بروکلین برج:- امریکا میں واقع اس پل کا شمار دنیا کے مشہور ترین پلوں میں ہوتا ہے۔یہ نیو یارک ہی نہیں دنیا کے ۲ بڑے مالیاتی مراکز، ’’بروکلین‘‘ اور ’’مین ہٹن‘‘ کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس پل کی تعمیر ۱۸۶۹ء میں شروع اور ۱۸۸۳ء میں مکمل ہوئی۔ اس کی لمبائی ۵۹۸۹ فٹ، چوڑائی ۸۵فٹ اور وزن ۱۴۶۸۰ فٹ ہے۔یہ شاہکار ماہر تعمیرات جان آگسٹس روبلنگ کا تخلیق کردہ ہے۔     تفصیل سے پڑھئے

گولڈن گیٹ برج: اس پل کو امریکی ماہر تعمیر جوزف بی اسٹراس نے تخلیق کیا۔ یہ سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں واقع اور سان فرانسسکو کو بحرالکاہل سے ملاتا ہے۔ اسے دنیا کا لمبا ترین پل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر ۱۹۳۳ء میں شروع ہوکر ۱۹۳۷ء میں مکمل ہوئی۔ لمبائی ۸۹۲۱فٹ ہے۔ اس پل پر سرخ اور نارنجی رنگ استعمال کیا گیا، اس لیے یہ کہر آلود اور دھندلے موسم میں بھی دور سے نظر آتا ہے۔
پونٹ ونیشیوبرج:- اس پل کا شمار دنیا کے قدیم ترین پلوں میں ہوتا ہے۔ یہ پہلے لکڑی سے بنا تھا، مگر ۱۳۳۳ء میں آنے والے سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اٹلی کے شہر وینس میں واقع یہ پل سیاحوں کے لیے بے حد کشش کا باعث ہے ۔ پتھروں سے بنے اس پل پر گھر اور دکانیں بھی واقع ہیں ،جو اسے دوسرے تمام پلوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ سیاحوں کی بڑی تعداد کو اس پر بنے ہوٹلوں میں رہنا پسند ہے۔
ٹاوربرج :لندن میں واقع یہ مشہور پل تقریباً ۸۰۰فٹ لمبا ہے۔ اس کی تعمیر ۱۸۸۶ء میں شروع ہو کر ۱۸۹۴ء میں مکمل ہوئی۔ ٹاور آف لندن کے قریب اور مشہور دریائے ٹیمز پر واقع یہ پل ہاریس جونز اور وولف بیری نامی ماہرین کا تخلیق کردہ شاہکارہے۔ اس کی لمبائی ۸۰۰فٹ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ درمیان سے ۲حصوں میں تقسیم ہوکر اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اس طرح بڑے بحری جہاز بھی بآسانی نیچے سے گزر سکتے ہیں۔
سڈنی ہاربر برج :سڈنی، آسٹریلیا میں واقع یہ پل ’’دی کورٹ ہینگر‘‘ (Hanger Coart The) بھی کہلاتا ہے۔ یہ ۸سال کے عرصے میں ۱۲ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہوا۔ اس کی لمبائی ۳۷۷۰ فٹ ہے۔ سیاحوں کی بڑی تعداد پل دیکھنے کے لیے سڈنی آتی ہے کیونکہ یہاں سے شہر کا نہایت دلفریب منظر نظر آنے کے ساتھ ساتھ بندرگاہ، ساحل اور سڈنی اوپیرا ہائوس کے دل کش نظارے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ خصوصاً نئے سال کے موقع پر یہاں ہونے والی آتش بازی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس پل کا شمار ان پلوں میں ہوتا ہے، جن کی دنیا میں سب سے زیادہ تصویریں بنتی ہیں۔
اوریسنڈ برج :ڈنمارک اور سویڈن کو ملانے والا یہ پل ۲۰۰۰ء میں عام استعمال کے لیے کھولا گیا۔ اس کی لمبائی ۲۵۰۰۰فٹ اور وزن تقریباً ۸۲۰۰۰ٹن ہے۔ اس کا شمار مہنگے ترین پلوں میں بھی ہوتا ہے کیونکہ یہاں سے گزرنے کا ٹول ٹیکس تقریباً ۵۳ڈالر فی کار وصول کیا جاتا ہے۔
کوروناڈو برج :امریکی شہر سان ڈیاگو میں واقع یہ پل ۱۹۶۹ء میں تعمیر ہوا۔ اس کی لمبائی تقریباً ۱۱۲۸۸فٹ ہے۔ اس پل کے متعلق سب سے اہم بات یہ ہے کہ خودکشی کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسی پل کا رخ کرتی ہے۔ اس لیے یہ ’’سب سے مشہور خودکشی پل‘‘بھی کہلاتا ہے۔
میلان وایاڈکٹ برج :فرانس کی وادی تارن میں واقع یہ پل ۲۰۰۴ء میں تعمیر ہوا۔ اس شاہکار کو نارمن فاسٹر نے تخلیق کیا۔ اس پر کھڑے ہوکر دیکھیں تو وادی کا دلفریب منظر نظر آتا ہے۔ اس کا ہر ستون ۱۱۲۵فٹ لمبا اور ۶۲فٹ اونچا ہے۔ دیکھنے میں یہ بہت نازک لگتا اور ہوا میں اڑتا محسوس ہوتا ہے، اس لیے یہ ’’اڑتا پل‘‘ بھی کہلاتا ہے۔ ایفل ٹاور سے بھی اونچا یہ پل انسان کی قابلیت اور ذہانت کی واضح مثال ہے۔
شنگیانگ برج :چین میں دریائے لنکسی (Linxi) پر بنائے گئے ، اس پل کو ۱۹۱۸ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس پل کی خاص بات یہ ہے کہ لکڑی اور پتھروں کی مدد سے کیلوں کے بغیر بنایا گیا۔ یہ پل بھی انتہائی خوبصورت اور آمدورفت کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بھی باعثِ کشش ہے۔
دی فاؤنٹین برج:سیول، جنوبی کوریا میں واقع یہ پل ۱۰ ہزار سے زائد فواروں سے مزین ہے۔ یہ رنگ برنگے فوارے دریا سے فی منٹ ۱۹۰ٹن پانی حاصل کرتے ہیں۔ خوبصورتی کے باعث سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اسے دیکھنے آتی ہے۔ دریائے ہان (Han) پر پہلے یہ ایک سادہ پل تھا۔۹ ستمبر ۲۰۰۸ء میں اس پر فوارے لگائے گئے۔ رات کے وقت مصنوعی روشنیوں اور فواروں کا جادو مزید مسحور کن ہوجاتا ہے، جو سیاح جنوبی کوریا جائے، یہ پل دیکھے بغیر واپس نہیں آتا

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers