ڈیل کارنیگی ’’اپنی مدد آپ‘‘ طرز کی کتابوں کے مشہور امریکی مصنف تھے۔ انسانی نفسیات اور انسانی رویوں کے بارے میں ان کی کتابیں بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو کر دنیا بھر میں انسانی رویے سمجھنے کے حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔ وہ مختلف واقعات اور مثالوں کی مدد سے انسان کے سوچنے کے انداز کی وضاحت کرتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھیے
قرآن مجید کے بہت سے مقامات ایسے ہیں جو انسان پر ہیبت طاری کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقام پارہ 30 سورۃ التکویر کی پہلی آیات ہیں۔ان آیات میں ایک بہت بڑے جرم سے باز رکھنے کے لیے ہیبت ناک منظر کشی کے بعد اس جرم کو بیان کیا گیا ہے۔۔۔ کہ آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔
اب ان آیات کو پڑھتے ہوئے ذہن میں ان منظر کا خاکہ بنائیں۔
۔
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۔۔۔۔ جب سورج لپیٹ میں آ جائے گا۔
وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ۔۔۔ اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔
وَاِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ ۔۔۔۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔
وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ۔۔۔۔ اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔
وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ ۔۔ اور جب وحشی جانور اکھٹے کئے جائیں گے۔
وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔
وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَت۔۔۔ اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی۔
وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَت۔۔۔۔ جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔
۔
۔
" بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ۔۔۔۔ کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی"
۔
زرا سوچیں کہ میدان حشر میں جب ناحق قتل کی گئی لڑکی اپنا جرم بتائے گی تو کیا سما ہو گا۔۔۔؟؟
جاہل عرب لڑکی کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔ یہ زندہ درگور کر دینے کی رسم آج بھی جاری ہے۔
جی ہاں ساری عمر لڑکی ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک برداشت کرنے والی چلتی پھرتی لاش بھی حساب کے دن
کے مالک کو بتائے گی۔۔۔ بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
ناجائز مطالبات پر مبنی جہیز نہ لانے پر جلائی گئی بھی اللہ سبحان و تعالیٰ کو بتائے گی۔۔۔ بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
ساری عمر سسرال میں ظلم کا شکار روز جینے ، روز مرنے والی بھی بتائے گی۔۔۔ بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
ظلم و زیادتی کے بعد قتل کی گئی بھی بتائے گی ۔۔۔۔ بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
الزام لگا کر غیرت نے نام پر قتل کی گئی بھی بتائی گی ۔۔۔ بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
جائیداد ہڑپ کرنے کی خاطر قرآن سے بیاہ کر ، جیتے جی زندہ درگور کر دینے والی بھی بتائے گی۔۔ بِاَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
اے دنیا کے پجاریوں ۔۔جب حشر میں تمہارے گریبان پر جب حوا کی بیٹی کا ہاتھ ہو گا اور وہ بتائے گی کہ وہ کس "گناہ" کی وجہ سے قتل کی گئی!!
تو بتاؤ تمہارے پاس کیا جواب ہوگا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ایک شریف النفس اور کمزور آدمی تھا۔ اللہ کے حضور یہ دعا کرتا رہتا تھا کہ مجھے غریب بے سہارا کو غیب سے روزی عطا فرما اور مجھے محبت و مشقت میں نہ ڈال۔ مریل گدھے پر گھوڑوں اور اونٹوں کا بوجھ نہیں لادا جا سکتا۔۔۔ پاؤں والا تو چل کر روزی پیدا کر سکتا ہے اور جس کے پاؤں نہ ہوں اس کو تیرا ہی آسرا ہے۔ اے اللہ سب کی سننے والے! میں منہ سے ہی تجھ سے مانگ سکتا ہوں لیکن مشقت کرنے کی طاقت نہیں۔۔۔۔۔ بس یہی ورد و وظائف اس کے دن رات کی مصروفیت تھی۔ اس کا یہ عمل ہر عام و خاص میں مشہور ہو چکا تھا۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے۔ خدا نے ہر شخص کی روزی محنت و مشقت کے راستے اتاری ہے لیکن اسے دیکھو ہاتھ پیر ہلائے بغیر خدا سے اپنا رزق طلب کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ پیغمبر خدا کو دیکھو جنھیں اللہ نے معجزے عطا کئے۔ خوش الحان ایسے کہ جن و انس چرند پرند تو ایک طرف پہاڑ بھی متاثر ہوتے ہیں باوجود اتنی شان کے وہ بھی بغیر مشقت کے روزی حاصل نہیں کرتے مگر اسے دیکھو یہ ناکارہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اسے بیٹھے بٹھائے خزانہ مل جائے اور کوئی کسب نہ کرنا پڑے۔۔۔ لوگ سو سو باتیں کرتے لیکن وہ شخص اپنی آہ و زاری میں لگا رہتا۔   تفصیل سے پڑھیے
آپ کی موجودہ اور آنے والی دولت کا انحصار چند بہت ہی بنیادی اور بظاہر غیر اہم عادات پر ہوتا ہے-
لندن: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی موجودہ اور آنے والی  دولت کا انحصار چند بہت ہی بنیادی اور بظاہر غیر اہم عادات پر ہوتا ہے جی ہاں، اپنی روز مرہ کی ذاتی اور پیشہ ورانہ مصروفیا ت سے کچھ وقت نکال کر اگر ان دس عادات کو معمول بنا لیا جائے تو مستقبل قریب میں آپ کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوگا، گھبرائیے نہیں یہ کوئی “ایسی ویسی” عادات نہیں ہیں  بلکہ یہ عادات انتہائی مثبت اور مفید ہیں ایسی روش اختیار کرنے سے آپ کی پیشہ ورانہ مہارت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا، دنیا کے امیر ترین افراد کے معمولات زندگی پر کی جانے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ مندرجہ ذیل 10 عادات ایسی ہیں جو اگر آپ بھی اپنا لیں تو آپ کی جیبیں نوٹوں سے بھری رہیں گی۔  تفصیل سے پڑھیے
اسکا اصل نام تو اسے خود بھی یاد نہیں تھا جب اس نے عقل وشعور سے بند اپنی آنکھ کھولی تو خود کو سانڈے سانڈے کہتے سنا..تو اس مسئلے کا حل اس نے کارڈ چھپوا کر کیا کیونکہ جس تقریب میں اسے جانا ہوتا تھا .وہ اصل نام بھول جاتا تھا .اس کے لیے کارڈ نکال کر وہ بتا تا تھا کہ اسکا اصل نام کیا ہے .اس کے متعلق ماں باپ میں مشہور تھا کہ وہ ایک اچھا لڑکا ہے کیونکہ پیدائش کے وقت اسکی آنکھیں بند تھیں.لیکن اس کے متعلق محلے داروں میں بہت سی باتیں مشہور تھیں کہ وہ مجذوب ہے اللہ والا ہے مکار ہے عیار ہے ..جو لوگ اسے اللہ والے سمجھتے تھے وہ اس لیے کہ وہ چوبیش گھنٹے نشہ میں دھت ہوتا تھا.محلے دار سمجھتے تھے کہ شاید وہ فنا ٖفی اللہ ہو چکا ہے . تفصیل سے پڑھیے
زمانہ قدیم سے لوگ صرف انہی سات سیاروں سے واقف تھے جو ان کو نظرآتے تھے، ان میں مشتری ،زہرہ،مریخ، جوپیٹر،سیٹرن ،چانداورسورج شامل تھے۔ ابتدائی نظریہ یہی تھا کہ زمین ساکن ہے اور یہ سب زمین کے گرد گردش کرتے ہیں جیساکہ عموماً نظر آتاہے۔چناچہ تقریباً 350 سال قبل مسیح میں یونان کے فلاسفر ارسطو (Aristotle)نے یہی نظریہ پیش کیاتھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج سمیت تمام سیارے اس کے گرد حرکت کرتے ہیں ۔ پھر 250 سال قبل مسیح میں یونا ن کے ایک اور فلاسفر اور ہیئت دان فیثاغورث (Aristarchus)نے ارسطو کے نظریے کی مخالفت کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج ساکن ہے اور ہماری زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔نیز ہماری زمین کے علاوہ اوربھی بہت سے سیارے ہیں جو سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ فیثا غورث ہی وہ پہلاشخص ہے کہ جس نے سورج کے ساکن ہونے کا نظریہ پیش کیا تھامگر یہ نظریہ زیادہ مقبول نہ ہوا اور لوگوں کے ذہنوں پر ارسطو کا نظریہ چھایارہا۔ تفصیل سے پڑھئے
سندھ میں اسلام کی آمد سے پہلے چچ خاندان کی حکومت تھی۔ خلفائے راشدین کے دور میں جب اسلامی فتوحات کا دور دورہ تھا اور اسلامی فوجیں مشرق و مغرب کے ممالک کو فتح کررہی تھیں اس زمانے میں سلطنت کسرٰی سے اسلامی فوجیں نبرد آزما تھیں۔مکران کا علاقہ سلطنت کسرٰی کا حصہ تھا۔جب یزد گرد(شاہ ایران)کی فوجوں کے خلاف قادسیہ کے میدان میں فیصلہ کن لڑائی جاری تھی، تو اس زمانے میں چچ خاندان کے راجاؤں نے ایرانیوں کی مدد کے لئے کمک روانہ کی تھی اسی طرح معرکہ نہاوند میں سندھ کے ہندو فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔مگر ان دونوں معرکوں میں ذلت، رسوائی اورشکست بت پرستوں و آتش پرستوں کا مقدر ٹھہری۔تسخیر ایران کے بعد سلطنت کسرٰی کے تمام علاقے اسلامی قلمرو کا حصہ بن گئے۔مکران و سیستان سے کوہِ البرز،حیرہ سے آرمینیا، آذربائیجان اور ترکستان(خاقانی سلطنت کے بیشتر ممالک) ممالک محروسہ میں شامل ہوگئے۔مکران چونکہ سرحدی صوبہ تھا         تفصیل سے پڑھئے
کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمة للعالمین حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، سب سے آخر میں بھیج کر، قیامت تک کے لیے آنجناب کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پُرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلمکی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے(الاحزاب:۲۱) ان سے رہنمائی حاصل کرو اور دنیا وآخرت کی ابدی خوشیوں اور نعمتوں کو اپنا مقدر بناوٴ، گویا کہ اس اعلان میں دنیا میں بسنے والے ہر ہر انسان کو دعوت ِعام دی گئی ہے کہ جہاں ہو، تفصیل سے پڑھئے
عرب کے بادیہ نشینوں کے ہاتھوں کسریٰ کی عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ اسلامی تاریخ کا ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا بھی غیر معمولی واقعہ ہی، اس ضمن میں عہدِ فاروقی ؓ میںایران سے ہونے والی جنگوں میں ”نہاوند “ کے معرکے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جنگ نہاوند ایران میں ساسانی اقتدار کو بچانے کی آخری کوشش تھی، قبلِ ازیں پے درپے شکستوں نے شاہ ایران کو بوکھلادیا تھا، لہٰذا اُس نے مشرق میں اپنی باجگزار ریاستوں (جو مکران وسندھ سے لیکر سراندیپ تک پھیلی ہوئی تھیں) سے فوجی امداد طلب کی اور اس کے لیے سندھ، خراسان اور حلوان کے حکمرانوں کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے۔کسریٰ ایران کے ان خطوط کا جواب سندھ کی جانب سے فوجی امداد کی صورت میں دیا گیا، چنانچہ سن21ھ میں برپا ہونے والی جنگِ نہاوند میں سندھ کے راجے اور اُن کی سپاہ بھی شامل تھی، مورخین کی تصریح کے مطابق سندھ کی اس فوج میں زُط (جاٹ/جٹ/جت)، میداور سیابجہ اقوام کے جنگجو شامل تھے۔  تفصیل سے پڑھئے
پاکستان کے قیام تعمیرا ورترقی میں اہم ترین کردار ادا کرنے والی میمن برادری کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی دوسری تجارتی برادریوں دہلی پنجابی سوداگر، چنیوٹ برادری، اور آغاخانی جماعت کی کچھ شاخوں کی مانند میمن برادری کے بزرگوں کا بنیادی تعلق پاکستان ہی سے تھا اور وہ صدیوں پہلے موجودہ پاکستان سے تلاش معاش یا تبلغ اسلام کی خاطر ہجرت کرکے اس خطے سے برصغیر ہندو پاک کے دیگر خطوں گجرات، راجھستان، دہلی ، بنگال، برما اور دیگر خطوں میں جو اب بھارت میں شامل ہیں چلے گئے تھے( انشاللہ آئندہ ان تمام برادریوں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی جائے گی ) جہاں رہ کر ان برادریوں نے اس وقت وہاں قائم اسلامی حکومتوں کی ترقی اور تعمیر میں جہاں اپنا کردار حسن خوبی کے ساتھ ادا کیا وہیں پے ان علاقوں میں جہاں یہ برادریاں مقیم تھیں - تفصیل سے پڑھئے
کسی ملک میں ایک قانون تھا کہ وہ ایک سال بعد اپنا بادشاہ بدل لیتے۔ اس دن جو بھی سب سے پہلے شہر میں داخل ہوتا تو اسے بادشاہ منتخب کر لیتے اور اس سے پہلے والے بادشاہ کو ایک بہت ہی خطرناک اور میلوں پھیلے جنگل کے بیچوں بیج چھوڑ آتے جہاں بے چارہ اگر درندوں سے کسی طرح اپنے آپ کو بچا لیتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا نہ جانے کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی سال کی بادشاہی کے بعد جنگل میں جا کر مر کھپ گئے-
اس دفعہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز کے علاقے کا لگ رہا تھا سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارک دی اور اسے بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے اور اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے گئے ، وہ حیران بھی ہوا اور بہت خوش بھی تخت پر بیٹھتے ہیں اس نے پوچھا کہ مجھ سے پہلا بادشاہ کہاں گیا تو درباریوں نے اسے اس ملک کا قانون بتایا کہ ہر بادشاہ کو سال بعد جنگل میں چھوڑ دیاجاتا ہے اور نیا بادشاہ چن لیا جاتا ہے یہ سنتے ہیں وہ ایک دفعہ تو پریشان ہوا لیکن پھر اس نے اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس جگہ لے کر جاؤ جہاں تم بادشاہ کو چھوڑ کر آتے ہو۔ درباریوں نے سپاہیوں کو ساتھ لیا اور بادشاہ سلامت کو وہ جگہ دکھانے جنگل میں لے گئے ، بادشاہ نے اچھی طرح اس جگہ کا جائزہ لیا اور واپس آگیا-
اگلے دن اس نے سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ میرے محل سے جنگل تک ایک سڑک تعمیر کی جائے اور جنگل کے بیچوں بیج ایک خوبصورت محل تعمیر کیا جائے جہاں پر ہر قسم کی سہولت موجود ہو اور محل کے اردگر خوبصورت باغ لگائے جائیں- بادشاہ کے حکم پر عمل ہوا اور تعمیر شروع ہوگئی ، کچھ ہی عرصہ میں سڑک اور محل بن کر تیار ہوگئے
ایک سال کے پورے ہوتے ہی بادشاہ نے درباریوں سے کہا کہ اپنی رسم پوری کرو اور مجھے وہاں چھوڑ آؤ جہاں مجھ سے پہلے بادشاہوں کو چھوڑ کے آتے تھے-
درباریوں نے کہا کہ بادشاہ سلامت آج سے یہ رسم ختم ہوگئی کیونکہ ہمیں ایک عقل مند بادشاہ مل گیا ہے ، وہاں تو ہم ان بےوقوف بادشاہوں کو چھوڑ کر آتے تھے جو ایک سال کی بادشاہی کے مزے میں باقی کی زندگی کا بھول جاتے اور اپنے لیے کوئی انتظام نہ کرتے ، لیکن آپ نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا کہ آگے کا خوب بندوبست فرمالیا۔ ہمیں ایسے ہی عقل مند بادشاہ کی ضرورت تھی اب آپ آرام سے ساری زندگی ہم پر حکومت کریں-
اب آپ لوگ سوچیں کہ کچھ دن بعد ہمیں بھی یہ دنیا والے ایک ایسی جگہ چھوڑ آئیں گے تو کیا ہم نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں اپنا محل اور باغات تیار کرلیے ہیں یا بے وقوف بن کر اسی چند روزہ زندگی کی مزوں میں لگے ہوئے ہیں اور ایک بہت لمبی زندگی برباد کر رہے ہیں-
ذرا سوچیئے کہ پھر پچھتانے کی مہلت نہیں ملے گی۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اپنے دورے کے دوران چینی صدر نے پاکستانی پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا
پاکستان و چین کے درمیان دو طرفہ تعاون جو 1960ء میں شروع ہوا تھا، اس میں کئی اعتبار سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
چین اور پاکستان تعلقات پر ایک نئی کتاب کے مصنف اینڈریو سمول کے مطابق اس کے ممکنہ اسباب میں چین کی متاثر کن معاشی ترقی، ایک طرف بھارت و امریکہ اور دوسری طرف پاکستان، چین کے درمیان بڑھتے تعاون نیز بھارت و چین کے درمیان اونچ نیچ سے گزرنے والے تعلقات کی بدلتی نوعیت شامل ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
تفسیر ابن کثیر سے۔۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر والے دن نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے اصحاب کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی ۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہو جائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہوگی یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت حضرت ابو بکر صدیق (رض) آگے بڑھے آپ کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (پیچھے سے آپ کو اپنی باہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اب بس کیجئے آپ نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری ۔ اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہوگئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور نے ان قیدی کفار کے بارے میں حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت علی رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا ۔ صدیق اکبر (رض) نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں ۔ آپ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دے دے اور یہ ہمارے قوت و بازو بن جائیں ۔ اب آپ نے حضرت فاروق اعظم (رض) سے دریافت کیا ۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں حضرت صدیق (رض) کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو حضرت علی کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حضرت حمزہ (رض) کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کر دیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کر دیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں ۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ابو بکر (رض) کا مشورہ قبول کیا اور حضرت عمر کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے ۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ اور حضرت ابو بکر صدیق (رض) رو رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے اسی کا بیان آیت ( مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67؀) 8- الانفال:67) سے ( فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 69؀ۧ) 8- الانفال:69) تک ہے ـ پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہو گیا ۔ پس یہ آیت اتری ( اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ١٦٥۔) 3- آل عمران:165)، یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے ۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پا چکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے ۔ ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت انحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ حضرت مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خوش ہوگئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے (نسائی وغیرہ) ارشاد ہوا کہ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا ۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان حضرت ابو بکر صدیق (رض) کی تھی اور بائیں حصے پر حضرت میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی ایک قرأت میں مردفین بھی ہے ۔ مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰحی اترے تھے ۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہو گئی ہیں اس انصاری صحابی نے حضور سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب باندھا ہے کہ "بدر والے دن فرشتوں کا اترنا "پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام حضور کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ کا درجہ آپ میں کیسا سمجھا جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا اور مسلمانوں سے بہت افضل۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں ۔ بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب حضرت عمر نے حضرت حاطب بن ابو بلتعہ (رض) کے قتل کا مشورہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیا تو آپ نے فرمایا وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا ۔ پھر فرماتا ہے کہ فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لئے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی جا ہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے ۔ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے جیسے فرمان ہے آیت ( فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ڎ فَاِمَّا مَنًّـۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۗءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَاڃ ذٰ۩لِكَ ړ وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ ۝) 47- محمد:4)، کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر قید کرنا ہے ۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو جائے یہ ظاہری صورت ہے اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے ۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا اور آیت میں ہے (وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ ١٤٠؁ۙ) 3- آل عمران:140) یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کر لے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہو جاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے ۔ جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے ۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کر دیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے ، ثمودی چیخ سے غارت کر دیئے گئے ، قوم لوط پر پتھر بھی برسے ، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں ، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے ۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہو گیا جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 43؀) 28- القصص:43) پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی ۔ پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کر دیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہو جائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت ( قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ 14 ۝ ۙ) 9- التوبہ:14)، اے مومنو! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمھارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا ۔ اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا ، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا ۔ ابو جہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہو جاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے ۔ جیسے کہ ابو لہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا ۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار ۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے جیسے ارشاد ہے ہے آیت ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ) 40- غافر:51)، ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے ۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے ۔

اگر آپ کی نظروں کے سامنے کوئی ایسی جگہ ہے کہ جہاں کئی لڑکیاں بیک وقت بدحواس ہوئی پھرتی ہیں‌ اور ادھر ادھر بکھرے کسی بھی رنگ کے ڈبے سے کوئی رنگ نکال کر کسی بھی لڑکی کے منہ پہ مل دیتی ہیں اور اس ستم کا نشانہ بننے والی لڑکی اس حرکت کا برا بھی مانتی نہیں دیکھی جاتی تو بلاشبہ آپ کسی بیوٹی پارلر میں ہی جھانک رہے ہیں ۔۔ اور یہ جو کچھ سزد ہوئے چلے جارہا ہے یہ ری کنڈیشننگ ہےجو میک اپ کا گویا آغاز ہے،،، ویسے اصل میں تو ری کنڈیشننگ کہتے ہیں شاید لمبی چوڑی مشینوں کی پہلے جیسی صورت بحال کردینے کو،،، یا موجودہ صورت سے بہتر کردینے کو،،، دنیا بھر کی ورکشاپیں یہی دعوے کرتی ہیں اور انہیں پورا بھی کردکھاتی ہیں۔۔۔ بیوٹی پارلر والے یہی کام انسانی چہروں کے ساتھ کردکھانے کا دعویٰ کرتے پھرتے ہیں،،، لیکن ہم نے تو ہمیشہ ہی کسی معصوم سے معصوم دوشیزہ کو بیوٹی پارلر سے واپسی پہ پہلے سے کہیں زیادہ خرانٹ و چنڈال سا پایا،،، اکثر کے تو سر پہ بالوں کی ایسی ڈھیری سی بنادی جاتی ہے کہ جیسے کوئی بلا سرپہ رمضان کا کھجلا رکھے پھررہی ہے،،،
یہ بیوٹی پارلر والے تو اچھی بھلی صورت کو ایسا بنادیتے ہیں کہ کہیں کہیں تو گھونگھٹ اٹھاتے ہی دلہا کی گھگھی بندھ جاتی ہے شاید اسی لیئے اب حجلہء عروسی میں دودھ کا بڑا والا گلاس رکھنے لگے ہیں،،، اکثر کبھی دلہن کی آنکھیں اپنی جگہ نہیں ہوتیں تو کبھی ہونٹ،،، اسکے گالوں پہ چاہ ذقن لانے کیلیئے ڈیڑھ پاؤ مصالحہ لیپ کر اس میں انگوٹھے گھما کر گڑھے پیدا کیئے جاتے ہیں جن میں بیچارہ دولہا اپنے اوسان سمیت ایسا جا گرتا ہے کہ کبھی نہیں سنبھل پاتا،،، 'سیانیاں' صبح دلہن کو جلدی سے غسلخانے لیجاکر دلہن کا منہ دھلا لاتی ہیں کیونکہ اس سے اک ذرا دیر کو ہی سہی لیکن دلہا کو بڑی ڈھارس ملتی ہے،،، اور وہ ولیمے کا اہتمام کرنے کے قابل ہوپاتا ہے،،، محبت کی شادی میں عام طور پہ محبوبہ کے چہرے کا ایک تل دلہا کو یہ دن دکھانے کی نوبت لاتا ہے،،، لیکن اگلے دن کی صبح منہ دھلنے پہ سب سے پہلے کمبخت وہی تل دھل دھلا کرناپید ہوجاتا ہے۔۔۔
شادی اگر خاندان میں ہوئی ہو تو بیوٹی پارلر سے کرائے میک اپ کے بل پہ اس دیکھی بھالی لڑکی سے کم ازکم شادی کے دن تو نجات مل ہی جاتی ہے،،، اسی لیئے اجنبی ذائقوں میں زیادہ نشاط پہ یقین رکھنے والوں کو بیوٹی پارلر والوں سے کبھی شکایت نہیں رہی ،،، ایسی خصلت والوں کا ماننا یہ ہے کہ اگرکسی وجہ سے رفیق سفر نہ بدل سکیں تو بیوٹی پارلر بہرحال بدلتے رہنا چاہیئے ،،، یوں آئے دن کسی اجنبی چہرے کا پہلو میں دھرا ہونا یقینی ہے ،،، دیکھنے میں آیا ہے کہ بیوٹی پارلروں کے دروازے عموماً باہر کی طرف نہیں کھلتے،،، اس تعمیری دانشمندی سے تیزی سے پلٹ کر بھاگ لینے کے امکانات کافی کم ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ خاص اہتمام کیا جاتا ہے کہ یہ دروازے بند ہی رکھے جائیں کیونکہ یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے،،، یہاں سے باہر لوٹنے والی تو خود اس سے بھی نہیں پہچانی جاتی کہ جو اسے وہاں لے کر آیا ہوتا ہے،،، اسی لیئے پارلر کے باہر کسی مزید ناواقف لڑکی کا ہاتھ تھام لینے کے واقعات عام ہیں اور اس سے بھی زیادہ واقعات وہ ہیں کہ جن میں وہ ناواقف لڑکی پھر ہاتھ چھوڑنے کا بہت برا مناتی ہے،،،،
میک اپ کرانے کے بعد اگر جب کسی دلہن کو دیکھیں تو پہلی نظر میں تو نجانے کیوں وہ لازمی اک کٹھ پتلی سی معلوم ہوتی ہے،،، چہرے کی رنگت ایسی سفید کہ کسی زندہ خاتون کی شدید 'ناگہانی' کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی ،،، پھرمورچھل جیسی لمبی لمبی مصنوعی پلکیں کہ گویا بار بار اٹھ کر آنکھوں کو پنکھا جھلتی ہوں یہ پنکھا غفلت میں ذرا تیز چلے تو پر تو دور جاگرتے ہیں مگر پھٹی پھٹی آنکھیں وہیں پڑی رہ جاتی ہیں ،،، چپکائے ناخن یوں بڑے بڑے کہ کسی چڑیل سےمستعار لیئے دکھتے ہیں اور حفاظت خود اختیاری کا ہتھیار معلوم ہوتے ہیں ۔۔۔ غرض بیوٹی پارلر میں تعمیر کردہ یہ سارا عروسی رنگ محل گویا 'ہینڈل ود کیئر' یا "منہ سنبھال کے بات کریں " کی کھلی وارننگ کی تحریر کے طور پہ پڑھا جاتا ہے،،، یہ بات مگر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اکثر نادان وارننگ کا یہ نوشتہ پڑھنے یا سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں اور سال بھر ہی میں اپنی اس سنگین غفلت کی سخت سزا بھگتنے دکھائی دیتے ہیں،
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ 1 : ﺟﻨﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺟﻮﺍﺏ : ﺟﻨﺖ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻓﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺒﮑﮧ ﺟﻨﺖ ﮐﻮ ﻓﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ، ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﭼﻬﺖ ﻋﺮﺵ ﺭﺣﻤﻦ ﮨﮯ .
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ :2 ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺟﻮﺍﺏ : ﺟﮩﻨﻢ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﮨﮯﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ " ﺳﺠﯿﻦ " ﮨﮯ . ﺟﮩﻨﻢ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺟﺲ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮨﻢ ﺭﮨﺘﮯﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﭼﻬﮧ ﺯﻣﯿﻨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﮟﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ
ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺟﺪﺍ ﮨﮯ .
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ3:- ﺳﺪﺭ ﺓ ﺍﻟﻤﻨﺘﻬﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺟﻮﺍﺏ : ﺳﺪﺭﺓ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺮﯼ / ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺮﯼ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻟﻤﻨﺘﮩﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ، ﯾﮧ ﺑﯿﺮﯼ ﮐﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﻭﮦﺁﺧﺮﯼ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﯽ ﺣﺪ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺁﮔﮯﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ .
ﺳﺪﺭﺓ ﺍﻟﻤﻨﺘﻬﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﺩﺭﺧﺖ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮍﯾﮟ ﭼﻬﭩﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯿﺎﮞ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﮨﺎﺗﻬﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﺟﺘﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻬﻞ ﺑﮍﮮﮔﻬﮍﮮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﭘﺮﺳﻨﮩﺮﯼ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﻣﻨﮉﻻﺗﯽ ﮨﯿﮟ ، ﯾﮧ ﺩﺭﺧﺖ ﺟﻨﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ
ﮨﮯ . ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﯾﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻬﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺻﻞ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﺟﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﺗﻬﺎ .
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ :4 ﺣﻮﺭ ﻋﯿﻦ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ؟
ﺟﻮﺍﺏ : ﺣﻮﺭ ﻋﯿﻦ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ،ﯾﮧ ﻧﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﻦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﮨﯿﮟ، ﺍﻟﻠﮧﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﻣﺤﺾ ﺟﮭﻠﮏ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﻣﺸﺮﻕ ﺍﻭﺭﻣﻐﺮﺏ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ .
ﺣﻮﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ، ﺍﻭﺭﺣﻮﺭﺍﺀ ﮐﯽ ﺟﻤﻊ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺟﺲ ﮐﯽ ﭘﺘﻠﯿﺎﮞ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺳﯿﺎﻩ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻮﮞ . ﺍﻭﺭ ﻋﯿﻦ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟﻋﯿﻨﺎﺀ ﮐﯽ ﺟﻤﻊ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ .
ﺳﻮﺍﻝ :5 ﻭﻟﺪﺍﻥ ﻣﺨﻠﺪﻭﻥ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ؟
ﺟﻮﺍﺏ : ﯾﮧ ﺍﮨﻞ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧﺑﻬﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﯾﺎ ﺟﻦﯾﺎ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﮨﻞ ﺟﻨﺖﮐﯽﺧﺪﻣﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﯽﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﭽﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ،
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ" ﺍﻟﻮﻟﺪﺍﻥ ﺍﻟﻤﺨﻠﺪﻭﻥ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ .ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺩﺭﺟﮧ ﮐﮯ ﺟﻨﺘﯽ ﮐﻮ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻭﻟﺪﺍﻥ ﻣﺨﻠﺪﻭﻥﻋﻄﺎ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ .
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ :6 ﺍﻋﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
جواب :- ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﭼﻮﮌﯼ ﻓﺼﯿﻞ ﮐﻮ ﺍﻋﺮﺍﻑ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺍﺱ ﭘﺮﻭﮦﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﮏ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ، ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﮯ ﻋﺮﺻﮧ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﺭﮐﻬﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﺩﮮ . ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﻬﯽ ﮐﻬﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﭘﻬﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﺩﮮﮔﺎ .
ﺳﻮﺍﻝ ﻧﻤﺒﺮ :7 ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﮯ؟
جواب :- ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﻛﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ . ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ :ﺗﻌﺮﺝ ﺍﻟﻤﻠﺌﻜﺔ ﻭ ﺍﻟﺮﻭﺡ ﺍﻟﻴﻪ ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﻛﺎﻥ ﻣﻘﺪﺍﺭﻩ ﺧﻤﺴﻴﻦ ﺍﻟﻒ ﺳﻨﺔ . ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﻣﻮﻗﻒ ﮨﯿﮟ،
ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻣﻮﻗﻒ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ . ﺟﺐ ﺁﯾﺖ " ﯾﻮﻡ ﺗﺒﺪﻝ ﺍﻷﺭﺽ ﻏﯿﺮ ﺍﻷﺭﺽ ﻭ ﺍﻟﺴﻤﺎﻭﺍﺕ " ﻧﺎﺯﻝﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝﺍﻟﻠﮧ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺑﺪﻝ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﺐ ﮨﻢ
ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯﺁﭖﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﺐ ﮨﻢ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﮨﻮﮞﮔﮯ . ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺳﮯ ﺟﺐ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﺻﺮﻑ ﺗﯿﻦ ﺟﮕﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﺟﻨﺖ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻣﺘﯽ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﮐﻮ ﻃﮯ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ .
ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺁﺳﻤﺎﻥﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻨﺖ ﺍﻭﺭﺟﮩﻨﻢ . ﺟﻨﺖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻻﺯﻣﺎ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ .
ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﻧﺼﺐ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ، ﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻟﺼﺮﺍﻁ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟﮔﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮨﻮﮔﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ . ﯾﮧ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﮔﺎ :
-1 ﺑﺎﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮨﻮﮔﺎ .
-2 ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﯿﺰ ﮨﻮ ﮔﺎ .
-3 ﺳﺨﺖ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯﻧﯿﭽﮯﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ .ﺳﺨﺖ ﺑﭙﻬﺮﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻀﺒﻨﺎﮎ ﮨﻮﮔﯽ-
-4 ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﺴﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺗﻮﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﮨﻠﮑﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ . ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺷﺨﺺ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﮔﯽ .
-5 ﺍﺱ ﭘﻞ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﻧﮑﮍﮮ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻭﺭﻧﯿﭽﮯﮐﺎﻧﭩﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﮐﮯﺍﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ . ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪﺍﻋﻤﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ .
-6 ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺍﻋﻤﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﺮ ﭘﻬﺴﻞ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯﮔﮍﻫﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﭼﯿﺦ ﭘﮑﺎﺭ ﺳﮯ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺩﮨﺸﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﮔﯽ . ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼﺟﺎﻧﺐ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﺟﺐ ﺗﻢ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﭘﮩﻼ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮔﮯ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ "
ﯾﺎ ﺭﺏ ﺳﻠﻢ، ﯾﺎ ﺭﺏ ﺳﻠﻢ "
ﺁﭖ ﺑﻬﯽ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﮍﻫﺌﮯ:
ﺍﻟﻠﻬﻢ ﺻﻞ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﺤﺒﻴﺐ ﻣﺤﻤﺪ .
ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﺳﮯ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ . ﺑﻨﺪﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﻬﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮﮔﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺗﻮ ﺑﺲ
ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻓﮑﺮ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺩ ﭘﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ.ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
: ﻋﺎﺋﺸﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻣﺠﻬﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﯾﺎﺩ ﺁﮔﺌﯽ، ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﻬﯿﮟ ﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯﻣﺤﺒﻮﺏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ؟ ﺁﭖ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮨﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ . )
1 ( ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺗﻮﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ -
2 ( ﺟﺐ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ-
3 ( ﺟﺐ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ . ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻖ ﭘﺮ ﺟﻤﮯ ﺭﮨﻮ . ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﻓﺘﻨﮯ ﺗﻮ ﺳﺮﺍﺏ ﮨﯿﮟ . ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻨﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺳﻌﺖ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺑﮍﻫﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ .
بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ قومیں اپنے لیڈروں کی قیادت میں منزلوں کی جانب سفر کرتی ہیں۔ چینی قوم کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں ماﺅزے تنگ جیسا لیڈر ملا جس نے 66 سال پہلے 1949 میں طویل ترین خانہ جنگی کے بعد آزادی سے لے کر 1976 تک اپنی قوم کی مخلصانہ قیادت کی اور اپنی قوم کو اس منزل تک پہنچایا، جہاں سے اس کو اپنی منزل صاف نظر آنے لگی تھی۔ ماؤزے تنگ نے دارالحکومت بیجنگ کے مرکز میں واقع تیانمن کے مرکزی دروازے کے چبوترے پر کھڑے ہو کر عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس اہم موقع کے دو برس بعد 21 مئی 1951 کو چین اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔   تفصیل سے پڑھئے
چینی آبدوزیں ملنے کے بعد پا کستان سمندر سے بھی ایٹمی ہتھیار چلا سکے گا - نئے منظر نامہ میں بھارت امریکہ اور رو س پا کستان کے قر یب ہو نے لگا - وزیر دفا ع خو اجہ آصف کا دورہ روس اور چینی صدر کا دورہ پا کستان نئےعالمیاتحا د کی نو ید سنا رہا ہے ان و اقعا ت سے سب سے زیادہ پر یشانی بھارت کو لا حق ہے چین نے پا کستان کو آٹھ آبدوزیں دینے کا اعلان کر دیابھارت کی تو نیندیں حرام ہو گئیں ،ما ہر ین کے خیا ل میں ان آبدوزو ں کی بحری بیڑے میں شمو لیت سے پا کستان سمندر سے بھی ایٹمی ہتھیار چلانے کی صلا حیت حا صل کر لے گا اب تک بھارت اپنی بحر ی قو ت میں ا ضا فہ صر ف چین کے مد نظر رکھ کر کر تا رہا لیکن اب پہلی بار اسے پا کستان سے بھی بحری چیلنج کا سامنا کر نا پڑے گا زمین کے بجا ئے آبدوز سے چلا ئے جانیوالے ایٹمی میز ائل زیا دہ خطر ا ت کے حامل ہو تے ہیں کیو نکہ آبدوز کا سر اغ لگانا بہت مشکل کام ہے پاکستان کے ساتھ آج ہو نیوالے چین کے معا ہدے بھی مستقبل کی نئی دنیا کی جھلک دکھا رہے ہیں ،ما ہر ین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ ہو نیوالے معا ہدے جب حقیقت کا روپ دھاریں گے تو پاکستان کی تقدیر بد ل دینگے رو س نے پا کستان میں 2ارب ڈالر کی سر ما یہ کاری پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت ایل این جی کے لیے کر اچی سے لاہور تک 1100 کلو میٹر طو یل انر جی پا ئپ لا ئن بچھا ئی جا ئیگی وفا قی وزیر پٹرولیم شا ہد خا قان عباسی کے مطا بق اس بارے میں معاہدہ آئندہ ما ہ ہو گا ،پا ئپ لا ئن کی تعمیر کا کنٹریکٹ روسی کمپنیو ں کو دیا جا ئیگا جس کے بعد آئندہ سال سے روس پا کستان کو ایل این جی کی بر آمد شر و ع کر دیگا، اس اقدام سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پا کستان امریکہ اور مغر بی مما لک کی یو کر ائن کے مسئلے پر رو س کیخلا ف پا بندیو ں کی بھی کو ئی پروا نہیں پا کستان اس راستے پر چین کی رضا مندی کے بغیر گامزن نہیں ہو سکتا، اسکا مطلب ہے کہ تینو ں مما لک علا قا ئی اور عا لمی منظر نامے میں ایک اتحا د کی شکل میں ابھر رہے ہیں۔ وزیر دفا ع خو اجہ آصف کے دورہ روس کے دورا ن دونو ں مما لک نے مشترکہ فو جی مشقو ں کا بھی غیر معمو لی اعلان کیا ہے کچھ عر صہ قبل تک یہ با تیں کسی دیوانے کا خواب معلو م ہو تیں لیکن بین الا قوامی تعلقا ت میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہو تا ،مو دی حکومت نے پا کستان دشمنی میں امریکہ اور مغربی مما لک سے یا رانہ بڑھایا امریکہ سے اربو ں ڈالر کے دفا عی معا ہدے کیے اور روس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا دو سر ی جانب مغر بی پا بندیا ں رو س کیلئے وبا ل جان بن گئیں ایسے میں اس نے نئی منڈیو ں اور دو ستو ں کی تلا ش شر و ع کی پا کستان نے ہا تھ آگے بڑھایا، رو س کے لیے پا کستان کی سٹر یٹجک اہمیت بھی بڑ ھ چکی ہے ۔امریکہ افغانستان سے وا پس جا رہا ہے جس کے بعد وہا ں پا کستان کا اثر و رسو خ بڑھ رہا ہے رو س بھی پا کستان کے ذریعے افغانستان سے معاملا ت طے کر نے کا خو اہشمند ہے ۔

ہادئ عالم ﷺ کی ذات بابرکات اور سیرت مبارکہ پر حملے کرنا روز اول سے قوم یہود کا شیوہ رہا ہے، تاکہ آپ کی پر امن دعوت وہدایات سے لوگوں کے سیاہ و تاریک قلو ب روشن نہ ہو سکیں ۔ یہی وجہ تھی کہ جب آپ کی دعوت دنیا میں عام ہونے لگی توعلمائے یہود نے بقول قرآن رسالت محمدیہ کی حقیقت وصداقت کا علم اپنی اولاد سے کہیں زیادہ رکھنے کے باوجود (۱) شدت سے آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کیا ،وہ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ہم اہل کتاب اور اللہ رب العزت کے مقرب بندے ہونے کے باوجود محمد کی صداقت کو نہیں جان سکے اور ان کی نبوت کا انکار کربیٹھے تو عام لوگوں کے لیے تو انکار رسالت انتہائی واجب ہوجاتاہے۔ انھوں نے محض لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے آپ کی نبوت کا انکار کیا۔    تفصیل سے پڑھئے
تمام مسلمانوں کے بر خلاف وہابی یہ سمجھتے ہیں کہ انبیاء اور آئمہ اہل بیت علیھم السلام کی قبروں کا احترام اور تعظیم کرنا خدا کے ساتھ شرک کرنا ہے اور ایسا کرنے والے کی سزا قتل ہے۔ وہابیوں نے اپنی غیر اسلامی آراء اور الٹے سیدھے فتووں کو اسلام دشمن طاقتوں کی مدد سے تمام مسلمانوں پر نافذ کرنے کے لیے لوہے اور آگ کو استعمال کیا اسلامی ممالک میں جہاں تک ممکن ہو سکا اپنے نجس ہاتھوں کو پھیلانے کی کوشش کی۔ عراق، شام، خلیج اور بہت سے دوسرے عرب ممالک ان وہابیوں کی یلغاروں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ تفصیل سے پڑھئے
حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود سیاہ اور کالے رنگ کے لیے بولا جاتا ہے۔ حجر اسود وہ سیاہ پتھر ہے جو کعبہ کے جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازاً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول چکر بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنےجاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔ جس کو استلام کہتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
پیغمبر اسلام کے پاس نو تلواریں تھیں جن میں سے دو انہیں وراثت میں ملیں اور تین مال غنیمت میں حاصل ہوئیں۔ عضب آپ  کو تحفے میں ملی تھی۔ ان نو میں آٹھ تلواریں ترکی کے شہر استنبول میں واقع توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہیں اورایک مصر کی ایک جامع مسجد میں موجود ہے۔پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کا نام ’’ضرب عضب‘‘ پیغمبر اسلام کی ایک تلوار کے نام پر رکھا۔زیر نظر مضمون میں پیغمبر اسلام کی تلواروں کا جائزہ لیا گیا ہے       تفصیل سے پڑھئے
1: اگر آپ نے کسی کا قرضہ نہیں دینا اور اپ کی جیب میں‌کل پونجی 1089 روپے یا اس سے زیادہ ہے تو آپ اس وقت دنیا کے 25% آبادی سے زیادہ امیر ہیں۔
2: نیند نہیں‌ آ رہی اور خواب آور گولیاں بھی نہیں لینا چاہتے تو ایک دو کیلے تازہ دودھ کے ساتھ کھا لیجیئے۔
3: آکسیجن کا موجودہ تناسب 21% ہے، اگر یہی بڑھ کر 22% ہو جائے تو انسان کبھی بھی آگ پر قابو نا پا سکے۔
4: تقریبا 95% لوگوں‌ سے جب یہ کہا جائے کہ میں‌تم سے ایک موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں‌تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔
5: مناسب اور کافی نیند کے بعد بھی اگر آپ تھکے تھکے ہیں‌تو آپ خشکی سے دوچار ہیں، پانی کا مناسب استعمال شروع کیجیئے۔
6: 90% لوگ جو کچھ خطوط میں‌لکھ ڈالتے ہیں روبرو کہنے کی جسارت نہیں‌رکھتے۔
7: بھوک انسانی جسم کو نامعلوم قسم کی اداسی کا احساس پیدا کرتی ہے۔
8: سگریٹ نوشوں‌کیلئے انگور بہترین غذا ہے، اس سے ان کے پھیپھڑوں پر ہونے والے برے اثرات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
9: دنیا بھر میں پیٹرول کے بعد سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چیز قہوہ اور چائے ہے۔
10: 42% یونیورسٹی گریجوایٹس نے باہر جا کر ایک بھی کتاب نہیں ‌پڑھی۔
11: فرانس کی کل آبادی 65 ملین اور ان کے ملک میں‌سالانہ سیاحوں کی تعداد 79 ملین ہے۔
12: کنٹاکی، ٹاکوبیل، بیزا ھٹ اور کویکر پیسی کی ملکیت ہیں۔
13: آپ سے مشورہ لینے والوں‌کی اکثریت ان لوگوں‌کی ہوتی ہے جو چاہتے ہیں‌کہ آپ ان کی تائید کریں ناکہ وہ آپ کے مشورے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔
14: خوشی جتنی زیادہ ہوگی نیند اتنی کم ہوتی جائے گی۔ اداس لوگ زیادہ سوتے ہیں۔
15: مسلسل تین دن جاگنے والا شخص ایسی ایسی چیزیں‌دیکھنے لگ
جاتا ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں‌ہوتا۔
16: کیلے کی کیمیائی ترکیب میں‌ایسے اجزاء بھی ہوتے ہیں‌جو انسان میں‌خوشی کا احساس پیدا کرتے ہیں ۔
17: ہالینڈ نے اپنی آٹھ جیلیں‌ جرائم کا تناسب کم اور مجرمین نا ہونے کی وجہ سے بند کر دی ہیں . .
ایک اور دن بادشاہی کا ایک اور رات بے روزگاری کی وہ کیا کہتے ہیں
ہر روز ، روز عید ہے
ہر شب ، شب برات
آج جب شام اپنا جوتا چیک کیا تو دیکھا سلائی نکل چکی ہے کوئی بات نہیں دونوں موزے بھی پنجے اور ایڑھی سے باد صباء کیلئے کھلے ہیں اب جیب میں موجود سوراخ کو سلوانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جیب خالی ہے
آج سوچنے بیٹھا کتنے مہینے گزر چکے اس ھڈ حرامی کو پھر خیال آیا چھوڑو کیا ظن و تخمین کرنا جانے دو ........
ایک نوکری کے چھوٹنے سے دوسری کے حصول تک کا وقفہ بھی عجیب ہوتا ابتدا میں شاہی ہوتی ہے اور اپنے آپ کو سمجھا رہے ہوتے ہیں کوئی بات نہیں کچھ دن عیش کے ہی سہی
وہ کیا کہا تھا بابر نے
بابر به عیش کوش که عالم دوباره نیست
یہ بابر بھی نہ اب ہر کسی کو اپنے باوا سے میراث میں سلطنت تھوڑا ہی ملتی ہے کسی کسی کا باپ مزدور کلرک یا غریب اسکول ماسٹر بھی ہو سکتا....
ہاں بے روزگاری شروع کے دن اچھے ہوتے ہیں پھر جیسے جیسے دن گذرتے ہیں کیفیت تبدیل ہوتی جاتی ہے پچھلے سالوں کی جمع پونجی ختم ہونی شروع ہو جاتی ہے وہ گھر والے جو ابتداء میں ہمت بندھا رہے ہوتے ہیں خود ہمت ہارنا شروع کر دیتے تلاش میں شدت آتی جاتی ہے اور مزاج میں ہدت .....
ہر نیا دن ایک نئی امید سے شروع ہوتا ہے اور ایک نئی مایوسی پر ختم شروع شروع میں کاندھے پر ہاتھ مار کر ہمت بڑھانے والے دوست نظریں چرانا شروع کر دیتے ہیں کہیں قرض ہی نہ مانگ بیٹھے ....
ویسے عجیب بات ہے بیکاری میں ادبی جراثیم بڑی تیزی سے پرورش پاتے ہیں اشعار میں روانی آ جاتی ہے اور افکار میں جوانی
ویسے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آتی کہ اتنے اونچے اونچے خیالات بے روزگاری میں ہی آخر کیوں آتے ہیں
ویسے یہ بھی سچ ہے کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے
ابھی کل ہی بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ خیالات آ رہے تھے کہ " یہ ڈاکو بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں ہوگی بے چاروں کی مجبوری اب اگر مال والوں سے کچھ لوٹ لیا تو کیا ظلم کیا "
لا حول ولاقوة الا بالله
ویسے نمازوں میں پختگی آتی جا رہی ہے اور خشوع و خضوع بڑھتا جا رہا ہے لیکن رخ عجیب ہے
الله معاف کرے کنوارہ ہر نیکی اس امید پر کرتا ہے کہ بیوی مل جاوے
اور بے روزگار اس امید پر کے نوکری مل جاوے
ویسے نوکری اور چھوکری کا پرانا ساتھ ہے بلکہ دونوں ہمدم دیرینہ ہیں اور آجکل لازم و ملزوم
نوکری نہیں تو چھوکری بھی نہیں
عجیب شے ہے انسان بھی اپنے دل میں شاہی کی خواہش رکھتا ہے
اور عجیب شے ہے یہ بے روزگار انسان بھی شاہی میں نوکری کی خواہش رکھتا ہے
اور عجیب شے ہے یہ بے روزگاری بھی شاہی میں فقیری کا لطف دیتی ہے
زندگی کا ڈھچرا عجیب انداز میں بدل رہا ہے پہلے کی ضروریات آج عیاشی لگنے لگی ہیں اور پہلے کی عیاشیاں آج ناقابل معافی جرائم دکھائی دیتی ہیں ......
اوہ اگر اسوقت یہ خرچہ نہ کرتا
اوہ اگر اسوقت وہ خرچہ نہ کرتا
چلو مٹی پاؤ جو ہو گیا سو ہو گیا
اب تو والد محترم بھی عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگے ہیں جیسے دل ہی دل میں کہ رہے ہوں لڑکا آوارہ ہو گیا ہے
یہ اپنے آپ کو لڑکا کہنا بھی کتنا اچھا لگتا ہے
اب کیا کریں جب تک کنوار پنا ہے تب تک تو ہم لڑکپن میں ہی ہیں
لو جی
راتوں کو تھک کر سونا خواب ہوا
اب تو رات گۓ کسی اداس الو کی طرح کسی چورنگی پر قائم پٹھان کے ہوٹل پر چاۓ کی پیالی اور سگریٹ کے دھنویں میں اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں
آج عجیب متضاد کیفیات سے گزرنا پڑا جب سڑی دھوپ میں بغل میں " سی وی " دابے جوتا گھسائی کرتے ہوے اپنے ہی پسینے کی بو سے دماغ پھٹنے لگا تو خیال آیا مجھ سے زیادہ ناکارہ شے اور اس دنیا میں کیا ہوگی پھر ایک گندے سے ٹھیلے سے میلے سے گلاس میں سکنجبین پیتے ہوے میں اپنے آپ کو اس شاہ کی طرح محسوس کر رہا تھا جسکی شاہی اسکی آزادی ہی تو ہے ......
کبھی کبھی دل کرتا ہے کچھ بھی کر لوں
ایک بار ایک کنسٹرکشن سائٹ پر نکل گیا تھا سوچا آخر ہم بھی تو اصلی و نسلی پٹھان ہیں کیوں نہ پتھر کوٹے جائیں لیکن پھر اصلی اور نسلی پٹھانوں کی مشقت دیکھ کر دل کو یہ دلاسہ دیا نہیں نہیں میں تو اردو بولنے والا ہوں یہ خان تو نام کے ساتھ ایسے ہی لگا ہے ........
تھے وہ آباء ہی ہمارے مگر ہم کیا ہیں
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر پیشہ ہیں
ویسے یہاں رشتہ بھی خوب جچے گا
میں اور میری ننھی منھی خواہشیں
بڑی دیر ہوئی فجر کی آذانیں ہوا چاہتی ہیں نماز پڑھ کر سونے کی تیاری کروں
شاید کل کی مشقت آج پھل دے جاوے دن تو سوتے ہوے گزرے مگر شام کو کہیں سے کوئی نیا سورج طلوع ہوکر دروازے پر دستک دے .......
ویسے مجھے امید ہے میری قسمت میرے سونے سے پہلے ہی جاگ جاۓ گی
صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے تک
بے روزگار

بابے نے لمبا سا سانس لیا اور بولا " کاکا تم چاہتے کیا ہو ؟ "
میں نے عرض کیا .... " کیا آپ کو واقعی سونا بنانا آتا ہے ؟
بابے نے خالی خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اورہاں میں سر ہلا کر بولا " ہاں میں نے جوانی میں سیکھا تھا ".
میں نے عرض کیا ..... " کیا آپ یہ نسخہ مجھے سکھا سکتے ہیں ؟ "
بابے نے غور سے میری طرف دیکھا اور پوچھا " تم سیکھ کر کیا کروگے ؟ "
میں نے عرض کیا .... " میں دولتمند ہو جاؤنگا "
بابے نے قہقہہ لگایا ، وہ ہنستا رہا دیر تک ہنستا رہا ، یہاں تک کہ اسکا دم ٹوٹ گیا اور اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑ گیا ، وہ کھانستے کھانستے دوہرا ہوا اور تقریباً بےحالی کے عالم میں دیر تک اپنے ہی پاؤں پر گرا رہا ، وہ پھر کھانستے کھانستے سیدھا ہوا اور پوچھا " تو تم دولتمند ہو کر کیا کروگے ؟
میں نے جواب دیا ... " میں دنیا بھر کی نعمتیں خریدونگا "
اس نے پوچھا " نعمتیں خرید کر کیا کروگے ؟
میں نے جواب دیا ... " میں خوش ہونگا ، مجھے سکون ملیگا "
اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا اور کہا " گویا تمہیں سونا اور دولت نہیں ، سکون اور خوشی چاہئے "
میں خاموشی سے اسکی طرف دیکھتا رہا . اس نے مجھے جھنجھوڑا اور پوچھا " کیا تم دراصل سکون اور خوشی کی تلاش میں ہو ؟ "
میں اس وقت نوجوان تھا. اور میں دنیا کے ہر نوجوان کی طرح دولت کو خوشی اور سکون سے زیادہ اہمیت دیتا تھا مگر بابے نے مجھے confuse کر دیا تھا اور میں نے اسی کنفیوژن میں ہاں میں سر ہلا دیا . بابے نے ایک اور لمبا قہقہہ لگایا اور اس قہقہے کا اختتام بھی کھانسی پر ہوا . وہ دم سنبھالتے ہوئے بولا " کاکا میں تجھے سونے کے بجاے انسان کو بندہ بنانے کا طریقہ کیوں نہ سکھآ دوں ؟ میں تمہیں دولتمند کے بجاے پرسکون اور خوش رہنے کا گر کیوں نہ سکھا دوں ؟ "
میں خاموشی سے اسکی طرف دیکھتا رہا ، وہ بولا " انسان کی خواہشیں جب تک اسکے وجود اور اسکی عمر سے لمبی رہتی ہیں یہ اس وقت تک انسان رہتا ہے ، تم اپنی خواہشوں کو اپنی عمر اور اپنے وجود سے چھوٹا کر لو تم خوشی بھی پا جاؤگے اور سکون بھی ، اور جب خوشی اور سکون پا جاؤگے تو انسان سے بندے بن جاؤگے "
مجھے بابے کی بات سمجھ نہ آئ اس نے میرے چہرےکو پڑھ لیا وہ بولا " تم قرآن مجید میں پڑھو الله خواہشوں میں لتھڑے لوگوں کو انسان کہتا ہے اور اپنی محبت میں رنگے خواہشوں سے آزاد لوگوں کو بندہ _ "
بابے نے اس کے بعد کامران کی بارہ دری کی طرف اشارہ کیا اور بولا " اسکو بنانے والا بھی انسان تھا وہ اپنی عمر سے لمبی اور مضبوط عمارت بنانے کے خبط میں مبتلا تھا ، وہ پوری زندگی دولت بھی جمع کرتا رہا مگر اس دولت اور عمارت نے اسے سکون اور خوشی نہ دی، خوش میں ہوں ، اس دولتمند کی گری پڑی بارہ دری میں برستی بارش میں بے امّان بیٹھ کر ."
میں نے بےصبری سے کہا " اور میں بھی ".
اس نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا "نہیں تم نہیں ، تم جب تک تانبے کو سونا بنانے کا خبط پالتے رہوگے تم اس وقت تک خوشی سے دور بھٹکتے رہوگے ، تم اس وقت تک سکون سے دور رہوگے ."
بابے نے اس کے بعد زمین سے چھوٹی سی ٹہنی توڑی اور فرش پر رگڑ کر بولا " لو میں تمہیں انسان کو بندہ بنانے کا نسخہ بتاتا ہوں ________________ !!!
اپنی خواہشوں کو کبھی اپنے قدموں سے آگے نہ نکلنے دو _
جو مل گیا اس پر شکر کرو ، جو چھن گیا اس پر افسوس نہ کرو _
جو مانگ لے اسکو دے دو ، جو بھول جائے اسے بھول جاؤ _
دنیا میں بے سامان اے تھے ، بے سامان واپس جاؤگے ، سامان جمع نہ کرو _
ہجوم سے پرہیز کرو ، تنہائی کو ساتھی بناؤ _
مفتی ہو تب بھی فتویٰ جاری نہ کرو _
جسے خدا ڈھیل دے رہا ہو اس کا کبھی احتساب نہ کرو _
بلا ضرورت سچ فساد ہوتا ہے ، کوئی پوچھے تو سچ بولو نہ پوچھے تو چپ رہو _
لوگ لذّت ہوتے ہیں ، اور دنیا کی تمام لذّتوں کا انجام برا ہوتا ہے _
زندگی میں جب سکون کم ہو جائے تو سیر پر نکل جاؤ ، تمہیں راستے میں سکون بھی ملیگا اور خوشی بھی _
دینے میں خوشی ہے، وصول کرنے میں غم _
دولت کو روکو گے تو خود بھی رک جاؤگے _
چوروں میں رہوگے تو خود بھی چور ہو جاؤگے _
سادھو میں بیٹھوگے تو اندر کا سادھو جاگ جائیگا _
الله راضی رہیگا تو جگ راضی رہیگا، وہ ناراض ہوگا تو نعمتوں سے خوشبو اٹھ جائیگی _
تم جب عزیزوں، رشتےداروں، اولاد اور دوستوں سے چڑنے لگو تو جان لو الله تم سے ناراض ہے _ اور جب تم اپنے دل میں دشمنوں کے لیے رحم محسوس کرنے لگو تو سمجھ لو تمہارا خالق تم سے راضی ہے _
اور ہجرت کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا ___ !!!"
بابے نے اک لمبی سانس لی، اس نے میری چھتری کھولی میرے سر پر رکھی اور فرمایا " جاؤ تم پر یہ رحمتوں کی چھتری آخری سانس تک رہیگی ، بس ایک چیز کا دھیان رکھنا، کسی کو خود نہ چھوڑنا ، دوسرے کو فیصلہ کرنے کا موقع دینا یہ الله کی سنّت ہے،
الله کبھی اپنی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا، مخلوق الله کو چھوڑتی ہے . اور دھیان رکھنا جو جا رہا ہو اسے جانے دینا مگر جو واپس آ رہا ہو اس پر کبھی اپنا دروازہ بند نہ کرنا یہ بھی الله کی عادت ہے . الله واپس آنے والوں کے لئے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے ، تم یہ کرتے رہنا ، تمھارے دروازے پر میلہ لگا رہیگا _
قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکہ نے افغان حکومت کے ذریعے قتل کروایا۔ امریکی منصوبے کے تحت افغان حکومت کے تیار کردہ قاتل کو دو ساتھی ملزمان نے قتل کیا اور دونوں معاون قاتل ہجوم نے روند دیئے۔ اس طرح قائد ملت کا قتل ایک سربستہ راز بن گیا۔ یہ انکشاف چند سال پہلے امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ری کلاسیفائیڈ کی گئی دستاویزات میں کیا گیا ہے۔ یہ دستاویزات اگرچہ 59 سال پرانی ہیں مگر پاکستان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ان دستاویزات مین اس جرم سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے تیل کے چشموں پر نظر رکھتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس دور میں ایران اور پاکستان کے تعلقات بہت زبردست ہیں اور ان دنوں 1950-51 میں افغانستان‘ پاکستان کا دشمن شمار ہوتا تھا اور افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس وقت امریکی صدر نے قائد ملت لیاقت علی خان سے سفارش کی تھی کہ اپنے قریبی دوستوں ایرانیوں سے کہہ کر تیل کے چشموں کا ٹھیکہ امریکہ کو دلوا دیں اس پر لیاقت علی خان نے دو ٹوک جواب دیا کہ میں ایران سے اپنی دوستی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا اور نہ ہی انکے داخلی معاملات میں مداخلت کروں گا۔ اگلے روز امریکی صدر ٹرومین کا لیاقت علی خان کو دھمکی آمیز فون موصول ہوا۔ لیاقت علی خان نے جواب میں کہا کہ میں ناقابل خرید ہوں اور نہ کسی کی دھمکی میں آنے والا ہوں یہ کہہ کر فون بند کر دیا اور حکم دیا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر پاکستان میں امریکہ کے جتنے طیارے کھڑے ہیں وہ پرواز کر جائیں اور اپنے ملک کو واپس چلے جائیں ادھر واشنگٹن ڈی سی میں اسی لمحے ایک میٹنگ ہوئی اور طے ہوا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان ہمارے کام کا آدمی نہیں ہے دیکھئے کریکٹر دیکھئے لیاقت علی خان کا نہ وہ لالچ میں آتے ہیں اور نہ کسی دبا? میں آتے ہیں تو امریکہ نے پاکستان میں ایک کرائے کے قاتل کی تلاش بہت دوڑ دھوپ کے ساتھ شروع کر دی-اس زمانے میں اس کاسفارتخانہ کراچی میں تھا جو پاکستان کادارالخلافہ تھا،امریکاکو پورے پاکستان میں کرائے کاایک قاتل نہیں مل سکا پھرواشنگٹن ڈی سی سے کراچی میں امریکی اورکابل کے سفارتخانے کوفون کیاکہ قاتل کوافغانستان میں تلاش کیاجائے۔
امریکا نے شاہ ظاہرشاہ کو یہ لالچ دیا کہ اگر تم لیاقت علی خان کا قاتل تیار کرلو تو ہم صوبہ پختونستان کوآزاد کرا لیں گے افغان حکومت تیار ہو گئی بلکہ 3آدمی ڈھونڈے، ایک توسیداکبر تھا جسے گولی چلانی تھی،2مزید افراد تھے جنھوں نے اس موقع پر سید اکبرکوقتل کر دیناتھاتاکہ کوئی نشان کوئی گواہ باقی نہ رہے اورقتل کی سازش دب کررہ جائے تو16اکتوبرسے ایک دن پہلے سیداکبراوراس کے وہ ساتھی جنھیں وہ اپنا محافظ سمجھتاتھا،تینوں راولپنڈی آئے۔ایک ہوٹل میں رکے اورقبل از وقت کمپنی باغ میں اگلی صفوں میں بیٹھ گئے،سید اکبرنے دو نالی رائفل چھپارکھی تھی، لیاقت علی خان جلسہ گاہ آئے اور اپنے خاص اندازمیں کھڑے ہو کر کہا برادران ملت توسیداکبر نے اپنے کوٹ سے رائفل نکال کر2فائرکیے جو سیدھے بدقسمتی سے لیاقت علی خان کے سینے پر لگے ،ان کے آخری الفاظ یہ تھے خداپاکستان کی حفاظت کرے۔
ادھر سید اکبر کے جومحافظ بھیجے گئے تھے انھوں نے سید اکبرکوقتل کر دیا اور مشتعل ہجوم نے محافظوں اورسید اکبر کو پیروں تلے ایساروندھا کہ ہمیشہ کے لیے وہ سازش چھپ کررہ گئی،اب ڈی کلاسیفائی ڈاکومنٹس نے اس معاملے کوواضح کیاہے۔واضح رہے کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے حوالے سے آج تک مختلف کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں لیکن 60سال بعد امریکی محکمہ خارجہ نے یہ سارے رازافشاکردیے ۔
دنیا بدل رہی ہے۔ دنیا ہمیشہ سے بدل رہی ہے۔زمین انسانوں کے کتنے انقلاب دیکھ چکی ہے۔ اب بوڑھی ازمین"گلوبل ولیج "بن گئی ہے۔یہ ان فارمیشن کا دور بھی ہے اور ڈس انفارمیشن کا بھی۔۔۔۔ٹیکنالوجی کا یہ سیلاب اپنے ساتھ بہت سارے مواقع opportunitiesبھی لایا ہے۔ 
٭۔اس گلوبل ولیج میں عورتوں کی تعداد تقریباً "نصف" ہے۔۔۔اس لیے عورت بدلتی دنیا کا اہم ترین کریکٹر ہے ۔عورت ہر انقلاب کا خصوصی جز رہی ہے اور اس وقت عالمی طاقتوں کا خصوصی ہدف بھی عورت اور خصوصاً نوجوان عورت ہے۔
٭۔میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی ۔بیڈرومز تو کیا انسان کے اندر تک پہنچ گئی ہے۔اس کا مثبت استعمال انسان کو نفع بھی پہنچاتا ہے ۔اور منفی کردار انسان کو اسفل السافلین میں بھی گرا
رہا ہے۔۔۔
اس گلوبل ولیج کے کرتا دھرتا چاہیں تو کسی بے گناہ نیک شریف عورت کو مجرم قرار دے دیں اور چاہیں تو ایک معصوم کم عمر بچی کو اٹھا کر نوبل پرائز دلوا دیں۔
عورت ہی وہ طاقت ہے کہ اگر وہ سنبھل جائے اور اپنی ذمہ داریاں سمجھ جائے تو انسانیت اور معاشرہ تیزی سے سنور سکتا ہے لیکن جب عورت "سگریٹ کی ڈبیہ " اور "صابن کی ٹکیہ " کی خاطر بک جائے ،بے لباس ہو جائے۔تو معاشرہ تیزی سے تباہی کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔
آج کی عورت کو اپنا رول طے کرنا ہے اپنا مقام طے کرنا ہے۔بلکہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے۔
وہ مقام جو اس کے خالق اور ملالک نے آزادی نسواں کی کسی تحریک کے بغیر اسے عطا کیا تھا۔
وہ مقام جس پر آج سے چودہ سو سال قبل نبی رحمت ۖ نے بن مانگے اسے فائز کیا تھا۔
مسلما ن عورت آج بھی بہت معزز اور آزاد ہوتی ہے اگر اسے اس کے حقوق ملیں۔
٭۔مسلمان بیوی ملکہ ہے جس کا شوہر اس کے تمام نان نفقے کا ذمہ دار ہے۔اس کا سر تاج ہے۔ ایک سائبان ہے کوئی متحارب فریق نہیں۔
٭۔مسلمان بیٹی رانی ہے جو باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور ماں کی حیثیت میں عورت مرد )باپ( سے تین گنا زیادہ حقوق رکھتی ہے۔
٭۔ان بچوں کی تباہی و ہلاکت کے لیے نبی رحمت ۖ نے بد دعا کی ہے جو بوڑھے والدین کی خدمت نہیں کرتے۔
٭۔نام نہاد آزادی کی تحریکوں نے عورت کو کیا دیا؟
٭۔وومن empowermentکے نام پردوہری ذمہ داریاں
٭۔بڑھتی ہوئی شرح طلاق ،ٹوٹتے ہوئے خاندان اور معاشرتی انتشار
٭۔فیملی پلاننگ کے نام پر صحت کی بربادی
٭۔آزادی نسواں کی آڑ میں بے حیائی واباحیت
اس بدلتی دنیا میں عورت سوچے کہ اسے کون سا راستہ منتخب کرنا ہے ۔۔۔ وہ عزت کا راستہ جو اسلام نے عطا کیا ہے۔
یا اسے دو وقت کی روٹی کے لیے مارا مارا پھرنا ہے ۔فرمانبردار بیوی نہیں بلکہ بگڑی ہوئی گرل فرینڈ بننا ہے۔!
کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ شفقت اور محبت سے بچے پالے ۔ان کی بہترین تربیت کر ے اور اللہ سے دعا مانگے کہ بچے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں یہ محبتوں میں پلے ہوئے بچے جوان ہوں ۔معاشرتی استحکام کا باعث بنیں ،والدین کی خدمت کریں اور دعا مانگیں ۔
یا یہ پسند ہے کہ مائیں بچے ڈے کئیر سنٹر میں یا آیاؤں کے حوالے کر کے کام پہ چلی جائیںاور پھر یہ بچے ماں باپ کو اولڈ ہاؤس میں داخل کرا دیں ۔
میں سب بہنوں اور بھائیوں کو دعوت دیتی ہوں کہ اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں آ جائیں ۔
بدلتی دنیا میں وہ کردار ادا کریں جس کے لیے ان کے خالق نے انہیں پیدا کیا ہے
اپنے مالک کے بنائے ہوئے نظام میں پناہ لے لیں ۔اللہ کے نزدیک زندگی گزارنے کا راستہ صرف اسلام ہے۔
آج دنیا میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں ،سوشلزم ۔capitalism،کوئی اور ازم ؟؟ ۔۔۔۔نہیں نہیں۔
ان الدین عند اللہ السلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
اسلام مودت ورحمت کا پیغام ہے۔ اسلام تقویٰ کا پیغام ہے
اسلام خاندان اور معاشرتی استحکام کا ضامن ہے ۔
اسلام عدل کا نظام ہے۔دہشت گردی نہیں ،امن کا علم بردار ہے ۔اسلام کے نظام میں غیر مسلم محفوظ ہیں ۔اسلامی حکومت ان کی حفاظت کی ذمہ دار ہے
کسی غیر مسلم ،مسیحی یا ہندو پر بلاوجہ ظلم کرنے والے اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ۔یہ جاہلیت کے فعل ہیں۔نہ یہ قرآن سے محبت کی علامت ہے۔نہ یہ اسلام سے خیر خواہی ہے۔
ہمارے نبی محترم ۖ نے تو چیونٹی پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔
ہمیںدرست اسلام کے علم برداربننا چا ہیے۔ہمیں بہترین انسانی اور اسلامی اقدار کے مطابق معاشرہ کی تعمیر کرنی چاہیے ۔
ہمیں سو سائٹی کو مضبوط ،پاکیزہ اور امانت ودیانت کا ماڈل بنانا چاہیے۔جہاں مرد عورتوں کے حقوق سلب کرنے والے نہیں بلکہ ان کی عزت اور حقوق کے محافظ ہوں ۔
ایسا عدل و امن کہ ایک عورت ۔۔۔۔
تنہالمبا سفر کرے اور اسے راستے میں کوئی خوف نہ ہو۔۔!
اللہ نے اسلام غالب کیا ۔۔۔۔۔تو ان شاء اللہ
۔عورت تعلیم یافتہ ہو گی۔
اس کی تما م تر کفالت مردوں کے ذمہ ہو گی ۔ہاں اگر وہ اپنے جذبہ خدمت اور شوق کوئی نفع بخش کام کرنا چاہے تو کوئی رکاوٹ نہ ہو گی۔
۔با شعور۔ خود آگاہ۔مثبت کردار کی حامل ہو گی۔
۔بوقت ضرورت جاب بھی کرے گی لیکن اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے آگاہ بھی ہو گی۔
دنیا بھر میں مسلمان خواتین اس وقت بھی نہ صرف اپنی ذات ،اپنے گھر اور خاندان کی فلاح کے لیے مستعد ہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی پوری طرح سر گرم ہیں۔
اگر وہ ڈاکٹر ہیں تو خدا ترس ہیں۔ٹیچر ہیں تو فرض شناس ہیں ۔وہ مدّرسات ہیں،writerہیں ،ورکنگ وومن ہیں،سوشل ورکر ہیں۔
مسلمان خواتین اپنے بڑے بڑے ادارے چلا رہی ہیں۔
میڈیا سیل میں بھی بہت فعال ہیں۔
بچوں کی تربیت کے نئے اور جدید پروگرام بنائے جا رہے ہیں۔
لیکن یہ مسلمان عورت اپنے اللہ کی بندی ہے۔اپنے شوہر کی فرمانبردار ہے۔کیونکہ اسے معلوم ہے وہ مردوں کا ضمیمہ نہیں اسے اللہ کے حضور اپنا حسا ب خود دیناہے۔
یہ خدمت کے جذبے سے سر شار ان تھک جدو جہد کرنے والی بے لوث خواتین معاشرے کا ایسا سرمایہ ہیں۔جن کے دم سے قومیں زندہ رہتی ہیں۔
ان کی آئیڈیل خدیجة الکبریٰ،عائشہ صدیقہ اور فاطمةالزہرہ ہوں ۔ایسی خواتیں ہی بدلتی دنیا میں بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں اور معاشروں کو مستحکم کر سکتی ہیں...
محبت کے متلاشی افراد اکثر اس وجہ سے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کوئی انہیں پیار کا پیغام دے رہا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف کنساس کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو پیار کی علامات کی پہچان ہو تو آپ محض 12 منٹ میں محبوب کی تلاش میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر جنیوی پال کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آپ میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ مندرجہ ذیل طریقوں سے اس کا اظہار کرے گا یا دوسری صورت میں آپ کسی کا دل جیتنے کیلئے ان علامتوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔
1 سے 3 منٹ:۔ اگر کوئی آپ میں دلچسپی رکھتا ہے تو گفتگو کے پہلے تین منٹ میں اس کی طرف سے آپ کیلئے کوئی تعریفی کلمہ آ سکتا ہے، آپ کی کسی بات کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے یا پھر محبت کی پہلی نظر سے آپ کو دیکھا جا سکتا ہے۔
4 سے 6 منٹ:۔ تعریفی انداز جاری رہتا ہے اور بے تکلفی میں بھی اضافہ نظر آتا ہے۔ آپ میں دلچسپی رکھنے والا شخص اب قدرے زیادہ پرسکون نظر آئے گا اور بات کرتے وقت ہاتھوں کے اشاروں کو بھی استعمال کرے گا خصوصاً ہتھیلیاں کھلی رکھے گا۔
7 سے 9 منٹ:۔اب تعریفی جملوں کا اختتام ہو گا اور مرد صنف مخالف کی طرف زیادہ گہری نظر ڈالے گا جبکہ خاتون جس میں دلچسپی رکھتی ہے تو اپنے بارے میں قدرے زیادہ کھل کر بتائے گی۔
10سے12 منٹ:۔ تقریباً 12 منٹ میں خواتین کھل کر اور پرسکون انداز میں گفتگو شروع کر دیتی ہیں اور خوش نظر آتی ہیں۔ اس دوران وہ اپنی ہتھیلیوں کو بھی کھلا رکھتی ہیں۔ اگر آپ کی بھی کسی سے 12 منٹ کی گفتگو اسی انداز میں آگے بڑھے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ آپ کو محبت میں ہمسفر مل چکا ہے..
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
بہت مدت پہلے دور دراز کے ایک ملک میں یہ قاعدہ تھا کہ اس ملک کے لوگ ہر سال اپنا بادشاہ تبدیل کرتے تھے۔جو بھی بادشاہ بنتا وہ ایک عہدے نامے پر دستخط کرتا کہ اس کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد وہ اس عہدے سے دست بردار ہو جائے گا اور اس ایک دور دراز جزیرے پر چھوڑ دیا جائے گا جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آسکے گا۔
جب ایک بادشاہ کا ایک سالہ دور حکومت مکمل ہو جاتا تو اسے ایک مخصوص جزیرے پر چھوڑ دیا جاتا جہاں وہ اپنی بقیہ زندگی گزارتا۔ ا س موقع پر اس بادشاہ کو بہترین لباس پہنایا جاتا اور ہاتھی پر بٹھا کر اسے پورے ملک کا الوداعی سفر کر وایا جاتا جہاں وہ سب لوگوں کو آخری بر خیر باد کہتا۔ وہ بہت ہی افسوس ناک اور غم زدہ لمحات ہوتے اور پھر وہاں کے لوگ بادشاہ کو اس جزیرے پر ہمیشہ کے لئے چھوڑ آتے۔
ایک مرتبہ لوگ اپنے پُرانے بادشاہ کو جزیرے پر چھوڑ کر واپس آرہے تھے کہ انھوں نے ایک ایسا سمندری جہاز دیکھا جو کچھ دیر پہلے ہی تباہ ہوا تھا اور ایک نوجوان شخص نے خود کو بچانے کے لئے لکڑی کے ایک تختے کا سہارا لے رکھا تھا۔ چوں کہ ان لوگوں کوایک نئے بادشاہ کی بھی تلاش تھی لہٰذا انھوں نے اس نوجوان شخص کو اپنی کشتی میں بٹھا لیا اور اپنے ملک لے آئے اور اس سے ایک سال کی حکوت کرنے کی درخواست کی۔ پہلے تو وہ نو جوان نہ مانا، لیکن پھر وہ ایک سال کے لئے بادشاہ بننے پر رضا مند ہو گیا ۔ وہاں کے لوگوں نے اس بادشاہت کے تمات اُصول اور طریقے سمجھا دیے اور یہ بھی بتایا کہ ایک سال کے بعد وہ اسے فلاح مخصوص جزیرے پر چھوڑ آئیں گئے۔
بادشاہت کے تیسرے دن ہی اس نوجوان بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: ”مجھے وہ جگہ دکھائی جائے جہاں گزشتہ تمام بادشاہون کو بھیجا گیا تھا۔“
نے بادشاہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے وہ جزیرہ دکھانے کا اہتمام کیا گیا۔ وہ جزیرہ مکمل طور پر جنگل تھا اور جنگلی جانوروں سے بھرا ہوا تھا۔ ان جانوروں کی آوازیں جزیرے کے باہر تک سنائی دے رہی تھیں۔ بادشاہ جائزہ لینے کے لئے تھوڑا سا جنگل کے اندر گیا اور وہاں اس کے پچھلے تمام بادشاہوں کے ڈھانچے پڑھے نظر آئے۔ وہ سمجھ گیا کہ بہت جلد اس کا بھی یہی حال ہوگا اور جنگلی جانور اس کو چیر پھاڑ کر کھا جائیں گئے۔
ملک واپس پہنچ کر بادشاہ نے مضبوطو توانا جسم کے سو مزدور اکھٹے کیے۔ ان سب کو اس جزیرے پر لے گیا اور حکم دیا جنگل کو ایک ماہ میں مکمل طور پر صاف کر دیا جائے۔ تمام خطر ناک جانوروں کو مار دیا جائے اور سب فالتوں درخت کاٹ دیے جائیں۔
وہ ہر ماہ خود جزیرے کا دورہ کرتا اور کام کی خود نگرانی بھی کرتا۔ پہلے مہینے میں ہی تمام خطر ناک جانوروں کو مار دیا گیا اور پھر بہت سے درخت بھی کاٹ دیے گئے ۔ دوسرے ماہ تک جزیرہ مکمل طور پر صاف ہو چکا تھا۔
اب بادشاہ نے مزدوروں کو حکم دیا کہ جزیرے پر مختلف مقامات پر خوب صورت باغات تعمیر کیے جائیں۔ وہ اپنے ساتھ مختلف پالتو جانور مثلاََ مرغیاں۔ گائے۔ بھینسیں ،بطخیں اور بھڑیں وغیرہ بھی جزیرے میں منتقل کرتا رہا۔
تیسرے مہینے میں بادشاہ نے ا پنے مزدوروں کو حکم دیا کہ ایک شاندار گھر تعمیر کریں اور اس جزیرے پر ایک بڑی سی بندرگاہ بھی بنائیں ۔ گزرتے مہینوں کے ساتھ ساتھ وہ جزیرہ ایک خوب صورت شہر میں بدلتا جا رہا تھا۔
وہ نوجوان بادشاہ بہت سادہ لباس زیب تن کرتا اور اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتا۔ اپنی بادشاہت کی زیادہ ترک کمائی وہ جزیرے کو بنانے میں لگاتا رہا۔ دس ماہ گزرجانے کے بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا:” میں جانتا ہوں کہ دو مہینے بعد مجھے جزیرے میں چھوڑ دیا جائے گا لیکن میں ابھی سے وہاں جانا چاہتا ہوں ۔“ وزیر اور دوسرے وزرا اس بات پر متفق نہیں ہوئے اور بادشاہ سے کہا:” آپ کو دوماہ مزید صبر کرنا ہوگا تاکہ سال مکمل ہو جائے۔ سال پورا ہو جانے کے بعد ہی آپ کو اس جزیرے پر چھوڑا جائے گا۔“
بالآخر دو ماہ مکمل ہو گئے اور بادشاہت کا ایک سال ختم ہوگا۔ حسب روایت وہاں کے لوگوں نے اپنے بادشاہ کو شاندار لباس پہنایا اور ہاتھی پر بٹھایا تاکہ وہ اپنی رعایا کو خیر آباد کہہ سکے۔ خلافِ توقع یہ بادشاہ اپنی الوداعی تقریب پر بہت ہی خوش تھا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا:”اس موقع پر تمام گزشتہ بادشاہ تو رو رہے تھے لیکن آپ ہنس رہے ہیں۔ آپ کے اس قدر خوش ہونے کی کیا وجہ ہے ؟“
اس نوجوان بادشاہ نے جواب دیا۔” تم لوگوں نے داناوٴں کا وہ قول نہیں سنا:” جب تم ایک چھوٹے بچے کی صورت میں اس دنیا میں آتے ہو تو تم رو رہے ہوتے ہو اور باقی لوگ سب ہنس رہے ہوتے ہیں۔ ایسی زندگی جیو کہ جب تم مرو تو تم ہنس رہے ہو اور باقی دنیا رو رہی ہو “۔ میں نے ایسی ہی زندگی گزاری ہے۔
جس وقت تمام بادشاہ محل کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے ہوتے تھے تو میں اس وقت اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا تھا اور اس کے لئے لائحہ عمل تیار کرتا تھا۔ میں نے اب اس جزیرے کو ایک ایسی خوب صورت قیام گاہ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں اب میں اپنی باقی زندگی نہایت چین اور آرام وسکون سے گزار سکوں۔“
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
آج مارکیٹ اور بازاروں میں جعلی اور دونمبر شہد کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے،
کیوں کہ ہمارے لوگوں کی اکثریت شہد کے اصلی یا نقلی ہونے کی پہچان ہی نہیں رکھتی،
تو یہاں ہم آپ کو خالص شہد کی پہچان کے چند طریقے بتائے دیتے ہیں۔
٭ سب سے پہلے شہد کی بوتل پر لگے لیبل کو چیک کریں،
جس پر اجزائے ترکیبی درج ہوں۔
شہد بنانے والی کمپنی کی طرف سے ایمانداری کے ساتھ اجزائے ترکیبی کا اندراج قانونی اور اخلاقی طور پر لازم ہے۔
ان اجزاءمیں اگر additives یعنی ایسے مادے جو تیل میں اس لئے ملائے جاتے ہیں کہ اس میں کوئی غیرمعمولی خصوصیت پیدا ہو جائے،
نہ ہو تو بے فکر ہو کر یہ شہد خرید لیں۔
٭ ایک گلاس میں پانی لے کر شہد سے بھرا چمچ اس میں ڈال دیں،
اگر شہد خالص ہوا تو یہ پانی میں حل نہیں ہوگا،
اگر خالص نہ ہوا تو حل ہو جائے گا،
کیوں کہ مارکیٹ میں ملنے والے اکثر شہد گڑ سے بنائے جا رہے ہیں۔
٭ اس طریقہ کے ذریعے شہد کی جانچ کے لئے آپ کو ایک عدد لائٹر اور موم بتی درکار ہے۔
موم بتی میں موجود کاٹن کی بتی کو شہد میں بھگو کر ایک بار جھٹک دیں اور بعدازاں لائٹر سے اسے آگ لگانے کی کوشش کریں۔
اگر اس بتی میں آگ لگ گئی تو سمجھ لیں کہ یہ خالص شہد ہے۔
٭ شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ پر پر ٹپکا دیں،
اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کرگیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس جذب کرنے والا کاغذ نہیں ہے تو اس کے لئے آپ سفید کپڑا بھی استعمال کر سکتے،
اس کپڑے پر شہد کے چند قطرے گرا کر تھوڑی دیر انہیں دھو لیں اگر تو کپڑے پر دھبے کا نشان رہ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ شہد خالص نہیں ہے۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبور کی بے حرمتی کرنے کی بار بار کوشش کی گئ ۔آپ تینوں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف میں دفن ہیں۔دشمنوں نے باربار کوشش کی کہ ان کے اجسام مبارک کو ان کی قبروں سے نکال لیا جائے تاکہ مسجد نبوی شریف اور مدینہ منورہ توجہ کا مرکز نہ رہیں ۔شیخ محمد عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب تاریخ مدینہ میں تین بڑی سازشوں کا ذکر کیا ہے ۔   تفصیل سے پڑھئے
مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب کوئی کہتا ہے کہ ساری ایجادات انگریز کر رہے ہیں، حالانکہ جس قسم کی ایجادات پاکستان میں ہورہی ہیں ایسی انگریزوں کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔ باہر کے ممالک میں ایجادات کرنے کے لیے سائنسدان ہونا ضروری ہے لیکن الحمدللہ ہمارے ہاں چٹے ان پڑھ لوگ بھی ایسی کمال کی چیزیں ایجاد کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔دنیا بھر میں ہلدی سالن میں ڈالی جاتی ہے یا زخموں پر لگائی جاتی ہے لیکن ہم وہ واحد جینئس لوگ ہیں جو ہلدی کے ذریعے گاڑی کے ریڈی ایٹر کی لیکج بھی کنٹرول کرلیتے ہیں۔ویٹ لفٹنگ کے شوقین افراد کے لیے دنیا بھر میں ایسے ویٹ بنائے جاتے ہیں جن کے دونوں کناروں پر لوہے کی پلیٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں،   تفصیل سے پڑھئے
سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جس کا موجودہ دور معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاو انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہاررائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد شوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرئع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
ہسپانیہ پر مسلمانوں کی حکومت طارق بن ذیاد کے کشتیاں جلانے سے شروع ہوئی اور شاہ ابو عبداللہ کے شہر کی کنجیاں فرڈی نینڈ کے سپرد کرنے پر ختم ہوئی۔ کنجیاں سپردگی سے پہلے معاہدہ ہوا کہ مسلمان یہاں ساڑھے چھ سو سال سے رہ رہے ہیں اور اکثریت میں ہیں ان کی جان و مال کو تحفظ ملے گا، عزت و آبرو کو تحفظ ملے گا، عبادت گاہوں کو تحفظ ملے گا اور ان کو مزہبی آزادی ہو گی ۔۔۔۔۔۔ ابو عبداللہ نے یہ معاہدہ کرتے وقت یہ نہ سوچا کہ غلاموں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے، مفتوحہ قوموں کے فاتحوں سے معاہدے نہیں چلتے، بےغیرتوں کی زندگی اپنی نہیں ہوتی، وطن فروشوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی، اس نے یہ نہ سوچا کہ میں اپنے شہر کی کنجیاں ہی نہیں اپنے مزہب و مسلمانوں کی عزت کی کنجیاں ایک بے غیرت و ننگ آدمیت لشکر کے سپُرد کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ نتیجہ وہی نکلا چند ہی یوم میں مسلمانوں کا استحصال شروع ہو گیا، قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا گیا، مسلمانوں پر صعوبتوں کے پہاڑ توڑے گئے ان کو خنزیروں کے باڑوں میں باندھا گیا ، مزہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، مساجد کو گرجوں میں بدل دیا گیا، مسلمانوں نے ایک بڑی تعداد میں قریب ترین ملک مراکش کی طرف ہجرت کی، ان دو ممالک کے بیچ میں ایک چھوٹی سی سمندری خلیج تھی اس کو عبور کر کے دارالامان میں جاتے جاتے کئی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو بچ رہے ان کو یا تو جان دینا پڑی یا پھر اپنا مزہب تبدیل کر کے تیسرے درجے کی بد تر زندگی گزارنا پڑی۔

جب علامہ اقبال نے سابقہ ہسپانیہ ، اسپین کا سفر کیا تو مسجد قرطبہ میں پہنچ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، انہوں نے ہسپانیہ پر چند اشعار کہے، جن سے ان کا درد دل چھلکتا ہے، اختصار سے کام لیتے ہوئے چھ میں سے ابتدائی تین اشعار لکھ رہا ہوں
ہسپانیہ تو خونِ مسلماں کا امیں ہے
مانندِ حَرمِ پاک ہے تو میری نظر میں
پوشیده تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں
خاموش اذانیں ہیں تری بادِ سحر میں
روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں
خیمے تھے کبھی جن کے ترے کوه و کمر میں

ہسپانیہ کے مسلمانوں پر یہ قیامت ایک دم ہہیں آ پڑی تھی، قدرت نے ان کو کئی موقعے دئے، ان کی مدد کو سمندر پار سے یوسف بن تاشفین جنگجووں کے لشکر لے آیا مسلمانوں کی عظمت کی ایسی دھاک بٹھائی کہ ایک عرصہ تک ارد گرد کی عیسائی ریاستین اپنے زخم چاٹتی رہیں ۔۔۔۔۔ یہ کوئی ڈیڑھ دو سو برس کا انحطاط ہے، جو اس صورت ختم ہوا کہ اس سرزمین سے صدیوں تک اذان کی آواز تک نہ آئی۔ جب شاہ ابو عبداللہ کے دربار میں معاہدہ مرتب ہو رہا تھا تو مخمل و ریشم کے لباسوں میں لپٹے بدبودار وجود اس کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے، ابو عبداللہ کی فراست، و موقع فہمی کی داد دے رہے تھے، اس کو مسلمانوں کا نجات دہندہ و مسیحا بتا رہے تھے، تعریف ایک ایسی پٹی ہے جو اندھے کی دنیا سے بھی ذیادہ اندھیر کر دیتی ہے، بندہ دیکھنے سے ہی نہیں، سننے سمجھنے سے بھی جاتا ہے ۔۔۔۔۔ تاریخ بڑی ظالم ہے، بڑی سنگ دل، یہ کسی کا لحاظ نہیں کرتی، نہ جُبے اور دستار کا، نہ منبر و محراب کا، اور نہ کسی کی قوت و سلطنت کا، یہ طبیب کے نشتر کی طرح فاسد مواد نکال کر رکھ دیتی ہے، دنیا کا بڑے سے بڑا دھوکہ باز بھی تاریخ کے نشتر سے نہ بچ سکا مورخ نے اس کو لباس فطرت میں نکال کر رکھ دیا۔ ایسے مردہ ادوار سے اگر کوئی زندہ برامد ہوا ہے تو وہ باغی ہوا ہے، جس نے ان مردوں سے بغاوت کی، جس نے شاہوں کی خوشامد و چاپلوسی کا سہارا نہ لیا، جس نے بر سر دربار حق اور سچ کہا ۔۔۔۔۔ شاہ ابو عبداللہ کے ریشمی لبادوں میں ملبوس وزیروں اور مشیروں کے درمیان ایک کردار اس جرنیل کا بھی تھا جس نے ان سب کے سامنے ایک تقریر کی اور شہزادہ سے لے کر وزیروں تک کو وہ باتیں کہیں جن پر وقت نے سنگ دلی سے مہر تصدیق ثبت کی. تاریخ اس کو موسی ابن ابی غسان کے نام سے جانتی ہے ۔۔۔۔۔ اس کی آنکھ نے اس معاہدے کی صبح کا سورج نہ دیکھا، جس صبح یہ معاہدہ ہونا تھا اسی رات شہر کا دروازہ کھلوا کر یہ شہسوار باہر نکلا اور اکیلا دریا کے کنارے خیمہ زن عیسائی لشکر کے ایک دستے پہ جا پڑا، بے جگری سے لڑتا رہا، ٹانگیں تھک گئیں تو گھٹںوں کے بل لڑتا رہا، اس کی تلوار ٹوٹی تو خنجر نکال کر لڑتا رہا، آخر تھکن اور زخموں سے چور ہونے کے باوجود اس کی غیرت نے گرفتار ہونا گوارا نہ کیا اس اپنے آپ کو دریا کی موجوں میں لڑھکا دیا۔

ابو عبداللہ ایک بیل گاڑی پر اپنے اہل و عیال کو لے کر شہر سے چلا گیا، وہ امراء جو اس کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان ایک کرتے تهے، اس معاہدے کو اپنی بقا بتاتے تھے، کچھ تہہ تیغ ہوئے باقی وہاں سے ھجرت کر کے مراکش میں پناہ گزین ہوئے، کل کے امراء و شاہ آج مجبور و بے کس، و بے آسرا، اپنی دھرتی کی مٹی بیچ کر دیار غیر میں پڑے تھے۔ ۔۔۔۔۔ مورخ کے قلم نے آنے والوں کے لئے قرطاس حیات پر ان دو طرح کے کرداروں کا دیا یہ سبق لکھ چھوڑا، بے غیرت کی زندگی پر بھی لعنت برستی ہے، اور غیرت مند کی موت پر سورج، چاند اور ستارے بھی رشک کرتے ہیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers