"اور کون ہو سکتا ہے؟" امیر تیز آواز میں چیخا۔ "صبح کو ہمیں رپورٹ ملی کہ وہ بخارا واپس آگیا ہے اور رات میں ہماری داشتہ غائب ہو گئی جو اس کی منگیتر تھی۔ اس کے سوا اور کون یہ کر سکتا تھا؟ اس کو تلاش کرو۔ ہر جگہ پہرے داروں کی تعداد تگنی کر دی جائے۔ اس کو محل سے باہر نکلنے کا وقت نہیں ملا ہے۔ ارسلان بیک، یاد رکھو، تمھارے سر کی خیریت نہیں ہے!" تلاش شروع ہو گئی۔ پہرے داروں نے محل کا کونہ کونہ چھان مارا۔ مشعلوں نے اپنے لہراتے ہوئے شعلوں سے سارا محل روشن کر دیا۔ خواجہ نصر الدین ڈھونڈنے والوں میں سب سے پیش پیش تھے۔ انہوں نے قالین اٹھا اٹھا کر دیکھا۔ سنگ مرمر کے حوضوں میں عصا ڈال کر کھنگالا، غل مچایا، دوڑ دھوپ کی اور چائے دانیوں اور صراحیوں میں جھانک جھانک کر دیکھا حتی کہ چوہوں کے بل بھی نہ چھوڑے۔  تفصیل سے پڑھئے
امیر کی خواب گاہ میں جا کر انہوں نے رپورٹ پیش کی "شہنشاہ اعظم، خواجہ نصر الدین محل سے نکل گیا۔"
"مولانا حسین!" امیر نے غصے میں جواب دیا۔ "ہمیں تمھاری لاپروائی پر حیرت ہے۔ مان لو وہ کہیں چھپ گیا ہو تو؟ ارے، وہ تو میری خواب گاہ میں بھی گھس سکتا ہے۔ ارے، پہرے داروں کو بلاؤ، پہرے دارو ادھر آؤ!" امیر چلایا۔ وہ خود اپنے ہی تصور سے ڈر گیا تھا۔
باہر ایک توپ دغی۔ اس کا مقصد ہاتھ نہ آنے والے خواجہ نصر الدین کو خوف زدہ کرنا تھا۔ امیر ایک کونے میں گٹھری بن کر پڑ گیا اور چلانے لگا:
"پہرے داروں کو بلاؤ! پہرے داروں کو بلاؤ!"
اس کا ڈر اسی وقت دور ہوا جب ارسلان بیک نے خواب گاہ کے دروازوں پر تیس پہرے دار تعینات کر دئے اور ہر کھڑکی کے پاس دس دس پہرے دار مقرر کر دئے گئے۔ اب وہ کونے سے باہر نکلا اور فریاد آمیز لہجے میں کہنے لگا:
"مولانا حسین مجھے بتاؤ۔ کیا تمھارا خیال ہے کہ وہ بد معاش میری خواب گاہ میں کہیں چھپا ہے؟"
"دروازوں اور کھڑکیوں پر پہرہ لگا دیا گیا ہے" خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ "اس کمرے میں ہم دو ہیں ۔ خواجہ نصر الدین کہاں ہو سکتا ہے؟"
"اس کو ہماری داشتہ اغوا کرنے کی سزا بھگتنی پڑے گی!" امیر گرجا۔ اب اس کے خوف کی جگہ غصہ لے رہا تھا۔ اس نے اپنی انگلیوں کو اس طرح جھٹکا جیسے وہ خواجہ نصر الدین کا گلا گھونٹ رہا ہو۔ "ارے مولانا حسین" اس نے اپنی بات جاری رکھی "ہمیں بے انتہا غم و غصہ ہے! ہم اس کے پاس ایک بار بھی نہیں گئے۔ اس خیال سے ہمارا دل ملتا ہے۔ یہ سب تمھارے حماقت بھرے ستاروں کا قصور ہے، مولانا۔ اگر ہمارا بس چلتا تو اس گستاخی کے لئے ہم تمام ستاروں کا سر یکدم قلم کروا دیتے۔ لیکن اس بار خواجہ نصر الدین سزا پائے بغیر نہیں جا سکتا۔ ہم ارسلان بیک کو حکم دے چکے ہیں اور مولانا تم بھی اس بد معاش کو گرفتار کرنے کی پوری کوشش کرو! یہ نہ بھولو کہ خواجہ سراؤں کے داروغہ کا معزز عہدہ تمھیں ملنے کا انحصار اس کام میں کامیابی پر ہے۔ کل تم محل سے جاؤ گے اور خواجہ نصر الدین کے بغیر واپس نہیں ہو گے۔"
خواجہ نصر الدین اپنی شرارت آمیز آنکھیں نچاتے ہوئے زمین تک جھک کر تعظیم بجا لائے۔
(۳۳)
باقی رات خواجہ نصر الدین امیر کو اپنے منصوبے بتاتے رہے کہ وہ خواجہ نصر الدین کو کس طرح گرفتار کریں گے۔ یہ منصوبے بڑی چالاکی کے تھے اور امیر ان کو سن کر بہت خوش ہوتا رہا۔
صبح کو خواجہ نصر الدین کو اخراجات کے لئے ایک خریطہ اشرفیوں کا عطا ہوا اور وہ آخری بار اپنے برج کے زینوں پر چڑھے۔ انہوں نے یہ رقم ایک چمڑے کی دھمیانی میں رکھی اور چاروں طرف نظر ڈالی۔ انہوں نے ایک آہ بھری کیونکہ ان کو یہ جگہ چھوڑنے پر اچانک افسوس ہونے لگا تھا۔ انہوں نے اپنی بہت سی بے خواب راتیں نہ جانے کیا سوچتے ہوئے یہاں گزاری تھیں ۔ ان سنگین دیواروں کے پیچھے ان کی روح کا کوئی حصہ ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے گا۔
انہوں نے زور سے دروازہ بند کیا اور نیچے کی طرف زینوں پر بھاگے۔ وہ آزادی کی طرف جا رہے تھے۔ ایک مرتبہ پھر ساری دنیا ان کے سامنے ہو گی۔ سڑکیں ، پہاڑی درے اور راستے ان کو دور دراز کی سیاحت کے لئے پکار رہے تھے۔ سرسبز جنگلات ان کے لئے اپنے سائے اور نرم پتیوں کے قالین پھیلائے کھڑے تھے۔ دریا اپنی خنک پانی سے ان کی پیاس بجھانے کے منتظر تھے۔ چڑیاں اپنے بہترین نغموں سے ان کے خیرمقدم کے لئے تیار تھیں ۔ زندہ دل آوارہ گرد خواجہ نصر الدین کافی دن تک سونے کے پنجرے میں بند رہا تھا۔ دنیا اس کی بڑی کمی محسوس کر رہی تھی۔
جب وہ پھاٹک پر پہنچے تو انہیں ایسا صدمہ ہوا جس سے ان کا دل دہل گیا۔ ان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ ان کو دیوار کا سہارا لینا پڑا۔
کھلے پھاٹک میں پہرے داروں سے گھرے ہوئے ان کے دوستوں کی لمبی قطار لگی تھی۔ ان کے ہاتھ بندھے تھے اور سر ڈھلکے ہوئے تھے۔ اس میں بڈھا کمہار نیاز، چائے خانے کا مالک علی، آہن گر یوسف اور بہت سے دوسرے لوگ تھے جن جن سے ان کی کبھی ملاقات ہوئی تھی، جن کے ہاتھ سے انہوں نے کبھی پانی پیا تھا یا مٹھی بھر گھاس اپنے گدھے کے لئے لی تھی۔ سب وہاں بندھے ہوئے تھے۔ ارسلان بیک اس اندوہناک جلوس کے پیچھے پیچھے تھے۔
جس وقت تک خواجہ نصر الدین کے حواس بجا ہوئے، پھاٹک بند ہو چکے تھے اور صحن خالی تھا۔ قیدی کال کوٹھریوں میں جا چکے تھے۔ خواجہ نصر الدین نے جلدی سے ارسلان بیک کو تلاش کیا۔
"جناب ارسلان بیک، کیا ہوا؟ یہ لوگ کہاں کے ہیں ؟ انہوں نے کیا گناہ کیا ہے؟"
"یہ لوگ پاجی خواجہ نصر الدین کے پناہ دینے والے اور اس کے ساتھ مل کر سازشیں کرنے والے ہیں !" ارسلان بیک نے فاتحانہ انداز میں جواب دیا۔ "میرے جاسوسوں نے ان کا پتہ لگایا ہے اور آج ان کو کھلے عام بری طرح موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا اگر انہوں نے خواجہ نصر الدین کا پتہ نہ بتایا۔ لیکن آپ اتنے زرد کیوں ہیں ، مولانا؟ آپ پریشان معلوم ہوتے ہیں ۔۔۔"
"زرد؟" خواجہ نصر الدین نے حیرت سے کہا۔ "اس کا مطلب یہ ہوا کہ انعام مجھ کو نہیں تم کو ملے گا!"
خواجہ نصر الدین کو مجبوراً محل میں ٹھہرنا پڑا۔ اس کے سوا ان کے لئے کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ معصوم لوگوں کی جان کا خطرہ تھا۔
دوپہر کو چوک پر فوج تعینات ہو گئی۔ اس نے تین تین کی قطاروں میں چبوترے کے چاروں طرف حلقہ بنا لیا۔ مجمع کو نقیبوں نے بتا دیا تھا کہ کچھ لوگوں کو سزائے موت دی جائے گی اور وہ خاموشی سے منتظر تھا۔ صاف آسمان سے چلچلاتی ہوئی دھوپ آ رہی تھی۔
محل کے پھاٹک کھلے اور دستور کے مطابق پہلے آگے آگے دوڑتے ہوئے نقیب آئے، پھر پہرے دار اور ان کے پیچھے سازندے، ہاتھی اور درباری۔ آخر میں امیر کی پالکی آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی آئی۔ سارا مجمع تعظیم کے لئے جھک گیا۔ پالکی چبوترہ تک لائی گئی۔
امیر تخت پر بیٹھ گیا۔ مجرم پھاٹک سے باہر لائے گئے۔ ان کو دیکھ کر مجمع میں ہلکا شور ہوا۔ مجرموں کے رشتے دار اور دوست آگے کی قطاروں میں کھڑے تھے تاکہ وہ اچھی طرح دیکھ سکیں ۔
جلادوں نے اپنے تیشے، نوکیلے ستون اور رسیاں ٹھیک کرنا شروع کر دیں ۔ ان کو پورا دن کام کرنا تھا کیونکہ یکے بعد دیگرے ساٹھ آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا۔
اس جان لیوا جلوس میں بڈھّے نیاز کا نمبر پہلا تھا۔ اس کے دائیں طرف سولی تھی اور بائیں طرف تختہ اور سامنے ایک نوکیلا ستون زمین سے اوپر ابھرا ہوا تھا۔
وزیر اعظم بختیار نے بڑی سنجیدہ اور پاٹ دار آواز میں اعلان کیا:
"اس اللہ کے نام پر جو رحیم و کریم ہے بخارا کے حکمران، آفتاب جہاں ، امیر بخارا نے میزان انصاف میں اپنی رعایا کے ساٹھ افراد کو تولنے کے بعد جو ناپاک امن شکن بانی شر و فساد خواجہ نصر الدین کو پناہ دینے سے متعلق ہیں مندرجہ ذیل حکم دیا ہے:
"کمہار نیاز کو خاص پناہ دینے والے کی حیثیت سے جس کے گھر میں متذکرہ بالا آوارہ گرد خواجہ نصر الدین نے بہت دن تک پناہ لی یہ سزا دی جاتی ہے کہ اس کا سر جسم سے جدا کر دیا جائے۔جہاں تک دوسرے مجرموں کا سوال ہے پہلی سزا تو ان کے لئے یہ ہو گی کہ وہ نیاز کی موت کا نظارہ کریں تاکہ وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک انجام کی توقع کر کے کانپ سکیں ۔ ان میں سے ہر ایک کے لئے موت کے طریقے کا الگ الگ اعلان کیا جائے گا۔"
پورے میدان میں ایسا سناٹا چھایا ہوا تھا کہ بختیار کا ایک ایک لفظ مجمع کی آخری قطاروں تک سنائی دے رہا تھا۔
"اور سب کو یہ معلوم ہونا چاہئے" بختیار نے اپنی آواز اور بلند کرتے ہوئے اعلان جاری رکھا "کہ آئندہ بھی جو کوئی خواجہ نصر الدین کو پناہ دے گا اس کا یہی انجام ہو گا۔ ایک بھی جلاد کے ہاتھوں نہیں بچے گا۔ بہرحال اگر کوئی بھی مجرم اس ناپاک بد معاش کا پتہ بتا دے گا تو وہ نہ صرف اپنی جان کی امان پائے گا بلکہ وہ امیر کے انعام و آ کرام اور دعاؤں کے ساتھ دوسرے مجرموں کی جان بخشی کا باعث بھی ہو گا۔ کمہار نیاز کیا تو خواجہ نصر الدین کا پتہ بتا کر خود اپنے کو اور دوسروں کو نجات دلوائے گا؟
نیاز بڑی دیر تک سرجھکائے خاموش کھڑا رہا۔ جب بختیار نے اپنا سوال دہرایا تو نیاز نے جواب دیا "نہیں ، میں نہیں بتا سکتا کہ وہ کہاں ہیں ۔"
جلادوں نے بڈھّے کو تختے کی طرف گھسیٹا۔ کوئی مجمع سے چیخا۔ بڈھا نیاز جھک گیا، اپنی گردن بڑھا کر اپنا سفید بالوں والا سر تختے پر رکھ دیا۔
اس لمحے خواجہ نصر الدین درباریوں کو ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے آگے بڑھے اور امیر کے سامنے آئے۔
"ولی نعمت!" انہوں نے زور سے کہا تاکہ پورا مجمع سن سکے۔ "حکم دیجئے کہ سزا روک دی جائے۔ خواجہ نصر الدین کو یہاں اور ابھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔"
امیر نے ان کی طرف حیرت سے دیکھا۔ مجمع میں ہلچل ہوئی۔ امیر کے اشارے پر جلاد نے تیشہ اپنے قدموں تک نیچا کر لیا۔
"شہنشاہ اعظم!" خواجہ نصر الدین نے بلند آواز میں کہا۔ "کیا یہ انصاف ہو گا کہ ان حقیر پناہ دینے والوں کو سولی دی جائے اور بڑا پناہ دینے والا کوئی سزا نہ پائے، وہ جس کے گھر میں خواجہ نصر الدین اس زمانے میں رہتے تھے اور اب بھی ہیں ، جو ان کو کھانا دیتا ہے، ان کو انعام دیتا ہے اور ہر طرح ان کی خاطر مدارات کرتا ہے؟"
"تم ٹھیک کہتے ہو" امیر نے شان سے کہا "اگر ایسا پناہ دینے والا ہے تو انصاف کے مطابق اس کا سر سب سے پہلے قلم ہونا چاہئے۔ لیکن ہمیں بتاؤ تو وہ کون ہے، مولانا حسین؟"
سارے مجمع میں چاؤں چاؤں ہونے لگی۔ آگے جو لوگ تھے وہ پیچھے کے لوگوں کو بتانے لگے کہ امیر نے کیا کہا۔
"لیکن اگر امیر اعظم اس بڑے پناہ دینے والے کو سولی نہ دینا چاہیں ، اگر امیر اس کو زندہ رکھنا چاہیں تو کیا ایسی صورت میں ان حقیر پناہ دینے والوں کو سولی دینا انصاف ہو گا؟" خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔
امیر نے اور زیادہ پریشان ہو کر جواب دیا " اگر ہم بڑے پناہ دینے والے کو سولی نہ دینا چاہیں تو واقعی ہمیں دوسروں کو آزاد کر دینا چاہئے۔ لیکن ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا مولانا حسین کہ ہمیں کونسا سبب بڑے پناہ دینے والے کو سولی دینے سے باز رکھ سکتا ہے۔ ہم کو اس کا نام بتاؤ اور ہم فوراً اس کا سر گردن سے اڑا دیں گے۔"
خواجہ نصر الدین مجمع کی طرف مڑے اور انہوں نے کہا:
"آپ نے امیر کے الفاظ سنے؟ بخارا کے حکمران نے فرمایا کہ اگر وہ بڑے پناہ دینے والے کو سولی نہیں دیتے جس کا نام میں ابھی ابھی بتاؤں گا تو ان تمام حقیر پناہ دینے والوں کو جو سولی پر کھڑے ہیں رہا کر دیا جائے گا اور وہ اپنے اپنے گھر والوں سے ملیں گے۔ میں نے سچ عرض کیا ہے نا، عالی جاہ؟"
"تم نے سچ کہا ہے، مولانا حسین" امیر نے تصدیق کی۔ "ہم قول دیتے ہیں اس لئے یہی ہو گا۔ لیکن جلدی کرو اور بڑے پناہ دینے والے کو بتاؤ۔"
"آپ سن رہے ہیں نا؟" خواجہ نصر الدین نے مجمع سے پوچھا۔ "امیر نے قول دیا ہے۔"
انہوں نے گہری سانس لی۔ انہوں نے دیکھا کہ ہزاروں نگاہیں ان کی طرف لگی ہیں ۔
"بڑا پناہ دینے والا۔۔۔" وہ رک گئے اور اپنے چاروں طرف دیکھا۔ بہت سے لوگوں نے ان کے چہرے پر سخت پریشانی اور کوفت کے آثار دیکھے۔ وہ پیاری دنیا، لوگوں اور اپنے پیارے سورج سے رخصت ہو رہے تھے۔
"جلدی کرو!" امیر بے چینی سے چلایا۔ "جلدی بتاؤ، مولانا!"
خواجہ نصر الدین نے پر عزم گونجتی ہوئی آواز میں کہا:
"بڑے پناہ دینے والے۔۔۔ آپ ہیں ، اے امیر!"
اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنا عمامہ اتار کر پھینک دیا اور اپنی مصنوعی داڑھی نوچ ڈالی۔
سارا مجمع ہکا بکا رہ گیا، اس میں ایک لہر سی پیدا ہوئی اور پھر مکمل سناٹا چھا گیا۔ امیر کی آنکھیں نکل پڑیں ، اس کے ہونٹوں میں حرکت ہوئی لیکن کوئی آواز نہیں نکلی۔ درباری اس طرح کھڑے تھے جیسے پتھرا گئے ہوں ۔
لیکن یہ خاموشی مختصر تھی۔
"خواجہ نصر الدین! خواجہ نصر الدین!" مجمع میں غلغلہ مچ گیا۔
"خواجہ نصر الدین!"درباریوں نے سرگوشی میں کہا۔
"خواجہ نصر الدین!"ارسلان بیک حیرت سے بولا۔
آخرکار امیر کے حواس اتنے بجا ہوئے کہ وہ بھی دھیمی آواز میں بڑبڑا سکا:
"خواجہ نصر الدین!"
"ہاں ، بذات خود۔ اچھا تو عالی جاہ حکم دیجئے ان کو کہ یہ آپ کا بڑے پناہ دینے والے کی حیثیت سے سرقلم کر دیں ! میں آپ کے محل میں رہتا تھا۔ میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا اور آپ سے انعامات حاصل کئے۔ میں آپ کا تمام امور میں خاص اور قریبی مشیر رہا۔ امیر، آپ پناہ دینے والے ہیں ۔ حکم دیجئے کہ وہ آپ کا سر قلم کر دیں !"
خواجہ نصر الدین پکڑ لئے گئے۔ ان کے ہاتھ باندھ دئے گئے لیکن انہوں نے چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے زور سے کہا "امیر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجرموں کو رہا کر دیں گے! آپ سب نے امیر کو قول دیتے سنا تھا!"
مجمع میں غل غپاڑہ ہونے لگا اور وہ آگے بڑھنے لگا۔ پہرے داروں کا تہرا حلقہ ان کو روکنے کے لئے پورا زور لگا رہا تھا۔ لوگ زیادہ زور زور سے چیخ رہے تھے:
"معتوبوں کو رہا کرو!"
"امیر نے قول دیا تھا!"
"رہا کرو!"
شور و غل بڑھ رہا تھا۔ پہرے داروں کا حلقہ ٹوٹنے لگا۔
بختیار نے جھک کر امیر سے کہا:
"آقائے نامدار، ان لوگوں کو آزاد کر دینا چاہئے ورنہ عام بغاوت ہو جائے گی۔"
امیر نے سر ہلا دیا۔
" امیر اپنے قول پر قائم ہیں !" بختیار نے چلا کر کہا۔
پہرے داروں نے راستہ دے دیا اور معتوب لوگ فوراً مجمع میں غائب ہو گئے۔
خواجہ نصر الدین کو محل لے جایا گیا۔ بہت سے لوگ مجمع میں ان کے پیچھے روتے چلاتے رہے:
"خدا حافظ خواجہ نصر الدین! الوداع، پیارے، شریف دل خواجہ نصر الدین! آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے!"
خواجہ اپنا سر اونچا کئے ہوئے چل رہے تھے۔ ان کے چہرے سے نڈرپن کا اظہار ہوتا تھا۔ پھاٹک پر وہ مڑے، رخصت ہوتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔ مجمع نے ایک زور کا نعرہ لگایا۔
امیر جلدی جلدی اپنی پالکی میں بیٹھ گیا اور شابی جلوس واپس ہو گیا۔
(۳۴)
خواجہ نصر الدین کا فیصلہ کرنے کے لئے مخصوص دیوان طلب کیا گیا۔
جب وہ سخت پہرے میں ہتکڑیاں پہنے ہوئے داخل ہوئے تو سارے درباریوں نے آنکھیں جھکا لیں ۔ ان کو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے شرم آتی تھی۔ دانا بھی تیوریاں چڑھائے اپنی داڑھیاں سہلا رہے تھے۔ امیر نے بھی منہ موڑ کر گہری سانس لی اور اپنا گلا صاف کرنے لگا۔
لیکن خواجہ نصر الدین بڑی جرأت کے ساتھ نگاہ ملا کر سب کو دیکھ رہے تھے۔ اگر ان کے ہاتھ پیچھے نہ بندھے ہوتے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ملزم وہ ہیں بلکہ یہ سب لوگ جو مجرم نظر آتے تھے جو ان کے سامنے بیٹھے تھے۔
بغداد کا دانا اصل مولانا حسین جو آخرکار اپنی قید سے نجات پاچکا تھا اس مجلس میں دوسرے درباریوں کے ساتھ حاضر تھا۔ خواجہ نصر الدین نے اس کی طرف دوستانہ انداز میں آنکھ ماری جس پر بغداد کا دانا اپنی جگہ پر کسمسایا اور غصے میں گہری سانس لی۔
فیصلہ ہونے میں دیر نہیں لگی۔ خواجہ نصر الدین کو سزائے موت دی گئی۔ صرف یہ طے کرنا باقی رہ گیا کہ ان کو کس طرح موت کے گھاٹ اتار ا جائے۔
"شہنشاہ اعظم" ارسلان بیک نے کہا "میرے خیال میں مجرم کو نوکیلے ستون پر بٹھا کر مارنا چاہئے تاکہ اس کی زندگی کا خاتمہ سخت کرب کی حالت میں ہو۔"
خواجہ نصر الدین نے اپنا رویاں بھی نہیں ہلایا۔ وہ خوش خوش مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اپنا چہرہ ایک سورج کی کرن کی طرف کر لیا جو اوپر کی کھلی ہوئی کھڑکی سے ہال میں آ رہی تھی۔
"نہیں "امیر نے قطعی طور پر کہا "ترکی کے سلطان اس کافر کو نوکیلے ستون پر بٹھا کر ختم کرنے کی کوشش کر چکے ہیں ۔ غالباً وہ اس طرح کی موت سے بچنے کی صورت جانتا ہے، نہیں تو بھلا یہ سلطان کے ہاتھ سے زندہ جان کیسے نکل سکتا تھا!"
بختیار نے مشورہ دیا کہ اس کا سر قلم کر دیا جائے۔
"یہ سچ ہے کہ بہت ہی آسان موت ہو گی" اس نے کہا "لیکن یہ سب سے یقینی بھی ہے۔"
"نہیں " امیر نے کہا "خلیفہ بغداد نے اس کا سر قلم کروا دیا لیکن وہ ابھی تک زندہ ہے۔"
یکے بعد دیگرے درباری اٹھ اٹھ کر اپنی تجویزیں پیش کرنے لگے۔ کوئی کہتا کہ ان کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو کوئی یہ مشورہ دیتا کہ ان کی کھال کھنچوائی جائے۔ اس نے خواجہ نے چہرے پر خوف کی کوئی نشانی نہ دیکھ کر یہ سمجھا کہ ان طریقوں کے ناکافی ہونے کا یہی ثبوت ہے۔
درباری لاچار ہو کر خاموش ہو گئے۔ امیر کے چہرے پر بے صبری اور غصے کے آثار نظر آنے لگے۔
بغداد کا دانا اٹھا۔ چونکہ وہ پہلی مرتبہ امیر کے سامنے زبان کھولنے جا رہا تھا اس لئے اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے مشورہ کو تول لیا تھا تاکہ اپنے عقل و دانش کی برتری کا مظاہرہ کر سکے۔
"جہاں پناہ! اگر یہ مجرم ابھی تک تمام سزاؤں سے صحیح سلامت بچ نکلتا ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کو ارواح خبیثہ سے، تاریکی کی ایسی بد روحوں سے مدد ملتی ہے جن کا نام امیر کی موجودگی میں لینا گستاخی ہو گی؟"
یہ کہہ کر دانا نے اپنے شانوں کے پر دعا پڑھ کر پھونکی جس کی پیروسی خواجہ نصر الدین کے سوا سب نے کی۔
"مجرم کے بارے میں تمام معلومات پر غور و خوض کرنے اور تولنے کے بعد" دانا نے اپنی بات جاری رکھی "ہمارے امیر نے اس کو موت کی سزا دینے کے تمام طریقوں کو اس خوف سے مسترد کر دیا ہے کہ ارواح خبیثہ پھر مجرم کی مدد کریں گی اور وہ منصفانہ سزا سے بچ جائے گا۔ لیکن سزائے موت کا ایک اور طریقہ بھی ہے جو مبینہ ملزم پر نہیں آزمایا گیا اور وہ ہے۔ ڈبو دینا!"
بغداد کے دانا نے فخر سے سر اٹھا کر سارے مجمع کو دیکھا۔
خواجہ نصر الدین ہلکے سے چونک پڑے اور امیر نے اس حرکت کو دیکھ لیا " اچھا! تو یہ تھا اس کا راز"
اس دوران خواجہ نصر الدین سوچ رہے تھے:
"یہ بری اچھی علامت ہے کہ ان لوگوں نے ارواح خبیثہ کا ذکر چھیڑ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی امید نے بالکل سانس نہیں توڑ دی ہے۔"
"میں نے جو کچھ سنا اور پڑھا ہے اس سے مجھے علم ہے" دانا نے اپنی بات جاری رکھی "کہ بخارا میں ایک مقدس تالاب ہے جس کو شیخ احمد کا تالاب کہتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ارواح خبیثہ اس تالاب کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتیں ۔ اس لئے جہاں پناہ، اس کا یہ مطلب ہوا کہ مجرم کو کافی دیر تک اس مقدس پانی میں ڈبوئے رکھا جائے۔ اس کے بعد وہ مر جائے گا۔"
"یہ مشورہ انعام کے قابل ہے!" امیر نے کہا۔
خواجہ نصر الدین نے مولانا حسین سے مخاطب ہو کر ملامت آمیز لہجے میں کہا:
"مولانا حسین! جب تم میرے بس میں تھے تو کیا میں نے تمھارے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا تھا؟ اس کے بعد انسان کیسے کسی کے احسان کا اعتبار کر سکتا ہے!"
یہ طے کیا گیا کہ خواجہ نصر الدین کو غروب آفتاب کے بعد شیخ احمد کے مقدس تالاب میں سر عام ڈبو دیا جائے گا۔ اس خیال سے کہ وہ راستے میں بھاگ نہ سکیں ان کو ایک چمڑے کے تھیلے میں تالاب تک لے جایا جائے گا اور اسی میں ان کو دبو دیا جائے گا۔
۔۔۔سارے دن بڑھئیوں کے بسولے تالاب کے کنارے گونجتے رہے جہاں ایک پلیٹ فارم بنایا جا رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ امیر کو وہاں پلیٹ فارم کی کیوں ضرورت ہے لیکن ان کے لئے چارہ ہی کیا تھا جب ہر بڑھئی کے سر پر ایک پہرے دار سوار تھا؟ وہ خاموشی سے کام کر رہے تھے۔ ان کے چہرے افسردہ اور ملول تھے۔ جب کام ختم ہو گیا تو ان کو جو معمولی اجرت دی جا رہی تھی وہ اس سے انکار کر کے سرجھکائے وہاں سے چلے گئے۔
پلیٹ فارم اور تالاب کا وہ کنارہ جس پر پلیٹ فارم تھا قالینوں سے ڈھک دئے گئے۔ سامنے کا کنارہ عام لوگوں کے لئے چھوڑ دیا گیا۔
جاسوسوں نے مخبری کی کہ سارے شہر میں بڑا ہنگامہ ہے۔احتیاط کے لئے ارسلان بیک نے تالاب کے چاروں طرف بے شمار سپاھی تعینات کر دئے اور توپیں لگا دیں ۔ اس ڈر سے کہ مبادا لوگ خواجہ نصر الدین کو راستے میں نہ چھڑا لیں ارسلان بیک نے چار بورے چیتھڑوں سے بھر وا لئے۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ وہ ان چاروں بوروں کو عام سڑکوں سے علانیہ تالاب تک بھیجے گا اور جس بورے میں خواجہ نصر الدین ہوں گے اس کو ویران گلیوں سے لایا جائے گا۔ اس نے اپنے پر فن منصوبے میں یہ اضافہ کیا کہ نقلی بوروں پر تو آٹھ آٹھ پہرے دار رکھے اور اصلی کے ساتھ صرف تین۔
"میں تمھیں تالاب سے ہرکارہ بھیجوں گا" ارسلان بیک نے پہرے داروں سے کہا "اور تم نقلی بورے فوراً یکے بعد دیگرے روانہ کر دینا اور پانچواں جس میں مجرم ہو گا ذرا بعد میں اس طرح بھیجنا کہ لوگوں کی توجہ اس طرف نہ جائے، اس وقت جبکہ پھاٹک کا مجمع نقلی بوروں کے پیچھے ہولے، سمجھے نا؟ یاد رکھو کہ یہ تمھارے سر دھڑ کا سوال ہے۔"
شام کو نقاروں کی گونج نے بازار ختم ہونے کا اعلان کیا۔ ہر طرف سے لوگوں کا سیلاب امنڈ کر تالاب کی طرف چلا۔جلد ہی امیر بھی اپنے ماہی مراتب کے ساتھ پہنچ گیا۔ پلیٹ فارم پر اور اس کے چاروں طرف مشعلیں جلا دی گئیں ۔ ان کی لوئیں ہوا میں پھن پہنا اور لہرا رہی تھیں اور پانی پر خونیں شعاعیں ڈال رہی تھیں ۔سامنے والا کنارہ تاریکی میں غلطاں تھا۔ پلیٹ فارم سے مجمع تو نہیں دکھائی دیتا تھا لیکن اس کے چلنے پھرنے کی ہلچل تو سنائی دے رہی تھی جو رات کی ہوا کے جھونکوں میں غیر واضح اور بےچین آوازوں کا اضافہ کر رہی تھی۔
بختیار نے پاٹ دار آواز میں خواجہ نصر الدین کی سزائے موت کے لئے امیر کا فرمان پڑھا۔ اس لمحے ہوا بھی ساکن ہو گئی اور ایسی مکمل خاموشی چھا گئی کہ تقدس مآب امیر کا دل بھی کانپ اٹھا۔ پھر ہوا نے آہ بھری اور اس کے ساتھ ہزاروں سینوں سے بھی آہ نکلی۔
"ارسلان بیک" امیر نے گھبرا کر کہا "دیر کیوں ہو رہی ہے؟"
"عالی جاہ! میں نے ہرکارہ روانہ کر دیا ہے۔"
اچانک اندھیرے سے غل غپاڑے اور ہتھیاروں کی جھنکار کی آواز آئی۔ کہیں لڑائی چھڑ گئی تھی۔ امیر اچھل پڑا اور چاروں طرف دیکھنے لگا۔ ایک منٹ بعد پلیٹ فارم کے سامنے روشنی کے حلقے میں آٹھ پہرے دار خالی ہاتھ آئے۔
"مجرم کہاں ہے؟" امیر گرجا۔ "انہوں نے پہرے داروں سے چھین لیا! وہ بھاگ نکلا! یہ سب تیری وجہ سے ہوا، ارسلان بیک!"
"عالی جاہ!" ارسلان بیک نے جواب دیا۔ "آپ کا ناچیز غلام یہ سب پہلے سے جانتا تھا۔ بورا تو پرانے چیتھڑوں سے بھرا تھا۔"
سامنے والے کنارے سے پھر لڑائی کی آواز آ رہی تھی۔ ارسلان بیک نے جلدی جلدی امیر کو اطمینان دلایا:
"آقائے نامدار! ان کو بورا لے جانے دیجئے۔ یہ بھی پرانے چیتھڑوں سے بھرا تھا۔"
پہلا بورا تو پہرے داروں سے چائے خانے کے مالک علی اور اس کے دوستوں نے چھینا تھا اور دوسرا یوسف کی قیادت میں آہن گروں نے۔ پھر کمہاروں نے تیسرا بورا چھینا۔ لیکن اس میں صرف چیتھڑے بھرے تھے۔ چوتھے بورے کو پہرے دار بلا روک ٹوک لے گئے۔ پہرے داروں نے اس کو مشعلوں سے روشن پانی پر سارے مجمع کے سامنے الٹ دیا۔ وہ چیتھڑوں سے بھرا تھا۔
پریشان اور متحیر مجمع خاموش کھڑا تھا۔ یہ تھا ارسلان بیک کا منصوبہ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تذبذب کا نتیجہ لاچاری ہوتا ہے۔
اب پانچویں بورے سے نبٹنے کا وقت آگیا تھا۔ اس دوران میں ان پہرے داروں کو جو اسے لا رہے تھے راستے میں دیر ہو گئی تھی اور وہ ابھی تک نہیں آئے تھے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers