سود خور کو اس طرح بیوقوف بنا کر خواجہ نصر الدین محل واپس روانہ ہوئے۔ دن بھر کی محنت مشقت کے بعد بخارا کے لوگ سونے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ گلیوں میں خنکی اور اندھیرا تھا اور پلوں کے نیچے پانی کی موسیقی گونج رہی تھی۔ بھیگی مٹی کی سوندھی مہک پھیلی ہوئی تھی اور خواجہ نصر الدین کا پیر کیچڑ میں جا بجا پھسل رہا تھا کیونکہ کسی فیاض سقے نے بڑی دریا دلی سے سڑک پر چھڑکاؤ کیا تھا تاکہ صحنوں اور چھتوں پر تھکے ہارے آرام کرنے والوں کو گرد آلود ہوا نہ ستائے۔ اندھیرے میں لپٹے ہوئے باغ اپنی خوشگوار مہک دیواروں کے پار تک پہنچا رہے تھے۔ دور دراز آسمان پر ستارے خواجہ نصر الدین کی طرف آنکھیں جھپکا جھپکا کر ان کی کامیابی کا وعدہ کر رہے تھے۔   تفصیل سے پڑھئے
"ہاں " انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا "بہرحال دنیا کوئی ایسی بری جگہ نہیں ہے! کم از کم ایسے آدمی کے لئے تو نہیں جس کے دماغ ہو، خالی کدو نہیں ۔"
راستے میں وہ بازار کی طرف مڑ گئے اور اپنے دوست علی کے چائے خانے میں انہوں نے مہمان نواز روشنیاں چمکتے ہوئے دیکھیں ۔ انہوں نے دروازے پر دستک دی مالک نے ان کے لئے دروازہ کھول دیا۔ دونوں گلے ملے اور ایک اندھیرے کمرے میں چلے گئے۔ پتلی دیوار کے دوسری طرف سے باتوں ، ہنسی اور برتنوں کی کھن کھناہٹ کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ علی نے دروازہ بند کر کے ایک چراغ جلا دیا۔
"سب تیار ہے" اس نے چپکے سے کہا۔ میں گل جان کا چائے خانے میں انتظار کروں گا۔ یوسف آہن گر نے اس کے چھپنے کے لئے ایک محفوظ جگہ تیار کر لی ہے۔ تمھارے گدھے پر دن رات کاٹھی کسی رہتی ہے۔ وہ بہت اچھا ہے۔ خوب کھاتا ہے اور موٹا ہو گیا ہے۔"
"علی، تمھارا بہت بہت شکریہ۔ تمھارے احسان کے بار سے میں کبھی سبکدوش نہیں ہو سکوں گا۔"
"ارے ہاں " علی نے کہا۔ "خواجہ نصر الدین تم جو کچھ چاہتے ہو ہمیشہ کر لیتے ہو۔ اس لئے احسان وحسان کی بات چھوڑو۔"
یہ دونوں بیٹھ کر چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے رہے۔ علی نے گل جان کے لئے ایک مردانہ لباس دکھایا اور ایک بڑا سا عمامہ جو اس کے بالوں کو چھپا سکے۔
ہر بات پوری تفصیل سے طے ہو گئی۔ خواجہ نصر الدین رخصت ہونے والے تھے کہ انہوں نے دیوار کے دوسری طرف ایک جانی پہچانی آواز سنی۔ چائے خانے کی طرف کھلنے والے دروازے کو انہوں نے ذرا کھولا اور کان لگا کر سننے لگے۔ یہ چیچک رو جاسوس کی آواز تھی۔ خواجہ نصر الدین نے دروازہ اور کھول دیا اور دیکھنے لگے۔
چیچک رو جاسوس ایک بھاری قبا پہنے، سر پر عمامہ رکھے اور مصنوعی داڑھی لگائے کچھ آدمیوں کے درمیان گھرا بیٹھا تھا اور بہت اہم بن کر کہہ رہا تھا:
"جو آدمی اپنے کو خواجہ نصر الدین کہتا ہے وہ جعل ساز ہے۔ میں اصلی خواجہ نصر الدین ہوں لیکن میں نے بہت دن ہوئے اپنی بری حرکتوں سے توبہ کر لی ہے کیونکہ میری سمجھ میں آگیا ہے کہ وہ واقعی بری اور ناپاک تھیں ۔ اس لئے میں یعنی اصلی خواجہ نصر الدین تم کو مشورہ دیتا ہوں کہ تم بھی میری مثال کی پیروی کرو اور میری طرح خیال کرو کہ ہمارے معظم، مانند آفتاب امیر واقعی زمین پر اللہ کے نائب ہیں جس کا ثبوت ان کی بے نظیر دانش مندی اور رحم و کرم ہے۔ میں ، اصلی خواجہ نصر الدین تم کو یہ بتاتا ہوں ۔"
"اچھا!" خواجہ نصر الدین نے علی کو کہنی مارتے ہوئے کہا۔ "تو اب یہ ہو رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میں شہر چھوڑ کر جا چکا ہوں ۔ میں ذرا ان کو اپنی یاد تو دلاتا چلوں ۔ علی، میں اپنی داڑھی، مرصع قبا اور عمامہ اس کمرے میں چھوڑے جاتا ہوں ۔ مجھے کچھ پرانے کپڑے دے دو۔"
علی نے ان کو گندی، چیلڑوں سے بھری ایک پھٹی قبا دے دی جو مدتوں ہوئے اپنی خدمات انجام دے چکی تھی۔
"کیا تم چیلڑ پالتے ہو؟" خواجہ نصر الدین نے قبا پہنتے ہوئے سوال کیا۔ "شاید تم ان کی دوکان کھولنے والے ہو لیکن یہ اس سے پہلی ہی تم کو چٹ کر جائیں گے، دوست۔"
پھر خواجہ نصر الدین باہر سڑک پر نکل گئے اور چائے خانے کا مالک اپنے گاہکوں کے پاس آ کر آئندہ ہونے والے واقعات کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔ اس کو زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ خواجہ نصر الدین ایک گلی سے آئے۔ وہ اس طرح تھکے تھکے سے اندر داخل ہوئے جیسے تمام دن سفر کیا ہے۔ وہ چائے خانے کے زینوں پر چڑھے اور ایک اندھیرے گوشے میں بیٹھ کر چا مانگی۔ کسی نے ان کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کی۔ بخارا کی سڑکوں پر تو طرح طرح کے لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔ چیچک رو جاسوس اب بھی اپنی ہانک رہا تھا:
"میری غلطیاں بے شمار ہیں لیکن اب میں ، خواجہ نصر الدین ان پر نادم ہوں اور قسم کھائی ہے کہ میں پاکباز رہوں گا، تمام اسلامی ہدایات پر عمل کروں گا اور امیر، ان کے وزیروں ، صوبے داروں اور پہرے داروں کا حکم مانوں گا۔ یہ طے کرنے کے بعد میرے ذہن کو بڑا سکون اور خوشی مل رہی ہے اور میری دنیاوی ملکیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پہلے میں ایک آوارہ گرد تھا جس کو ہر ایک حقیر سمجھتا تھا اور اب میں ایک نیک مومن کی طرح زندگی گزار رہا ہوں ۔"
ایک ساربان نے جس کے پٹکے میں چابک لگی ہوئی تھی بڑے ادب سے اس کو چا کی پیالی پیش کی اور کہا:
"بے نظیر خواجہ نصر الدین ، میں قوقند سے بخارا آیا ہوں ۔ میں نے آپ کی دانشمندی کے بارے میں سنا تو تھا لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ کسی دن آپ کی زیارت ہو گی، حتی کہ بات چیت بھی ہو گی۔ اب میں ہر ایک سے کہوں گا کہ آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تھی اور جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ بھی ان کو بتاؤں گا۔"
"اچھی بات ہے" چیچک رو جاسوس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے سرھلایا "ہر ایک سے کہنا کہ خواجہ نصر الدین اب سدھر گئے ہیں ، انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی ہے اور پاکباز مسلمان بن کر امیر کے سچے خادم ہو گئے ہیں ۔ جس سے بھی تمھاری ملاقات ہو سبھی کو یہ خوش خبری سنانا۔"
"میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ، بے مثال خواجہ نصر الدین " ساربان بولا۔ "میں سچا مسلمان ہوں اور انجانے میں بھی قانون کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مان لیجئے میں نہا رہا ہوں اور اذان کی آواز سنائی دیتی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہئے۔ کس طرف کا رخ مجھے کرنا چاہئے؟"
چیچک رو جاسوس بڑے مربیانہ انداز میں مسکرایا اور بولا:
"مکے کی طرف قطعی طور پر۔۔۔"
تاریک کونے سے آواز آئی:
"اپنے کپڑوں کی طرف تاکہ گھر ننگے نہ جاؤ۔"
اس احترام کے باوجود جو جاسوس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دیا تھا ساری محفل نے مسکراہٹ چھپانے کے لئے سرجھکا لیا۔
جاسوس نے خواجہ نصر الدین کو غور سے دیکھا لیکن دھندلکے میں پہچان نہ سکا۔
"اس کونے میں کون بھونک رہا ہے؟" اس نے غرور سے پوچھا۔ "اے، بھک منگے، کیا تو خواجہ نصر الدین کے مقابلے میں اپنی عقل آزمانے کی کوشش کر رہا ہے؟"
"اس کے لئے میں ایک بہت چھوٹا آدمی ہوں " خواجہ نصر الدین نے چا پیتے ہوئے جواب دیا۔
اب ایک کسان نے پوچھا:
"محترم خواجہ نصر الدین بتائیے کہ کسی جنازے میں حصہ لیتے ہوئے اسلام کے مطابق کس جگہ کھڑے ہونا بہتر ہو گا۔ جنازے کے آگے یا پیچھے؟"
جاسوس نے بڑے اہم انداز میں ایک انگلی اٹھائی۔ وہ جواب دینے کی تیاری کر رہا تھا کہ اس سے پہلے ہی کونے سے آواز آئی "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم جنازے کے آگے ہو یا پیچھے بشرطیکہ تم خود تابوت کے اندر نہ ہو۔"
چائے خانے کا ملک جو مزاحیہ باتوں سے بڑا لطف لیتا تھا اپنا پیٹ دونوں ہاتھوں سے تھام کر بیٹھ گیا اور فلک شگاف قہقہے لگانے لگا۔ دوسرے بھی اپنی ہنسی نہ روک سکے۔ کونے میں بیٹھا ہوا آدمی بڑا چرب زبان تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ خواجہ نصر الدین کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔
جاسوس نے جس کا غصہ بڑھ رہا تھا آہستہ سے اپنا سر گھمایا:
"ارے تیرا نام کیا ہے؟ میں دیکھتا ہوں کہ تیری زبان قینچی کی طرح چلتی ہے۔ خبردار، کہیں اس سے بالکل ہی ہاتھ نہ دھونا پڑے! میں ایک جملہ کہہ کر اس کو آسانی سے ختم کر سکتا ہوں " اس نے سامعین کی طرف مڑتے ہوئے کہا "لیکن اس وقت ہم مقدس اور پاکیزہ باتیں کر رہے ہیں جہاں حاضر جوابی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ سب باتوں کے لئے ایک وقت ہوتا ہے۔ فی الحال میں اس بھک منگے کو کوئی جواب نہیں دوں گا۔ ہاں میں کہہ رہا تھا کہ میں ، خواجہ نصر الدین تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ میری پیروی کرو۔ ملاؤں کی عزت کرو، حکام کا حکم مانو اور پھر خوشحالی تمھارے قدم چومے گی۔ لیکن سب سے پہلے ان آوارہ گردوں کی بات نہ سنو جو جعل کرتے ہیں اور اپنے کو خواجہ نصر الدین کہتے ہیں ، جیسے یہ آدمی جس نے حال ہی میں بخارا میں تمام ہنگامہ کیا اور پھر یہ جان کر بے پتہ نشان غائب ہو گیا کہ اصلی خواجہ نصر الدین آ گئے ہیں ۔ ایسے تمام بہروپیوں کو پکڑو اور امیر کے پہرے داروں کے حوالے کر دو۔"
"بالک ٹھیک!" خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا اور دھندلکے سے روشنی میں آ گئے۔
تمام حاضرین نے ان کو فوراً پہچان لیا اور اس اچانک واقعہ سے ششدر رہ گئے۔ جاسوس زرد پڑ گیا۔ خواجہ نصر الدین جاسوس کے قریب آ گئے اور علی بھی چپکے سے ان کے پیچھے لگ گیا تاکہ جاسوس کو جھپٹ لے۔
"اچھا، تو تم اصلی خواجہ نصر الدین ہو؟"
جاسوس نے گھبرا کر اپنے پیچھے دیکھا، اس کے گال کانپ رہے تھے۔ اس کی آنکھیں ادھر ادھر نگران تھیں ۔ بہرحال اس نے زور لگا کر جواب دیا:
"ہاں ، میں اصلی خواجہ نصر الدین ہوں ، اور سب دھوکے باز ہیں اور تو بھی۔"
"مسلمانو! تم کیا کھڑے دیکھ رہے ہو؟" خواجہ نصر الدین نے چیخ کر کہا۔ "اس نے خود ہی کہا ہے! پکڑو، پکڑو اس کو! کیا تم نے امیر کا حکم نہیں سنا ہے اور تمھیں پتہ نہیں ہے کہ خواجہ نصر الدین کے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟ پکڑو اسے، نہیں تو تمھیں اس کو بچانے کے لئے جواب دھی کرنی ہو گی!"
انہوں نے جاسوس کی مصنوعی داڑھی نوچ لی۔
چائے خانے میں سبھی لوگوں نے اس نفرت انگیز چیچک رو، چپٹی ناک اور چالاک آنکھوں والے آدمی کو پہچان لیا۔
"اس نے خود ہی تسلیم کیا ہے!" خواجہ نصر الدین دائیں طرف آنکھ مارتے ہوئے چیخے۔ "پکڑو خواجہ نصر الدین کو!" اور انہوں نے بائیں طرف آنکھ ماری۔
چائے خانے کے مالک علی نے سب سے پہلے جاسوس پر ہاتھ ڈالا۔ جاسوس نے چھڑانے کی کوشش کی لیکن سقے، کسان اور کاریگر جھگڑے میں کود پڑے۔ کچھ دیر تک تو بس مکوں کے اوپر اٹھنے اور گرنے کا منظر دکھائی دیا۔ خواجہ نصر الدین سب سے زیادہ زوروں سے کوٹائی کر رہے تھے۔
"ارے میں تو مذاق کر رہا تھا!" جاسوس کراھتے ہوئے چلایا۔ "ارے مسلمانو، یہ تو مذاق تھا! میں خواجہ نصر الدین نہیں ہوں ! مجھے جانے دو!"
"تم جھوٹے ہو!" خواجہ نصر الدین نے چلا کر جواب دیا۔ ان کی مٹھیاں ایسی چل رہی تھیں جیسے کوئی نانبائی آٹا گوندھ رہا ہو۔ "تم نے خود اقرار کیا! ہم سب سے نا! ارے مسلمانو! ہم جتنے لوگ یہاں ہیں سب اپنے امیر کے سچے وفا دار ہیں اور ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے احکام کو وفاداری کے ساتھ بجا لائیں ۔ اس لئے مسلمانو، اس خواجہ نصر الدین کو اچھی طرح دھنکنا چاہئے! اس کو گھسیٹ کر محل لے جاؤ اور پہرے داروں کے حوالے کر دو! اللہ اور امیر کی عظمت کا واسطہ، اس کو خوب پیٹو!"
مجمع نے جاسوس کو محل کی طرف گھسیٹنا شروع کیا اور راستے بھر اس کی مرمت برابر ہوتی رہی۔ خواجہ نصر الدین نے اس کو زوردار لات سے رخصت کیا اور چائے خانے واپس آ گئے۔
"اف" انہوں نے اپنا پسینے سے تر چہرہ پونچھتے ہوئے کہا "اس بار ہم نے اس کی خوب مرمت کر دی۔ اب بھی وہ پٹ رہا ہے۔ آوازوں سے معلوم ہوتا ہے۔"
مشتعل آوازیں اور جاسوس کی فریاد بھری چیخیں اب بھی دور سے آ رہی تھیں ۔ ہر ایک کو اس سے کچھ نہ کچھ بدلا لینا تھا اور امیر کے حکم کے زور پر ان کو اچھا موقع مل گیا تھا۔
چائے خانے کا مالک خوش ہو کر اپنی توند سہلا رہا تھا:
"اس کے لئے سبق ہو جائے گا۔ وہ اب میرے چائے خانے میں قدم نہیں رکھے گا۔"
پچھلے کمرے میں خواجہ نصر الدین نے اپنا لباس تبدیل کیا، اپنی مصنوعی داڑھی لگائی اور پھر بغداد کے مولانا حسین بن گئے۔
جب وہ محل واپس ہوئے تو انہوں نے پہرے داروں کے کمرے سے آتی ہوئی کراہوں کی آواز سنی۔ انہوں نے اندر دیکھا تو چیچک رو جاسوس ایک نمدے پر پڑا تھا۔ اس کا بدن سوجا ہوا اور جا بجا زخمی تھا اور اس کی حالت ابتر تھی۔ ارسلان بیک اس کے پاس ایک لالٹین لئے کھڑا تھا۔ "جناب ارسلان بیک، کیا ہوا؟" خواجہ نصر الدین نے معصومیت کے ساتھ پوچھا۔
"مولانا، بہت برا ہوا۔ وہ بد معاش خواجہ نصر الدین پھر شہر میں آگیا۔ اس نے ہمارے سب سے ہوشیار جاسوس کو پیٹ دیا جو ہمارے حکم سے اپنے کو خواجہ نصر الدین بتا کر نیک اور وفا دارانہ تقریریں کر رہا تھا تاکہ اصلی خواجہ کے برے اثرات دور ہو جائیں ۔ اس کا نتیجہ دیکھئے؟"
"آہ، آہ!" جاسوس اپنا زخمی اور مسخ چہرہ اٹھاتے ہوئے کراھا "میں اس کمبخت آوارہ گرد کے منہ کبھی نہ آؤں گا۔ میں جانتا ہوں کہ اس بار تو وہ مجھے ختم ہی کر دے گا۔ اب میں جاسوسی نہیں کروں گا۔ کل میں بہت دور کسی ایسی جگہ چلا جاؤں گا جہاں مجھے کوئی نہیں جانتا اور کوئی ایمانداری کا کام کروں گا۔"
"میرے دوستوں نے واقعی اس کا بھرتا بنا دیا ہے"خواجہ نصر الدین نے لالٹین کی روشنی میں جاسوس کو دیکھتے ہوئے سوچا اور اس پر ان کو تھوڑا سا ترس بھی آیا۔ "اگر محل دو سوقدم بھی اور آگے ہوتا تو وہ شاید یہاں زندہ نہ پہنچتا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس نے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں ۔"
صبح سویرے خواجہ نصر الدین نے اپنے برج سے دیکھا کہ چیچک رو جاسوس ایک چھوٹی سی گٹھری لیکر محل سے نکل گیا۔ وہ لنگڑا رہا تھا اور بار بار اپنے سینے، بازوؤں اور پہلوؤں کو ہاتھوں سے سہلاتا جاتا تھا۔ بار بار وہ دم لینے کے لئے بیٹھ جاتا۔ اس نے بازار کو پار کیا جو رفتہ رفتہ صبح کی خنک شعاعوں سے روشن ہوتا جاتا تھا اور ڈھکے ہوئے اسٹالوں کی قطاروں میں غائب ہو گیا۔
صبح سے رات کی تاریکی نے شکست کھائی۔ صبح خالص، شفاف اور پرسکون تھی۔ شبنم نے اس کو دھو کر اسپر دھوپ کے تار بکھیر دئے تھے۔ چڑیاں چہچہا رہی تھیں اور زفیلیں دے رہی تھیں ۔ سورج کی پہلی کرنوں میں نہانے کے لئے تتلیاں اڑ رہی تھیں ۔ خواجہ نصر الدین کے سامنے کھڑکی کے پٹرے پر ایک شہد کی مکھی آ کر رینگنے لگی۔ اس کو اس شہد کی تلاش تھی جو مرتبان میں تختے پر رکھا تھا۔
سورج خواجہ نصر الدین کا پرانا اور وفا دار دوست تھا۔ اب وہ بلند ہو رہا تھا۔ ہر صبح خواجہ نصر الدین اس کو دیکھتے اور ایسا محسوس کرتے جیسے انہوں نے سورج کو سال بھر بعد دیکھا ہے۔ سورج بلند ہو رہا تھا، مہربان اور فیاض دیوتا جو سبکو یکساں فیض پہنچاتا ہے اور ساری دنیا بھی اس کے خیر مقدم کے لئے صبح کی کرنوں میں چمکتا دمکتا اپنا شعلہ ور حسن پیش کر دیتی ہے۔ پھولے پھولے بادل، میناروں کے پالش کئے ہوئے ٹائل، بھیگی ہوئی پتیاں ، پانی اور گھاس، حتی کہ سنگ خارا کی سپاٹ چٹان، قدرت کی دھتکاری ہوئی سوتیلی بیٹی بھی سورج کے خیر مقدم میں ایک انوکھا روپ دھار لیتی، اس کی ٹوٹی پھوٹی سطحیں اس طرح چمکنے دمکنے لگتیں جیسے ان پر ہیرے کا برادہ پھیلا دیا گیا ہو۔
خواجہ نصر الدین اپنے دوست کے دمکتے ہوئے چہرے سے کیسے بے اعتنائی برت سکتے تھے۔ سورج کی چمکدار کرنوں میں ایک درخت کی پتیاں رقص کر رہی تھیں ۔ خواجہ نصر الدین بھی اس کے ساتھ جھوم گئے جیسے وہ بھی سرسبز پتیوں میں ملبوس ہوں ۔ قریب کے مینار پر کبوتر غٹر غوں کر کے اپنے پر جھاڑ رہے تھے۔ تتلیوں کا ایک جوڑا کھڑکی کے سامنے لہرایا اور خواجہ کا دل چاہا کاش کہ وہ بھی ان کے اس نازک کھیل میں شریک ہو جاتے۔
خواجہ نصر الدین کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں ۔ چیچک رو جاسوس کا خیال کر کے ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کاش کہ یہ صبح اس جاسوس کی نئی زندگی کی صاف ستھری اور معقول صبح ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ برائیاں اس جاسوس کی روح تک میں پیوست ہو چکی ہیں اور وہ پوری طرح صحت یاب ہوتے ہی پھر اپنی پرانی حرکتوں پر اتر آئے گا۔
بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ خواجہ نصر الدین نے اپنی پیش گوئی میں غلطی نہیں کی تھی۔ وہ انسانوں کو اتنی اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ان کے لئے غلطی کرنا مشکل تھا حالانکہ ان کو اپنی غلطی پر خوشی ہوتی اور وہ اس جاسوس کے روحانی نو جیون پر خوش ہوتے۔ بہرحال، سڑی ہوئی چیز پھر تازہ اور بارور نہیں ہو سکتی۔ بدبو خوشبو نہیں بن سکتی۔ خواجہ نصر الدین نے افسوس کے ساتھ آہ بھری۔
ان کا محبوب خواب یہ تھا کہ ایسی دنیا ہوتی جہاں انسان بھائیوں کی طرف رہسکتے، نہ تو ان میں حرص و حسد ہوتا اور نہ چوری چکاری اور غصہ، بلکہ وہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ہر ایک کی خوشی کو سب کی خوشی سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہوتے۔ پھر بھی ایسی خوشگوار دنیا کا تصور کرتے ہوئے وہ اس تلخ حقیقت کو بھی سمجھتے تھے کہ انسان اس طرح رہتے ہیں جو ان کے لئے زیبا نہیں ہے، ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں ، غلام بناتے ہیں اور اپنی روحوں کو ہر طرح کی برائیوں سے داغدار کرتے ہیں ۔ بنی نوع انسان کو صاف ستھرے اور ایماندارانہ وجود کے قوانین کو سمجھنے میں کتنی مدت لگے گی؟
خواجہ نصر الدین کو اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ انسان کسی نہ کسی دن ان قوانین کو سمجھے گا۔ ان کو اس بات پر قطعی یقین تھا کہ اس دنیا میں برے آدمیوں سے زیادہ بھلے آدمی ہیں ۔ جعفر سود خور اور چیچک رو جاسوس اور ان کی گلی سڑی روحیں کریہہ استثنا ہیں ۔ ان کو قطعی یقین تھا کہ فطرت نے انسا ن کو صرف بھلائیوں سے سنوارا ہے اور تمام برائیاں اس کوڑے کرکٹ کی طرح ہیں جو اس کی روح پر زندگی کے غلط اور غیر منصفانہ نظام نے باہر سے تھوپ دی ہیں ۔ ان کو قطعی یقین تھا کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب انسان اپنی زندگی کو پھر سے بنانا اور صاف کرنا شروع کر دیں گے تو وہ اپنی شریفانہ محنت کے ذریعہ اپنی روح کی تمام گندگیوں کو دھو ڈالیں گے۔
خواجہ نصر الدین کے خیالات کا یہ رجحان ان کے بارے میں بہت سے قصوں سے ثابت ہوتا ہے جن پر ان کے روحانی جذبات کا ٹھپہ ہے۔ ان میں یہ کتاب بھی شامل ہے۔ حالانکہ ان کی یاد کو داغدار بنانے کی بہتیری کوششیں کی گئیں ، محض کمینے رشک و حسد کی وجہ سے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں کیونکہ جھوٹ سچ پر کبھی غالب نہیں آ سکتا۔ خواجہ نصر الدین کی یاد ہمیشہ اس ہیرے کی طرح درخشاں اور خالص رہے گی جو سب باتوں کے باوجود اپنی چمک دمک برقرار رکھتا ہے۔ آج تک جو مسافر ترکی میں آک شہر کے سادے سے مقبرے کے سامنے رکتے ہیں اب بھی بخارا کے اس زندہ دل جہاں گرد، خواجہ نصر الدین کا نام کلمہ خیر سے ہی لیتے ہیں ۔ ایک شاعر کے الفاظ میں وہ کہتے ہیں :
"انہوں نے اپنا دل دھرتی کو دے دیا حالانکہ وہ دنیا بھر میں ہوا کی طرح چکر لگاتے رہے، اس ہوا کی طرح جو ان کی موت کے بعد ان کے دل کی گلاب جیسی مہک ساری دنیا میں پھیلا آئی۔ دنیا کے ہمہ گیر حسن کو ہی دیکھنا زندگی کا حسن ہے۔ وہی زندگی حسین ہے جو ختم ہونے کے بعد اپنی روح کے خالص جذبات چھوڑ جاتی ہے۔"
یہ سچ ہے کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آک شہر کے مقبرے میں کوئی دفن نہیں ہے اور خواجہ نصر الدین نے اس کو اسی مقصد کے تحت بنوایا تھا کہ ان کی موت کی خبر پھیل جائے اور پھر وہ جہاں گردی کے لئے روانہ ہو گئے تھے۔ یہ سچ ہے یا نہیں ؟ ہمیں بیکار قیاس آرائیوں میں وقت نہ گنوانا چاہئے۔ ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ خواجہ نصر الدین سے ہر طرح کی باتوں کی توقع ہو سکتی ہے۔

(۳۲)
صبح کا وقت جلد ہی گزر گیا اور پھر گرم اور امس بھری دوپہر آئی۔ اب فرار کے لئے سب کچھ تیار تھا۔ خواجہ نصر الدین اوپر اپنے قیدی کے پاس گئے۔
"آپ کی قید کی مدت ختم ہونے والی ہے، دانائے روزگار مولانا حسین۔ آج رات کو میں محل چھوڑ دوں گا۔ میں آپ کا دروازہ ایک شرط پر کھلا چھوڑ سکتا ہوں ۔ آپ دو دن تک یہ جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ اگر آپ جلدی نکلے تو مجھے محل میں پائیں گے اور پھر میں اس بات پر مجبور ہوں گا کہ آپ پر بھاگنے کا الزام لگا کر جلاد کے حوالے کر دوں ۔ بغداد کے دانا، مولانا حسین، خدا حافظ۔ آپ میرے متعلق بہت برا خیال نہ کریں ۔ میں آپ کو یہ فریضہ سپرد کرتا ہوں کہ آپ امیر کو سچی بات بتائیں اور اس کو میرا نام بتائیں ۔ میرا نام خواجہ نصر الدین ہے۔"
"کیا؟" بڈھّے نے حیرت سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ وہ نام کو سن کر ہی ہکا بکا رہ گیا ۔
دروازے کے بند ہونے کی چرچراہٹ ہوئی۔ زینوں پر خواجہ نصر الدین کے قدموں کی آواز غائب ہو گئی۔ بڈھا احتیاط کے ساتھ دروازے تک گیا اور اس کو آزمایا۔ وہ مقفل نہیں تھا۔ اس نے باہر جھانک کر دیکھا، کوئی دکھائی نہ دیا۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کر کے زنجیر لگا لی۔
"نہیں " وہ بڑبڑایا "میں پورے ہفتے یہیں پڑے رہنے کو ترجیح دوں گا بمقابلہ اس کے کہ پھر خواجہ نصر الدین سے پالا پڑے۔"
رات کو جب فیروزی آسمان پر پہلے ستارے جھلملائے، خواجہ نصر الدین ایک مٹی کی صراحی لیکر ان پہرے داروں کے پاس گئے جو امیر کے حرم کے پھاٹک پر متعین تھے۔ پہرے داروں نے ان کو آتے نہیں دیکھا اور اپنی بات چیت جاری رکھی:
"وہ دیکھو، ایک اور ستارہ ٹوٹا" کچے انڈے کھانے والے موٹے اور کاہل پہرے دار نے کہا "اگر تمھارے کہنے کے مطابق وہ زمین پر گرتے ہیں تو لوگ ان کو پاتے کیوں نہیں ؟"
"شاید وہ سمندر میں گرتے ہیں " دوسرے پہرے دار نے کہا۔
"ارے، بہادر سپاھیو" خواجہ نصر الدین بیچ میں بولے "خواجہ سراؤں کے داروغہ کو تو بلانا۔ میں بیمار داشتہ کے لئے دوا لایا ہوں ۔"
خواجہ سراؤں کا داروغہ آیا اور ادب سے دونوں ہاتھ بڑھا کر چھوٹی سی صراحی سنبھالی جس میں چونے کے پانی کے سوا کچھ بھی نہ تھا، دوا کے استعمال کی ہدایات سنیں اور چلا گیا۔
"دانائے روزگار مولانا حسین" موٹے پہرے دار نے چاپلوسی کرتے ہوئے کہا "آپ تو دنیا کی ہر بات جانتے ہیں ۔ آپ کا علم و فضل تو بے پناہ ہے۔ ہمیں بتائیے کہ آسمان سے ٹوٹ کر ستارے کہاں گرتے ہیں اور لوگ ان کو کیوں نہیں پاتے؟"
خواجہ نصر الدین بھلا مذاق سے باز آ سکتے تھے۔
"تم نہیں جانتے؟" انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔ "جب ستارے گرتے ہیں تو وہ چھوٹے چھوٹے چاندی کے سکوں میں ٹوٹ جاتے ہیں جو فقیر چن لیتے ہیں ۔ بہت سے آدمی تو اس طرح امیر بن گئے۔"
پہرے داروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر سخت حیرت کے آثار تھے۔
خواجہ نصر الدین ان کی حماقت پر ہنستے ہوئے اپنے راستے پر چلے گئے۔ ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ یہ مذاق اتنا کارآمد ثابت ہو گا۔
وہ آدھی رات تک اپنے برج میں رہے۔ آخرکار شہر اور محل میں سناٹا چھا گیا۔ اب وقت گنوانا نہیں تھا۔ گرمیوں کی راتیں بڑی صبا رفتار ہوتی ہیں ۔ خواجہ نصر الدین نیچے اترے اور چپکے سے امیر کے حرم کی طرف روانہ ہوئے۔
"پہرے دار اب تو سوتے ہوں گے" انہوں نے سوچا۔
لیکن جب وہ قریب پہنچے تو ان کو بڑی ناامیدی ہوئی کیونکہ پہرے دار چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے۔
"اگر ایک ہی ستارہ یہاں گر جاتا" موٹا کاہل پہرے دار کہہ رہا تھا "تو ہم چاندی بٹور کر یکدم امیر بن جاتے۔"
"مجھے یقین نہیں ہے کہ ستارے چاندی کے سکوں میں ٹوٹ جاتے ہیں " اس کا ساتھی بولا۔
"لیکن بغداد کے دانا نے ایسا ہی بتایا ہے" پہلے نے جواب دیا۔ "واقعی وہ بہت بڑے عالم و فاضل ہیں اور غلطی نہیں کر سکتے ہیں ۔"
"لعنت ہو ان پر!" خواجہ نصر الدین نے اندھیرے میں چھپتے ہوئے اپنے آپ سے کہا۔ " میں نے ان کو ستاروں کے بارے میں بتایا ہی کیوں ؟ اب وہ صبح تک اس پر بحث کریں گے۔ کیا بھاگنا ملتوی کرنا پڑے گا؟"
بخارا کے اوپر ہزاروں ستاروں کی صاف اور پرسکون روشنی تھی۔ اچانک ایک چھوٹا سا ستارہ ٹوٹا اور آسمان کے پار انتہائی تیز رفتاری سے ترچھا گرنے لگا۔ ایک اور ستارہ اس کے بعد روانہ ہوا اور اپنے پیچھے ایک جلتی ہوئی لکیر چھوڑتا گیا۔ یہ موسم گرما کا وسطی دور تھا جس میں ستارے کافی ٹوٹتے ہیں ۔
"اگر وہ واقعی ٹوٹ کر چاندی کے سکے بن جاتے۔۔۔" دوسرے پہرے دار نے اپنی بات شروع کی۔
اچانک خواجہ نصر الدین نے ذہن میں ایک خیال چمکا۔ انہوں نے جلدی سے اپنی تھیلی نکالی جو چاندی کے سکوں سے بھری ہوئی تھی۔ ستاروں کے گرنے میں ایک لمبا وقفہ ہو گیا۔ آخر کار ایک ٹوٹا۔ خواجہ نصر الدین نے ایک سکہ پہرے داروں کے قدموں کے پاس پھینکا۔ پتھر کے فرش پر سکے کی جھنکار ہوئی، پہلے تو پہرے دار پتھرا سے گئے۔ پھر وہ ایک دوسرے کو گھورتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
"تم نے یہ سنا؟" پہلے پہرے دار نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔
"ہاں میں نے سنا" دوسرے نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
خواجہ نصر الدین نے ایک اور سکہ پھینکا جو چاندنی رات میں چمک اٹھا۔ کاہل پہرے دار ہلکی سی چیخ مار کر اس پر ٹوٹ پڑا۔
"تم ۔۔۔ کو مل۔۔۔ گیا؟" دوسرے پہرے دار نے مشکل سے کہا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے اٹھتے ہوئے سکہ دکھایا۔
اچانک کئی اور ستارے ایک ساتھ ٹوٹے اور خواجہ نصر الدین نے مٹھی بھر بھر کر سکے پھینکنا شروع کر دئے۔ پرسکون رات سکوں کی لطیف کھن کھناہٹ سے گونج سی گئی۔ پہرے دار بالکل بدحواس ہو گئے۔ انہوں نے اپنے نیزے تو الگ پھینکے اور جھک کر سکے تلاش کرنے لگے۔
"یہ رہا!" ایک کی بھاری گھٹی گھٹی ہوائی آواز آئی۔ "یہ رہا!"
دوسرا خاموشی سے رینگ رہا تھا۔ پھر وہ کثرت سے سکے پھیلے ہوئے دیکھ کر گھگیا گیا۔
خواجہ نصر الدین نے ایک اور مٹھی سکے پھینکے اور بلا روک ٹوک پھاٹک کے اندر داخل ہو گئے۔
باقی کام آسان تھا۔ نرم، گداز ایرانی قالینوں پر ان کے قدموں کی آواز نہیں ہو رہی تھی۔ وہ تمام موڑوں اور پیچیدہ راستوں سے واقف تھے۔ خواجہ سرا سو رہے تھے۔۔۔
گل جان نے ان کا خیر مقدم ایک محبت بھرے بوسے سے کیا اور کانپتی ہوئی ان سے لپٹ گئی۔
"جلدی کرو" انہوں نے سرگوشی میں کہا۔
کوئی ان کو روکنے والا نہ تھا۔ ایک خواجہ سرا نے کروٹ لی اور نیند میں بڑبڑایا۔ خواجہ نصر الدین اس پر جھک گئے لیکن اس کی زندگی ابھی باقی تھی۔ اس نے اپنے ہونٹ چاٹے اور پھر خراٹے بھرنے لگا۔ رنگین شیشوں سے ہلکی چاندنی چھن چھن کر آ رہی تھی۔
پھاٹک پر خواجہ نصر الدین رکے اور انہوں نے چاروں طرف سے نظر دوڑائی۔ صحن میں پہرے دار اپنے چاروں ہاتھوں پیروں پر ٹکے ہوئے گردنیں اوپر اٹھا اٹھا کر دیکھ آسمان کو تک رہے تھے کہ کوئی اور ستارہ ٹوٹے۔ خواجہ نصر الدین نے ایک مٹھی بھر اور سکے پھینکے جو کچھ درختوں کے دوسری طرف جا کر گرے۔ پہرے دار اپنے بوٹ کھٹ کھٹ کرتے ہوئے آواز کی طرف دوڑ پڑے۔ انہوں نے اپنے ہیجان میں چاروں طرف کچھ نہیں دیکھا اور زور زور سے ہانپتے اور شور مچاتے ہوئے خاردار جھاڑیوں کے اس پار دوڑے جن کے کانٹوں میں ان کی قباؤں اور شلواروں کے چیتھڑے پھٹ کر لٹک گئے۔
اس رات کو تو حرم سے ایک کیا ساری داشتائیں اغوا کی جا سکتی تھیں ۔
"جلدی کرو، جلدی" خواجہ نصر الدین برابر کہتے جاتے تھے۔
وہ دوڑ کر برج تک گئے اور زینوں پر چڑھے۔ خواجہ نصر الدین نے اپنے بستر کے نیچے سے ایک رسی نکالی۔ یہ انہوں نے پہلے سے تیار کر لی تھی۔
"بہت اونچا ہے۔۔۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے" گل جان نے چپکے سے کہا لیکن خواجہ نصر الدین نے اس کو ڈانٹا تو اس نے اپنے اوپر قابو پا لیا۔
خواجہ نصر الدین نے گل جان کے گرد ایک پھندا باندھ دیا اور کھڑکی کا جنگلہ نکال دیا جو انہوں نے پہلے ہی کاٹ ڈالا تھا۔ گل جان کھڑکی کے باہر پتھر پر بیٹھی تھی۔ وہ بلندی دیکھ کر کانپ گئی۔
"باہر نکلو!" خواجہ نصر الدین نے حکم دیا اور اس کو پیچھے سے ہلکا سا دھکا دیا۔
گل جان نے آنکھیں بند کر لیں ، چکنے پتھر پر سے پھسل کر ہوا میں لٹک گئی۔ زمین پر پہنچ کر اس کے حواس بجا ہوئے۔
"بھاگو، بھاگو!" اوپر سے آواز آئی۔ خواجہ نصر الدین کھڑی سے باہر جھکے ہوئے اپنے ہاتھ ہلا رہے تھے اور رسی اوپر کھینچ رہے تھے۔ گل جان نے جلدی سے اپنے کو رسی سے کھولا اور سنسان چوک میں سے ہو کر بھاگی۔
اس کو پتہ نہیں تھا کہ پورے محل میں زبردست ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ خواجہ سراؤں کے داروغہ کے ناخوشگوار تجربے نے اس میں بے وقت کا جوش پیدا کر دیا تھا اور وہ آدھی رات کو نئی داشتہ کے کمرے میں نگہبانی کے لئے پہنچ گیا لیکن وہاں تو بستر خالی تھا۔ وہ بھاگتا ہوا گیا اور امیر کو جگا دیا۔ امیر نے ارسلان بیک کو طلب کر لیا۔ ارسلان بیک نے محل کے پہرے داروں کو جگایا۔ مشعلیں روشن ہو گئیں ، نیزوں اور سپروں کی جھنکار گونجنے لگی۔
بغداد کے مولانا حسین کی طلبی ہوئی۔ امیر نے چیختے ہوئے شکایت کی:
"مولانا حسین! ہماری ریاست کی اب یہ حالت پہنچ گئی ہے کہ ہمیں ، امیر اعظم کو یہ بد معاش خواجہ نصر الدین ہمارے محل تک میں چین سے نہیں بیٹھنے دیتا! ایسا تو کبھی سنا بھی نہیں گیا تھا کہ امیر کے حرم سے داشتہ چوری ہو جائے!"
"امیر اعظم" بختیار نے بولنے کی ہمت کی" شاید یہ خواجہ نصر الدین کی حرکت نہ تھی؟"

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers