٹ تو ان کے اپنے دروازے کے ساتھ موجود ہے اور انہوں نے برصغیر میں اپنی مارکیٹنگ مہم کو توسیع دی۔ اگرچہ ہندوستان میں چائے کی مارکیٹنگ مایوس کن پراجیکٹ تھا اور پہلی جنگ عظیم کے بعد ہی چائے کی مہم میں رفتار آنا شروع ہوئی۔ کارخانوں، کوئلے کے کانوں اور کاٹن ملز وغیرہ میں چائے کے اسٹالز لگائے گئے، جہاں پیاسے مزدوروں نے مارکیٹ فراہم کی۔ 1919 میں صنعتی حوالے سے چائے کی کینٹین ایک ضروری عنصر بن چکی تھی"۔
وہ مزید بتاتی ہیں "ریلوے ایک اور مثال ہے جسے ٹی ایسوسی ایشن نے عالمی سرمایہ داری کی گاڑیوں میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے چھوٹے کنٹریکٹرز کو کیتلیوں، کپ اور چائے کے ڈبے فراہم کرکے انہیں پنجاب اور بنگال میں کام پر لگا دیا۔ یہ صدا "چائے! گرم چائے!" ریلوے استیشنوں کی صدا بن گئی۔ اگرچہ یورپی انسٹرکٹرز چائے فروخت کرنے والوں کو چائے بنانے کی تربیت فراہم کرتے تھے، تاہم مقامی افراد اکثر ان کے مشورے کو نظرانداز کرکے اور اپنے طریقے سے چائے تیار کرتے، جس میں بہت زیادہ دودھ اور چینی کو شامل کیا جاتا۔"
پنجاب میں مکھن ملا دودھ اکثر مصالحہ اور کھیر میں مکس کیا جاتا ہے لہذا مقبول دودھ پتی کی اصطلاح وجود میں آگئی۔
چائے کی مہم کی ایک اور دلچسپ شاخ بڑے قصبوں، شہروں اور برصغیر کی بندرگاہوں میں چھوٹے چائے خانوں یا اسٹالز کی تشکیل کی صورت میں نظر آئی۔ یہ چائے خانے جو گلیوں میں گھوم پھر کر چائے فروخت کرنے والے افراد کے لیے خطرہ بن گئے تھے، نے چائے میں مصالحوں جیسے دارچینی، کالی مرچ، لونگ اور مرچ وغیرہ کے ذریعے مختلف ذائقے فراہم کرنا شروع کیے اور کانپور مل نے تو اپنی خودساختہ مصالحہ چائے دریافت کی، جو آج مشہور و معروف مصالحہ چائے کے نام سے جانی جاتی ہے اور امریکا و یورپ میں بہت پسند کی جاتی ہے۔
لزی کولنگھم اپنی کتاب A Tale of Cooks and Conquerors میں بتاتی ہیں "چائے خانے مخصوص قسم کے صارفین تک ہی رسائی حاصل کرسکتے تھے، اسی لیے برصغیر کے گھروں میں چائے پہنچانے کے لیے مہمات کی سیریز شروع کی گئیں کیونکہ خواتین چائے خانوں میں نہیں جاسکتی تھیں۔ چائے کی تشہیر کرنے والوں کی ایک فوج جنہیں بڑے قصبوں اور شہروں میں مارچ کرنے کے لیے رکھا گیا تھا، وہ ہر قصبے کا ایک علاقہ چن لیتے اور اگلے چار ماہ تک یہ افراد ہر گھر، ہر گلی میں جاتے۔ اتوار کو نکال کر وہ پورا ہفتہ ایک ہی وقت میں وہاں جاتے۔"
چائے بنانے کی یہ مہم ہندوﺅں اور مسلمانوں دونوں میں چلی، ہر ایک گرمجوشی سے یہ مہم چلانے والے افراد کو اپنے گھروں کے اندر عملی مظاہرے کے لیے مدعو کرتا۔ روزانہ ایک ہی وقت پر چائے بنانے کے اس عمل نے برصغیر میں ٹی ٹائم کو جنم دیا۔
چائے کی مارکیٹنگ کی مہم کے لیے بے تحاشہ سرمائے اور کوششوں کے باوجود ملک کے کچھ کونوں تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس حوالے سے پیکنگ فیکٹری اسکیم 1931 میں شروع کی گئی۔ 1936 کے اختتام تک برصغیر کے دیہاتی چائے کے اتنے عادی ہوچکے تھے کہ ایک سال کے اندر تشہیری مہم کی ٹیم آسانی سے 26 ملین کپ دینے میں کامیاب رہی۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران شہری اور دیہاتی علاقوں میں چائے کی مہم کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا اور انڈین ٹی ایسوسی ایشن نے اپنے اقدامات کا مرکز ہندوستانی فوج کو بنالیا۔ ہندوستانی سپاہی چائے سے بخوبی واقف ہوچکے تھے اور جنگ کے بعد ہندوستان میں چائے پینے کی عادت برصغیر بھر میں عام ہوچکی تھی۔ 1945 کلکتہ اور لاہور کی گلیوں میں رہنے والے بے گھر افراد چائے نوشی کے عادی تھے۔ اس طرح چائے برصغیر کی روزمرہ کی زندگی کے معمولات کا حصہ بن سکی۔


حالیہ کچھ عرصے میں اقلیتوں پر حملوں کا شاہد شہرِ کراچی کے قلب میں ایک بلٹ پروف صلیب کھڑی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے مسیحی کاروباری شخصیت پرویز ہینری گل گورا قبرستان میں 140 فٹ اونچی صلیب بنا رہے ہیں۔
گل نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے چار سال پہلے خواب میں خدا کو دیکھا، جو ان سے عیسائی برادری کیلئے کچھ کرنے کو کہہ رہے ہیں، جس کے بعد انہوں نے کراچی میں ایشیا کی سب سے بڑی صلیب بنانے کا فیصلہ کیا۔
سکول میں ناشائستہ حرکتیں تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے کوئی کروڑپتی اور ارب پتی بن جائے ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے۔
لیکن جیک کیٹر ان میں سے ایک ہیں۔
سنہ 2005 میں جب جیک کیٹرصرف 16 سال کے تھے تو نارفوک سیکنڈری سکول نے طلبہ کو میوزک اور گیمز کی ویب سائٹ سے دور رکھنے کے لیے کمپیوٹر نٹورک کو انتہائی محفوظ کر رکھا تھا۔
اس لیے کمپیوٹر پروگرامنگ میں زبردست دلچسپی کے باعث جیک نے اپنے علم کو کمپیوٹرز ہیک کرنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
اب وہ 26 سال کے ہیں۔ انھوں نے کہا میں نے سوچا کہ سکول میں کمپیوٹر کے حفاظتی نظام کو توڑنے کتنا مزہ آئے گا۔
ایسا کرنے کے لیے انھوں نے ایک ویب سائٹ کا سہارا لیا جو کمپیوٹر کی شناخت چھپا لیتا ہے اور اسے عام طور پر کسی بیرون ملک کے کمپیوٹر کے راستے صارف کو ذاتی اور گمنام طور پر انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کو ورچوئل پرائیوٹ نیٹورک (وی پی این) کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ طریقہ کامیاب رہا اور وہ سکول کمپیوٹر کو اپنے ہوم ورک کے بجائے اپنی پسند کے میوزک ویڈیوز دیکھنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔

لیکن اس وقت کے وی پی این کی کوالٹی سے مایوس ہوکر انھوں نے اپنی ویب سائٹ بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے انھیں صرف ایک دوپہر کا وقت لگا۔
انھوں نے اپنی ویب سائٹ کا نام ’ہائڈ مائی ایس‘ (ایچ ایم اے) رکھا، جو کہ ایک طنزیہ اصطلاح ہے۔
وہ دس سال تک اس کے واحد مالک رہے اور آج انھوں نے اسے چارکروڑ پاؤنڈ میں فروخت کیاہے۔
ان کی ویب سائٹ ایچ ایم اے کو عالمی سافٹ ویئر گروپ اے وی جی نے خریدا ہے اور اس پیسے کے عوض میں انھیں 20 لاکھ صارفین ملے ہیں جس کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ پاؤنڈ اور منافع 20 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ جیک کیٹر ایچ ایم اے کے چیف ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
اگرچہ وہ دس سال قبل صرف 16 سال کے تھے تاہم انھیں ویب سائٹ کو فروغ دینے کا خفیہ ہنر معلوم تھا اور وہ ایچ ایم اے کو مالی طور پر کامیاب بنا سکتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اس طرح کی ویب سائٹ میں دلچسپی رکھنے والے فورم پر اپنی ویب سائٹ کو پروموٹ کرنا شروع کیا تاکہ ان کی ویب سائٹ کے بارے میں کچھ ہلچل پیدا ہو۔

انھوں نے کچھ ہی دنوں میں اپنی ویب سائٹ کے ذریعے ’منسلک مارکٹنگ کے ذریعے کمانا شروع کردیا اور ایک ہی ماہ میں ان کے دنیا بھر میں لاکھوں صارفین تیار ہوگئے اور ان کی آمدنی 15 ہزار پاؤنڈ سالانہ ہوگئي۔‘
انھوں نے کہا: ’مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوئی کہ وہ اتنی جلدی اتنی وائرل کیونکر ہو گئی۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی کوئی تجارتی منصوبہ نہیں تیار کیا تھا۔
’میں نے صرف ایک دوپہر کو ویب سائٹ لانچ کر دیا کہ اگر لوگ اسے بہتر سمجھیں گے تو اسے شیئر کریں گے۔‘
سکول کے بعد وہ نوروچ کالج کمپیوٹر کی تعلیم کے لیے گئے لیک سنہ 2009 میں انھوں نے تعلیم چھوڑ کر پورا وقت ایچ ایم اے کو دینے کا فیصلہ کیا اور پیڈ سروس پیش کی جس کے ابھی دو لاکھ رکن ہیں۔ اس کے علاوہ بنیادی مفت ورژن کے بھی دو لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers