تحصیل علی پور کے تاریخی قصبہ سیت پور کا شمار قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ سیت پور، علی پور سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاریخی قصبہ سیت پورذرخیزی کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مرقع ڈیرہ غازی خان اور بندوبست 1872ء محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق اسلام خان نے دریائے سندھ کے دائیں کنارے لودھی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ ڈسٹرکٹ گزٹیئر مظفر گڑھ کی روشنی میں لودھی حکومت کا صدر مقام سیت پور تھا یہ حکومت راجن پور، شکارپور، علی پور اور کوہ سلیمان کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی روایت ہے کہ یہاں کا ایک حکمران بہت ظلم کرتا تھا۔ متاثرہ عوام نے انہیں ’’تابڑ‘‘ کا نام دیا جس کی وجہ سے حکمران’’تابڑ خاندان‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ ڈسٹرکٹ گزٹیئر بہاولپور میں لکھا ہے کہ بہلول لودھی کے چچا اسلام خان لودھی نے جب ریاست کی بنیاد ڈالی تو اس کا صدر مقام سیت پور کو بنایا گیا اس بات کی تصدیق ’’تذکرہ روسائے پنجاب‘‘ سے بھی ہوتی ہے کہ ملتان کے گورنر بہلول لودھی نے اپنے دور میں اپنے چچا اسلام خان کو مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے جنوبی اور سندھ کے شمالی حصے کا ناظم مقرر کیا۔ اسلام خان ثانی اور جلال خان، اسلام خان کے دو بیٹے تھے۔ اسلام خان ثانی سیت پور کی سلطنت کا اور جلال خان نے دکن میں حکمرانی کے مزے لوٹے یوں یہ سلسلہ اسلام خان دوم اکرام خان اور اس کے دو بیٹوں سلطان محمد خان اور شاہ عالم خاں کا چلتا رہا۔ سلطان محمد خان کی حکمرانی اور اصولوں کے ڈنکے طول و عرض میں بجتے تھے پھر اس کے بیٹے طاہر محمد خان نے حکمرانی سنبھالی۔ روایت ہے کہ سخی حکمران ہونے کی وجہ سے یہ ظاہر محمد خان سخی کہلانے لگا۔ اس نے کثیر سرمائے سے اپنے باپ کا مقبرہ اور شاہی مسجد بھی تعمیر کرائی جو اب تک قائم ہے۔ مقبرہ میں طاہر خان سخی اپنے والد سلطان محمد خان کے پہلو میں ابدی نیند سو رہا ہے لیکن اس کے تعمیر کردہ مزار نے اسے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے ہشت پہلو مقبرہ اسلامی طرز تعمیر کا خوبصورت شاہکار اس پر ملتانی ٹائل اور نقاشی کا عمدہ کام کیا گیا ہے۔ کھجور کی لکڑی کا مرکزی دروازہ مضبوطی میں اپنی مثال آپ ہے۔ آپ محرابوں کے راستوں نے اسے ہوا دار اور روشن بنا رکھا ہے۔ اس سے ملحقہ سیت پور کی سب سے بڑی جامع مسجد ہے۔ یہاں بھی ملتانی نقاشی کے عمدہ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جب طاہر خان ثانی کا دور حکومت شروع ہوا تو یہاں کثیر تعداد میں مخادیم آباد تھے جو تابڑ حکومت کی طرف سے مختلف علاقوں میں ناظم مقرر تھے۔ (پاکستان کے آثارِ قدیمہ)

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers