استغراق کی تعریف:کسی فکر ، خیال یا کام میں غرق ہوکر سب کچھ بھول جانے کی کیفیت کو استغراق کہتے ہیںیہ لفظ گہری دلچسپی ، محویت اور انہماک جیسے مترادفات کا حامل ہے۔ عربی میں کسی چیز کو مکمل طور حاصل کر لینے کو استغراق کہتے ہیں۔”شعر العجم“ میں اسے تصوف کے مقامات میں سے ایک مقام کہا گیا ہے ”المعجم“ میں استغراقِ صوفی کی اس طرح تعریف کی گئی ہے : ﴾الانشغال بالکلیة بذکر اللّٰہ و تطہیر القلب عما سواہ﴿”کلی طور پر ذکر اللہ میں مشغول ہونا اور قلب کا ما سوی اللہ سے پاک ہونا“۔فارسی ”لغت نامہ¿ دھخدا“ میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے:﴾الاستغراق: ھو عند الصوفیة ان لا یلتفت قلب الذاکر الی الذکر و یعبر العارفون عن ھذہ الحالة عن الفنا﴿”صوفیہ کے نزدیک استغراق یہ ہے کہ ذاکر کا قلب ذکر کرتے وقت ذکر کی طرف ملتفت نہ ہو      تفصیل سے پڑھئے
اور عارفین اس حالت کو ”فنا“ سے تعبیر کرتے ہیں“۔فنا کی تعریف :”فنا سے مراد حق تعالیٰ جلّ ذکرُہ کی ہستی کے شہود کے غلبہ کی وجہ سے ماسوائے حق سبحانہ کو بھول جانا ہے۔“ (معارف لدنیہ ص ۴۰۱) ”رسالہ قشیریہ“ میں فنا کی تین حالتیں بیان ہوئی ہیں : ”پہلا فناءاپنی ذات و صفات سے فناءہوکر صفاتِ حق کے ساتھ باقی رہنا ہے پھر مشاہدہ¿ حق کی وجہ سے صفاتِ حق سے فنا ہونا ہے ۔ پھر وجودِ حق میں کامل فناءکی وجہ سے مشاہدہ¿ حق سے فنا ءہوجانا ہے “۔ (رسالہ قشیریہ ص:۶۶۱)فناءکی یہ تیسری حالت ہی استغراق کہلاتی ہے۔مقصدِ حیات:اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ﴾ وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون﴿ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ عبادت کی وہ تفسیر جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمائی ہے جسے” رسالہ قشیریہ“ میں بھی ذکر کیا گیا ہے اس سے ہٹ کر اگر عبادت کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو عبادت کا منتہیٰ و مقصود کیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴾واعبد ربک حتی یاتیک الیقین﴿ اپنے رب کی عبادت کرتے رہو حتی کہ مرتبہ حق الیقین پر پہنچ جاﺅ۔ اگر یقین کا تاویلی معنی موت بھی کریںجیسا کہ علماءکرام نے کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں یہ بھی فرمان ہے کہ﴾موتوا قبل ان تموتوا﴿(تفسیر روح المعانی پارہ نمبر ۰۳سورة النازعات صفحہ ۴۲،مکتبہ داراحیاءالتراث العربی بیروت، علامہ سید محمود احمد آلوسی متوفی ۰۷۲۱ھجری) مرنے سے پہلے مرجاﺅ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپنے رب کی عبادت اس وقت تک کرتے رہو جب تک تمہیں مرنے سے پہلے مرنے کا مرتبہ نصیب نہ ہوجائے۔ ٭ جو مرن تھیں اگے مرگئے باھُو تاں مطلب نوں پایا ھُو٭ باھُو باجھ مویاں نہیں حاصل تھیندا توڑے سے سے سانگ اتارے ھُو٭ مرئیے مرن تھیں اگے باھُو تاں رب حاصل تھیوے ھُو٭ واہ نصیب اُنہاندا باھُو جہڑا وچ حیاتی مردا ھُو٭ مرن تھیں اگے مر رہے باھُو جنہاں حق دی رمز پچھاتی ھُوحدیث جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے عبادت کا جو طریقہ کار سکھایا ہے اس کو مدّ نظر رکھا جائے تو عبادت کا وہی مفہوم ہی نکلتا ہے جو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مراد لیا ہے۔حدیث جبریل میں احسان کا تذکرہ کرتے ہوئے عبادت کرنے کی دو حالتیں بیان ہوئی ہیں : (۱ )مشاہدہ : اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔﴾اَن± تَع±بُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ﴿ (۲)مراقبہ:اس طرح عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔﴾فَاِن± لَّم± تَکُن± تَرَاہُ فَاِنَّہ¾ یَرَاکَ﴿ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:”احسان کے پہلے مرتبے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے دل پر معرفتِ الٰہیہ کا اس قدر غلبہ ہو اور وہ مشاھدہ¿ حق میں اس طرح کھو جائے گویا اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یہ مقامِ فنا کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ معرفتِ الٰہیہ کے اس مقام پر تو اگرچہ نہ ہو لیکن اس کے ذہن میں ہر وقت یہ بات موجود رہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔“ (فتح الباری)ملا علی قاری لکھتے ہیں:”احسان کا پہلا مرتبہ عارف کے احوال اور اس کے قلب پر ہونے والی واردات کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی سالک پر ایسا حال طاری ہوجائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ احسان کے دوسرے مرتبہ میں عابد کی اس کیفیت کی طرف اشارہ ہے یعنی جس وقت وہ عبادت کرے تو اس علم او ر یقین کے ساتھ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اسے دیکھ رہی ہے۔“ (مرقاة المفاتیح)یہ قلبی واردات، مشاہدات اور احوالِ علم الیقین معرفتِ الٰہیہ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ مراقبہ کے لیے مجاھدہ کرنا چاہیے اس کے بعد مشاھدہ ہے اور مشاھدے کے بعد استغراق ۔حضرت سلطان باھوmنے ایک حدیث نقل فرمائی ہے کہ ”﴾اَل±مُشَاھِدَةُ عَنِ ال±مُجَاھِدَةِ﴿ مشاھدہ مجاہدہ سے حاصل ہوتا ہے “۔ (عین الفقر ۔ ص:۰۳۲)اقبال فرماتے ہیں:ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نوکمال کس کو میسر ہوا بے تگ و دواللہ تعالیٰ نے اس سارے عمل کو ایک حدیث قدسی میں بیان فرمایا :”جس نے مجھے (صدقِ قلب سے) طلب کیا (طلب) پس تحقیق اس نے مجھے پالیا (وجدان)، جس نے مجھے پالیا اس نے مجھے پہچان لیا (معرفت)، جس نے مجھے پہچان لیا اس نے مجھ سے محبت کی (محبت) ، جس نے مجھ سے محبت کی اسے مجھ سے عشق ہوگیا (عشق) ، جسے مجھ سے عشق ہوگیا مَیں اسے قتل کر دیتا ہوں (فنا) ، جسے میں قتل کردوں تو مجھ پر اس کی دیت ہے ۔اس کی دیت ”مَیں“ ہوں( بقا)۔ “(عین الفقر ۔ ص ۔۔۔) قرآن پاک کی آیت ﴾یا ایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلیٰ﴿ کے تحت علامہ ابن عربی فرماتے ہیں کہ :”فنا فی اللہ ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ قصاص دیتا ہے۔اور ﴾ ولکم فی القصاص حیوة﴿سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مذکورہ قصاص دینے میں تمہارے لیے عظیم زندگی ہے وہ عظیم زندگی جس کی کنہہ کی تعریف بیان نہیں ہوسکتی۔“ (تفسیر ابن عربی۔ اردو ترجمہ۔ ج ۱۔ ص ۷۴۲) استغراق کا آغازمراقبہ سے ہوتا ہے۔سلطان العارفین m نے فرمایا:”مراقبہ رقیب سے جدا کرکے وحدتِ خدائے تعالیٰ میں غرق کرنے والے عمل کو کہتے ہیں۔ مراقبہ محبت الٰہی کا نام ہے۔ مراقبہ حی قیوم کا لازوال استغراق بخشتا ہے۔“ (عین الفقرص:۹۳۲) استغراق صرف دل تک ہی محدود نہیں رہتابلکہ پورے وجود کو اپنے احاطے میں لے لیتا ہے ۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے ۔” بندہ نوافل و عبادات کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتاہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوںجس سے وہ سنتا ہے، میں اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ کلام کرتا ہے ، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، میں اس کے پاﺅں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، حتی کہ اس کا دل بن جاتا ہوں جس سے وہ سوچتا ہے۔“ (بخاری ۔ باب ؟ ۔ ج ۔ )مولانا جلال الدین رومی اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں :”اگر دل کو استغراق ہو تو تمام اعضا اس میں محو ہوجاتے ہیں زبان کے محتاج نہیں رہتے ۔ آخر لیلیٰ کا حسن رحمانی نہ تھا وہ جسمانی اور نفسی تھا اور آب و گِل سے تھا۔ اس کے عشق کو اتنا استغراق تھا کہ مجنوں کو اس نے کچھ اس طرح پکڑا اور غرق کیا کہ اسے لیلیٰ کو ظاہر آنکھ سے دیکھنے کی احتیاج نہ تھی اور نہ اس کے کان کو لیلیٰ کی بات سننے کی حاجت تھی کیونکہ وہ لیلیٰ کو اپنے آپ سے جدا نہیں دیکھتا تھا ۔ ۔۔اب معشوق جسمانی میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ اس کا عشق عاشق کو اس حالت تک پہنچا دے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے جدا نہ دیکھے ۔ اس کی ہر حس مکمل طور پر معشوق میں غرق ہوجاتی ہے“۔ ( فیہ ما فیہ ص۷۷)استغراق کا وجود خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔”عین الفقر “ کے حاشیہ میںایک حدیث مذکور ہے: ” ایک رات حضور ﷺ اٹھ کر گھر سے نکلے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا تجسس میں آپ کے تعاقب میں چلی گئیں، دیکھا کہ حضور ﷺ جنت البقیع میں جاکر بیٹھ گئے ہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا واپس پلٹنے لگیںتو حضورﷺ نے ان کی آہٹ پاکر فرمایا کون ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے عرض کی : مَیں عائشہ ہوں۔ فرمایا کون عائشہ؟ عرض کی ابوبکر کی بیٹی۔ فرمایا : کون ابوبکر؟ عرض کی محمدﷺ کا غلام ، فرمایا کون محمد؟ اس پر حضرت عائشہ صدیقہ خاموش ہوکر واپس پلٹ گئیں۔ حضورﷺ کی واپسی پر اس معاملہ پر بات ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا :﴾لِی± مَعَ اللّٰہِ وَق±تµ لَا یَسَعُ فِی±ہِ مَلَکµ مُقَرَّبµ وَلَا نَبِیّµ مُر±سَلµ﴿میرا اللہ کے ساتھ ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے جس میں نہ کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہے نہ کسی نبی مرسل کی۔“ (عین الفقر ۔ ص ۵۸) (شاید اِسی حدیث پاک کے تحت ایک عارف نے یہ شعر ارشاد فرمایای ہے :”لی مع اللہ“ شانِ خود فرمودہمن ندانم بندہ یا حق توئی)ملا علی قاری فرماتے ہیں : ”مذکورہ روایت میں ملک مقرب سے جبرائیل علیہ السلام اور نبی مرسل سے اپنی ذات بابرکا ت مراد ہے اور یہ مقامِ استغراق ہے جسے سکر ، محو اور فنا سے تعبیر کیا جاتا ہے “۔ ( الاسرار المرفوعہ ۔ الزاد المطلوب بتخریج احادیث کشف المحجوب ص۰۲۱ )مولانا رومی mفرماتے ہیں:”استغراق وہ ہوتا ہے کہ غرق ہونے والا خود موجود نہیں رہتا اور نہ وہ جدو جہد کرتا ہے نہ اس سے کوئی فعل صادر ہوتا ہے نہ وہ حرکت کرتا ہے وہ اس پانی میں غرق ہوتا ہے اس حالت میں جو اس سے فعل سرزد ہوتا ہے وہ اس کا فعل نہیںہوتا وہ پانی کا فعل ہوتا ہے۔ اگر وہ پانی میں ہاتھ پاﺅں مارتا ہے تو اسے غرق ہونا نہیں کہتے یا اگر وہ چلاتا ہے کہ ہائے میں غرق ہوگیا تو اسے بھی استغراق نہیں کہتے ۔“ (فیہ ما فیہ ص۸۷ )حضرت سلطا ن باھُوm نے اپنے پنجابی کلام میں جو فرمایا وہ اسی حدیث کی شرح معلوم ہوتی ہے :احدّ جد دتی وکھالی از خود ہویا فانی ھُوقرب وصال مقام نہ منزل ناں اوتھے جسم نہ جانی ھُونہ اوتھے عشق محبت کائی نہ اوتھے کون مکانی ھُوعینوں عین تھیوسے باھوؒ سرّ وحدت سبحانی ھُوحضرت سُلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں : ”غرق فی التوحید ہونامرتبہ محمد رسول اللہ ﷺ ہے جو فقر کی معراج ہے “ ۔ (عین الفقر ص ۱۲۳)ایک بات قابل غور ہے کہ استغراق انسان کی اپنی ہی اس حقیقت تک رسائی کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں ودیعت کی ہے جس کی طرف اشارہ اس حدیث قدسی میں ملتا ہے کہ﴾ اَل±اِن±سَانُ سِرِّی± وَ اَنَا سِرُّہ¾ ﴿کہ انسان میرا راز ہے اور مَیں انسان کا راز ہوں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ ﴾وَ فِی± اَن±فُسِکُم± اَفَلَا تُب±صِرُو±نَ﴿اورحضرت غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر الجیلانی صسے فرمایا:﴾یٰا غَو±ثَ ال±اَع±ظَمُ مَا ظَھَر±تُ فِی± شَی±ئٍ کَظَھُو±رِی± فِی ال±اِن±سَانِ﴿ اے غوث الاعظم (رضی اللہ عنہ )میں کسی شئے میں ایسا ظاہر نہیں ہوا جیسا انسان میں ہوا ہوں ۔ (الرسالة الغوثیہ ص ۵۴)شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی فرماتے ہیں :” انسانی شخصیت تین جہتوں پر مشتمل ہے: بشریت، ملکیت ، مظہریت۔ بشریت کا تعلق عالم خلق سے ہے ملکیت (نورانیت) روح سے عبارت ہے اس کا تعلق عالم امر سے ہے۔ مظہریت دراصل وہ حقیقت بسیط ہے جو مقصودِ ذات کی مظہر اور اس حسنِ مطلق کی جلوہ گاہ ہے جس کے جلوو¿ں سے دامنِ کائنات معمور ہے۔ یہاں بشریت و ملکیت کے سب حجابات مرتفع ہوجاتے ہیں اور تعیناتِ وجود حقیقتِ مجردہ میں گم ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ انسان اپنے تعینات کی نسبت سے فانی اور حقیقتِ قائمہ کی نسبت سے باقی ہوجاتا ہے۔یہی مقام حقیقتِ انسانی ہے اور بشریت و ملکیت اس کے دو حجاب ہیں۔“ (شاہ ولی اللہ اور فلسفہ خودی ص۷)حضرت سلطان باھُو m فرماتے ہیں :ایہہ تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ھُوناں کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ھُوانسان کی اسی حقیقت اور صلاحیت کی بنا پر امام ابن تیمیہ ابونصر المنجی کی خدمت میں ایک خط میں اس بات کایوں اظہار کیا:”سالکین میں سے اکثر لوگ ایسے ہیں جو اپنے سلوک میں اللہ کی کامل ربوبیت اور قیومیت کا مشاھدہ کرتے ہیںاور اسی ربانی توحید میں فنا ہوجاتے ہیں۔۔۔نیز جامع توحید میں بندے کے تین مقام ہیں پہلا مقام فرق و کثرت کا ہے، دوسرا مقام جمع و فنا کا ہے،تیسرا مقام جمع میں تفرقہ اور وحدت میں کثرت کے مشاہدہ کرنے کا ہے۔ یہی تیسرا مقام فنائے کامل کا مقام ہے۔لیکن بعض مغلوب الحال مشائخ کو فنائے قاصر کی حالت میں سکر پیدا ہوا اور ان کی زبان سے سبحانی مااعظم شانی جیسے فقرے سرزد ہوئے۔ اس سکر کی بنا پر بعض لوگوں نے عین حلول و اتحاد کا دعوی کیا“ ۔ (مشاہدہ¿ حق ص۶۶)استغراق کے عالم میں کچھ حضرات سے کلمات شطح وارد ہوئے ہیں جیسے حضرت شاہ منصور کا ”انا الحق“ کہنا اور حضرت بایزید بسطامی کا ”سبحانی ما اعظم شانی“ کہنا جسے ایک طبقہ¿ فکر نے ابن عربی کے فلسفہ¿ وحدت الوجود کے پسِ منظر میں بڑھا چڑھا کر پیش کر کے ابنِ عربی پر اِس کا الزام عائد کرتے رہے ۔اسی لیے اولیاءاللہ کی یہی کوشش رہی ہے کہ محویت اور استغراقیت میں شریعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے جیسا کہ ایک شعرمیں یوںکہا گیا ہے:برکفے جامِ شریعت بر کفے سندانِ عشقہر ہوسناکے نداند جام و سندان باختن”ایک ہاتھ میں جامِ شریعت ہے، ایک ہاتھ میں عشق کی تلوار، ہرہوسناک یعنی شریعت و طریقت کا دعوے دار جامِ شریعت اور تلوارِ عشق کو یکجا نہیں کرسکتا۔“ یہ صرف مردانِ خداکرسکتے ہیںجن کی تعریف کرتے ہوئے حضرت سلطان باھُوm فرماتے ہیں:”سچا عشق حسین ابن علی دا باھُو سر دیوے راز نہ بھنے ھُو“یعنی امام حسین علیہ السلام نے اپنی حقیقت کو پوشیدہ رکھا شریعت کی خلاف ورزی نہیں کی۔ورنہ فقر کے اس شہنشاہ کے لیے زمین و آسمان ایک کرنا کونسا مشکل کام تھا۔ حضرت سلطان باھُوm استغراقِ توحید میں شریعت کی پاسداری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اگر تجھے توحید کامل کا استغراق نصیب ہوجائے تو خبردار کوئی عمل خلافِ شرع اور خلافِ سنت ہرگز نہ کرنا کیونکہ حضور علیہ الصلوة کا فرمان ہے : اگر تم کسی کو ہوا میں اڑتا ہوا پاﺅ یا آگ کے انگارے کھاتا ہوا پاﺅ یا پانی پر چلتا ہوا پاﺅ مگر وہ میری سنت کا تارک ہو تو اسے جوتے مارو کہ وہ شیطان ہے اور جو کچھ اس سے صادر ہو رہا ہے وہ محض مکر و استدراج ہے۔“ (عین الفقر ص:۵۱۱)حضرت ابو سعید ابو الخیر سے ایک دفعہ لوگوں نے کہا :”فلاں شخص پانی پر چلتا ہے، فرمایا یہ کوئی خاص بات تو نہیں مرغ اور ممولا بھی تو پانی پر چلتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ فلاں شخص ہوا میں اڑتا ہے، فرمایا یہ بھی کوئی خاص بات نہیں، چیل اور مکھی بھی ہوا میں اڑتی ہے، پھر لوگوں نے کہا کہ فلاں شخص ایک لمحے میںایک شہر سے دوسرے شہر چلا جاتا ہے، فرمایا شیطان بھی ایک دم میں مشرق سے مغرب چلا جاتاہے ۔ تصوف میں ایسی باتوں کی زیادہ قدر نہیں، مرد تو وہ ہے کہ لوگوں میں بیٹھے معاملات کرے،شادی کرے اور معاشرے میں ملا جلا رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی خدا سے غافل نہ ہو۔“ (نفحات الانس )سلطان العارفینm اپنے عارفانہ کلام میں فرماتے ہیں:نہیں فقیری جھلیاں مارن سُتے لوگ جگاون ھُونہیں فقیری وچ ہوا دے مُصلّا پا ٹھہراوَن ھُونہیں فقیری واندھی ندّی سُکیاں پار لگھاون ھُونام فقیر تنہاں دا باھُو جیہڑے دِل وچ یار ٹکاون ھُوسلطان العارفینm فرماتے ہیں:”جو شخص چاہتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی دوستی نصیب ہوجائے تو اسے چاہیے کہ ہر وقت نماز دائمی (تصور اسم اللہ ذات)میں مشغول رہے۔ اس کا تن، اس کا دل اور اس کا سر غرض اس کے وجود کا ہر عضو تصور اسم اللہ ذات میں غرق رہے۔ اے باھُو ! ہمارے لیے تو نمازِ دائمی بھی ایک حجاب ہے کہ ہم وہ جانباز ہیں جو ہر وقت حضوری¿ حق میں غرق رہتے ہیں۔ اگر کوئی اس مرتبے پر پہنچ جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایک وقت سے دوسرے وقت تک نمازِ وقتی کا منتظر رہے ورنہ اس کا یہ مرتبہ سلب کر لیا جاتا ہے اور وہ استدراج کا شکار ہوجاتا ہے۔ نعوذ باللہ منھا“ ( عین الفقر ص:۵۲۳)نماز بھی استغراق کی ایک صورت ہے ۔ مولانا جلال الدین رومی سے سوال کیا گیا کہ کیا خدا تک پہنچنے کے لیے نماز سے قریب تر بھی کوئی راستہ ہے ؟ تو فرمایا:” صرف نماز ہی ہے لیکن نماز صرف اس ظاہری صورت میں نہیں ہے۔ اس کی یہ ظاہری صورت نماز کا قالب ہے کیونکہ اس میں نماز کا اوّل اور آخر ہے اور جس چیز کا آغاز اور انجام ہو وہ قالب ہے کیونکہ نماز کا آغاز تکبیر اور اس کا آخر سلام ہے۔ اس طرح شہادت یہ نہیں کہ صرف حرفِ زبان سے کہا جائے کیونکہ اس کا بھی اوّل اور آخر ہے اور جو چیز حرف اور صورت میں سما جائے اس کا اوّل اور آخر ضرور ہوتا ہے وہ صورت اور قالب ہے۔ جان بے مثل اور بے انتہا ہے اس کا اوّل اور آخر نہیں ۔ یہ نماز انبیاءکی پیدا کردہ ہے اب وہ نبی جس نے نماز پیدا کی یوں کہتا ہے ”لِی± مَعَ اللّٰہِ وَق±تµ لَا یَسَعُ فِی±ہِ مَلَکµ مُقَرَّبµ وَلَا نَبِیّµ مُر±سَلµ“ میرا اللہ کے ساتھ ایک وقت ایسا ہوتا ہے جس میں کسی مرسل اور مقرب فرشتے کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ پس ہمیں معلوم ہوگیا کہ نماز کی جان صرف ظاہریت نہیں بلکہ استغراق ہے۔“ (فیہ ما فیہ ص۴۳) غوث الاعظم سیّدنا شیخ عبد القادر الجیلانی الحسنی و الحسینی البغدادی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی اے رب:﴾اَیُّ الصَّلٰوةِ اَق±رَبُ اِلَی±کَ قَالَ فَالصَّلٰوةُ الَّتِی± لَی±سَ فِی±ھَا سِوَائِی± وَ ال±مُصَلِّی± غَائِبµ عَن±ھَا﴿”کونسی نماز تیرے زیادہ قریب ہے ؟ کہاوہ نماز جس میں سوائے میرے اور کوئی نہ ہو اور نماز پڑھنے والابھی اس نماز سے غائب ہو“ ۔ (الرسالة الغوثیہ ص ۱۹)باہجھ حضوری نہیں منظوری توڑے پڑھن بانگ صلاتاںھُوروزے نفل نماز گزارن توڑے جاگن ساریاں راتاںھُوباہجھوں قلب حضور نہ ہووے توڑن کڈھن سے زکاتاںھُوباھُو باجھ فنا رب حاصل ناہیں ناں تاثیر جماتاں ھُوجیسا کہ حدیثِ پاک میں آیا ہے : ﴾لا صلوٰة الا بحضور القلب﴿”کہ حضوری¿ قلب کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی “ ۔ (حوالہ) مولانا رومی کی نمازکی یہ کیفیت تھی کہ فرمایا: بخدا خبر ندارم، چو نماز می گزارمکہ تمام شد رکوعے کہ امام شد فلانے”خدا کی قسم جب میں نماز ادا کرتا ہوں تو مجھے ارکانِ نماز کی خبر ہوتی ہے نہ امام کی“۔” حضرت نظام الدین اولیاءپر وفات سے چالیس روز قبل استغراق و تحیر کی کیفیت طاری ہوئی جب استغراق سے آنکھیں کھولتے تو فرماتے کہ آج جمعہ کا دن ہے، دوست کو دوست کا وعدہ یاد آتا ہے، پھر فرماتے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے ، کیا میں نے نماز پڑھ لی ہے؟ لوگ کہتے کہ آپ نماز ادا فرماچکے ہیں، فرماتے پھر پڑھ لیں، ہر نماز کو مکرر ادا کرتے “۔ (اقبال کے محبوب صوفیہ ص ۸۶۲)سُلطان العارفین حضرت سُلطان باھُو صوفیا کا ایک واقعہ نقل فرما کر اُس سے استغراق کے متعلّق نتیجہ اخذ فرماتے ہیں : ”تفسیر اسرار الفاتحہ میں نقل ہے کہ ایک دن حضرت حسن بصری ، حضرت مالک بن دینار ، حضرت شفیق بلخی اور حضرت رابعہ بصریہ ایک مجلس میں جمع ہوئے اور بات صدق کے متعلق چل نکلی۔ حضرت حسن بصری بولے: وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو مولیٰ کی طرف سے دی گئی تکلیف پر صبر نہیں کرتا۔ حضرت رابعہ بصریہ نے فرمایا: اس قول سے بھی خود نمائی کی بو آتی ہے، بات اس سے بڑھ کر ہونی چاہیے ۔ حضرت شفیق بلخی بولے : وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو مولیٰ کی دی ہوئی تکلیف سے لطف اندوز نہیں ہوتا۔ حضرت رابعہ بصریہ نے فرمایا: اس بات سے بھی خود نمائی کی بو آتی ہے۔ حضرت مالک بن دینار بولے وہ شخص طلب مولیٰ میں صادق نہیں جو مولیٰ کی طرف سے دی گئی تکلیف پر شکر نہیں کرتا۔ حضرت رابعہ بصریہ بولیں: وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو مشاہدہ¿ مطلوب میں غرق ہوکر مولیٰ کی طرف سے دی گئی تکلیف کو بھول نہیں جاتا۔ یہ فقیر باھو ان جملہ اولیاءکرام کے جواب میں کہتا ہے : وہ شخص طلب مولیٰ میں صادق نہیں جو خود کو اور مشاہدہ کو بھول کر توحیدِ مولیٰ میں غرق نہیں ہوجاتا۔“ (عین الفقر ۔ ص : ۵۰۴)حضرت سُلطان باھُو کے تفصیلی مطالعہ سے جہاں آپ کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے وہیں آپ کا مختلف صُوفیانہ تصورات پر مسلسل رفعت پذیر فلسفہ سے آشنائی ہوتی ہے ۔ مگر جہاں تک استغراق کے صوفیانہ تصور اور اس پر حضرت سلطان باھُو کی رائے کا تعلق ہے یہ بات بہت واضح ہے کہ آپ معرفت و عرفان اور تصوف و فقر کے کسی بھی مقام پر شریعت کے ایک مستحب کے فوت ہونے کی بھی شدید مخالفت فرماتے ہیں بلکہ ایسے ”استغراق“ کو ”استدراج“ سے تعبیر فرماتے ہیں ۔ آپ خود اپنے متعلق فرماتے ہیں ۔ ہر مراتب از شریعت یافتمپیشوائے خود، شریعت ساختم” میںنے ہر مرتبہ شریعت ہی سے حاصل کیا اور شریعت ہی کو اپنا پیشوا بنائے رکھا “ ۔ یہاں میں نام نہاد ادیبوں اور دانشوروں کے اس رویہ کی طرف قارئین کو ضرور متوجّہ کرنا چاہوں گا کہ جو کلامِ حضرت سُلطان باھُو اور تعلیماتِ حضرت سُلطان باھُو پر وہ دھیان نہیں دیتے وہ کام نہیں کرتے وہ تحقیق و جستجو نہیں کرتے جو کہ دیگر صُوفیا پہ کرتے ہیں ۔ آپ مارکیٹ میں دیکھ لیں کہ کتنے ادبی جرائد ، علمی مجلے اور لسانیات کے رسائل ایسے ہیں جنہوں نے حضرت سُلطان باھُو پر خصوصی نمبر نکالے ہوں ۔ کتنے ادیب ، دانشور یا قلمکار ایسے ہیں جنہوں نے فکرِ حضرت سُلطان باھُو پر جستجو کی ہو (الا ما شااللہ) ۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ نام نہاد پڑھے لکھے اتنے ڈھیٹھ کیوں ہیں؟ ۔ اِس کی بُنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ حضرت سُلطان باھُو نے بھنگوں کے رگڑوں اور ملنگوں کے بھنگڑوں کی شدید الفاظ میں نفی کی ہے آپ نے اسے نہ صرف غیر اسلامی بلکہ شیطانی فعل قرار دیا ہے جبکہ وہ نام نہاد دانشور اور ادیب ”صوفی ازم“ کی اوٹ لے کر اپنے اوپر تمام سفید و سیاہ کو حلال کر لیتے ہیں مخلوط رقص ، استعمالِ منشیات اور اس طرح کی دیگر خرافات کی دلدل میں دھنسے ہوئے صوفی ازم کے نام نہاد نام لیواو¿ں کو عارفوں کے بادشاہ محافظِ دینِ مصطفےٰ حضرت سُلطان باھُو کی تعلیمات بھلا کیسے پسند آسکتی ہیں ۔ حضرت سُلطان باھُو کے الفاظ پھر ملاحظہ فرمائیے :اگر کوئی اس (غرقِ توحید / استغراقِ توحید کے) مرتبے پر پہنچ جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایک وقت سے دوسرے وقت تک نمازِ وقتی کا منتظر رہے ورنہ اس کا یہ مرتبہ سلب کر لیا جاتا ہے اور وہ استدراج کا شکار ہوجاتا ہے۔ “ ( عین الفقر ص:۵۲۳)

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers