ایک مرتبہ کا ذِکر ہے کہ ہندوستان کا ایک مشہور طبیب عباسی خلیفہ منصور کے دربار میں آیا،اِس طبیب کواپنے عِلم و ہُنر پہ بڑا گھمنڈ اور غُرور تھا اِسی لئے وہ دربار میں بیٹھ کر طِب کے اِسرار و رُموز بڑے متکبرانہ انداز میں بیان کر رہا تھا خلیفہ منصور اور اُس کے درباری بڑی دِلچسبی اور توجہ کیساتھ اُس کی باتیں سننے میں مگن تھے- اتفاق سے حضرت اِمام جعفر صادقؑ بھی وہاں تشریف فرما تھے اور اُس کی باتیں خاموشی سے سُن رہےتھے،جب طبیب نے اپنی گفتگو ختم کی تو اِمام صاحب کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ اگر آپ کو کچھ پوچھنا ہو تو آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں تُم سے کیا پوچھوں جبکہ میں تُم سے زیادہ جانتا ہوں،طبیب نے کہا اگر ایسی بات ہے تو پِھر کچھ سُنائیں تا کہ میں بھی سُن سکوں۔     تفصیل سے پڑھئے
آپ نے اِرشاد فرمایا جب کِسی بیماری کا غلبہ ہو تو اس کا عِلاج ضِد سے کرنا چاہئیے یعنی گرم کا عِلاج سرد سے ،تر کا خشک سے اور خشک کا تر سے اور ہر حالت میں اللہ پہ یقین رکھنا چاہئے،یاد رکھ کہ معدہ تمام بیماریوں کا گھر ہے اور پرہیز تمام بیماریوں کی دوا ہے،اِنسان جِس چیز کی عادت اِختیار کر لیتا ہے وہ اس کے مزاج کے موافق اور اس کی صحت کا باعث بن جاتی ہے۔طبیب کہنے لگا بِلاشُبہ آپ نے جو فرمایا ہے وہ ہی اصلی طب ہے،امام صاحب نے فرمایا اِس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو باتیں میں نے کی ہیں وہ طِبی کُتب کا مطالعہ کرنے کے بعد کی ہیں،بلکہ یہ عُلوم مجھے اللہ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں،،اب تُم بتاؤ کہ تمہیں زیادہ عِلم ہے یا مجھے؟ طبیب کہنے لگا مجھے زیادہ عِلم ہے اِمام صاحب نے اُس کا متکبرانہ انداز دیکھ کر فرمایا کہ میں تُجھ سے کچھ سوالات کرتا ہوں مجھے اُن کے جواب دو فرمایا مجھے یہ بتلاؤ کہ آنسوؤں اور رطوبتوں کا مقام سر میں کیوں ہے؟ سر پہ بال کیوں ہوتے ہیں،پیشانی پر بال کیوں نہیں ہوتے؟
ناک دونوں آنکھوں کے درمیان کیوں ہوتا ہے؟ آنکھیں بادامی شکل کی کیوں ہوتی ہیں؟ آنکھوں کے اوپر پلکیں کیوں ہوتی ہیں؟ ناک کا سوراخ نیچے کی طرف کیوں ہوتا ہے؟منہ پر دو ہونٹ کس لئے بنائے گئے ہیں؟سامنے کے دانت تیز اور داڑھ چوڑی کیوں ہے اور اِن کے درمیان لمبے دانت کیوں ہوتے ہیں؟ دونوں ہتھیلیوں پر بال کیوں نہیں؟ مردوں کی داڑھی کیوں ہوتی ہے؟ بال اور ناخن میں جان کیوں نہیں ہوتی؟ دِل کی شکل صنوبری کیوں ہوتی ہے؟ پھیپھڑے دو حِصوں میں کیوں ہیں اور اپنی جگہ حرکت کیوں کرتے ہیں؟جِگر کی شکل محدب کیوں ہے؟ گُردے کی شکل لوبئے کی مانند کیوں ہوتی ہے ؟ گھٹنے آگے کی طرف جھکتے ہیں پیچھے کی طرف کیوں نہیں جھکتے؟ دونوں پاؤں کے تلوے درمیان سے خالی کیوں ہوتے ہیں؟طبیب آپ کے سوالات سُن کر ہکا بکا رہ گیا اور اپنی کم عِلمی کا اعتراف کرتے ہوئے گویا ہوا میں اِن باتوں کے جوابات نہیں جانتا۔۔اِمام جعفر صآدق نے فرمایا اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے میں اِن تمام باتوں کے جوابات جانتا ہوں طبیب نے جُستجو کرتے ہوئے کہا کہ بیان فرمائیے۔۔۔
حضرت اِمام جعفر صادق نے فرمایا اگر آنسوؤں اور رطوبتوں کا مقام سر میں نہ ہوتا تو خُشکی کے سبب سر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا،سر پر بال اِس لئے ہوتے ہیں کہ اِن کی جڑوں سے تیل وغیرہ دِماغ تک پہنچتا رہے اور بہت سے دِماغی انجرے نِکلتے رہیں اور شدید سردی اور شدید گرمی سے سر محفوظ رہے،پیشانی پر بال اِس لئے نہیں ہوتے کہ اِس جگہ سے آنکھوں میں نور پہنچتا ہے،پیشانی پر شِکنیں اِس لئے ہوتی ہیں کہ جو پسینہ سر سے پیشانی پر گِرے وہ آنکھوں میں نہ پڑے،جب پسینہ شِکنوں میں جمع ہو جاتا ہے تو اِنسان اسے پونچھ کر پھینک دیتا ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے زمین پر پانی جاری ہوتا ہے اور گَڑھوں میں جمع ہو جاتا ہے۔آنکھوں کے اوپر پلکیں اس لئے لگائی گئی ہیں کہ ان پر سورج کی روشنی اسی قدر ہی پڑے جِتنی کہ ان کو ضرورت ہو اور ضرورت کے وقت بند ہو کر آنکھوں کی حِفاظت کر سکیں اور سونے میں مدد دے سکیں،تُم نے دیکھا ہو گا کہ اِنسان جب تیز روشنی میں بلندی کی طرف کِسی چیز کو دیکھنا چاہتا ہے تو ہاتھ کو آنکھوں کے اوپر رکھ کر سایہ کر لیتا ہے۔اللہ تعالٰی نے ناک کو دونوں آنکھوں کے درمیان اِس لئے بنایا ہے کہ مجمعِ نور سے روشنی تقسیم ہو کردونوں آنکھوں کو برابر پہنچے۔آنکھیں بادامی شکل کی اِس لئے بنائی گئی ہیں کہ ضرورت کے وقت سِلائی کے ذریعے سے دوا یعنی سُرمہ وغیرہ آنکھوں میں آسانی سے پہنچ سکے،اگر آنکھ گول یا چوکور ہوتی تو اِس میں سلائی کا پِھرنا مشکل ہوتا اور اِس میں ٹھیک طرح سے دوا نہ پہنچ سکتی اور مرض رفع نہ ہوتا،ناک کے نتھنوں کا سوراخ نیچے کی طرف اِس لئے بنایا گیا ہے کہ دِماغی رطوبتیں آسانی سے باہر نِکل سکیں اگر ناک کا سوراخ اوپر کی طرف ہوتا تو یہ بات ممکن نہ ہوتی اور کِسی بھی چیزکی بُو دِماغ تک نہ پہنچ سکتی،منہ پر ہونٹ اِس لئے لگائے گئے ہیں کہ منہ میں جو رطوبتیں دِماغ سے آئیں وہ رُکی رہیں اور کھانا بھی اِنسان کے اِختیار میں رہےجب چاہے پھینک اور تُھوک دے۔مردوں کی داڑھی اس لئے ہوتی ہے کہ مرد اور عورت میں تمیز ہو جائے۔منہ میں اگلے دانت اس لئے تیز ہوتے ہیں کہ کسی چیز کا کاٹنا یا کھٹکنا آسان ہو اور داڑھ اس لئے چوڑی بنائی گئی ہے کہ غذا کو آسانی سے چبایا اور پیسا جا سکے،ان دونوں کے درمیان لمبے دانت اس لئے بنائے گئے تا کہ دونوں کی مضبوطی کا باعث ہوں جِس طرح مکان کی مضبوطی کے لئے ستون ہوتے ہیں۔ہتھیلیوں پر بال اس لئے نہیں ہوتے کہ کسی چیز کو ہاتھ لگانے سے اس کی نرمی سختی،گرمی اور سردی وغیرہ کا آسانی سے پتہ چل سکے،اگر ہتھیلیوں پر بال ہوتے تو پھر مقصد پورا نہ ہوتا،ناخن اور بالوں میں اس لئے جان نہیں ڈالی کہ ان چیزوں کا بڑھنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اور مُضر رساں ہے اگر اِن میں جان ہوتی تو انہیں کاٹتے وقت تکلیف ہوتی، دِل کی شکل صنوبری اس لئے ہے کہ یہ آسانی کیساتھ پھیپھڑے میں داخل ہو سکے اوراسکی ہوا سے ٹھنڈک حاصل کرتا رہے تاکہ اس کے بُخارات دِماغ کو چَڑھ کر امراض پیدا نہ کریں۔پھیپھڑے کے دو حِصے اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ دِل کو دونوں طرف سے ہوا دے سکیں۔جَِگر محدب شکل میں اِس لئے ہے کہ یہ معدے کے اوپر جگہ پکڑے اور اس کی گرمی اور گرانی غذا کو ہضم کرنے میں مدد کا باعث ہو۔گُردے کی شکل لوبئے کی مانند اس لئے ہے کہ نطفہ انسانی پُشت کی طرف سے اس میں آتا ہے اور اس کے پھیلنے اور سکڑنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نکلتا ہے جو لذت کا باعث ہے ۔پیچھے کی طرف گھٹنے اِس لئے نہیں جھکتے کہ چلنے میں آسانی ہو اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان چلتے ہوئے گِر پَڑتا اور اس کے لئے آگے چلنا آسان نہ ہوتا۔ پاؤں کے دونوں تلوے درمیان سے اِس لئے خالی ہوتے ہیں کہ دونوں کِناروں پر بوجھ پَڑنے سے پاؤں آسانی سے اُٹھ سکیں۔طبیب نے جب اِمام صاحب کا کلام سُنا تو ششدر رہ گیا اور کہنے لگا کہ یہ عِلم آپ نے کِس سے سیکھاہے؟آپ نے فرمایا اپنے دادا جان(ع) سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سے سیکھا اور انہیں اللہ تعالٰی نے عطا فرمایا تھا،طبیب نے یہ بات سُنی تو خلوصِ دِل سےکلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا اور آپ کی علمیت اور قابلیت کا دِل سے معترف ہوا۔۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers