نومبر 1979 سے جولائی 1989 کے درمیان خانہ کعبہ پر تین حملے کیے جاچکے ہیں پہلے حملے کا ذمہ دار امریکہ و اسرائیل کو جبکہ بعد کے دونوں حملے جو 1987 اور 1989 میں ہوئے کے لئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ پہلے حملے میں مقامی افراد کا گروہ تھا جو سعودی عرب میں مغربیت کے اثر ونفوذ کے ردعمل میں سامنے آیا۔۔۔۔۔۔۔۔ نجد سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما کو امام مہدی قرار دے کر مسجد الحرام پر قبضہ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ 2 ہفتے بعد جاکر مسجد الحرام کو اِن افراد کے قبضے سے چھڑایا جاسکا۔۔۔۔۔۔ اِس تمام کاروائی کے لیے باقاعدہ مفتی صاحبان سے فتویٰ لیکر کاروائی کی گئی تھی۔۔۔ یہ سب سے شدید حملہ کہا جاسکتا ہے کہ جس کے خلاف کاروائی میں 127 سعودی فوجی شہید ہوئے اور 451 زخمی ہوئے تھے۔۔۔۔۔ اور اِس کے بعد 68 حملہ اوروں کو موت کی سزا دی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اِس واقعے کے بعد سعودی عرب میں علمائے کرام کو خصوصی اہمیت دی جانے لگی۔۔۔۔۔ اور مغربی اثر و نفوذ میں نمایاں کمی لائی گئی۔۔۔۔۔۔۔
1987 میں ایران کے حاجیوں کی جانب سے مکہ اور مسجد الحرام کے اطراف شدید ہنگامہ ارائی کی گئی تھی اِس تمام ہنگامہ ارائی کے دوران 400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت ایرانی حاجیوں کی تھی۔۔۔۔ 85 پولیس اہلکار جبکہ 42 افراد کا تعلق مختلف ممالک سے تھا۔۔۔۔۔
1989 میں حج کے موقع پر 2 بم دھماکے کیے گئے جن میں ایک حاجی شہید اور 16 زخمی ہوئے۔۔۔۔۔ اِن بم دھماکوں کے مجرم شیعہ تھے جن کی تعداد 16 تھی اور جن کا تعلق کویت سے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لبنان، شام اور عراق کے حالات کے بعد ایران، امریکہ اور اسرائیلی گٹھ جوڑ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے۔۔۔۔۔ سعودی عرب کے تین اطراف جو آگ بھڑکائی جاچکی ہے، وہ ایران اور خمینی کا پرانا خواب تھا۔۔۔۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران میں سنی مسلمانوں کی جماعت سے نماز پر پابندی عائد ہے، جبکہ شام و عراق میں کیے جانے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ اِس تمام معاملے سے عالم اسلام کا غیر جانبدار رہنا بعد میں کسی پچھتاوے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور اِس معاملے میں ہمارا فکر مند ہونا سعودی شاہی خاندان سے ہمدردی نہیں بلکہ حرمین شریفین کے لیے روافض کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers