روس یمن کے مسئلے کے پرامن حل کے حق میں ہے۔ باہر سے مداخلت نہ صرف یہ کہ خانہ جنگی کو نہیں روک سکے گی بلکہ پورے خطے کے لیے دشوار ترین اثرات کی حامل بھی ہو گی۔ یمن کے معاملے میں روس کے کیا مقاصد اور مفادات ہیں، خاص طور پر اگر انہیں امریکہ کے ساتھ عالمی سیاسی تنازعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو؟ جب امریکہ نے عظیم تر مشرق وسطٰی کے خطے میں مداخلت کا آغاز کیا تو یمن بھی دوسرے کئی ملکوں کی طرح امریکی ہتھیاروں سے نوازا گیا تھا، روس کے انٹرنیٹ پورٹل "وزگلیاد" نے لکھا۔ امریکہ نے یمن میں جلد ہی "القاعدہ" کے ساتھ وابستہ گروہوں کا پتہ چلا لیا تھا، اگرچہ یہ درحقیقت مقامی بنیاد پرست تھے جو مقامی مسائل سے نمٹتے تھے مگر امریکہ میں یہ سمجھا گیا تھا چونکہ اس کو دہشت گرد تنظیم "القاعدہ" کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے ، اس لیے اس کا حل اس سے وابستہ گروہوں کو برباد کرکے اور اس کے رہنماؤں کو مار کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

نیجتا" جب امریکہ کی جانب سے دہشت گردوں اور جنگجووں کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا گیا تو امریکہ کے ڈرون طیاروں نے کئی سالوں تک یمن کو نشانہ بنائے رکھا۔ اور تو اور امریکہ کو صدر صالح کی جانب سے خصوصی کارروائی کرنے کی بھی رسمی اجازت مل گئی تھی۔ امریکی کبھی کبھار عام شہریوں بشمول بچوں کو بھی نشانہ بناتے رہے۔ ظاہر ہے اس قسم کی کارروائیوں کی وجہ سے صالح کی حکومت کے خلاف ان شہریوں کے شکوے بڑھتے گئے جو وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے مطمئن نہیں تھے۔ پھر امریکہ کے صریح وار بھی مسئلے کو حل نہ کر سکے اس کے برعکس ان کی وجہ سے بنیاد پرست افراد کی حمایت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
امریکی اسلحہ جس کاہدف دہشت گرد نہیں تھے، کی وجہ سے اندرونی تصادم زور پکڑتا گیا۔ اس کے اسباب میں قبائل کے درمیان اختلافات، ملک کے شمال اور جنوب میں اختلاف نظر، سنیوں اور شیعوں میں مغائرت اور بنیاد پرست اور سیکیولر قوتوں کے درمیان کش مکش سب شامل ہیں۔ 2011 میں "بہار عرب" شروع ہونے کے بعد، 1978 سے برسر اقتدار صالح، ملک میں موجود دشوار توازن کو برقرار نہیں رکھ سکے تھے چنانچہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ ان کے اقتدار سے کنارہ کش ہونے کے بعد بھی حالات پرسکون نہیں ہو سکے تھے۔ شیعہ حوثی اور سنی گروہوں نے اپنی عملداری والے علاقے وسیع کرنے کی کوششیں کیں۔ آخر دارالحکومت میں حکومت پر حوثیوں کا قبضہ ہو گیا، امریکی بھاگ نکلے۔
یہ اخذ کر لیا گیا کہ یمن اپنے طور پر اپنے مسئلوں سے نہیں نمٹ سکے گا۔ اس ملک کے ساتھ کچھ زیادہ ہی معاملات بندھے ہوئے ہیں۔ یمن میں عدم استحکام براہ راست سعودی عرب کے لیے خطرہ ہے۔ سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں بھی ویسے ہی شیعہ بستے ہیں جیسے یمن میں۔
دوسری جانب یمن کے ایران کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی سے اچھے ہیں۔ اہل فارس کے لیے شام، عراق ، یمن اور لیبیا محض عرب ممالک نہیں بلکہ وہاں کی آبادیوں میں شیعہ بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ وہاں کے ان لوگوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر وہاں سنیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ایران کو یمن میں لڑنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہاں کے لاکھوں شیعہ اپنی لڑائی آپ لڑ سکتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے حملے کے سبب یمنیوں کی ایک بڑی تعداد حوثیوں کا ساتھ دینے لگے گی۔
اگر سعودی عرب نے یمن میں پیدل دستے بھیج دیے تو ان کی عسکری سازوسامان کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بالادستی انہیں یمن پر قبضہ کر لینے میں مدد گار ثابت نہیں ہوگی۔ یہ کوئی چھوٹا سا بحرین نہیں ہے جہاں فوج بھیج کر معاملات پر قابو پا لیا جائے۔ یمنیوں کے ساتھ فی الواقعی جنگ لڑنا، جن کو عربوں میں سب سے زیادہ جنگجو خیال کیا جاتا ہے، سعودی عرب کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ جانوں کی بہت زیادہ قربانی دینی پڑے گی اور پھر اہم ترین بات یہ کہ الریاض کی حیثیت پر شدید ضرب پڑے گی۔ یمن پر قبضہ کر لینا سعودی عرب کا مطمع نظر نہیں ہے بلکہ وہ وہاں منصور ہادی جیسا کوئی وفادار حاکم لانا چاہے گا۔ مگر مداخلت سے پہلے ہی تمام یمنیوں کی توہین ہو چکی ہے۔ اس لیے ایسا کوئی بھی حاکم ان کے لیے ان سے پہلے والے کی مانند ناقابل قبول ہوگا۔ مداخلت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا جائے گا ، سعودیوں کے لیے مسائل اتنے ہی بڑھتے چلے جائیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ الریاض یہ بات نہ سمجھتا ہو۔
یمن کے معاملے کو صرف شیعہ سنی یا عرب عجم کی لڑائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سمندری کھاڑی باب المندب بہت زیادہ اہم ہے جس کے راستے مشرق وسطٰی سے تیل باہر جاتا ہے۔ اصولی طور پر یمن یہاں سے گذرنے والے ٹینکروں کے راستے میں حائل ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا کام تو وہی کر سکتے ہیں جو مایوس ہوں، مثال کے طور پر اگر سعودیہ کی جانب سے زمینی حملے کے باعث یمنیوں کو شکست ہو جائے تو وہ انتقاما" سعودیہ کے تیل کی آمدورفت میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔ مگر اس کھاڑی میں دخل انداز ہونے کے لیے یمن کے پاس قوت ہے ہی نہیں۔ پھر ایسا مفروضہ بھی محض مفروضہ ہے۔
کچھ زیادہ صادق دوسرے واقعات کی روش ہے۔ سعودیہ کی ناکام مداخلت سے یمن کی سرحد پر اور سعودی عرب کے جنوبی صوبوں میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔ پھر واقعی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی اور عدم استحکام سے پورا سعودی عرب ٹوٹ جائے گا۔ لیکن ایسا ہونے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب بھی اس خطرے کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ امریکہ جس کا سعودی عرب بہت برسوں سے اتحادی رہا ہے، کو بھی اس کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے میں دلچسپی نہیں ہے اور الریاض امریکہ کے لیے ایسے مسائل نہیں پیدا کر سکتا کہ اس کے ملبے پر امریکہ مخالف اسلامی حکومت قائم ہو جائے، چاہے شروع میں یہ حکومت خلافت پر مبنی نہ بھی ہو۔
روس کا اس معاملے میں کیا موقف ہے؟ روس نہ تو یہ چاہتا ہے کہ یمن پر کوئی قبضہ کر لے اور نہ ہی یہ چاہے گا کہ سعودی عرب کا بولو رام ہو جائے۔ روس کو دلچسپی ہے کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی چاہے وہ عسکری نوعیت کی ہو یا سیاسی نوعیت کی، کم ہو۔ روس چاہتا ہے کہ دنیا میں کھیل کے نئے عالمی اصول لاگو ہوں۔
مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے روس نے ظاہر کیا ہے کہ وہ لیبیا اور شام میں بیرونی مداخلت کی طرح کسی بھی بیرونی مداخلت کا مخالف ہے۔
ماسکو اپنی مصالحتی خدمات پیش کر سکتا ہے، حالت کو بند گلی سے نکالنے کی خاطر مذاکرات کا اہتمام کر سکتا ہے جو جلد ہی یمن اور سعودی عرب کی فوج کو کرنے ہونگے۔ جیسا کہ روس کے نائب وزیر خارجہ میخائیل بوگدانوو نے کہا ہے،" ہمارے تمام یمنی فریقوں کے ساتھ روابط ہیں، صدر عبد ربو منصور ہادی کے ساتھ بھی اور ان کے پیشرو علی عبداللہ صالح کے ساتھ بھی اور حوثیوں کے ساتھ بھی"۔ اس مصالحتی عمل میں ماسکو یمن کے مختلف گروہوں کے علاوہ سعودیوں اور ایرانیوں کے اختلاف کم کرانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ وہ ایسی قوت ہے جس کو کسی ملک پر قبضہ کرنے میں دلچسپی نہیں ہے، روسی زبان کے انٹرنیٹ پورٹل "وزگلیاد" نے لکھا۔

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers