یوسف بن ظہیر ۔ سُلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کی فوج کےجانبازوں کہ دستے کہ سالار اور مجلس شورٰی کہ رکن کہ مرتبے تک پہنچنے والے دو ستارے۔ یوسف بن ظہیر اور احمد بن حسن
یوسف بن ظہیر اور احمد بن حسن نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ جب تک یروشلم پر صلیبی نشان کی جگہ ہلالی پرچم نہیں نصب کریں گے تب تک وہ رُخصت پر گھر نہیں جائیں گے۔ جن دنوں سُلطان صلاح الین ایوبی ؒ یروشلم پر آخری حملے کی تیاریاں کر رہا تھا بغداد میں سلطان کی فوج کہ چند رضا کار جو کہ رخصت پر گۓ ہوۓ تھے واپس آۓ تو اُن میں سے ایک سپاہی نے یوسف کہ خیمے میں داخل ہو کر اُس کی بیوی کا خط پیش کیا ۔ یوسف نے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ خط کھول کر پڑھا اور تھوڑی دیرسر جھکا کر سوچنے کہ بعد اُس سپاہی کی طرف دیکھنے لگا۔
سپاہی نے کہا " میں نے اپنی بیوی کو آپ کہ گھر بھیجا تھا ۔ وہ آپکی بیوی کی حالت نازک بیان کرتی ہے آپکا بچہ میں نے دیکھا وہ تندرست ہے میں اپنی بیوی سے کہ آیا ہوں وہ آپکی بیوی کی تیمارداری کر رہی ہے "
یوسف نے اپنے چہرے پر ایک غمگین مسکراہٹ لاتے ہوۓ کہا خُدا آپ کو جزا دے اور پھر دُبارہ خط دیکھنے میں منہمک ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد یوسف تنہا اپنے خیمے میں ٹہل رہا تھا پانچ چھ مرتبہ پڑھنے کہ بعد اُسے مختصر سے خط کہ الفاظ زبانی یاد ہو چُکے تھے:
"میرے آقا ! میرے شوہر ! بہت انتظار کہ بعد آپکا خط ملا ۔ کاش میں بھی آپ کہ ساتھ یروشلم پر فتح کا جھنڈا نصب ہوتے ہوۓ دیکھ سکتی ۔ میں قدرے علیل ہوں لیکن آپ فکر نہ کریں یروشلم کی فتح کی خبر سُن کر میں تندرست ہو جاؤں گی ۔ ہاں یہ ضرور چاہتی ہوں کہ مجھے یروشلم کی فتح کی خبر سُنانے والے آپ ہوں ۔ اپنا عہد پورا کیجیۓ ۔ میں دن رات خُدا سے دُعا کرتی ہوں کہ یروشلم پر جھنڈا نصب کرنے کی سعادت آپکے حصے میں آۓ ۔ طاہر بہت خوش ہے اور محسن کی بیوی میرا بہت خیال رکھتی ہے مجھے کسی قسم کی تکلیف نہیں "
یوسف خیمے میں ٹہلتے ہوۓ یہ الفاظ کبھی آہستہ اور کبھی بلند آواز میں دہراہ رہا تھا اُسکے دل کی دھڑکن کبھی تیز اور کبھی سُست ہو رہی تھی اُسکا دل اور دماغ دو مختلف خیالات ، دو مختلف اُمنگوں اور ارادوں کی کشمکش میں مُبتلا تھے اُسکے سامنے دو فرائض تھے ۔ ایک طرف حسین اور نوجوان بیوی جس کہ ساتھ شادی سے پہلے وہ دُنیا میں بالکل تنہا تھا اور شادی کہ بعد جس کی حیاء میں ڈوبی ہوئ مُسکراہٹ ، اس کیلۓ دُنیا بھر کہ خزانوں سے زیادہ قیمتی تھی ۔ وہ بیمار تھی ۔ اور خط کہ تسلی آمیز لہجے کہ باوجود وہ محسوس کر رہا تھا کہ اُسکی حالت مخدوش ہے ورنہ وہ معمولی تکلیف کی حالت میں محسن کی بیوی کی تیمارداری کی ضرورت محسوس نہ کرتی اُسے گھر پہنچنا چاہیے وہ خیالات کہ برق رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر بغداد پہنچتا اور اپنے مکان میں داخل ہوتا ۔
زاہدہ ! زاہدہ ! تم کیسی ہو ؟ میں آ گیا ہوں ۔ میری طرف دیکھو ۔ وہ چونک کر اُسکی طرف دیکھتی اور بے قرار سی ہو کرکہتی " آپ ! کیا یروشلم پر اسلام کا پرچم نصب ہو چکا ہے ؟ " یہ سوال تصور کہ گھوڑے کیلۓ تازیانہ ثابت ہوتا اور وہ بغداد کہ پُرامن گوشے سے لوٹ کر یروشلم کی رزم گاہوں میں پہنچ جاتا اور اور ہاتھوں کی مُٹھیاں بھینچ کر بلند آواز میں کہتا " میں اپنا عہد پورا کروں گا میں یروشلم کی فتح کی خبر لے کر جاؤں گا "- اور وہ تیروں کی بارش میں خندق عبور کرتا ، قلعے کی دیواریں توڑتا ، صلیب کہ نشان اُکھاڑتا اور ہلال کو پھریرا اُڑاتا ہوا قلعے کہ آخری بُرج تک پہنچ جاتا اور فتح کا نعرا بلُند کرتے اور خون آلود تلوار نیام میں ڈالتے ہوۓ اور اپنے صبا رفتار گھوڑے پر سُوار ہوتا اور بغداد پہنچ جاتا – اپنے گھر کہ سامنے گھوڑے سے اُترتا اور بھاگ کر اندر داخل ہوتے ہوۓ کہتا ۔
" میری جان ! میری روح ! میں آ گیا ہوں – یروشلم فتح ہو گیا ہے میں نے قلعے کہ سب سے اُونچے بُرج پر اپنے ہاتھوں سے اسلامی جھنڈا نصب کیا ہے اور زاہدہ کا حسین اور معصوم چہرہ خوشی سے چمک اُٹھتا " میں نہیں جاؤں گا " اُسکا آخری فیصلہ تھا ۔
احمد بن حسن اُسکے کمرے میں داخل ہوا اور اُس نے کہا" یوسف بغداد سےچند سپاہی آۓ ہیں تمارے گھر سے کوئ پیغام آیا "
بیوی کا خط آیا ہے یوسف نے مُسکرانے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا – " تم پریشان ہو خیریت تو ہے " ۔ " وہ کچھ علیل ہے " ۔ احمد بن حسن نے کچھ سوچتے ہوۓ پوچھا تمیں بُلایا ہے ؟ ۔ " یوسف ! نہیں آپ پڑھ لیجیے یہ کہتے ہوۓ یوسف نے احمد کہ ہاتھ میں خط دے دیا "۔ احمد نے خط پڑھنے کہ بعد کہا کہ خط میں تو ایسی کوئ بات نہیں تم پریشان ہو تمیں میں ایک خوشخبری سُناتا ہوں !
یوسف نے بے تابی سے پوچھا کیسی خوشخبری ؟ کیا یروشلم پر حملہ ہونے والا ہے ؟
احمد نے جواب دیا ہاں ! پرسوں ہم یروشلم کی فصیلیں توڑ رہے ہوں گے انشاء اللہ ایک ہفتے سے پہلے تم بغداد والوں کو فتح کی خوشخبری دینے روانہ ہو جاؤ گے اور چند منازل تک میں تمارا ساتھ دوں گا ۔
یوسف نے پھر پوچھا " آپ کو یقین ہے کہ پرسوں حملہ ہو جاۓ گا "
احمد نے جواب دیا " میں ابھی سُلطان سے ملکر آیا ہوں "
یوسف ! کاش یہ حملہ آج ہوتا !
شام کہ وقت احمد بن حسن نے یوسف سے کہا " یوسف ! میں محسن ( یوسف کیلۓ خط لانے والا ) سے مل چکا ہوں اُسکی باتوں سے معلوم ہوتا ہے تماری بیوی کی حالت تسلی بخش نہیں ہے اگر جانا چاہو تو میں سُلطان سے تماری رُخصت کیلۓ کہوں "
یوسف نے جواب دیا " نہیں ! مریضہ کی تیمارداری کا موقع پھر شاہد مل جاۓ لیکن یروشلم کی فتح میں حصہ لینے کی سعادت شاہد دُبارہ نصیب نہ ہو"
آٹھ دن کہ بعد مسلمانوں کی فوج چاروں طرف سے یروشلم پر یلغار کر رہی تھی سُلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ ایک سفید گھوڑے پر سوار حملہ آور فوج کی رہنمائ کر رہا تھا۔ وہ سپاہی جسے سُلطان نے سب سے پہلے کمند ڈال کر قلعے کی فصیل پر چڑھتے دیکھا وہ یوسف تھا اوپر سے تیروں اور پتھروں کی بارش ہو رہی تھی اور یوسف سر پر ڈھال رکھ کر اپنا بچاؤ کر رہا تھا فصیل پر پہنچنے کیلۓ اُسکی کامیابی کہ امکانات بہت کم تھے ۔ سُلطان نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ فصیل پر پہنچ گیا تو میں اسے اپنی تلوار انعام میں دوں گا – یوسف فصیل پر پہنچ چکا تھا اور چند نوجوان اُسکی تقلید کر رہے تھے یوسف کی تلوار چند آدمیوں کو موت کہ گھاٹ اُتار چکی تھی ۔ " سُلطان اپنے جرنیل سے کہ رہا تھا اب وہ میرے گھوڑے کا بھی حقدار ہے " چند مجاہد فصیل پر چڑھ کر یوسف پر عقب سے حملہ کرنے والے پہرے داروں کو روک رہے تھے اور یوسف اپنے پے درپے حملوں سے چھ سات سپاہیوں کہ پاؤں اُکھاڑ چُکا تھا سُلطان صلاح الدین جوش مُسرت میں کہ رہا تھا " نوجوان ! میں تمہیں ہر اول دستے کا سالار اعلٰی بناتا ہوں " تھوڑی دیر کیلۓ سُلطان کی توجہ کسی اور محاز پر مرکوز ہو گئ جب دُبارہ اُس نے فصیل کہ اس حصے کی طرف دیکھا تو اُس کہ سپاہی اُس مقام پر قبضہ کر چکے تھے مگر وہاں یوسف نہیں تھا ۔ اُس نے اپنے ہم رکاب سے پوچھا ! یوسف کہاں گیا ؟
اُس نے" دروازے کہ سب سے اونچے بُرج کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ جواب دیا وہ دیکھیے یوسف سب سے خطرناک مقام پر لڑھ رہا ہے " سُلطان نے اوپر نگاہ کی یوسف کی تلوار بیک وقت تین تلواروں سے ٹکرا رہی تھی سُلطان کہ دو سپاہی اُسکی مدد کیلۓ پہنچ چُکے تھے یوسف کی تلوار کی ایک ضرب سے نشان صلیب سرنگوں ہو چکا تھا سُلطان نے آنکھوں میں خوشی کہ آنسو بھرتے ہوۓ کہا
" تم میرے بیٹے ہو – میں تمیں اس شہر کا والی مقرر کرتا ہوں " ۔ لیکن یوسف کہ ہاتھ سے تلوار گِر چکی تھی اور ایک نوجوان اُسے سہارا دینے کی کوشش کر رہا تھا سُلطان نے اُسے پہچان لیا وہ احمد بن حسن تھا سُلطان کہ سپاہی اندر داخل ہو کر قلعہ کہ دروازے کھول چُکے تھے دُشمن ہتھیار ڈال چکا تھا سُلطان گھوڑا بھگاتے ہوۓ اور گھوڑے سے اُتر کر اپنے چند سپاہیوں کہ ساتھ جلدی سے بُرج پر چڑھا ۔ یوسف کہ جسم پر زخموں کہ کہی نشان تھے احمد اُسے چھاگل سے پانی پلا رہا تھا سلطان فرش پر گھٹنے ٹیک کر اُس کہ قریب بیٹھ گیا اُس کی زرہ کُھلوا کر اُس کہ زخم دیکھے اور اُسکی نبض پر ہاتھ رکھ کر مغموم لہجے میں بولا " بیٹا میں تمہیں اس شہر کا والی بنا چُکا ہوں شاید تمارا عہد حکومت بہت مختصر ہے ۔ اگر شہر والوں کیلۓ کوئ حکم نافذ کرنا چاہتے ہو تو جلدی کرو"
یوسف نے پہلے سُلطان اور پھر احمد کی طرف دیکھا اور بالآخر اُس کی نگاہیں لوٹ کر لٹکے ہوۓ صلیبی جھنڈے پر مرکوز ہو گئیں احمد نے کہا " اس شہر کہ حاکم کی خواہش یہ ہے کہ وہ فتح کا جھنڈا اپنے ہاتھ سے نصب کرۓ " احمد کہ یہ الفاظ سُن کر یوسف کہ آنکھوں میں ایک غیر معمولی چمک اُتر آئ ، سُلطان نے دُبارہ اُسکی نبض دیکھی اور ایک سپاہی کو جھنڈا لانے کا اشارہ کیا سُلطان صلاح الدین ایوبی اور احمد بن حسن نے یوسف کو سہارا دے کر اُٹھایا یوسف کہ بے جان ہاتھوں میں اچانک زندگی آ گئ اُس نے جھنڈا نصب کیا ۔ اُس کہ ہونٹوں پر مُسکراہٹ تھی وہ مسکراہٹ جو صرف اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو نصیب ہو سکتی ہے ۔ اچانک اُس کہ ہونٹوں سے یہ الفاظ نکلے " زاہدہ ! یروشلم فتح ہو چکا ہے "
سُلطان کہ حکم پر یوسف کو شاہی محل کہ ایک کمرے میں پہنچایا گیا جان کنی کہ عالم میں اُس نے احمد سے جو بات کہی وہ یہ تھی " احمد ! میری بیوی کی دُعا کا صرف ایک حصہ قبول ہوا میں یروشلم کی فتح کی خبر لے کر اُس کہ پاس نہ جاسکا لیکن قدرت کا ایک راز اب میری سمجھ میں آ رہا ہے زاہدہ بغداد میں نہیں کسی اور مقام پر میرا انتظار کر رہی ہے اگر وہ زندہ ہوتی میں یقیناً اُس کہ پاس پہنچتا جھنڈا نصب کرتے ہوۓ میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے دیکھ رہی ہے ۔ تم بغداد جاؤ اگر وہ زندہ ہوئ تو سب سے پہلے خبر سُننے کا اُسکا حق ہے اور اگر نہ ہوئ تو میں اپنا بیٹا تمیں سونپتا ہوں ۔ یہ کہ کر اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور خفیف سی آواز میں دھرانے لگا " زاہدہ ! میں آ گیا ہوں ، یروشلم فتح ہو گیا ہے ۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے جھنڈا نصب کیا ہے " یہ کہتے ہوۓ اُس نے دُبارہ آنکھیں کھولیں سُلطان اور احمد کی طرف دیکھا اور پھر یوسف کی آنکھیں کہ سامنے موت کہ پردے حائل ہوگے۔
تھوڑی دیر بعد احمد بن حسن یوسف بن ظہیر شہید کہ بچے کیلۓ سُلطان صلاح الدین ایوبی کہ گھوڑے ، سُلطان صلاح الدین ایوبی کی تلوار ، اُسکی پرورش کیلۓ پانچ ہزار دینار ، سن بلوغت کو پہنچنے پر اُسکے مستقبل کیلۓ ہیرے جواہرات سے بھری ریشمی کپڑے کی بنی ہوئ تھیلی کو لے کر بغداد کی طرف روانہ ہوا ۔
چند ہفتوں کہ بعد بغداد پہنچ کر احمد بن حسن کو معلوم ہوا کہ یوسف کی بیوی زاہدہ فتح یروشلم سے چار دن قبل اللہ کو پیاری ہو چکی تھی اور محسن ( یوسف کا ہمسایہ ) کی بیوی بچے کو اپنے پاس لے گئ تھی ۔ احمد بن حسن نے اُسکے گھر پہنچنے پر بچے کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ جب محسن نے اڑھائ سال کا بچہ اُسکی گود میں ڈالا تو احمد کی آنکھیں بھر آئیں احمد بن حسن اُسکے سر پر پیار اور شفقت سے ہاتھ پھیرنے لگا تو بچے نے ہاتھ بڑھا کر اُس کی ناک پکڑ لی اور کہا " غازی ۔۔۔۔ ابا ۔۔۔۔۔ غازی !"
احمد نے اُسے سینے سے بھینچ کر آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوۓ کہا " بیٹا ! ابا شہید کہو ! " ۔ " ابا ۔۔ ؟ بچہ غور سے احمد کی طرف دیکھنے لگا ۔
" ابا شہید ! احمد نے اُس کہ ماتھے پر بھوسہ دیتے ہوۓ کہا ۔
" ابا شہید ! بچہ یہ کہتے ہوۓ اُس کی گود میں کھیلنے لگ گیا "
داستان یوسف بن ظہیر

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers